00:00ریت کے میدان میں شام اتر چکی تھی
00:04ہزاروں مشعلیں جل اٹھیں
00:06اور فضا میں ایک ہی صدا گونج رہی تھی
00:09یہ ہے فیصلہ کن رات
00:12ایک طرف فارس کا شہنشاہ داریش سوم
00:16اپنے لاکھوں سپاہیوں رتھوں اور ہاتھیوں کے ساتھ تیار کھڑا تھا
00:20دوسری جانب مقدونیہ کا جوان فاتح سکندر اعظم
00:25اپنی چھوٹی مگر فولادی فوج کے ساتھ
00:29مشرقی سلطنتوں کو مٹانے نکلا تھا
00:33یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا کی دو طاقتیں آمنے سامنے تھی
00:38ایشیای شان و شوقت بمقابلہ یونانی حکمت و بہادری
00:44زمین کانپ رہی تھی
00:46آسمان پر گرد و غبار چھایا تھا
00:49اور بادشاہوں کی تقدیر بس چند لمحوں میں بدلنے والی تھی
00:54یہ ہے جنگ اربلا
00:56جہاں داریوش کی سلطنت کا سورج غروب ہوا
01:01اور سکندر کا نام عمر ہو گیا
01:04یہ وہ جنگ تھی جس نے تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا
01:31شہنشاہ فارس داریوش سوم نے
01:35ہیران کی عزت بچانے کے لیے داس لکھ پیادہ چالیس ہزار سوار دو سو جنگی رتھ اور بے شمار ہاتھیوں
01:44پر مشتمل ایک وسیع لشکر جمع کیا
01:46یہ لشکر کلاہ قدیم کے مقام سے گزر کر نینوہ کے قریب اربلا اربیل یا گوگا ملہ کے مقام پر
01:56خیم مزن ہوا
01:57یہ ایک وسیع میدان تھا جو داریوش نے پچھلی جنگی غلطی کی تلافی کے لیے منتخب کیا تھا
02:04یہاں ایرانی سپاہ کے لیے جہر مردانگی دکھانے کے لیے بہت وسیع جگہ تھی
02:11یہاں سے داریوش نے سکندر کی آمند کا سن کر اپنے ایک سالار کو ایک فوجی دستہ دے کر بیجا
02:17تاکہ سکندر اور اس کے لشکر کو فراد کیس پر رکا جا سکے
02:22پھر اس کے پیچھے ایک اور دوسرا سردار مازہ چھ ہزار سپاہ دے کر ان کی مدد کے لیے روانہ
02:28کیا
02:29بگر دونوں سرداروں کو حوصلہ نہ ہوا کہ مقدونوی لشکر کو روک سکیں
02:33اس لیے وہ پیچھے ہٹ آئے
02:36جب سکندر دشمن کے ایک مقابل پہنچا تو اس نے سب سے پہلے تو اپنے لشکر والوں کو آرام کرنے
02:42کی اجازت دی
02:43اس موقع پر سکندر کے جرنائل پارمنیان نے دشمن پر شب خون مارنے کا مشورہ دیا
02:50سکندر نے اس کے جواب میں کہا کہ میرا حضنوں کی طرح رات کی تاریخی سفیدہ نہیں اٹھانا چاہتا
02:56ہمیں جنگ کے لیے صبح کا انتظار کرنا ہوگا
03:02پھر صبح ہوتے ہی دونوں لشکروں کی صفیہ آراستہ ہوئی
03:05داریوش نے قلب لشکر میں جگہ لی
03:08حضر مقدونوی لشکر کے دائیں بازوں کی قیادت
03:11الیکزنڈر نے سنبھالی
03:13پھر دونوں لشکر ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھے
03:1831 اکتوبر 33 قبل مسیح کو تبلے جنگ بجنے لگے
03:23اور ناروں سے فضاء گونج اٹھیں
03:25ایرانیوں نے جنگ کا آغاز اپنے جنگی رتھوں سے کیا
03:29ان رتھوں پر بڑے بڑے دندانیں لصب تھے
03:32رفتہ رفتہ دونوں لشکر ایک دوسرے کے اتنے قریب آگئے
03:36کہ دست بدست لڑائی شروع ہو گئے
03:38مکدونی لشکر کا دائیں بازوں
03:41ایرانی لشکر کے بائیں بازوں پر ٹوٹ پڑا
03:43بڑی گمسان کی جنگ ہوئی
03:46آخر مکدونوی لشکر نے دباؤ ڈال کر
03:49ایرانی صفوں میں شگاف ڈال دیئے
03:52دارہ آزم جس رتھ پر سوار تھا
03:55اس کے گھوڑوں پر مکدونوی تیر اندازوں نے تیروں کی بارش کر دی
03:59خضر اس کا شاہی رتبان بھی ایک لیزے کی زرب سے زمین پر آگیرا
04:04جب داریوش نے اپنے آگ کو دشمن میں گیرا ہوا پایا
04:07تو اس نے ایک بار پھر اپنی جان بچانے کے لیے راہ فرار اختیار کی
04:12داریوش کے فرار کی خبر ایرانی لشکر میں پھیلی
04:16تو ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا
04:18ایرانی صفیں بکھرنے لگیں
04:21ادھر مکدونیوں نے اپنے پیدر پیہ حملوں سے ایرانی قلب کا صفایہ کر دیا
04:26لیکن ابھی بھی داریوش کے ہندی اور باختری سپاہی حوصلہ نہ ہارے تھے
04:31انہوں نے مکدونوی لشکر کے بائیں بازو پر دباؤ بڑھا دیا
04:35سکندر کی فوج کے ریزرف سپاہیوں نے اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے شدید حملہ کیا
04:41جس سے ایرانیوں کے پاؤں کھڑ گئے
04:43سکندر نے بھاگنے والوں کا تاقب نہ کیا
04:46اس طرح داریوش اپنی بھاگ کی ماندہ سپاہ کے ساتھ میڈیا کی طرف نکل گیا
04:51اور فتح نے سکندر کے پاؤں چھونے
04:55فاتح سکندر نے مدان جنگ میں تعفن پھیل جانے کے بعد بابل کا رخ کیا
05:00بابل کے حکمران نے سکندر کی آمد کی خبر سنی
05:03تو استقبال کو بڑا اور اظہار اطاعت کیا
05:06بابل کے عوام اور پرختوں نے بھی سر تسلیم خم کیا
05:10یہ شہر اپنے قدیم تمدن کی وجہ سے عالمگیر شہرت رکھتا تھا
05:15خود سکندر کو اس کے قدیم دیوتاؤں سے بڑی عقیدت تھی
05:18اس نے حیخہ منشی بادشاہ خشیار شاہ یا زرکسیز کے ہاتھوں تباہ ہونے والے
05:24بہت سے مندروں کی دوبارہ تعمیر کرائے
05:26اہل بابل سکندر کے روئے سے بہت خوش ہوئے
05:30اور انہوں نے اس کی اطاعت میں کوئی دقیقہ فروغزاشت نہ کیا
05:34یہاں سکندر نے اپنی فتح کے جشن منائے اور دیوتاؤں کو قربانیاں دی
05:39بابل میں کچھ عرصہ آرام کرنے کے بعد
05:42سکندر داریوش کے سرماعی صدر مقام سوس کی طرح متوجہ ہوا
05:46بابل سے بیس دن کے سفر کے بعد سکندر سوس پہنچا
05:50یہ شہر سکندر کا ایک جرنال پہلے ہی فتح کر چکا تھا
05:54سکندر کو یہاں سے بے شمار خزانہ اور پیتل کے وہ مجسمیں بھی ملے
05:58جو خشیار شاہ ایتھن سے اٹھا لائیا تھا
06:01سکندر نے اپنی فتح کی یادگار کے طور پر وہ مجسمیں واپس ایتھن بجوائے دیئے
06:08ایران کے عظیم بادشاہوں کے خصوصورت محل اب سکندر کے قبضے میں تھے
06:12جن کے نقش و نگار اور فن تعمیر دے کر وہ انگوشت بدندان رہ گیا تھا
06:18سوس میں مقلونیہ سے پندرہ ہزار کا ایک لشکر
06:22امنتس نامی ایک سردار کی قیادت میں سکندر کے لشکر سے آبلا
06:26لشکر کی ترطیب و تنظیم نو کے بعد
06:29سکندر نے پرسی پولس یعنی تخت جمشید پر فوج کشی کا فیصلہ کیا
06:35یہ اخہ منشی خاندان کا مرکزی مقام تھا
06:39پرسی پولس کی عظمت کی داستان دنیا بھر میں مشہور تھی
06:43سکندر چاہتا تھا کہ اس عظیم شہر سے اخہ منشی اہد کا چراغ گل کر کے
06:48یہاں یونانی دور کی کندیل روشن کرے
06:50ایک سو تیرہ میل کا دشوار گزار پہاڑی علاقوں کا سفر کر کے
06:55پانچ میں دن موسم سرما کی کٹنائیوں کے باوجود
06:58سکندر دروازہ پارس تک جا پہنچا
07:02یہ آج کل قلعہ سفید کے نام سے موسم ہے
07:05یہاں شہنشاہ ایران نے کچھ فوج متعین کی ہوئی تھی
07:08جس کی قیادت آریو برزین نامی ایرانی جرنیل کے سپر تھی
07:13سکندر نے اچانک حملہ کر کے اسے شکست سے دوچار کیا
07:16اب تخت جمشید تک کا راستہ صاف تھا
07:21تخت جمشید پہنچ کر سکندر نے
07:23اخہ منشیوں کے سب سے بڑے خزانے پر قبضہ کر لیا
07:27اور یہاں کے عظیم شان و حلات کو آگ لگا کر
07:30حقہ منشی اہد کا اختتام کرنے کے ساتھ ساتھ
07:34ایتھنز کو جلانے کا انتقام بھی لے لیا
07:37اس کے بعد پازارگت اور حمدان پر قبضہ کرنے کے بعد
07:41سکندر داریوش کے تاکم میں نکلا
07:43رے اور بہرہ خزر کے کنارے کنارے
07:46سکندر نے تہران سے مشہد جانے والی سڑک پر سفر جاری رکھا
07:51آخر جب سکندر داریوش کے رت تک پہنچا
07:54تو اسے مردہ پایا
07:56داریوش کی بے گورو کفن لاش دے کر
07:58سکندر کو بہت رنج ہوا
08:00اور اس نے اپنا سرخ لبادہ داریوش کی لاش پر ڈال دیا
08:04مورخین کے مطابق یہ واقعہ
08:07جولائی تین سو تیس قبل مسیح میں پیش آیا
08:10داریوش کے قاتلوں میں بسوس
08:12جو بلخ خاصوبیتار تھا
08:14کا نام نمائیا تھا
08:16اس نے باشا کو قتل کر کے
08:17خود داریوش کا لقب اختیار کر لیا
08:19اور اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا تھا
08:28سکندر اس کی سرکوبی کے لیے آزم بلخ ہوا
08:32اور افغانستان سے گزرتا ہوا بلخ پہنچا
08:35افغانستان میں حرات کے قریب
08:37سکندر نے اپنے نام پر
08:39ایک اور سکندریہ شہر آباد کیا
08:42تین سو اٹھائیس قبل مسیح میں
08:44سکندر قابل کے شمال سے ہوتا ہوا
08:47کوہ ہندوکش کے درہ پنشیر سے گزر کر بلخ پہنچا
08:50بلخ زرتشت کا آخری وطن ہونے کی وجہ سے
08:54ایرانیوں کے لیے متبرک تھا
08:56بلخ کی تسخیر میں سکندر کو
08:58کسی مضاہمت کا سامنا نہ کرنا پڑا
09:00کچھ عرصہ وہ یہاں رکا
09:02اور پھر دریائے جیہوں عبور کر کے
09:05ترکستان میں سمرکن سے آگے تک بڑھتا چلا گیا
09:08اس نے سنا ہوا تھا کہ
09:10کروش آزم نے سہر دریائے سے
09:12پرے آباد سکتی قبائل کو للکا رہا تھا
09:16سکندر بھی سکتیوں تک پہنچا
09:19اور اس نے سکتیوں کو
09:21اطاعت اور دوستی پر مجبور کر دیا
09:25ترکستان کی مہم کے دوران
09:26سکندر آزم نے ایک ایشیائی لڑکی
09:29روشنک سے شادی کی
09:31اس کے بطن سے
09:32323 قبل مسیح میں ایک لڑکا پیدا ہوا تھا
09:35جس کا نام بھی سکندر ہی رکھا گیا تھا
09:37سکندر کی وفات کے بعد
09:39روشنک آپری سوکن
09:40یعنی دخترے داریوش کی موت کا باعث بنی
09:43تیکن 311 قبل مسیح میں
09:45خود سکندر کے جرنیل
09:47کاساندر کے ہاتھوں ماری گئی
09:56موسیقی
Comments