Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:01بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30انہو خلیفہ بنے اور عراق کے اندر آپ کی حکومت تھی
00:34اہلِ کوفہ آپ کے ساتھ تھے جبکہ شام میں حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہو کی حکومت تھی
00:40تو حضرت امیرِ معاویہ پھر وہی جو پہلے مسائل چلتے چلے آ رہے تھے
00:45جس میں حضرت امیرِ معاویہ اور مولا علی رضی اللہ عنہو کی جنگ ہوئی
00:51اور مسلمانوں کا اکابرین کا اس پر اتفاق ہے
00:55کہ اس میں مولا علی رضی اللہ عنہو حق پر تھے
00:59اور حضرت امیرِ معاویہ اشتہادی خطا پر تھے
01:03یعنی آپ اپنی دانست میں اپنے علم کے مطابق ایک صحیح مقابلہ کرنے آئے تھے
01:08لیکن فیصلہ یہی ہے کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہو حق پر تھے
01:13پھر جب آپ شہید ہوئے تو حضرت حسن رضی اللہ عنہو خلیفہ بنے
01:18تو امیرِ معاویہ نے اسی پھر معاملے کو آگے رکھا
01:21اور آپ عراق پر حملے کی نیت سے بڑھے
01:24اور ایک مقام پر حضرت حسن اور حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہو کا آمنہ سامنا ہو گیا
01:32اب یہ دو مسلمانوں کی جماعتیں تھیں
01:35ایک حق پر تھے اور ایک اشتہادی خطا پر تھے
01:39اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال پہلے
01:43حضرت حسن رضی اللہ عنہو جب چھوٹے سے تھے
01:46ممبر پر ساتھ تشریف فرما تھے
01:48تو رحمتِ قونین صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارت فرمایا
01:51الفاظ کا ترجمہ ہم نے کیا تھا
01:54جس کا یوں تھا کہ شبہ والا معاملہ تھا
01:56کہ ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ
01:58اس بچے کے ذریعے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں میں صلح کروا دے
02:02تو یہ ہم نے لفظی ترجمہ کیا
02:05ورنہ یاد رکھیں کہ جب قرآن کے اندر کوئی بات بیان ہوگی
02:09اور لعلہ کے لفظ کے ساتھ ہوگی
02:11لعلہ کا لفظ کلام عرب میں امید کے لئے آتا ہے شبہ کے لئے
02:15مجھے امید ایسا ہو جائے شاید ایسا ہو جائے اس میں شبہ ہے
02:18لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں لعلہ کو استعمال کرتا ہے
02:23تو یقینہ آپ کو معلوم ہے
02:24کہ اللہ تو کسی چیز میں شبہ نہیں ہو سکتا
02:26شبہ وہاں ہوتا ہے جب انجام ہمارے سامنے واضح نہ ہو
02:30اور اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز مخفی نہیں ہوتی
02:33ایسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کلام میں لعلہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں
02:37تو آپ کے کلام میں بھی شبہ نہیں ہو سکتا
02:40اس کی وجہ یہ ہے
02:41کہ اس طرح کی جو بشارتیں ہیں
02:43یا جو شرع احکام ہیں
02:44وہ اللہ کی طرف سے آپ کو وحی کی جاتے ہیں
02:47وحی کیے جاتے ہیں
02:49تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
02:50گویا کہ اللہ تبارک و تعالی کے
02:52وحی کردہ کو بیان کر رہے ہیں
02:54اور اس میں بھی ایسا ہے
02:55کہ وحی میں تو کوئی شبہ نہیں ہوتا
02:58اس لئے اب یہ سمجھ لیں
02:59کہ یہ بالکل کنفرم اور یقینی ایک خبر تھی
03:02جس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں
03:03کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارت فرمایا
03:06کہ میرا یہ بیٹا سید ہے
03:08سردار ہے
03:09سید سردار کو بھی کہتے ہیں
03:11اور سید اسے کہتے ہیں جو بے نیاز ہو
03:13اس کو اللہ نے دنیا اور آخرت کی بے شمار
03:16نعمتوں سے نوازہ ہو
03:17یہ بھی اس کے ایک مفہوم ہے
03:18تو کوئی بھی مفہوم آپ لے سکتے ہیں
03:20اور پھر سکار نے فرمایا
03:22مجھے یقین ہے کہ اللہ تبارک و تعالی
03:25مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں میں
03:27اس کے ذریعے سلح کرے گا
03:29سلح کرائے گا
03:30تو اس کا مطلب ہوا کہ یہ بشارت
03:32پہلے سے ہی نبی کریم نے دی
03:34اور یقینا جتنی بھی غیبی خبریں ہیں
03:36وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
03:39اپنے پاس سے نہیں دیتے
03:40وہ اللہ تبارک و تعالی کے حکم سے دیتے ہیں
03:43تو گویا کہ یہ اللہ کا ہی عظلی فیصلہ تھا
03:45کہ ایک وقت آئے گا
03:47کہ دو مسلمانوں کی جماعتیں عاملے سامنے آئیں گی
03:49اور ان کے مابین
03:51سلح ہو جائے گی
03:52نبی کریم نے خبر دی
03:53اور امام حسن رضی اللہ عنہم نے
03:57پریکٹیکلی طور پر
03:58اس خبر کو کر کے دکھا دیا
04:00لہٰذا کسی پر کوئی تان نہیں ہو سکتا
04:02کہ ماذا اللہ سمم
04:04ماذا اللہ اگر کوئی امام حسن
04:05مجتبہ رضی اللہ عنہم کی شان میں
04:08کوئی گستاخی کرنا چاہے
04:09کہ دیکھیں شاید ڈر گئے تھے
04:11ماذا اللہ سمم
04:12ماذا اللہ شاید مال کا لالا چاہ گیا تھا
04:14لا حول ولا قوت الا باللہ
04:16یہ وہ عظیم نفوس قدسیاں ہیں
04:19جن کے بارے میں خود نبی کریم اشاد فرما رہے ہیں
04:22کہ حسن اور حسین
04:24جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں
04:26جنہیں اللہ نے جنت کی سرداریاں
04:29عطا فرما دی ہوں
04:29کیا وہ ان معمولی چیزوں کے لئے کریں گے
04:32نہیں
04:32حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ذہن میں بھی ہے
04:36کہ اللہ تعالی میرے ذریعے صلح کروائے گا
04:38اب یہ صورت سامنے آگئی تھی
04:40آپ نے فیصلہ خدواندی پر اعتماد رکھتے ہوئے
04:43اور اسی کے معافق
04:44نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مشارت کے معافق
04:46عملی قدم اٹھایا تھا
04:48یہ ایک عظیم آپ کا کارنامہ ہے
04:50ورنہ کون ایسا کر سکتا ہے
04:52مجھے بتائیں
04:53حضرت انحسن رضی اللہ عنہ کے پاس
04:55اتنا زبردست لشکر تھا
04:57حضرت عمر بن العاص کا جملہ آپ نے سن لیا
05:00کہ انہوں نے حضرت عمیر معاویہ سے کہا
05:02کہ میں ایک ایسا لشکر دیکھ رہا ہوں
05:04کہ اگر آپ اس کے مدد مقابل آئیں گے
05:06تو یہ چھوڑے گا نہیں
05:07ختم کر دے گا
05:08زبردست قسم کے عرب اور عظیم ترین لشکر
05:11آپ کے ساتھ تھا
05:12ڈر کس چیز کا ہوگا
05:13اور مال و مطہ کی کوئی کمی نہیں تھی
05:15حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے لیے
05:17صرف ایک جذبہ تھا
05:19کہ مسلمانوں میں خون ریزی نہ ہو
05:21مسلمانوں میں نائتفاقی پیدا نہ ہو
05:23پیچھے یہ معاملات
05:24حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور سے چلتے آئے
05:28آپ یہ دیکھئے
05:28کہ آپ کو شہید
05:29پہلے حضرت عمر فاروق کو آخری وقت میں شہید کیا گیا
05:33پھر عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا دور آیا
05:36اس میں فتن بہت زیادہ دین میں داخل ہوئے
05:38حتیٰ کہ آپ کی شہادت کا سبب بنا
05:41پھر اس کے بعد حضرت مولا علی
05:43کررم اللہ وجہہ الكریم
05:45جیسی عظیم حستی کے پر حملہ
05:47اور پھر آپ کی شہادت
05:48اور پھر امام حسن
05:49اب ان کے پاس چکائے تھی
05:51دیکھتے آ رہے تھے
05:52کہ مسلمانوں میں اتنے مسائل
05:53پھر نبی کریم کی بشارت
05:55پھر الہام خدا بندی
05:57کہ یہ اللہ کا فیصلہ ہے
05:58آپ نے حکومت کو چھوڑ دیا
06:00یہ کوئی آسان بات ہوتی ہے
06:01حکومت چھوڑنا
06:02اگر پیسہ ہی خدا نہ خواستہ ہوتا
06:05تو آپ حکومت میں رہے گے
06:06زیادہ پیسہ کماتے
06:07یا چھوڑنے کے بعد کماتے
06:09اس لئے اس قسم کے منفی پروپیکنڈے
06:11جو لوگ کرتے ہیں
06:12یہ بلکل غلط ہیں
06:13حضرت حسن نے
06:15انتہائی اخلاص کے ساتھ
06:17صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر صلاح فرمائی
06:19اور پیچھے ہٹے
06:20اور امیر معاویہ
06:22رضی اللہ تعالیٰ انہوں کو حکومت دے دی
06:24اور آپ نے تقریباً بیس سال تک پھر حکومت فرمائی
06:27اور بہت سارے فتنے اس زمانے میں دبے ہیں
06:30اور باقی معاملات ہیں
06:32تو خلاص کلام یہ ہے
06:33کہ کتاب الصلاح چونکہ ہمارے باپ چل رہا ہے
06:36اس میں امام بخاری رحمت اللہ
06:38یہ حدیث لے کر آئے
06:39کہ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ انہوں کو
06:42امیر معاویہ نے اختیار دیا تھا
06:44کہ آپ چاہیں تو آپ جنگ کریں
06:46اور ہمیں امید ہے کہ آپ بھی کو فتح ہوگی
06:48لیکن جو خون رزی ہوگی
06:50اس کے بعد ہمارے بچوں اور عورتوں کا
06:51کوئی پرسان حال نہیں ہوگا
06:53اور اگر آپ چاہیں تو صلاح فرمائیں
06:55اور ہم آپ کے شاہن شاہن جیسا آپ حکم فرمائیں گے
06:58ویسا ہم آپ کو سب کچھ دینے کے لئے تیار ہیں
07:00تو حضرت حسن نے
07:02اپنے لئے نہیں
07:03میں نے پہلے پچھلے پرگرامی وضاحت کی
07:05کیونکہ لشکر سات تھا
07:06اور اپنے جو سات لوگ ہوتے ہیں
07:08ان کے مزاج ان کی نفسیات کو بھی دیکھنا ہوتا ہے
07:11لہذا آپ نے پھر ایک ڈیل فرمائی
07:13اور آپ نے صلاح فرما کر
07:15مال و مطالعہ کو چوہو ان کے اندر تقسیم ہوا
07:17اور آپ نے حکومت ان کے حوالے کر دی
07:20اس میں کسی بھی لحاظ سے
07:22اگر کوئی خدا نہ خواستہ
07:23کسی بھی جہد سے منفی
07:25کوئی پہلو نکالتا ہے
07:26تو یہ اچھی بات نہیں ہوتی
07:28ہماری آنے والی نسلوں کو
07:29ہمارے بدرگان دین کا
07:31ایک مصبت اور بہترین کردار سامنے
07:34ظاہر کرنا چاہیے
07:35تاکہ اپنے اکابرین سے پیار بڑھے
07:37محبت بڑھے
07:38اور ان کے نقش قدم پر چل کر
07:40وہ اپنے آخرت کو بہتر سے بہتر بنائیں
07:42نہ یہ کہ خدا نہ خواستہ
07:44کوئی ایسے منفی چیزیں
07:45اپنے پاس سے نکال کر
07:47اور بچوں کے ذہنوں کے اندر ڈال کر
07:49انہیں اپنے اکابرین سے بدزن کر کے
07:51اور خدا نہ خواستہ گستاخی
07:53یا بے عدبی پر مجبور کیا جائے
07:55اس سے ہمارے اکابرین کا
07:56بال بھی بکا نہیں ہوگا
07:58جو عزت اللہ نے ان کو دے دی
07:59تا قیامت قائم رہنے والی
08:02اور اروج پانے والی ہیں
08:04کوئی تنزلی کی طرف نہیں جا سکتی
08:05لیکن جو اگر کوئی کرتا ہے
08:08اس کا بیڑا غرق ہو جائے گا
08:09اور امید ہے کہ
08:10کوئی بھی ایسا نہیں چاہے گا
08:13اگلے باب کی طرف آتے ہیں
08:15بابن حل یشیر الامام بسلحی
08:17آیہ سربراہ فریقین
08:19کو سلح کی طرف اشارہ کر سکتا ہے
08:22دو ہزار سات سو پانچ نمبر
08:26یہ حدیث پاک ہے
08:27اور اس میں راوی ہیں
08:29حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن
08:32انہوں نے کہا کہ
08:33میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی
08:35انہ سے یہ بات سنی
08:36وہ بیان کرتی ہیں
08:38کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
08:39نے دروازے پر دو جھگڑا کرنے والوں کی
08:42بلند آوازیں سنی
08:45چونکہ سرکار کا حجرہ مبارکہ
08:47مسجد کے ساتھ تھا
08:48تو مسجد میں کچھ ہو رہا تھا
08:50تنازع
08:50تو وہ کمرے تک گھر تک آواز آ گئی
08:53اور یہ آپ اگلی حدیث آ رہی ہے
08:55کہ یہ حضرت عبداللہ بن عبی حضرت
09:00رضی اللہ تعالی عنہ
09:02حضرت عقاب بن مالک کے مقروض تھے
09:04اور ان کا آپس میں کوئی معاملہ چل رہا تھا
09:06جو ابھی میں وضاحت کرتا ہوں
09:08یہ آواز سنی تو سرکار باہر تشریف لائے
09:11ان میں سے ایک اپنے قرض میں سے کچھ کم کرا رہا تھا
09:15اور ادائیگی کے مطالبے میں نرمی کرا رہا تھا
09:19یعنی جس نے قرضہ لیا تھا وہ کہہ رہا تھا
09:21یار تم تھوڑے محلت دے دو کم کر دو قرضہ
09:23اور دوسرا کہہ رہا تھا
09:25کہ اللہ کی قسم میں نہیں کروں گا
09:27نہ تمہیں محلت دوں گا
09:29نہ اپنے قرض میں سے کچھ کمی کروں گا
09:31تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
09:33نے ان دونوں کے پاس
09:34تشریف لاکر ارشاد فرمایا
09:36وہ شخص کہاں ہیں جو اللہ کی قسم
09:38کھا کر کہہ رہا تھا کہ وہ نیکی نہیں کرے گا
09:41یعنی جو قرض مانگ رہے تھے
09:43حضرت کعب بن مالک وہ یہ کہہ رہے تھے
09:45کہ میں نہ تمہیں محلت دوں گا
09:47نہ قرض کم کروں گا
09:48محلت دینا اور قرض کی مقدار میں
09:51کچھ کمی کرنا دونوں نیکی کے کام تھے
09:53اور وہ کہہ رہے تھے کہ خدا کی قسم
09:55میں ایسا نہیں کروں گا
09:56تو نبی کریم کو یہ بات مناسب محسوس نہ ہوئی
09:59تو آپ نے آکے اپنے غلام کی
10:01اصلاح فرمائی
10:02فرمایا وہ شخص کہاں ہیں جو اللہ کی قسم
10:04کھا کر کہہ رہا تھا کہ وہ نیکی نہیں کرے گا
10:06تو اس شخص نے کہا کہ یہ میں ہوں
10:08یا رسول اللہ اور اس شخص کو
10:10اختیار ہے جو پسند کرے
10:13خواہ قرض میں کمی کرائے
10:14خواہ واپسی کی رقم میں
10:16اضافہ کروائے
10:18تو گویا کہ انہوں نے کہا
10:20یا رسول اللہ میں چونکہ قرض مانگنے والا ہوں
10:22اس لئے مجھے اختیار تھا تو میں نے اس اختیار
10:24کو استعمال کیا
10:29پھر اشارہ فرمایا کہ تم آدھا کرزہ کر دو
10:32نصف کر دو انہوں نے کر دیا فورا
10:33اگلی حدیثام انشاءاللہ پہلے دیکھ لیتے ہیں
10:36پھر میں تفسر کرتا ہوں
10:37دو ہزار سات سو چھے نمبر حدیث پاک ہے
10:39حضرت عبداللہ بن قعب بن مالک
10:41بیان کرتے ہیں کہ حضرت
10:43قعب بن مالک نے کہا
10:46کہ ان کا حضرت عبداللہ
10:48بن ابی حضرت اسلمی پر
10:49کچھ مال کا قرض تھا
10:51ان کی ان سے ملاقات ہو گئی
10:54تو انہوں نے ان کو پکڑ دیا
10:56حتیٰ کہ ان دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں
10:59پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
11:00وہاں سے گزرے
11:01تو آپ نے فرمایا کہ
11:02اے قعب
11:03پس اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا
11:05بس ابو العقاب اور اشارہ کیا یوں
11:07گوئے کہ آپ کہہ رہے ہیں
11:09کہ نصف لے لو
11:09تو انہوں نے ان سے نصف مال لے لیا
11:12اور نصف چھوڑ دیا
11:15آپ کو یاد ہوگا
11:16کہ یہ حدیث پہلے بھی بیان ہوئی تھی
11:18کہ نبی ایک الگ طریقے سے تھی
11:20کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
11:21حجرے سے باہر تشریف لائے
11:23اور آپ دونوں کا
11:24اسی طرح معبین تناظروں
11:25اور چل رہا تھا
11:26تو سرکار نے شاہد فرمایا
11:27کہ میں اس لئے آیا تھا
11:28تاکہ تمہیں بتا دوں
11:30کہ شب قدر کون سی رات میں ہے
11:33لیکن یہ دو آدمی جھگڑا کر رہے تھے
11:35اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ
11:37نے اس کی تاجین کو اٹھا لیا
11:39اب تم شب قدر کو
11:41رمضان کے آخری عشرے کی
11:43تاق راتوں میں تلاش کرو
11:50کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
11:51نے جب آوازیں سنی
11:52باہم بظاہر ایک جھگڑا تھا
11:54لیکن یہ جھگڑا کوئی ایسا
11:55ذاتیات کیلئے نہیں تھا
11:56وہ اپنا قرض طلب کر رہے تھے
11:58اور دوسرے صحابی کہہ رہے تھے
12:00کہ کچھ قرض میں قمی کر دیں
12:01یا مجھے مزید محلت دے دیں
12:04لہذا بعض لوگ
12:05اس حدیث پر صرف جھگڑے کا لفظ سن کر
12:07وہ بھی ترجمہ پڑھتے ہیں
12:08چونکہ جھگڑے کا لفظ سن کر سمجھتے ہیں
12:11کہ دو آدمی کوئی جھگڑ رہے تھے
12:13اب ان دو آدمیوں کے پر تفسرہ
12:15جو ہے بہت غلط قسم کا کرنا شروع کر دیتے ہیں
12:17کہ دیکھو یہ جھگڑے کی نحوست تھی
12:19کہ ایسا ہو گیا
12:20دیکھو جھگڑا کتنا برا ہوتا ہے
12:22زمان رسول میں بھی جھگڑا کیا
12:24اور ایسا ہو گیا
12:25جس سے تصور پیدا ہوتا ہے
12:26جھگڑے سے گریبان پکڑے ہوئے تھے
12:28کوئی گھونسے مار رہے تھے
12:29ماذا اللہ سمہ ماذا اللہ
12:30ارے بھائی وہ دونوں صحابہ تھے
12:33اور بالکل وہ حق مطالبہ کر رہے تھے
12:35ایک اپنے قرضے کا مطالبہ کر رہے تھے
12:37دوسرے کہہ رہے تھے
12:39کہ قرضہ تھوڑا کم کر دو
12:40اس میں آواز تھوڑی بلند ہوئی
12:41جس کو روایت کرنے والے نے
12:43لفظ تنازع
12:44یعنی جھگڑے سے تعبیر کیا
12:46ان کے ہاں یہ بھی ایک جھگڑے کی صورت تھی
12:48اس کو یعنی قرض کا مطالبہ
12:50دوسرے کا معافی طلب کرنا
12:52اس کو اس طرح منفی انداز میں کہنا
12:54اور یہ سوچے سمجھے بغیر
12:56کہ وہ دونوں صحابی ہیں
12:57غلط قسم کے کمنٹس پاس کرنا
12:59اگر کسی نے اس طرح کیا ہے
13:01کیونکہ میں نے سنا ہے
13:02بعض لوگوں سے وہ کرتے ہیں
13:03تو آپ سے گزارش ہے
13:05کہ اس پر توجہ فرمالیں
13:06اگر آپ سمجھتے ہیں
13:07کہ اس میں جذباتیت میں
13:09یا اس نکتے کی طرف توجہ نہیں ہوئی
13:12کہ وہ دونوں صحابی تھے
13:13اور آپ نے ان دو افراد کے اوپر
13:15بیڈ کمنٹس پاس کر دیئے
13:16تو اللہ کی بارگاہ میں توبہ کر لیں
13:18کیونکہ وہ دونوں صحابہ تھے
13:19اور صحابہ پر اس طرح کے منفی
13:21کمنٹس پاس کرنا
13:22شرعن بالکل جائز نہیں ہوتا ہے
13:25دوسری بات یہ ہے
13:26کہ بہرحال ابھی تو ہمارا موضوع یہ نہیں تھا
13:28وہ پیچھے حدیث گزر گئی
13:29لیکن میں اعادہ کر دیتا ہوں
13:30کہ حدیث کے ظہرے الفاظ یہ تھے
13:32کہ سرکار فرما رہے تھے
13:33کہ میں آیا تھا
13:34کہ تمہیں شب قدر کی
13:36خبر دوں کہ کونسی رات میں ہے
13:38لیکن یہ دو افراد کے ماہ بین
13:40باہم تناظر ہو رہا تھا
13:41تو اس کی تعین کو اٹھا لیا گیا
13:43سوال یہ پیدا ہوتا
13:45اب یہ الفاظ تو ایسے ہیں
13:46جسے نتیجہ نکلتا ہے
13:47وہ اسی لئے بیڈ کمنٹس پاس کرتے ہیں
13:48اچھا خاص سرکار بتا رہے تھے
13:50جھگڑے سے ایسا ہو گئے
13:52میں سوال کرتا ہوں
13:53کہ یہ بتائیے
13:54اگر اللہ کے نبی کو یہ حکم دیا گیا تھا
13:56کہ آپ شب قدر کی تعین فرما دیں
13:59بتا دیں
14:00کہ آخری عشرے کی پانچ راکتوں میں سے
14:02کونسی رات شب قدر ہے
14:04اگر یہ اللہ کا حکم ہوتا
14:06تو نبی کریم کیا اس حکم کو چھپا سکتے تھے
14:09کسی نبی کے لئے جائز نہیں ہے
14:11کہ وہ اللہ کے پیغام کو چھپا دیں
14:13لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
14:15نے صرف ایک جھگڑے کی
14:16یا باہم تنازو کی
14:18ایک قباحت کو ذکر کرنا چاہا تھا
14:20نہ یہ کہ بظاہر الفاظ تو ایسے ہی ہے
14:22کہ جھگڑے کی وجہ سے تعین اٹھا لی گئی
14:24لیکن حقیقتاً وہ ایسا نہیں تھا
14:26بلکہ جھگڑا ایک اچھی چیز نہیں ہوتی ہے
14:29چاہے کتنے کم درجے کا ہو
14:30یہ بیان کرنا مقصود ہے
14:31ورنہ تعین کا اٹھانا تو
14:34عزل سے مقدر تھا
14:35اللہ تعالیٰ کا عزلی فیصلہ تھا
14:38کہ سرکار کی امت آخری عشرے کی
14:40پانچوں تاقراتوں کو
14:42زندہ رکھے عبادت کرے
14:44شب قدر کی توقعوں میں
14:45اور درجات کی بلندی کا سامان کرے
14:47تو اللہ کے فیصلے کو کوئی نہیں بدل سکتا
14:49ورنہ یہ نتیجہ نکلے گا
14:50کہ جھگڑے نے
14:51اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو بدل دیا
14:54اور مادلہ سمہ مادلہ
14:56پھر اس جھگڑے کا
14:57اللہ کے فیصلے پر اثر انداز ہو کر
14:59یہ ثابت کرنا لازم آئے گا
15:01کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض فیصلوں میں
15:03بعض دوسری چیزوں کا محتاج ہو جاتا ہے
15:06ایسا ہرگز نہیں ہے
15:07اللہ تعالیٰ عزل سے جانتا تھا
15:09کہ ان دونوں کے مابین جھگڑا ہونے والا ہے
15:12بتائیں جانتا تھا
15:12کہ نہیں جانتا تھا
15:13کوئی نئی چیز تو نہیں تھی
15:14کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے تھے
15:16اچانک نئی چیز سامنے آئی
15:17اس کی وجہ سے فیصلہ ہوگا
15:19ایسا تو نہیں
15:19اللہ تو پہلے جانتا ہے
15:21تو پھر یہ کیا
15:22اللہ تعالیٰ نے یہ
15:22اللہ کو بھی نہیں معلوم تھا
15:24کہ سرکار باہر آئیں گے
15:25تو جھگڑا ہوگا
15:26سرکار نے دیکھا
15:27جھگڑا تو اللہ نے
15:27الہام فرما دیا
15:28کہ نہ بتائیں جھگڑا ہو رہا ہے
15:29اللہ تو پہلے جانتا تھا
15:31اس لیے سب صحیح چیزیں
15:33اپنے ذہن کے اندر رکھیں
15:34یہ تعین اٹھا لینا
15:36فیصلہ خدواندی کی وجہ سے تھا
15:38نہ کہ جھگڑی کی وجہ سے
15:39ہاں ظاہری طور پر
15:41سرکار نے فرمایا
15:42اس کا شادک کنیکشن سے ملا دیا
15:44کہ بھی بظاہر ایسا
15:46نظر آ رہا ہے
15:47جو تمہیں نظر آ رہا ہے
15:48وہ بیان کر دیا
15:49لیکن حقیقت ایسی نہیں ہے
15:50وہ تو اللہ کی ازلی فیصلے کی وجہ سے ہوا
15:52معلوم ہوا کہ جھگڑا نہ کرو
15:53اس سے بہت سی
15:54بے برکتیاں پیدا ہو سکتی ہیں
15:57اب یہ دونوں صحابی ہیں
15:59اس کا مطلب یہ ہوا
16:00کہ اگر ہم نے کسی کو قرضہ دیا ہوا ہے
16:02اور کوئی طویل عرصے سے نہیں دی رہا
16:05تو ہم اس سے قرضہ وصول کرنے میں
16:07تھوڑی بہت سختی کر سکتے ہیں
16:08لہجہ سخت ہو سکتا ہے
16:10آواز بلند ہو سکتی ہے
16:12لیکن ہمارا مشورہ ہے
16:13کہ ایسا نہ کریں
16:14کہ کسی شریف آدمی کے
16:16محلے میں جا کے
16:17اس کے گھر میں جا کر
16:18اگر وہ آپ کا قرض نہیں دی رہا
16:19تو آواز کو اتنا بلند کر دیں
16:21کہ پورا محلہ سننے لگے
16:23کہ بھئی آج ان کے گھر سے
16:24آواز ہی کیا رہا ہے
16:24کوئی جھگڑا ہو رہا ہے
16:25تو آپ کو پتہ ہے
16:26محلے علیہ کان لگا لیتے ہیں
16:27اور پھر ان کو پتہ چلے جی
16:29ہمارا شریف آدمی نے
16:30قرضہ لیا ور
16:31دوسرا گھر پر آکے
16:32اس کو زلیل کر رہا ہے
16:33آپ تو سنا سنو کے
16:34چلے جائیں گے
16:35اس کے بعد وہ بیچارہ
16:36اپنی گلی میں
16:37کیا سر اٹھا کے چل سکے گا
16:39کتنا شرمندہ ہوگا
16:40نادم ہوگا
16:41اچھا لوگ پھر عورتیں
16:43بڑی تیز ہوتی ہیں
16:43جیسے وہ نکلے گا
16:44گھر جائیں گی برقہ پہن کے
16:45بھئی کیا وہ تمہارے گھر میں
16:46جھگڑا ہو رہا تھا
16:47کوئی قرضہ لیا ہے
16:48کہ تم نے
16:48بہت زلیل کر کے گیا
16:50بھئی وہ تمہارے شہر کو
16:51ایسے ایسی باتیں کریں گی
16:52دل چل نہیں کر دیں گی
16:54بھئی تم اپنے گھر میں بیٹھو
16:55جا کے چائے پیو
16:56تمہیں فوراً موقع مل گیا
16:57برقہ سمالتی بھی
16:58گھر کے اندر پہنچ گئی
17:00بھی جمالوں بن کر
17:01اور آگ لگانا شروع کر دی
17:02ان عورتوں کو پھر
17:04اللہ تعالیٰ رحمت نازل فرمائے
17:05اس قسم کے عورتوں کی بات کر رہا ہوں
17:07میری ہر بہن کی بات نہیں کر رہا ہوں
17:08یہ غلط رویہ
17:09یہ غلط طریقہ ہوتا ہے
17:10اور ضرور آپ مانگ سکتے ہیں
17:12تھوڑی سامنے والے کی
17:13عزت نفس کو بھی ملوز رکھیں
17:14باقی تفسر انشاءاللہ
17:15نیکس برگرام میں ہوگا
17:16وَآخْرُ دَعْوَانَا
17:18اَنِ الْحَمْدُ لِلَهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
Comments

Recommended