Skip to playerSkip to main content
  • 13 minutes ago
Sidratul Muntaha, yani Saatwein Aasmaan par mojood wo darakht, jiska zikr Qur’an aur Hadith mein aaya hai, Islam ke sabse gehre roohani asraar mein se ek hai. Yehi wo maqam hai jahan Hazrat Jibreel (A.S.) ruk gaye aur Hazrat Muhammad (PBUH) ne Allah Ta’ala se hamkalami ki. Noor TV ki is roohani tajziya par mabni report mein ek ajib sawal uthaya gaya hai:

“Sidratul Muntaha se nikalta pani kis darya mein girta hai?”

Tafseer Ibn Kathir aur chand roohani aqwal ke mutabiq, is aasmaani darakht ke niche se chaar jannati daryay nikalte hain. Do zahiri hain jo duniya mein nazar aate hain – Darya e Nile aur Darya e Furat (Euphrates). Aur do baatini hain – jinka ilm sirf Allah ke khaas bande rakhte hain, ya wo jannat mein zahir honge.

Sidratul Muntaha se nikalne wala pani Sirf paani nahi, balkay roohani nur, ilm aur rehmat ka izhar hai. Ye wo nizam hai jahan se Allah ki inayat har maqam par baras rahi hoti hai. Jab wo pani chalta hai to wo sirf jism ko nahi, rooh ko bhi zinda karta hai. Har aab-e-hayat ka asal jurr yahi hai – Sidratul Muntaha.

Is darakht ki shakhein sab aasmaanon tak phelti hain, aur farishtay us ke ird gird mohtaram silsilon mein ibadat mein mashgool hote hain. Roohaniyat mein yaqeen rakhnay wale log maante hain ke is darakht se girne wala har qat’ra ilm, maqam, maqbooliyat aur Allah ki qurbat ka zariya ban sakta hai.

Yeh maqam aur iska pani jannat ka sirri nizam hai, jiska asal samajhna insaan ke zaati roohani safar ka hissa hai.

Category

📚
Learning
Transcript
00:27
00:30اقل دم توڑ دیتی ہے
00:31اور مخلوق کی رسائی ختم ہو جاتی ہے
00:33وہ مقام جہاں جبریل امین
00:35علیہ السلام جیسے جلیل القدر فرشتے
00:37نے رکھ کر عرض کیا
00:38یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:41یہاں سے آگے میرا قدم نہیں جا سکتا
00:44وہ مقام جہاں سے آگے صرف ایک ہی ہستی گئی
00:47سید الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:51یہ مقام ہے
00:52صدرت المنتحہ
00:54حالہ میں بالا کی آخری حد
00:56جہاں اللہ تعالیٰ کی تجلی نے سب کچھ ڈھاپ لیا
00:59جہاں نور ہی نور ہے
01:01جہاں الفاظ ختم اور سکوت بولنے لگتا ہے
01:04یہ کوئی خیالی تصور نہیں
01:06بلکہ وہ عظیم الشان حقیقت ہے
01:08جس کا ذکر قرآن مجید نے کیا
01:10اور جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
01:13اپنی آنکھوں سے دیکھا
01:14آج ہم اسی صدرت المنتحہ کے رازوں کو جاننے کی کوشش کریں گے
01:18اس کے مقام
01:19اس کے حقیقت
01:20اس کے قرب میں بہنے والی نہروں
01:22اور اس روحانی پردے کے
01:23اس پار جھانکنے کی جسارت کریں گے
01:25جہاں خالی کے کائنات نے
01:27اپنے محبوب کو بلایا
01:28اپنے قربت عطا کی
01:30اور امت کے لیے انعامات کا فیصلہ فرمایا
01:33تیار ہو جائیے
01:34کیونکہ آج ہم ایک ایسے سفر پر روانہ ہو رہے ہیں
01:36جہاں روح کو لرزا
01:38دل کو سکون
01:39اور عقل کو حیرت نصیب ہوگی
01:41ناظرین صدرت المنتحہ ایک نہایت بلند و بالا
01:43نورانی اور روحانی مقام ہے
01:45جسے قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں
01:48خاص شان و عظمت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے
01:50لغوی طور پر صدرت کا مطلب ہے
01:52بیری کا درخت
01:53اور المنتحہ کا مطلب ہے
01:55بے انتہا
01:56یعنی آخری حد
01:58اس طرح صدرت المنتحہ کا مطلب ہوا
02:01وہ بیری کا درخت
02:02جو سب سے آخری حد پر واقع ہے
02:04مگر یہ کوئی عام درخت
02:06یا دنیاوی مقام نہیں
02:07بلکہ ایک ایسا مقام ہے
02:08جہاں مخلوق کا علم
02:09شعور اور رسائی ختم ہو جاتی ہے
02:11یہ وہ مقام ہے
02:12جہاں جبریل امین علیہ السلام
02:13جیسے عظیم فرشتے بھی
02:15آگے نہیں جا سکتے
02:16اور صرف
02:17رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
02:19کو یہ شرف حاصل ہوا
02:20کہ وہ وہاں سے آگے
02:21رب کریم کے حضور حاصل ہوئے
02:23قرآن مجید میں
02:25صدرت المنتحہ کا ذکر
02:26سورہ نجم کی آیت
02:27نمبر تیرہ تا سولہ میں
02:28ان الفاظ میں آیا ہے
02:29اور بے شک انہوں نے
02:30اسے ایک اور بار دیکھا
02:32صدرت المنتحہ کے پاس
02:35جس کے قریب جنت المعاوہ ہے
02:37جب صدرہ پر چھا رہا تھا
02:39جو کچھ چھا رہا تھا
02:41ان آیات کی تفسیر میں
02:42مفسرین فرماتے ہیں
02:43کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
02:45نے جبریل امین علیہ السلام
02:47کو ان کے اصل شکل میں
02:48دوسری مرتبہ
02:48صدرت المنتحہ کے پاس دیکھا
02:50اور وہ مقام نہایت
02:52پڑ جلال اور پڑ نور تھا
02:53جہاں ہر چیز
02:59احادیث میں بھی صدرت المنتحہ کا ذکر تفصیل سے ملتا ہے
03:02خصوصاً واقعہ میراج میں
03:03صحیح بخاری صحیح مسلم
03:05اور دیگر کتب احادیث میں
03:07نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
03:09اس عظیم سفر کا تذکرہ ملتا ہے
03:11جس میں آپ علیہ السلام
03:12بیت المقدس آسمانو کی سائر کرتے ہوئے
03:16ساتھویں آسمان تک پہنچے
03:18اور پھر صدرت المنتحہ پر قیام کیا
03:20آپ علیہ السلام فرماتے ہیں
03:22کہ جبریل علیہ السلام نے وہیں رکھ کر فرمایا
03:24یا رسول اللہ
03:25یہاں سے آگے میں نہیں جا سکتا
03:27اگر میں ایک بال برابر بھی آگے بڑھا
03:29تو جل جاؤں گا
03:30یہ وہ مقام ہے جہاں
03:32اللہ رب العزت سے براہ راست ہم کلامی ہوئی
03:34اور جہاں پانچ وقت کی نماز کا توفہ
03:36امت مسلمہ کو عطا کیا گیا
03:38احادیث میں آتا ہے کہ
03:39صدرت المنتحہ ایسا بیری کا درخت ہے
03:41جو نہایت حسین شفاف اور روشنی سے منور ہے
03:44اس کے پتے اتنے بڑے ہیں جیسے ہاتھی کے کان
03:46اور اس کے پھل جیسے مٹکے
03:48اس درخت پر اللہ تعالیٰ کا ایسا نور اور جمال نازل ہوا
03:51کہ اس کی شان بیان سے باہر ہو گئی
03:53نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں
03:56کہ جب میں نے صدرت المنتحہ کو دیکھا
03:58تو وہ اس قدر تبدیل ہو چکی تھی
03:59کہ میں اس کی اصل کیفیت بیان نہیں کر سکتا
04:02گویا وہ ایک ایسا روحانی منظر تھا
04:04جسے الفاظ میں قید کرنا
04:05ممکن نہیں رہا
04:07اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے
04:08کہ صدرت المنتحہ کہاں واقع ہے
04:10اس کا تعلق عالم شہادت یعنی
04:12ہماری مادی دنیا سے نہیں
04:13بلکہ عالم عمر یا عالم ملکوت سے ہے
04:16جو ایک اللہ تعالیٰ کی قدرت اور فیصلے کا
04:18روحانی نظام ہے
04:19مفسرین کے مطابق عالم ملکوت وہ بلند روحانی دنیا ہے
04:22جہاں فرشتے ارواح اور
04:25اللہ کا عمر جاری ہوتا ہے
04:26صدرت المنتحہ اسی بلند و بالا کا
04:29آخری کنارہ ہے
04:30ایک ایسا حد فاصل جہاں مخلوق روک جاتی ہے
04:33اور خالق کا جلوہ نمائع ہوتا ہے
04:35بعض اہل تصوف اور مفسرین نے
04:37صدرت المنتحہ کو
04:38عرش کے قریب ایک ایسا مقام قرار دیا ہے
04:41جہاں سوپر صرف اللہ کا علم اور قدرت ہے
04:44یہ درخت گویا کائناتی پردہ ہے
04:46جہاں اللہ کے راز شپے ہوئے ہیں
04:48اور جہاں سے اللہ تعالیٰ کے حکامات
04:50فرشتوں کی طرف منتقل ہوتے ہیں
04:51کچھ روایت میں ہے کہ
04:53صدرت المنتحہ کے پاس
04:54جنت الماوہ واقع ہے
04:55یعنی وہ جنت جس میں
04:56شہدار مقربین کو جگہ دی جائے گی
04:58مختصر یہ کہ
04:59صدرت المنتحہ کوئی زمینی درخت نہیں
05:01بلکہ ایک روحانی حقیقت ہے
05:03ایک نورانی مقام ہے
05:04جو اللہ تعالیٰ کی قربت کا مظہر ہے
05:06جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
05:09وہ قربت نصیب ہوئی
05:10جو نہ کسی نبی کو ملی
05:12نہ کسی فرشتے کو
05:13یہ وہ مقام ہے جہاں صرف عشق
05:15عدب اور نور ہے
05:16نہ سوال ہے نہ جواب
05:18صرف رب کا جلوہ اور عبد کا سجدہ ہے
05:21ناظرین واقعہ میراج
05:23نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا
05:26وہ روحانی اور فوق الفطرت واقعہ ہے
05:29جس نے نہ صرف
05:30آپ علیہ السلام کے مقام کو
05:32دنیا کے سامنے واضح کیا
05:34بلکہ ایمان والوں کی دلوں میں
05:36اللہ کی قدرت اور محبوبیت کا
05:38ایک ایسا نقش قائم کیا
05:39جو قیامت تک باقی رہے گا
05:42میراج کا یہ سفر
05:43زمین سے آسمانوں کی بلندیوں تک
05:45اور پھر اللہ تعالیٰ کے خصوصی قرب تک
05:48ایک ایسا سفر تھا
05:49جو محض انسانی عقل سے بالتر ہے
05:51لیکن ایمان کی روشنی میں سرابہ حقیقت ہے
05:53یہ واقعہ ہجرت سے چند سال پہلے
05:55مکہ مکرمہ میں پیش آیا
05:57جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر
05:59کفار کا ظلم و ستم بڑھ چکا تھا
06:01اور آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے
06:03ایک عظیم الشان انام سے نوازا
06:05میراج کی ابتداء
06:06اسرہ سے ہوئی
06:07یعنی رات کی سیر
06:09قرآن مجید کی سورہ الاسرہ کی پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے
06:12پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو
06:14رات و رات مسجد الحرام سے
06:16مسجد الاقصہ تک لے گئی
06:18یہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:20کا سفر شروع ہوا
06:21جبریل امین علیہ السلام
06:22آپ علیہ السلام کے پاس
06:24برراک لے کر حاضر ہوئے
06:25ایک سفید رنگ کا نورانی جانور
06:27جو گدھے اور خچر کے درمیانی جسامت کا تھا
06:29اور روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تیز سفر کرتا تھا
06:31نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:33اس پر سوار ہو کر
06:34بیت المقدس پہنچے
06:36جہاں آپ علیہ السلام نے
06:37تمام انبیاء کی امامت کرتے ہوئے
06:40نماز ادا کی
06:40یہ بات کی علامت ہے
06:42کہ اب نبوت کا تاج
06:44آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر آ چکا ہے
06:47اور سابقا تمام نبوتوں کی
06:49روحانی قیادت
06:50آپ علیہ السلام کو صحب دی گئی ہے
06:52بیت المقدس سے
06:53نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
06:55آسمانوں کی طرف روحانی سفر شروع ہوا
06:57جسے میراج کہا جاتا ہے
06:59جبریل امین کے ساتھ
07:01آپ علیہ السلام نے
07:02ساتوں آسمانوں کا سفر کیا
07:03پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام
07:05دوسرے پر حضرت عیسی علیہ السلام
07:07اور تیسرے پر حضرت یوسف علیہ السلام
07:09چوتھے پر حضرت عدریس علیہ السلام
07:11پانچے پر حضرت حارون علیہ السلام
07:12چھٹے پر حضرت موسی علیہ السلام
07:13اور ساتھے آسمان پر
07:15حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی
07:17ہر نبی آپ علیہ السلام کو
07:19خوش آمدید کہتا
07:20اور اپنی امت کے
07:22خاتم النبیین پر درود السلام بھیجتا
07:25ساتھے آسمان پر پہنچ کر
07:26نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:28کو ایک نورانی مقام پر لے جائے گیا
07:29جو تمام آسمانی مخلوق کے لئے
07:31آخری حد ہے
07:32یہی ہے صدرت المنتحہ
07:34سور نجم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا
07:36یعنی صدرت المنتحہ کے پاس
07:39جہاں جنت الماوہ ہے
07:40اس مقام پر پہنچ کر جبریل امین علیہ السلام
07:43رک گئے اور عرض کیا
07:44یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:46یہاں سے آگے میرا جانا
07:48ممکن نہیں
07:49اگر میں ایک بال برابر بھی آگے بڑھا
07:52تو جل کر خاک ہو جاؤں گا
07:53یہ وہ عظیم لمحہ تھا
07:54جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:57نے اکیلے بغیر کسی مخلوق کے ساتھ
07:59اللہ رب العزت کے خاص قرب کی طرف پیش قدمی کی
08:02اور یہ وہ مقام ہے جہاں
08:04ناقل پہنچ سکتی ہے ناعلم
08:05یہاں سے آگے صرف وہی جا سکتا ہے
08:07جس اللہ تعالیٰ اپنی خاص انعائت سے بلالے
08:09نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:11نے وہ قرب حاصل کیا جس کا تصور بھی ممکن نہیں
08:13اور اسی مقام پر
08:15امت مسلمہ کو پانچ وقت کے
08:17نماز کا توفہ عطا کیا گیا
08:19صدرت المنتحہ ایک عظیم بیری کا درخت ہے
08:21جیسا کہ حدیث میں آتا ہے اور اس کے پتے ہاتھی کے
08:23کان کے برابر ہیں اور پھل بڑے مٹکوں
08:25جیسے اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا نور
08:27ایسا چھائے ہوا تھا کہ ہر چیز دھگ گئی تھی
08:29نبی علیہ السلام فرماتے ہیں
08:31کہ جب میں نے صدرت المنتحہ کو دیکھا
08:33تو اس پر اتنا نور چھائے ہوا تھا
08:35کہ اس کے اصل کیفیت بیان کرنا میرے لئے
08:37ناممکن ہے
08:37بعض حدیث کے مطابق اس درخت کے تنے سے چار نہریں
08:40نکلتی ہیں دو ظاہر اور دو باطن
08:43ظاہر نہریں دنیا میں نازل ہو کر
08:44فرات اور نیل بنی جبکہ باطنی نہریں
08:47جنت میں بہتی ہیں
08:48یہ مقام محض ایک درخت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت
08:51عظمت اور محبوبیت کا مظہر ہے
08:52یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:55کو ایسا قربتہ کیا کہ قرآن کہتا ہے
08:58یعنی پس
08:59دو کمانوں کے فاصلے کے برابر
09:01بلکہ اس سے بھی قریب ہو گئے
09:03یہ وہ لمحہ تا جب وہی براہ راست
09:05بغیر کسی واسطے کے نازل ہوئی
09:07اور اللہ تعالیٰ نے اپنی محبوبستی سے
09:09ہم کلامی فرمائی صدرت المنتحہ
09:11پر جو کیفیت تھی وہ محض الفاظ میں
09:13بیان نہیں ہو سکتی یہ ایک ایسا روحانی
09:15نورانی اور عظیم الشان مقام ہے
09:17جہاں اللہ تعالیٰ کی تجلیات کا ظہور ہوا
09:19نبی علیہ السلام نے فرمایا
09:21کہ وہاں اتنا نور تھا اتنی رونق تھی
09:23اور ایسا حسن تھا کہ میں
09:25بیان نہیں کر سکتا
09:26ناظرین صدرت المنتحہ کے پاس موجود نہریں
09:28عظیم الشان روحانی حقیقت ہیں
09:30جن کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:32نے باقے محراج کے دوران فرمایا
09:34یہ وہ مقام ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:48صحیح بخالی اور صحیح مسلم کے حادیث میں
09:49تفصیل سے ذکر ملتا ہے
09:50کہ صدرت المنتحہ کے پاس چار نہریں جاری تھیں
09:53حضرت عناس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
09:55کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
09:58پھر مجھے صدرت المنتحہ کے پاس لے جایا گیا
10:00اور میں نے دیکھا کہ اس کے پاس چار نہریں بے رہی ہیں
10:02دو نہریں ظاہر ہیں
10:04اور دو نہریں باطن بخاری
10:06نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
10:07جبریل علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا
10:09کہ یہ نہریں کیا ہیں
10:10تو انہوں نے جواب دیا
10:12دو نہریں وہ ہیں جو دنیا میں ظاہر ہوں گی
10:14اور دو نہریں جنت میں ہیں
10:15جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:17دریافت کیا
10:18کہ دو ظاہری نہریں کون سی ہیں
10:20تو جبریل امین نے فرمایا
10:21یہ نیل اور فرات کی نہریں ہیں
10:23یہ بات نہایت پرکشش اور روحانی رازوں سے بھرپور ہے
10:26کہ دنیا کی دو عظیم ترین نہریں
10:28نیل جو مصر سے گزرتی ہے
10:30اور فرات جو عراق شام کے خطے کو سہراب کرتی ہے
10:33دراصل اپنے اصل میں صدرت المنتحہ سے منسلک ہیں
10:37اگرچہ ظاہری طور پر یہ نہریں زمین سے نکلتی ہیں
10:40لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہونے والے
10:44ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے
10:45کہ ان کی روحانی اصل آلم بالا میں ہے
10:48اس پر محدثین اور مفسرین نے مختلف آرہ بیان کی ہیں
10:51بعض علماء کے مطابق یہ نسبت روحانی ہے
10:54یعنی اللہ تعالیٰ نے ان نہروں کو زمین پر خاص مقام دیا ہے
10:56اور ان کی جڑیں صدرت المنتحہ کے مقام سے جڑی ہوئی ہیں
11:00امام نوی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں فرمایا
11:02اس سے مراد یہ ہو سکتا ہے کہ ان نہروں کی اصل
11:04اللہ تعالیٰ نے وہاں سے پیدا کی
11:06اور پھر ان کا ظاہری ظاہور زمین پر ہوا
11:09یا پھر اس کا مفہوم یہ ہو سکتا ہے
11:10کہ ان نہروں کا فیض یا برکت صدرت المنتحہ سے متعلق ہے
11:14علامہ ابن حجر اسقلانی رحمہ اللہ نے
11:16فتح الباری میں لکھا ہے کہ
11:17بعض اہل علم کے نزدیک ان نہروں کا
11:20جغرافیہی تعلق عالم بالا سے براہ راست نہیں
11:22بلکہ ایک روحانی علامت ہے
11:24جن نہروں کے مقام و مرتبے کو ظاہر کرتی ہے
11:27یعنی نیل اور فرات کو یہ شرف حاصل ہے
11:29کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں
11:30اس عالی مقام سے نزبت دی
11:33جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:36نے براہ راست مشاہدہ فرمایا
11:38اس کا مقصد یہ بتانا ہے
11:40کہ نہروں کی زمین پر موجودگی محض
11:41مادی نہیں بلکہ
11:43ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے رحمت و برکت
11:45نازل ہوتی ہے جہاں تک باطنی نہروں
11:47کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں واضح طور پر
11:49حدیث میں بتایا گیا ہے کہ وہ جنت میں
11:51بہتی ہیں جنت کی نہروں کا قرآن
11:53میں بھی تذکرہ موجود ہے سورہ محمد
11:55آیت نمبر پندرہ میں ہے اس میں نہریں ہوں گی
11:58پانی کی جو باسی نہیں ہوگا
12:00نہریں ہوں گی دودھ کی جس کا
12:01ذائقہ نہیں بدلے گا نہریں ہوں گی شراب
12:04کی جو پینے والوں کیلئے لذت بخش ہوں گی
12:05اور نہریں ہوں گی شہد کی
12:07جو خالص ہوگا اس تناظر میں
12:09مفسرین فرماتے ہیں کہ جنت کی نہروں کا
12:11ممبا یا سرچشمہ بھی اسی آلہ
12:13مقام اسی مقام آلہ سے جڑا
12:15ہوا ہے یعنی صدرت المنتحہ
12:17اس مقام کی قربت میں ایسی
12:19برکت ہے کہ وہاں سے نکلنے والی ہر چیز
12:21پاکیزہ عبدی اور سراسر رحمت ہوتی ہے
12:23اس بات کو مزید گہرائی میں سمجھنے
12:25کے لئے ضروری ہے کہ ہم ظاہری اور
12:27باطنی کی اصلاحات کو سمجھیں
12:28ظاہری نہریں وہ ہیں جو دنیا میں نظر آتی ہیں
12:31جن سے انسان پانی پیتا ہے کھیت سیراب
12:33کرتا ہے اور جن پر تہذیبیں پروان
12:35چڑھتی ہیں نیل اور فرات نے
12:37دنیا کی دو عظیم ترین تہذیبوں
12:39مصری اور بین النہرین
12:41میسو پوٹیمیا کو جنم دیا
12:43ان نہروں سے لاکھوں کروڑوں انسانوں
12:45نے فیض پایا لیکن ان کی
12:47روحانی اصل دراصل اللہ تعالی کی
12:49قدرت کے اس مقام سے جڑی ہے جہاں
12:51نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:53کو میراج کے موقع پر لے جائے گیا
12:55باطنی نہریں وہ ہیں جو جنت میں
12:57بہتی ہیں جن کا دنیا میں ظاہری
12:59مشاہدہ ممکن نہیں لیکن ان کی حقیقت
13:01قرآن حدیث سے ثابت ہے
13:03مفسرین نے فرمایا کہ نہروں کی خصوصیت یہ ہے
13:05کہ ان میں کوئی ملاوٹ نہیں
13:06کوئی ناپاکی نہیں کوئی فساد نہیں
13:08یہ نہریں اصل ایمان والوں کے لیے
13:10اللہ تعالی کی نعمتوں کا سرچشمہ ہے
13:11اور ان کے اصل بھی صدرت المنتحہ کے قرب میں ہے
13:15محدثین فرماتے ہیں کہ
13:16نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
13:18ان نہروں کو میراج کے دوران دیکھنا
13:20اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سب کچھ
13:21مادی حقیقت کے ساتھ ساتھ روحانی حقیقت بھی رکھتے ہیں
13:25عالم امر اور عالم خلق کی جو تقسیم کی گئی ہے
13:28اس میں صدرت المنتحہ
13:29عالم امر کا وہ آخری کنارہ ہے
13:31جہاں مخلوق کی رسائیخت موجاتی ہے
13:33اور صرف اللہ تعالی کی مرضی سے
13:35مخصوص بندوں کو وہاں پہنچنے کا شرف حاصل ہوتا ہے
13:38یوں صدرت المنتحہ پر موجود یہ چار نہریں
13:40نہ صرف عالم بالے کی حقیقتوں کا پتہ دیتی ہیں
13:43بلکہ دنیا اور آخرت کے درمیان
13:44ایک لطیف اور امیق تعلق کو بھی بیان کرتی ہیں
13:47نیل و فراد کا زمین پر بہنا
13:49اور جنت کی نہروں کا غیب میں موجود ہونا
13:58اور باطنی نعمتوں سے سہراف فرماتا ہے
14:00ان نہروں سے نسبت ہمیں یہ درست دیتی ہے
14:03کہ دنیاوی وسائل اور نعمتیں بھی
14:05اگر اللہ کی طرف منصوب ہوں
14:06تو وہ محض دنیاوی نہیں رہتی
14:08بلکہ ان میں برکت روحانیت
14:10اور عبدیت کی تاثیر شامل ہو جاتی ہے
14:12لہٰذا صدرت المنتحہ کی نہریں
14:14ہمیں نہ صرف اللہ کی نعمتوں کا ادراہ کر آتی ہیں
14:17بلکہ یہ سمجھاتی ہیں
14:18کہ ایمان اور اخلاص کے ساتھ
14:20ان سے جڑنا ممکن ہے
14:21چاہے وہ نہر جنت کی ہوں
14:22یا زمین کی
14:23ان کے ذریعے ہمیں اللہ تعالی کی قدرت
14:25رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت
14:27اور آخرت کی حقانیت کا شعور حاصل ہوتا ہے
14:30ناظرین
14:31جنت کی نہریں اور صدرت المنتحہ کا تعلق
14:33ایک نہایت گہرہ اور روحانی راز ہے
14:35جو صرف الفاظ میں نہیں
14:37بلکہ ایمان کی گہرائی سے محسوس کیا جا سکتا ہے
14:39جنت وہ عبدی مقام ہے
14:41جو اللہ تعالی نے اپنے نیک بندوں کیلئے
14:43تیار فرمایا ہے
14:44اور جنت کی خصوصیت میں
14:45ایک نمائی ترین وصف
14:47اس کی نہریں اور چشمیں ہیں
14:49جن کا تذکرہ قرآن و حدیث میں
14:50بار بار کیا گیا ہے
14:51ان چشموں میں تصنیم
14:53سلسبیل
14:53اور کوثر جیسے مقدس اور پاکیزہ چشمیں شامل ہیں
14:56جن کی معنوی حیثیت
14:58اہل ایمان کے دلوں کو
14:59طہارت
14:59لذت اور روحانی بلندی عطا کرتی ہے
15:02تصنیم کا ذکر
15:03سورہ متففین کی آیت ستائیس میں ہوا
15:05جس کا آمیزہ تصنیم ہوگا
15:07ایک ایسا چشمہ جس سے
15:09صرف مقربین پینگے
15:11تصنیم کا مفہوم بلندی پر واقع
15:13ایسا چشمہ ہے
15:14جو جنت کے عالترین مقامات پر واقع ہے
15:17اور جو اس بات کی علامت ہے
15:19کہ اللہ تعالی کی قربت
15:20پاکیزگی
15:21اور مقام بلند کا
15:22اصل ماخوز یہی چشمہ ہے
15:24اسی طرح
15:24سلسبیل کا ذکر
15:26سورہ دہر کی آیت اٹھارہ میں ہوا
15:28یعنی ایسا چشمہ
15:30جسے سلسبیل کہا جاتا ہے
15:31اس کا مطلب یہ ہے
15:32کہ نہایت لطیف اور روان پانی
15:34جو پینے میں خوشگوار ہو
15:35اور جو پیاسے کو تسکین دے
15:37اور روح کو سرور عطا کرے
15:38اسی طرح کوثر وہ چشمہ ہے
15:40جسے اللہ تعالی نے
15:41رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:43کو بطور خاص عطا فرمایا
15:44جیسے کہ سورہ کوثر میں فرمایا
15:46اِنَّا آتَئِنَا کَلْ کوثر
15:47کوثر کا مطلب ہے
15:49بے شمار خیر
15:50اور یہ جنت کی وہ خاص نہر ہے
15:52جس سے قیامت کے دن
15:53نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:55اپنی امت کو سہراب کریں گے
15:57اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے
15:58کہ یہ تمام چشمیں اور نہریں
15:59جنت کے کس مقام سے پھوٹتی ہیں
16:01اور ان کا تعلق
16:02صدرت المنتحہ سے کیسے ہے
16:04یا ایک نہایت لطیف اور بلند
16:06روحانی حقیقت
16:06ہمارے سامنے آتی ہے
16:08احادیث اور آثار سے معلوم ہوتا ہے
16:10کہ صدرت المنتحہ
16:11وہ بلند ترین مقام ہیں
16:12جو ساتھ میں آسمان کے بعد واقع ہے
16:13اور جہاں جبریلی امین علیہ السلام نے کہا تھا
16:16کہ اگر میں ایک قدم بھی آگے بڑھا
16:18تو جل جاؤں گا
16:19اسی مقام پر اللہ کے نور کے پڑھتے ہیں
16:20اور اسی مقام پر جنت المعوہ کا آغاز ہوتا ہے
16:23صحیح مسلم کی روایت کے مطابق
16:25یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:28نے صدرت المنتحہ کے پاس چار نہریں دیکھی
16:30یہ بات مفسرین اور محدثین نے بیان کی ہے
16:32کہ نہروں میں سے بعض جنت کی طرف بہتی ہیں
16:35اور بعض زمین کی طرف
16:36اس تناظر میں بعض اہل علم نے یہ نظریہ پیش کیا
16:39کہ جنت کی عظیم نہریں جیسے
16:42تصنیم، سلسبیل اور کوثر
16:43دراصل صدرت المنتحہ کے نظام روحانی سے جڑی ہوئی ہیں
16:46یعنی صدرت المنتحہ صرف ایک درخت نہیں
16:48بلکہ وہ مقام ہے
16:49جہاں اللہ تعالیٰ کے عمر کا ظہور ہوتا ہے
16:52اور جہاں سے نور، رحمت، علم، حکمت
16:54اور حیات کے سرچشمیں پھوٹتے ہیں
17:02اور وہاں سے پوری جنت میں پھیلتی ہیں
17:04یہ بات نہ صرف ظاہری طور پر دلکش ہے
17:06بلکہ روحانی طور پر بھی بہت مانخیز بھی ہے
17:09کہ جنت کے نظام روحانی کا سرچشمہ
17:12صدرت المنتحہ جیسا مقدس ترین مقام ہو
17:15جہاں اللہ تعالیٰ کے نور کے پردے نصب ہیں
17:17اور جہاں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
17:19رب کائنات سے کلام فرمایا
17:21صدرت المنتحہ کا مطلب انتہائی کنارہ
17:24یعنی وہ حد جہاں ہر مقلوق کی رسائی ختم ہو جاتی ہے
17:27اس مقام کی احامیت صرف
17:28اس وجہ سے نہیں کہ یہ میراج کا آخری مقام تھا
17:31بلکہ اس وجہ سے بھی ہے
17:32کہ یہ مقام اللہ تعالیٰ کے قرب کا وہ مقام ہے
17:35جہاں سے جنت کے چشمیں بہتے ہیں
17:37بعض اولیاء اللہ اور صوفیہ اکرام نے
17:39صدرت المنتحہ کو عرفانی معنوں میں
17:41انسان کے قلب کے اس مقام سے تعبیر کیا ہے
17:44جہاں بندہ فنا فلہ ہو جاتا ہے
17:46اور جہاں سے رب کی معرفت کے چشمیں پھوٹتے ہیں
17:48اسی نسبت سے جنت کے چشمیں بھی
17:50اسے مقام سے پھوٹتے ہیں
17:51جو معرفت قربت اور نور کا مرکز ہے
17:54یہ بھی ایک احام نکتہ ہے
17:55کہ صدرت المنتحہ کو درخ کے طور پر بیان کیا گیا ہے
17:58جس کی جڑیں اور شاخیں پھیلتی ہیں
17:59ایک روایت کے مطابق اس درخ کے ہر پتے پر
18:02ایک فرشتہ موجود ہوتا ہے
18:03اور اس کی وسط کا اندازہ انسان نہیں لگا سکتا
18:06اگر اس درخ کی جڑوں سے نہریں پھوٹتی رہی ہوں
18:08تو یہ نہریں صرف مادی پانی کے علامت نہیں ہیں
18:11بلکہ وہ علم، نور، محبت، معرفت اور رحمت کی نہریں بھی ہیں
18:15جو ہر مقام کو سہراب کرتی ہیں
18:17تصنیم، سلسبیل اور کوثر جیسے چشمیں
18:20اسی نورانی درخ کی جڑوں سے بہنے والی وہ نہریں ہیں
18:22جن سے جنت کے باسی فیضیاب ہوں گے
18:25اور جو اللہ کی بے پایاں رحمت کی علامت ہے
18:27خلاصہ یہ کہ جنت کی نہریں، تصنیم، سلسبیل، کوثر
18:30نہ صرف جنت کی نعمتوں کی علامت ہیں
18:33بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے قرب، معرفت اور نور کے چشمیں بھی ہیں
18:36جو صدرت المنتحہ جیسے پاکیزہ مقام سے پھوٹتے ہیں
18:39یہ تعلق ہمیں سکھاتا ہے کہ
18:41روحانی بلندی، اللہ کی قربت اور اخلاصی وہ ذرائع ہیں
18:44جن کے ذریعے ہمیں نعمتوں کے اقدار بن سکتے ہیں
18:47صدرت المنتحہ نہ صرف میراج کا آخری زینہ ہے
18:49بلکہ جنت کے روحانی نظام کا مرکزی مقام بھی ہے
18:53جہاں سے عبدیت، محبت اور نور کے دریعہ بہتے ہیں
18:56ناظرین، صدرت المنتحہ کا روحانی مقام
18:59اسلامی روحانیت، معرفت اور قرب الہی کے سب سے بلند
19:02اور پاکیزہ مقامات میں سے ایک ہے
19:04جسے کائنات کی حد فہم پر واقع
19:06ایسا مقام کہا جا سکتا ہے
19:08جہاں مخلوق کی رسائی ختم ہو جاتی ہے
19:10اور خالق کا جمال، جلال اور قرب
19:12اپنے انتہائی عروض پر جلوہ گر ہوتا ہے
19:15یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت جبریل علیہ السلام
19:17جیسا عظیم اور مقرب فرشتہ بھی
19:19ایک حد پر آ کر رک جاتا ہے
19:21صحیح حدیث کے مطابق
19:22جب نبی علیہ السلام کو میراج کی شب
19:25آسمانوں کی سہر کروائی گئی
19:27تو ایک ایک آسمان پر مختلف انبیاء اکرام سے
19:29ملاقاتیں ہوتی رہیں
19:30یہاں تک کہ آپ علیہ السلام ساتھویں آسمان پر پہنچے
19:34جہاں صدرت المنتحہ کا مقام واقع ہے
19:36صدرت المنتحہ جسے قرآن مجید کی
19:38سورہ نجم کی آیت تیرہ تا اٹھارہ میں ذکر کیا گیا ہے
19:41وہ صدرت المنتحہ
19:42یعنی ایسا درخت جس کے پاس جنت الماوہ واقع ہے
19:45اسی مقام پر حضی جبریل علیہ السلام نے ارس کیا
19:47یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:50یہاں سے آگے جانے کی مجھے اجازت نہیں
19:52اگر میں ایک بال برابر بھی آگے بڑھا
19:54تو جل جاؤں گا
19:55یہ بات اس حقیقت کے اعکاسی کرتی ہے
19:57کہ صدرت المنتحہ پر جا کر
19:59حتیٰ کہ فرشتوں کے مقام اور اختیار کی بھی انتہا ہو جاتی ہے
20:02وہاں سے آگے صرف
20:03نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:05کو جانے کی اجازت میں دی
20:07اور یہ وہ موقع تھا جب آپ علیہ السلام
20:09نے اللہ رب العزت سے بلا واسطہ
20:11قربت اور راز و نیاز کا وہ مقام پایا
20:13جسے عقل انسانی مکمل طور پر
20:15سمجھنے سے قاسر ہے
20:16نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:18کا صدرت المنتحہ تک پہنچنا
20:20محض جسمانی یا آفاقی سفر نہیں تھا
20:22بلکہ کہ روحانی میراج کی انتہا تھی
20:24جو بندے کو اللہ کے سب سے قریب تر لے جاتی ہے
20:27یہ اس عبد کامل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:30کی شان کا مظہر ہے
20:31جن اللہ تعالیٰ نے
20:32قابع قوسین اور ادنہ
20:34یعنی دو کمانوں کے فاصلے
20:35یا اس سے بھی زیادہ قربتہ فرمایا
20:36مفسرین اس آیت کے تحت لکھتے ہیں
20:46علم و نور اور ذات مقدسہ کا جو مشاہدہ
20:49صدرت المنتحہ پر ممکن ہوا
20:51وہ کسی اور مخلوق کو عطا نہیں کیا گیا
20:53اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:55کو محبوب رب العالمین
20:57سید المرسلین اور خاتم النبیین
21:00جیسے القابات سے نوازا گیا
21:01صدرت المنتحہ پر جو نور و جمال کا منظر
21:04نبی علیہ السلام نے دیکھا
21:06وہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا
21:08حادیث میں آتا ہے
21:09کہ اس درخ کے پتے ہاتھی کے کانوں جیسے بڑے
21:11اور اس کے پھل مٹی کے بڑے بڑے برطنوں کی طرح تھے
21:14نور، رنگ، جمال، فرشتوں کی حاضری
21:17اور اللہ کی تجلیات سے
21:18صدرت المنتحہ کی شاخیں ڈھکی گئیں تھیں
21:21وہاں اللہ کے نور کی ایسی تجلی ہوئی
21:23جس سے درخ کا منظر بدل گیا
21:24اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
21:27میں نے صدرت المنتحہ کو ایسا دیکھا
21:29کہ اس کا حسن بیان سے باہر ہے
21:31صدرت المنتحہ کی حقیقت ہمارے لئے
21:33ایمان کی ایک عظیم نصیحت ہے
21:34کہ اللہ کی قربت سے فخاص بندوں کو حاصل ہوتی ہے
21:37جو اپنی زندگی میں خلوص، تقویٰ اور عبادت کو اپناتے ہیں
21:40ہم نے بھی یہ سیکھا
21:41کہ اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لئے
21:43دل کی پاکیزگی، نیک آمال
21:45اور مسلسل اللہ کی یاد و عطاعت ضروری ہے
21:48نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
21:50مہراج ہمیں یاد دلاتی ہے
21:51کہ اللہ کے قرب کا سفر ایک عظیم روحانی سفر ہے
21:54جسے ہر مومن اپنے دل و جان سے اپنانا
21:56جسے ہر مومن کو اپنے دل و جان سے اپنانا چاہیے
21:59یہ سفر ہمیں
22:00ہماری زندگیوں میں روشنی، سکون
22:02اور اتمنان عطا کرتا ہے
22:03آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں بھی
22:05نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صیرت پر عمل کرنے
22:08اپنی زندگیوں کو پاکیزگی سے بھڑنے
22:10اور اللہ کے قربت حاصل کرنے
22:21اس کا عملی مظاہرہ کریں
22:23اللہ تعالی آپ سب کو اپنے فضل و کرم سے نمازے
22:26اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں
22:29ہماری محبت کو قبول فرمائے
22:30آمین
22:31ناظرین ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
22:34ضرور پسند آئی ہوگی
22:35اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہے
22:37تو آپ سے گزارش کرتے ہیں
22:38کہ آپ ہمارے چینل کو ضرور سبسکرائب کر لیں
22:40اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
22:42تاکہ آپ کے پاس ہماری آنے والی
22:44مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹفکیشن بروقت ملتا رہے
22:47سبسکرائب کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
22:49اور اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں
22:52کمنٹس میں آپ اپنے سوالات بھی ہم تک پہنچا سکتے ہیں
22:54اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظ و مان میں رکھے
22:56آمین
Comments

Recommended