00:02سکندریہ کا شاہی محل روشنیوں سے جگمگا رہا تھا
00:05سنگ مرمر قسطونوں کے درمیان درباری علماء فلسفی اور شاعر خاموشی سے صحبانے کھڑے تھے
00:13فضا میں سمندر کی ہلکی سی نمی اور اود کی خشبو گھولی ہوئی
00:19تخت پر جلوہ فروز تھا مصر کا حکمران
00:22توٹیل می ٹو فلائی ڈلفز
00:28دروازہ کھلا اور ایک سادہ لباس پہنے شاعر تھیو کرائٹس اندر داخل ہوا
00:34وہ درباری دمک چمک آدینہ تھا
00:37اس کی آنکھوں میں کھیتوں کی سبزہ داری اور چراغاہوں کی خاموشی بسی ہوئی تھی
00:42مگر آج اسے فطرت نہیں بادشاہ کے حضور بولنا تھا
00:46دربار میں سرگوشیاں ہوئی ہیں
00:54تو ایک راٹس نے سر جکایا اور پھر اپنی نظم کا آغاز کیا
01:10الفاظ فضاء میں یوں پھیلے جیسے بانسری کی مدم سی دھن
01:14اس نے بادشاہ کی عظمت بیان کی
01:17مگر مبالگے سے زیادہ وقار کے ساتھ
01:19اس نے سلطنت کی خوشحالی کو دیوتاؤں کی آنایت سے جوڑا
01:23اس کی آواز میں چاپلوسی نہیں فن کی طاقت تھی
01:27کچھ لمحوں کے لئے دربار ساکت ہو گیا
01:30پھر بادشاہ کے چہرے پر مسکرہ ٹوبری
01:33یہ شاعر صرف دیہاد کی بات نہیں کرتا
01:36بطلی موس نے آہستہ سے کہا
01:38یہ ہمارے عہد کو عمر کر سکتا ہے
01:40اسی لمحے ایک سادہ چرواہوں کا شاعر
01:44اسکندریہ کے علمی مرکز کا حصہ بن گیا
01:47اور یوں فطرت کی خاموش آواز
01:49شاہی دربار تک پہنچ گئی
02:16تھیوکرائٹس تیسری صدی قبل از مسیح کا ایک عظیم یونانی شاعر تھا
02:21وہ سیراکیوز یعنی سسلی کا باشندہ تھا
02:25کچھ دنوں کے لئے وہ اسکندریہ اور کوس میں بھی رہا
02:28تھیوکرائٹس کو پاسٹورل شاعری کا بانی سمجھا جاتا ہے
02:32اس کی شاعری میں دیہاتی زندگی
02:34چرواہوں کی گفتگو
02:36فطرت کے مناظر
02:38محبت اور انسانی جذبات کو
02:40نہائیت سادگی مگر فنی مہارت کے ساتھ پیش کیا گیا
02:44تھیوکرائٹس کا زمانہ وہ تھا
02:46جب اسکندری آزم کی فتوحات کے بعد
02:48یونانی تہذیب مشرق تب فیل چکی تھی
02:51اس دور کو ہیلینسٹک دور کہا جاتا ہے
02:54علمی اور ثقافتی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز
02:58مصر کا شہر الیکزنڈریہ تھا
03:00یہی وہ شہر تھا جہاں قائم تھی
03:02دنیا کی مشہور علمی درسگا
03:05لیبریری آف الیکزنڈریہ
03:07جہاں فلسفی
03:08سائنستان اور شاعر جمع ہوتے تھے
03:11مورخین کے مطابق وہ اسکندریہ
03:13دو سو اسی قبل مسیح کے قریب پہنچا
03:15یہاں اس کی ملاقات کالی معاقص سے ہوئی
03:18اس کے توسط سے اس نے وہاں کے
03:20حکمران بتلی موسدوم کی شان میں نظم کہی
03:23اس کی قسمت نے یاوری کی
03:25اور واشا نے اس کی کاوش کو
03:27سندیدگی کی نگاہ سے دیکھا
03:29اور وہ اسکندریہ کے عدوی حلقوں میں
03:31ممتاز مقام حاصل کرنے میں
03:33کامیاب ہو گیا
03:34اسکندریہ سے وہ جزیرہ کوس چلا گیا
03:36جو اشیاء کوچک کے مغربی ساحل پر واقع ہے
03:39غالباً وہیں اس نے وفات پائی
03:44توی کرائٹس کی جو تیس نظمیں دستیاب ہیں
03:47انہیں تاریخ وار ترطیب دینا تو ممکن نہیں
03:50اس کی آٹھ نظمیں جنہیں کسی پسو پیش کے بغیر
03:54دہکانی یعنی پاسٹوریل کہا جاتا ہے
03:57ان آٹھ نظموں کو یورپ میں
03:59طویل عرصہ تک مقبولیت عامہ حاصل رہی ہے
04:07توی کرائٹس کی سب سے مشہور تخلیقات
04:10اس کی نظموں کا مجموعہ ہے
04:11جسے آئیڈلز کہا جاتا ہے
04:14ان نظموں میں چرواہوں کے مقالمیں
04:16دہاتی و مقابلہ شائری
04:18فطرت کی خوبصورتی
04:20محبت اور حسرت کو
04:22نہائیت فنی انداز میں پیش کیا گیا ہے
04:25اس نے ایک نیا عدوی انداز متعارف کرایا
04:28جس میں دہاتی زندگی کو مرکزی حیثیت دی گئی
04:31بعد میں رومی شائر ورجل نے
04:33اپنی مشہور کتاب ایکلوگس میں
04:35اسی طرز کو اپنایا
04:37تھیو کریٹس کی شائری کی خصوصیات میں
04:40سادہ مگر گہری زبان
04:42مقالماتی انداز
04:44دہاتی اور شہری زندگی کا تقابل
04:46یونانی دی مالا کے اناثر
04:48اور انسانی جذبات کی حقیقت پسندی شامل ہیں
04:51وہ محض فطرتنگار نہیں تھا
04:53بلکہ انسانی نفسیات کو بھی
04:55وہ خوب بھی سمجھتا تھا
04:59ہیلنسٹک دور میں اسکندریا
05:00علم و عدب کا مرکز تھا
05:02تھیو کریٹس نے درباری شائری بھی کی
05:04خاص طور بطلی موسی حکمرانوں کی
05:06مدہ میں نظمیں لکھیں
05:07تاکہ سرپرستی حاصل کر سکے
05:10اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف دہاتی شائر نہیں
05:12بلکہ ایک باشعور درباری عدیب بھی تھا
05:18تھیو کریٹس کی سب سے اہم عدبی تخلیقات
05:21اس کی نظمیں ہیں
05:22جنہیں آئیڈلز کہا جاتا ہے
05:24یہ مخصر شائرانہ منظومات ہیں
05:26جو تیسری صدی قبل مصیم میں لکھی گئیں
05:28اور ہیلنسٹک عدب کی بنیادوں میں شمار ہوتی ہیں
05:32لفظ آئیڈل یونانی لفظ ایڈیلیون سے نکلا ہے
05:36جس کا مطلب ہے چھوٹی تصویر
05:38یا مخصر منظر
05:39یعنی ہر نظم ایک چھوٹا مگر مکمل عدبی منظر پیش کرتی ہے
05:43جیسے فطرت کی ایک زندہ تصویر
05:46ان آئیڈلز میں جو موضوعات نمائیاں ہیں وہ ہیں
05:49دیہاتی زندگی جیسے چرواہے، کھیت، درخت، دریا، بانسری کی آواز
05:54یہ سب اس کی شائری کا حصہ ہے
05:56وہ دیہاتی زندگی کو نہیت خوبصورتی اور سادگی سے پیش کرتا ہے
06:01مکالماتی انداز جیسے بہت سی آئیڈلز مکالمے کی صورت میں ہیں
06:06جہاں وہ چرواہے شائری کا مقابلہ کرتے ہیں
06:09یا محبت پر گفتگو کرتے ہیں
06:11محبت اور حسد جیسے محبت اکثر یک طرفہ، دھوری یا درد بری ہوتی ہے
06:17مثلاً آئیڈل ٹو میں ایک عورت کی حسرت بری محبت کا بیان ہے
06:22دیو مالائید اناثر میں یونانی دیوتاؤں اور اساتیروی کرداروں کا ذکر بھی ملتا ہے
06:29جیسے دیوتا، حرمیز یا اپولو
06:35تریخی شواہد کے مطابق تھیو کریٹس نے بتلی موسی دربار کے لیے بدہی یا نظمیں لکھیں
06:41خاص طور پر اس نے مصر کے حکمران پٹول می ٹو کی تاریخ میں ایک نظم تحریر کی
06:46جسے عموماً آئیڈلز سیونٹین سے منصوب کیا جاتا ہے
06:50مورخین کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ آیا تھو کریٹس کو بقاعدہ سرکاری عوضہ ملا یا نہیں
06:56لیکن یہ باضح ہے کہ اسے شاہی پرستی حاصل ہوئی
07:00اس کا تعلق سکندریا کی علمی حلقوں سے قائم ہوا
07:03اس کی شاعری کو درباری حلقوں میں وزیرائی ملی
07:07یعنی وہ محض دہاتی شاعر نہیں رہا
07:10بلکہ شاہی دربار اور علمی دنیا کا حصہ بن گیا
07:32موسیقی
07:33موسیقی
Comments