Skip to playerSkip to main content
  • 9 minutes ago
Motivational Urdu Story

Category

📚
Learning
Transcript
00:00جاؤں کے زیادہ تر لوگ اسی کی بیکری سے سامان خریدتے تھے
00:03کیونکہ اس کی بیکری کی چیزیں تازہ ہوتی تھی
00:06حامد ایک لالچی اور کنجوس آدمی تھا
00:09اللہ تعالیٰ نے اسے بہت مال و دولت دی تھی
00:11لیکن وہ اس دولت میں سے غریبوں پر کچھ بھی خرچ نہیں کرتا تھا
00:15بلکہ ہر وقت اسی سوچ میں رہتا تھا
00:18کہ کس طرح اس کے پیسوں میں اور اضافہ ہو جائے
00:21اسی گاؤں میں ایک آدمی حارون رہتا تھا
00:23وہ بہت غریب تھا
00:25ایک دن حارون حامد کی بیکری کے پاس سے گزر رہا تھا
00:28اسے بہت زیادہ بھوک لگی ہوئی تھی
00:30اور جیب میں ایک پیسہ بھی نہیں تھا
00:33حامد کی بیکری سے تازہ ڈبل روٹیوں کی مہک آ رہی تھی
00:37حارون بیکری کے باہر کھڑا ہو کر
00:39ڈبل روٹیوں کی خوشبو سونگنے لگا
00:41حامد بیکری میں بیٹھا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا
00:44وہ اپنی جگہ سے اٹھا
00:46اور بیکری سے باہر آ کر حارون کو پکڑ لیا
00:48اور کہا کہ تم نے میری بیکری سے آنے والی خوشبو کو سونگا ہے
00:52اس لیے تم اس کے پیسے دو
00:54حارون بہت پریشان ہوا
00:55کیونکہ اس کے پاس تو پیسے تھے ہی نہیں
00:58اس نے حامد سے کہا کہ بھائی حامد
01:00میں نے تم سے کوئی چیز تو نہیں خریدی
01:02کہ میں تمہیں پیسے دوں
01:04میں نے تو صرف خوشبو سونگی ہے
01:05اور خوشبو سونگنے کے پیسے نہیں ہوتے
01:08اب حامد غصے سے چلانے لگا
01:10لوگیں کٹھے ہو گئے
01:11لوگوں نے بھی سمجھایا کہ ظلم مت کرو
01:13ظالم کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا
01:16اور اللہ تعالیٰ ظالم کو زلیل کر دیتا ہے
01:18لیکن حامد نہ مانا
01:20اور اس نے کہا کہ ہمارا فیصلہ قاضی صاحب کریں گے
01:23اور یہ کہہ کر وہ حارون کو لے کر
01:26عدالت کی طرف چل پڑا
01:27حارون نے راستے میں اپنے بھائی زاہد کو بھی بلالیا
01:30کہ وہ بھی اس کے ساتھ چلے
01:32اور اس کی مدد کرے
01:34زاہد ایک سمجھدار اور اقل مند آدمی تھا
01:37وہ جانتا تھا کہ حامد بہت ہی لالچی آدمی ہے
01:40یہ تینوں قاضی کے پاس عدالت پہنچ گئے
01:43حامد نے قاضی سے کہا
01:44کہ جناب والا اس شخص
01:46یعنی حارون نے میری بیکری کی چیزوں کی خوشبو کو سنگا ہے
01:50اور اب یہ اس کے پیسے نہیں دے رہا
01:52آپ انصاف کریں اور مجھے میرا حق اس سے دلوائیں
01:56زاہد حامد کی بات سن رہا تھا
01:58وہ آگے بڑھا اور قاضی صاحب سے کہا
02:00کہ اگر اجازت ہو تو میں اس کا بدلہ آدھا کر دوں
02:03قاضی صاحب نے اجازت دے دی
02:05زاہد نے جیب سے سکوں سے بھری ہوئی تھیلی نکالی
02:09اور حامد کے کان کے پاس تھیلی کو ہلایا
02:12جس سے سکوں کی چنچن کی آواز آئی
02:15زاہد نے حامد سے کہا
02:17کیا تمہیں سکوں کی آواز سنائی دی
02:19حامد نے کہا کہ ہاں
02:21زاہد نے کہا کہ یہی آواز سننا
02:23اس خوشبو کی قیمت ہے جو حارون نے سنگی
02:26قاضی صاحب زاہد کی اقل مندی سے بہت خوش ہوئے
02:29اور حارون کو آزاد کر دیا
02:30اور پورے شہر میں منادی کروا دی
02:33کہ حامد ایک لالچی آدمی ہے
02:35اب جو لوگ پہلے حامد سے ملنا پسند کرتے تھے
02:38اس کے لالچ اور غریبوں پر
02:40ظلم کرنے کی وجہ سے
02:41اس سے نفرت کرنے لگے
Comments
Qadir Kalhoro
Creator
Motivational Urdu Story