00:00ایک مرتبہ ایک ملک کا بادشاہ سخت بیمار ہو گیا جب بادشاہ کو یقین ہو گیا کہ اب اس کے
00:05بچنے کی کوئی امید نہیں ہے
00:07تو اس نے اپنی رعایہ میں یہ اعلان کروا دیا کہ جو شخص میرے مرنے کے بعد ایک رات میری
00:13جگہ قبر میں گزارے گا
00:14میں اپنی پوری بادشاہ تو اس کے نام کر دوں گا
00:17یہ سن کر سب لوگ بہت ڈر گئے اور کوئی بھی اس کام کے لیے تیار نہ ہوا
00:22اسی دوران ایک غریب کمار جس نے پوری زندگی کچھ جمع نہیں کیا تھا
00:27اور جس کے پاس سوائے ایک گدھے کے اور کچھ تھا ہی نہیں
00:30اس نے سوچا کہ اگر وہ ایک رات قبر میں رہ لے تو وہ بادشاہ بن سکتا ہے
00:35اس نے یہ بھی سوچا کہ مجھے حساب کتاب میں کیا جواب دینا پڑے گا میرے پاس تو صرف ایک
00:41گدھا ہی ہے
00:42چنانچہ اس نے اعلان کر دیا کہ وہ بادشاہ کی جگہ قبر میں ایک رات گزارنے کے لیے تیار ہے
00:48بادشاہ کے مرنے کے بعد لوگوں نے اس کی قبر تیار کی
00:52اور وعدے کے مطابق وہ کمار خوشی خوشی اس میں جا کر لیٹ گیا
00:56لوگوں نے قبر اوپر سے بند کر دی
00:58کچھ وقت گزرا تو فرشتے آئے اور اس سے کہا کہ اٹھو اور اپنا حساب دو
01:03اس نے جواب دیا کہ بھائی میں کس چیز کا حساب دوں
01:06میرے پاس تو پوری زندگی ایک گدھے کے سوا کچھ تھا ہی نہیں
01:09فرشتے اس کا جواب سن کر جانے لگے
01:12لیکن پھر اچانک رکے اور بولے
01:14ذرا اس کا نام آئے آمال کھول کر تو دیکھو
01:17کہ اس میں کیا ہے
01:19بس پھر کیا تھا فرشتوں نے اس سے پوچھ کچھ شروع کر دی
01:22سب سے پہلے انہوں نے پوچھا کہ ہاں بھائی
01:24فلان دن تم نے اپنے گدھے کو ایک دن بھوکا رکھا تھا
01:28کیا یہ سچ ہے
01:29اس نے کہا کہ ہاں
01:30فوراں حکم ہوا کہ اسے سو کوڑے مارے جائیں
01:33چنانچہ اس کی خوب پٹائی شروع ہو گئی
01:35اس کے بعد فرشتوں نے پھر سوال کیا
01:38اچھا یہ بتاؤ فلان دن تم نے گدھے پر ضرورت سے زیادہ وزن لات کر اسے مارا تھا
01:43اس نے اقرار کیا کہ ہاں
01:45پھر حکم ہوا کہ اسے دو سو کوڑے مارے جائیں
01:48غرض یہ کہ پوری رات اسی طرح اس سے گدھے کے بارے میں سوال ہوتے رہے
01:53اور اسے مار پڑتی رہی
01:54صبح ہوئی تو لوگ قبر کے پاس جمع ہوئے
01:57تاکہ اپنے نئے بادشاہ کا استقبال کر سکیں
02:00جیسے ہی انہوں نے قبر کھولی
02:02اس کمہار نے باہر نکل کر دوڑ لگا دی
02:05لوگوں نے حیرت سے پوچھا کہ بادشاہ سلامت آپ کے در جا رہے ہیں
02:08اس نے بھاگتے ہوئے جواب دیا
02:10اوہ بھائیو میں پوری رات میں صرف ایک گدھے کا حساب نہیں دے سکا
02:14تو پوری عوام اور ملک کا حساب کون دیتا پھرے گا
02:18دوستو یہ تو ایک حکایت تھی
02:20لیکن ہمیں بھی کبھی یہ سوچنا چاہیے
02:23کہ ہم نے بھی ایک دن اپنے رب کو حساب دینا ہے
02:26اور نہ جانے ایسی کتنی چیزوں کا حساب دینا پڑے گا
02:30جو شاید ہمیں یاد بھی نہیں آئے
Comments