Skip to playerSkip to main content
Muharram, Islami calendar ka pehla mahina hone ke bawajood, ek azmati aur intehai ahmiyat wala waqt hai. Magar Noor TV ki tahqiqat ke mutabiq, ? ka Muharram sirf ek naya saal nahi – balkay ek ahem roohani aur aalamgir moor sabit ho sakta hai.

Kya ye woh Muharram hai jahan akhir zaman ki nishaniyan zahir hongi?
Islamic riwayat ke mutabiq, akhir zaman ke waqiat Ashura, Muharram, aur Hijri Calendar ke sath mazboot taluq rakhte hain. Kai ahadith mein bataya gaya hai ke:

📌 Nishaniyan Jo Muharram Se Juri Ho Sakti Hain:

Siyah Jhandon ka zahoor Mashriq se

Fasaad aur Jung ka aghaz Muharram ke dinon mein

Imam Mehdi A.S ka zahoor odd-numbered (witr) saal ke aspaas

Qamar aur Shams (chaand aur sooraj) mein ghuroobiyat

Dajjal ke tazkire aur geographial halchal

? ke political aur global halat, khaaskar Middle East, economic collapses, aur natural disasters, sab mil kar is Muharram ko ek aise waqt mein tabdeel kar rahe hain jahan Ummat ka imtihan aur ilm o yaqeen dono ka scale tol raha hai.

Har Muharram hamain yaad dilata hai ke:

“Har saal nahi – har saans ek niyamat hai.”
Lihaza zarurat hai ke Musalman roohani tor par mustaid ho jayein – zikr, sabr aur tawakkul ke sath apne rab se rujoo karein.

#Muharram?#QiyamatKaMuharram #AkhriMuharram #IslamicProphecy #NoorTV #EndTimesIslam #HijriCalendarEnd #Ashura? #SignsOfQiyamah #AakhirZamanKaWaqt

Category

📚
Learning
Transcript
00:28ڈس محرم
00:37بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:39السلام علیکم رحمت اللہ وبرکاتہو
00:42ناظرین محترم ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک تشویش ناقبر تیزی سے گردش کر رہی ہے
00:46کہ سائنسدانوں نے زمین کے ممکنہ خاتمے سے متعلق ایک پیش گوئی کی ہے
00:51بتایا جا رہا ہے کہ ایک بہت بڑا شہابیہ جسے اپو فس کا نام دیا گیا ہے
00:55زمین کی طرح بڑھ رہا ہے
00:56یہ کوئی نئی بات نہیں کہ ماضی میں بھی زمین پر خلا سے پتھروں کی بارش ہوتی رہی ہے
01:01اور آئندہ بھی زمین اور خلا سے آنے والے ان اجسام کے درمیان تصادم کا امکان موجود ہے
01:06حالیہ خبروں کے مطابق امریکہ کی خلائی تیقیق ایجنسی ناسا نے اس بارے میں ایک سخت بارننگ جاری کی ہے
01:11جس میں کہا گیا ہے کہ اپو فس نامی یہ دیو قامت شہابیہ زمین کے بہت قریب سے گزرے گا
01:16اور اگر اس کا زمین سے تصادم ہو گیا
01:19تو یہ ایک تباہ کن دھماکے کا باعث بن سکتا ہے
01:21اگرچہ یہ شہابیہ اتنا بڑا نہیں جتنا وہ شہابیہ تھا جس نے 65 ملین سال پہلے ڈینسورس کو ختم کر
01:28دیا تھا
01:28مگر اس کا سائز اتنا ضرور ہے
01:30کہ یہ نیو یوک یا لاؤس انجلس جیسے کسی بڑے شہر کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے
01:35اس کے دھماکے کی شدت سینکڑوں کلومیٹر کے دائرے کو مٹا سکتی ہے
01:39مزید خطرناک پہلو یہ ہے
01:40کہ اگر یہ شہابیہ سمندر میں جا گرا
01:42تو اس کی نتیجے میں خوفناک سنامی پیدا ہو سکتا ہے
01:45جو دنیا کے تمام ساحلی لاکھوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا
01:49اور بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بنے گا
01:51ناظرین ذرا تصور کیجئے
01:53یوم آشور کا دن ہو
01:54اور اچانک آسمان پر ایک دیو قامت آگ کا گولہ نمودار ہو
01:57جو زمین کی طرف بڑھتا چلا آ رہا ہو
01:59کیا واقعی ایسا ہونے والا ہے
02:01کیا دس محرم الحرام کو دنیا کا اختتام ہونے والا ہے
02:04سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبروں
02:06اور سائنسی دابوں نے لاکھوں دلوں میں
02:08ہلچل مچا دی ہے
02:09لوگ خوف میں مبتلا ہیں
02:10سوالات اٹھ رہے ہیں
02:11اور بے یقینی کا عالم ہے
02:13تو ناظرین آج کی ویڈیو میں
02:15ہم صرف ایک شہابیہ کی خبر نہیں
02:16بلکہ اس کے پیچھے چھپی ان عالمی سازشوں
02:19اور روحانی اشاروں کا جائزہ لیں گے
02:21جو تیسری عالمی جنگ کے آغاز
02:22ایران اور اسرائیل کے ممکنہ ٹکر
02:24اور امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی
02:27پیشگوئیوں سے جڑے ہیں
02:28کیا باقی ناظر کی طرف سے
02:30ایسی کوئی وارننگ جاری کی گئی ہے
02:31کیا یہ شہابیہ زمین سے ٹکرا سکتا ہے
02:34اور اگر ایسا ہوا تو کیا
02:35یہ دنیا میں ایک ایسا تباکن باپ کھول دے گا
02:38جو گریٹر اسرائیل کے منصوبے
02:40دجالی نظام کے قیام
02:41اور مہدی کے لشکر کی تیاری
02:43کے حقیقت میں بدل دے گا
02:44ہم یہ بھی جانیں گے کہ یہ شہابیہ کون سا ہے
02:47کہاں سے آیا ہے
02:48اس کی رفتار کیا ہے
02:49اور اس کے ٹکرانے کے ممکنہ اثرات
02:51کتنے بھیانک ہو سکتے ہیں
02:53یہ سب جاننے کے لئے
02:54ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھئے گا
02:56کیونکہ آگے جو انکشافات آپ کے سامنے آنے والے ہیں
02:58وہ شاید آپ کے شعور اور ایمان
03:00کو جھنجوڑ کر رکھ دیں گے
03:01ناظرین مہترم
03:12اور اس سے پہلے بھی
03:13اقوام سابقہ کے نزدیک
03:15نہایت مقدس اور بابرکت سمجھا جاتا تھا
03:17قریش مکہ اس دن کا خواستہ اتمام کرتے تھے
03:20وہ خانے کعبہ پر نیا غلاب چڑھاتے
03:22روزہ رکھتے اور اسے عبادت و احترام کا دن سمجھتے تھے
03:25یہ ان کی ملت ابراہیمی سے نزبت
03:27اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی پیروی کا مظہر تھا
03:30رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی
03:33ان اچھے عمال میں قریش کے ساتھ شریک ہوتے تھے
03:35اور یومِ آشور کا روزہ رکھتے
03:37اگرچہ اس وقت عام مسلمانوں پر اس روزے کی فرضیت نہیں تھی
03:40لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:42مدینہ منورہ تشریف لائے
03:44اور وہاں یہود کو آشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا
03:47تو ان سے دریات فرمایا
03:48انہوں نے بتایا کہ یہ وہ مبارک دن ہے
03:50جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام
03:52اور ان کی قوم بن اسرائیل کو فیرون کے ظلم و جبر سے نجات دی تھی
03:55اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
03:58ہم موسیٰ کے زیادہ قریب ہیں
04:00اور اس دن کے روزے کا بطور خاص احتمام فرمایا
04:02اور صحابہ اکرام کو بھی اس کی ترغیب دی
04:04یومِ آشور کو تاریخ انسانی کے کئی عظیم
04:07حیرت انگیز اور عبرتناک واقعات سے منصوب کیا گیا ہے
04:11مختلف روایات آثار اور مستنر تاریخی کتب
04:14اس بات کی شہادت دیتی ہیں
04:27حضرت عدریس علیہ السلام کو آسمان کے طرف اٹھائے گیا
04:30حضرت عبراہیم علیہ السلام کو خلیل اللہ کا رتباتہ ہوا
04:33اور نمرود کی آگ ان کے لئے گلے گلزار بنا دی گئی
04:36حضرت یوسف علیہ السلام کی طویل جدائی کے بعد
04:39اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام سے ملاقات بھی اسی دن ہوئی
04:42حضرت عیوب علیہ السلام کو ان کے آزمائشوں سے نجات ملی اور شفا نصیب ہوئی
04:46حضرت یونس علیہ السلام کو مشڑی کے پیٹ سے رہائی ملی
04:49اور ان کی قوم کی توبہ قبول کی گئی
04:51اسی دن حضرت موسی علیہ السلام پر تورات نازل ہوئی
04:53اور فیرون اور اس کے لشکر کو دریانیل میں غرق کر کے بن اسرائیل کو نجات دی گئی
04:58روایات کے مطابق حضرت سلمان علیہ السلام کو دوبارہ بادشاہت عطا ہوئی
05:02حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت بھی اسی دن ہوئی
05:04اور انہی کو اسی دن اللہ تعالی نے یہودیوں کے شر سے بچا کر آسمان پر بھی اٹھا لیا
05:09اسی دن حضرت موسی علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری
05:12اور اسی دن دنیا میں سب سے پہلی بار بارہ نے رحمت نازل ہوئی
05:16بعض روایات کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
05:19حضرت حدیثت القبرہ رضی اللہ عنہ سے اسی دن نکاح فرمایا
05:23قریش مکہ اسی دن خانہ کعبہ پر نئے غلاب ڈالا کرتے تھے
05:26گویا آشورہ کا دن
05:28کائنات کے بے شمار عظیم روحانی اور انقلابی باقیات کا مظہر ہے
05:32اور انقلابی باقیات کا مظہر ہے
05:34ایک ایسا دن جس نے تاریخ انسانیت کا رخ بدلا
05:37انبیاء کے آزمائشوں کے انجام کو ظاہر کیا
05:39اور اللہ کی رحمت مغفرت اور نصرت کے بے شمار رنگوں کو ظاہر کیا
05:43اس دن کی قدرت و منزلت کو سمجھنا
05:46اسے عبادت اور توبہ کے ذریعے منانا
05:48اور اس میں پوشیدہ روحانی پیغام کو اپنے دل میں زندہ رکھنا
05:52ہم سب کے لئے باعث نجات بن سکتا ہے
05:54ناظرین محترم حضرت ابو حریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
05:57کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
06:00قیامت یوم آشور یعنی محرم الحرام کی دسمی تاریخ کو
06:03اور وہ بھی جمعہ کے دن قائم ہوگی
06:05ناظرین محترم حضرت ابو حریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
06:08کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
06:11Qiyamah Yom-e-Aashur yani Muharrem ke 10th tarih
06:14Or wo bhi Jumayah ke din qayim hooggi
06:15Ek or maqam per aapne furmaya
06:17Aashurah ke din qayamah taayegi
06:19Or ye Jumayah ke din hoogga
06:20Yehadi se Mubarakah nehaid baamanih
06:22Or purasar hain
06:22Or in me ek azim din ki taraf
06:24Işarah kiya gaya hai
06:25Aysa din jiski tarih hiya
06:27Dinii och rohani ahamiyat
06:28To aapne jaga muslim hai
06:29Lekin iz din ka qayamah se tahluk biyan karke
06:32Nabi alayhi sallallahu wa sallam
06:33Nabi alayhi sallam
06:46Nabi alayhi wa sallam
07:03Hool naak petles goyi
07:09is
07:39war 3 کے ممکنہ آغاز سے تعبیر کر رہے ہیں
07:42ایران وہ سرزمینیں جو احادیث میں
07:44امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی
07:45ایک ممکنہ جائے مقام کے طور پر بیان کی گئی ہے
07:48آج ایک بڑے محاص پر آ چکی ہے
07:50سہونی ریاست اسرائیل نہ صرف فلسطین پر
07:52ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے بلکہ اب اس کی نگاہیں
07:54ایران شام لبنان یہاں تک کے مکہ و مدینہ تک پھیلی ہوئی ہیں
07:58یہود جن کی فطرت ہمیشہ سے
07:59سادشوں اور دھوکہ دہی پر مبنی رہی ہے
08:01آج بھی اپنے خفیہ انجمنوں اور شیطانی ایجنڈے کے تحت
08:04گریٹر اسرائیل کے خواب کو
08:06عملی شکل دینے میں مصروف ہے
08:07ان کے نزدیک ارض مععود صرف فلسطین تک محدود نہیں
08:10بلکہ دجل فریب اور خون ریزی کے ذریعے
08:13دجلانی سلطنت قائم کرنا
08:14ان کا مقصد ہے
08:15ایک ایسی سلطنت جس میں مسجد اقصہ کی جگہ
08:17حیکل سلمانی تعمیر ہو اور پوری دنیا پر
08:20ان کا قبضہ ہو
08:21ایران جو اہل بیعت کی محبت امام مہدی کے
08:23ظہور کی امید اور سہونی عزائم کے خلاف
08:25مضاہمت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے
08:27سہونی سادشوں کا بڑا حطف ہے
08:29آئے دن اسرائیل کی طرف سے ایران پر حملے
08:31سائبر وار ایٹمی تنصیبات پر وار
08:33اور حزباللہ کے خلاف پروکسی جنگ
08:35یہ سب اسی بڑے منصوبے کا حصہ ہیں
08:37یہ بات حیران کو نہیں کہ جب کبھی ایران
08:39کمزور پڑتا ہے
08:40یہودی ریاست اپنے منصوبے کے ایک اور
08:42مرحلے کی طرف بڑھتی ہے
08:43کیونکہ ان کے عقائد کے مطابق دجال کے
08:45ظہور سے پہلے امام مہدی کا ظہور ہونا ہے
08:47اور وہ جانتے ہیں کہ اگر امام مہدی
08:49ظاہر ہو گئے تو ان کی تمام سادشیں
08:51خاک میں مل جائیں گی
08:52اسی لئے ایک عالمی منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے
08:55ایران کو تباہ کرو شام کو غیر مستقم کرو
08:57اراک کو فرقہ واریت میں جھوک دو
08:59اور سعودی عرب کو جدیدیت کی چکا چوند میں کھو دو
09:02تاکہ جب وقت آئے
09:03تو کوئی مضاہمت نہ ہو
09:04اور دجال کے استقبال کے لیے دنیا تیار ہو چکی ہو
09:07ناظرین یوم آشور جہاں ایک طرف قربانی ہدایت
09:10صبر اور حق کی فتح کی علامت ہے
09:12وہی یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے
09:13کہ باطل کبھی خاموش نہیں رہتا
09:15اور حق کے ماننے والوں کو ہر دور میں
09:17کربلا کا سامنا کرنا پڑتا ہے
09:18آج کی دنیا میں کربلا کا منظر صرف میدانیں
09:21نینوہ تک محدود نہیں
09:22بلکہ غزہ یمن ایران شام اور عراق کی
09:25ہر گلی کربلا بنی ہوئی ہے
09:27اور وقت آ چکا ہے کہ ہم امام مہدی کے منتظر
09:29صرف زبانی نہ ہوں
09:30بلکہ عمل اور شعور سے اس راستے کے راہی بنیں
09:33تیسری عالمی جنگ اگر چھڑ گئی
09:35اور ماہرین کے مطابق یہ کسی بھی وقت ممکن ہے
09:37تو یہ صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں ہوگا
09:39بلکہ یہ جنگ دجال کی آمد کا راستہ ہموار کرے گی
09:42عالمی معیشت تباہ ہو جائے گی
09:43لاکھوں انسان ہلاک ہوں گے
09:44اور دنیا کے سوپر پاورز ایک دوسرے کے خلاف
09:47ایٹمی ہتھیار آزمانے لگیں گی
09:49اس سارے منظر نامے میں سعودی عرب
09:51بیت المقدس خوراسان اور کوفہ جیسے خطے
09:53مرکزی حیثیت اختیار کر جائیں گے
09:55بلکل ویسے ہی جیسے احادیث میں بتایا گیا ہے
09:58لہٰذا ناظرین یوم آشور صرف غم کا دن نہیں
10:00یہ بیداری کا دن ہے
10:01سوچنے اور سمجھنے کا دن ہے
10:03اور سب سے بڑھ کر باطل کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا دن ہے
10:06ہمیں جذبات میں نہیں
10:07حکمت اور بصیرت سے کام لینا ہوگا
10:09کیونکہ جنگ صرف میدانوں میں نہیں لڑی جاتی
10:11بلکہ ذہنوں میڈیا عقائد
10:13اور میشت اور نسلوں کے مستقبل پر
10:16اور نسلوں کے مستقبل میں لڑی جاتی ہے
10:17یہ دنیا ایک آخری مارکے کی طرف بڑھ رہی ہے
10:20اور ہمیں تیعہ کرنا ہے کہ ہم کس طرف کھڑے ہیں
10:22کیا ہم ان لوگوں میں شامل ہوں گے
10:24جو ظلم کے خلاف امام مہدی کے جھنڈے تلجمع ہوں گے
10:26یا پھر ان میں جو
10:28یہود و نصارہ کے نظام کا حصہ بن کر
10:30خاموشی سے دجال کی حکمرانی قبول کر لیں گے
10:32ناظرین قیامت اور محرم کے
10:34اس تعلق کی وجہ سے
10:36جب بھی محرم الحرام کا مہینہ قریب آتا ہے
10:38اور بالخصوص جب دس محرم
10:40کا دن کسی جمعہ کے دن کے ساتھ آ ملے
10:42تو سوشل میڈیا اور عام گفتگو میں
10:44ایسے دعوے اور افواہیں گردش کرنے لگتی ہیں
10:46کہ اس بار قیامت آ سکتی ہے
10:48یا دنیا کا خاتمہ قریب ہے
10:50یہ باتیں اکثر عام الناس کو پریشان کر دیتی ہیں
10:52اور ایک اس طرح بھی کیفیت جنم لیتی ہے
10:55گویا قیامت کی گھڑی بس آنے ہی والی ہے
10:57ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے
10:59کہ اسلام میں قیامت کے وقت
11:00اور دن کا علم صرف اور صرف
11:01اللہ رب العزت کے پاس محفوظ ہے
11:03جیسا کہ قرآن کریم میں بار بار
11:05ارشاد فرمایا گیا ہے
11:06یعنی وہ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں
11:09کہ وہ کب آئے گی
11:10فرما دیجئے کہ اس کا علم صرف
11:12میرے رب کے پاس ہے
11:17ناظرین ان حدیث کا مقصد ہرگز یہ نہیں
11:19کہ جب بھی یوم آشور جمعہ کے دن آئے
11:20ہم قیامت کے یقینی وقوع کا اعلان کر دیں
11:23بلکہ ان حدیث کا اصل مقصد
11:25ہمیں تمبی نصیحت اور روحانی جھنجوڑ دینا ہے
11:27کہ جس دن قیامت برپا ہوگی
11:29وہ کوئی معمولی دن نہ ہوگا
11:31بلکہ وہ دن یوم آشور ہوگا
11:33جو پہلے سے ہی اللہ کے نزدیک
11:34عظمت و برکت کا دن ہے
11:36لہذا ایسے موقع پر خوف و وہم کی فضا قائم کرنے کے بجائے
11:39ہمیں اپنے ایمان اور عمل کی
11:41اصلاح کرنی چاہیے
11:42اپنے گناہوں پر ندامت کے ساتھ توبہ کرنی چاہیے
11:45اور اللہ کے حضور جھک کر یہ دعا کرنی چاہیے
11:47کہ وہ ہمیں قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے
11:49محفوظ رکھے
11:50قیامت کا آنا یقینی ہے
11:51لیکن کب آئے گی
11:52یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا
11:54ہمارے لئے لازم ہے
11:56کہ ہم ہر لمحہ اس دن کی تیاری میں لگے رہیں
11:58اور بجائے فاہوں اور غیر مصدقہ دعووں پر یقین کرنے کے
12:01قرآن و سنت کی روشنی میں
12:03اپنے عمل نیت اور سوچ کو درست کریں
12:05ناظرین اب اگر دوسری طرف سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی
12:07اس پیش گوئی کی بات کریں
12:09تو آپ کو بتاتے چلیں
12:10کیپوفیس نامی یہ سیارچہ
12:11یعنی خلائی شہاب
12:13یہ دوہزار چار میں دریافت کیا گیا تھا
12:15ساندانوں کی اب تک کی کیلکولیشن کے مطابق
12:17یہ سیارچہ نہ تو مریخ اور مشرق کے درمیان موجود
12:21ایسٹرونائیٹ بیلٹ سے تعلق رکھتا ہے
12:22اور نہ ہی کائپر بیلٹ سے
12:24جو پلوٹو اور پلوٹو سے پیچھے تک پھیلی ہوئی ہے
12:26اور سورج کے گرد گردش کرتی ہے
12:28یہ سیارچہ اولڈ کلاوٹ سے تعلق رکھتا ہے
12:31جو سورج کے ہیل یوسیفر
12:33کا ایک حصہ ہے
12:34اور جس نے سورج کو ایک سفید
12:36یعنی گولی کی شکل میں چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے
12:39اولڈ کلاوٹ سورج سے کم از کم
12:40ایک سو پچاس بلین کلومیٹر سے زیادہ دور ہے
12:43اور یہ اتنا زیادہ فاصلہ ہے
12:44کہ انیس سو ستتر میں لاؤنچ کردہ
12:46وائجر ون اور وائجر ٹو نام کے دو
12:49مشنز اب تک اولڈ کلاوٹ کی
12:51سرحت کو پار نہیں کر پائے
12:52اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سیارچہ
12:54زمین کے قریب سے دوبارہ جب بھی گزرے گا
12:56اس وقت یہ نسل تو کیا اگلی نسلیں بھی ختم ہو چکی ہوں گی
12:59جو اس سیارچے کو
13:00اس بار دیکھیں گی
13:01یعنی اس کا زمین سے قریب آنے کا دورانی ابھی
13:04سیکروں سالوں پر محیط ہے
13:05اس سے پہلے جب دوہزار چار میں
13:07اپو فس کو دریافت کیا گیا تو
13:09اسے ہیزر ڈوز یعنی خطرناک کیٹیگری میں
13:11رکھا گیا تھا
13:12جس کا مطلب یہ کہ یہ سیارچہ
13:14کم از کم تین سے پانچ فیصد تک
13:16امکان رکھتا ہے
13:17کہ یہ مستقبل میں زمین سے ٹکرا سکے
13:19البتہ حال ہی میں
13:20اس سیارچے کو ٹریک کرتے ہوئے
13:22ناسا کے سائنسدانوں نے
13:23نئے سرے سے
13:24جدید ٹیکنالوجی کی مدد کرتے ہوئے
13:26کیلکولیشنز کی ہیں
13:27جن سے ظاہر ہوا ہے
13:28کہ یہ سیارچہ
13:29اگر زمین کے انتہائے قریب سے گزرے گا
13:31اور دن کے روشنی میں بھی
13:32واضح طور پر اسے دیکھا جا سکے گا
13:33اس کے باوجود
13:34اس کا زمین سے ٹکرانے کا امکان
13:36ایک فیصد کے ہزار میں حصے سے بھی کم ہے
13:38اگر بات کی جائے
13:39اس سیارچے کے ڈائمنشنز کی
13:41تو یہ سیارچہ
13:42امریکہ کے مشہور و معروف عمارت
13:44امپار اسٹریٹ بلڈنگ سے بھی
13:46بہت بڑا ہے
13:47بلکہ اس کا سائز
13:48فرانس کے مشہور ایفل ٹاور سے بھی زیادہ ہے
13:50اسے ایسے سیارچے جو بہت دور سے آتے ہیں
13:53یعنی اول کلاوڈ سے آتے ہیں
13:54اور سورج کی کشش کی وجہ سے
13:56اس کے قریب آ جاتے ہیں
13:57وہ سورج کے قریب آتے ہوئے
13:59اپنے رفتار بہت زیادہ کر لیتے ہیں
14:00کیونکہ ان کے اوپر
14:01سورج کی کشش سکل
14:03یعنی سورج کی گرائیوٹی
14:04پوری طرح اثر انداز ہو رہی ہوتی ہے
14:06اس وقت کی ٹریکنگ کے مطابق
14:08یہ سیارچہ تقریباً
14:09تیس کلومیٹر فی سیکنڈ
14:11یعنی ایک لاکھ آٹھ ہزار کلومیٹر
14:13فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کر رہا ہے
14:14یہ رفتار کتنی زیادہ ہے
14:16اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں
14:18کہ انیس سو ستتر میں لاؤنش کردہ
14:20وائجر ون مشن کی رفتار
14:21اس وقت جب وہ
14:22سورج کے اوڑ کلاوڈ کو پار کرنے ہی والا ہے
14:25تو اس کی رفتار تقریباً
14:26سترہ کلومیٹر فی سیکنڈ
14:28یعنی اس سیارچی کی رفتار
14:29انسان کے بنائے ہوئے
14:30وائجر ون مشن کی رفتار سے بھی دنگنی ہے
14:32جیسے جیسے یہ سیارچہ
14:34سورج کے نزدیک آتا چلا جائے گا
14:36اس کی رفتار اور بھی بڑھتی چلی جائے گی
14:38دوہزار چار میں
14:39اس سیارچے کی دریافت کے بعد
14:40ناسا نے
14:41اپو فیس کو زمین کے لیے
14:42سب سے خطرناک سیارچہ قرار دیا تھا
14:44سن دوہزار انتیس اور دوہزار چھتیس میں
14:47اس سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کی پیشگوئی کی گئی تھی
14:50لیکن بعد میں اسے رد کر دیا گیا
14:52تاہم سن دوہزار آٹھ تک
15:02تزدیک کی ہے
15:03کہ کم از کم اگلے سو سالوں تک
15:05اپو فیس نامی سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کا
15:07کوئی امکان نہیں ہے
15:09لہٰذا آپ زمین پر بسنے والے لوگ
15:11سکون کا سانس لے سکتے ہیں
15:12افرا تفریح پھیلانے والے دعویوں کے برخلاف
15:14اور تاریخ کے قدیم مصری دیوتاؤں کے نام سے
15:17منصوب شہابیہ
15:17اپو فیس کی چوڑائی تقریباً
15:19تین سو چالیس میٹر
15:20یعنی گیارہ سو فٹ ہے
15:22جو کہ برطانیہ کے تین فٹ بال گراؤنڈ کے برابر ہے
15:24حالی میں پانچ مارچ کو یہ سیارہ
15:26زمین کے نسبتاً قریب سے گزرا تھا
15:28اور اس وقت یہ زمین سے تقریباً
15:30ایک کروڑ ستہ لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا
15:33ماہرین فلکیات نے سورج کے گرد گھومنے والے
15:35ایسے سیارچوں کے مدار کو
15:37بہتر طور پر سمجھنے کے لیے
15:38ریڈار ڈیٹا کا استعمال کیا
15:40اس تحقیق کی مدد سے انہیں یہ معلوم ہوا
15:42کہ سال دو ہزار اٹھ سٹھ تک
15:44زمین کو اس سیارچے سے کسی قسم
15:46کا خطرہ لاحق نہیں
15:47اس سیارچے سے متعلق مکمل تفصیلات
15:50ناسا کے سٹڈی ڈیپارٹمنٹ کے جانب سے
15:52جاری کی گئی ہیں
15:53اس ادارے کی کیلکولیشنز کے مطابق
15:54یہ سیارچہ زمین کے اس قدر قریب سے گزرے گا
15:57کہ چاند کا زمین سے فاصلہ بھی
15:59اس کے مقابلے میں کچھ نہیں لگے گا
16:00واضح رہے کہ چاند زمین سے
16:02اوسطاً دو لاکھ اٹھالیس ہزار
16:04پانسو اٹھالیس میل کے فاصلے پر موجود ہے
16:07اگرچہ اس فاصلے میں
16:08معمولی کمی بیشی ہوتی رہتی ہے
16:09دوسری جانب اپوفیس نامی شہابیہ
16:12حالیہ ٹریکنگ اور سائنسی اندازوں کے مطابق
16:14زمین سے صرف بیس سے
16:16تیس ہزار میل کی دوری سے گزرے گا
16:18یہ فاصلہ اتنا کم ہوگا
16:19کہ زمین پر موجود تمام افراد
16:21اسے دیکھ بھی نہ سکیں گے
16:22کیونکہ کوئی بھی چیز جتنی زمین سے دور ہوگی
16:24اسے دیکھنا اتنا ہی آسان ہوتا ہے
16:27اور جتنی قریب ہوگی
16:28اتنے ہی نظروں سے اوجل ہو سکتی ہے
16:29اگرچہ یہ شہابیہ زمین سے
16:31نہایت قریب سے گزرے گا
16:32لیکن کچھ مقصود جگہیں ایسی ضرور ہوں گی
16:34جہاں سے اسے دیکھا جا سکے گا
16:36ان مقامات پر رستگاہیں قائم کی جائیں گی
16:39تاکہ سیارچے کا مزید تفصیلی مشاہدہ کیا جا سکے
16:42کہ یہ کس قسم کے خلائی پتھروں پر مشتمل ہے
16:44اور اگر مستقبل میں یہ زمین سے ٹکرا جائے
16:47تو اسے کیسے تباہ یا منحرف کیا جا سکتا ہے
16:49ناظرین گرامی یہ جاننا بھی بہت ضروری ہے
16:51کہ ناسا کے زیر احتمام
16:53ایسی خلائی تحقیقات پر کام جاری ہے
16:55جن کے مدد سے مستقبل میں زمین کی طرف بڑھنے والے
16:58کسی بھی خطرناک خلائی پتھر
17:00یا شہابیہ کو زمین سے پہلے
17:01خلائی میں ہی تباہ کر کے
17:03زمین کو محفوظ بنایا جا سکے گا
17:04ہم جانتے ہیں کہ جب کوئی شہابیہ زمین کے
17:07کررہ ہوائی میں داخل ہوتا ہے
17:08تو وہ زمین کی ہوا سے رگڑ کھا کر
17:11جلنا شروع ہو جاتا ہے
17:12اور اکثر فضا میں ہی ختم ہو جاتا ہے
17:14تاہم اگر کوئی سیارچہ بہت بڑے حجوم کا ہو
17:16جیسا کہ ڈانسور کے خاتمے والے واقعے میں ہوا تھا
17:19جہاں شہابیہ کا سائز
17:20دس کلومیٹر سے بھی بڑا تھا
17:22تو وہ کررہ ارض میں جلنے کے باوجود
17:24زمین سے ٹکرا جاتا ہے
17:25اور ہالناک تباہی پھیلاتا ہے
17:27ایسے کسی ممکنہ خطری کی صورت میں
17:29اگر ہم بار وقت اس سیارچے کو خلہ میں ہی تباہ کر دیں
17:31تو وہ کئی چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بڑھ جائے گا
17:34اور اگر وہ چھوٹے ٹکڑے کررہ ہوائی میں داخل بھی ہوں
17:36تو زمین کی ہوا سے رگڑ کھا کر
17:38فضا میں ہی جل جائیں گے
17:39اور زمین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے
17:42اس لئے ان تحقیقات کو
17:43عالمی سطح پر انتہائی آمیت دی جا رہی ہے
17:46ناسا اس سلسلے میں ایک کامیاب تجربہ بھی کر چکا ہے
17:48انہوں نے مریخ کے گرد گردش کرنے والے
17:51ایک چھوٹے سیارچے پر
17:52ایک چھوٹا خلائی چہاز انتہائی مارت سے اتارا
17:55اور اس کی سطح پر ڈرلنگ کی گئی
17:57اگر یہ تجربات کامیاب رہے
17:58تو مستقبل میں زمین کے لئے خطرہ بننے والے
18:01شہابیوں سے بچاؤ ممکن ہو سکے گا
18:03یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں
18:05ایسے شہابیوں کو تباہ کرنے کے بجائے
18:06کسی طریقے سے زمین کے طرف بحفاظت
18:09کھینچ لیا جائے گا
18:10کیوں؟
18:11اس کی وجہ یہ ہے
18:12کہ خلائم زمین کے آس پاس
18:14بے شمار سیارچے گردش کر رہے ہیں
18:16جن میں انتہائی قیمتی دھاتیں موجود ہیں
18:18اس میں سے کچھ میں لاکھوں کروڑوں ٹن سونا
18:21تابہ اور دیگر نایاب مادنیات پائی جاتی ہیں
18:23اب تک جو منصوبہ بندی کی گئی ہے
18:25اس کے مطابق زمین سے
18:26ایک خلائی جہاز لانچ کیا جائے گا
18:28جو زمین سے ٹکرانے والے سیارچے پر اترے گا
18:30پھر اس کی سطح پر ڈرلنگ کر کے
18:32ایک طاقتور بم نصب کیا جائے گا
18:36جو بعد میں پھٹ کر سیارچے کو چھوٹے چھوٹے
18:38ٹکڑوں میں تقسیم کر دے گا
18:41تاکہ زمین پر زندگی محفوظ رہ سکے
18:43ناظرین یہ تھی وہ مکمل معلومات
18:45جو سوشل میڈیا پر اس سیارچے کے زمین سے
18:47ٹکرانے اور زمین کی تباہی سے متعلق
18:49پھیلائی جا رہی ہیں
18:50اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ خبریں آخر کیوں پھیلائی جا رہی ہیں
18:53ممکن ہے کہ اس کا مقصد مسلمانوں کی توجہ
18:56ہٹانا ہو اور انہیں ان کے اصل دینی
18:58اور روحانی مقاصد سے دور لے جانا ہو
19:00ہم سب جانتے کہ یوم آشور انتہائی
19:02فضیلت اور اہمیت کا حامل دن ہے
19:04اس دن کا روزہ اور عبادت
19:05بے شمار ثواب کا ذریعہ ہیں
19:07لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ان غلط
19:09افواہوں افراد و تفرید پر مبنی خبروں
19:11کے بجائے اپنی توجہ اللہ کی عبادت
19:14دعا اور اصلاح نفس کی طرف
19:15مرکوز رکھیں اور آشورہ کے حقیقی
19:17روحانی پیغام کو اپنائیں
19:19فرض کریں اگر یوم آشور جمعے کے دن آئے
19:21تو ایسے کئی جمعے گزر چکے ہیں
19:23جن میں آشور کا دن بھی شامل ہے
19:25لیکن قیامت کی وہ بڑی بڑی نشانیاں
19:27اب تک پوری نہیں ہوئیں جن کا
19:28ذکر احادیث مبارکہ میں تفصیل سایا ہے
19:31لہذا میں یہ سمجھنا چاہیے کہ
19:33قیامت کا وقت ضرور آئے گا اور اس پر
19:35ایمان رکھنا ہر مسلمان کے لئے لازمی ہے
19:37ناظرین گرامی ہم یہاں آپ کو
19:39قیامت کی ان نشانیوں کے متعلق بھی آگاہ کرتے چلیں
19:41جن کا ذکر پیارے رسول
19:43صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
19:45تاکہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ قیامت
19:47اب بھی کچھ فاصلے پر ہے
19:48اگرچہ اس کا آنا یقینی ہے
19:50قیامت کے وقت حقیقی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے
19:53لیکن
19:54آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت سے قبل
19:56جو علامات ظاہر ہونے والی بتائی ہیں
19:59ان کی مثال ایسی ہے جیسے تحزبی کے دانے
20:01جب تحزبی کا دھاگا ٹوڑ جائے
20:03تو دانے ایک ایک کر کے تیزی سے بکھڑنے لگتے ہیں
20:05بلکل اسی طرح جب قیامت کی بڑی نشانیاں شروع ہوں گی
20:08تو وہ بھی ایک کے بعد
20:10ایک برکرفتاری سے ظاہر ہوں گی
20:12قیامت کے نشانیوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے
20:14چھوٹی نشانیاں
20:16یہ وہ نشانیاں ہیں جو قیامت سے بہت پہلے ظاہر ہو چکی ہیں
20:19کچھ اب ظاہر ہو رہی ہیں
20:20کچھ وقتن فوقتن دوہر آئی جا رہی ہیں
20:22اور کچھ ایسی ہیں جو ابھی بھی باقی ہیں
20:24لیکن یقینی طور پر ظاہر ہوں گی
20:26جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
20:28ان صغرہ علامات میں سب سے پہلے نشانی خود
20:31آپ علیہ السلام کے دنیا میں تشریف آوری ہے
20:34اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
20:37بسال مبارک
20:38پشلی آسمانی کتابوں میں بھی
20:39آپ علیہ السلام کو
20:41نبی اصاہ
20:42یعنی قیامت کے نبی کے لقب سے یاد کیا گیا ہے
20:45یعنی وہ نبی جن کے بعد قیامت آئے گی
20:48اور جن کی امت پر قیامت قائم ہوگی
20:50یہ نشانیاں قیامت کے بالکل قریب ظاہر ہوں گی
20:53اور ان کے ظاہر ہونے کے بعد
20:54قیامت کے قائم ہونے میں زیادہ وقت نہیں بچے گا
20:57ان بڑی نشانیوں میں دجال
20:58حلتی صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول
21:00یاجوج ماجوج کا خروج
21:01سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
21:03اور ایک زوردار دھوان
21:04دخان جیسے واقعات شامل ہیں
21:07قیامت کی چھوٹی نشانیوں میں
21:08وہ تمام واقعات شامل ہیں
21:10جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیست سے لے کر
21:13ابتن وقتن فوقتن رونما ہو چکے ہیں
21:15یا ہو رہے ہیں
21:16اور کچھ ایسی ہیں جو مستقبل قریب میں ظاہر ہوں گی
21:19ان نشانیوں میں شامل ہے
21:20آپ علیہ السلام کی دنیا میں تشریف آوری
21:23آپ علیہ السلام کا وسال
21:25بیت المقدس کی فتح
21:26فلسطین کے شہر امواز میں
21:28تاؤن کی وبا کا پھیلنا
21:29بچوں کے والدین سے نا فرمانی
21:31بیٹیوں کا ماں کی بات نا ماننا
21:33دوست کو اپنا سمجھنا
21:35اور باپ کو اجنبی قرار دینا
21:37علم اٹھا لیا جائے گا
21:38اور جہالت عام ہو جائے گی
21:40لوگ دین کا علم دنیا کے مفادات کے لیے حاصل کریں گے
21:43نا اہل لوگ منصب اور حکومتوں پر قابض ہو جائیں گے
21:45ذمہ داریاں ایسے لوگوں کے سپورت ہوں گی
21:47جو ان کے اہل نہیں ہوں گے
21:49ظالموں اور بدکاروں کے عزت صرف اس لیے کی جائے گی
21:52کہ وہ نقصان نہ پہنچائے
21:53شراب عام ہو جائے گی
21:54زناکاری اور بے حیائی کو فروغ ملے گا
21:56رقاصان اور گلوکاروں کا کھل عام رخص و سرور ہوگا
21:59محسیقی کے آلات عام ہو جائیں گے
22:01امت کے بزرگوں کی توہین کی جائے گی
22:04جھوٹ کو عام اور کمال سمجھا جائے گا
22:06عمراء رکمران
22:07ملکی خزانے کو ذاتی جائدہ سمجھیں گے
22:09امانتوں میں خیانت عام ہو جائے گی
22:11لوگ دوسروں کی امانتوں کو ذاتی ملکت سمجھنے لگیں گے
22:15نیک اور باکردار افراد کی جگہ
22:17فاسق و فاجر لوگ قوم کے سردار بنیں گے
22:19شرم و حیاء ختم ہو جائے گی
22:21ظلم اور جبر عام ہو جائے گا
22:22امان سمٹ کر مدینے میں چلا جائے گا
22:25جیسے سام بل میں گھوز جاتا ہے
22:27ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے
22:28کہ دین پر قائم رہنا ایسا ہوگا
22:30جیسے ہاتھ میں انگارہ تھامنا
22:31زکاة کو لوگ تاوان سمجھنے لگیں گے
22:33مال غنیمت کو ذاتی مال سمجھا جائے گا
22:35ماں کے نافرمانی اور بیوی کے تاعت عام ہو جائے گی
22:38عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہو جائے گی
22:41یہاں تک کہ ایک مرد پچاس عورتوں کا نگرہ ہوگا
22:43آج جو خبریں سائنسی وارننگز
22:47یا پیجگوئیاں سامنے آ رہی ہیں
22:48یہ ہمیں خوف میں مبتلہ کرنے کے بجائے
22:50بیداری کا پیغام دیتی ہیں
22:52ہمیں خبردار کرتی ہیں
22:53کہ یہ دنیا ہمیشہ باقی رہنے والی نہیں
22:55ہمیں اپنی آخرت کی تیاری کرنی ہے
22:57اگر یہ واقعات واقعی تیسری عالمی جنگ
22:59ایران و اسرائیل کے ممکنہ جھڑپ
23:01یا امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے اشارے ہیں
23:03تو ہمیں اور بھی سنجیدہ ہو جانا چاہیے
23:06نہ صرف دعا کے ذریعے
23:07بلکہ عامال سالحہ کے ذریعے
23:09سچائی عدل اور اللہ سے جڑاؤ کے ذریعے
23:12اس فتنے کے دور میں اپنی دینی اور روحانی
23:14قلعے کو مضبوط کرنا ہوگا
23:16تو آئیے ہم سستی غفلت
23:18اور دنیا پرستی کے پردے کو ہٹا کر
23:20قرآن سنت اور ایمان کے روشنی میں
23:22اپنے زندگی کو بدلیں
23:23شاید یہی لمحہ تبدیلی کا آغاز بن جائے
23:26اللہ ہم سب کو فتنوں سے محفوظ رکھے
23:28حق کو پہچاننے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
23:32آمین یا رب العالمین
Comments

Recommended