00:01سوچئے اگر دنیا سے تمام سیدھی لکیریں، زاویے اور اشکال غائب ہو جائیں تو کیا باقی بچے گا؟
00:08آج کی جدید سائنس، انجینرین اور ٹیکنالوجی سب ایک ایسے شخص کے نظریات پر کھڑی ہیں جو دو ہزار سال
00:17پہلے زندہ تھا
00:18اس کا نام تھا اقلی دس، ایک ایسا دماغ جس نے ریاضی کو صرف حساب نہیں بلکہ منطق اور ثبوت
00:26کی طاقت بنا دیا
00:27لیکن سوال یہ ہے، اقلی دس حقیقت میں کون تھا؟
00:33کیا وہ صرف ایک استاد تھا یا علم ریاضی کا سب سے بڑا معمار؟
00:37آئیے وقت کی گرد ہٹاتے ہیں اور جانتے ہیں اقلی دس، اس کی شورا فاق کتاب ایلیمنٹس
00:45اور وہ تاریخ جو آج بھی ہماری دنیا کو شکل دے رہی ہے
01:14اقلی دس قدیم دنیا کے ان عظیم ترین ریاضی دانوں میں شمار ہوتا ہے
01:19جن کا اثر دو ہزار سال سے زیادہ عرصے تک انسانی علم پر قائم رہا
01:25اگرچہ اس کی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں
01:30لیکن اس کی علمی مراس اتنی مضبوط اور واضح ہے
01:34کہ آج بھی جدید ریاضی، جیومیٹری اور منطق کی بنیاد اسی کے کام پر قائم ہے
01:41اقلی دس کو عموماً جیومیٹری کا باپ کہا جاتا ہے
01:45اور اس کی مشہور تصنیف ایلیمنٹس کو تاریخ علم کی سب سے کامیاب اور اثر انگیز کتابوں میں شمار کیا
01:52جاتا ہے
01:56مصر کا بادشاہ بطلی موس اول سکندری عظم کے ان کامیاب جرنیلوں میں سے ایک تھا
02:02جو اس کے بعد اپنی سلطنت قائم کرنے میں کامیاب ہوا
02:06اس کے عہد میں سکندریہ ایک عالمی مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا تھا
02:11شاہ بطلی موس یا پیٹولمی کو علم ہنسہ سے بڑا لگاؤ تھا
02:16ایک بار وہ مشہور زمانہ مہندس اقلیدس کی کتاب ایلیمنٹس پڑھ رہا تھا
02:22اسے یہ کتاب سمجھنے میں بڑی دکت پیش آ رہی تھی
02:25اقلیدس خود بھی اس کے دربار میں موجود تھا
02:28اس نے اقلیدس سے پوچھا
02:30کہ کیا بادشاہوں کے لیے علم ہنسہ پڑھنے کا کوئی آسان طریقہ نہیں ہے
02:35اقلیدس نے بادشاہ کے سوال کے جواب میں کہا
02:38کہ جناب علم الہنسہ یا جمیٹری کی طرف کوئی شاہی سڑت نہیں جاتی
02:44کہ اس جواب سے بادشاہ لا جواب ہو گیا
02:49اقلیدس یا یوکلیٹ اندازاً تین سو قبل مسیح سے دو سب چھتر قبل مسیح کے درمیان پیدا ہوا
02:56بعد میں وہ اسکندریہ یعنی مصر چلا آیا
03:00جو اس وقت کی دنیا کا ایک عظیم علمی مرکز بن گیا تھا
03:04اسکندریہ ہی میں اس نے ایک مدرسے کی بنیاد رکھی
03:07بعد ازاں اسی مدرسے میں وہ علم الہندسہ یا جمیٹری کے ان اصولوں کی تعلیم دیا کرتا تھا
03:14جو ہم تک پہنچے ہیں
03:16یہ بھی مشہور ہے کہ اس کا ایک شاگر قانون
03:19مشہور زمانہ انجینئر ارشمیدس کا استاد تھا
03:23اس کے بارے میں قدامہ نے لکھا ہے
03:25کہ وہ ایک شریف الطبع اور مہربان انسان تھا
03:29چوتھی اور تیسری صدی قبل مسیح کا وہ حصہ جس میں وہ حیات تھا
03:33آج بھی تاریخ سائنس میں اس کی علمی خدمات کے اطراف میں
03:38اہد اقلیدس کہلاتا ہے
03:44وہ ایک طرح سے اس زمانے کی تنہاز سائنسی شخصیت ہے
03:48لیکن اس قدر بلند
03:50کہ اس کے ہوتے ہوئے
03:52کوئی دوسری شخصیت بلندی پر نظر نہیں آتی
04:01جیسا کہ بہت سے قدیم یونانی ریاضی دانوں کی طرح
04:04یوکلیڈ کی زندگی کی تفصیلات
04:07زیادہ تر نامعلوم ہیں
04:09عموماً اسے چار مقالوں کا مصنح مانا جاتا ہے
04:12جو یہ ہیں
04:13ایلیمنٹس
04:14اوپٹکس
04:15ڈیٹا
04:16اور فینومینہ
04:18لیکن اس کے علاوہ ان کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے
04:22جبکہ روایتی داستان بنیادی طور پر
04:25پانچویں صدی اسوی کے پروکلس کے
04:28کمنٹری آف زی فرسٹ بک آف یوکلیڈس
04:30ایلیمنٹس
04:31اور چوتھی صدی کے حوائل کے اسکندریہ کے پیپس سے کچھ منصوب کہانیاں ہیں
04:37پروکلس کے مطابق
04:39یوکلیڈ
04:39فلاتون کے بہت سے پیروکاروں کے بعد
04:42اور ریاضی دان
04:43ارکمیڈیز سے پہلے ہوا تھا
04:45خاص طور پر پتلی موس اول کے دور میں
04:48یوکلیڈ کی تاریخ پیدائش ناملوم ہے
04:51کچھ علماء
04:51تین سو تیس یا تین سو پچی قبل مسیح کا تخمینہ لگاتے ہیں
04:55لیکن دوسرے کیاس کرنے سے گریز کرتے ہیں
04:59یہ خیال کیا جاتا ہے
05:01کہ وہ یونانیو نسل تھا
05:03لیکن اس کی جائے پیدائش ناملوم ہے
05:05پروکلس کا خیال تھا
05:07کہ یوکلیڈ
05:08افلاتونی روایات کا پیرو تھا
05:10لیکن اس کی کوئی قطی تصدیق موجود نہیں ہے
05:14جبکہ اس بات کا بھی کوئی امکان نہیں ہے
05:16کہ وہ افلاتون کا ہم اثر تھا
05:18اس لئے اکثر یہ خیال کیا جاتا ہے
05:21کسی افلاتون کے شاگردوں نے ایتھنز کی افلاتون اکیڈمی میں تعلیم دی تھی
05:26مورخ تھامس حیث نے اس نظریہ کی تائید کرتے ہوئے کہا
05:31کہ سب سے زیادہ قابل جو میٹرز ایتھنز میں رہتے تھے
05:36کرونہ وستہ کے عربی ذرائع اقلیدس کی زندگی کی بارے میں بہت زیادہ معلومات فرام کرتے ہیں
05:42لیکن یہ مکمل طور پر نقابل تصدیق ہیں
05:45یوکلٹ جو قیاس کے مطابق دمشق میں موقیم ٹائر میں پیدا ہونے والا یونانی تھا
05:52اس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ نوکریٹس کا بیٹا تھا
05:56اکثر علماء ان کی صداقت کو مشکوک سمجھتے ہیں
06:00چونکہ یونان میں جیومیٹری کا کوئی عملی مصرف نہ تھا
06:04لیکن مصری بشندے دریائے نیل میں سالاب کے بعد
06:07ہر سال علم الہنسہ کی مدد سے زمینوں کا دوبارہ معاینہ اور پمائش کرتے تھے
06:13یہی سے لفظ جیومیٹری نکلا جس کا مطلب زمین کی پمائش ہے
06:22اقلیدس کی علمی تحقیقات ریاضیات سے ہندسی بسریات تک پھیلی ہوئی ہے
06:28بسریات یا آپٹکس کو اس نے سب سے پہلے جیومیٹری کا زیلی حصہ بنایا تھا
06:33اور شواؤں کو خط مستقیم سے ظاہر کیا
06:40اقلیدس کا سب سے بڑا اور دائمی کارنامہ اس کی کتاب ایلیمنٹس ہے
06:45یہ کتاب تیرہ جیلدوں پر مشتمل ہے
06:47عرص میں جیومیٹری، نمبر تھیوری، تناسب اور اشکال کے خاص کو
06:53نہیت منظم انداز میں پیش کیا گیا ہے
06:57اقلیدس نے پہلی مرتبہ ریاضی کو ایک بقاعدہ منطقی نظام کی شکل دی
07:01جہاں چند بنیادی تعریفوں، مسلمات اور مفروضات سے پورا علمی دھنچہ کھڑا کیا گیا
07:09اس طریقہ کا آرنے بعد میں فلسفہ سائنس اور منطق پر گہرہ اثر ڈالا
07:14اقلیدس کے کتاب مبادیات یا ایلیمنٹس
07:17دو ہزار سال سے زیادہ عرصے سے علم الہنسہ
07:20یا جیومیٹری کی بنیادی اور ابتدائی کتاب تسلیم کی جاتی ہے
07:25یہ کتاب جیومیٹری کی ابتدائی تعلیم کے لیے آج بھی اساس کا کام دیتی ہے
07:30ایلیمنٹس کا بیشتر حصہ خود اقلیدس کی محنت اور تحقیقات کا نتیجہ ہے
07:36جو بڑی اہمیت کی حامل ہے
07:38اس کتاب کی پہلی چار فصلیں سادہ ترجمیٹری اشکال کی وضاحت کرتی ہیں
07:45مثلاً مسلس، دائرہ، قصیر العزلہ، خطوط متوازی اور فیصہ غورسی مسئلے کی مشکے
07:52پانچویں فصل مساوات کی مختلف اشکال کے ذریعے تناسب کا ایک نظریہ پیش کرتی ہے
07:59چھٹی فصل بھی پانچویں میں پیش کردہ تصور کی بنیاد پر اس قسم کی اشکال کے بارے میں ہے
08:06ساتویں سے نمی فصل تک میں مکمل نمبرز کی خاصیتیں بیان کی گئی ہیں
08:11دسویں فصل میں غیر ناتک آداد کے بارے میں بیان کیا گیا ہے
08:15گیارمی اور بارمی فصلیں جمیٹری کے ٹھوس حقائق
08:19مثلاً پیرامیڈ، سیلنڈر، کون اور کررہ جیسی اشکال کے بارے میں ہیں
08:28ایلیمنٹ کی سب سے نمائے خصوصیت اس کی منطقی ترتیب ہے
08:32اقلیدس پہلے تعریف بیان کرتا ہے
08:34پھر ثبوت بیان کرتا ہے
08:36اس کے بعد مسئلے یا تھیورم کو ثابت کرتا ہے
08:39اس نے یہ واضح کیا کہ علم کو بغیر دلیل کے قبول نہیں کیا جانا چاہیے
08:43بلکہ ہر دعوے کے پیچھے اقلی ثبوت ہونا لازمی ہے
08:47یہی اصول بعد میں سینٹیفک میتھڈ کی بنیاد بنا
08:52تاہم اقلیدس کے کام پر تنقید بھی کی گئی ہے
08:55اور یہ تنقید جدید دور میں زیادہ واضح ہوئی
08:58مثال کے طور پر اس کے پانچویں مسلمیں
09:01جسے پیرلل پاسچولیٹ کہا جاتا ہے
09:04کوئی صدیوں تک مشکوک سمجھا جاتا رہا
09:07کئی ریاضی دانوں نے اسے ثابت کرنے کی کوشش کی
09:10مگر ناکام رہے
09:11بالآخر انیسویں صدی میں یہ واضح ہوا
09:14کہ اس مسلمے کو رد یا تبدیل کر کے
09:17غیر اقلیدسی جیومیٹری
09:19یعنی نون یوکلیڈین جیومیٹری وجود میں آ سکتی ہے
09:23اس دریافت نے یہ ثابت کیا
09:25کہ اقلیدس کا نظام واحد ممکنہ نظام نہیں
09:29بلکہ کئی متبادل نظام بھی ممکن ہے
09:33اس کے باوجود یہ کہنا غلط ہوگا
09:35کہ اقلیدس کا کام ناکست تھا
09:37حقیقت یہ ہے کہ اس نے جو نظام قائم کیا
09:40وہ اپنے زمانے کے لحاظ سے نہائیت مکمل اور محصر تھا
09:44دو ہزار سال تک ریاضی کی تعلیم
09:46اقلیدسی جیومیٹری کے بغیر ناممکن سمجھی جاتی تھی
09:50یورپ، اسلامی دنیا اور ایشیا میں صدیوں تک
09:54ریاضی کی تدریس، الیمیٹس کے ذریعے ہوتی رہی
09:58اسلامی سنہری دور میں قلیدس کے کام کو عربی میں تنمہ کیا گیا
10:02اور مسلمان علماء جیسے الخارزمی، ابن الحیسم اور عمر خیام
10:08نے اس پرشریں لکھی اور اسے مزید آگے بڑھایا
10:11بعد میں یہی علم یورپ میں منتقل ہوا
10:14اور نشات سانیہ کی بنیاد بنا
10:16اس طرح قلیدس کا اثر صرف ایک ریاضی دان تک محدود نہیں رہا
10:21بلکہ پوری تہذیبی ترقی میں شامل ہو گیا
10:29اگر ہم اکلیدس کی زندگی، کام اور اثرات کا مجموعی جائزہ لیں
10:34تو یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ سرجیومیٹری کا ماہر نہیں تھا
10:37بلکہ ایک ایسا بفقر تھا جس نے انسانی عقل کو منظم سوچ سکھائی
10:42اس کی مراز ہمیں یہ سبق دیتی ہے
10:45کہ علم، صبر، دلیل اور ترطیب کا تقاضہ کرتا ہے
10:49اور سچی ترقی آسان راستوں سے نہیں بلکہ محنت اور فہم سے حاصل ہوتی ہے
10:55صدیان گزرنے کے باوجود
10:57جیومیٹری اور اکلیدس کے اصول متعارفہ
11:00بلا ہیلو حجت تسلیم کیے جا رہی ہیں
11:03اور بہت کم ریاضی دانوں نے ان پر کھلم کھلا اطراز کرنے کی جرت کی ہے
11:08اس لیے آج کے ریاضی کے طالب علموں کے لیے بھی
11:11اکلیدس اتنا ہی اہم ہے
11:13جتنا آج سے پہلے ڈھائی ہزار برس پہلے کے طالب علموں کے لیے تھا
11:18اسی وجہ سے کلیدس آج بھی اپنے خیالات، اصولوں اور اس علمی روایت سے زندہ ہے
11:26جو اس نے انسانیت کو عطا کی
11:52موسیقی
Comments