00:00اندھیری رات سلطنت فارس کا جلال اپنی بلندی پر ہے
00:05لاکھوں سپاہی بے شمار شہر اور ایک ایسا بادشاہ جسے ناقابل شکست سمجھا جاتا ہے
00:15لیکن دور کہیں مغرب میں ایک نوجوان بادشاہ اپنی فوج تیار کر رہا ہے
00:21اس کی آنکھوں میں ایسی چمک ہے جو آنے والے توفان کی خبر دیتی ہے
00:27کون ہے یہ نوجوان؟
00:29کیا یہ واقعی فارس جیسی عظیم سلطنت کو چیلنج کر سکتا ہے
00:33جب وہ پہلی بار دریا پار کرے گا تو تاریخ کا رخ بدلنے والا ہے
00:39توفانی محاصرے، دہکتی آگ، زمین کو حالہ دینے والی لڑائیاں
00:46اور ایک ایسا انجام جس نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا
00:49یہ ہے وہ داستان جس میں ایک انسان نے اپنی تلوار کے بل پر
00:54مشرق وستہ کو ہٹنے دیکھنے پر مجبور کر دیا
00:58لیکن سوال یہ ہے
01:00کیا وہ فاتح بن کر ابرے گا
01:02یا اپنی ہی جرت کا قیدی بن جائے گا؟
01:30موسم بہار 334 قبل مسیح میں سکندر اعظم نے ایشیا کو فتح کرنے کی تیاریاں مکمل کر لیں
01:37وہ تیس ہزار سوار اور پانچ ہزار پیادوں کا لشکر لے کر مکدونیا سے نکلا
01:42وہ رخین کے مطابق سکندر اعظم نے تمام معلوم دنیا فتح کرنے کا جوازم کیا تھا
01:48اس مہم کے آغاز میں اس کے پاس سازو سوان اور افواج ناکافی تھی
01:54لیکن اس افواج کی ترتیب بڑی شاندار تھی
01:57اور ان میں نمائیہ ترین حیثیت فلانکس اور مکدونوی فوجیوں کو حاصل تھی
02:03یہ دستے سولہ بائی سولہ سپاہیوں پر مشتمل اور سولہ فٹ طویل نیزے تھامے ہوئے تھے
02:10جو کہ اس کے باب کی ایک اہم ایجاد تھی
02:16سکندر اعظم نے اپنی فواج کے ساتھ ہیلس پونٹ یا بنائی باس فورس کا رخ کیا
02:21بیس دن کے سفر کے بعد ایشیا کوچک میں داخل ہونے پر
02:25اس نے دیوتاؤں کے نام پر قربانیاں دیں
02:28اور اس سرزمین پر جو سورما مدفون تھے انہیں نظریں اور نیازیں پیش کی
02:34ان یونانی سورماوں میں حمر کی داستان کا مشہور جنگجو اخلیس سب سے نمائی تھا
02:41کیونکہ اسکندر اعظم اسے اپنا آئیڈیل تصور کرتا تھا
02:46ایشیا کوچک میں اسکندر نے ساحل کے ساتھ ساتھ شمالی سمت میں پیش قدمی کی
02:51ساحل کے ساتھ چلنے کی وجہ اس کا بحری بیڑا تھا جو کسی حد تک مزور تھا
02:57ایتھنز والوں نے اسکندر کو کافی تعداد میں جہاز نہیں بیجے تھے
03:00وہ بادہ کہ یہی بحری جہاز ان کے خلاف استعمال نہ ہوں
03:07دوسری طرف داریوش سوم یا دارہ آزم یہ چاہتا تھا
03:11کہ ایشیا کوچک کی ریاستوں لیڈیا فریگیا اور کیپاڈوشیا کی ایرانی سردار
03:17آبنائی باس فورس کی کنارے اسکندر کو روک لے
03:20اور ایشیا کی طرح مزید پیش قدمی نہ کرنے دیں
03:23لیکن وہ اسکندر کے آبنائی باس فورس عبور کرنے تک متحد نہ ہو سکے
03:27اس وقت مہمنون نے یہ تجویز پیش کی
03:31کہ اسکندر کے راستے میں آنے والے تمام شہر اور دہات جلا دیے جائے
03:35تاکہ اسے سمانے رسد مہیا نہ ہو
03:38اور دوسری طرف یونان اور خصوصا مکدونیا میں ایک محاذ جنگ کھولا جائے
03:43تاکہ اسکندر اپنے وطن کو بچانے کے لیے واپس چلا جائے
03:46لیکن مہمنون کی ان تجاویز سے ایرانی سرداروں نے اتفاق نہ کیا
03:51بلاخر یہ تیہ ہوا کہ سکندر کو دریائے گرانیکس کے کنارے رکھا جائے
03:56چنانچہ دریائے کے ایک کنارے پر ایرانی افواج خیمہ زن ہو گئی
04:00اور سکندر کا لشکر دریائے کے دوسرے کنارے پر آٹھہ رہا
04:05سکندر کے ایک جرنیل پارمنیان نے دریائے کی گہرائی کو سامنے رکھتے ہوئے مشورہ دیا
04:11کہ آج کی بجائے کل الاس صبح دریائے بور کر کے دشمن پر حملہ کیا جائے تو بہتر ہوگا
04:17مگر سکندر نے کہا کہ پارمنیان دریائے گرانیکس سے ڈرنا درہ دانیال کی توہین ہے
04:23جسے ہم نے بلا تعمل عبور کر لیا تھا
04:27یہ کہہ کر سکندر تیرہ سو سواروں کے ساتھ دریائے میں کود پڑا
04:31اگرچہ پانی کا بہاؤ کافی تیز تھا اور ایرانیوں کی طرف سے پیروں کی بارش بھی ہو رہی تھی
04:36مگر ان دشواریوں کے باوجود سکندر نے دریائے میں رستہ بنا لیا
04:41اب سکندر کے کچھ سپائی ہی دریائے بور کرنے پائے تھے
04:44کہ ایرانی ان پر ٹوٹ پڑے
04:46سکندر کو اتنی محلت بھی نہ ملی کہ وہ صف آرائی کر سکتا
04:50میدان جنگ پہلے پہلی ایرانیوں کے قیامت خیزناروں سے گونج اٹھا تھا
04:55سکندر کا نیزہ لڑتے لڑتے ٹوٹ گیا
04:57جسے اس نے بدل کر داریوش کے داماد، مہرداد یا میترہ ڈیٹس پر زوردار حملہ کیا
05:04خود اس پر اکب سے حملہ ہوا
05:06اور حملہ آور کا نیزہ اس کے فلادی خود کو چیر کر اس کے شانے میں لگا
05:14اسکندر سے سکندر پر حملہ کرتا
05:16مگر ایک وفادر مقدونی نے لپکر تلوار سے سپہرداد کا ہاتھ قطع کر دیا
05:22اتنے میں سکندر کی مزید فوج دریاء بور کر کے آہ پہنچی
05:26اور تازہ دم یونانی ایرانیوں پر ٹوٹ پڑے
05:29اور انہوں نے ایرانیوں کی صفے درہم برہم کر دی
05:32جنگ میں کئی ناموار ایرانی سردار کام آئے
05:35جن کے مرنے کے بعد ایرانی فوج میں قیادت کا بہران پیدا ہو گیا
05:40اور کھل بلی مچ گئی
05:42اس کے بعد ایرانی مقدونیوں کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے
05:48مورخین لکھتے ہیں کہ اس جنگ میں ایرانی بڑی جان ساری سے لڑے
05:51اور جب تک ان کے ایک ایک سردار اور سالار نے جان نہ دی انشکست نہ ہوئی
05:57وفا شعاری کا یہ عالم تھا کہ شکست کی خبر سن کر
06:00فریگیا کے حاکم نے خودکشی کر لی
06:10جنگ گرانیکس میں فتح کے بعد
06:12ایشہ کوچے کے تمام ایرانی مقبوزات سکندر کے زیرت سلط آ گئے
06:17گرانیکس کے میدان سے سکندر نے لڈیا کے شہر سارد کا رخ کیا
06:23وہاں کے قیم مقام حاکم نے سکندر کی اطاعت اختیار کی
06:26اور رہوسائی شہر کے ساتھ اس کے استقبال کو آیا
06:29اور شہر کے غزانے اس کے حوالے کر دیئے
06:32سکندر نے سارد جیسے قدیم درل حکومت پر قبضہ کر کے
06:36نہ صرف اس کی مرمت کرائی
06:38بلکہ ایک قدیم لڈیای قوانین کا احیاء کیا
06:41کہتے ہیں کہ سکندر شہر میں ابھی زیوس دیوتا کے قدیم بدقدے کا
06:46مقام تلاش کر ہی رہا تھا
06:47کہ اچانک ایک بدلی آئی اور این اس مقام پر برسنا شروع ہو گئی
06:52جہاں یہ بدقدہ اسی زمانے میں موجود تھا
06:55سکندر نے اسی جگہ پر بدقدہ دوبارہ تعمیر کروایا
07:06ان فتوحات میں سکندر کے ہاں جمال غنیمت آیا
07:09اس میں سے تین سو زرہ بکتر ایتھنز بجوائے گئے
07:13جہاں انہیں ایکروپولس میں رکھ کر
07:15ان کے قریب یہ قطبہ نصب کیا گیا
07:18یہ زرہ بکتر سکندر پسر فلپ دوم نے
07:22ایرانی بروروں سے جنگ میں کامیابی کے بعد حاصل کیے
07:29سارت کی تاعت کے بعد سکندر نے ملیتس کا رخ کیا
07:33بہنگرانیکس کے میدان سے بھگنے والی ایرانی فوج جمع تھی
07:36سکندر نے یہاں کا محاصرہ کر لیا
07:38اور دیوار شکن آلات سے قلعہ کی دیواروں میں شگاف کر کے
07:42اس شہر کو فتح کیا
07:46ملیتس کی فتح کے بعد سکندر
07:48حالی کارنسس جیسے ایونیائی شہر کی طرف متوجہ ہوا
07:52یہ شہر ممنون کا صدر مقام تھا
07:55اس شہر کے گرد ایک بہت بڑی خندق بھی تھی
07:57جو اس سے نقابل تسخیر بناتی تھی
08:00مکدونیوں نے بڑی جانفشانی سے اسے پرک رایا
08:03اور پھر منجنیکوں اور دیوار کوب مشینوں سے
08:06قلعہ پر حملہ کر دیا
08:07لیکن بھاری جانی نقصان کے باوجود
08:09یہ کلا فتح نہ ہو سکا
08:11اس لئے سکندر نے اس کی تسخیر کا ارادہ ملتوی کر دیا
08:14حالی کارنسس سے سکندر نے اپنے شادی شدہ سپائیوں کو رخصد دی
08:19اور کہا کہ وہ موسم بہار تک واپس آ جائیں
08:22اور مزید لوگوں کو بھرتی کر کے ساتھ لائیں
08:25تین سو چونتیس اور تین سو تین تیس قبل مسیح کے موسم سرما میں
08:30سکندر اعظم ایشیا کوچک کی شمالی ریاستوں کی ترمتوجہ ہوا
08:34اور لائسیا سائلس اور کئی دیگر ریاستوں کو اطاعت پر مجبور کرتا ہوا
08:40ایشیا کوچک کے قلب افروجیا یا فریگیا کے درل حکومت گردیوم کی طرح بڑا
08:46گردیوم میں وہ گاڑی رکھی ہوئی تھی جس میں وہاں کا پہلے حکمران گردیوس بیٹھ کر شہر میں داخل ہوا
08:53تھا
08:53اس رتھ پر گاڑی کا جوا ایک رسی سے بنا ہوا تھا
08:57اس شہر میں یہ بات مشہور تھی کہ جو شخص اس رسی کی گرہ یا گردیوم نوٹ کھولنے میں کامیاب
09:03ہوگا
09:04وہی فاتح ایشیا کہلائے گا
09:06سکندر نے اس گرہ کو کھولنے کی کوشش کی
09:08مگر جب سرہ نہ ملا تو اپنی تلوار سے یہ گرہ کاٹ دی
09:13اور کہا گرہ کھولنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے
09:23دوسری طرف ممنون نے اپنی باقی ماندہ فواج کو کٹھا کیا
09:27اور منصوبہ بنائے کہ مکدونیا اور یونان کی دیگر ریاستوں میں محاذ جنگ قائم کیا جائیں
09:33تاکہ ایشیا پر یونانی دباؤ کم ہو جائے
09:36اس منصوبہ کے تیت اس نے جزیرہ کیوس اور جزیرہ الاسبوس پر حملہ کر کے
09:40مائٹیلینی کے سوا وہاں کے کئی شہر مسخر کر لیے دی
09:44قریب تھا کہ وہ شہر کو فتح کر کے سکندر کے لیے ایک نیا محاذ کھول دیتا
09:49لیکن زندگی نے اسے محلت نہ دی اور وہ کچھ عرصہ بیمار رہ کر راہیے ادم ہوا
09:54سکندر نے اس کی موت کو اپنے لیے نیک فال سمجھا اور سلیشیا کا روح کیا
10:00یہ شہر ایک تنگ گھاٹی سلیشن گیٹ سے تقریباً
10:04ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلہ پر واقع تھا
10:06اس گھاٹی کو حبور کیے بغیر شہر میں داخل نہیں ہوا جا سکتا تھا
10:10اس گھاٹی سے وہ مشکل چار آدمی گزر سکتے تھے
10:13سکندر کے یہاں پہنچنے سے پہلے ہی یہاں کی حاکم نے شہر کو آگ لگا کر
10:18کھنڈرات میں بدل دیا
10:19تاکہ سکندر یہاں سے رسد وغیرہ حاصل نہ کر سکے
10:23سلیشیا میں تھنڈے پانی کا ایک چشمہ کیدنوس بہتا تھا
10:27سکندر نے اس چشمہ میں غسل کیا
10:29جس کے بعد اس پر بے ہوشی تاری ہو گئی
10:32بیماری کا حملہ اس قدر شدید تھا
10:33کہ یونانی اس کی زندگی سے مایوس ہو گئے
10:36جب بیماری نے مزید شدت اختیار کر لی
10:38تو فلپ نامیہ کا حکیم نے اس کے لیے ایک دوا تیار کی
10:42یہ دوا خطرے سے خالی نہیں تھی
10:45ٹھیک جب سکندر یہ دوا پینے لگا
10:47ایک قاسد سپاہ سلار پانمینیان کا ایک رکا لے کر حاضر ہوا
10:52جس میں لکھا تھا
10:53حکیم فلپ سے خبردار رہنا
10:56یہ شخص داریوس سے مل کر تمہاری جان لینا چاہتا ہے
11:00سکندر نے جب وہ دوا موں کو لگائی
11:02تو وہ رکا حکیم کے ہاتھ میں دے دیا
11:04بہرحال فلپ کی دوا سے اسے کوئی نقصان نہ پہنچا
11:08بلکہ وہ روبہ صحت ہو گیا
11:10اور اس طرح وہ عظیم فاتح جو ایشیا کو فتح کرنے کی رادے سے نکلا تھا
11:15ایشیا کے دروازے پر موت کا اشکار ہونے سے بچ گیا
11:20سکندر نے سیتیاب ہو کر سلیشیا کے مشہور شہر ایسوس کا رکھ کیا
11:25شہنشاہ ایران کسی قیمت پر اس شہر کو کھونا نہیں چاہتا تھا
11:28اس لیے وہ سکندر سے فیصل کن جنگ کرنے کے لیے
11:31خود ایک بڑے لشکر کے ساتھ ایسوس کی طرف بڑھا
11:34لیکن بدقسمتی سے وہ اپنے ایک مساہب کے مشورے کے باوجود
11:38ایک تنگ پہاڑی مقام میں خیمہ زند ہو گیا
11:41ایسے مقامات پر قلیلت تعداد دشمن کو بھی بڑا لشکر مغروب نہیں کر سکتا تھا
11:47ادھر سکندر کو بھی آگاہی ہو گئی
11:50کہ داریوش یا داریعظم باوجود بہت بڑے لشکر کے
11:54قلطی سے ایک تنگ میدان میں خیمہ زند ہے
11:57اس نے اپنے سپائیوں کے حوصل بڑھائے
11:59اور ایک جذباتی تقریر کر کے انہیں بتایا
12:01کہ یہ وہی دشمن ہے
12:03جس نے کبھی تم سے آبو خاک طلب کر کے
12:06تمہارے معبدوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی
12:09اور پھر دونوں لشکر ایک دوسرے پر حملہ آور ہو گئے
12:13تنگ میدان کی وجہ سے چھ لاکی رانیوں میں سے
12:16ایک بڑی تعداد اس چنگ میں حصہ نہ لے سکی
12:18سپاہی ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے
12:21کہ کوئی وار خالی نہیں جاتا تھا
12:23جلد ہی کشتوں کے پشتے لگ گئے
12:25ادھر داریوش کی رت کے گھوڑوں کو کلواروں اور نیزوں سے زخم آئے
12:30تو وہ بری طرح بدکے
12:31میدان جنگ کی صورتحال اور گھوڑوں کی حالت دیکھتے ہوئے
12:35داریوش نے بہتریسی میں جانی
12:37کہ ایک تازہ دم گھوڑے پر سوار ہو کر رہ فرار اختیار کر لے
12:41لیکن اس کے میدان چھوڑتے ہی
12:43ایرانی لشکر میں بھگدر مچیے
12:45اور میدان سکندر کے ہاتھ رہا
12:47کہتے ہیں کہ اس جنگ میں ایک لاکھ ایرانی کام آئے
12:51اور عربوں اور کروڑوں کا مال غنیمت
12:53سکندر کی افواج کے ہاتھ لگا
12:56داریوش کا شاہی خیمہ
12:58جس میں پرش کو سازو سامانے تایش
13:01اور سونے چندی کی افراد تھی
13:03سکندر کے لئے مخصوص کر دیا گیا
13:05مال غنیمت میں داریوش کی ملکہ
13:08اور دو شہزادیاں بھی شامل تھیں
13:10لیکن سکندر نے ان کی حرمت اور حصت میں
13:13کوئی فرق نہ آنے دیا
13:14داریوش کا سامنا کرنے
13:16اور جنگ احسوس میں فتح حاصل کرنے کے بعد
13:18سکندر کو یقین ہو گیا
13:20کہ اب وہ ایشیا کو فتح کر لے گا
Comments