Skip to playerSkip to main content
  • 5 days ago
بھائی جان کے جوتے

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بھائی جان کا اصل نام تو بلال تھا مگر امی اور ابو انہیں بیار سے منعمیاں کہتے تھے
00:05ان کے دوست انہیں بلال کے نام سے پکارتے تھے
00:07وہ دسویں کلاس میں پڑھتے تھے
00:09اس لئے ان سے ایسی حرکت کی کوئی امید نہیں تھی
00:12جیسی وہ پچھلے تین مہینوں سے کر رہے تھے
00:15بھائی جان لگاتار ہر مہینے اپنے جوتے کہیں نہ کہیں گم کر دیتے تھے
00:19تیسری بار جب وہ جوتوں کے بغیر اسکول سے گھر پہنچے تو امی بہت پریشان ہوئی
00:24انہوں نے بھائی جان سے پوچھا بھائی جان نے جو وجہ بتائی وہ امی کو سچی نہیں لگ رہی تھی
00:29رات کو سب ابو کے کمرے میں ایک کٹھے ہوئے
00:32ابو نے پوچھا کہ ہاں منہ میاں بتاؤ آج جوتے کہاں گئے
00:36بھائی جان نے رونے والی شکل بنا کر کہا کہ ابو میں نے امی کو بتا تو دیا تھا
00:41ابو بولے مگر اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے
00:44یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اسکول سے آتے ہوئے تم مسجد میں نماز پڑھنے گئے
00:48اور واپسی پر جوتے غائب تھے
00:50ہر بار تم جوتے گم ہونے کی یہی وجہ بتاتے ہو
00:53اس مسجد میں جہاں تم جاتے ہو میں بھی اکثر وہی نماز پڑھتا ہوں
00:57مگر میرے یا کسی اور کے جوتے تو کبھی وہاں سے چوری نہیں ہوئے
01:01منہ میاں سچی بات بتاؤ
01:02ہر بار ایک ہی بانہ نہیں چلے گا
01:05بھائی جان ڈر کے مارے حکلانے لگے
01:07ابو نے اس کے بعد کچھ نہ کہا
01:09اور ہم سب اپنے اپنے کمروں میں سونے چلے گئے
01:12اگلے دن صبح ابو بھائی جان کے اسکول گئے
01:15اور پرنسپل صاحب سے مل کر انہیں ساری بات بتائی
01:18پرنسپل صاحب نے کلاس ٹیچر سلطان صاحب کو بھی بلا لیا
01:22اور انہیں سب کچھ بتا دیا
01:24سلطان صاحب نے پورا تعاون کرنے کا وعدہ کیا
01:27ابو اتمنان سے دفتر چلے گئے
01:29سلطان صاحب نے کلاس میں جا کر بھائی جان کو اپنے پاس بلایا
01:33اور بڑے پیار سے جوتوں کے بارے میں پوچھا
01:35مگر بھائی جان وہاں بھی بات گول کر گئے
01:38اگلے دن سلطان صاحب کے ذہن میں ایک خیال آیا
01:41اور انہوں نے ان تین بچوں کو بلایا
01:44جنہیں نئے جوتے نہ پہن کر آنے پر وہ سزا دیتے رہے تھے
01:48ان تینوں کے گھر کے حالات اچھے نہیں تھے
01:50اس لیے وہ نئے جوتے نہیں خرید سکتے تھے
01:53یہ بات سلطان صاحب کو معلوم تھی
01:55مگر اسکول کے قانون کی وجہ سے وہ انہیں سزا دیتے تھے
01:59وہ تینوں کئی دنوں سے پھٹے ہوئے جوتے پہن کر آ رہے تھے
02:02مگر آج ان کے جوتے نئے لگ رہے تھے
02:05جب پرنسپل صاحب کے کمرے میں ان سے پوچھا گیا
02:08تو انہوں نے سب سچ بتا دیا
02:10کچھ دیر بعد سلطان صاحب نے فون کر کے ابو کو اصلیت بتا دی
02:14ابو یہ سن کر بہت خوش ہوئے
02:16رات کو کھانے کے بعد بھائی جان کو ابو کے کمرے میں بولایا گیا
02:20جب وہ کمرے میں داخل ہوئے
02:22تو ابو نے انہیں بیٹھنے کا کہا
02:24اور بولے
02:24ہاں بھائی منہ میاں تمہارے جوتوں کے تینوں جوڑوں کے غائب ہونے کی اصل حقیقت مجھے معلوم ہو گئی ہے
02:30بھائی جان نے کچھ کہنا چاہا مگر ابو نے بات جاری رکھی
02:34ابو نے کہا
02:35مجھے پتا چل گیا ہے
02:36کہ پہلی بار تم نے جوتے گم ہونے کا جھوٹ بول کر
02:39اپنے دوست عبدالعزیز کی مدد کی
02:42کیونکہ وہ غریب تھا
02:43اور نئے جوتے نہیں خرید سکتا تھا
02:45دوسری بار تم نے یہی کام اپنے دوسرے ساتھی مدسر کے لیے کیا
02:54بیٹا مجھے بہت خوشی ہے کہ تم اپنے دوستوں کا اتنا خیال رکھتے ہو
02:59مگر اس میں ایک غلطی ہو گئی
03:01بھائی جان نے پوچھا
03:02ابو وہ کیا
03:03ابو بولے وہ یہ
03:05کہ تم نے اس اچھے کام کے لیے جھوٹ کا سارا لیا
03:08اگر تم مجھے یامی کو بتا دیتے
03:11تو ہم تمہیں کبھی نہ رکھتے
03:12تم نے پڑھا ہوگا کہ اسلام ہمیں سکھاتا ہے
03:16کہ جو چیز ہماری ضرورت سے زیادہ ہو
03:18اس پر دوسروں کا حق سمجھیں
03:20اللہ نے ہمیں بہت دیا ہے
03:22اس لیے دوسروں کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے
03:24بھائی جان نے کہا
03:26جی ابو میں آئندہ خیال رکھوں گا
03:28بھائی جان کو ایسا لگا جیسے ان کے دل سے بہت بڑا بوجھ ہوتر گیا ہو
03:32جب وہ کمرے سے باہر آئے
03:34تو ہم سب ان کا انتظار کر رہے تھے
03:36ہمیں ڈر تھا کہ کہیں انہیں سزا نہ ملی ہو
03:39مگر ان کا خوش چہرہ دیکھ کر ہماری جان میں جان آئی
03:43جب بھائی جان نے ہمیں بھی اصلیت بتائی
03:45تو ہماری خوشی اور بڑھ گئی
03:47اس طرح کئی دنوں سے چلنے والا یہ جوتوں کا معاملہ حل ہو گیا
Comments