00:00رات کا وقت تھا اور شهر کا ایک مشہور ہوتل لوگوں سے بھرا ہوا تھا
00:03میں اپنی میز پر بیٹھا کھانے کا انتظار کر رہا تھا
00:07کہ میری نظر برابر والی میز پر پڑی
00:09جہاں ایک بوڑا میاں بیوی بیٹھے تھے
00:11ان کے چہرے بتاتے تھے کہ وہ بہت تھکے ہوئے اور غریب بھی ہیں
00:15وہ مینیو کارڈ دیکھ رہے تھے لیکن ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے
00:19بوڑی عورت نے دھیرے سے کہا
00:21میرا دل کہہ رہا ہے کہ آج ہم مٹن کڑھائی کھائیں
00:24بوڑے آدمی نے اپنی جیب سے ایک پرانا بٹوا نکالا
00:28اسے کھولا اور بڑی اداسی سے بولا
00:30بیگم میرے پاس پورے مہینے کے لیے صرف دو ہزار روپے ہیں
00:34اگر آج کڑھائی کھا لی تو پورا مہینہ کیسے گزرے گا
00:38ایسا کرتے ہیں آج دال روٹی کھا لیتے ہیں
00:41کڑھائی پھر کبھی سہی
00:43وہ منظر اتنا اداس تھا کہ میرا دل بھر آیا
00:46اسی وقت ایک خوش شکل اور اچھے کپڑوں والا نوجوان ہوتل میں داخل ہوا
00:51وہ ہاتھ دھونے کے لیے بیسن کی طرف گیا
00:54اور شاید اس نے ان بزرگوں کی باتیں سن لی
00:57اچانک اس نوجوان کے فون کی گھنٹی بجی
01:00اس نے فون اٹھایا اور اتنی اونچی آواز میں بات کرنے لگا
01:04کہ پورا ہوتل اسے سننے لگا
01:06وہ خوشی سے اچھل رہا تھا
01:08فون بند کرتے ہی وہ سب کی طرف مڑا اور زور سے چلایا
01:12خواتین و حضرات آج میں بہت خوش ہوں
01:15اللہ نے مجھے بیٹے کی نعمت سے نوازا ہے
01:18اس خوشی میں آج اس ہوتل میں موجود ہر شخص کو
01:21میری طرف سے مٹن کڑھائی کھلائی جائے گی
01:24اور سب کا بل میں ادا کروں گا
01:26پورے ہوتل میں شور مچ گیا
01:28لوگ اسے مبارک بات دینے لگے
01:30اس نے ان بزرگوں کی میز پر بھی کڑھائی بھیجوائی
01:33وہ بڑھا جو پہلے پریشان تھا
01:36اب سکون سے اپنی بیگم کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا
01:39وہ نوجان سب کا بل دے کر مسکراتا ہوا
01:42وہاں سے چلا گیا
01:43کچھ دن گزرے
01:44میں ایک سرکاری دفتر میں
01:46اپنے کسی کام سے گیا ہوا تھا
01:48میں نے دیکھا کہ وہی نوجان
01:50وہاں ایک بچے کے ساتھ لائن میں لگا ہوا ہے
01:53میں اس کے پاس گیا
01:54اور مسکراتا کہا
01:56ماشاءاللہ بھائی
01:57آپ کا بیٹا تو کچھ ہی دنوں میں
01:59اتنا بڑا ہو گیا
01:59وہ نوجان پہلے تو جھمپ گیا
02:06بھائی سچ تو یہ ہے
02:08کہ وہ میرا بیٹا نہیں ہے
02:10وہ میرے پڑوسی کا بچہ ہے
02:12میں حیران رہ گیا
02:13کہا
02:14تو اس دن ہوتل میں وہ
02:15ڈراما کیوں کیا تھا
02:17اس نے ایک گہری سانس لی اور بولا
02:19اس دن بیسن پر ہاتھ دھوتے وقت
02:22میں نے ان بوڑے میان بیوی کی باتیں سن لی تھی
02:24وہ کڑھائی کھانا چاہتے تھے
02:26لیکن ان کے پاس پیسے نہیں تھے
02:28میں انہیں برائے راست پیسے دے کر
02:30ان کی غیرت کو
02:32ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتا تھا
02:33مجھے ڈر تھا
02:35کہ وہ میری ہمدردی کو اپنی توہین نہ سمجھیں
02:37اس لیے میں نے وہ جھوٹ بولا
02:39تاکہ ایک جشن کے بہانے
02:41میں ان کا بل دے سکوں
02:43اور انہیں یہ احساس بھی نہ ہو
02:45کہ کسی نے ان پر احسان کیا ہے
02:47میری تو آنکھوں میں آنسوں آ گئے
02:49میں نے سوچا
02:50کہ ہم لوگ کتنے جھوٹے ہیں
02:52جو احسان کر کے جتاتے ہیں
02:54اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں
02:56جو نیکی کرنے کے لیے جھوٹ کا سہار آ لیتے ہیں
02:59تاکہ دوسرے کی عزت نفس محفوظ رہے
03:02واقعی نیکی وہ ہے
03:04جو دوسروں کے دل کو دکھائے بغیر کی جائے
03:07دوستو آپ کیا کہتے ہیں
03:09کمنٹس میں ضرور بتائیے گا
03:11ویڈیو پسند آئی ہو تو شیئر بھی ضرور کر دیں
Comments