00:00یہ ایک ایسی بہن کی کہانی ہے جو اپنے بھائی کی قربانیوں کو یاد کر کے آج بھی تڑپ اٹھتی
00:05ہے
00:05وہ کہتی ہے کہ ہم ایک بہت ہی غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں
00:09ہمارا گاؤں پہاڑوں کے دامن میں گھرا ہوا تھا جہاں زندگی بہت مشکل تھی
00:14میں گھر میں بڑی تھی اور میرا بھائی مجھ سے تین سال چھوٹا تھا
00:19بچپن کی ایک غلطی کا قصہ تب شروع ہوا جب میری عمر گیرہ سال اور میرے بھائی کی آٹھ سال
00:25تھی
00:25ہمارے گاؤں کے سٹور پر ریشمی کپڑے کے بہت ہی خوبصورت ڈیزائن والے رومال آئے
00:31گاؤں کی ہر لڑکی وہ رومال خرید رہی تھی
00:33میرا بھی بہت جی للچایا کہ کاش ایک رومال میرے پاس بھی ہو
00:37اس رومال کی قیمت ایک ڈالر تھی لیکن میری جب میں صرف پچاس سینٹ پڑے تھے
00:43میری حمد نہیں ہو رہی تھی کہ ابو سے مانگوں کیونکہ گھر میں پہلے ہی بہت تنگی تھی
00:48ایک دن جب میں اکیلی تھی تو میں نے والد کے دراز سے چپکے سے پچاس سینٹ چوری کر لیے
00:55اور جا کر وہ رومال خرید لائی
00:57والد کے پاس پیسے بہت کم ہوتے تھے
01:00اس لیے انہیں فوراں پتا چل گیا کہ دراز سے پچاس سینٹ غائب ہیں
01:04انہوں نے غصے میں ہم دونوں بہن بھائیوں کو اپنے سامنے کھڑا کر لیا
01:09اور پوچھا کہ پیسے کس نے لیے ہیں
01:11وہ کہتی ہیں کہ اس وقت میرا برا حال تھا
01:14ایسا لگ رہا تھا جیسے جسم سے جان نکل گئی ہو اور خون خوشک ہو گیا ہو
01:19میں ڈر کے مارے خاموش کھڑی رہی اور میرا رنگ پیلا پڑ گیا
01:23والد نے بھائی سے پوچھا اس نے انکار کر دیا
01:26پھر والد نے غصے میں کہا کہ چوری کرنا بہت بری عادت ہے
01:30میں نہیں چاہتا کہ میرا کوئی بچہ چور بنے
01:33اگر کسی نے اعتراف نہ کیا تو میں تم دونوں کو سخت سزا دوں گا
01:38والد کا غصہ دیکھ کر میرا خوف بڑھتا جا رہا تھا
01:41تب ہی میرے چھوٹے بھائی نے میرے چہرے کی طرف دیکھا
01:44اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ کام باجی کا ہے
01:47کیونکہ اس نے میرا نیا رومال دیکھ لیا تھا
01:50جب والد نے دوبارہ سزا کی دھمکی دی
01:53تو میرے معصوم بھائی نے آگے بڑھ کر ابو کا ہاتھ پکڑ لیا
01:57اور کہا کہ ابو یہ چوری مینے کی ہے
02:00بھائی نے یہ جھوٹ صرف اس لیے بولا
02:02کیونکہ اسے پتا تھا کہ والد اب کسی نہ کسی کو تو پیٹیں گے
02:07اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بڑی بہن کو مار پڑے
02:10والد کا سارا غصہ بھائی پر نکل گیا
02:13انہوں نے اسے خوب مارا اور زلیل کیا
02:15بھائی خاموشی سے سب برداشت کرتا رہا
02:18رات کو جب ہم اپنے کمرے میں الگ الگ بیٹ پر لیٹے تھے
02:21تو میں پچتاوے کی وجہ سے رو رہی تھی
02:24کہ قصور میرا تھا اور مار میرے معصوم بھائی نے کھائی
02:28جب میری سسکیوں کی آواز نکلی
02:30تو بھائی اندھیرے میں اٹھ کر میرے پاس آیا
02:32میرے موں پر ہاتھ رکھا اور میرا نام لے کر بولا
02:35کہ باجی جو ہونا تھا وہ ہو گیا
02:38اب رو کر بات کو لمبا نہ کریں
02:40میں حیران تھی کہ آٹھ سال کا بچہ کتنی بڑی سوچ رکھتا ہے
02:45وقت گزرتا گیا ہم دونوں پڑھائی میں اچھے تھے
02:48جب ریزلٹ آیا تو ہم دونوں نے ایک گریڈ لیا تھا
02:52ایک دن میں نے دیکھا کہ ابو حسین میں بہت اداس بیٹھے تھے
02:55تھوڑی دیر بعد انہوں نے امی کو بلا کر کہا
02:58کہ بچوں کے نمبر تو بہت اچھے آئے ہیں لیکن میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں
03:02کہ دونوں کو کالج بھیج سکوں
03:04میں صرف ایک کا داخلہ کروا سکتا ہوں
03:07ابو گاؤں بھر میں دوستوں کے پاس ادھار لینے گئے لیکن کوئی انتظام نہ ہوا
03:12جب ابو نے گھر آ کر کہا کہ وہ صرف ایک کو پڑھا سکتے ہیں
03:16تو بھائی فوراں بولا کہ ابو آپ باجی کو کالج بھیج دیں
03:20یہ پڑھ لک جائے گی تو اس کا رشتہ بھی کسی اچھے گھر میں ہو جائے گا
03:24ابو کو اس بات پر غصہ آ گیا انہوں نے اسے ڈانٹا
03:28کہ تم مرد ہو کر پڑھائی سے جان چڑا رہے ہو تم بزدل اور سست ہو
03:32بھائی خاموش رہا اس رات بھائی نے خاموشی سے اپنا سامان باندھا
03:37اور میرے تکیے کے پاس ایک خط لکھ کر چھوڑ دیا
03:40جس میں لکھا تھا کہ میں اب سترہ سال کا ہو گیا ہوں
03:44اور مزدوری کر سکتا ہوں میں گھر چھوڑ کر جا رہا ہوں
03:47تاکہ ابو کو مجبوراں آپ کا داخلہ کروانا پڑے
03:50آپ دل لگا کر پڑنا وہ انہی کپڑوں میں گھر سے نکل گیا
03:54جو اس نے پہنے ہوئے تھے
03:56والد کے پاس اب کوئی راستہ نہیں تھا
03:59اس لیے انہوں نے میرا داخلہ یونیورسٹی میں کروا دیا
04:02بھائی شہر کی ایک کنسٹرکشن کمپنی میں مزدور بن گیا
04:06کئی سال گزر گئے ایک دن میرے روم میٹ نے بتایا
04:09کہ ہاسٹل کے باہر ایک دہاتی سا لڑکا کھڑا ہے
04:12جو تم سے ملنا چاہتا ہے
04:14باہر سخت سردی تھی
04:16میں جب باہر گئی تو دیکھا کہ میرا بھائی وہاں کھڑا سردی سے کامپ رہا تھا
04:21اس کے کپڑوں پر مٹی اور سیمنٹ لگا ہوا تھا
04:24میں نے روتے ہوئے کہا کہ تم نے یہ کیوں نہیں بتایا
04:27کہ تم میرے بھائی ہو
04:29اس نے جواب دیا کہ باجی میری حالت بہت بری تھی
04:32اگر میں بتا تھا کہ میں آپ کا بھائی ہوں
04:35تو آپ کی کلاس فلوز کے سامنے آپ کی کیا عزت رہتی
04:39اس لیے میں نے صرف یہ کہا
04:41کہ میں آپ کا گاؤں کا رہنے والا ہوں
04:44بھائی نے اپنی جیب سے ایک بہت خوبصورت بٹر فلائی والا ہیئر کلپ نکالا
04:49اور کہا کہ میں نے دیکھا تھا شہر کی لڑکیاں ایسا کلپ لگاتی ہیں
04:54میں تمہارے لیے توفہ لائیا ہوں
04:56اس وقت میری عمر ستائی سال اور اس کی چوبیس سال تھی
05:00اس نے مجھے تعقید کی کہ پیسوں کی فکر نہ کرنا
05:04میں اور ابو مل کر تمہارے خرچے پورے کریں گے
05:07بس تم اپنی تعلیم مکمل کرو
05:10یونیورسٹی کے بعد میری شادی ایک پڑھے لکھے لڑکے سے ہو گئی
05:14جو اتفاق سے اسی کمپنی میں ڈائریکٹر لگ گیا
05:17جہاں بھائی مزدور تھا
05:19میرے شوہر نے مجھ سے کہا
05:21کہ تمہارا بھائی بہت محنت والا کام کرتا ہے
05:24میں اسے سپروائزر بنا دیتا ہوں
05:27لیکن بھائی نے صاف انکار کر دیا
05:29اور مجھ سے کہا کہ بھائی
05:30تمہارا شوہر ابھی نیا نیا ڈائریکٹر بنا ہے
05:33اگر وہ ایک انپڑ مزدور کو ترقی دے گا
05:36تو لوگ باتیں کریں گے
05:38اور اس کی عزت خراب ہوگی
05:40میں نہیں چاہتا
05:41کہ میری وجہ سے تمہارے شوہر کی ساکھ پر حرف آئے
05:45ایک بار وہ کام کے دوران بلندی سے گرا
05:47اور زخمی ہو گیا
05:49تب بھی اس نے اپنی زد نہ چھوڑی
05:51اور محنت مزدوری ہی کرتا رہا
05:53جب بھائی تیس سال کا ہوا
05:55تو اس کی شادی ہوئی
05:56اور پورے گاؤں کے لوگ جمع تھے
05:59محفل کے دوران ایک بندے نے بھائی سے پوچھا
06:01کہ تمہیں دنیا میں سب سے زیادہ محبت کس سے ہے
06:04بھائی نے سب کے سامنے کہا
06:06کہ مجھے اپنی بہن سے سب سے زیادہ محبت ہے
06:09جب وجہ پوچھی گئی
06:10تو اس نے ایک پرانا قصہ سنایا
06:12اس نے بتایا کہ جب ہم دونوں چھوٹے
06:15اور اسکول سے پیدل گھر آتے تھے
06:17تو ایک دن میرے دستانیں
06:19کہیں گم ہو گئے تھے
06:20میری بہن نے دیکھا کہ مجھے تھنڈ لگ رہی ہے
06:23تو اس نے اپنے دستانیں اتار کر
06:25مجھے دے دئیے
06:26اور خود ہاتھ جیب میں چھپا لئے
06:28جب ہم گھر پہنچے
06:29تو میری بہن کے ہاتھ سردی سے نیلے پڑ چکے تھے
06:33اور ناخنوں میں کھون جم گیا تھا
06:35اس دن میں نے فیصلہ کیا تھا
06:37کہ میں زندگی بھر
06:39اپنی بہن کا خیال رکھوں گا
06:40وہ کہتی ہے کہ سب لوگ تالیاں بجا رہے تھے
06:43لیکن میں رو رہی تھی
06:45میں اس لیے رو رہی تھی
06:46کہ میں نے تو زندگی میں صرف ایک بار
06:49اس کے لیے دستانیں قربان کیے تھے
06:51اور اس نے وہ بات سب کو بتا دی
06:54لیکن اس نے میری خاطر
06:55جو اپنی پوری زندگی
06:57اپنی پڑھائی
06:57اپنی جوانی
06:58اور اپنی خوشیاں قربان کر دیں
07:00وہ بات اس نے کسی کو نہیں بتائی
07:03دوستو اللہ تعالی نے
07:05بھائیوں کو بہت بڑا دل دیا ہوتا ہے
07:07وہ اپنی بہنوں کے لیے
07:08بلکل ویسے ہی ہوتے ہیں
07:10جیسے ایک باپ اپنی بیٹی کے لیے
07:13اللہ ہر بہن کو ایسا ہی
07:15محبت کرنے والا
07:16اور محافظ بھائی عطا فرمائے
07:19آمین
Comments