Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
In this deeply insightful and morally rich video from Noor TV, we delve into a powerful and lesson-filled incident from Islamic history: 'Hazrat Ismail Ki Biwi Ka Waqia | Why Hazrat Ismail As Divorced His Wife.' This episode recounts the significant story of how Prophet Ibrahim (A.S.), while visiting his son Prophet Ismail (A.S.) in Makkah, gave a command that led to his son divorcing his wife.

The narrative, rooted in authentic Islamic traditions, explains that Prophet Ibrahim (A.S.) traveled from Palestine to Makkah to check on his son, Prophet Ismail (A.S.), who had grown up and married a woman from the Jurhum tribe. Upon his first visit, when Prophet Ismail (A.S.) was not home, Prophet Ibrahim (A.S.) asked his daughter-in-law about their living conditions. She complained bitterly about their poverty and hardships. Prophet Ibrahim (A.S.), without revealing his identity, left a message for his son: 'Change the threshold of your door.'

This cryptic message was a profound test and a lesson. Prophet Ismail (A.S.), understanding his father's command, divorced his wife. Later, Prophet Ibrahim (A.S.) visited again, and this time, Prophet Ismail (A.S.) had married a different woman. She welcomed him warmly, expressing gratitude for Allah’s blessings despite their simple life. Prophet Ibrahim (A.S.) was pleased and left a message to 'keep the threshold of your door,' which meant to keep his new wife.

This video aims to extract timeless lessons from this incident: the importance of gratitude (Shukr), the virtues of patience (Sabr) during hardship, and the significant role of a spouse's character and disposition in a household. The story serves as a powerful reminder of how a person's words can reflect their inner state and can have far-reaching consequences.

Join Noor TV for a deep dive into this moral tale, encouraging viewers to reflect on these virtues and their application in modern life. This video is crucial for understanding the prophetic guidance on character, marriage, and gratitude. Share this video to spread these invaluable lessons from Islamic history."

Category

📚
Learning
Transcript
00:22PYM JBZ
00:30جو انسانی زندگی کے لیے ایک بہتری نمونہ بن سکتی ہے
00:33اور جس کی پیروی انسانی زندگی کو بہتر اور خوشگوار بنا سکتی ہے
00:37انبیاء کرام کے انہیں عبرت آموز واقعات میں سے ایک انوکہ اور متاثر کن باقیہ
00:43حضرت اسماعیل علیہ السلام اور آپ کی بیوی کا باقیہ ہے
00:46یہ باقیہ اطاعت الہی، صبر، توقل اور اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک شاندار مظہر ہے
00:53بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:55السلام علیکم رحمت اللہ وبرکاتہ
00:58ناظرین اس واقعے کی شروعات تب ہوتی ہے جب اللہ تعالی نے اپنے خلیل گہرے دوست
01:02حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک غیر معمولی اور انتہائی کڑے انتہان سے گزرنے کا حکم دیا
01:07اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے شیر خاربچے اسماعیل علیہ السلام
01:11اور اپنی فرمابردار بیوی حضرت حاجرہ کو ملک شام سے ہزار میل دور ایک ایسی عبادی میں جا کر چھوڑائیں
01:17جہاں میلوں تک نہ پانی ہے نہ چوپائے نہ پرندے اور نہ ہی کوئی انسانی آبادی
01:22یہ ایک مکمل طور پر سنسان اور بنجر سہرہ تھا
01:25حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش تب ہوئی تھی جب حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت بڑے ہو چکے تھے
01:30اور کئی سالوں کی آرزوں اور دعاوں کے بعد اللہ تعالی نے انہیں یہ بیٹا تا فرمایا تھا
01:34یہی بیٹا آپ کے بڑھاپے کا سہارہ آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا قرار تھا
01:38جس کے لئے انہوں نے اللہ سے بہت دعائیں مانگی تھی
01:40لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کی سخت آزمائش سے گزرنا تھا
01:44اور حکم الہی کو بلا چونچرہ بجا لانا تھا
01:47ان کا ایمان اس قدر مضبوط تھا کہ وہ اپنی ہر پیاری چیز کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے
01:52کے لئے تیار رہتے تھے
01:53لہٰذا اللہ کے حکم کی تعمیل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی حاجرہ اور شیر خار بیٹے اسماعیل علیہ
01:59السلام کو لے کر
01:59ایک طویل اور پر مشقت سفر کے بعد جزیر عرب کے اس لگستان میں پہنچے جسے آج مکہ مکرمہ کہا
02:06جاتا ہے
02:06یہ باد یہ باد یہ پاران کہلاتی تھی جو پہاڑوں کے درمیان تپتے ہوئے سہرہ کی
02:11ایسی زمین تھی جہاں نہ کوئی درخت تھا نہ پانی اور نہ خوراک کا کوئی ذریعہ
02:16یہ ایک بالکل ویران اور بے آب و گیاہ جگہ تھی
02:18حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ پر کامل توقع کیا اور دل پر پتھر رکھ کر انہیں یہاں چھوڑ کر
02:23باپس شام کی طرف چل پڑے
02:25جب وہ جا رہے تھے تو حضرت حاجرہ نے پریشان ہو کر پوچھا
02:28اے ابراہیم آپ ہمیں اس ویران جگہ پر کس کے سہارے چھوڑ کر جا رہے ہیں
02:32تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا
02:34اللہ کے سہارے
02:35حضرت حاجرہ نے یہ سن کر فرمایا اگر یہ اللہ کا حکم ہے تو ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا
02:40یہ ایمان اور توقع کا ایک لازوال منظر تھا
02:44چشمہ زمزم کا پھوٹنا اور آبادی کا آغاز
02:47دو دنوں بعد جب کھانے پینے کا سامان اور پانی ختم ہوا
02:50تو بھوک پیاس سے شیر خار بچہ اسماعیل تڑپنے لگا
02:53اور امہ حاجرہ بے چین ہو گئیں
02:55وہ کبھی صفہ پہاڑی پر دوڑتی ہیں تو کبھی مروہ پہاڑی پر
02:57پانی کے تلاش میں ساتھ چکر لگائے
02:59یہی صحیح آج بھی حج کا حصہ ہے
03:02جب وہ انتہائی مایوسی کے حالت میں تھی
03:04تو اللہ نے اپنی رحمت کا دروازہ کھول دیا
03:06اللہ نے حضرت جبریل علیہ السلام کے ذریعے
03:08حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے
03:10اس بنجر سہرہ میں ایک چشمہ جاری کر دیا
03:12جو آج بھی زمزم کے نام سے مشہور ہے
03:14بی بی حاجرہ نے اس چشمے کا نام زمزم رکھا
03:17جس کا مطلب ہے
03:18ٹھہر جا ٹھہر جا
03:19اور یہ چشمہ آج تک چوبیس گھنٹے پانی بہا رہا ہے
03:22حضرت حاجرہ نے پاس ہی ایک خیمہ لگایا
03:24اور یہاں مستقل قیام کر لیا
03:26وہ آس پاس سے کھجوریں توڑ کر لاتیں
03:28اور زمزم کا پانی پی کر یہاں گزارہ کر دی تھی
03:31اس طرح اللہ نے ماں اور بیٹے کے لیے
03:33بہترین غزہ اور پانی کا انتظام کر دیا
03:35جو اللہ کی قدرت اور تبکل کا بے مثال مظہر تھا
03:38اور حضرت حاجرہ اور اسماعیل علیہ السلام
03:40اسی فاران کی وادی میں صبر و شکر کے ساتھ رہنے لگے
03:43اللہ کی رحمت کا سایہ ان پر ہر وقت رہا
03:45لیکن اس سنسان اور بنجر سہرہ میں
03:47حضرت حاجرہ خود کو بساوقات بہتاں ہم محسوس کرتی
03:51رات کے وقت آپ کو سہرہ کی عجیب خاموشی اور ویرانی میں خوف بھی محسوس ہوتا
03:55یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے
03:57مگر ان کا ایمان انہیں حوصلہ دیتا تھا
03:59ایک دن اللہ کی حکمت سے
04:00فاران کی اس بنجر وادی سے ایک قافلے کا گزر ہوا
04:03یہ لوگ قبیلہ جرہم کے تھے
04:05جو نحاج شریف اور نیک صفات کے مالک تھے
04:07وہ پانی کے تلاش میں سرگردہ تھے
04:09کہ انہوں نے دیکھا کہ اس بنجر سہرہ میں ایک چشمہ بے رہا ہے
04:11اور پاس ایک عورت بچے کو لیے بیٹھی ہے
04:13وہ حیران ہوئے کہ اس ویرانے میں پانی کا چشمہ کیسے
04:16لہذا اب وہ حضرت حاجرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے
04:18اور ان سے اجازت مانگی
04:20کہ کیا ہم اور ہماری عورتیں
04:22یہاں آپ کے ساتھ رہ سکتی ہیں
04:23حضرت حاجرہ بہت خوش ہوئی
04:25اور انہیں یہاں آباد ہونے کی اجازت دے دی
04:27بشرت یہ کہ چشمہ زمزم ان کی ملکیت رہے
04:29یوں کچھ ہی عرصے میں دیکھتے ہی دیکھتے
04:31یہ سنسان سہرہ ایک آباد بستی میں تبدیل ہو گیا
04:35ابراہیم علیہ السلام کی آمد
04:36اور زمزم کی ملکیت
04:38وقتن فوقتن حضرت ابراہیم علیہ السلام
04:40شام سے مکہ آتے اور اپنی بیوی اور بیٹے سے ملاقات کرتے
04:42وہ کچھ دن یہاں قیام فرماتے
04:44اور پھر واپس شام چلے جاتے
04:56یہ لوگ حضرت حاجرہ اور اسماعیل علیہ السلام سے
04:58بہت عقیدت اور محبت رکھتے تھے
05:00کیونکہ وہ اللہ کے برگزیدہ بندے تھے
05:02اور زمزم جیسی نعمت ان کی وجہ سے جاری ہوئی تھی
05:04حضرت حاجرہ نے جب بنی جرحم کو
05:06یہاں آباد ہونے کی اجازت دی تھی
05:08تو یہ شرط رکھی تھی کہ زمزم کا چشمہ
05:10ان کی ملکیت اور جائداد رہے گا
05:11لہذا زمزم کا چشمہ اور اس کے اردگرد کی زمین
05:14ہمیشہ حضرت حاجرہ اور اسماعیل علیہ السلام کے
05:17تصرف میں رہی
05:18اور بنی جرحم کبھی آنکھ اٹھا کر بھی
05:20ان کے جائداد کی طرف نہ دیکھتے تھے
05:22یہ اس وقت کے معاشرتی اصولوں
05:24اور طاقت کے بلبوتے پر ایک عجیب بات تھی
05:26کہ ایک اکیلی خاتون اپنے معصوم بچے کے ساتھ
05:29اتنے بڑے قبیلے کے سامنے
05:30اپنی ملکیت پر قبضہ قائم رکھے
05:32یہ بی بی حاجرہ کی شان اور ان پر
05:34اللہ کی خصوصی تائد کا بھی پتہ چلتا ہے
05:36بنی جرحم یہ جانتے تھے
05:38کہ حاجرہ اور اسماعیل اللہ کے چنے ہوئے بندے ہیں
05:41اور انہیں اللہ کی خصوصی تائد حاصل ہے
05:43اس لئے بنی جرحم اپنی قوت کے باوجود
05:45زمزم اور اس کے آس پاس کی زمین پر قبضہ کرنے کے بجائے
05:48حضرت حاجرہ سے اس پانی کے استعمال کے لئے
05:50اجازہ طلب کی تھی
05:51جو ان کی شرافت اور اللہ کے خوف کا ثبوت تھا
05:53حضرت اسماعیل علیہ السلام کا سنے بلوغت اور پہلی شادی
05:56وقت گزرتا رہا اور مکہ میں بہت سارے کچھ مکانات بن گئے
05:59بنی جرحم کی آبادی میں بھی مزید اضافہ ہوا
06:02اور اسماعیل علیہ السلام بھی اب جوان ہو چکے تھے
06:04حضرت اسماعیل لمبے قد کے خوب روح اور نہایت خوبصورت شخصیت کے مالک تھے
06:08انہیں دیکھ کر ہی ان کی آلہ نسبی اور پیغمبرانہ شرافت
06:12ہر کسی پر واضح ہو جاتی تھی
06:13حضرت اسماعیل علیہ السلام نہایت خوش اخلاق نرم طبیعت اور نیک صفت کے مالک تھے
06:18جو آپ کی والدہ بی بی حاجرہ کی بہترین تعلیم و تربیت کا نتیجہ تھا
06:21اور پیغمبروں کے گھرانے کی شان تھی
06:23حضرت اسماعیل علیہ السلام کا بنو جرحم کے سرداروں سے بہت دوستانہ تعلق قائم ہو گیا تھا
06:27اور بنی جرحم کبھی حضرت اسماعیل کو خود سے الگ نہیں سمجھتے تھے
06:31حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مادری زبان عبرانی تھی
06:34کیونکہ آپ کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک شامی عبرانی بولنے والے شخص تھے
06:37لیکن آپ نے قبیلہ بنی جرحم کے لوگوں سے عربی زبان سیکھی
06:40آپ بنی جرحم میں اس قدر گھن مل گئے
06:42کہ لوگ آپ سے بہت عقیدت اور محبت رکھتے تھے
06:45آپ کی شخصیت میں خاص کشش تھی جو سب کو اپنی طرف کھینچ دی تھی
06:49حضرت حاجرہ کا انتقال اور پہلی شادی کا فیصلہ
06:52لیکن ایک دن آپ کی والدہ حضرت حاجرہ وفات پا گئی
06:54ماں کی جدائی کا اسماعیل علیہ السلام کو بڑا صدمہ پہنچا
06:57اب آپ یہاں مکہ میں اکیلے رہ گئے
06:59کیونکہ والد حضرت ابراہیم علیہ السلام تو شام میں تھے
07:02چنانچہ آپ نے ارادہ کیا کہ اب والد کے پاس ملک شام چلے جائیں
07:05لیکن بنی جرحم کے لوگوں کو اسماعیل علیہ السلام کی جدائی گبارہ نہ دی
07:08کیونکہ وہ انہیں اپنے درمیان ایک برکت کا باعث
07:11اپنا محسن سمجھتے تھے
07:12بنی جرحم نے سوچا کیوں نہ حضرت اسماعیل کی شادی ہمارے قبیلے میں ہی کر دی جائے
07:16تاکہ آپ مکہ میں ہی مستقل سکونت اختیار کر لیں
07:18اور ہم سے جدہ نہ ہوں
07:19چنانچہ قبیلہ جرحم میں امارہ بنت سعید نامی ایک خوش طبیعت اور خوبصورت خاتون تھی
07:24بنی جرحم کے لوگوں نے اسماعیل علیہ السلام سے ان کی بیٹی سے نکاح کے درخواست کی
07:28تو آپ نکاح کے لئے راضی ہو گئے
07:30اس طرح امارہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پہلی بیوی بن کر آپ کے گھر آ گئیں
07:33یہ شادی ایک نئے رشتے کا آغاز تھی جو قبیلے کے لئے اعزاز کا باعث تھی
07:37حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پہلی ملاقات اور بیٹی کو پہلا پیغام
07:41حضرت اسماعیل علیہ السلام کا کوئی مستقل ذریعہ معاش نہیں تھا
07:44آپ علیہ السلام روز شکار کیلئے جائے کرتے اور اسے جو کچھ ملتا اسی سے گزر بسر ہوتا تھا
07:50چونکہ شکار ایک غیر یقینی روزی ہوتی ہے لہذا کبھی شکار ملتا اور کبھی نہ ملتا
07:55چنانچہ کبھی کبھی فاقع بھی کرنے کی نوبت آ جاتی
07:58ان کے زندگی میں بہت صبر اور توقع تھا مگر دنیاوی مشکلات بہت تھی
08:02ایک مرتبہ معمول کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام
08:05اپنے اہل و آیال بیوی اور بیٹے کو دیکھنے مکہ تشریف لائے
08:08آپ نے دروازے پر دستک دی بہو امارہ نے دروازہ کھولا اور سلام کیا
08:13لیکن امارہ نہیں جانتی تھی کہ یہ بزرگ ہستی حضرت اسماعیل علیہ السلام کے والد ابراہیم ہے
08:18کیونکہ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پہلے نہیں دیکھا تھا
08:21ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا اسماعیل کہاں ہے
08:23امارہ نے جواب دیا وہ روزی کی تلاش میں گئے ہیں
08:26حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کی خیریت معلوم کی
08:29اور پھر امارہ سے پوچھا تمہارا گزر بسر کیسے ہوتا ہے
08:31امارہ نے جواب دیا بہت تنگ دستی سے وقت گزر رہا ہے
08:34ہم بدحالی میں جی رہے ہیں اور سختی اور قسم پرسی میں زندگی کٹ رہی ہے
08:39اس لہجے میں ناشکری اور شکوہ نمائی تھا
08:41حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے رہنسین اور حالات کے بارے میں پوچھا
08:45تو وہ مزید شکوہ کرنے لگی کہ ہم بڑی مشکل میں ہیں
08:48پاکے ہو جاتے ہیں اور زندگی میں کوئی آسانی نہیں
08:50حضرت ابراہیم علیہ السلام نے امارہ کی پریشانیوں کو بغور سنا
08:54اور ان کے اندازے گفتگو میں ناشکری محسوس کی
08:56انہوں نے حکمت سے کام لیا اور نہایت نرمی سے فرمایا
08:59جب تمہارا شوہر اسماعیل واپس آئے تو اسے میرا سلام کہنا
09:02اور اسے کہنا ہے کہ تمہارے گھر کی چوکٹ اچھی نہیں ہے
09:05اس لئے اپنے گھر کے دروازے کی چوکٹ کو بدل دو
09:08اور پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں سے چلے گئے
09:10امارہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بات نہ سمجھ سکی
09:13اور اسے محض ایک بزرگ کی عجیب بات سمجھا
09:16طلاق کا پیغام اور اسماعیل علیہ السلام کی حکمت
09:19شام کو جب اسماعیل علیہ السلام شکار سے گھر واپس آئے
09:22تو انہوں نے کچھ غیر معمولی محسوس کیا
09:24شاید گھر میں کسی بزرگ کی موجودگی کی خوشبو
09:26یا کوئی ایسی فضاء جو عام نہ تھی
09:29انہوں نے امارہ سے پوچھا
09:30کہ آج کوئی آئے تھا
09:32اس نے جواب دیا جی ہاں ایک فلاں فلاں
09:34صفت کا ایک بڑا شخص یہاں آیا تھا
09:35اور مجھ سے آپ کے بارے میں پوچھ رہا تھا
09:37میں نے اسے آپ کی خبر دی اور بتائے
09:39کہ ہماری حالت زندگی کیسی تنگ دستی
09:41اور غربل سے کٹ رہی ہے
09:43اور ہم بڑے پریشان ہیں
09:44یہ سنکا حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا
09:46کیا انہوں نے آپ کو کوئی نصیحت کی ہے
09:48انہوں نے کہا ہاں
09:49انہوں نے آپ کو سلام کہا ہے
09:51اور آپ سے کہنے کو کہا ہے
09:52کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں
09:54اسماعیل علیہ السلام کچھ دیر خاموش رہے
09:56گہرے غور و فکر میں ڈوب گئے
09:58انہیں فوراں سمجھا گیا
09:59کہ یہ آنے والے بزرگ
10:00ان کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے
10:03آپ نے غمگین لہجے میں فرمایا
10:04وہ بزرگ میرے والد ابراہیم علیہ السلام تھے
10:07اور ان سے میری ملاقات تو نہ ہو سکی
10:09البتہ انہوں نے مجھے ایک پیغام دیا ہے
10:11کہ گھر کی چوکھٹ اچھی نہیں ہے
10:13اسے بدل دینا
10:13یعنی تمہاری بیوی ناشکری ہے
10:16اس کی فطرت میں صبر نہیں ہے
10:18لہٰذا اسے بدل دو
10:19اور اسے الہدہ ہو جاؤ
10:20لہٰذا حضرت اسماعیل علیہ السلام
10:22نے اپنی پہلے بیوی امارہ کو
10:23اللہ کے حکم کے مطابق
10:24طلاق دے کر اسے فارغ کر دیا
10:26یہ عمل شریعت کے حکم
10:27اور والد کے نصیحت کی پیروی تھی
10:29دوسری شادی
10:31نیک بیوی کا انتخاب
10:32اس واقعے کے کچھ عرصے بعد
10:33اسماعیل علیہ السلام کو ضرورت محسوس ہوئی
10:35کہ وہ ایک ایسی پریزگار
10:37اور صابر شاکر خاتون کو گھر لائیں
10:39جو دکھ درد میں ان کی سچی ساتھی ہو
10:40جو اللہ پر توقع کرے
10:42اور ہر حال میں شکر گزار ہو
10:43لہٰذا بنی جرحم کی کچھ موجز لوگوں نے
10:46حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مشورہ دیا
10:48کہ ایک نیک صفت عورت
10:49ہمارے قبیلے میں موجود ہے
10:50جس کا نام رالہ ہے
10:52بعض روایات میں اس خاتون کا نام
10:54سیدہ بنتے مزاز لکھا گیا ہے
10:56یہ خاتون دیندار
10:58باخلاق اور صبر کرنے والی تھی
11:00بہرحال اسماعیل علیہ السلام نے
11:02ان کے والد کو نکاح کا پیغام بھیجا
11:04اور یوں انہوں نے
11:04اپنی بیٹی رالہ کا نکاح
11:06اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ کر دیا
11:08اس طرح رالہ آپ علیہ السلام کے گھر آ گئیں
11:10اور ایسر نے ایک شوہر ملنے پر
11:12اللہ کا شکر ادا کیا
11:13یہ شادی اللہ کی مرضی
11:14اور اسماعیل علیہ السلام کی حکمت کا نتیجہ تھی
11:17رالہ کی وفداری اور نسل نبوت کی بنیاد
11:19کچھ عرصے بعد پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام
11:21مکہ تشریف لائے
11:22یہ معمول تھا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل
11:24اور بہو سے ملنے آتے تھے
11:25تاکہ ان کی خبرگیری کر سکیں
11:27حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دربازے پر آ کر کہا
11:29اے گھر والو تم پر اللہ کی رحمت ہو
11:31اس پر رالہ پردے میں بھارائیں
11:33اور ابراہیم علیہ السلام کو سلام کیا
11:34رالہ نے سمجھا یہ کوئی بزرگ کوئی مسافر ہیں
11:37لہذا انہوں نے نہایت عدب سے کہا
11:39کہ آپ میرے غریب خانے پر تشریف لائیں
11:41اور ہمیں مہمان نوازی کا موقع دیں
11:42حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے پوچھا
11:44کہ تمہارا شہر کہاں ہے
11:45رالہ نے نہایت ہی عدب اور حیاء سے عرض کیا
11:48وہ ہمارے لئے اللہ کی زمین سے رزق حاصل کرنے کو نکلے ہیں
11:51یعنی شکار پر گئے ہیں
11:52حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بی بی رالہ سے پوچھا
11:54کہ تمہارا گزر بزر کیسا ہو رہا ہے
11:56رالہ نے عرض کیا اللہ کا شکر ہے
11:58کہ ہم بہت اچھے سے گزر بزر کر رہے ہیں
12:00ہم خوشحال ہیں
12:01اور اللہ کی فضل و کرم سے کوئی کمی نہیں
12:03اور پھر انہوں نے بڑی خوشی کے ساتھ
12:04اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا
12:06ان کے چہرے پر رضا اور خنات کے آسان نمائی تھے
12:09ابراہیم علیہ السلام نے رالہ سے پوچھا
12:11کیا گھر میں کچھ گلہ اناج اگندم موجود ہے
12:13تو بی بی رالہ نے جواب دیا
12:15اگر آپ کو زادے راہ کے لئے اناج چاہیے
12:17تو میں بھی انتظام کر دوں گی انشاءاللہ
12:19اس وقت ابراہیم علیہ السلام
12:20اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور دعا کی
12:22اے اللہ ان کے کھانے پینے میں برکت اتا فرما
12:25تفسیر ابن کسیر
12:26اور یہی دعا آج تک مکہ میں
12:28ہر چیز کی فرابانی کا سبب ہے
12:30پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رالہ سے فرمایا
12:32جب تمہارا شوہر آئے تو اسے میرا سلام کہہ رہا
12:34اور میری طرف سے انہیں کہنا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کی
12:36ہمیشہ حفاظت کریں
12:38اس میں تمہاری بہتری ہے
12:39یہ کہہ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں سے چلے گئے
12:42رالہ کی دانشمندی اور ابراہیم علیہ السلام کا دوسرا پیغام
12:45جب اسماعیل علیہ السلام شکار سے گھر واپس آئے
12:47تو انہوں نے اپنے والد کی خوشبو محسوس کی
12:49اور پوچھا کہ آج کوئی آئے تھا
12:51رالہ نے جواب دیا ہاں
12:52آج ہمارے ہاں ایک بزرگ تشریف لائے تھے
12:54جن کے چہرے پر جلال و جمال تھا
12:56شیدی گفتگو تھی اور وہ آلہ اخلاق کے مالک تھے
12:59بزرگ نے مجھ سے آپ کے بارے میں پوچھا
13:01تو میں نے آپ کے بارے میں بتایا کہ آپ شکار کو گئے ہیں
13:03پھر انہوں نے ہمارے گزر بسر اور حالات کے متعلق سوال کیا
13:06تو میں نے ان سے عرض کر دیا
13:07کہ ہم اللہ کے فضل و کرم سے خوشحال ہیں
13:09انہوں نے ہمارے لئے برکت کی دعا فرمائی
13:11حضرت اسماعیل علیہ السلام نے پوچھا
13:13کیا انہوں نے کچھ نصیحت بھی فرمائی تھی
13:15تو رالہ نے جواب دیا ہاں
13:16وہ آپ کو سلام کہہ رہے تھے
13:17اور آپ کو حکم دیا
13:19کہ آپ اپنے دروازے کی چوکٹ کی ہمیشہ حفاظت کریں
13:21اسماعیل علیہ السلام مسکرائے اور فرمایا
13:23وہ بزرگ میرے والد محترم ابراہیم علیہ السلام تھے
13:26اور وہ چوکٹ تم ہو
13:28جس کے بارے میں انہوں نے مجھے نصیحت کی ہے
13:29کہ اسے زندگی بھر ساتھ رکھنا
13:31کیونکہ تم ایک نیک اور باوفا بیوی ہو
13:33بیوی رالہ جرم قبیلے کی تمام عورتوں میں
13:35سب سے زیادہ دیندار پاک باز اور سلیقہ من تھی
13:38آپ اللہ اور اس کے رسول پر
13:40کامل یقین اور توقع رکھتی تھی
13:42اور ہر دکھ درد اور زندگی کے اتار چڑھاؤ میں
13:44اسماعیل علیہ السلام کا ہمیشہ ساتھ دیا
13:46انہیں زندگی کی زیب و زینت سے زیادہ آخرت کی چاہت تھی
13:49بیوی رالہ کو یہ احساس تھا
13:50کہ وہ ایک ذمہ دار پیغمبر کی بیوی ہے
13:52جنہیں اللہ نے دعوت دین کا کام سوپ کر
13:54اس دنیا میں بھیجا ہے
13:55اور ان کی ذمہ داری زمین پر توہید کے پیغام کو عام کرنا ہے
13:58اسی لئے حضرت رالہ ہر حال اور نازخ موڑ پر
14:01اسماعیل علیہ السلام کی بہترین ہمسفر ثابت ہوئیں
14:04نسل نبوت کی بنیاد اور اہم اسباق
14:07چنانچہ حضرت عبراہیم علیہ السلام نے ان کے لئے برکت کی دعا فرمائی تھی
14:10لہذا اللہ نے ان کے اولاد میں خوب برکت عطا کی
14:13اور اسماعیل علیہ السلام سے آپ کے ہاں بارہ بیٹے اور ایک بیٹی کی ولادت ہوئی
14:18حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ یہ حضرت عبراہیم علیہ السلام کی دعا کا ہی نتیجہ ہے
14:22کہ مکہ میں ہر چیز فروانی سے پائی جاتی ہے اور برکتیں جاری ہیں
14:26بہرحال حضرت اسماعیل علیہ السلام کے اولاد سے کئی عرب قبائل وجود میں آئے
14:30بی بی رالہ کے انہی بارہ بیٹوں میں ایک کنام قیدار تھا
14:34جن کا ذکر عربی تاریخ اور تورات میں بھی درچ ہے
14:37انہی قیدار کی نسل سے ایک نامور قبیلہ قبیلہ قریش وجود میں آیا
14:40جن میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش ہوئی
14:46جو نبیوں کے سلسلے کی آخری کڑی تھے اور جن کی نبوت قیامت تک کے لیے ہے
14:50حضرت اسماعیل علیہ السلام کے اس واقعے میں ہمارے لئے بہت سارے سبق اور پیغام پوشیدہ ہیں
14:55سب سب والی ہے کہ ایک بیوی کا اپنے شہر کی غیر موجودگی میں کیسا طرز عمل ہونا چاہیے
14:59عورت کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے شہر کی عزت اس کے مال اور گھر کی حفاظت کرے
15:03حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پہلے بیوی امارہ کی باتوں سے اس کا ناشکرہ ہونا
15:16اپنے بیٹے کو علیہتگی کی نصیحت کی کیونکہ ایک نیک بیوی ہمیشہ اپنے خوابند کی عزت اور سفید پوشی کا
15:22بھرم رکھتی ہے
15:23ہر کسی کے سامنے اپنی تنگ دستی کا رونا نہیں روتی اور یہ خسائل کسی نبی کے گھرانے کے شائعہ
15:28نشان نہیں تھے
15:28اس سامنی سبق بھی ملتا ہے کہ عالی اخلاق اور تذکیہ نفس میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی
15:33ہے
15:33ایک آدمی مکمل طور پر اپنے آپ کو بے شکایت بنا لے اور کسی شخص سے بھی کوئی شکایت ہونے
15:38کے باوجود وہ پوری طرح سے ایک مضبط سوچ والا انسان بن جائے
15:41جبکہ بہترین بیوی کی خوبیوں میں خوبی شہر کی فرمابرداری کے ساتھ اپنے ذمہ داری کو سمجھنا اور برے حالات
15:48میں خوابند کا ساتھ دینا ہے
15:50ایک نئے خاتون کے پہچان یہ کہ اگر ضروریات زندگی اور اسباب میں کوئی کمی ہو تو وہ اس پر
15:55بھی خوشی کا اظہار کرے اور صبر و شکر کرے اور یہی ایک کامیاب حضواجی زندگی کا راز ہے
16:00اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اس دنیا کے مطا میں سے بہترین
16:05مطا نیک عورت ہے
16:06صحیح مسلم یہ حدیث بیوی کی اہمیت اور اس کے کردار کو واضح کرتی ہے
16:11نتیجہ اور اختتامی دعا
16:13پیارے دوستو یہ واقعہ ہمیں اللہ پر کامل توقل کی اہمیت بھی سکھاتا ہے
16:17حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے شیر خار بچے اور بیوی کو ایک بنجر سہرہ میں چھوڑ دیا
16:22مگر اللہ نے ان کی مدد فرمائی اور وہاں زمزم کا چشمہ جاری کر دیا
16:26یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب انسان اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اسے کبھی تنہا نہیں
16:31چھوڑتا
16:31یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کے مشکلات میں گھبرانے کے بجائے
16:35اللہ پر کامل یقین رکھنا چاہیے
16:37اس واقعے سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی اپنے برگزیدہ بندوں کو مختلف طریقوں سے آزماتے
16:42ہیں
16:42تاکہ ان کے ایمان کو مضبوط کریں اور ان کے درجات بلند کریں
16:46حضرت حاجرہ اور اسمائل کا صبر اس بات کا ثبوت ہے
16:48کہ اللہ کی راہ میں آنے والی ہر مشکل صبر اور شکر کے ساتھ برداشت کی جائے
16:53تو اس کا انجام بہت بہتر ہوتا ہے
16:54آخر میں یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے
16:57کہ خاندان اور گھر کی بنیاد کس پر ہونی چاہیے
17:00پہلی بیوی کا ناشکرہ رویہ اور دوسری بیوی کا صابر و شاکر ہونا
17:03گھر کی خوشحالی اور نسل کی برکت کا سبب بنا
17:06یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کا کردار گھر کی بنیاد اور اس کے ماحول پر گہرے اثرات
17:11مرتب کرتا ہے
17:11دعائے کہ اللہ تعالی ہمیں انبیاء کرام کی زندگیوں سے سبق سیکھنے
17:15اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
17:18ہمیں صبر شکر اور اللہ پر کامل توقع نصیف فرمائے
17:22اور ہمارے گھروں کو رحمت و برکت کا گہبارہ بنائے
17:25آمین یارب العالمین
17:27پیارے دوستو یہ تھی آج کی ویڈیو
17:29جس میں ہم نے حضرت ابراہیم حاجرہ اور اسماعیل علیہ السلام کے
17:33اس عظیم الشان واقعے کو تفصیل سے بیان کیا
17:35امید ہے کہ یہ معلومات آپ کے لئے باعث علم اور عبرت ہوگی
17:38اب ہم آپ سے جاننا چاہتے ہیں کہ آج کی ویڈیو آپ کو کیسی لگی
17:41اور کیا آپ کے ذہن میں انبیاء اکرام کی زندگی کے بارے میں کوئی اور سوال ہے
17:46آپ اپنی قیمتی رائے اور خیالات کامنٹ سیکشن میں ضرور شیئر کریں
17:49ہمیں آپ کے خیالات کا انتظار رہے گا
17:51اس کے ساتھ ہی مجھے اجازت دیجئے
17:53ملتے ہیں اگلی ویڈیو میں
17:55دعا
17:56اے اللہ
17:57ہم سب تیرے بندے ہیں
17:58تیرے ہی در کے سوالی ہیں
18:00تیرے ہی رحم کے طلبکار ہیں
18:02اور تیرے ہی سامنے جھکنے والے ہیں
18:04تو غفور ہے
18:05رحیم ہے
18:06کریم ہے
18:07تو بخشنے والا ہے
18:08در گزر کرنے والا ہے
18:10تو سب جانتا ہے
18:11ہم کچھ نہیں جانتے
18:13تو سب کچھ کر سکتا ہے
18:15ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے
18:17یا اللہ
18:17ہمیں اس حال میں نہ چھوڑ
18:19کہ ہم
18:19اپنے نفس کے حوالے کر دیے جائیں
18:21ہمیں ہمارے گناہوں کی وجہ سے تباہ نہ کر
18:24ہمارے لغزشوں کو در گزر فرما
18:26ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما
18:28ہمارے دلوں کو ہدایت دے
18:30ہماری زبانوں کو سچائی پر قائم رکھ
18:33اور ہمارے عمال کو اپنے لئے خالص بنا دے
18:36یا رب العالمین
18:37ہم کمزور ہیں
18:38ہم بھولنے والے ہیں
18:40ہم بار بار گناہ کرنے والے ہیں
18:42مگر تو
18:43ہر بار معاف کرنے والا ہے
18:45ہم نے دنیا کی محبت میں تیری یاد کو بھولا دیا
18:47مگر اے رب
18:48تو ہمیں مت بھولا
18:50ہمیں اپنے ذکر سے زندہ رکھ
18:52اپنے عبادت میں لگا دے
18:54اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
18:57سنت پر عمل کرنے والا بنا دے
18:59یا رب العالمین
19:01ہمیں وہ آنکھیں عطا فرما
19:02جو تیرے خوف سے عشق بار ہوں
19:04وہ دل عطا فرما
19:05جو تیری عظمت سے کامپ اٹھے
19:06وہ زبان عطا فرما
19:07جو ہر وقت تیرا ذکر کرے
19:09اور وہ زندگی عطا فرما
19:11جو تیری رضا میں گزرے
19:12اے مالک یوم الدین
19:14جب ہمارے جنازے اٹھیں
19:16تو ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما
19:18جن کے لئے فرشتے دعائیں کرتے ہوں
19:20جب ہمیں لہد میں اتارا جائے
19:22تو ہماری تنہائی کو
19:24اپنی رحمت سے آباد فرما
19:25جب حساب کا وقت ہو
19:26تو ہمیں اپنے محبوب
19:27صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
19:30شفاعت فرما
19:31اور ہمیں ان کے حوز کسر سے پانی نصیب فرما
19:34اے اللہ
19:34ہمارے ماباپ کو بخش دے
19:36ان کی قبر کو نور سے بھرتے
19:38جنہوں نے ہمیں پالا
19:39سکھایا
19:40ہر تکلیف پرداش کی
19:41ان کے قربانیوں کو
19:43اپنی بارگاہ میں قبول فرما
19:44اور ہمیں ان کے لئے صدقہ جاریہ بنا دے
19:47اور اگر وہ زندہ ہیں
19:48تو ان کے عمروں میں برکت عطا فرما
19:50ان کے صحت کی حفاظت فرما
19:52ان کی دعائیں ہمارے لئے قبول فرما
19:54یارب
19:55جن کے اولاد ہے
19:56ان کے بچوں کو نیک سالے
19:58اور فرما بردار بنا
20:00جن کے اولاد نہیں
20:01ان کو نیک اولاد عطا فرما
20:03جن کے رزق میں تنگی ہے
20:04ان کو وسط عطا فرما
20:06جن پر قرض ہے
20:07ان کو حلال رزق سے
20:09ادائیگی کی توفیق عطا فرما
20:11جن کے دل زخمی ہیں
20:12انہیں تسلی عطا فرما
20:14جن کے گھر اجڑ چکے ہیں
20:15ان کو سکون عطا فرما
20:17جو بیمار ہیں انہیں
20:19شفا عطا فرما
20:20جو بے اولاد ہیں انہیں خوشی دے دے
20:22یا اللہ
20:23ہم تجھ سے مانگتے ہیں
20:24ایمان کی حلاوت
20:26دلوں کی پاکیزگی
20:27نفس کی طہارت
20:29زبان کی صداقت
20:30عمل کی اخلاص
20:31اور آخرت کی کامیابی
20:33ہمیں دنیا کی آزمائشوں سے بچا
20:35آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما
20:37اور سرات پر ثابت قدمی عطا فرما
20:40یا اللہ
20:41ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما
20:42جنہیں
20:43تو جنت کی بشارت دیتا ہے
20:44جن کے لئے دروازے کھول دیے جاتے ہیں
20:47جنہیں سلام کیا جاتا ہے
20:48جن کے چہرے روشن ہوتے ہیں
20:50جن کے دل
20:51مطمئن ہوتے ہیں
20:52جن پر تیرا فضل ہوتا ہے
20:54اور جنہیں تو اپنا قرب عطا فرماتا ہے
20:57یا رب
20:58ہمیں پل سرات پر نور عطا فرما
21:00ہمارے قدموں کو ثابت رکھ
21:01ہمارے گناہوں کو ہمارے چہروں پر نہ لانا
21:04ہمارے عیبوں کو ڈھاپ لینا
21:06اور ہمیں رسوائی سے بچا لینا
21:08اے مالک
21:09جب تو جنت کی کنجی عطا کرے
21:11تو ہمیں پیچھے سے نہ چھوڑنا
21:13جب تو اپنے نیک بندوں کو بلائے
21:15تو ہمیں محروم نہ رکھنا
21:16جب تو اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
21:19مقام محمود دے
21:21تو ہمیں ان کے قریب رکھنا
21:22جب تو جنت کی ہوا چلا دے
21:24تو ہمیں بھی ان میں شامل کر لینا
21:26جب تو جنت کے دروازے کھولے
21:28تو ہمیں بھی داخلہ عطا فرما دینا
21:30یا اللہ
21:31ہمیں دنیا میں بھی سکون عطا فرما
21:33اور آخرت میں بھی کامیابی دے
21:36ہمیں اس امت کے لیے نفع بخش بنا دے
21:39ہمارے قلم زبان
21:40اور وسائل کو تیرے دین کی خدمت میں لگا دے
21:43ہمیں گمراہی سے بچا
21:45اور حق کے راستے پر قائم رکھ
21:47ہمارے عمال کو قبول فرما
21:49اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما
21:51جنہیں تو اپنا محبوب کہے
21:53یا اللہ ہمارے دلوں کو
21:54ہر قسم کے کینے
21:55حسد
21:56بغض
21:57نفرت
21:58اور دشمنی جیسے زہریل جذبات سے
22:00مکمل طور پر پاک فرما دے
22:02ان اندھیری کیفیتوں کو
22:04ہمارے دلوں سے ایسے مٹا دے
22:06جسے روشنی اندھیرے کو ختم کر دیتی ہے
22:08ہمارے سینوں کو فراخ دے
22:10ہماری طبیعاتوں کو نرم
22:12اور ہمارے رویوں کو
22:13درگزر پر مائل فرما
22:15اے رب کریم
22:16ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما
22:18جن کے دل محبت سے لبریز ہوتے ہیں
22:20جن کی زبانیں دوسروں کے لئے خیر کہتی ہیں
22:23جن کے عمل
22:24امن
22:25رحم
22:25اور شفقت پیغام ہوتے ہیں
22:27ہم ایسا انسان بنا دے
22:29جو دوسروں کو معاف کرنے والا ہو
22:30جو رشتے جوڑنے والا ہو
22:32جو دوسروں کی غلطیوں پر پردے ڈالنے والا ہو
22:34جو ہر حال میں نرمی اختیار کرنے والا ہو
22:37اے پروردگار
22:38ہمیں ایسا دل عطا فرما
22:40جو تکبر سے پاک ہو
22:41جو حسد سے دور ہو
22:43جو نہ کسی کا برا چاہے
22:45نہ کسی کی خوشی سے جلنے لگے
22:47نہ کسی کی کامیابی سے پریشان ہو
22:49ہمیں ایسا ذرف عطا کر دے
22:50جو دوسروں کے لئے دعا کرے
22:52حتیٰ کہ ان کے لئے بھی جنہوں نے ہمیں دکھ دیا ہو
22:55اور ہمیں ایسے دل دے دے
22:57جو تیرے بندوں سے بخص نہ رکھیں
22:58بلکہ ان کے لئے خیر کا ذریعہ بنے
23:00یا اللہ ہمارے گھروں میں
23:02محبت، الفت، اتحاد اور سکون نازل فرما
23:06ہمارے خاندان کو باہیمی احترام
23:08اعتماد اور خلوص کی دور سے باندھے
23:11ہمارے درمیان نفرت، زد، انائیت
23:14اور بدگومانی کی دیواریں گران دے
23:16ماباپ اور اولاد کے درمیان
23:18محبت گہری کر
23:20میاں بیوی کے درمیان
23:21معدد پیدا کر
23:23بہن بھائیوں کے دلوں میں
23:24اتفاق اور قربانی کا جذبہ پیدا کر
23:27آمین یا رب العالمین
23:29ہمیں وہ گھر اتا فرما
23:31جن کے دور و دیوار ذکر سے گونجتے ہوں
23:33جن میں تجھ پر توقل کیا جاتا ہو
23:36جن پر فرشتے رحمت لے کر اترتے ہوں
23:39یا اللہ ہمارے نفس کی شرارتوں کو قابو میں رکھ
23:42ہمیں خواہشات کا غلام بننے سے بچا
23:44ہمیں اپنی خواہشات کے بجائے
23:46تیرے احکامات کا تابع بنا
23:48ہمیں صبر اتا فرما
23:49قنات اتا فرما
23:50شکر کا جذبہ اتا فرما
23:52اور نفس کی ہر غلط طلب سے محفوظ فرما
23:55ہمیں دنیا کی چمک دمک فریب
23:57اور دھوکہ دہی سے نجات اتا فرما
23:58کہ یہ سب عارضی ہیں
24:00اور اصل کامیابی تیری رضا میں ہے
24:02یا رب اس ویڈیو کو
24:03اس پیغام کو
24:04اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما
24:06جنہوں نے اسے سنا
24:08ان کے دلوں پر اثر فرما
24:09انہیں نیکی کی طرف مائل فرما
24:11اور برائیوں سے دور رکھ
24:13اس ویڈیو کے ذریعے
24:14ہدایت کا ذریعہ بنا
24:15مغفرت کا ذریعہ بنا
24:17بخشش کا ذریعہ بنا
24:18یا اللہ
24:19جو بھائی بہن ہماری اس کابش میں شامل ہیں
24:21ان سب کے درجات بلند فرما
24:23ان کے رزق
24:24صحت
24:25علم
24:25اور عامال میں برکت اتا فرما
24:27انہیں اور ان کے اہل خانہ کو اپنے حفاظت میں رکھ
24:30ان کے دعائیں قبول فرما
24:31ان کے راستے آسان فرما
24:33ان کے لئے دنیا اور آخرت کی بھلائیاں لکھتے
24:35یار ہم الراہیمین
24:37ہمیں موت کی حقیقت یاد دلا
24:39یار ہم الراہیمین
24:40ہمیں موت کی حقیقت یاد دلا
24:42ہمیں دنیا کی فانی خوشیوں سے نکل کر
24:45تیری رضا کی طلب اتا فرما
24:46ہمیں قرآن
24:47صبر
24:48شکر
24:48اور توقل کا راستہ دکھا
24:50ہمیں اپنی محبت اتا فرما
24:52اور اپنی معرفت سے سرفراز فرما
24:54اے اللہ جب قبر میں اکیلے ہو
24:55تو تو ہمارا ساتھی ہو
24:57جب اندھیریں ہوں
24:58تو تو روشنی اتا فرما
24:59جب آمال کا پلڑا تولا جائے
25:01تو تو ہمارے نیک آمال کو بھاری کر دے
25:03جب کتابیں دی جائیں
25:05تو ہمیں دائیں ہاتھ میں دینا
25:06جب نام آئے آمال کھلے
25:08تو ہمیں شرمندہ نہ کرنا
25:10یا اللہ
25:10ہم سب کی توبہ قبول فرما
25:12ہمیں ہدایت دے
25:14ثابت قدمی دے
25:15اور ہماری زندگی کا خاتمہ ایمان پر فرما
25:17اے اللہ
25:18تو ہمارے دلوں کو سیدھا کر دے
25:20ہمارے راستوں کو درست کر دے
25:22ہمارے نیتوں کو پا کر دے
25:24اور ہمیں صرف اور صرف
25:25تیرے لئے جینے
25:26اور مرنے کی توفیق دے
25:27ربنا تقبل مننا
25:30انکا انتا السامی علیم
25:32و تب علینا انکا انتا تباب الرحیم
25:35اللہم سلی علی محمد و علی آل محمد
25:39کما سلیت علی ابراہیم
25:41و علی آل ابراہیم
25:43انکا حمید مجید
25:45اللہم بارک
25:46علی محمد و علی آل محمد
25:48کما بارکتا
25:50علی ابراہیم
25:51و علی آل ابراہیم
25:52انکا حمید مجید
25:54آمین
25:55یا رب العالمین
Comments

Recommended