Skip to playerSkip to main content
یہ ویڈیو دنیا کی عظیم ترین جنگوں میں سے ایک — جنگِ اربیلا (331 قبل مسیح) — کی مکمل تاریخی داستان پیش کرتی ہے۔
یہ وہ معرکہ تھا جس نے فارس کی عظیم سلطنت کو مٹا کر سکندر اعظم کو ایشیا کا بادشاہ بنا دیا۔
دیکھیں کس طرح داریوش سوم کی شان و شوکت، مقدونیہ کی چالاک حکمتِ عملی کے سامنے ٹک نہ سکی۔
⚔️
#alexanderthegreat #dariusiii #BattleOfArbela #gaugamela #history #documentary #urduhistory #ancientwars #CrusadeOfEmpires

Category

📚
Learning
Transcript
00:00ریت کے میدان میں شام اتر چکی تھی
00:04ہزاروں مشعلیں جل اٹھیں
00:06اور فضا میں ایک ہی صدا گونج رہی تھی
00:09یہ ہے فیصلہ کن رات
00:12ایک طرف فارس کا شہنشاہ داریش سوم
00:16اپنے لاکھوں سپاہیوں رتھوں اور ہاتھیوں کے ساتھ تیار کھڑا تھا
00:20دوسری جانب مقدونیہ کا جوان فاتح سکندر اعظم
00:25اپنی چھوٹی مگر فولادی فوج کے ساتھ
00:29مشرقی سلطنتوں کو مٹانے نکلا تھا
00:33یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا کی دو طاقتیں آمنے سامنے تھی
00:38ایشیای شان و شوقت بمقابلہ یونانی حکمت و بہادری
00:44زمین کانپ رہی تھی
00:46آسمان پر گرد و غبار چھایا تھا
00:49اور بادشاہوں کی تقدیر بس چند لمحوں میں بدلنے والی تھی
00:54یہ ہے جنگ اربلا
00:56جہاں داریوش کی سلطنت کا سورج غروب ہوا
01:01اور سکندر کا نام عمر ہو گیا
01:04یہ وہ جنگ تھی جس نے تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا
01:31شہنشاہ فارس داریوش سوم نے
01:35ہیران کی عزت بچانے کے لیے داس لکھ پیادہ چالیس ہزار سوار دو سو جنگی رتھ اور بے شمار ہاتھیوں
01:44پر مشتمل ایک وسیع لشکر جمع کیا
01:46یہ لشکر کلاہ قدیم کے مقام سے گزر کر نینوہ کے قریب اربلا اربیل یا گوگا ملہ کے مقام پر
01:56خیم مزن ہوا
01:57یہ ایک وسیع میدان تھا جو داریوش نے پچھلی جنگی غلطی کی تلافی کے لیے منتخب کیا تھا
02:04یہاں ایرانی سپاہ کے لیے جہر مردانگی دکھانے کے لیے بہت وسیع جگہ تھی
02:11یہاں سے داریوش نے سکندر کی آمند کا سن کر اپنے ایک سالار کو ایک فوجی دستہ دے کر بیجا
02:17تاکہ سکندر اور اس کے لشکر کو فراد کیس پر رکا جا سکے
02:22پھر اس کے پیچھے ایک اور دوسرا سردار مازہ چھ ہزار سپاہ دے کر ان کی مدد کے لیے روانہ
02:28کیا
02:29بگر دونوں سرداروں کو حوصلہ نہ ہوا کہ مقدونوی لشکر کو روک سکیں
02:33اس لیے وہ پیچھے ہٹ آئے
02:36جب سکندر دشمن کے ایک مقابل پہنچا تو اس نے سب سے پہلے تو اپنے لشکر والوں کو آرام کرنے
02:42کی اجازت دی
02:43اس موقع پر سکندر کے جرنائل پارمنیان نے دشمن پر شب خون مارنے کا مشورہ دیا
02:50سکندر نے اس کے جواب میں کہا کہ میرا حضنوں کی طرح رات کی تاریخی سفیدہ نہیں اٹھانا چاہتا
02:56ہمیں جنگ کے لیے صبح کا انتظار کرنا ہوگا
03:02پھر صبح ہوتے ہی دونوں لشکروں کی صفیہ آراستہ ہوئی
03:05داریوش نے قلب لشکر میں جگہ لی
03:08حضر مقدونوی لشکر کے دائیں بازوں کی قیادت
03:11الیکزنڈر نے سنبھالی
03:13پھر دونوں لشکر ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھے
03:1831 اکتوبر 33 قبل مسیح کو تبلے جنگ بجنے لگے
03:23اور ناروں سے فضاء گونج اٹھیں
03:25ایرانیوں نے جنگ کا آغاز اپنے جنگی رتھوں سے کیا
03:29ان رتھوں پر بڑے بڑے دندانیں لصب تھے
03:32رفتہ رفتہ دونوں لشکر ایک دوسرے کے اتنے قریب آگئے
03:36کہ دست بدست لڑائی شروع ہو گئے
03:38مکدونی لشکر کا دائیں بازوں
03:41ایرانی لشکر کے بائیں بازوں پر ٹوٹ پڑا
03:43بڑی گمسان کی جنگ ہوئی
03:46آخر مکدونوی لشکر نے دباؤ ڈال کر
03:49ایرانی صفوں میں شگاف ڈال دیئے
03:52دارہ آزم جس رتھ پر سوار تھا
03:55اس کے گھوڑوں پر مکدونوی تیر اندازوں نے تیروں کی بارش کر دی
03:59خضر اس کا شاہی رتبان بھی ایک لیزے کی زرب سے زمین پر آگیرا
04:04جب داریوش نے اپنے آگ کو دشمن میں گیرا ہوا پایا
04:07تو اس نے ایک بار پھر اپنی جان بچانے کے لیے راہ فرار اختیار کی
04:12داریوش کے فرار کی خبر ایرانی لشکر میں پھیلی
04:16تو ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا
04:18ایرانی صفیں بکھرنے لگیں
04:21ادھر مکدونیوں نے اپنے پیدر پیہ حملوں سے ایرانی قلب کا صفایہ کر دیا
04:26لیکن ابھی بھی داریوش کے ہندی اور باختری سپاہی حوصلہ نہ ہارے تھے
04:31انہوں نے مکدونوی لشکر کے بائیں بازو پر دباؤ بڑھا دیا
04:35سکندر کی فوج کے ریزرف سپاہیوں نے اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے شدید حملہ کیا
04:41جس سے ایرانیوں کے پاؤں کھڑ گئے
04:43سکندر نے بھاگنے والوں کا تاقب نہ کیا
04:46اس طرح داریوش اپنی بھاگ کی ماندہ سپاہ کے ساتھ میڈیا کی طرف نکل گیا
04:51اور فتح نے سکندر کے پاؤں چھونے
04:55فاتح سکندر نے مدان جنگ میں تعفن پھیل جانے کے بعد بابل کا رخ کیا
05:00بابل کے حکمران نے سکندر کی آمد کی خبر سنی
05:03تو استقبال کو بڑا اور اظہار اطاعت کیا
05:06بابل کے عوام اور پرختوں نے بھی سر تسلیم خم کیا
05:10یہ شہر اپنے قدیم تمدن کی وجہ سے عالمگیر شہرت رکھتا تھا
05:15خود سکندر کو اس کے قدیم دیوتاؤں سے بڑی عقیدت تھی
05:18اس نے حیخہ منشی بادشاہ خشیار شاہ یا زرکسیز کے ہاتھوں تباہ ہونے والے
05:24بہت سے مندروں کی دوبارہ تعمیر کرائے
05:26اہل بابل سکندر کے روئے سے بہت خوش ہوئے
05:30اور انہوں نے اس کی اطاعت میں کوئی دقیقہ فروغزاشت نہ کیا
05:34یہاں سکندر نے اپنی فتح کے جشن منائے اور دیوتاؤں کو قربانیاں دی
05:39بابل میں کچھ عرصہ آرام کرنے کے بعد
05:42سکندر داریوش کے سرماعی صدر مقام سوس کی طرح متوجہ ہوا
05:46بابل سے بیس دن کے سفر کے بعد سکندر سوس پہنچا
05:50یہ شہر سکندر کا ایک جرنال پہلے ہی فتح کر چکا تھا
05:54سکندر کو یہاں سے بے شمار خزانہ اور پیتل کے وہ مجسمیں بھی ملے
05:58جو خشیار شاہ ایتھن سے اٹھا لائیا تھا
06:01سکندر نے اپنی فتح کی یادگار کے طور پر وہ مجسمیں واپس ایتھن بجوائے دیئے
06:08ایران کے عظیم بادشاہوں کے خصوصورت محل اب سکندر کے قبضے میں تھے
06:12جن کے نقش و نگار اور فن تعمیر دے کر وہ انگوشت بدندان رہ گیا تھا
06:18سوس میں مقلونیہ سے پندرہ ہزار کا ایک لشکر
06:22امنتس نامی ایک سردار کی قیادت میں سکندر کے لشکر سے آبلا
06:26لشکر کی ترطیب و تنظیم نو کے بعد
06:29سکندر نے پرسی پولس یعنی تخت جمشید پر فوج کشی کا فیصلہ کیا
06:35یہ اخہ منشی خاندان کا مرکزی مقام تھا
06:39پرسی پولس کی عظمت کی داستان دنیا بھر میں مشہور تھی
06:43سکندر چاہتا تھا کہ اس عظیم شہر سے اخہ منشی اہد کا چراغ گل کر کے
06:48یہاں یونانی دور کی کندیل روشن کرے
06:50ایک سو تیرہ میل کا دشوار گزار پہاڑی علاقوں کا سفر کر کے
06:55پانچ میں دن موسم سرما کی کٹنائیوں کے باوجود
06:58سکندر دروازہ پارس تک جا پہنچا
07:02یہ آج کل قلعہ سفید کے نام سے موسم ہے
07:05یہاں شہنشاہ ایران نے کچھ فوج متعین کی ہوئی تھی
07:08جس کی قیادت آریو برزین نامی ایرانی جرنیل کے سپر تھی
07:13سکندر نے اچانک حملہ کر کے اسے شکست سے دوچار کیا
07:16اب تخت جمشید تک کا راستہ صاف تھا
07:21تخت جمشید پہنچ کر سکندر نے
07:23اخہ منشیوں کے سب سے بڑے خزانے پر قبضہ کر لیا
07:27اور یہاں کے عظیم شان و حلات کو آگ لگا کر
07:30حقہ منشی اہد کا اختتام کرنے کے ساتھ ساتھ
07:34ایتھنز کو جلانے کا انتقام بھی لے لیا
07:37اس کے بعد پازارگت اور حمدان پر قبضہ کرنے کے بعد
07:41سکندر داریوش کے تاکم میں نکلا
07:43رے اور بہرہ خزر کے کنارے کنارے
07:46سکندر نے تہران سے مشہد جانے والی سڑک پر سفر جاری رکھا
07:51آخر جب سکندر داریوش کے رت تک پہنچا
07:54تو اسے مردہ پایا
07:56داریوش کی بے گورو کفن لاش دے کر
07:58سکندر کو بہت رنج ہوا
08:00اور اس نے اپنا سرخ لبادہ داریوش کی لاش پر ڈال دیا
08:04مورخین کے مطابق یہ واقعہ
08:07جولائی تین سو تیس قبل مسیح میں پیش آیا
08:10داریوش کے قاتلوں میں بسوس
08:12جو بلخ خاصوبیتار تھا
08:14کا نام نمائیا تھا
08:16اس نے باشا کو قتل کر کے
08:17خود داریوش کا لقب اختیار کر لیا
08:19اور اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا تھا
08:28سکندر اس کی سرکوبی کے لیے آزم بلخ ہوا
08:32اور افغانستان سے گزرتا ہوا بلخ پہنچا
08:35افغانستان میں حرات کے قریب
08:37سکندر نے اپنے نام پر
08:39ایک اور سکندریہ شہر آباد کیا
08:42تین سو اٹھائیس قبل مسیح میں
08:44سکندر قابل کے شمال سے ہوتا ہوا
08:47کوہ ہندوکش کے درہ پنشیر سے گزر کر بلخ پہنچا
08:50بلخ زرتشت کا آخری وطن ہونے کی وجہ سے
08:54ایرانیوں کے لیے متبرک تھا
08:56بلخ کی تسخیر میں سکندر کو
08:58کسی مضاہمت کا سامنا نہ کرنا پڑا
09:00کچھ عرصہ وہ یہاں رکا
09:02اور پھر دریائے جیہوں عبور کر کے
09:05ترکستان میں سمرکن سے آگے تک بڑھتا چلا گیا
09:08اس نے سنا ہوا تھا کہ
09:10کروش آزم نے سہر دریائے سے
09:12پرے آباد سکتی قبائل کو للکا رہا تھا
09:16سکندر بھی سکتیوں تک پہنچا
09:19اور اس نے سکتیوں کو
09:21اطاعت اور دوستی پر مجبور کر دیا
09:25ترکستان کی مہم کے دوران
09:26سکندر آزم نے ایک ایشیائی لڑکی
09:29روشنک سے شادی کی
09:31اس کے بطن سے
09:32323 قبل مسیح میں ایک لڑکا پیدا ہوا تھا
09:35جس کا نام بھی سکندر ہی رکھا گیا تھا
09:37سکندر کی وفات کے بعد
09:39روشنک آپری سوکن
09:40یعنی دخترے داریوش کی موت کا باعث بنی
09:43تیکن 311 قبل مسیح میں
09:45خود سکندر کے جرنیل
09:47کاساندر کے ہاتھوں ماری گئی
09:56موسیقی
Comments

Recommended