00:00جاؤں میں خدابخش کا ایک چھوٹا سا پیارا سا مکان تھا
00:03وہ کھیتی باڑی کرتا تھا
00:05اس کا ایک باغ بھی تھا
00:06باغ کے آخری کونے میں ایک بہت گہرا کون تھا
00:10بیچارا کسان پانی اوپر کھینجتا
00:12اور پھر اس کو باغ کے پودوں میں ڈالتا تھا
00:15ایک سال بالکل بارش نہیں ہوئی
00:16دھوپ بہت تیز تھی
00:18کسان نے اپنے باغ کی طرف دیکھا
00:20اور کہا کہ اگر پانی نہ ملا
00:22تو میرے پودے سوک جائیں گے
00:24مجھے ان کو پانی ضرور دینا چاہیے
00:26لیکن پانی تو اب بہت نیچے چلا گیا ہے
00:28میں بہت بڑھا ہو گیا ہوں
00:30اور بھاری بھی
00:31بہت محنت کا کام ہے
00:33مجھے کیا کرنا چاہیے
00:34یہ سوچتا ہوا وہ سڑک کے کنارے
00:36بنی ہوئی دیوار تک آ گیا
00:38وہ تھک کر ایک پیڑ کے نیچے بیٹھائی تھا
00:41کہ اسے ہلکی سی آواز آئی
00:43کوئی اس کا نام لے رہا تھا
00:44کسان چوکس ہو گیا
00:46اور وہ غور سے ان کی باتیں سننے لگا
00:48وہ دونوں باخ کی دیوار سے لگ کر بیٹھے تھے
00:51انہوں نے کسان کو نہیں دیکھا تھا
00:53ایک آدمی نے کہا
00:54کہ خدا بکش اور اس کی بیوی
00:56ٹھیک نو بجے سونے چلے جاتے ہیں
00:58ہمیں کمز کم دو گھنٹے اور رکنا چاہیے
01:01پھر گیارہ بجے ہم دیوار میں
01:03ایک بڑا سوراخ بنا لیں گے
01:04اس سوراخ سے میرا چھوٹا بیٹا اندر جائے گا
01:07اور کنڈھی کھول دے گا
01:09اس کے ساتھی نے پوچھا
01:10کہ کیا خدا بکش کے پاس بہت سارا پیسہ ہے
01:12ہاں کیوں نہیں
01:14دوسرے آدمی نے بتایا
01:15اس کے پاس بہت سونا اور زیورات ہے
01:18جو اس نے اپنے گھر میں
01:19ایک بڑے باکس میں رکھے ہوئے ہیں
01:21وہ بہت مالدار آدمی ہے
01:22اہو یہ تو بہت زبردست بات تم نے بتائی
01:25پہلے نے خوش ہو کر کہا
01:27خدا بکش ان کی باتیں سن کر گھر چلا گیا
01:30اس نے اپنی بیوی سے کہا
01:31کہ آج رات ہم ٹھیک نو بجے کھانا کھائیں گے
01:34اس نے اپنا سارا روپیہ سونا اور زیورات اکٹھے کیے
01:38اور انہیں اپنے پلنگ کے نیچے چھپا دیا
01:41پھر وہ چھوٹے بڑے کچھ پتھر گھر میں لیا
01:43اور بیٹھ کر انتظار کرنے لگا
01:45ٹھیک نو بجے اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا
01:48اس نے دونوں چوروں کو درختوں کے پیچھے چھپے ہوئے دیکھ لیا تھا
01:52اس نے بیوی سے کہا
01:53کہ کیا کھانا تیار ہے
01:55کھانا کھلاو
01:55پھر وہ کھانے کے لیے بیٹھ گیا
01:57پہلے چور نے کہا کہ رات کے نو تو بج چکے ہیں
02:00مگر خدا بخش تو ابھی تک جاگ رہا ہے
02:03ہمیں ذرا پاس جا کر دیکھنا چاہیے
02:05کہ وہ کیا کر رہا ہے
02:06چور گھر کے کچھ اور قریب آ گئے
02:09ایک چور نے کھڑکی سے گھر کے اندر جھانکا
02:11اور بولا وہ تو روٹی کھا رہا ہے
02:13خدا بخش نے چور کی آٹھ سن لی
02:16تو وہ زور زور سے بیوی سے باتیں کرنے لگا
02:18وہ بولا
02:19میں نے سنا ہے کہ آج کل بہت چوریاں ہو رہی ہیں
02:22اس علاقے میں بھی کچھ چور آ گئے ہیں
02:24انہوں نے میرے دوست علی جان کا سارا سونا اور مال چورا لیا ہے
02:28اس کی بیوی ڈر گئی
02:30کہنے لگی
02:30ارے پھر تو وہ ہمارے گھر بھی آ سکتے ہیں
02:33خدا بخش بولا
02:34ہاں وہ آ سکتے ہیں
02:36ہمیں اپنا سونا اور زیورات کسی ایسی جگہ چھپا دینے چاہیے
02:40جہاں سے کوئی انہیں ڈھونڈ نہ سکے
02:42ذرا میرا باکس تو لانا
02:43بیوی باکس لے آئی
02:45خدا بخش نے چپکے سے بیوی کو پتھر پکڑائے
02:48اور اس کے کان میں بولا
02:49کہ یہ ہمارا سونا اور مال ہے
02:51پھر زور سے بولا
02:52پہلے مجھے سونے کی اینٹیں اٹھا کر دو
02:55تاکہ میں انہیں باکس میں رکھ دوں
02:57اس نے کچھ پتھر اٹھا کر دیئے
02:59ان کی پیٹھ کھڑکی کی طرف تھی
03:01خدا بخش نے انتہائی صفائی اور چالاکی سے
03:03انہیں باکس میں رکھا
03:05کہ چور سمجھ نہیں سکے
03:06خدا بخش نے قہقہ لگایا
03:08اور بولا
03:15وہ اور پتھر لے آئی
03:17اب میں یہ بخش بند کر رہا ہوں
03:18اب ذرا اسے اٹھانے میں میری مدد کرو
03:21خدا بخش اور اس کی بیوی نے بخش اٹھایا
03:23اور باہر نکل کر باغ کے کوئے میں پھینک دیا
03:26چھپاک کی آواز آئی
03:28اور بخش کوئے کی تہہ میں جا بیٹھا
03:31پھر وہ گھر کے اندر چلے گئے
03:32لائٹ بجھائی اور انتظار کرنے لگے
03:35پہلا چور بولا
03:36انہوں نے اپنا سونا اور مال کوئے میں ڈال دیا ہے
03:39اب وہ سونے چلے گئے ہیں
03:45کھڑکی سے باہر جھانکا تو دیکھا
03:46کہ چور کوئے کے پاس کھڑے تھے
03:49پہلا چور بولا ہمیں کوئے کا پانی نکالنا چاہیے
03:52ویسے بھی سوکھے کا موسم ہے
03:54زیادہ پانی نہیں ہوگا
03:55جب پانی کم ہو جائے گا
03:56تو میں کوئے کے اندر اتروں گا
03:59اور بخش نکال لوں گا
04:00انہوں نے کوئے سے پانی نکالنا شروع کر دیا
04:02اور ایک چور پانی اوپر کھینچتا
04:05اور دوسرا اسے باغ کی نالی میں ڈال دیتا
04:07کوئے میں بہت سارا پانی تھا
04:09وہ دونوں پوری رات پانی نکالتے رہے
04:12یہاں تک کہ صبح ہو گئی
04:13مگر وہ ابھی تک لگے ہوئے تھے
04:15کسان نے کھڑکی کھولی اور چلایا
04:17بہت بہت شکریہ میرے دوستو
04:19تم نے میرے باغ کو پانی دے دیا
04:22کوئے والا بکس پتھروں سے بھرا ہوا ہے
04:24پولیس والے بھی آ رہے ہوں گے
04:26وہ سڑک تک پہنچ گئے ہیں
04:27اللہ حافظ یارو
04:29تمہارا ایک بار پھر سے شکریہ
04:31دوستو عقل مندی اور سمجھداری سے
04:33بڑے سے بڑی مشکل کا بھی حل
04:35نکالا جا سکتا ہے
04:36خدا بخشنے گھبرانے یا لڑنے کے بجائے
04:39اپنی حاضر دماغی سے کام لیا
04:41اس نے نہ صرف اپنے مال کی حفاظت کی
04:43بلکہ مفت میں چوروں سے
04:44اپنے پورے باغ کو پانی بھی لگوا لیا
04:47سچ ہے کہ جہاں طاقت کام نہیں آتی
04:49وہاں عقل کام کرتی ہے
04:52اس لیے ہمیں ہمیشہ
04:53عقل سے کام لینی چاہیے
Comments