Skip to playerSkip to main content
Step into history’s most dramatic conquest! This cinematic historical documentary brings to life the legendary Middle East campaign of Alexander the Great, from his departure from Macedonia to the fall of King Darius III of Persia. Witness the glory of ancient empires, the discipline of the Macedonian Phalanx, and the clash between East and West that changed the world forever.

الیگزینڈر اعظم کی یہ شاندار مہم، تاریخ کا وہ باب ہے جس نے نہ صرف فارس کی عظیم سلطنت کو گرا دیا بلکہ دنیا کے نقشے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک نوجوان بادشاہ نے اپنی بہادری، حکمتِ عملی اور جذبے سے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔

📜 Featuring:

Alexander the Great’s rise and strategy

Darius III and the Persian Empire’s glory

The Macedonian Phalanx formation

The epic battles of Granicus, Issus, and Gaugamela

The march through Egypt, Babylon, and beyond

🎬 Watch till the end to witness how ambition, courage, and destiny collided to create one of history’s greatest legends.

#alexanderthegreat #dariusiii #persianempire #ancienthistory #historicaldocumentary #AlexanderVsDarius #MacedonianPhalanx #gaugamela #epichistory #urduhistory #cinematicdocumentary #historyinurdu

Category

📚
Learning
Transcript
00:00اندھیری رات سلطنت فارس کا جلال اپنی بلندی پر ہے
00:05لاکھوں سپاہی بے شمار شہر اور ایک ایسا بادشاہ جسے ناقابل شکست سمجھا جاتا ہے
00:15لیکن دور کہیں مغرب میں ایک نوجوان بادشاہ اپنی فوج تیار کر رہا ہے
00:21اس کی آنکھوں میں ایسی چمک ہے جو آنے والے توفان کی خبر دیتی ہے
00:27کون ہے یہ نوجوان؟
00:29کیا یہ واقعی فارس جیسی عظیم سلطنت کو چیلنج کر سکتا ہے
00:33جب وہ پہلی بار دریا پار کرے گا تو تاریخ کا رخ بدلنے والا ہے
00:39توفانی محاصرے، دہکتی آگ، زمین کو حالہ دینے والی لڑائیاں
00:46اور ایک ایسا انجام جس نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا
00:49یہ ہے وہ داستان جس میں ایک انسان نے اپنی تلوار کے بل پر
00:54مشرق وستہ کو ہٹنے دیکھنے پر مجبور کر دیا
00:58لیکن سوال یہ ہے
01:00کیا وہ فاتح بن کر ابرے گا
01:02یا اپنی ہی جرت کا قیدی بن جائے گا؟
01:30موسم بہار 334 قبل مسیح میں سکندر اعظم نے ایشیا کو فتح کرنے کی تیاریاں مکمل کر لیں
01:37وہ تیس ہزار سوار اور پانچ ہزار پیادوں کا لشکر لے کر مکدونیا سے نکلا
01:42وہ رخین کے مطابق سکندر اعظم نے تمام معلوم دنیا فتح کرنے کا جوازم کیا تھا
01:48اس مہم کے آغاز میں اس کے پاس سازو سوان اور افواج ناکافی تھی
01:54لیکن اس افواج کی ترتیب بڑی شاندار تھی
01:57اور ان میں نمائیہ ترین حیثیت فلانکس اور مکدونوی فوجیوں کو حاصل تھی
02:03یہ دستے سولہ بائی سولہ سپاہیوں پر مشتمل اور سولہ فٹ طویل نیزے تھامے ہوئے تھے
02:10جو کہ اس کے باب کی ایک اہم ایجاد تھی
02:16سکندر اعظم نے اپنی فواج کے ساتھ ہیلس پونٹ یا بنائی باس فورس کا رخ کیا
02:21بیس دن کے سفر کے بعد ایشیا کوچک میں داخل ہونے پر
02:25اس نے دیوتاؤں کے نام پر قربانیاں دیں
02:28اور اس سرزمین پر جو سورما مدفون تھے انہیں نظریں اور نیازیں پیش کی
02:34ان یونانی سورماوں میں حمر کی داستان کا مشہور جنگجو اخلیس سب سے نمائی تھا
02:41کیونکہ اسکندر اعظم اسے اپنا آئیڈیل تصور کرتا تھا
02:46ایشیا کوچک میں اسکندر نے ساحل کے ساتھ ساتھ شمالی سمت میں پیش قدمی کی
02:51ساحل کے ساتھ چلنے کی وجہ اس کا بحری بیڑا تھا جو کسی حد تک مزور تھا
02:57ایتھنز والوں نے اسکندر کو کافی تعداد میں جہاز نہیں بیجے تھے
03:00وہ بادہ کہ یہی بحری جہاز ان کے خلاف استعمال نہ ہوں
03:07دوسری طرف داریوش سوم یا دارہ آزم یہ چاہتا تھا
03:11کہ ایشیا کوچک کی ریاستوں لیڈیا فریگیا اور کیپاڈوشیا کی ایرانی سردار
03:17آبنائی باس فورس کی کنارے اسکندر کو روک لے
03:20اور ایشیا کی طرح مزید پیش قدمی نہ کرنے دیں
03:23لیکن وہ اسکندر کے آبنائی باس فورس عبور کرنے تک متحد نہ ہو سکے
03:27اس وقت مہمنون نے یہ تجویز پیش کی
03:31کہ اسکندر کے راستے میں آنے والے تمام شہر اور دہات جلا دیے جائے
03:35تاکہ اسے سمانے رسد مہیا نہ ہو
03:38اور دوسری طرف یونان اور خصوصا مکدونیا میں ایک محاذ جنگ کھولا جائے
03:43تاکہ اسکندر اپنے وطن کو بچانے کے لیے واپس چلا جائے
03:46لیکن مہمنون کی ان تجاویز سے ایرانی سرداروں نے اتفاق نہ کیا
03:51بلاخر یہ تیہ ہوا کہ سکندر کو دریائے گرانیکس کے کنارے رکھا جائے
03:56چنانچہ دریائے کے ایک کنارے پر ایرانی افواج خیمہ زن ہو گئی
04:00اور سکندر کا لشکر دریائے کے دوسرے کنارے پر آٹھہ رہا
04:05سکندر کے ایک جرنیل پارمنیان نے دریائے کی گہرائی کو سامنے رکھتے ہوئے مشورہ دیا
04:11کہ آج کی بجائے کل الاس صبح دریائے بور کر کے دشمن پر حملہ کیا جائے تو بہتر ہوگا
04:17مگر سکندر نے کہا کہ پارمنیان دریائے گرانیکس سے ڈرنا درہ دانیال کی توہین ہے
04:23جسے ہم نے بلا تعمل عبور کر لیا تھا
04:27یہ کہہ کر سکندر تیرہ سو سواروں کے ساتھ دریائے میں کود پڑا
04:31اگرچہ پانی کا بہاؤ کافی تیز تھا اور ایرانیوں کی طرف سے پیروں کی بارش بھی ہو رہی تھی
04:36مگر ان دشواریوں کے باوجود سکندر نے دریائے میں رستہ بنا لیا
04:41اب سکندر کے کچھ سپائی ہی دریائے بور کرنے پائے تھے
04:44کہ ایرانی ان پر ٹوٹ پڑے
04:46سکندر کو اتنی محلت بھی نہ ملی کہ وہ صف آرائی کر سکتا
04:50میدان جنگ پہلے پہلی ایرانیوں کے قیامت خیزناروں سے گونج اٹھا تھا
04:55سکندر کا نیزہ لڑتے لڑتے ٹوٹ گیا
04:57جسے اس نے بدل کر داریوش کے داماد، مہرداد یا میترہ ڈیٹس پر زوردار حملہ کیا
05:04خود اس پر اکب سے حملہ ہوا
05:06اور حملہ آور کا نیزہ اس کے فلادی خود کو چیر کر اس کے شانے میں لگا
05:14اسکندر سے سکندر پر حملہ کرتا
05:16مگر ایک وفادر مقدونی نے لپکر تلوار سے سپہرداد کا ہاتھ قطع کر دیا
05:22اتنے میں سکندر کی مزید فوج دریاء بور کر کے آہ پہنچی
05:26اور تازہ دم یونانی ایرانیوں پر ٹوٹ پڑے
05:29اور انہوں نے ایرانیوں کی صفے درہم برہم کر دی
05:32جنگ میں کئی ناموار ایرانی سردار کام آئے
05:35جن کے مرنے کے بعد ایرانی فوج میں قیادت کا بہران پیدا ہو گیا
05:40اور کھل بلی مچ گئی
05:42اس کے بعد ایرانی مقدونیوں کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے
05:48مورخین لکھتے ہیں کہ اس جنگ میں ایرانی بڑی جان ساری سے لڑے
05:51اور جب تک ان کے ایک ایک سردار اور سالار نے جان نہ دی انشکست نہ ہوئی
05:57وفا شعاری کا یہ عالم تھا کہ شکست کی خبر سن کر
06:00فریگیا کے حاکم نے خودکشی کر لی
06:10جنگ گرانیکس میں فتح کے بعد
06:12ایشہ کوچے کے تمام ایرانی مقبوزات سکندر کے زیرت سلط آ گئے
06:17گرانیکس کے میدان سے سکندر نے لڈیا کے شہر سارد کا رخ کیا
06:23وہاں کے قیم مقام حاکم نے سکندر کی اطاعت اختیار کی
06:26اور رہوسائی شہر کے ساتھ اس کے استقبال کو آیا
06:29اور شہر کے غزانے اس کے حوالے کر دیئے
06:32سکندر نے سارد جیسے قدیم درل حکومت پر قبضہ کر کے
06:36نہ صرف اس کی مرمت کرائی
06:38بلکہ ایک قدیم لڈیای قوانین کا احیاء کیا
06:41کہتے ہیں کہ سکندر شہر میں ابھی زیوس دیوتا کے قدیم بدقدے کا
06:46مقام تلاش کر ہی رہا تھا
06:47کہ اچانک ایک بدلی آئی اور این اس مقام پر برسنا شروع ہو گئی
06:52جہاں یہ بدقدہ اسی زمانے میں موجود تھا
06:55سکندر نے اسی جگہ پر بدقدہ دوبارہ تعمیر کروایا
07:06ان فتوحات میں سکندر کے ہاں جمال غنیمت آیا
07:09اس میں سے تین سو زرہ بکتر ایتھنز بجوائے گئے
07:13جہاں انہیں ایکروپولس میں رکھ کر
07:15ان کے قریب یہ قطبہ نصب کیا گیا
07:18یہ زرہ بکتر سکندر پسر فلپ دوم نے
07:22ایرانی بروروں سے جنگ میں کامیابی کے بعد حاصل کیے
07:29سارت کی تاعت کے بعد سکندر نے ملیتس کا رخ کیا
07:33بہنگرانیکس کے میدان سے بھگنے والی ایرانی فوج جمع تھی
07:36سکندر نے یہاں کا محاصرہ کر لیا
07:38اور دیوار شکن آلات سے قلعہ کی دیواروں میں شگاف کر کے
07:42اس شہر کو فتح کیا
07:46ملیتس کی فتح کے بعد سکندر
07:48حالی کارنسس جیسے ایونیائی شہر کی طرف متوجہ ہوا
07:52یہ شہر ممنون کا صدر مقام تھا
07:55اس شہر کے گرد ایک بہت بڑی خندق بھی تھی
07:57جو اس سے نقابل تسخیر بناتی تھی
08:00مکدونیوں نے بڑی جانفشانی سے اسے پرک رایا
08:03اور پھر منجنیکوں اور دیوار کوب مشینوں سے
08:06قلعہ پر حملہ کر دیا
08:07لیکن بھاری جانی نقصان کے باوجود
08:09یہ کلا فتح نہ ہو سکا
08:11اس لئے سکندر نے اس کی تسخیر کا ارادہ ملتوی کر دیا
08:14حالی کارنسس سے سکندر نے اپنے شادی شدہ سپائیوں کو رخصد دی
08:19اور کہا کہ وہ موسم بہار تک واپس آ جائیں
08:22اور مزید لوگوں کو بھرتی کر کے ساتھ لائیں
08:25تین سو چونتیس اور تین سو تین تیس قبل مسیح کے موسم سرما میں
08:30سکندر اعظم ایشیا کوچک کی شمالی ریاستوں کی ترمتوجہ ہوا
08:34اور لائسیا سائلس اور کئی دیگر ریاستوں کو اطاعت پر مجبور کرتا ہوا
08:40ایشیا کوچک کے قلب افروجیا یا فریگیا کے درل حکومت گردیوم کی طرح بڑا
08:46گردیوم میں وہ گاڑی رکھی ہوئی تھی جس میں وہاں کا پہلے حکمران گردیوس بیٹھ کر شہر میں داخل ہوا
08:53تھا
08:53اس رتھ پر گاڑی کا جوا ایک رسی سے بنا ہوا تھا
08:57اس شہر میں یہ بات مشہور تھی کہ جو شخص اس رسی کی گرہ یا گردیوم نوٹ کھولنے میں کامیاب
09:03ہوگا
09:04وہی فاتح ایشیا کہلائے گا
09:06سکندر نے اس گرہ کو کھولنے کی کوشش کی
09:08مگر جب سرہ نہ ملا تو اپنی تلوار سے یہ گرہ کاٹ دی
09:13اور کہا گرہ کھولنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے
09:23دوسری طرف ممنون نے اپنی باقی ماندہ فواج کو کٹھا کیا
09:27اور منصوبہ بنائے کہ مکدونیا اور یونان کی دیگر ریاستوں میں محاذ جنگ قائم کیا جائیں
09:33تاکہ ایشیا پر یونانی دباؤ کم ہو جائے
09:36اس منصوبہ کے تیت اس نے جزیرہ کیوس اور جزیرہ الاسبوس پر حملہ کر کے
09:40مائٹیلینی کے سوا وہاں کے کئی شہر مسخر کر لیے دی
09:44قریب تھا کہ وہ شہر کو فتح کر کے سکندر کے لیے ایک نیا محاذ کھول دیتا
09:49لیکن زندگی نے اسے محلت نہ دی اور وہ کچھ عرصہ بیمار رہ کر راہیے ادم ہوا
09:54سکندر نے اس کی موت کو اپنے لیے نیک فال سمجھا اور سلیشیا کا روح کیا
10:00یہ شہر ایک تنگ گھاٹی سلیشن گیٹ سے تقریباً
10:04ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلہ پر واقع تھا
10:06اس گھاٹی کو حبور کیے بغیر شہر میں داخل نہیں ہوا جا سکتا تھا
10:10اس گھاٹی سے وہ مشکل چار آدمی گزر سکتے تھے
10:13سکندر کے یہاں پہنچنے سے پہلے ہی یہاں کی حاکم نے شہر کو آگ لگا کر
10:18کھنڈرات میں بدل دیا
10:19تاکہ سکندر یہاں سے رسد وغیرہ حاصل نہ کر سکے
10:23سلیشیا میں تھنڈے پانی کا ایک چشمہ کیدنوس بہتا تھا
10:27سکندر نے اس چشمہ میں غسل کیا
10:29جس کے بعد اس پر بے ہوشی تاری ہو گئی
10:32بیماری کا حملہ اس قدر شدید تھا
10:33کہ یونانی اس کی زندگی سے مایوس ہو گئے
10:36جب بیماری نے مزید شدت اختیار کر لی
10:38تو فلپ نامیہ کا حکیم نے اس کے لیے ایک دوا تیار کی
10:42یہ دوا خطرے سے خالی نہیں تھی
10:45ٹھیک جب سکندر یہ دوا پینے لگا
10:47ایک قاسد سپاہ سلار پانمینیان کا ایک رکا لے کر حاضر ہوا
10:52جس میں لکھا تھا
10:53حکیم فلپ سے خبردار رہنا
10:56یہ شخص داریوس سے مل کر تمہاری جان لینا چاہتا ہے
11:00سکندر نے جب وہ دوا موں کو لگائی
11:02تو وہ رکا حکیم کے ہاتھ میں دے دیا
11:04بہرحال فلپ کی دوا سے اسے کوئی نقصان نہ پہنچا
11:08بلکہ وہ روبہ صحت ہو گیا
11:10اور اس طرح وہ عظیم فاتح جو ایشیا کو فتح کرنے کی رادے سے نکلا تھا
11:15ایشیا کے دروازے پر موت کا اشکار ہونے سے بچ گیا
11:20سکندر نے سیتیاب ہو کر سلیشیا کے مشہور شہر ایسوس کا رکھ کیا
11:25شہنشاہ ایران کسی قیمت پر اس شہر کو کھونا نہیں چاہتا تھا
11:28اس لیے وہ سکندر سے فیصل کن جنگ کرنے کے لیے
11:31خود ایک بڑے لشکر کے ساتھ ایسوس کی طرف بڑھا
11:34لیکن بدقسمتی سے وہ اپنے ایک مساہب کے مشورے کے باوجود
11:38ایک تنگ پہاڑی مقام میں خیمہ زند ہو گیا
11:41ایسے مقامات پر قلیلت تعداد دشمن کو بھی بڑا لشکر مغروب نہیں کر سکتا تھا
11:47ادھر سکندر کو بھی آگاہی ہو گئی
11:50کہ داریوش یا داریعظم باوجود بہت بڑے لشکر کے
11:54قلطی سے ایک تنگ میدان میں خیمہ زند ہے
11:57اس نے اپنے سپائیوں کے حوصل بڑھائے
11:59اور ایک جذباتی تقریر کر کے انہیں بتایا
12:01کہ یہ وہی دشمن ہے
12:03جس نے کبھی تم سے آبو خاک طلب کر کے
12:06تمہارے معبدوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی
12:09اور پھر دونوں لشکر ایک دوسرے پر حملہ آور ہو گئے
12:13تنگ میدان کی وجہ سے چھ لاکی رانیوں میں سے
12:16ایک بڑی تعداد اس چنگ میں حصہ نہ لے سکی
12:18سپاہی ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے
12:21کہ کوئی وار خالی نہیں جاتا تھا
12:23جلد ہی کشتوں کے پشتے لگ گئے
12:25ادھر داریوش کی رت کے گھوڑوں کو کلواروں اور نیزوں سے زخم آئے
12:30تو وہ بری طرح بدکے
12:31میدان جنگ کی صورتحال اور گھوڑوں کی حالت دیکھتے ہوئے
12:35داریوش نے بہتریسی میں جانی
12:37کہ ایک تازہ دم گھوڑے پر سوار ہو کر رہ فرار اختیار کر لے
12:41لیکن اس کے میدان چھوڑتے ہی
12:43ایرانی لشکر میں بھگدر مچیے
12:45اور میدان سکندر کے ہاتھ رہا
12:47کہتے ہیں کہ اس جنگ میں ایک لاکھ ایرانی کام آئے
12:51اور عربوں اور کروڑوں کا مال غنیمت
12:53سکندر کی افواج کے ہاتھ لگا
12:56داریوش کا شاہی خیمہ
12:58جس میں پرش کو سازو سامانے تایش
13:01اور سونے چندی کی افراد تھی
13:03سکندر کے لئے مخصوص کر دیا گیا
13:05مال غنیمت میں داریوش کی ملکہ
13:08اور دو شہزادیاں بھی شامل تھیں
13:10لیکن سکندر نے ان کی حرمت اور حصت میں
13:13کوئی فرق نہ آنے دیا
13:14داریوش کا سامنا کرنے
13:16اور جنگ احسوس میں فتح حاصل کرنے کے بعد
13:18سکندر کو یقین ہو گیا
13:20کہ اب وہ ایشیا کو فتح کر لے گا
Comments

Recommended