Skip to playerSkip to main content
  • 5 hours ago
Urdu Motivational Story - Borhy Baap Per 9 Lakh Ka Qarz

Category

📚
Learning
Transcript
00:00دوستو یہ مصر کا ایک دل کو چھو لینے والا سچا واقعہ ہے
00:04حاجی حسن کے تین بیٹے تھے
00:05تینوں کو انہوں نے بہت اچھی تعلیم دلائی
00:08اور بہترین طریقے سے پالا پوسا
00:10جب باپ خود بوڑا ہوا
00:11تو تینوں بیٹے الگ الگ اپنے گھروں میں آرام سے بس چکے تھے
00:15ایک مرتبہ حاجی حسن بیمار پڑ گئے
00:18جب وہ اسپتال سے گھر واپس آئے
00:20تو ان کے چہرے پر عجیب سی تھکن اور اداسی تھی
00:23وہ خاموشی سے اندر آئے
00:25کچھ دیر رکے اور کچھ سوچا
00:27پھر جیب سے ایک تہہ کیا ہوا کاغذ نکال کر میز پر رکھ دیا
00:32انہوں نے ایک لفظ بھی نہیں بولا
00:34تینوں بیٹے ایک دوسرے کا مو دیکھنے لگے
00:37جب کاغذ کھول کر پڑھا گیا
00:39تو سب کی سانس رکھ سی گئی
00:41وہ ایک امانت نامہ تھا
00:43جس کے مطابق نو لاکھ مصری کرنسی کا بھاری قرص والد کے نام پر تھا
00:48اور اسے فوراں ادا کرنا لازمی تھا
00:50کمرے میں ایسی خاموشی چھا گئی جس میں صرف ڈر محسوس ہو رہا تھا
00:55سب سے پہلے بڑے بیٹے خالد نے گلہ صاف کیا
00:59نظر نیچی کر کے بولا
01:01آپ جانتے ہیں بچوں کی سکول فیس اور مہنگی یونیورسٹیاں
01:06میری تو کمر ٹوٹ چکی ہے
01:08میرے پاس ایک روپیہ بھی فال تو نہیں ہے
01:10درمیانے بیٹے سعید نے
01:12جس نے حال ہی میں الیکٹرونکس کی دکان کھولی تھی
01:15ذرا تیزی سے کہا
01:16میں تو خود تاجروں کے قرضے تلے دبا ہوا ہوں
01:19سارا مال ادھار کا ہے
01:21میرے پاس کوئی نقد رقم نہیں ہے
01:23سب سے چھوٹا بیٹا یوسف تھا
01:26اس کا کہنا ہے کہ میری شادی کو ابھی چند ہی مہینے ہوئے تھے
01:29فلیٹ کی قسطیں اور گھر کی مرمت کا خرچ
01:32سب کچھ باقی تھا
01:34لیکن جب میں نے والد کی طرف دیکھا
01:36ان کے صفیت بال جھکے ہوئے کندھے
01:39اور آنکھوں میں چھپی ہوئی تھکن دیکھی
01:41تو میرے گلے میں جیسے کچھ پھنس گیا
01:46میرے دل نے نا کہنے سے صاف انکار کر دیا
01:49میں نے وہ کاغذ اٹھایا قلم پکڑا
01:52اور والد کی جگہ خود زمانت کے طور پر دستخط کر دیئے
01:56اور والد صاحب سے کہا کہ آپ بے فکر رہیں
01:59یہ رقم میں ادا کر دوں گا
02:01پھر میں والد کو اپنے چھوٹے سے فلیٹ میں لے آیا
02:04تاکہ خود ان کی خدمت کر سکوں
02:06ایک سال گزر گیا
02:08اللہ گواہ ہے کہ وہ میری زندگی کا سب سے مشکل سال تھا
02:12دن کو نوکری کرتا اور رات کو آن لائن ٹیکسی چلا تھا
02:16کبھی کبھی رات کے کھانے میں صرف روٹی اور پنیر
02:19یا دال کا ایک پیالہ ہوتا تھا
02:21میری بیوی اللہ اسے سلامت رکھے
02:24میرا سہارا بن گئی
02:25وہ نئے کپڑوں کی خواہش سے دستبردار ہو گئی
02:28یہاں تک کہ اس نے اپنی سونے کی چوڑیاں بھی بیچتیں
02:32تاکہ گھر کا خرچ چل سکے
02:34لیکن ان سب تکلیفوں کے بدلے
02:37میرے لیے سب سے بڑا سکون والد کے چہرے کا اتمنان
02:40اور ان کی مسکراہت تھی
02:42اللہ تعالی نے اس دوران مجھے ایک خوبصورت بیٹا بھی دیا
02:46جو والد صاحب کے لیے بھی خوشی کا ذریعہ بن گیا
02:49پھر اسی تاریخ کو ٹھیک ایک سال کے بعد
02:52والد نے مجھے اپنے کمرے میں بولایا
02:54انہوں نے دراز کھولی
02:56ایک تہہ کیا ہوا کاغذ نکالا
02:58اور پیار سے میرے سامنے رکھ دیا
03:00بولے
03:01یوسف اسے پڑھو
03:03میں نے کاغذ کھولا
03:04تو جیسے میں وہیں پتھر کا بن گیا
03:07میرا حلق خوشک ہو گیا
03:10اور آنکھوں کو اپنی نظر پر یقین نہیں آیا
03:12وہ کاغذ نہ تو کوئی قرص نامہ تھا
03:16اور نہ ہی کوئی شکریہ کا خط
03:18وہ ایک وسیعت تھی
03:19اس وسیعت میں صاف لکھا تھا
03:22کہ شہر کے بیچ میں واقعے تین منزلہ مکان
03:25اور سب سے مہنگے علاقے میں واقعے تین سو گز کی زمین
03:29ان دونوں کی مکمل ملکیت صرف اور صرف میرے نام کر دی گئی ہے
03:33میں حیرت سے والد کی طرف دیکھنے ہی والا تھا
03:36کہ انہوں نے مسکرا کر آہستہ سے کہا
03:39یوسف میں نے پوری زندگی صرف یہ جاننا چاہا تھا
03:43کہ مشکل وقت میں واقعی کون میرا ساتھ دے گا
03:47ان کی آنکھوں میں آنسوں تھے اور آواز کانپ رہی تھی
03:50اسی وقت دروازے پر قدموں کی آواز آئی
03:53میرے دونوں بڑے بھائی خالد اور سعید کمرے میں آ گئے
03:57پتا چلا کہ والد صاحب نے انہیں فون کر کے بھلایا تھا
04:00ان کی نظریں میرے ہاتھ میں موجود وسیعت پر جم گئیں
04:04ان کے چہروں کا رنگ اڑ گیا
04:06وہی لوگ جو ایک سال پہلے بے پروائی دکھا رہے تھے
04:10اب ان کے چہروں پر پچتاوے اور صدمے کے نشان تھے
04:14بڑے بھائی نے بھاری آواز میں کہا
04:16ابا ابا آپ نے ایسا کیوں کیا
04:19ہم بھی تو آپ کے بیٹے ہیں
04:21والد نے آہستہ سے سر اٹھایا
04:23اور اس بار ان کی آواز دھیمی مگر مضبوط تھی
04:27کہنے لگے میں جانتا ہوں
04:29کہ ہر انسان اپنی مشکلوں میں گھرا ہوتا ہے
04:32لیکن جب مجھے واقعی سہارے کی ضرورت تھی
04:34تو تم میں سے کسی نے حمت نہیں دکھائی
04:37صرف تمہارے چھوٹے بھائی نے یہ بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا
04:41یہ گھر اور یہ زمین اسی قربانی کا بدلہ ہے
04:45درمیانے بھائی نے کچھ کہنا چاہا
04:47مگر الفاظ اس کے حلق میں اٹک گئے
04:50دونوں بھائی خاموشی سے مڑے
04:52اور آہستہ باہر چلے گئے
04:54ایسا لگتا تھا جیسے ان کے قدم شرمندگی کے بوجھ سے دب گئے ہوں
04:59میں وہیں بیٹھا رہا
05:01میرے ہاتھ کام پر رہے تھے جب میں نے وہ وسیعت تھامی ہوئی تھی
05:04والد نے بڑے پیار سے میرا کندھا تھپ تھپایا اور کہا
05:08بیٹا اب تمہیں وہ قرض ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں
05:11وہ رقم تو میں بہت پہلے دے چکا تھا
05:14یہ سب بس صرف ایک امتحان تھا
05:17اب مجھے سمجھ آ گیا ہے
05:18کہ وہ ایک سال صرف قرض اتارنے کا وقت نہیں تھا
05:22بلکہ ایک آزمائش تھی
05:24یہ جاننے کی آزمائش
05:25کہ کون واقعی خون کے رشتے کی قدر کرتا ہے
05:28اگلے دن وسیعت کی خبر پورے خاندان میں پھیل گئی
05:32کچھ نے والد کو عقل مند کہا
05:34کچھ نے سخت اور نائنصاف
05:36لیکن میں نے ہمیشہ کی طرح والد کی خدمت جاری رکھی
05:40کیونکہ میں جانتا تھا
05:41کہ مجھے جو سب سے قیمتی وراست ملی
05:44وہ نہ مکان تھا
05:46نہ زمین
05:47بلکہ میرے والد کا پورا بھروسہ تھا
05:50دوستو آپ بتائیے
05:52کیا ان بزرگوں نے یہ ٹھیک کیا یا نہیں
05:55کمنٹس میں ضرور بتائیے کا
05:56اور ویڈیو اپنے دوستوں کو ضرور شیئر کریں
Comments
Qadir Kalhoro
Creator
Urdu Motivational Story