00:00ایک بہن نے ان باکس میں اپنا واقعہ سنایا
00:02وہ لکھتی ہیں کہ میرا نام شہزادی ہے
00:04میں ایک پڑھی لکھی لڑکی ہوں
00:06اور عام لڑکیوں کی طرح میرا بھی یہ خواب تھا
00:09کہ میرا شوہر بھی خوب بڑا لکھا ہو
00:12اچھا کمانے والا ہو
00:13اس کا ایک بڑا گھر ہو
00:15اور بات کرنے کا انداز بڑا سلیقہ مند ہو
00:18لیکن حالات کی کچھ ایسی مجبوریاں بنیں
00:21کہ میری شادی عمر نام کے ایک شخص سے کر دی گئی
00:24عمر بالکل انپڑ تھا سیدھا سادھا
00:27اور اس کا کام کاج بھی کوئی خاص نہیں تھا
00:29میں شروع سے ہی اس رشتے سے خوش نہیں تھی
00:32اور مجھے اس کی ذات سے ایک بیزاری سی محسوس ہوتی تھی
00:36میں اندر ہی اندر اتنی تلخ ہو چکی تھی
00:38کہ اللہ کے سامنے رو رو کر دعائیں مانگتی تھی
00:41کہ یا اللہ یا تو عمر کو مجھ سے دور کر دے
00:45یا میری اس سے جان چھڑا دے
00:47میں عمر کے ساتھ بہت برا سلوک کرتی تھی
00:49بات بات پر اسے بے عزت کرنا
00:51اس پر غصہ کرنا اور اسے تانے دینا
00:54میرا روز کا معمول بن چکا تھا
00:56لیکن عمر تھا کہ ہمیشہ مجھے پیار سے سمجھاتا
01:00کبھی بالکل خاموش ہو جاتا
01:02تو کبھی میرا غصہ دیکھ کر گھر سے ہی باہر نکل جاتا
01:05ایک دن بات اتنی بڑھی
01:07کہ میں لڑ کر اپنے میکے چلی گئی
01:09اور زد پکڑ لی
01:10کہ مجھے بس ہر حال میں طلاق چاہیے
01:13میرے والدین نے مجھے بہت سمجھایا
01:15کہ بیٹی ایسا نہ کرو
01:16لڑکا بہت اچھا ہے
01:18بس بیچارہ پڑھا لکھا نہیں ہے
01:20ہمیں یہ بتاؤ
01:21کہ کیا کبھی اس نے تم پر ہاتھ اٹھایا
01:23کبھی کوئی گالی تھی
01:24لیکن میں کسی کی سننے کو تیار ہی نہ تھی
01:27اور طلاق پر اڑی رہی
01:29اپنے والد کو مجبور کرنے کے لیے
01:31میں نے جھوٹ بول دیا
01:32کہ وہ مجھے خرچہ نہیں دیتا
01:34میری یہ بات سن کر
01:35امی ابو نے عمر کو اپنے گھر بلوا لیا
01:37عمر میرے سامنے آ کر بیٹھ گیا
01:39ابو نے پوچھا
01:40کیوں بھئی عمر
01:41تم شہزادی کو خرچہ کیوں نہیں دیتے
01:43عمر نے سر جھکایا
01:45اور بڑی دھیمی آواز میں بولا
01:47ابو جی میں جو کچھ بھی کما کر لاتا ہوں
01:50اس میں سے گھر کے ضروری اخراجات نکال کر
01:53جو ایک ایک روپیہ میرے پاس بچتا ہے
01:56وہ سب کا سب میں شہزادی کے ہاتھ پر ہی رکھتا ہوں
02:00میں اپنے پاس کچھ بھی نہیں رکھتا
02:02عمر کو نیچہ دکھانے
02:03اور اس رشتے کو توڑنے کے لیے
02:05میں نے وہاں ایک ناممکن شرط رکھ دی
02:08میں نے کہا کہ اگر میں واپس جاؤں گی
02:10تو صرف اس شرط پر
02:12کہ یہ مجھے ہر مہینے تیس ہزار روپے
02:14الگ سے میرا ذاتی خرچہ دیکھا
02:16کمرے میں بالکل خاموشی چھا گئی
02:18ابو نے عمر کی طرف دیکھا
02:20اور کہا ہاں بھئی عمر
02:21کیا تم تیس ہزار روپے خرچہ دے سکتے ہو
02:24عمر کچھ دیر تک خاموش رہا
02:26پھر اس نے ایک لمبی اور گہری سانس لی
02:29اور کہنے لگا
02:29کہ ٹھیک ہے
02:30میں شہزادی کو ہر مہینے تیس ہزار روپے دینے کے لیے تیار ہوں
02:34بس یہ میرے ساتھ گھر واپس چل پڑے
02:37میں نے دل میں اسے برا بھلا کہا
02:39اور سوچا
02:40کہ دیکھنا میں تمہارا جینا حرام کر دوں گی
02:43میں عمر کے ساتھ واپس تو آ گئی
02:45لیکن میرا رویہ اور تلخ ہو گیا
02:48جب میں نے اس سے پوچھا
02:49کہ تم کیا کام کرتے ہو
02:51تو اس نے بس اتنا کہا
02:52کہ وہ ایک سرکاری دفتر میں کام کرتا ہے
02:55اس کے علاوہ
02:56نہ میں نے کبھی گہرائی سے پوچھا
02:58اور نہ اس نے کبھی مجھے بتایا
03:00لیکن وہ اپنی زبان کا پکا نکلا
03:02ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو
03:04وہ چپ چاپ تیس ہزار روپے لاکر
03:07میرے ہاتھ پر رکھ دیتا تھا
03:09اسے مزید تنگ کرنے کے لیے
03:11ایک دن میں نے کہہ دیا
03:12کہ عمر مجھے آئی فون چاہیے
03:14میں بس یہ چاہتی تھی
03:15کہ وہ میری فرمائشوں سے تنگ آ جائے
03:18اور خود مجھے طلاق دے دے
03:20وہ میری بات سن کر
03:21تھوڑا لڑ کھڑایا
03:22لیکن بولا
03:23شہزادی
03:24میں لا دوں گا
03:25تم پریشان نہ ہو
03:26بس مجھ سے دور جانے کی بات نہ کیا کرو
03:29تم جو کہو گی
03:30میں کروں گا
03:31میں کچن میں بھی
03:32اس کے ساتھ سخت زیادتی کرتی
03:34کبھی کھانے میں مرچیں تیز کر دیتی
03:36تو کبھی نمک بہت زیادہ ڈال دیتی
03:39وہ دن بھر کا تھکا ہارا
03:41کام سے گھر آتا
03:42اور جو کچھ بھی سامنے ہوتا
03:44چپ چاپ کھا کر
03:45بے ہوشوں کی طرح سو جاتا
03:47میں اکثر سوچتی تھی
03:48کہ یہ ایسا کون سا کام کرتا ہے
03:50جو اسے اتنا تھکا دیتا ہے
03:52پھر ایک دن وہ دوپہر آئی
03:54جس نے میری زندگی ہی بدل کر رکھ دی
03:57میں ایک ٹیکسی میں بیٹھ کر
03:59شہر کے سب سے بڑے مال میں
04:00شاپنگ کے لیے جا رہی تھی
04:02جب ہماری گاڑی بس اڈے کے پاس سے گزری
04:05اور میں نے باہر دیکھا
04:07تو میرا پورا وجود جیسے بے جان سا ہو گیا
04:10وہاں اس شدید گرمی اور دھوپ میں عمر کھڑا تھا
04:13وہ عمر جس سے میں شدید نفرت کرتی تھی
04:17جسے میں جاہل اور انپڑ کہتی تھی
04:19جسے میں نے کبھی پیار سے کھانا تک بھی نہیں دیا تھا
04:22وہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے
04:24پاؤں میں ٹوٹی ہوئی جوتی ڈالے
04:26اپنی بسات سے زیادہ بھاری بوجھ
04:29اور سوٹ کےس اپنے سر اور کندھوں پر اٹھائے
04:32بسوں کی چھتوں پر چڑھ رہا تھا
04:35بوجھ کی وجہ سے اس کی ٹانگیں کھانپ رہی تھیں
04:37اتنے میں اڈے کے ایک انچارچ نے اسے آواز دی
04:41اوے چل یہ سامان اٹھا
04:42اور دوسری بس کی چھت پر لوڑ کر عمر جلدی سے بڑھا
04:46اس نے اپنی جیب سے ایک سوکھی ہوئی روٹی نکالی
04:49اسے رول کیا اور ایک ہاتھ سے روٹی کھاتے ہوئے
04:53دوسرے ہاتھ سے سامان اٹھانے لگا
04:55میرا دل چاہا کہ میں اسی وقت مر کیوں نہیں گئی
04:58یہ انسان میرے نخرے اٹھانے کے لیے
05:00میرے تیس ہزار روپے پورے کرنے کے لیے
05:03یہاں اپنی ہڈیاں پسوا رہا تھا
05:05جب تپتی دھوپ میں کام ختم ہوا
05:07تو وہ سڑک کنارے ایک دکان کے باہر
05:10مٹی پر ہی بیٹھ گیا
05:12اور تھکن سے چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا
05:14وہ سارا دن وہاں یہ تپتی دھوپ اور درد سہتا تھا
05:18اور رات بھر گھر آ کر میری کڑوی باتیں برداشت کرتا تھا
05:22میں نے ٹیکسی والے سے کہا
05:24کہ گاڑی فوراں واپس موڑے
05:30مٹر پلاو بہت پسند تھا
05:32لیکن میں نے کبھی اس کے لیے دل سے نہیں بنایا تھا
05:36اس دن میں نے اپنے ہاتھوں سے بہترین پلاو تیار کیا
05:39رات کو جب عمر گھر آیا
05:40تو حسب معمول وہ کچن کی طرف گیا
05:43تاکہ خود کھانا گرم کر کے کھا سکے
05:45لیکن جیسے ہی اس نے گرم گرم پلاو دیکھا
05:48اس کا چہرہ کھل اٹھا
05:50وہ پلیٹ میں پلاو نکال کر میرے پاس بیٹھ گیا
05:53اور کہنے لگا
05:54شہزادی آج تو آپ نے کمال کر دیا
05:57اتنا لذیذ پلاو میں نے سالوں بعد کھایا ہے
05:59میں خاموش بیٹھی اس کا چہرہ دیکھتی رہی
06:02میرا شوہر کتنا درد چھپائے ہوئے تھا
06:05اور اس نے کبھی مجھ سے ایک شکوا تک نہیں کیا تھا
06:08کھانا کھانے کے بعد اس نے اپنی جیب سے پیسے نکالے
06:12اور میز پر رکھ دئیے
06:13یہ لو شہزادی
06:14تمہارے تیس ہزار روپے
06:16یہ دیکھ کر میرے صبر کا بندھن ٹوٹ گیا
06:19میں چیخیں مار کر رونے لگی
06:21اور بھاگ کر اس کے قدموں میں گر گئی
06:24میں نے اس کے پاؤں چوم لیے
06:25اور روتے ہوئے کہا
06:27عمر مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے
06:29مجھے یہ پیسے نہیں چاہیے
06:31خدا کے لئے مجھے معاف کر دو
06:33وہ بالکل حیران رہ گیا
06:34کہ مجھے اچانک کیا ہو گیا ہے
06:36اس نے محبت سے میرے ہاتھ تھامے
06:39اور مجھے اٹھاتے ہوئے بولا
06:40شہزادی اگر یہ پیسے کم ہے
06:43تو میں اور محنت کر لوں گا
06:45کہیں اور سے لا دوں گا
06:46بس تم مجھے چھوڑ کر جانے کی بات نہ کرنا
06:49تم بہت بھولی ہو
06:50بہت پاگل ہو
06:51میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں
06:53اگر تم مجھ سے الگ ہو گئی
06:55تو اس ظالم دنیا میں کہاں بھٹکو گی
06:57میں تمہیں خود سے دور نہیں کر سکتا
07:00اس کے ان الفاظ نے میری انا کو
07:02ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا
07:04میں نے روتے ہوئے کہا
07:05عمر مجھے نہ آئی فون چاہیے
07:07نہ گاڑی نہ بڑا گھر
07:09مجھے بس تم چاہیے ہو
07:11اور اس دن کے بعد سے
07:12میری پوری دنیا میرا عمر بن گیا
07:15ہم عورتیں کبھی کبھی بہت آسانی سے کہہ دیتی ہیں
07:19کہ جب کمان نہیں سکتے تھے
07:21تو شادی کیوں کی
07:22ہم بات بات بر جھگڑے کرتی ہیں
07:24اور تانے دیتی ہیں
07:25لیکن کبھی اپنے شوہر کا وہ چہرہ بھی دیکھو
07:28جو میں نے عمر کا دیکھا تھا
07:30خدا کی قسم جس ماحول
07:32اور جن سختیوں میں ایک مرد
07:35اپنی فیملی کے لیے دن رات
07:37خود کو قربان کرتا ہے
07:38ہم وہاں ایک پل سانس بھی نہ لے سکیں
07:41وہ اتنی تکلیفیں اٹھا کر
07:43ہمارے لیے حلال روزی کما کر لاتا ہے
07:46شوہر جتنا بھی کماتا ہے
07:47اس میں خوش رہنا سیکھیں
07:49کیونکہ سب کچھ پیسہ نہیں ہوتا
07:51خدا کی قسم
07:52مجھے بڑی گاڑیوں اور بنگلوں میں
07:54وہ سکون کبھی نہیں ملا
07:56جو مجھے عمر کی باہوں میں ملا
07:58جو سکون عمر کے تھکے ہوئے سر کو دبانے میں ملتا ہے
08:02اور جو خوشی اس کی پسند کا کھانا بنانے میں ملتی ہے
08:06اپنے ہم سفر کی بیبسی اور اس کی قربانی کو سمجھیں
08:10آپ کا رشتہ ہمیشہ محبت سے معطر رہے کا
08:14اللہ تعالی تمام میاں بیوی کے رشتوں میں
08:17محبت عزت اور ایک دوسرے کا احساس پیدا فرمائے
08:21آمین
Comments