- 5 days ago
Kya The Simpsons ne waqai Iran aur Israel ke darmiyan aane wali jang ya tension ko pehle se predict kar diya tha?
Is video mein hum explore karte hain wo shocking scene jo The Simpsons jaise animation show mein dikhaya gaya, jo aaj ki Middle East ki halat se bohot milta julta hai.
Noor TV ne is video mein ilmi, tahqiqi aur Islamic perspective se bataya hai ke:
Kya yeh sirf coincidence hai ya plan ki gayi predictive programming?
Kya yeh akhir zaman ke waqi'at ki taraf ishara hai?
Iran aur Israel ke darmiyan jang ka Islamic angle kya hai?
Dekhiye poori video taake aap samajh sakein media, politics, aur prophecy ke darmiyan ka ta’alluq.
Is video mein hum explore karte hain wo shocking scene jo The Simpsons jaise animation show mein dikhaya gaya, jo aaj ki Middle East ki halat se bohot milta julta hai.
Noor TV ne is video mein ilmi, tahqiqi aur Islamic perspective se bataya hai ke:
Kya yeh sirf coincidence hai ya plan ki gayi predictive programming?
Kya yeh akhir zaman ke waqi'at ki taraf ishara hai?
Iran aur Israel ke darmiyan jang ka Islamic angle kya hai?
Dekhiye poori video taake aap samajh sakein media, politics, aur prophecy ke darmiyan ka ta’alluq.
Category
📚
LearningTranscript
00:28ڈسیمسن کی پیشگوئی
00:30ناظرین جب دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہوں تو صرف ایک چنگاری پوری دنیا کو آگ کے سمندر میں بدل
00:36سکتی ہے
00:36آج پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشید یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرے کی
00:42گھنٹی بن چکی ہے
00:43سردوں پر جنگی تیاریاں مکمل ہیں دونوں ممالک کے بیانات میں سختی آ چکی ہے اور ہر گزرتا لمحہ ایک
00:50بڑے تصادم کے جانب اشارہ کر رہا ہے
00:52ایسے میں دنیا کا مشہور ترین کارٹون ڈسیمسن جسے کئی بار ماضی کی حیران کن پیشگوئیوں کی وجہ سے عالمی
00:59شہرت حاصل ہوئی
00:59نے ایک ایسی پیشگوئی کی ہے جو ہوش اڑا دینے والی ہے
01:03یہ پیشگوئی صرف ایک کارٹون نہیں بلکہ ممکنہ طور پر مستقبل کا ایک خوفناک منظر ہو سکتی ہے
01:08اس میں نہ صرف پاک بھارت جنگ کی واضح جھلک موجود ہے
01:11بلکہ اس کے ممکنہ نتائج پہتے اور مغلوب قوم کا ذکر بھی ایسی تفصیل سے کیا گیا ہے
01:16کہ دیکھنے والا لرز اٹھتا ہے
01:18تو آپ سے گزارش ہے کہ اس ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھئے
01:21کیونکہ یہ محض ایک کارٹون کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے آنے والے کل کا ممکنہ عقس ہے
01:26اسے اپنے دوستوں اہل خانہ اور ہر اس شخص سے شیئر کیجئے
01:30جو حقیقت کو جاننے کا حق رکھتا ہے
01:32پیارے دوستو دیسامٹسنیک ایسا کارٹون ہے
01:34جسے دنیا بھر میں صرف ایک تفریحی شو کی طور پر نہیں
01:37بلکہ ایک پورا سرار اور حیرت انگیز کارٹون کے طور پر جانا جاتا ہے
01:41اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کارٹون میں وقتاً فوقتاً ایسی پیجگوئیاں کی ہیں
01:45جو بعد میں ہو بہو حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں
01:479-11 حملے دونلڈ ٹرم کی صدارت
01:50حتیٰ کہ کچھ جدید ٹیکنولوجیز کی آمد تک
01:53سب کچھ اس کارٹون میں برسوں پہلے دکھایا جا چکا ہے
01:56یہی وجہ ہے کہ جب دیسامٹسنس میں کوئی نئی اور چونکہ دینے والی بات سامنے آتی ہے
02:00تو دنیا اسے محض مزاق نہیں سمجھتی
02:02بلکہ گہری تشویش سے دیکھتی ہے
02:04حالی میں نشر ہونے والی قسط میں دیسامٹسنس نے ایسا منظرنامہ پیش کیا ہے
02:08جو ہمارے خطے کے لیے نہایت حساس اور خطرناک اشارہ بن سکتا ہے
02:12اس قسط میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک ممکنہ ایٹمی جنگ کو بڑی تفصیل سے دکھایا گیا ہے
02:17اور وہ بھی ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی تناؤں کا شکار ہیں
02:21اور ہر وقت ایک چنگاری سے بھڑکنے والی شولے کی مانند حالات کی سنگینی میں اضافہ ہو رہا ہے
02:26تشت کے مناظر بتاتے ہیں کہ کس طرح معمول کی سرحتی جھڑپ
02:30جیسے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ یا کسی فوجی قافلے پر حملہ ایک بڑے تناظر میں بدل جاتی ہے
02:35ابتدام میں یہ صرف الفاظ کی جنگ ہوتی ہے
02:37میڈیا میں ایک دوسرے پر الزمات کی بوچھار ہوتی ہے
02:40پھر سرکالی سطح پر بیانات آتے ہیں
02:42اور دیکھتے ہی دیکھتے فوجیں سرحدوں پر صف آ رہا ہو جاتی ہیں
02:45بھارت کی جانب سے پہلا حملہ دکھایا جاتا ہے
02:47جس کے جواب میں پاکستان فوری رد عمل دیتا ہے
02:50یہ حملے ابتدام روایتی ہتھیاروں سے ہوتے ہیں
02:52لیکن جیسے ایک بڑا شہر نشانہ بنتا ہے
02:54دونوں ممالک اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو فعال کر دیتے ہیں
02:57قشت کی دہلا دینے والے مناظر میں بھارت کی جانب سے ایک بڑا میزائل لاہور کی طرف داغا جاتا ہے
03:02اور جوابا پاکستان نئی دہلی کو نشانہ بناتا ہے
03:05ان حملوں سے ہزاروں لاکھوں انسانیں جانے نہیں جاتی
03:09بلکہ کئی بڑے شہر لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن جاتے ہیں
03:12امارتیں زمین بوس ہو جاتی ہیں
03:14اسپتال تباہ ہو جاتے ہیں
03:15بچے بوڑھے خواتین
03:17ہر طرف تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں
03:19لیکن بات یہی خط نہیں ہوتی
03:21فرسط میں دکھایا گیا ہے کہ یہ جنگ صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہتی
03:25آگے چل کر بین الاقوامی طاقتیں
03:27جیسے امریکہ چین روس اسرائیل اور ایران بھی
03:30اپنے اپنے مفادات کے تحت اس جنگ میں کود پڑتے ہیں
03:33اور یوں ایک علاقہ تنازیہ آن انفاناں تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے
03:38ایک منظر میں اقوائے متحدہ کی بے بسی بھی دکھائی گئی ہے
03:41جہاں تمام عالمی ادارے مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں
03:44دنیا کے کئی حصوں میں خوراہ کا بہران پیدا ہو جاتا ہے
03:47تیل کی رسد رک جاتی ہے
03:48عالمی منڈیوں میں شدید گرابٹ آتی ہے
03:50اور کروڑوں افراد ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں
03:53اگر ہم حقیقت کی دنیا میں نظر دوڑائیں
03:55تو یہ منظر نامہ بالکل ممکن دکھائی دیتا ہے
03:58پاکستان کے پاس اندازن 170 سے زائد ایٹمی ہتھیار موجود ہیں
04:02جبکہ بھارت بھی تقریباً اسی سطح کی ایٹمی صلاحیت رکھتا ہے
04:06دونوں کے پاس ایسے جدید میزائل سسٹمز ہیں
04:08جو چند ہی منٹوں میں ایک دوسرے کے بڑے شہروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں
04:12کشمیر کا دیری نتنازعہ
04:13پانی کے تقسیم پر اختلافات
04:15سرہدی جھڑپیں اور دہشتگردی کے الزامات
04:18یہ تمام عوامل کسی بھی لمحے
04:19ایک بڑے اور ناقابل واپسی تصادم کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں
04:23یہ سب کچھ دیس ایمسن کے کارٹون میں دکھائے گیا ہے
04:26لیکن حقیقت میں یہ محض تفریح نہیں
04:28بلکہ ایک ممکنہ علمیہ کی پیشگی جھلک ہے
04:30ایک ایسا منظر جسے
04:32اگر ہم نے سنجیدگی سے نہ لیا
04:33تو مستقبل میں پشتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا
04:37پیارے ناظرین
04:38ماہرین اور عالمی سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے
04:40کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان
04:42ایٹمی جنگ چھڑ گئی
04:43تو صرف ابتدائی چند گھنٹوں کے اندر اندر
04:45دو کروڑ سے زائد انسانی جانیں
04:48لقمہ اجل بن سکتی ہیں
04:49یہ تعداد نہ صرف حیرت انگیز ہے
04:51بلکہ اتنی بڑی ہے
04:52کہ انسانی عقل
04:53اس کا اندازہ لگانے سے قاسر ہے
04:55اور اگر خدا نہ خاصتہ یہ جنگ لمبی ہو گئی
04:57تو خطے کی معاشی سماجی
04:59اور تہذیبی بنیادیں
05:00ہمیشہ کے لیے منہدم ہو سکتی ہیں
05:02خوراکس صحت
05:03توانائی اور تعلیم
05:04جیسے بنیادی شعبے
05:05مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے
05:07لوگ صرف بموں سے نہیں مریں گے
05:09بلکہ بھوک پیاس بیماری
05:11ذہنی دباؤ
05:11اور معاشرتی افرتفری انہیں ختم کر دے گی
05:14سچ تو یہ ہے کہ
05:15ایسا کوئی ممکنہ منظر
05:16صرف ایک ہالنا خواب نہیں
05:18بلکہ ایک بھیانک حقیقت بننے کے دہانے پر ہے
05:20ہم یہ سوچنا ہوگا
05:21کہ کیا ایک کارٹون
05:22چاہے وہ خیالی ہو
05:23ہمیں وہ سچ دکھا رہا ہے
05:25جو ہمارے حکمران نہیں دیکھ پا رہے
05:27کیا باقی ہمیں دیس ایمسنج جیسے کارٹون سے
05:29یہ سیکھنے کی ضرورت ہے
05:30کہ جنگ کیسا قہر اور عذاب
05:32اپنے ساتھ لاتی ہے
05:33افسوس کا مقام یہ
05:34کہ آج کے لیڈرز
05:35جو خود محفوظ بینکرز میں
05:36بیٹھے فیصلے کرتے ہیں
05:38وہ جنگ کو مسائل کا حل سمجھتے ہیں
05:40حالانکہ جنگ صرف ایک تباہی ہے
05:41ایسی تباہی جس کے بعد
05:43کوئی فاتح باقی نہیں بچتا
05:44دیس ایمسنج کی یہ قسط
05:45گو کیک کارٹون ہے
05:46مگر اس کے مناظر اور پیغام
05:48نہایت حقیقی اور دردناک ہیں
05:50یہ ایک وارننگ ہے
05:51ایسی گھنٹی جو ہمیں
05:52جگانے کی کوشش کر رہی ہے
05:53اب بھی وقت ہے
05:54کہ ہم ہوش کے ناکھل لیں
05:56جذبات کے بجائے
05:57عقل سے کام لیں
05:58باتچیت اور صفارتی
05:59ذرائع کو ترجی دیں
06:00اور اپنے خطے کو
06:01ایک اجتماعی قبرستان
06:02بننے سے بچائیں
06:03دوستو اگر ہم اس جنگ کی طرح
06:04بڑھے تو صرف
06:05موجودہ نسل ہی نہیں
06:06بلکہ آنے والی نسلیں
06:07بھی برباد ہو جائیں گی
06:08وہ ہمیں معاف نہیں کریں گی
06:09وہ ہمیں بددوائیں دیں گی
06:11کہ ہم نے ان کے لئے
06:12ایک محفوظ دنیا چھوڑنے کے بجائے
06:13ایک جہنم ورثے میں دی
06:15اب وقت ہے کہ میڈیا
06:16جنگی طرحانے بجانے کے بجائے
06:18امن کا پرچم بلند کریں
06:20لیڈرز اشتہال انگیز بیانات کے بجائے
06:22تدبر اور ہوشمندی کا مظاہرہ کریں
06:24اور عوام بھی سوشل میڈیا پر
06:26نفرت پھیلانے کے بجائے
06:27بھائیچارے انسانیت
06:28اور برداشت کا پیغام دیں
06:30کیونکہ اگر یہ جنگ ہوئی
06:31تو کوئی نہیں بچے گا
06:32نہ مسلمان نہ ہندو
06:33نہ سکھ نہ عیسائی
06:35نہ امیر نہ غریب
06:36نہ فوجی نہ عام شہری
06:37صرف راک بچے گی
06:38تباہی بچے گی
06:39اور وہ درد جو صدیوں تک
06:41نسل درد نسل یاد رکھا جائے گا
06:43عالمی سیکیورٹی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی
06:45حالیہ ریپورٹ کے مطابق
06:46اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان
06:48ایٹمی تصادم ہو جاتا ہے
06:50تو اس کے اثرات
06:50صرف برسغیر تک محدود نہیں رہیں گے
06:52بلکہ پوری دنیا
06:53اس کی لپیٹ میں آ جائے گی
06:55سب سے پہلا اور فوری اثر
06:56دنیا کے موسم پر ہوگا
06:58ایٹمی دھماؤں سے پیدا ہونے والا دھوان
07:00اور گرد و غبار جب فضا میں پھیل جائے گا
07:02تو سورج کی روشنی زمین تک
07:03پوری شدت سے نہیں پہنچ پائے گی
07:05اس کے نتیجے میں
07:06زمین کا درجہ حرارت
07:07کئی درجے کام ہو جائے گا
07:08اس سائنسی مظہر کو
07:10نیوکلئر ونٹر
07:12یعنی ایٹمی سردی کہا جاتا ہے
07:13جو مہینوں بلکہ سالوں تک جاری رہ سکتی ہے
07:16ایسی صورتحال میں
07:17زمین کی ذرخیزی بری طرح متاثر ہوگی
07:19پسلیں اگنا بند ہو جائیں گی
07:21پھل اور سبزیاں ناپید ہو جائیں گی
07:23اور دنیا بھر میں قہد جیسی کیفیت پیدا ہو جائے گی
07:25عالمی سطح پر خوراک کی شدید قلت ہوگی
07:28جس کے نتیجے میں غزائی جنگیں چھڑ سکتی ہیں
07:30کمزور ممالک مزید کمزور ہو جائیں گے
07:32اور انسان نے تیک نئے بہران میں داخل ہو جائے گی
07:35اقتصادی محاصل پر بھی
07:36اس جنگ کے اثرات تباہ کن ہوں گے
07:38پاکستان اور بھارت ایک ایسے خطے میں واقع ہیں
07:40جہاں سے دنیا کی ایک بڑی تجارتی شہرہ
07:42بیرہ ہند گزرتی ہے
07:43اگر یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ جاتا ہے
07:46تو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی تجارتی نظام متاثر ہوگا
07:49تیل، گیس، گندم، چاول، عدویات
07:52اور دیگر بنیادی اشیاء ضرورت کی رسد رکھ سکتی ہے
07:55قیمت آسمان کو چھونے لگیں گی
07:57عالمی منڈیوں میں مندی چھا جائے گی
07:59سٹاک مارکیٹیں کریش ہو جائیں گی
08:01اور بین الاقوامی سرمایہ کاری منجمد ہو جائے گی
08:04یہ بہران صرف معیشت کا نہیں
08:06بلکہ پوری انسانی بقا کا بہران ہوگا
08:08رپورٹ میں سہت کے حوالے سے ایک اور
08:10تشویشناک پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے
08:12ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تابکاری
08:15محض پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہے گی
08:18ہوا کے ذریعے یہ زہری لاسر
08:19ایران، چین، افغانستان، نیپال، بنگلہ دیش، مشرق وستہ
08:23حتیٰ کی یورپ اور افریقہ کے
08:25بعض علاقوں تک بھی پھیل سکتا ہے
08:27سانس کی بیماریاں، جلدی امراض
08:29آنکھوں کی تکالیف اور سب سے بڑھ کر
08:31کینسر جیسے محلک امراض میں
08:32خطرناک حد تک اضافہ ہوگا
08:34دنیا بھر کے ہسپتار، ڈاکٹرز اور دوستاز کمپنیاں
08:37اس بڑے انسانی علمیے سے
08:39نمٹنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوں گی
08:41اور پھر ایک اور بہران
08:43مہاجرین کا توفان دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا
08:46پاکستان اور بھارت جیسے گنجان
08:47عباد ممالک کے کروڑوں افراد
08:49اپنے گھر بار چھوڑ کر
08:50محفوظ پناہ گاؤں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوں گے
08:53یورپ، غلیجی ریاستیں، ترکی، ایران
08:56اور دیگر ہمسائے ممالک پر
08:57مہاجرین کا بوجھ بڑھ جائے گا
08:59یہ انسانی ہجرتیں کئی دیگر سماجی مسائل
09:01کو جنم دیں گی جیسے بیروزگاری
09:03بدمنی، جرائم، مذہبی و نسلی
09:06تنازیات اور سیاسی ادم استحکام
09:08تو ناظرین یہ صرف پاکستان
09:09یا بھارت کا مسئلہ نہیں
09:10یہ پوری انسانیت کے مستقبل کا سوال ہے
09:12اگر ہم نے ابھی نہ سوچا
09:14تو کل ہم صرف پشتائیں گے
09:15ابھی بھی وقت ہے
09:16ہم ایک نئی راہ اختیار کریں
09:18ایسی راہ جو امن، انصاف اور انسانیت کی ہو
09:21ناظرین اب اگر سیمسن کارٹونز میں دکھائے جانے والی
09:24مزید پیشگوئیوں کی بات کی جائے
09:25تو انہی ویڈیوز میں یہ بھی دکھایا گیا ہے
09:28کہ سال دوہزار پچیس میں
09:29ورلڈ وارڈ 3 ہونے والی ہے
09:30اور دنیا کا انٹرنیٹ بند ہو جائے گا
09:32ان پیشگوئیوں میں کس حد تک سچائی ہے
09:34اور کیا واقعی دنیا میں رونما ہونے والے واقعات
09:37سیمسن کارٹونز میں پہلے دکھائے جاتے ہیں
09:39اس بارے میں لوگوں کی کئی تفسریں موجود ہیں
09:41کچھ لوگ اسے صرف ایک اتفاق قرار دیتے ہیں
09:43اور کچھ لوگ اسے بلکل سچ مانتے ہیں
09:45ان کا کہنا ہے کہ ان کارٹونز کو تخلیق کرنے والی ٹیم
09:48بہت ذہین اور سپریم ہے
09:49ان کے پاس ایسی صلاحیتیں اور ایسا علم موجود ہے
09:52کہ جس سے وہ آنے والے وقت کے بارے میں
09:55بلکل ٹھیک اندازہ لگا لیتے ہیں
09:57جبکہ وہی پر کچھ لوگوں کا کہنا ہے
09:59کہ ان کارٹونز کے پیچھے دراصل سوپر پاور ملکوں میں کام کرنے والی
10:02انٹیلیجنس ایجنسیاں کام کر رہی ہیں
10:04جو پلاننگ سوپر پاورز دنیا کو کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کر رہی ہیں
10:08اور جو پلاننگ سوپر پاورز دنیا کو کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کر رہی ہیں
10:11اس کے بارے میں کچھ ہنٹس دیکھ کر ان کارٹونز میں بتایا جاتا ہے
10:15تاکہ لوگوں کو آنے والے وقت کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا جا سکے
10:18اپنی انی کالٹیز کے باعث سیمسنس کارٹونز دنیا بھر میں مقبول ہیں
10:22اور لوگ انہیں دیکھنے اور انجوائے کرنے کے ساتھ ساتھ
10:25ان میں دکھائی گئی معلومات کا تدزیہ بھی ضرور کرتے ہیں
10:28نارزین اگر دیکھا جائے تو یہ تھیوری کچھ درست معلوم ہوتی ہے
10:31کہ ان کارٹونز کے پیچھے انٹیلیجنس ایجنسیاں ہو سکتی ہیں
10:34یا پھر بے حد ذہین دماغ ان کارٹونز کو تخلیق کر رہے ہیں
10:37کیونکہ سالوں سے لے کر آج تک سیمسنس کارٹونز کا ریکارڈ رہا ہے
10:41کہ ماضی میں وہ اپنی کئی اپیسوڈز میں ایسی پیجگوئیاں کر چکے ہیں
10:44جو بعد میں سچ ثابت ہوئیں
10:46اسی طرح سال دوہزار چوبیس کے حوالے سے بھی
10:48سالوں سے ان کارٹونز میں ایسی باتیں کہی جاتی رہی ہیں
10:51جو اب حیران کن طور پر پوری ہوتی دکھائی دی گئیں
10:54مثال کے طور پر سیمسنس کارٹونز کے سیزن
10:56تیس کی اپیسوڈ سترہ میں دکھایا گیا تھا
10:58کہ ہومر سیمسنس جو کہ اس کارٹونز سیریز کا من کردار ہے
11:02ایک ایسی کمپنی میں جوب کرتا ہے
11:03جو اپنے کام کے لیے مختلف طرح کے ریبورٹس ہائر کرتی ہے
11:06جس کے بعد ہومر کو اس کمپنی کی ضرورت نہیں رہتی
11:09اور اس کی جوب چلی جاتی ہے
11:10اسی اپیسوڈ کو جب سال دوہزار چوبیس میں
11:13ایویلیٹ کیا گیا
11:14اور اسی اپیسوڈ میں دکھائے گئے
11:16واقعات کا جائزہ لیا گیا
11:17تو حیران کن طور پر یہ حقیقت سامنے آئی
11:19کہ اس وقت پوری دنیا تقریباً
11:21اسی بہران سے گزر رہی ہے
11:22جو ان کارٹونز میں دکھایا گیا تھا
11:24آج کئی قسم کے اے آئی ٹولز کے آ جانے سے
11:27جہاں بہت سے لوگوں کو سہولیات ملی ہیں
11:29وہیں پر بہت سے انسانوں کی جوبز کو خطرات بھی لاحق ہو گئے ہیں
11:33کئی ایسے ٹاسک جو ان ٹولز سے پہلے انسان خود کرتے تھے
11:35اب انہیں کرنے کے لیے صرف ایک کلک کی ضرورت باقی رہ گئی ہے
11:38جس کے بعد کئی کمپنیوں نے اپنے ایمپلوئیز کو فارق کر دیا ہے
11:41اسی طرح سال 2015 کے ایک اپیسوڈ میں دکھایا گیا
11:44کہ ہومر ہوا میں اڑ رہا ہے
11:46اور اس کے بازو کے ساتھ ایک انولپ لٹک رہا ہے
11:48جس پر لکھا ہے
11:49ٹرمپ 2024
11:51اس بات سے یہ پیشگوئی اخص کی گئی تھی
11:53کہ شاید 2024 میں ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہو جائیں گے
11:57جو کہ پھر سچ ثابت ہوئی
11:58ناظرین سیمسن کارٹون کی اب تک سب سے بڑی خوفناک پیشگوئی
12:01یہ سمجھی جاتی کہ ان میں بتایا گیا ہے
12:03کہ 2025 میں World War 3 کے امکانات بہت زیادہ ہیں
12:07اور اگر ہم آج حالات پر غور کریں
12:09تو صاف نظر آتا ہے کہ ایسے کئی ممالک ہیں
12:11جو اس وقت خطرے میں ہیں
12:13اور جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں
12:14وہیں ایسے ممالک بھی ہیں جو پہلے سے حالت جنگ میں ہیں
12:17جن میں روس، اسرائیل، فلسطین شامل ہیں
12:20اور فیلحال ان ممالک میں چل رہی
12:21جنگوں کا کوئی منطقی انجام ہوتا دکھائی نہیں دے رہا
12:24سمسنز کارٹونز میں سالوں پہلے دکھائی جانے والی
12:27کئی ایسی چیزیں ہیں جو اب تک پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہیں
12:30لیکن ایک پیشگوئی ایسی ہے جو قریب قریب ہر سال
12:33ان کارٹونز کی کسی نہ کسی اپیسوڈ میں دکھائی جاتی ہے
12:36لیکن اب تک اس کے پورا ہونے کے امکانات کہیں نہیں دکھائی دیتے
12:40سمسنز فیملی کے مطابق ایک فاس فوڈ چین کے ذریعے
12:43دنیا میں ایک ایسا وائرس پھیلے گا
12:45جو انسانوں کو زومبی یعنی ڈریکولا میں تبدیل کر دے گا
12:47جس کے بعد دنیا بھر میں زومبیز پھیل جائیں گے
12:50اور ساری دنیا کے انسان اس وائرس سے متاثر ہوں گے
12:52یورپین ممالک کے لوگ زومبی جیسی مخلوق کے بارے میں
12:55بہت زیادہ وہم کا شکار رہتے ہیں
12:57اس موضوع پر سیکڑوں فلمیں بھی بنائی جا چکی ہیں
13:00جن میں زیادہ تر یہی دکھائی جاتا ہے
13:02کہ ایسی مخلوقات کے اچانک حملے سے
13:04شہر کے شہر تباہ ہو جاتے ہیں
13:06جبکہ یہ سب غیر حقیقی تصورات ہیں
13:08سمسن کارٹونز بھی اس معاملے میں
13:10وہی روایتی تصورات رکھتا ہے
13:12یہی وجہ ہے کہ یہ واحد ایسی پیش گوئی ہے
13:14جو ابھی تک ذرہ برابر بھی سچ ثابت نہیں ہوئی
13:17اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کچھ ہونے کا امکان ہے
13:20فلحال ماہرین کی طرف سے جاری کی گئی
13:22سولر سٹرومز کی وارننگ نے
13:23دنیا بھر کو خوف زیادہ کر رکھا ہے
13:25اور اس سلسلے میں سمسن کارٹونز کی ویڈیوز بھی
13:28بہت زیادہ وائرل ہو رہی ہیں
13:29جہاں اس طوفان کی بہت پہلے سے پیش گوئی کی جا چکی تھی
13:32ناظرین یہ سب دیکھتے ہوئے
13:34یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے
13:35اور یہ سب محض اتفاقیہ ہو رہا ہے
13:37کیونکہ دو واقعات میں مماثلت کا اتفاق
13:39صرف ایک یا دو بار ہی ہو سکتا ہے
13:41لیکن سمسن کارٹونز تو اب کارٹونز سے زیادہ
13:44پریڈکشن ویڈیوز بن چکے ہیں
13:45جنہیں لوگ دیکھتے ہی اس لیے ہیں
13:47کہ ان میں کیا دکھائے جا رہا ہے
13:48اور علامتی طور پر کس طرف اشارہ کیا جا رہا ہے
13:51ناظرین یہاں پر اگر کارٹونز کے بارے میں بات کی جائے
13:54تو عام طور پر بچوں کو سامانے لطف فرام کرنے کی خاطر ہوتے ہیں
13:57لیکن ایک کارٹون ایسا بھی ہے
13:59جس میں آئندہ انجام پانے والے
14:00متعدد حادثات کی خبر دی گئی ہے
14:02سیمسن امریکہ کے ایک طویل انیمیشن کارٹون ہے
14:05جس کو میٹ گروننگ نے
14:07سترہ دسمبر انیس سو نواسی میں تخلیق کیا تھا
14:10اس میں کل اکتیس فصلیں
14:11اور چھ سو اناسی قسطیں ہیں
14:14انگریزی زبان کا یہ کارنامہ
14:15فاکس کی ذریعہ نشر ہوتا ہے
14:16تیز برس سے جاریس کارٹون کے مختلف سچ ہوتے نظریات کے باعث
14:20دنیا اس کی جانب مبزول ہوتی جا رہی ہے
14:22بعض تو باقوب عزیر بھی ہو گئے
14:24جبکہ بعض کے متعلق کی خیال کیا جا رہا ہے
14:26کہ وہ بھی مستقبل قریب میں
14:28واقع ہونے کو ہیں
14:29دوہزار دو میں اس بات کو جاگر کیا جاتا ہے
14:31کہ ٹرمپ الیکشن میں کامیابی کے بعد
14:33ایک عرب ملک کا سفر کرتا ہے
14:34اور وہاں کانفرنس کے بعد
14:36ایک سفید کالے گلوپ پر
14:37تین افراد ہاتھ رکھ کر کچھ محایدہ کرتے ہیں
14:40ہو بہو یہ واقعہ دوہزار سترہ میں
14:42سعود عرب میں دھورایا گیا
14:43اس کے علاوہ اس مسلسل
14:44کارٹونز کی بہت سی باتیں سچ ثابت ہوئیں
14:47ملک شام میں فساد اور خانہ جنگی
14:49نائن الیون
14:49گوپر کیمرہ
14:51بغیرہ بھی اسی کا حصہ ہیں
14:52اس میں بعض ایسے سین بھی دکھائے گئے ہیں
14:54جن کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے
14:56کہ وہ متوقع قریب ہیں
14:57جیسے کہ روبورٹ کا بات کرنا
14:59فلائنگ کار
15:00اور سولر انرجی پاور کار وغیرہ
15:01ناظرین یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے
15:04کہ ایسے واقعات کی
15:04قبل از وقو خبر دینا
15:06دراصل نہای درجہ
15:07آلہ ستہی منصوب بندی کے تحت ہے
15:09اور ایسا ممکن ہے
15:10جیسے اللہ اپنے اولیاء کو خاص
15:12علم و عنایت نوازتا ہے
15:13اسی طرح شیطان بھی
15:14اپنے پوجاریوں کو ہدایت دیتا ہے
15:16آج ایسے گروہ کا
15:18وجود کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا
15:20جو برملہ شیطان کی پرستش کرتا ہے
15:22اور یہ سب اس کی منصوب بندی کے تحت ہی
15:24انجام پاتا ہے
15:26ناظرین دوسری طرف
15:27اگر اسلامی نقطہ نظر سے
15:28پیشگوئی کی بات کی جائے
15:30تو قبل از وقت کسی واقع کی اطلاع کو
15:32قبل از وقت کسی واقع کی اطلاع دینے کو
15:34پیشگوئی کہتے ہیں
15:35اللہ تعالیٰ نے انبیاء اکرام علیہ السلام
15:37بالخصوص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:40کو بذر یا وحی آئندہ رونما ہونے والے
15:43بعض حالات سے متلع فرما دیتے تھے
15:45جس کی بنیاد پر نبی علیہ السلام
15:46کسی واقع کی اطلاع
15:48قبل از وقت ارشاد فرما دیتے
15:50چونکہ آپ علیہ السلام
15:51اللہ کے سچے اور آخری نبی ہیں
15:54اس لئے آپ نے جن جن باتوں کی پیشگوئی فرمائی
15:56وہ ساری باتیں سچ ثابت ہوئیں
15:58آئیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:01کی چند پیشگوئیاں آپ کو بتاتے چلیں
16:03آقا نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
16:06بیست سے پہلے عرب کی یہ کیفت تھی
16:08کہ تمام اہل عرب
16:09کاہنوں نجومیوں کے جال میں گرفتار تھے
16:11مشہور کاہنوں کے پاس لوگ دور دراستے سفر کر کے آتے تھے
16:14ان سے مستقبل اور غیب کی باتیں دریاب کرتے تھے
16:17کاہن جھوٹ موٹ کی باتیں سنا کر
16:19پورے معاشرے کو بے وقوف بنا رہے تھے
16:21حضور علیہ السلام کو
16:23اللہ تعالیٰ نے جب پیغمبر بنا کر مبوض فرمایا
16:25تو ان کے لئے ثبوت نبوت کی سب سے بڑی دلیل
16:28غیب کی خبریں اور پیشگوئیاں تھی
16:30آپ علیہ السلام مستقبل کے واقعات
16:32اور باتوں کو اس طرح پیش فرماتے
16:34کہ گویا کھلی آنکھوں سے دیکھ کر بتا رہے ہوں
16:36جن جن باتوں کی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:39نے خبر دی
16:39وہ سب کی سب پوری ہوئیں
16:41یہ پیشگوئیاں مختلف وقت میں
16:43آپ علیہ السلام سے مختلف حالتوں میں سادر ہوئیں
16:46اور ان کی اطلاع مختلف صورتوں میں دی گئیں
16:48مثلا کبھی نزول وحی کی صورت میں
16:50کبھی عالم خواب میں
16:52اور کبھی قلب مبارک پر القا کر گئی
16:54قرآن کریم میں ارشاد ہے
16:56یہ غیب کی باتیں ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں
16:58اس سے پہلے آپ اور آپ کی قوم
17:00ان کو نہیں جانتی تھی
17:01محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
17:04پیشگوئیوں کو یہ امتیاز حاصل ہے
17:06کہ وہ بازے اور ظاہر ہیں
17:08اور شک اور تعویل سے بہت دور ہیں
17:09مثلا غلبہ روم
17:11خلافت راجدہ
17:12فتح یمن
17:12فتح شام
17:13فتح عراق
17:14اور قیصر و قصرہ کی سلطنتوں پر
17:16فتح و نصرت کی تمام پیشگوئیاں
17:18سریح اور بازے ہیں
17:20علاوہ عزیم وہ ایسی عظیم الشان ہیں
17:22جن کو دیکھ کر
17:23اور سن کر تمام عالم حیران ہیں
17:25غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھوٹتے ہوئے
17:27ایک سخت چٹان حائل ہو گئی
17:28جب صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
17:31اس کو توڑنے سے آجز آگئے
17:33اور چٹان باوجود کوشش کے نہ ٹوٹ سکی
17:35تو حضور علیہ السلام سے درخواست کی گئی
17:37اس موقع پر آپ علیہ السلام نے تین ضربے لگائیں
17:40اور ہر ضرب پر چٹان سے روشنی پوٹ تھی
17:43اور آپ علیہ السلام فرماتے
17:45مسند احمد اور سنن نسائی میں ہیں
17:48کہ آپ علیہ السلام نے
17:49جب پہلی بار بسم اللہ کہہ کر
17:51قدال ماری
17:52تو چٹان ایک تہائی ٹوٹ گئی
17:53آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
17:56اللہ اکبر
17:57مجھے ملک شام کی کنجیاں تاکی گئی ہیں
17:59خدا کی قسم
18:00میں شام کے سرخ محلات
18:03اس وقت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں
18:04پھر آپ علیہ السلام نے دوسری مرتبہ قدال ماری
18:07تو دوسرا تہائی ٹکڑا ٹوٹ کر گرا
18:10آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
18:12اللہ اکبر
18:13فارس کی کنجیاں مجھ کو عطا ہوئیں
18:15خدا کی قسم مدائن کے قیسر عبیس کو
18:17اس وقت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں
18:19تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
18:22بسم اللہ کہہ کر قدال ماری
18:23تو بقیہ چٹان بھی ٹوٹ گئی
18:25آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
18:27اللہ اکبر
18:28یمن کی کنجیاں مجھے عطا ہوئیں
18:30خدا کی قسم
18:31سنہ کے دروازوں کو
18:32میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں
18:33آپ علیہ السلام نے فرمایا
18:35جبریل امین نے مجھے قبر دی
18:37کہ میری امت ان شہروں کو فتح کرے گی
18:39تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے
18:41کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
18:43یہ پیش گوئیاں ہوں بہوں پوری ہوئیں
18:45صحیح بخاری اور صحیح مسلم
18:47حضرت حضیفہ بن یمان
18:48رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے
18:50کہ ایک بار
18:50حضور علیہ السلام نے
18:52اپنے واض میں قیامت تک
18:53پیش آنے والے متعدد امور کا ذکر فرمایا
18:56ان میں سے بعض چیزیں ایسی ہیں
18:57جو میں بھول گیا
18:58مگر جب میں ان کو دیکھتا ہوں
19:00تو یاد آ جاتی ہیں
19:01یعنی واقعہ ہونے کے بعد
19:02میں پہچان لیتا ہوں
19:03کہ یہ وہی بات ہے
19:04جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:06نے فرمائی تھی
19:07جس طرح کسی شخص کی صورت یاد ہو
19:09اور وہ غائب ہو جائے
19:10پھر جب اسے دیکھا جائے
19:11تو پہچان لیا جائے
19:12کہ یہ فلا شخص ہے
19:13ذرقانی میں حضرت جابر
19:15رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
19:16کہ ایک دفعہ
19:16آپ علیہ السلام
19:17میرے گھر پر تشریف لائے
19:19اور دریافت کیا
19:20کہ کیا قالین ہے
19:21ہم نے ارز کیا
19:23کہ قالین ہمارے گھر کہا
19:24آپ علیہ السلام نے فرمایا
19:26ہاں
19:27ان قریب تم قالینوں
19:28اور عمدہ فرشوں پر بیٹھو گے
19:29حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
19:31کہ ہم نے اپنی زندگی میں
19:32وہ دن بھی دیکھا
19:33جب ہم قالینوں پر بیٹھے تھے
19:35ابو دعو شریف میں حضرت
19:36عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے
19:38کہ میں حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا
19:42کہ میں حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا
19:44کہ ایک شخص نے بھوک کی
19:45اور دوسرے نے رہزنی کی شکایت کی
19:47آپ علیہ السلام نے فرمایا
19:49اگر تم زندہ رہے
19:51تو دیکھو گے کہ ایک عورت
19:52ہیرہ سے خانے کعبہ کا تواف کرنے نکلے گی
19:54اور اس کو خدا کے سوا کسی کا ڈڑنا ہوگا
19:56حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ
19:58کہتا ہے کہ میں نے
19:59یمن و امان اپنی زندگی میں دیکھا
20:01صحیحین میں ہے کہ خیبر میں
20:02یہودیوں کے کئی مضبوط قلعے تھے
20:04ہر روز مسلمان مجاہدین
20:06زور آزمائی کر کے واپس لوٹ آتے
20:08لیکن خیبر فتح نہیں ہو رہا تھا
20:10آپ علیہ السلام نے فرمایا
20:11کہ کل میں جھنڈا
20:12ایسے شخص کو دوں گا
20:13جس کے ہاتھ پر اللہ فتح دیں گے
20:15آپ علیہ السلام نے
20:16حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا تھا فرمایا
20:18اور اللہ تعالی نے ان کے ہاتھ پر فتح تھا فرمائی
20:21ترمیزی شریف میں ہے
20:22کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام
20:23خواب سے مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے
20:25اور فرمایا کہ اس وقت خواب میں
20:27میری امت کے کچھ لوگ
20:28تخت شاہی پر بادشاہوں کی طرح بیٹھے ہوئے دکھائے گئے
20:30یہ بحر اخذر میں
20:32جہاد کے لئے اپنے جہاز ڈالیں گے
20:34یہ بشارت سب سے پہلے
20:35امیر معاوے کے اہر میں پوری ہوئی
20:36اور دمشق کی سرزمین پر
20:38اسلام میں سب سے پہلے
20:39تخت شاہی بیچھائے گیا
20:40دمشق کا شہزادہ
20:42اپنی سپہ سالاری میں
20:43مسلمانوں کا پہلا لشکر لے کر
20:44بحر اخذر میں
20:45جہازوں کے بیڑے ڈالتا ہے
20:47اور دریا عبور کر کے
20:48قسطنطنیہ فتح کرتا ہے
20:50جس کی بشارت
20:51حضور علیہ السلام نے دی
20:52اسی طرح مسند
20:53امام احمد میں ہے
20:54کہ بیت المقدس اسلام کا دوسرا قبلہ ہے
20:57اور اس کی تولیت
20:58انتظام اسرام و احتمام
20:59امت محمدیہ کا حق ہے
21:01حضور علیہ السلام نے
21:02اس کی تولیت کی بشارت دی
21:04جو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں
21:06پوری ہوئی
21:07ذرقانی میں
21:08کہ حضرت سعید بن ابی بقیاس رضی اللہ عنہ
21:09حجت الودا میں
21:10حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
21:12ہم رکابی میں مکہ معظمہ گئے
21:14مات جا کر وہ اس قدر سخت بیمار پڑے
21:16کہ ان کو اپنی زندگی کی امید نہ رہی
21:18حضور علیہ السلام
21:19ان کی عائدت کے لئے تشریف لے گئے
21:21تو ان کا استراب دیکھ کر
21:22ان کو تسلیت دی
21:23اور ان کے حق میں دعا کی
21:24اور فرمایا
21:25کہ اگر خدا نے چاہا
21:26کبھی مرو گے نہیں
21:27اگر خلوص سے کام کرو گے
21:29تو تمہیں عظیم درجہ ملے گا
21:30بہت سارے لوگوں کو
21:31تم سے فائدہ پہنچے گا
21:32اور بہت سنوں کو نقصان پہنچے گا
21:34یہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ کے لئے
21:36عجم کی فتوحات کی پیش گوئی تھی
21:38چنانچہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ نے
21:40اسے پہ سالار بن کر
21:41کسرہ کا تاج و تخت حاصل کیا
21:43جس کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت فائدہ
21:45جبکہ مجوسیوں کو نقصان پہنچا
21:47ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
21:48ہم امید کرتے ہیں
21:49کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
21:51ضرور پسند آئی ہوگی
21:52اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
21:54پسند آئی ہے
21:54تو آپ سے گزارش کرتے ہیں
21:55کہ آپ ہمارے چینل کو ضرور سبسکرائب کر لیں
21:57اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
22:00تاکہ آپ کے پاس ہماری آنے والی
22:01مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹفکیشن
22:04بروقت ملتا رہے
22:05سبسکرائب کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
22:07اور اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں
22:10کمنٹس میں آپ اپنے سوالات بھی ہم تک پہنچا سکتے ہیں
22:12اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظ و مان میں رکھے
22:15آمین
Comments