Skip to playerSkip to main content
Hazrat Adam (A.S.) se pehle duniya mein kya tha?” – yeh sawal na sirf roohani soch ka hissa hai, balkay science aur Islam ke darmiyan ek guftagu ka markazi nukta bhi hai. Noor TV ne is nazuk aur dilchasp mawzu par roshni dalte hue Qur’an, Ahadith aur tajziyaati tahqiqat ki roshni mein ek behtareen tafseel pesh ki hai.

Islam ke mutabiq, Hazrat Adam (A.S.) pehle insaan thay jo zameen par bheje gaye. Magar Qur’ani isharay aur mufassireen ke chand aqwaal yeh bhi suggest karte hain ke Adam se pehle Jinn, Farishte, aur kuch aur makhluqaat is kainaat mein mojood thi. Jin ka zikar Qur’an mein Hazrat Adam ke sajde ke waqt aata hai, jahan Iblees (jo khud Jin tha) ne sajda karne se inkar kiya.

Duniya ke chand scientist aur secular thinkers kehte hain ke insani tashkeel evolution ke zariye hui – lekin Islam is nazriye ko mukammal taur par reject karta hai. Islam ke mutabiq har makhlooq ka khalq Allah ne kiya hai – aur Hazrat Adam ka tajziyaat se nahi, direct creation se ta’alluq hai.

Is mawzu ka aik roohani pehlu bhi hai – ki duniya mein har cheez ka ek waqt, ek maqsad aur ek hukm se aamad hoti hai. Adam se pehle jo tha, uska ilm sirf Allah ke paas hai, lekin Quran humein yeh batata hai ke zameen pe fasaad, jang aur fitna** us waqt bhi mojood tha – jiska zikr Farishton ne Allah se poocha: “Kya aap usay (Adam ko) zameen ka khalifa banayenge jo fasaad karega?”

Yeh sawal sirf history nahi, balkeh aqeeda, ilm aur yaqeen ka hissa hai – jo insaan ko apni asal pehchaan aur Allah ki hikmat samajhne mein madad deta hai.

#WorldBeforeAdam #IslamAndEvolution #HazratAdam #NoorTV #IslamicHistory #AdamSePehleKyaTha #CreationMysteries #IslamAndScience #JinnBeforeAdam #IslamicViewOfCreation #BeforeAdam #SpiritualOrigins #IslamVsEvolution

Category

📚
Learning
Transcript
00:17ڈیسی مخلوقات زمین پر آباد تھی
00:30سنسنی خیز اور خفیہ داستان ہے
00:32وہ کہانی جو تخلیق انسان سے بھی پہلے کی ہے
00:35اور جس کے راز آج بھی وقت کی گرد میں چھپے ہوئے ہیں
00:39آج ہم آپ کو لے چلیں گے
00:41ایک ایسے سفر پر جہاں قدم قدم پر
00:43حیرت سنسنی اور راز آپ کا انتظار کر رہے ہیں
00:47یہ ہے حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے کی دنیا کا
00:49پردہ چاک کرنے والا سلسلہ
00:51بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:53السلام علیکم رحمت اللہ و برکاتہ
00:56ناظرین حضرت آدم علیہ السلام اور امہ حبہ علیہ السلام کی کہانی
00:59نہ صرف اسلامی تاریخ کا آغاز ہے
01:01بلکہ انسانیت کے پیدائش کا وہ باب ہے
01:04جس نے دنیا کی کائناتی داستان کو ایک نیا رخ دیا
01:07یہ قصہ ہمیشہ سے مسلمانوں کے دلوں میں
01:09محبت عقیدت اور حیرت کا باعث رہا ہے
01:12لیکن ایک سوال جو صدیوں سے ذہنوں میں گونج رہا ہے
01:15وہ یہ کہ آخر حضرت آدم علیہ السلام اور امہ حبہ علیہ السلام کے
01:19زمین پر آنے سے پہلے اس دنیا میں کیا تھا
01:22کیا یہ دنیا پہلے بھی کسی مخلوق سے آباد تھی
01:25زمین اور آسمان کی تخلیق کا محرحہ کیسے مکمل ہوا
01:28اور حضرت آدم علیہ السلام کو کب کیسے اور کہاں زمین پر اتارا گیا
01:32آج کی اس انتہائی اہم اور فکر انگیز ویڈیو میں
01:36ہم آپ کو ان تمام سوالات کے تفصیلی اور مدلل جوابات دیں گے
01:40ہم آپ کو بتائیں گے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے زمین پر کن مخلوقات کا قبضہ تھا
01:50آپ یہ بھی جانیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق مٹی سے کیوں فرمائی
01:54وہ خاص مٹی کہاں سے لی گئی
01:56اس کی کیسی خصوصیات تھی
01:58اور اس مٹی میں ایسی کیا بات تھی جو حضرت آدم علیہ السلام کو
02:01اشرف المخلوقات کا مقام دلوانے کا سبب بنی
02:04ہم یہ بھی بیان کریں گے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی زندگی کا آغاز کہاں اور کیسے کیا
02:10جنت سے زمین پر تشریف لاتے وقت آپ کے ساتھ کیا کچھ تھا
02:13آپ نے زمین پر اپنی اولاد کیلئے کیا پیغامات چھوڑے اور آپ کی وفات کب کہاں اور کس حال میں
02:19ہوئی
02:20اگر آپ ان تمام حصرار سے پردہ اٹھتا دیکھنا چاہتے ہیں
02:24تو اس ویڈیو کو آخر تک لازمی دیکھئے
02:26ہمارے ساتھ اس تاریخی روحانی اور سنسنی خیز سفر کا حصہ بنے
02:30جو آپ کو لے جائے گا انسانیت کی تدہ کے ان چھوپے ہوئے رازوں کی جانب
02:34جنہیں جان کر ایمان تازہ ہو جاتا ہے
02:37ناظرین سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے
02:39کہ مختلف آسمانی کتب موقعین اور سائنگ دانوں نے
02:42حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل
02:45زمین پر موجود مخلوقات کے حوالے سے مختلف آرہ اور نظریات پیش کیے ہیں
02:49ان کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کے زمین پر بھیجے جانے سے پہلے
02:53ابلیس کو جنت سے نکال کر زمین پر پھینک دیا گیا تھا
02:56جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا
02:59تو انہیں جنت میں رکھا گیا
03:00اور فرشتوں کو حکم ہوا
03:02کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں
03:04مگر ابلیس جو کہ جنات میں سے تھا
03:06اور آگ سے تخلیق کیا گیا تھا
03:08اس نے تکبر میں آ کر سجدہ کرنے سے انکار کر دیا
03:11اس نافرمانی کے نتیجے میں
03:13ابلیس کو جنت سے نکال دیا گیا
03:14اور وہ زمین پر آ کر جا گرا
03:16وہاں اس نے طبیل مدد گریہ وزاری کی
03:19اور پھر اللہ تعالیٰ سے قیامت تک محلت مانگی
03:21تاکہ وہ انسانوں کو گمراہ کر سکے
03:23اور اسے یہ محلت عطا کر دی گئی
03:25چونکہ ابلیس جنات میں سے تھا
03:27اور اس کی پیدائش آگ سے ہوئی تھی
03:28اس لئے کئی علماء اور محققین کا ماننا ہے
03:31کہ حضرت آدم علیہ السلام کیامت سے پہلے ہی
03:33زمین پر جنات موجود تھے
03:35یہ جنات زمین پر فساد برپا کرتے تھے
03:37اور روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے
03:39فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ زمین پر
03:41جا کر ان باغی جنات کے خلاف کاروائی کریں
03:43چنانچہ بہت سے جنات کو فنا کر دیا گیا
03:46اور جو بچ گئے وہ سمندروں اور ویران جزیروں میں
03:49چھپ کر رہنے لگے
03:49کچھ جدید سائندانوں کی رائے یہ بھی ہے
03:52کہ حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے زمین پر
03:54ڈائنسور جیسی مخلوقات آباد تھیں
03:56جن کی باقیات آج بھی زمین میں دریافت ہوتی ہیں
03:59ان کے مطابق زمین پر زندگی کا ایک طویل سچلہ تھا
04:02جو مختلف ارتقائی مراحل سے گزرتا رہا
04:04اور آدم علیہ السلام کا ظہور
04:06ان مراحل کے بعد ہوا
04:08بعض محققین کا خیال ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے قبل
04:11زمین پر انسانوں سے مشابہ مخلوقات آباد تھیں
04:13بعض خندرات قدیم دھانچوں
04:15اور آثار قدیمہ سے اشارہ ملتا ہے
04:17کہ زمین پر ایسے انسان نمہ جاندار موجود تھے
04:21جو یا تو وقت کے ساتھ ختم ہو گئے
04:22یا کسی خدای فیصلے کے تحت مٹا دئیے گئے
04:25یہاں تک کچھ نظریات ایسے بھی سامنے آئے ہیں
04:27جن کے مطابق زمین ایک زمانے میں
04:29خلائی مخلوقات یا بیرونی دنیاوں سے
04:31آنے والی مخلوقات کی تجربہ گا تھی
04:33ان کا ماننا ہے کہ انسانی تخلیق کا راز
04:36کائنات کی سطح پر جڑا ہوا ہے
04:37قرآن مجید کی سورہ ہوت کی آیت ساتھ میں ارشاد ہوتا ہے
04:41اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو
04:44چھے دنوں میں پیدا کیا
04:45اور اس کا عرش پانی پر تھا
04:47تاکہ تمہیں آزمائے
04:48کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرتا ہے
04:50اس آیت کے مطابق تخلیق کی ابتدائی مراحل میں
04:53زمین پر صرف پانی موجود تھا
04:55اور کسی مخلوق کا ذکر نہیں کیا گیا
04:57صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم نے
04:59جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا
05:03کہ آسمان اور زمین کی تخلیق سے پہلے کیا تھا
05:05تو آپ علیہ السلام نے فرمایا
05:07اللہ کے سوا کچھ نہ تھا
05:09نہ آسمان تھا نہ زمین
05:10نہ فضاء اور اللہ کا عرش پانی پر تھا
05:13اس سے معلوم ہوتا ہے کہ
05:15مخلوقات کی ابتداء اللہ کے ارادے سے
05:17ایک خاص وقت میں ہوئی
05:18اور زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے صرف اللہ ہی کا وجود تھا
05:21یہ تمام نظریات و دلائل
05:23ہمیں ایک ہی بات کی طرف لے جاتے ہیں
05:25کہ حضرت آدم علیہ السلام کی آمد سے قبل
05:27زمین ایک پورا سرار خاموش
05:29اور ناقابل تصور حقیقتوں سے بھرپور دنیا تھی
05:32جہاں سے انسانیت کی تاریخ
05:33نے اپنا پہلا قدم رکھا
05:35بخاری شریف میں ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے
05:38یہ یمن سے ایک وفد
05:39نبی علیہ السلام کے پاس آیا
05:41اور سوال کیا
05:41کہ زمین پر حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے کیا تھا
05:44آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
05:47کچھ نہیں تھا
05:47صرف اللہ تھا
05:48اور عرش پانی پر تھا
05:50اور لوح محفوظ میں
05:51قلم سے سب کچھ لکھا جا چکا تھا
05:54آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا
05:56کہ سب سے پہلے
05:57اللہ نے قلم کو پیدا کیا
05:59پھر اللہ نے اسے حکم دیا
06:00کہ وہ لکھے
06:01اور اس نے قیامت تک ہونے والی تمام چیزیں لکھ کر
06:04لوح محفوظ پر محفوظ کر دیں
06:07حضرت عبداللہ بن عمر بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
06:10کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
06:13اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کے پیدائش سے
06:15پچاس ہزار سال پہلے تمام مخلوقات کی تقدیریں لکھ دیں
06:19اور اس وقت اللہ کا عرش پانی پر تھا
06:21اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے
06:23کہ سب سے پہلے پانی تھا
06:24پھر پانی پر عرش کی تخلیق ہوئی
06:26اس کے بعد قلم پیدا کیا
06:28اور پھر لوح محفوظ پر تمام تقدیریں لکھ کر محفوظ کر دی گئیں
06:31پھر اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی
06:33حضرت ابو حریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
06:36کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
06:38جب اللہ تعالی نے دنیا بنائی
06:40تو اس کی تخلیق کی ترتیب کچھ اس طرح سے تھی
06:42ہفتے کو مٹی
06:43اتوار کو پہاڑ
06:44پیر کو درخت
06:45منگل کو بیماری
06:47اور مسائب
06:47بدھ کو نور
06:48جمعرات کو چوپائے
06:50اور جمعہ کے دن
06:51اثر سے رات کے درمیان
06:52حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا
06:54اس سے ظاہر ہوتا ہے
06:55کہ مخلوقات کی تخلیق میں
06:57حضرت آدم علیہ السلام کا نمبر آخری تھا
06:59لیکن وہ نسل انسانی کے پہلے فرد
07:01اور تمام انسانوں کے والد ہیں
07:03اس سے پہلے فرشتے اور جنات پیدا ہو چکے تھے
07:06حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا
07:09کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے
07:11دو ہزار سال پہلے
07:12جنات پیدا کیے گئے
07:13اور وہ زمین پر آباد تھے
07:15جب وہ فساد میں مقتلہ ہو گئے
07:17اور ناحق خون بہانے لگے
07:18تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا ایک لشکر بھیجا
07:21جس نے جنات کو تباہ کر دیا
07:22اور انہیں جزیرے جنگلات اور پہاڑوں میں
07:25پناہ لینے پر مجبور کر دیا
07:26اسی طرح دنیا وجود میں آئی
07:28اور حضرت آدم علیہ السلام نے
07:29زمین پر آ کر انسانوں کی نسل کی ابتدا کی
07:32ناظرین جدید سائنسی تحقیق کے مطابق
07:35زمین کی عمر تقریباً
07:36چار اشارے پانچ عرب سال بتائی جاتی ہے
07:38اس طویل دورانیے میں
07:39زمین نے کئی حیرت انگیز
07:41اور پیچیدہ مراحل تحقیے ہیں
07:43جن میں آتش فشانی سرگرمیاں
07:44زلزلے برفانی
07:46ادوار
07:46ماحولیاتی تبدیلیاں
07:48اور مختلف جانداروں کا
07:49ظہور اور زوال شامل ہیں
07:51سائنسدانوں کے مطابق
08:00انہیں مراحل کے دوران
08:02زندگی کا ارتقائی سفر شروع ہوا
08:04جس میں سب سے پہلے
08:05یک خلوی جاندار پیدا ہوئے
08:07پھر آہستہ آہستہ
08:08ان سے پیشیدہ جاندار جنم لیتے گئے
08:10یہاں تک کہ مختلف نسلیں
08:11زمین پر آباد ہوئیں
08:12جب ہم انسانی ارتقاء پر نظر ڈالتے ہیں
08:15تو سائنسی ماہرین بتاتے ہیں
08:16کہ موجودہ انسان
08:17یعنی ہومو اسپیشیز
08:19تقریباً دو سے تین لاکھ سال قبل ظاہر ہوئے
08:21لیکن اس سے پہلے بھی
08:23زمین پر انسانی نماغ
08:24کئی مخلوقات موجود تھیں
08:26جن میں نیدرثل
08:27ڈینس بین
08:28ہومو ایریکٹس
08:30اور دیگر انوا شامل ہیں
08:31یہ مخلوقات مختلف علاقوں میں آباد تھیں
08:34اور ان کی باقیات
08:34فوسلز
08:35ہڈیوں
08:36اور غاروں کی دیواروں پر
08:37نقش و نگار کی صورت میں
08:38آج بھی دنیا بھر میں دریافت ہوتی رہتی ہیں
08:41ان شواہد سے معلوم ہوتا ہے
08:42کہ یہ مخلوقات
08:43نہ صرف
08:44آگ کا استعمال جانتی تھیں
08:45بلکہ پتھر سے آلات بنانا
08:47شکار کرنا
08:48اور قبائلی انداز میں رہنا بھی جانتی تھیں
08:49ان کے دماغ کی ساخت
08:51اور جسمانی خد و خال سے اندازہ ہوتا ہے
08:53کہ وہ موجودہ انسان سے مختلف
08:54مگر ذہانت کے
08:55مگر ذہانت کے کئی درجوں پر فائز تھے
08:58تاہم
08:59وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ
09:00یہ تمام اقسام ختم ہو گئی
09:01اور صرف
09:02ہومو اسپیشیس باقی رہ گئے
09:03جو آج کے دور کے انسان ہیں
09:05یہ بات یاد رکھنی چاہیے
09:07کہ سائنسی نظریات
09:08مشاہدات
09:09تجربات
09:10مفروضات پر مبنی ہوتے ہیں
09:11اور جیسے جیسے تحقیق آگے بڑھتی ہے
09:13ان نظریات میں تبدیلی بھی آتی رہتی ہے
09:15چنانچہ ماضی کے دنیا
09:17خاص طور پر
09:17حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے کا دور
09:19آج بھی سائنسی دنیا کے لیے
09:20ایک معممہ
09:21اور تحقیق کا دلچسپ میدان ہے
09:23اگرچہ سائنسی نظریات
09:24بہت کچھ بتاتے ہیں
09:25مگر حتم علم
09:26صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے
09:28صوفیانہ فکر اور فلسفہ
09:29انسان کی تخلیق
09:31صرف
09:31جسمانی یا حیاتیاتی
09:33پہلو سے نہیں دیکھتا
09:34بلکہ
09:35روحانی اور کائناتی
09:36پہلو سے بھی غور کرتا ہے
09:37مشہور صوفی بزرگ
09:38ابن عربی نے
09:39آدم اول
09:40اور آدم اکبر
09:41جیسے نظریات پیش کیے
09:43ان کے مطابق
09:43ایک آدم صرف
09:44ایک تاریخی شخصیت نہیں
09:45بلکہ کائناتی مظہر بھی ہے
09:47آدم اول
09:48وہ پہلا انسان ہے
09:49جو زمین پر ظاہر ہوا
09:50جبکہ آدم اکبر
09:51پوری انسانیت کی
09:53روحانی نمائندگی کرتا ہے
09:54یعنی انسان
09:55کائنات کی اکاسی ہے
09:56اور اس میں
09:57خدای صفات کا
09:58پرتوہ پایا جاتا ہے
09:59یہ تصوف کا
10:00امیق اور
10:01مجرد تصور ہے
10:02جو ظاہری حقائق سے
10:04زیادہ باطنی رموز
10:05کی طرف اشارہ کرتا ہے
10:06اسلام میں
10:07ان تمام نظریات
10:08کا مطالعہ کرتے وقت
10:09ایک واضح اصول
10:10اپنایا جاتا ہے
10:11عقیدے کی
10:12حدود میں رہنا
10:12اور علم غیب
10:13کو اللہ تعالیٰ کے
10:14سپورت کرنا
10:14قرآن و سنت
10:16ہمیں یہ سکھاتے ہیں
10:16کہ حضرت آدم علیہ السلام
10:17پہلے انسان
10:18اور پہلے نبی تھے
10:20اور یہی ہمارا عقیدہ ہے
10:21جو باتیں
10:22واضح نصور سے ثابت ہیں
10:23ان پر یقین
10:24اکنا فرض ہے
10:25اور جن باتوں کا
10:26علم نہیں
10:26یا جو غیر یقینی
10:28یا مفروضی
10:29بنیادوں پر ہیں
10:29ان پر یقین
10:30کرنا ضروری نہیں
10:31اسلام سائنس
10:32کا مخالف نہیں
10:33مگر ایمان کے دائرے میں
10:34صرف اسی بات کو
10:35شامل کرتا ہے
10:36جو قرآن و حدیث
10:36سے ثابت ہو
10:37ناظرین آئیے
10:38اس سوال کی طرف
10:39کہ حضرت آدم علیہ السلام
10:40کی تقلیق
10:41مٹی سے کیوں ہوئی
10:41اور وہ مٹی
10:42کہاں سے لائے گئی
10:43حضرت آدم علیہ السلام
10:44کی تقلیق
10:45کسی والدین کے
10:56کہ وہ زمین سے
10:56مٹی لائیں
10:57حضرت آدم علیہ السلام
10:58نے آسمان سے اتر کر
10:59زمین سے مٹی کی
11:00ایک مٹھی اٹھائی
11:01اور پوری زمین کی
11:03اوپری پر
11:04تو اس میں شامل ہو گئی
11:05جس میں مختلف
11:05رنگوں اور
11:06کیفیتوں والی مٹی تھی
11:07جیسے سفید
11:08سیاہ
11:08سرخ
11:09زرد
11:09نرم
11:10سخت
11:10تلخ
11:11شیرین
11:11نمکین
11:12وغیرہ
11:12اور پھر
11:13اللہ تعالیٰ کے حکم سے
11:14اس مٹی کو
11:14مختلف پانیوں سے
11:15گوندنے کا عمل
11:16شروع ہوا
11:17اور اس کے بعد
11:18وہ مٹی
11:18کیچڑ کی طرح ہو گئی
11:19بعد ازہ یہ خوشک ہو کر
11:21کھنکھناتی
11:21اور بچتی ہوئی
11:22مٹی بن گئی
11:23جس سے
11:24حضرت آدم علیہ السلام
11:25کا پتلہ بنایا گیا
11:26اور جنت کے دروازے پر
11:27رکھ دیا گیا
11:29فرشتہ اس مندر کو
11:30دیکھ کر حیران ہو گئے
11:31کیونکہ انہوں نے
11:31ایسی شکل و صورت کی
11:32مخلوق کبھی نہیں دیکھی تھی
11:34پھر اللہ تعالیٰ نے
11:35اس پتلے میں
11:35روح ڈالنے کا حکم دیا
11:36جیسے ہی روح
11:37حضرت آدم علیہ السلام
11:38کے نتنوں میں پہنچی
11:39آپ کو چھیک آئی
11:41اور جب روح
11:41آپ کی زبان تک پہنچی
11:43تو آپ نے
11:43الحمدللہ کہا
11:45آہستہ آہستہ
11:46روح پورے بدن میں پھیل گئی
11:47اور حضرت آدم علیہ السلام
11:48زندہ ہو گئے
11:49اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے
11:50اٹھ کھڑے ہوئے
11:51جب اللہ تعالیٰ نے
11:52حضرت آدم علیہ السلام
11:53کو مٹی سے پیدا کیا
11:54تو فرشتوں کو حکم دیا
11:56کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام
11:57کو سجدہ کریں
11:57لیکن عبلیس کے دل میں
11:59غرور تھا
11:59وہ اپنے آپ کو
12:00حضرت آدم علیہ السلام
12:01سے بہتر سمجھتا تھا
12:02کیونکہ وہ
12:03آگ سے پیدا ہوا تھا
12:04اور حضرت آدم علیہ السلام
12:05مٹی سے
12:06اس نے سجدہ کرنے سے
12:07انکار کر دیا
12:08اور کہا
12:08میں اس مٹی سے پیدا ہونے
12:09والے شخص کو
12:10کیوں سجدہ کروں
12:11اس انکار کے نتیجے میں
12:12اللہ تعالیٰ نے
12:13عبلیس کو جنت سے
12:13نکال دیا
12:14اور اسے ملون کر دیا
12:16یہ وہ وقت تھا
12:17جب خیر اور شر کی
12:18طاقتوں کے درمیان
12:19جنگ کا آغاز ہوا
12:20اور یہ دشمنی قیامت
12:21تک جاری رہنی تھی
12:23قدیم صاحب میں ذکر ہے
12:24کہ جب اللہ تعالیٰ نے
12:25حضرت آدم علیہ السلام
12:25کو سجدہ کرنے کا حکم دیا
12:27تو عبلیس نے
12:28حضرت آدم علیہ السلام
12:28پر اقارت سے تھوک دیا
12:29وہ تھوک حضرت آدم علیہ السلام
12:31کے پیٹ پر گرا
12:32اور اس کے بعد
12:33اللہ تعالیٰ نے
12:33حضرت جبریل علیہ السلام
12:34کو حکم دیا
12:35کہ وہ
12:36اس تھوکے والی
12:37مٹی نکالیں
12:37حضرت جبریل علیہ السلام
12:38نے جب اس مٹی کو نکالا
12:40تو آدم علیہ السلام
12:40کے پیٹ پر
12:41ایک چھوٹا سا سراخ بن گیا
12:42جو آج بھی
12:43ہمارے جسم میں
12:43ناف کی صورت میں موجود ہے
12:45کہا جاتا ہے
12:46کہ اللہ تعالیٰ نے
12:46اس ناف کی مٹی
12:47جس پر عبلیس نے تھوکا تھا
12:49کتے کو پیدا کیا
12:50کتوں کی تخلیق کے بارے میں
12:52ایک اور ربایت یہ ہے
12:53کہ جب حضرت آدم علیہ السلام
12:54اور حضرت حبوہ علیہ السلام
12:56کو زمین پر بھیجا گیا
12:57تو شیطان نے
12:58زمین کے درندوں کو
12:59برگل آیا
12:59تاکہ وہ
13:00ان دونوں کو نقصان پہنچائیں
13:01اس پر اللہ تعالیٰ نے
13:02کتے کو پیدا کیا
13:03تاکہ وہ
13:04حضرت آدم علیہ السلام
13:05اور حضرت حبوہ علیہ السلام
13:06کو ان درندوں سے بچائیں
13:08یوں کتے کی پیدائش
13:09حضرت آدم علیہ السلام کی
13:10زمین پر بھیج جانے کے
13:12forward跟 He had been
13:18verd-a-slamists
13:35there would be a bad idea
13:40We will give back it to God.
14:11why youはいつ for your reason you feel confident.
14:14Then Allah got you.
14:19Then Allah made you a nice and nice girl.
14:29Then Allah satura and Allah satura gave up.
14:33When we were born, Allah satura gave up.
14:34Then Allah satura gave up.
14:34Then Allah satura and Allah satura gave up.
14:35He asked that Allah satura gave up.
14:36Then Allah satura gave up.
14:37Then Allah satura gave up.
14:40to be found in the way.
15:16Adham Alayhi Salaam
15:40Adem alayhi wa sallam ke zemine par ane ke baad
15:42kitnye sal guzer chukye hain
15:44aur wo kaha utreye thay
15:45ye svelat mختلف rewaayat me mختلف andaz me bayaan kie kaya hai
15:49ایک rewaayat ke mtabik
15:50حضرت Adem alayhi wa sallam
15:51مkka aur taif ke dhermiyan
15:53واقع ایک ilaqe djna me utreye thay
15:55baz maurikhin r.mufasirin ka kehna hai
15:57کہ حضرت Adem alayhi wa sallam
15:59صفah pahar per utreye thay
16:00جo مkka mkka mkarrama me waqa hai
16:02جb Adem alayhi wa sallam
16:03اور حضرت Hawa alayhi wa sallam
16:04کو جنت سے
16:05نکالنے کا وقت آیا
16:06تو اللہ تعالیٰ کے حکم پر
16:07حضرت جبریل alayhi wa sallam
16:09نے دونوں کو جنت سے نکال کر
16:10زمین پر بھیج دیا
16:11حضرت Adem alayhi wa sallam
16:12نے حضرت Hawa alayhi wa sallam
16:13کا ہاتھ تھام کر کہا
16:14اب ہمارے لئے غربت
16:16اور بے کسی کا وقت
16:17شروع ہو چکا ہے
16:18اس موقع پر حضرت جبریل alayhi wa sallam
16:19نے آ کر کہا
16:20دونوں کو
16:21الگ الگ جگہوں پر
16:22اتارنا اللہ کا حکم ہے
16:23اور پھر حضرت Adem alayhi wa sallam
16:25نے حضرت Hawa alayhi wa sallam
16:26کا ہاتھ چھوڑ دیا
16:27حضرت Adem alayhi wa sallam
16:29کو سیر لنکا کے علاقے
16:30سراندیب میں اتارا گیا
16:31جبکہ حضرت Hawa alayhi wa sallam
16:33کو سعودی عرب کے شہر
16:34جدہ کے قریب اتارا گیا
16:35اس وقت کے مطابق
16:37سراندیب و جدہ کے درمیان
16:38تقریباً
16:39اکیس سو میل کا فاصلہ تھا
16:40حضرت Adem alayhi wa sallam
16:42کی جنتی زبان عربی تھی
16:43لیکن جب آپ زمین پر اترے
16:45تو وہ زبان بھولا دی گئی
16:47اور آپ کو سریانی زبان
16:48اتاک کر دی گئی
16:49بعد ازاں
16:50جب حضرت Adem alayhi wa sallam
16:51کی توبہ قبول کر لی گئی
16:53تو اللہ تعالیٰ نے
16:54آپ کو عربی زبان اتاک کی
16:55اور زبان میں آپ نے
16:56اپنی زندگی کے
16:57اہم مراحل گزارے
16:59یہ بھی ذکر کیا گیا ہے
17:00کہ جب حضرت Adem alayhi wa sallam
17:02حکم الہی کے تحت
17:03حج کے لیے روانہ ہوئے
17:04تو آپ کی ملاقات
17:05حضرت Adem alayhi wa sallam سے
17:06مزلفہ کے مقام پر ہوئی
17:07اسی وجہ سے
17:08مزلفہ کا نام
17:09قربت والی جگہ رکھا گیا ہے
17:11کیونکہ یہاں پر
17:12حضرت Adem alayhi wa sallam
17:13اور حضرت Adem alayhi wa sallam
17:14کی دوبارہ ملاقات ہوئی
17:16حضرت عبداللہ بن عمر
17:17رضی اللہ عنہ سے
17:18ایک روایت ہے
17:19جس میں ذکر کیا گیا ہے
17:20کہ اللہ تعالیٰ نے
17:21حضرت Adem alayhi wa sallam
17:22کو ہندوستان میں اتارا تھا
17:23اور پھر آپ
17:23مکہ مکرمہ تشریف لے گئے
17:25وہاں سے آپ نے
17:26شام کی طرف سفر کیا
17:27اور وہیں آپ کا انتقال ہوا
17:28اسی طرح
17:29رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:31نے بھی فرمایا
17:31کہ حضرت Adem alayhi wa sallam
17:33ہندوستان میں اتارے گئے تھے
17:34ابن عساکر
17:35نے ایک روایت نقل کی ہے
17:37حضرت Adem alayhi wa sallam
17:38کو جب زمین پر بھیجا گیا
17:39تو انہیں ہندوستان کے علاقے
17:41سیلیون
17:41جو کہ آج کل
17:42سری لنکا کہلاتا ہے
17:44میں اتارا گیا تھا
17:45تاریخی طور پر
17:46سراندیب
17:47جو کہ آج کل سری لنکا کا حصہ ہے
17:48حضرت Adem alayhi wa sallam
17:49کے قدموں کے نشان ملے ہیں
17:50اور اس پہاڑ کو
17:51کوہ آدم
17:52یا آدم کی چوٹی کہا جاتا ہے
17:53یہ پہاڑ سری لنکا کی
17:55دوسری سب سے بلند چوٹی ہے
17:56اور یہاں
17:57حضرت Adem alayhi wa sallam
17:58کے قدموں کے نشانات کو
17:59تاریخی طور پر منصوب کیا جاتا ہے
18:01ناظرین ابائیے
18:02اس پر بات کرتے ہیں
18:03کہ حضرت Adem alayhi wa sallam
18:04کا پہلا کھانا
18:05اور لباس کیا تھا
18:06روایات میں آتا ہے
18:08کہ حضرت Adem alayhi wa sallam
18:09جنت میں سو سال
18:10یا ساٹھ سال رہے
18:11اس دوران انہیں
18:12جنت کے کسی بھی حصے میں
18:13جانے کی آزادی تھی
18:14سوائے شجر ممنوع آکے
18:16شیطان ان کا کھلا دشمن تھا
18:17اور ان دونوں کو
18:19اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف
18:20ورزی کرنے پر
18:21مجبور کرنے کی
18:21کوشش میں لگا ہوا تھا
18:23شیطان نے حضرت Adem alayhi wa sallam
18:24اور حضرت Adem alayhi wa sallam
18:25کے دلوں میں
18:26وسوسے ڈالے
18:26اور انہیں کہا
18:28کہ تمہیں اس درخ سے
18:28پھل اس لیے نہیں کھانے دیا گیا
18:30کہ کہیں تم دونوں
18:31ہمیشہ زندہ رہنے والے
18:32نہ بن جاؤ
18:33یا کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ
18:35شیطان کی یہ باتیں
18:36حضرت Adem alayhi wa sallam
18:36کو سوچنے پر مجبور کر گئیں
18:38اور اس کے بار بار
18:39وسوسہ ڈالنے کے بعد
18:40حضرت Adem alayhi wa sallam
18:42نے حضرت Adem alayhi wa sallam
18:43سے کہا
18:43کہ ہمیں سجر ممنوع
18:44کچھ حصہ کھا کر تو دیکھیں
18:45شروع میں حضرت Adem alayhi wa sallam
18:47اس بات کے لئے تیار نہ تھے
18:49مگر حضرت Adem alayhi wa sallam
18:50کے اسرار پر
18:51وہ راضی ہو گئے
18:52دونوں نے اس درخ کا پھل کھا لیا
18:54اور جیسے ہی پھل کھایا
18:55ان کی سطر گاہیں
18:56ایک دوسرے پر آیا ہو گئیں
18:58دونوں بدحواسی اور پریشانی
19:09اور شیطان کے ورگلانے میں
19:11نہ آنے کی ہدایت نہیں کی تھی
19:12یہ تمہارا کھلا دشمن ہے
19:14حضرت Adem alayhi wa sallam
19:15اور حضرت Adem alayhi wa sallam
19:17نے اللہ کی پکار سنی
19:18اور خوف کے عالم میں کامتے ہوئے
19:20اپنی غلطی پر نادیم ہو گئے
19:21دونوں نے اللہ تعالیٰ سے
19:23معافی کے درخواست کی
19:23اور کہا
19:24اے ہمارے رب
19:25ہم سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے
19:27اگر آپ نے ہمیں معاف نہ کیا
19:28اور ہم پر رحم نہ کیا
19:30تو ہم تباہ ہو جائیں گے
19:31اللہ تعالیٰ نے فرمایا
19:32اب تم دونوں کو
19:33زمین پر ایک خاص مدت تک رہنا ہوگا
19:35جہاں تم دونوں
19:36ایک دوسرے کے دشمن ہوگے
19:37اور تمہیں یہاں ہی مرنا ہے
19:39اور تمہیں یہاں ہی مرنا ہے
19:40اور پھر یہی سے پیدا ہونا ہے
19:42پھر دونوں کو
19:42زمین پر روانہ کر دیئے گیا
19:45روایات کے مطابق
19:45حضرت Adem alayhi wa sallam کو
19:46ہندوستان میں
19:47اور حضرت حفظ alayhi wa sallam کو
19:49جدہ میں
19:49اور ابلیس کو
19:50بسرہ کے قریب
19:52دمستیمان کے قریب
19:53اتارا گیا
19:53یہ واقعہ
19:54انسانوں کی تاریخ کا آغاز تھا
19:57اور اس کے بعد
19:57زمین پر
19:58حضرت Adem alayhi wa sallam کی نسل
19:59نے زندگی کا آغاز کیا
20:00حضرت عضی رحمت اللہ
20:02نے فرماتے ہیں
20:03کہ جب حضرت Adem alayhi wa sallam
20:04جنت سے زمین پر اترے
20:05تو ان کے پاس
20:06حجرِ اسود
20:07جو کہ جنت کا ایک قیمتی پتھر تھا
20:08اور جنت کے
20:09درختوں کے پتوں کی ایک مٹھی بھی تھی
20:12حضرت Adem alayhi wa sallam
20:13نے ان پتوں کو
20:14زمین پر پھیلا دیا
20:14اور یہی وہ خوشبودار درخت تھے
20:16جن کی خوشبو آج بھی موجود ہے
20:18حضرت Adem alayhi wa sallam
20:20جب زمین پر آئے
20:20تو وہ
20:21نہات شرمندہ
20:22اور افسوردہ تھے
20:23جنت سے ان کے اخراج
20:24اور حضرت عبیٰ alayhi wa sallam سے
20:25الہدگی نے انہیں شرید
20:27ذہنی پریشانی
20:28اور غم میں مبتلا کر دیا تھا
20:30روایات کے مطابق
20:31حضرت Adem alayhi wa sallam
20:32یہ تبیل عرصہ تک
20:32اللہ تعالیٰ کے سامنے
20:33گرگراتے ہوئے فریاد کی
20:35اور آنکھوں سے
20:36بے شمار آنسو بہائے
20:37یہاں تک
20:38اللہ تعالیٰ کو
20:38ان کی گریہ وزاری پر رحم آیا
20:40اور پھر ایک دن
20:41حضرت عبیٰ alayhi wa sallam کی طرف سے
20:42حضرت Adem alayhi wa sallam کو
20:44معافی کی خوشخبری دینے کیلئے آئے
20:45حضرت عبیٰ alayhi wa sallam
20:46خوشی سے سرشار ہو گئے
20:48اور اللہ کی بارگاہ میں
20:49سجدہ شکر بجال آئے
20:51پھر حضرت عبیٰ alayhi wa sallam
20:52نے حضرت عبیٰ alayhi wa sallam
20:53کو لے کر
20:53مکہ مکرمہ کا سفر کیا
20:55جہاں حضرت عبیٰ alayhi wa sallam
20:56نے کعبہ شریف کی بنیاد رکھی
20:58اور حجر اسوت کو
20:59کعبہ کی دیوار پر نصب کر دیا
21:01پھر حضرت عبیٰ alayhi wa sallam
21:03نے کعبہ کے گرد تواف کیا
21:04اور تواف کے دوران
21:05انہوں نے
21:05اللہ کی عظمت و کبریائی کا
21:07بھرپور اظہار کیا
21:19اور حضرت عبیٰ alayhi wa sallam
21:21میں جسمانی تغیرات آ چکے تھے
21:22جس کی وجہ سے
21:23دونوں ایک دوسرے کو
21:25پہچان نہ سکے
21:26اس پر حضرت جبیل alayhi wa sallam
21:27نے دونوں کا تعریف کر آیا
21:28اور کہا یہ آپ کی بیویں ہیں
21:30حضرت عمر بن خطاب
21:31رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے
21:32کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
21:34نے فرمایا
21:35جب حضرت عبیٰ alayhi wa sallam
21:37سے لغزش ہوئی
21:37تو انہوں نے
21:38اللہ تعالیٰ سے عرض کیا
21:39اے میرے پروردگار
21:40میں آپ سے
21:41محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
21:43کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں
21:44کہ آپ میری مغفرت فرمائیں
21:46اللہ رب العزت نے فرمایا
21:47تو نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
21:50کو کیسے جان لیا
21:51حالانکہ میں نے انہیں پیدا بھی نہیں فرمایا
21:53حضرت عدم علیہ السلام نے جواب دیا
21:55اے میرے رب
21:55جب آپ نے مجھے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا
21:58اور مجھ میں جان ڈالی
22:00تو میں نے اپنا سر اٹھایا
22:01اور عرش پر لکھا ہوا دیکھا
22:03لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ
22:06تب میں نے جان لیا
22:07کہ جس ذات کا نام
22:08آپ کے نام کے ساتھ ملا دیا ہے
22:10وہ آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے
22:12اللہ تعالیٰ نے فرمایا
22:13اے آدم
22:14تو نے سچ کہا
22:15وہ میرے نزدیک سب سے محبوب ہیں
22:17اور جب تم نے
22:18ان کے وسیلے سے مجھ سے مانگ لیا
22:20تو میں نے تمہیں معاف کر دیا
22:21اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ ہوتے
22:24تو میں تمہیں پیدا بھی نہ کرتا
22:25ناظرین
22:26اب آئیے اس سوال کی طرف
22:28جو اس ویڈیو کا مقصد ہے
22:29دنیا میں حضرت آدم علیہ السلام
22:31سے پہلے کون سے پیغمبر کا ذکر ملتا ہے
22:33تو اس کا جواب یہ ہے
22:34کہ حضرت آدم علیہ السلام سے قبل
22:36اللہ تعالیٰ نے جنات میں بھی
22:37ایک پیغمبر محبوب کیا تھا
22:39جنات اللہ کی مخلوق ہیں
22:40جنہیں انسان کی پیدائج سے قبل پیدا کیا گیا تھا
22:43بعض موقعین اور تاریخدانوں کا کہنا ہے
22:45کہ جنات کو حضرت آدم علیہ السلام کی تقلیق سے بھی
22:48دو ہزار سال قبل پیدا کیا تھا
22:50قرآن حکیم میں اس کا ذکر اس طرح آیا ہے
22:52کہ اور ہم نے انسان کو کھن کھناتے ہوئے گارے سے پیدا کیا
22:55اور جنات کو اس سے بھی پہلے
22:57دھوئے کی آگ سے پیدا کیا
22:59ایک اور جگہ پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
23:00اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا
23:03اور جنات کو آگ کے شولے سے پیدا کیا
23:06ابن کسیر نے ان آیات کی تفسیر میں لکھا کہ
23:09سلسال سے مراد وہ خوشک مٹی ہے
23:11جس میں آواز ہو
23:13اور فخار وہ مٹی ہے
23:14جو آگ میں پکی ہوئی ہو
23:16مارج سے مراد پہلا جن ہے
23:18جسے ابوالجن کہا جاتا ہے
23:20جیسے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو
23:21ابو آدم کہا جاتا ہے
23:23یہاں مارج سے مراد جنوں کا باپ
23:25یا جن کی جن سے
23:27اور نار سے مراد ایک خاص قسم کی آگ ہے
23:29نہ کہ وہ آگ جو لکڑیاں یا کوئلے سے پیدا ہوتی ہے
23:32مارج کے معنی ہے خاص شولہ
23:34جس میں دھوانہ ہو
23:36جیسے حضرت آدم علیہ السلام کا جسم مٹی سے تخلیق ہوا
23:39اور مختلف مراحل سے گزر کر
23:41انسانی شکل اختیار کی
23:42اسی طرح پہلا جن آگ کے خالص شولے
23:44یا لپیٹ سے پیدا ہوا
23:46اور جننات کی نسل اس کی ضروریت سے آئی
23:49جننات کے حقیقت بھی آتش فطرت پر مبنی ہے
23:52مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صرف شولہ ہی ہیں
23:55بلکہ ان کا وجود بھی ایک مکمل مخلوق ہے
23:57جیسا ہم انسان صرف مٹی کا تودا نہیں ہے
23:59اسی طرح وہ بھی صرف آگ کا شولہ نہیں ہے
24:01ایک ربایت میں آتا ہے
24:03کہ جننات کو جمعرات کے دن پیدا کیا گیا تھا
24:05اللہ تعالی نے ان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا تھا
24:08جس کی تجدیق قرآن مجید کے
24:10اس فرمان سے ہوتی ہے
24:12اور میں نے جننات اور انسانوں کو صرف
24:14اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں
24:16اس آیت سے واضح ہوتا ہے
24:18کہ انسان اور جننات دونوں کو عبادت کے لئے تخلیق کیا گیا
24:21حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت سے پہلے
24:23جننات میں بھی پیغمبر مبوس ہوئے تھے
24:25کیونکہ اللہ تعالی قرآن پاک میں فرماتا ہے
24:28جننات اور انسانوں کا مقصد عبادت
24:30اور کمال تک پہنچنا ہے
24:32ایک مرتبہ ایک شامی شخص نے
24:33حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا
24:35کیا اللہ نے جننات کی جانب کسی پیغمبر کو بھیجا ہے
24:38حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا
24:40ہاں ایک پیغمبر جس کا نام یوسف تھا
24:43جننات کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا تھا
24:45لیکن جننات نے اسے شہید کر دیا
24:47یہ روایت بھی اس بات کا ثبوت ہے
24:49کہ جننات کے درمیان بھی
24:50ان کے نسل سے پیغمبر ہوتے تھے
24:53اور اللہ نے ان کی ہدایت کے لئے بھی
24:54انبیاء بھیجے تھے
24:56ریاضہ جننات بھی عبادت اور فرائض کے حامل ہیں
24:58اور ان کے درمیان پیغمبر مبوس ہوئے تھے
25:01لیکن اس کی کیفیت ہمارے لئے
25:03پوری طرح واضح نہیں ہے
25:05ناظرین آخر میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں
25:06کہ حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے کی دنیا
25:09ایک ایسا راز ہے جس کے تمام پہلو
25:11آج بھی مکمل طور پر بازے نہیں
25:13سائنس فلسفہ اور روایات
25:15اس راز کو سمجھنے کی کوشش تو کرتے ہیں
25:17مگر اس کی مکمل حقیقت صرف اللہ ہی جانتا ہے
25:20انسان کے لئے اصل مقصد یہ نہیں
25:22کہ وہ ان اندیکھے رازوں میں
25:24علج کر اپنی ہدایت بھولا دے
25:26بلکہ حقیقی کامیابی اس بات میں ہے
25:28کہ وہ اپنی تقلیق کو سمجھے
25:29اپنے خالق کو پہچانے
25:31اور اس دنیا میں اپنے مقصد وجود
25:33اور انجام کی تیاری کرے
25:35یہی پیغام حضرت آدم علیہ السلام کی قصے میں پوشیدہ ہے
25:38کہ انسان زمین پر اللہ کا خلیفہ ہے
25:41اور اسے اپنے افعال ایمان اور نیتوں کے مطابق
25:43آخرت کی طرف لوٹنا ہے
25:45ناظرین حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے کی دنیا
25:48ایک ایسا سربستہ راز ہے
25:49جس پر وقت کے ساتھ ساتھ
25:51سائنسی تحقیق، فلسفیانہ غور و فکر
25:53اور مذہبی تفاصیر نے
25:55کئی نظریات قائم کیے
25:56مگر ان تمام نظریات کی ایک حد ہے
25:58کچھ حقائق ہمیں آثار قدیمہ سے ملتے ہیں
26:01کچھ صوفیانہ تعبیرات میں پوشیدہ ہیں
26:03اور کچھ سائنس کی پیچیدہ گتھیوں میں
26:05الجے ہوئے ہیں
26:06مگر ایمان کی دنیا ہمیں یاد دلاتی ہے
26:08کہ ہر وہ چیز جو ہمارے فہم سے باہر ہے
26:10اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے
26:12اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے
26:14کہ ہم ان باتوں پر غور و فکر
26:16تو کر سکتے ہیں
26:17لیکن اپنا قیدہ صرف اس بات پر رکھیں
26:19جو قرآن سنت سے واضح طور پر ثابت ہو
26:21حضرت آدم علیہ السلام انسانیت کے پہلے نبی تھے
26:24اور ان کا زمین پر آنا
26:26دراصل انسان کے لئے ایک نئی شروعات تھی
26:28ایک ایسا سفر جو روحانیت
26:30عقل اور امتحان سے لبریز ہے
26:32لہذا اس بحث کا سب سے بڑا سبق یہ ہے
26:35کہ ہم اپنی تخلیق کے مقصد کو سمجھیں
26:37اللہ کی معرفت حاصل کریں
26:38اور اپنی زندگی کو اس مقصد کے مطابق ڈھالیں
26:41جو حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعے ہمیں سکھا آئے گیا
26:44یعنی خلافت عرضی
26:46اطاعت الہی
26:47اور حق و باطل کے درمیان شعور کی جنگ
26:49یہاں سے اصل ہدایت کی راہ نکلتی ہے
26:51اور یہی وہ چراغ ہے جو ہمیں
26:53ماضی کی تاریخی
26:54حال کے دھوکے
26:56اور مستقبل کے فتنوں میں
26:57روشنی عطا کرتا ہے
26:58دوستو یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
27:00امید ہے کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
27:03ضرور پسند آئی ہوگی
27:04اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہے
27:06تو آپ سے گزارش کرتے ہیں
27:07کہ آپ ہماری چینل کو ضرور سبسکرائب کر لیں
27:09اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
27:12تاکہ آپ کے پاس ہماری آنے والی
27:14مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹفیکشن
27:16بروقت ملتا رہے
27:17سبسکرائب کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
27:19اور اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں
27:22کمنٹس میں آپ اپنے سوالات بھی ہم تک پہنچا سکتے ہیں
27:25اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظ و مان میں رکھے
27:27آمین
Comments

Recommended