00:00وہ جو انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں وقت انہیں پیچھے چھوڑ دیتا ہے لیکن جو آگے بڑھتے ہیں تاریخ انہیں
00:07یاد رکھتی ہے
00:09طاقت صرف اتھیاروں میں نہیں بلکہ ان الفاظ میں ہے جو دلوں کو جلا دیں اور حوصلوں کو بیدار کر
00:18دیں
00:19چھوٹے مواقع دراصل عظیم کامیابیوں کا دروازہ کھولنے والی کنجیاں ہیں
00:25آزادی کی حفاظت کرنے والوں کے لیے کوئی قربانی چھوٹی نہیں کوئی قیمت زیادہ نہیں
00:32جو قوم اپنے دشمنٹ کا سامنا کرنے سے گبرائے وہ غلامی کے اندیروں میں ڈوبنے کے لیے تیار رہے
00:39یہ ہیں الفاظ ڈیمو تھیمیز کے اس یونانی خطیب کے جس کی زبان سے نکلنے والا ہر جملہ ایک تیر
00:47کی مانن تھا
00:48ایسا شخص جس نے ثابت کیا کہ اصل جنگ تلواروں سے نہیں جیتی جاتی
00:53بلکہ ان تقریروں سے جیتی جاتی ہے جو قوم کے خون میں آگ لگا دیں
00:58آج ہم آپ کو لے کر چلیں گے ڈیمو ستینیز کی زندگی کے سفر پر
01:02جہاں لفظ ہی ہتھیار تھے اور حوصلہ اس کی ڈھال
01:33353 قبل مسیح میں ایتھنز کی عوام کی صفوں سے ایک ایسے شخص کی آواز ابری
01:38جو اگلے بیس سال تک مسلسل نہ صرف ایتھنز بلکہ تمام سرزمین یونان پر اپنی شخصیت کا اثر ڈالتا رہا
01:48لانگینیز نے ڈیمو ستینیز کو ایک کڑکتی ہوئی گرج سے تشبیح دی ہے
01:53ڈیمو ستینیز 384 قبل مسیح میں 98 اولمپیارڈ کے آخری سال
01:58یا 99 اولمپیارڈ کے پہلے سال کے زوران پیدا ہوئے
02:02اس کا والد ایک دولت مند تلوار بنانے والا تھا
02:06ڈیمو ستینیز صرف 7 سال کی عمر میں یتیم ہو گیا
02:09کم سینی میں اس کی آبائی جہداد کا انتظام چند متولیوں کے سپرد ہوا
02:14لیکن انہوں نے اس کا انتظام اس درجہ خراب کر دیا
02:18کہ آخر ڈیمو ستینیز کو جس کے میلان شروعی سے فساط و بلاغت کی طرف تھا
02:24ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا پڑی
02:34مشہور یونانی تاریخ دن پروٹار کے مطابق اس کی ایک بار شادی ہوئی تھی
02:39اس کی بیوی جس کا نام نامعلوم ہے کہ بارے میں صرف یہ معلومات ہیں
02:43کہ وہ ایک منتاز شہری ہیلیوڈورس کی بیٹی تھی
02:47ڈیمو ستینیز کی بھی ایک بیٹی تھی
02:50اس کی بیٹی فلپ دوم کی موت سے چند دن پہلے جوان اور غیر شادی شدہ مر گئی
03:02تین سو چونسٹ قبل مسیح میں اس نے اپنی پہلی عدالتی تقریر بیس سال کی عمر میں کی
03:08جب اس نے اپنے متولیوں میں سے ایک افولوس کے خلاف مقدمہ دائر کیا
03:14اور اس کے خلاف کامیابی حاصل کی
03:17اس کی اس کامیابی نے اتھنز کے شہریوں پر غیر اثر ڈالا
03:20چنانچہ اس نے شہر میں اپنا دفتر کھول کر تقریر نبیسی
03:24یا لوگوں گرافر کا پیشہ اختیار کیا
03:27اور اس کے پاس بہت سے موکل بھی آنے لگے
03:32اتھنز میں ان دنوں یہ قائدہ تھا کہ فریق مقدمہ کو
03:35اسالتاً اپنی پہروی خود کرنا پڑتی تھی
03:38چنانچہ اگر کوئی شخص خود فلبتی تقریر پر قادر نہ ہوتا
03:42تو کسی دوسرے سے تقریر لکھوا کر عدالت کے سامنے سنا دیتا
03:47یا اس کے کسی ہمدرد کو اس کے حق میں بولنے کی اجازت ہوتی تھی
03:52جسے جنانی زبان میں سیونے گوروس کہا جاتا تھا
03:56اس طرح ڈیموس تھینیز نے سیونے گوروس کا پیشہ اختیار کر لیا
04:00کچھ مدد کے بعد اس نے قانونی تقریر نبیسی کے پیشے کو ترک کر کے
04:05میدان سیاست میں قدم رکھا
04:07اور اتھنز کی ریاست کا سلحکار یا سیون بولوس بن گیا
04:15344 قبل امسی میں ایک انوکھا واقع پیش آیا
04:19میڈیاس ایک امیر اتھنیائی نے عوامی طور پر اس وقت
04:23گریٹر ڈینیسیا میں ڈیموس تھینیز کو تھپڑ مارا
04:28جب وہاں دیوتا ڈیونیسیس کے عزاز میں ایک بڑا مذہبی تہوار جاری تھا
04:33میڈیاس یوبلس کا دوست تھا اور ڈیموس تھینیز کا پرانا دشمن بھی تھا
04:39361 قبل امسی میں اس نے اپنے بھائی تھریسائی کلوس کے ساتھ
04:44اپنے گھر پر قبضہ کرنے کے لیے تشدد سے توڑ پھوڑ کی تھی
04:48ڈیموس تھینیز نے اپنے میر مخالف پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا
04:53اور میڈیاس کے خلاف عدالتی تقریر لکھی
04:56یہ تقریر اس وقت کے اتھنیائی قانون کے بارے میں
04:59اور خاص طور پر ہائیبرس کے یونانی تصور کے بارے میں
05:03قیمتی معلومات فرام کرتی ہے
05:05جس میں اس نے کہا کہ ایک جمہوری ریاست تب تباہ ہو جاتی ہے
05:09جب قانون کی حکمرانی دولت مند اور بے زمیر آدمیوں کے ہاتھوں کمزور ہو
05:15اور شہری تمام ریاستی امور میں طاقت اور اختیار
05:19قوانین کی مضبوطی کی وجہ سے حاصل کر لیتے ہیں
05:22سکولرز کے درمیان یا تو اس بات پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہے
05:26کہ آیا ڈیموس تھینیز نے آخر کار میڈیاز کے خلاف
05:30یہ مقدمہ جیت لیا یا نہیں
05:34354 قبل مسیح میں اس نے عوام کے سامنے پہلی مرتبہ تقریر کی
05:38سلطنت ایران مدت سے روبہ زوال تھی
05:42358 قبل مسیح میں جب ارد شیر تخت نشین ہوا
05:46تو اس نے سلطنت کی ساکھو تھوڑا بہت بحال کر دیا
05:50اور ساتھ ہی ایشیا کوچک کی افراتفری کی توجہ دی
05:53جیسے یہ مشہور ہو گیا
05:55کہ وہ یونان پر حملہ کرنا چاہتا ہے
05:58اس لیے ایتنز کے لوگوں میں ایران کے خلاف جذبات ابرے
06:01اور لوگوں کا خیال ہوا کہ ایران کے خلاف لیگ بنائی جائے
06:05اور اس پر حملہ کیا جائے
06:07ڈیموس تھینیز نے اپنی تقریر
06:09ڈی سو موروس میں اس خیال کے خلاف آواز بلند کی
06:13اور زور دیا کہ ایران پر حملہ کرنے سے پہلے
06:16ایتنز کو ہر کیل کانٹے سے پوری طرح لیس ہونا چاہیے
06:221552 قبل مسیح میں جب میگا پولس نے ایتنز سے مدد طلب کی
06:26تو ڈیموس تھینیز نے اسے منظور کرنے کی صلاح دی
06:29تاکہ سپارٹا کی مزید ترقی کو رکھا جائے
06:32لیکن جس معاملے نے ڈیموس تھینیز کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا
06:37اور اسے ایک اہم یونانی سیاستدان اور مفقر کا درجہ دلایا
06:42وہ مقدونیا کے فلپ دوم کے جارہنہ عزائم تھے
06:46اس موضوع پر اس کی تقاریر نے اسے دنیا کے مقرروں کی صفحے اول میں پہنچا دیا
06:51تین سو باون قبل مسیح میں جب مقدونیا نے پروپونٹس تک اور بیزن تیم سے الہاق کیا
06:57تو الانتھوس نے مقدونیا کے ساتھ اپنے اتحاد کو چھوڑ کر اتھن سے اتحاد کر دیا
07:03چنانچہ فلپ نے اس کا روح کیا تاکہ اس کا اپنی سلطنت سے الہاق کرے
07:08اسی موقع پر ایڈیموس نے قطع طور پر فلپ کی مخالفت اور ینانیوں میں اس کے خلاف تبلیغ کرنا شروع
07:15گی
07:16فلپ کے خلاف اس کی یہ تقاریر تاریخ میں فلپیان کہلاتی ہیں
07:21اپنی پہلی فلکوی میں وہ بتاتا ہے کہ اگر ایتھنز اور مقدونیا کے مباین جنگ ہو جائے
07:28تو اس کا انتظام کیسا ہونا چاہیے
07:30اپنی دوسری تقریر میں وہ یہ کہہ کر ایتھنز کے لوگوں کا دل بڑھاتا ہے
07:34کہ فلپ کے اثر کی بنیاد نہائیت کمزور ہے
07:38اور خود مقدونوی بھی آپ نے اس باشا کو اچھا نہیں سمجھ دے
07:42لیکن فلپ کی اہمیت کو نظر انداز کرنے کے معنی یہی ہو سکتے تھے
07:47کہ مقرر خود ہی اصل صورتحال سے واقف نہیں
07:50اپنے ہم وطنوں کو وقتی جوشت لاکر وہ فلپ کی طاقت کا غلط اندازہ لگا رہا تھا
07:57بہرالی سے صورتحال کا صحیح اندازہ تھا یا نہیں
08:00مگر کس نے اپنی ان سہرہ انگیز تقاریر سے بڑی شہرت پائی
08:07فلپ کی فتح ایتھنز کے بعد بھی ملک میں ڈیموس تھینیز کی عزت برقرار رہی
08:12تا آنکھے اسے بددیانتی کے مبہم الزامات لگا کر جلاوطن کر دیا گیا
08:19سکندری آزم کے وفات کے بعد وہ واپس آیا
08:21مگر ایتھنز کی طاقت کو نئے سرے سے استوار اور بحال کرنے میں ناکام رہا
08:26اور انٹی بیٹر سے شکست کھانے کے بعد اس نے زہر کھا کر خودکشی کر لی
08:30تاہم اس کی تقاریر انیسویں صدی تک نمونے کی تقاریر کے طور پر استعمال ہوتی رہی
Comments