Skip to playerSkip to main content
  • 14 hours ago
Urdu Motivational Story

Category

📚
Learning
Transcript
00:00دانش دانش بیٹا کیا کر رہے ہو یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے
00:04دادا ابو نے ذرا سخت آواز میں پوچھا
00:06دادا ابو یہ چیزیں خراب ہو گئی ہیں
00:09اس لئے میں انہیں کچرے کے دبے میں پھیکنے جا رہا ہوں
00:12دانش نے جواب دیا
00:13دکھاؤ ذرا
00:14دادا ابو نے کہا
00:16دانش نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھیلی دادا ابو کو دے دی
00:19جس میں بریانی اور سلیڈ وغیرہ تھی
00:21دادا ابو نے اسے سنگ کر کہا
00:23یہ تو خراب نہیں ہوئی
00:24تم اسے بعد میں کھانے کے لئے فریج میں رکھ دیتے
00:26حیرت ہے بیٹا کہ تمہارے نزدیک رزق کی کوئی قدر ہی نہیں ہے
00:30دادا ابو میرا مزید کھانے کا دل نہیں تھا اسے
00:34دانش نے اپنی صفائی پیش کی
00:35نہیں بیٹا
00:36بات اصل میں یہ ہے کہ جب تم پیدا ہوئے
00:39تو تمہیں زندگی کی ہر سہولت ملی ہوئی تھی
00:41تمہیں یہ نہیں پتا کہ یہ سب کتنی محنت سے حاصل ہوتا ہے
00:45یہ کھانا جو بہترین ہے
00:46اس کی تمہاری نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے
00:48خیر اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں
00:50اچھا اب تم میرے ساتھ آؤ
00:52دانش ساتھوی جماعت میں پڑتا تھا
00:54وہ ایک امیر خاندان کا بچہ تھا
00:56اکلوتا ہونے کی وجہ سے اس کے ماں باپ اور دادا
00:59اسے بہت زیادہ پیار کرتے تھے
01:00وہ سکول بھی اپنی گاڑی میں جاتا تھا
01:02گاڑی اب کچھے پک کے راستوں پر چل رہی تھی
01:05دور دور تک آبادی کا کوئی نام و نشان نہیں تھا
01:08اب انہیں کچھ خیمیں نظر آئے
01:09اور پھر آہستہ آہستہ وہ خیموں کے پاس پہنچ گئے
01:12دادا ابو نیچے اترے
01:14دانش بھی ان کے پیچھے اتر گیا
01:16بہت سی عورتیں بچے اور بوڑے
01:18کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے تھے
01:20ایسا لگ رہا تھا جیسے انہیں تیز گرمی کا کوئی احساس ہی نہیں ہے
01:23ایک عورت بھاگتی ہوئی ان کے پاس آئی اور بولی
01:26صاحب میرا بچہ دودھ پیتا ہے
01:28اور دودھ کا ڈبا اور بہت سی چیزیں ختم ہو گئی ہیں
01:30جب وہ چلی گئی تو ایک بوڑا آدمی ان کے قریب آیا
01:33اس نے کہا
01:34صاحب یہ بچاری پاگل ہو گئی ہے
01:36اس کا بیٹا بھوک کی وجہ سے مر گیا ہے
01:38اور اس کا شوہر بھی
01:40میں اس کا باپ ہوں
01:41دیکھو بیٹا
01:42تم نے ابھی زندگی کا ایک روپ دیکھا ہے
01:44دوسرا نہیں
01:45یہاں تمہیں ایسے لوگ بھی ملیں گے
01:47جنہوں نے کئی دنوں سے کچھ نہیں کھایا
01:49تمہارے برابر کے دوست
01:50دن بھر میں اپنے والدین سے نا جانے کتنا جیب خرچ لیتے ہیں
01:53اگر اس میں سے کچھ حصہ ان کو دے دیں
01:55تو یہ ایک وقت کا کھانا کھا لیں
01:57دادا ابو کی یہ باتیں سن کر دانش کو بہت دکھ ہوا
02:00دوسرے دن دانش دادا ابو کے کمرے میں آیا اور کہا
02:04دادا جان آج پھر اسی جگہ چلیں
02:06میں نے بہت سی چیزیں
02:07ایک کمبل
02:08کافی کپڑے
02:09اور کچھ کھانے پینے کا سامان اکٹھا کیا ہے
02:11تاکہ ان لوگوں کی مدد کر سکوں
02:13واہ میرے بیٹے
02:14تم نے میرا دل خوش کر دیا
02:15دادا ابو بولے اور وہ دونوں دوبارہ وہاں روانہ ہو گئے
Comments
Qadir Kalhoro
Creator
Urdu Motivational Story