Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Asal Maazoori Kon SI Hai

Category

📚
Learning
Transcript
00:00دوکٹر نے الٹرا ساؤنڈ کرنے کے بعد زویا کے شوہر احد کو اکیلے کمرے میں بلائیا دروازہ دھیرے سے بند
00:06کر دیا تھوڑی دیر خاموشی رہی پھر دوکٹر نے حلقی آواز میں کچھ بتایا احد کے چہرے کا رنگ فوراً
00:12بدل گیا آنکھوں میں پہلے حیرانی آئی پھر غصہ اور آخر میں ایک عجیب سا ڈر بیٹھ گیا
00:18بارہ سال کی لمبی شادی کے بعد وہ دونوں پہلی بار والدین بننے کی خوشی سننے آئے تھے زویا کی
00:25آنکھوں میں بہت سے خواب تھے اور زبان پر اللہ کا شکر مگر جب احد کمرے سے باہر آئے تو
00:31ان کا چہرہ اترا ہوا تھا
00:32زویا نے مسکراتے ہوئے پوچھا کیا ہوا سب ٹھیک ہے نا احد نے روکھے لہجے میں کہا گھر چل کر
00:39بات کرتے ہیں پورے راستے خاموشی رہی زویا کا دل کسی انجان خوف سے تیزی سے دھڑک رہا تھا
00:45گھر پہنچتے ہی احد نے دراز سے کچھ کاغذ نکالے اور میز پر رکھ دیے وہ طلاق کے کاغذات تھے
00:52زویا کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی یہ کیا ہے احد
00:56احد چلا کر بولا ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ تمہارے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ نارمل نہیں ہے اس
01:02میں بہت بڑا نقص ہے وہ کبھی عام بچوں کی طرح زندگی نہیں گزار سکے گا
01:06اور میں اپنی ساری زندگی کسی معذور بچے کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوں
01:12زویا جیسے سن ہو گئی مگر پھر آہستہ سے بولی لیکن وہ ہمارا اپنا بچہ ہے احد
01:18بارہ سال بعد اللہ نے ہمیں یہ تحفہ دیا ہے کیا صرف الگ ہونے کی وجہ سے ہم اسے چھوڑ
01:25دیں
01:25احد نے کڑے لہجے میں کہا میں نے فیصلہ کر لیا ہے یا تو اس بچے کو ختم کرو یا
01:30مجھے چھوڑ دو
01:31زویا کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے مگر اس کی آواز میں ایک مضبوط ہی تھی
01:36کہنے لگی میں اپنی اولاد کو نہیں مار سکتی اگر تم جانا چاہتے ہو تو چلے جاؤ
01:41کچھ دن بعد احد گھر چھوڑ کر چلے گئے رشتے دار اسے سمجھاتے رہے کہ ایسی زندگی
01:47گزارنا بہت مشکل ہوگا اکیلی عورت اوپر سے ایسا بچہ مگر زویا کے دل میں ایک
01:53حمد جاگ چکی تھی اس نے راتوں کو جا کر اپنے رب سے دعا مانگنی شروع کر دی
01:58کہ یا اللہ اگر یہ میرا امتحان ہے تو مجھے حمد دے وقت گزرتا گیا اور زویا
02:04نے ایک بیٹے کو جنم دیا ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچے کے دل میں پیدائشی مسائلہ
02:10ہے اور اس کے بڑھنے کا طریقہ بھی عام بچوں سے الگ ہوگا زویا نے بچے کو
02:14گلے لگایا اور اس کا نام حسن رکھا زندگی بالکل آسان نہ تھی اسپتالوں کے
02:20چکر مہنگی دوائیاں اکیلا پن اور مشکلیں مگر زویا نے ہار نہیں
02:25مانی وہ کپڑے سی تھی بچوں کو گھر پر پڑھاتی اور دیر رات تک کام کرتی
02:30لیکن حسن کی ایک مسکرات اس کی ساری تھکن دور کر دیتی حسن واقعی سب سے
02:36الگ تھا وہ دیر سے بولتا اور آہستہ چلتا تھا مگر اس کے دل میں پیار بہت
02:41زیادہ تھا کسی کو روتا دیکھتا تو چپکے سے اس کا ہاتھ پکڑ لیتا پھر ایک دن
02:46محلے میں خاص بچوں کے لیے ایک سکول کھلا اور زویا نے حسن کو وہاں
02:51داخل کروا دیا شروع میں لوگ ترس کھاتے اور کچھ باتیں بھی بناتے مگر
02:56حسن کی معصومیت سب کا دل جیت لیتی وقت گزرتا گیا حسن نے تصویریں
03:01بنانا شروع کی اور اس کے رنگ جیسے اس کے دل کی باتیں کرتے تھے
03:06اساتذہ نے کہا کہ اس بچے میں تصویر بنانے کا زبردست ٹیلنٹ ہے پھر شہر میں
03:11خاص بچوں کی تصویروں کی نمائش ہوئی حسن کی ایک تصویر سب کی توجہ
03:16کا مرکز بن گئی اس تصویر میں ایک ماں اپنے بیٹے کو سینے سے لگائے
03:21کھڑی تھی اور آسمان سے روشنی برس رہی تھی تصویر کا نام تھا ماں میرا
03:27سایا ہے اسی پروگرام میں احد بھی موجود تھا جو اب ایک بڑے بزنس
03:32من بن چکے تھے جیسے ہی ان کی نظر اس تصویر پر پڑی وہ وہیں رک گئے
03:37نیچے لکھا تھا فنکار حسن زویا احد کے ہاتھ کامپنے لگے اسی
03:42وقت اسٹیج پر اعلان ہوا اس سال کا پہلا انام حسن کو ملتا ہے
03:47زویا اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر اسٹیج پر آئی وہ پہلے سے کہیں
03:51زیادہ ہمت والی اور پرسکون لگ رہی تھی حسن نے مائک پکڑا اور
03:56دھیمی آواز میں کہا میری امی نے کبھی مجھے بوجھ نہیں سمجھا انہوں نے
04:01ہمیشہ کہا کہ میں اللہ کا تحفہ ہوں اگر میری امی نہ ہوتی تو میں کچھ بھی
04:06نہ ہوتا پورا حال تالیوں سے گونج اٹھا احد کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے
04:12انہیں وہ دن یاد آ گیا جب انہوں نے صرف ڈر کی وجہ سے اپنے ہی بچے
04:17کو ٹھکرا دیا تھا پروگرام کے بعد وہ زویا کے پاس آئے کہنے لگے
04:21زویا مجھے معاف کر دو میں ڈر گیا تھا میں کمزور پڑ گیا تھا زویا نے آرام سے
04:28جواب دیا کہ معافی اللہ سے مانگو احد میں نے تو تمہیں اسی دن آزاد
04:33کر دیا تھا جس دن تم نے ہمیں اکیلا چھوڑا تھا حسن نے معصومیت سے
04:38پوچھا امی یہ کون ہے زویا نے نرمی سے کہا بیٹا یہ تمہارے اببو
04:43ہیں حسن مسکرائی اور احد کا ہاتھ پکڑ لیا کہنے لگا آپ کو میری بنائی
04:49ہوئی تصویر اچھی لگی احد پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے کہنے لگے بیٹا یہ دنیا
04:55کی سب سے پیاری تصویر ہے اس وقت احد کو احساس ہوا کہ اصل کمی
05:00بچے میں نہیں تھی بلکہ ان کی اپنی سوچ میں تھی اولاد جیسی بھی ہو وہ
05:05اللہ کی امانت ہوتی ہے اور ماں کی حمد ہر کمزوری کو طاقت میں بدل
05:11سکتی ہے
Comments