Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Pathar

Category

📚
Learning
Transcript
00:00ایک نوجان بزنس مینجر اپنی نئی گاڑی میں دفتر سے گھر جاتے ہوئے ایک پسماندہ علاقے سے گزر رہا تھا
00:06یہ علاقہ مضافات میں ہی واقع تھا
00:08اچانک اس نے ایک چھوٹے بچے کو بھاگ کر سڑک کی طرف آتے دیکھا
00:12تو گاڑی آہستہ کر لی
00:14پھر اس نے بچے کو کوئی چیز اچھالتے دیکھا
00:17ایک زوردار آواز کے ساتھ ایک پتھر اس کی نئی کار کے دروازے پر لگا
00:22اس نے فوراں بریک لگائی اور گاڑی سے باہر نکل کر دروازہ دیکھا جس پر گہرا خراش آ چکا تھا
00:29اس نے غصے سے اُبلتے ہوئے بھاگ کر پتھر مارنے والے بچے کو پکڑا اور زور زور سے جنجھوڑا
00:35اندھے ہو گئے ہو پاگل کی اولاد تمہارا باپ اس کے پیسے بھرے گا
00:39وہ زور سے دہارا
00:40میلی کچھلی قمیز پہنے بچے کے چہرے پر ندامت اور بیچارگی کے ملے جلے تاثرات تھے
00:46بچہ رونے لگا
00:47صاحب مجھے کچھ نہیں پتا تھا کہ میں کیا کروں میں ہاتھ اٹھا کر روکتا رہا مگر کسی نے میری
00:53بات نہیں سنی
00:54اچانک اس کی آنکھوں سے آنسوں اُبل پڑے اور اس نے سڑک کے ایک نچلے علاقے کی طرف اشارہ کر
01:00کے کہا
01:01اُدھر میرا اببہ گرا پڑا ہے وہ بہت بھاری ہے مجھ سے اٹھ نہیں رہے تھے
01:05اب میں کیا کرتا صاحب
01:07بزنس ایگزیکٹیو کے چہرے پر حیرانی اور ندامت آئی اور وہ بچے کے ساتھ اس طرف بڑھا
01:13وہاں اس نے ایک عجیب اور دردناک منظر دیکھا ایک معذور شخص اوندھے موں مٹی پر پڑا ہوا تھا
01:19اور ساتھ ہی ایک ویلچئر بھی گری پڑی تھی
01:22دکھائی دے رہا تھا کہ شاید وزن کے باعث اس بچے سے ویلچئر سنبھالی نہیں جا سکی تھی
01:28صاحب مہربانی کرو میرے اببے کو اٹھا کر کرسی پر بٹھا دو
01:32اب وہ بچہ باقاعدہ ہچکیاں لے رہا تھا
01:35نوجوان کا سانس جیسے اٹک گیا ہو
01:37اسے سارا معاملہ سمجھ میں آ گیا تھا اور اسے اپنے غصے پر اب شدید شرمندگی محسوس ہو رہی تھی
01:44اس نے اپنے مہنگے سوٹ کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھ کر پوری طاقت لگا کر
01:49اس کراہتے ہوئے معذور شخص کو اٹھایا اور کسی طرح ویلچئر پر بٹھا دیا
01:55بچے کے باپ کی حالت غیر تھی اور چہرہ مٹی سے بھرا ہوا تھا
01:59پھر وہ بھاگ کر اپنی گاڑی کی طرف گیا
02:01بٹوے میں سے کچھ پیسے نکالے اور کپ کپاتے ہاتھوں سے معذور کی جیب میں ڈال دیئے
02:07پھر اس نے ٹیشو پیپر سے اس کا چہرہ اور آنکھیں صاف کی
02:11اور ویلچئر کو دھکیل کر اوپر سڑک پر لے آیا
02:14بچہ معصومیت سے اسے دیکھتا رہا
02:17اور پھر اپنے باپ کو چیئر پر بٹھا کر اپنی جھگی کی طرف چل پڑا
02:21اس کا باپ مسلسل آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے
02:24اس نوجوان کے لیے دعائیں دے رہا تھا
02:27نوجوان ایگزیکیٹیو نے بعد میں ایک خیراتی ادارے کے تعاون سے
02:31اس جھگی والوں کے لیے ایک سکول کھول دیا
02:34اور آنے والے سالوں میں وہ بچہ بہت سے دوسرے بچوں کے ساتھ پڑھ لکھ کر
02:39زندگی کی دوڑ میں شامل ہو گیا
02:41وہی نئی کار اس نوجوان کے پاس پانچ سال مزید رہی
02:45تاہم اس نے ڈینٹ والا دروازہ مرمت نہیں کروایا
02:49کبھی کوئی اس سے پوچھتا تو وہ بس یہی کہتا
02:52کہ زندگی کی دوڑ میں اتنا تیز نہیں چلنا چاہیے
02:55کہ کسی کو پتھر مار کر گاڑی روکنی پڑے
02:58سننے والا اس کی بات سن کر
03:00اور اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر حیران ہوتا
03:03اور سر ہلا دیتا
03:04دوستو اوپر والا کبھی ہمارے کانوں میں سرگوشیاں کرتا ہے
03:08اور کبھی ہمارے دل سے باتیں کرتا ہے
03:10جب ہم اس کی بات سننے سے انکار کر دیتے ہیں
03:13تو وہی کبھی کبھار ہمارے اوپر ایک پتھر اچھال دیتا ہے
03:17پھر وہ بات ہمیں سننا ہی پڑتی ہے
03:19جہاں ہم اپنے آپ ملازم بزنس خاندان
03:22اور بچوں کی خوشیوں کے لیے بھاگے جا رہے ہیں
03:25وہیں ہمارے آس پاس بہت سی گونگی چیخیں
03:28اور سرگوشیاں بھی بکھری پڑی ہیں
03:30کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اپنے ارد گرد کی سرگوشیاں سن لیں
03:34تاکہ ہم پر پتھر ڈالنے کی نوبت نہ آسکے
03:38ویڈیو پسند آئی ہو
03:39تو اپنے دوستوں کے ساتھ اسے شیئر بھی ضرور کیجئے گا
03:43تو اپنے دوستوں کے ساتھ اسے شیئر بھی ضرور کیجئے گا
Comments