Zam Zam ka chashma sirf pani ka aik sarchashma nahi, balkay imaan, sabr, aur tawakkul ka aisa la-faani mojza hai jo har Musalman ke dil ko roohani tor par jila deta hai. Noor TV ki is ilm o noor se bhari report mein, aapko dikhaya gaya hai ke kaise Bibi Hajra (R.A.) ne ek tanha aur sunsan waadi mein Hazrat Ismail (A.S.) ke sath Allah ke bharose par zindagi guzaari – aur phir Allah ne unki sabr aur duaon ke badlay mein yeh abadi paani ka chashma ata farmaya.
Bibi Hajra ka Safa aur Marwah ke darmiyan daudna, unka har kadam, unka har dekhna – yeh sab aaj bhi Hajj ka rukn ban chuka hai. Yeh mojza sirf guzri hui qoum ka waqia nahi, balkay aaj ke har shakhs ke liye taleem hai ke jab banda sabr aur yaqeen ke sath Allah ko pukarta hai, to Allah jawaban aisi rehmat ata karta hai jo qiyamat tak chalti hai.
Hazrat Ismail ki pyas aur maa ki bechaini – ek maa ka jazba, aur ek nabi ka saaf fitrat Allah ke qareeb itna le jata hai ke zameen se pani nikalta hai. Aaj bhi croreon log is pani se roohani aur jismani shifa paate hain.
Zam Zam ka mojza humein ye sabak deta hai ke jab insaan be-sahara hota hai lekin Allah par bharosa rakhta hai, to Allah har namumkin ko mumkin bana deta hai. Yeh kahani imaan, wahy, aur rehmat-e-ilahi ka zinda saboot hai.
#ZamZamKaMojza #BibiHajra #HazratIsmail #IslamicHistory #NoorTV #ZamZamWater #SafaAurMarwah #HajjStory #DivineMiracle #ZamZamOrigin #RoohaniWaqia #MojzaeIlahi #TawakkulKaSila#ZamZamKaMojza #BibiHajra #HazratIsmail #IslamicHistory #NoorTV #ZamZamWater #SafaAurMarwah #HajjStory #DivineMiracle #ZamZamOrigin #RoohaniWaqia #MojzaeIlahi #TawakkulKaSila
Bibi Hajra ka Safa aur Marwah ke darmiyan daudna, unka har kadam, unka har dekhna – yeh sab aaj bhi Hajj ka rukn ban chuka hai. Yeh mojza sirf guzri hui qoum ka waqia nahi, balkay aaj ke har shakhs ke liye taleem hai ke jab banda sabr aur yaqeen ke sath Allah ko pukarta hai, to Allah jawaban aisi rehmat ata karta hai jo qiyamat tak chalti hai.
Hazrat Ismail ki pyas aur maa ki bechaini – ek maa ka jazba, aur ek nabi ka saaf fitrat Allah ke qareeb itna le jata hai ke zameen se pani nikalta hai. Aaj bhi croreon log is pani se roohani aur jismani shifa paate hain.
Zam Zam ka mojza humein ye sabak deta hai ke jab insaan be-sahara hota hai lekin Allah par bharosa rakhta hai, to Allah har namumkin ko mumkin bana deta hai. Yeh kahani imaan, wahy, aur rehmat-e-ilahi ka zinda saboot hai.
#ZamZamKaMojza #BibiHajra #HazratIsmail #IslamicHistory #NoorTV #ZamZamWater #SafaAurMarwah #HajjStory #DivineMiracle #ZamZamOrigin #RoohaniWaqia #MojzaeIlahi #TawakkulKaSila#ZamZamKaMojza #BibiHajra #HazratIsmail #IslamicHistory #NoorTV #ZamZamWater #SafaAurMarwah #HajjStory #DivineMiracle #ZamZamOrigin #RoohaniWaqia #MojzaeIlahi #TawakkulKaSila
Category
📚
LearningTranscript
00:27।
00:43।
01:00صرف تنہائی خاموشی اور ایک سوال
01:02کیا واقعی اللہ ہمیں تنہا چھوڑ دے گا
01:04یہ کوئی داستان نہیں بلکہ ایک سچی حقیقت ہے
01:07ایک ایسا لمحہ جس نے نہ صرف تاریخ کا رخ موڑا
01:10بلکہ ایمان صبر اور رب کی مدد کا وہ عظیم پیغام دیا
01:13جسے آج بھی ہر مسلمان کے دل میں زندہ رکھا جاتا ہے
01:16جی ہاں یہ وہی لمحہ تھا جب
01:18بے آب و گیا مکہ کی سرزمین پر
01:21اللہ کا ایک عظیم معجزہ رونما ہوا
01:23جب حضرت حاج علیہ السلام نے
01:25بے قراری کے عالم میں صفا اور مروہ کے پہاڑوں کے درمیان دور لگائی
01:28اور ان کے پیروں تلے
01:29اس معصوم بچے کی ایڑیاں رگڑنے سے
01:31زمین اللہ کے حکم سے راز افشا کیا
01:34اور تب ایک چشمہ پھوٹ پڑا لیکن کوئی عام پانی نہیں تھا
01:37یہ تھا زمزم
01:39اللہ کی رحمت قدرت اور برکت کا وہ
01:41عبدی نشان جو صدیوں سے جاری ہے
01:43اور تا قیامت جاری رہے گا
01:45لیکن سوال یہ ہے کہ یہ پانی کسی معجزہ سے نکلا
01:47اس کی روحانی اہمیت کیا ہے
01:49اور آخر کیوں کہا جاتا ہے کہ زمزم کا ایک گھونٹ
01:52شفاہ بھی ہے اور عبادت بھی
01:53آج کی ویڈیو میں ہم آپ کو لے کر چلیں گے
01:55سہراؤں کی اس بے آب و گیاوادی کی جانب
01:58جہاں ایمان قربانی
01:59اور رب پر بھروسی کی وداستان جرم لیتی ہے
02:02جو ہر دور کے انسان کے دل کو جھنجور دیتی ہے
02:06ناظرین لیے اس وقت کی بات ہے
02:07حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑھاپے کی دہلیس پر قدم رکھ چکے تھے
02:10اور ان کے اہلیہ حضرت سارہ بھی عمر کے
02:12اس حصے میں تھی جہاں اولاد کی امیدیں
02:14مددم پڑ جاتی ہیں
02:15دونوں میاں بھی برسوں صلی اللہ تعالیٰ سے
02:17اولاد کی دعا کر رہے تھے لیکن
02:19تقدیر نے اب تک کاموشی اختیار کر رکھی تھی
02:21حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دل اولاد کی خواہش سے
02:24لبریس تھا مگر وہ اللہ کی رضا پر راضی تھے
02:26اسی طوران اللہ کے حکم سے حضرت سارہ نے اپنی خادمہ
02:29حضرت حاجرہ سلام اللہ علیہہ کو
02:30حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نکاح میں دے دیا
02:32اور اللہ تعالیٰ کی قدرت نے اپنا جلوہ دکھایا
02:35حضرت حاجرہ رضی اللہ عنہ کے بطن سے
02:37ایک ننہ سا فرشتہ صفت بچہ دنیا میں آیا
02:40اور وہ بچہ جس کی پیدائش نے نہ صرف
02:42ابراہیم علیہ السلام کے زندگی کو خوشیوں سے بھر دیا
02:44بلکہ آنے والے وقتوں میں
02:46دنیا کے تاریخ کا دھارہ بھی بدل کر رہ دیا
02:48جی ہاں یہ تھا حضرت اسماعیل علیہ السلام
02:51جنہیں اللہ تعالیٰ نے قضیم مقصد کے تحت پیدا فرمایا
02:53ان کی پیدائش صرف ایک بیٹے کی پیدائش نہ تھی
02:56بلکہ یہ اللہ کے عبادوں کی تکمیل
02:58ایمان کی آزمائش اور ایک نئی امت کے آغاز کا اعلان تھا
03:01حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چہرے پر برسوں بعد وہ مسکراہت لوٹ آئی
03:05جو باپ بننے کی خوشی سے پھوٹتی ہے
03:07انہوں نے اس بچے کو اپنی جان سے بڑھ کر چاہا
03:09مگر وہ جانتے تھے کہ اللہ کا یہ انام
03:11ایک بڑی آزمائش کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے
03:13یہی وہ بچہ تھا جس کے ساتھ باپ نے
03:15سہرہ کی تنہائیوں میں اللہ کے حکوم پر قدم رکھا
03:18جس کے لئے مکہ کی بیابو گیا حبادی میں
03:20قانع کعبہ کی بنیاد رکھی گئی
03:22اور جس کی نسل سے آخر کار خاتم النبیین
03:25حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے
03:28ناظرین حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
03:30اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے
03:31بے پناہ محبت تھی
03:33وکسر انہیں اپنی گود میں لیے رکھتے
03:35یا کاندوں پر بٹھا کر پیار و شفقت کا مظاہرہ کرتے
03:38یہ منظر صلی اللہ علیہ السلام کے لئے پریشان کن تھا
03:40کیونکہ ان کے اور حضرت حاجرہ کے درمیان
03:43فطری رقابت پیدا ہو چکی تھی
03:44حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
03:46ان دونوں بیویوں کے درمیان
03:48ہم آہنگی پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی
03:50لیکن فضا میں کشیدگی کم نہ ہو سکی
03:52بلاخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا
03:54کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام
03:55حضرت حاجرہ اور ننہ اسماعیل کو
03:57ایک دور افتادہ مقام
03:58مقہ کی بے آب و گیاہ وادی کے طرف لے جائیں
04:00چنانچہ آپ انہیں لے کر روانہ ہوئے
04:02اور سویران وادی میں جسے قرآن نے
04:04وادی غیر زی ذرعہ
04:06یعنی ایسی وادی جہاں کوئی کھیتی نہیں
04:08کہا جاتا ہے
04:09کچھ کھجوریں اور ایک مشکیزہ پانی رکھ
04:11خاموشی سے واپس پلٹنے لگے
04:13حضرت حاجرہ گھبرا کر پیچھے آئیں
04:15اور سوال کیا
04:16آپ ہمیں یہاں کس کے سہارے چھوڑ کر جا رہے ہیں
04:18حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
04:19سے فتنہ کہا اللہ کے سہارے
04:21حضرت حاجرہ نے دوبارہ پوچھا
04:23کیا یہ اللہ کا حکم ہے
04:24حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
04:25اس بات میں سر ہلایا
04:26تب حضرت حاجرہ نے دل پر
04:28یقین کا چراغ جلا کر کہا
04:29پھر آپ بے فکر ہو جائیں
04:31اللہ ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا
04:33حضرت عبداللہ بن عباس
04:34رضی اللہ تعالیٰ نے روایت کرتے ہیں
04:35کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
04:36حضرت حاجرہ اور شیر خار
04:38حضرت اسمائل علیہ السلام کو
04:39کعبے کی قریب
04:39ایک مقام روحہ میں چھوڑا
04:41جہاں نہ انسانوں کا گزر تھا
04:42نہ پانے کا کوئی نام و نشان
04:43اس بے آب ہو گیا
04:45وادی میں صرف کچھ خجوریں
04:46اور ایک مشکیزہ ان کا کل احساسہ تھا
04:48واپسی پر حضرت ابراہیم علیہ السلام
04:49سنیہ کے مقام پر پہنچے
04:50جہاں حضرت حاجرہ اور اسمائل
04:52نظر سے اوجھل ہو گئے
04:54تو آپ کا دل بھر آیا
04:55آپ نے قبلہ رکھ ہو کر
04:56دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی
04:58اے میرے رب
04:59میں نے اپنی اولاد کو
05:00تیری حرمت والے گھر کے قریب
05:01ایک بنجر وادی میں بسایا ہے
05:03تاکہ وہ نماز قائم کریں
05:04پس تو لوگوں کے دل
05:06ان کی طرف مائل کر دے
05:07اور انہیں پھلوں سے روزی عطا فرما
05:09تاکہ وہ تیرا شکر عدا کریں
05:11سورہ ابراہیم آیت سیتیس
05:14ناظرین در جب پانی کا مشکیزہ
05:15تھوڑی سی خجوریں ختم ہو گئیں
05:17تو شیر خوال اسمائل بھوک
05:18اور پیاس کی شدت سے رونے لگے
05:19ارد گرد سے انسان بیابان تھا
05:21دور دور تک پانے کا کوئی نام و نشان نہ تھا
05:23بی بی حاجرہ بیچین ہو کر
05:25قریبی پہاڑیوں پر چڑھ گئیں
05:26شاید کوئی پانی کا ذریعہ نظر آ جائے
05:28لیکن وہاں صرف خوشک چھٹانے
05:30اور پتریلی زمین تھی
05:31جب بچے کی تنہائی کا خیال آتا
05:32تو جلدی سے نیچے واپس آتی
05:34بچہ شدت فاقہ سے تڑپ رہا تھا
05:37حضرت حاجرہ رضی اللہ عنہ
05:38خود بھی کئی وقت سے بھوکی اور پیاسی تھی
05:40کمدوری کے باعث
05:41جسم نے ڈھالتا مگر پھر بھی حمد کر کے
05:43دوسری جانب کی پہاڑی پر گئیں
05:45کہ شاید کسی بستی یا کافلے کا پتہ مل جائیں
05:48لیکن وہاں بھی صرف ریت اڑتی دکھائی تھی
05:50وہ دوبارہ نیچے اتریں
05:51بچے کے قریب آئیں
05:52اور پھر استراب میں
05:53ایک بار پھر پہاڑی کی سمت دوڑ گئیں
05:55اسی طرح حضرت حاجرہ رضی اللہ عنہ
05:58نے صفہ اور مروعہ کے درمیان
05:59سات چکر لگائے
06:00جب ساتھویں بار واپس آئیں
06:01تو حیرہ زدہ رہ گئیں
06:02اسماعیل کے قدموں کے نیچے سے
06:04ایک شفاف پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا تھا
06:06جہاں وہ پیاز کی شدت سے
06:08ایڈیاں رگڑ رہے تھے
06:09حضرت عبداللہ بن عباس
06:10رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
06:11کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:13نے فرمایا
06:14یہی چکر لگانا آج لوگوں کیلئے صحیح ہے
06:16جب حضرت حاجرہ رضی اللہ عنہ
06:18صفحہ سے مروعہ کی طرف گئیں
06:19اور مروعہ پر پہنچی
06:20تو ایک اجنبی سی آواز سنی
06:21جیسے کسی کے قدموں کی چاپ ہو
06:23چونک کر بولی
06:24چپ ہو جاؤ
06:25کچھ سننے دو
06:26پھر دوبارہ سنا
06:27اور کہنے لگی
06:28لگتا ہے کوئی غیبی مدد آ پہنچی ہے
06:30جب توجہ سے دیکھا
06:31تو حضرت جبریل علیہ السلام
06:32زمزم کے مقام پر کھڑے نظر آئے
06:33حضرت جبریل علیہ السلام نے
06:35زمین پر یا تو اپنا قدم مارا
06:48وہ ایک طرف پانی کو روکتیں
06:50اور دوسری طرف برتن بھرتیں
06:51یہ منظر نہایت عجیب اور ایمان افروز تھا
06:53کیونکہ بنجربادی میں
06:55یہ پانی رب کریم کی طرف سے
06:56غیبی رسک کی صورت میں اتا ہوا تھا
06:58حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ
06:59ربایت کرتے ہیں
07:00کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:02نے فرمایا
07:03اللہ تعالیٰ ام اسماعیل پر رحم کرے
07:05اگر وہ پانی کو یوں ہی بہنیں دیتی
07:07یا نہ روکتی
07:08تو زمزم بہتا دریہ بن جاتا
07:10حضرت حضرت رضی اللہ عنہ
07:12نے زمزم کا پانی خود پیا
07:13اور اپنے نونی حال کو بھی پلایا
07:15اس وقت کعبہ کی امارت
07:16ایک بلند ٹی لے پڑتی
07:17اور جب بارش ہوتی
07:18تو سیلاب دیواروں کو نقصان پہنچاتا
07:20کچھ عرصے بعد
07:21قبیل اجرحم
07:22قدعہ کے راستے سے مکہ پہنچا
07:24اور نچلی وادی میں پڑاؤ ڈالا
07:25وہاں انہوں نے ایک پرندہ
07:27منڈلاتی دیکھا
07:28کہنے لگے
07:28ہم اس وادی سے بخوبی واقف ہیں
07:30یہاں کبھی پانی نہیں ہوتا
07:32اور یہ پرندہ
07:33صرف پانی کے مقام پر ہی چکر لگاتا ہے
07:35انہوں نے چند افراد کو روانہ کیا
07:37کہ وہ پانی کی تذدیق کریں
07:38جب وہ مقام زمزم پر پہنچے
07:40تو سیدھا سیدہ حاجرہ کو پایا
07:41پوچھا
07:42کیا ہم یہاں سکونت اختیار کر سکتے ہیں
07:44فرمایا
07:45یقینا مگر پانی پر میرا حق رہے گا
07:48انہوں نے جواب دیا
07:49ہمیں منظور ہے
07:49ابن عباس رضی اللہ عنہوں کہتے ہیں
07:51کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
07:54ام اسماعیل نہایت معنوس مزاج تھی
07:56انہیں قبیلہ جرحم کا آنا پسند آیا
07:57قبیلہ نے اپنے گھرانے بھی بھلوا لیے
08:00اور یوں ایک چھوٹی سی بستی بس گئی
08:02سیدھا اسماعیل جوان ہوئے
08:03قبیلہ جرحم سے عربی زبان سیکھئے
08:05اور اتنے محبوب بن گئے
08:06کہ انہی میں سے ایک خاتون سے نکاح کیا
08:08حضر حضر عزی اللہ عنہ کا کامل ایمان
08:10صبر اور اللہ کی اطاعت
08:12اس جواب سے ظاہر ہوتا ہے
08:13کہ تب تو ہمیں اللہ ضائع نہیں کرے گا
08:15اللہ تعالیٰ نے ان کی استقامت کا انعام
08:17زمزم کی شکل میں اعتافرمایا
08:19یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے
08:20کہ جب انسان توقع اور اطاعت کے راستے پر ہوتا ہے
08:23تو اللہ رزق اور حکمت کے دروازے کھول دیتا ہے
08:25لیکن جب سرکشی اور فساد کی راہ اختیار کرتے ہیں
08:28تو یہی نعمتیں ان سے چھین لی جاتی ہیں
08:30جیسے کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا
08:32اللہ کسی قوم پر اپنی دی ہوئی نعمتیں نہیں چھین تا
08:34جب تک وہ خود اپنے طرز عمل کو نہ بدل ڈالے
08:38حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد
08:39قابے کی نگمانی ان کے اولاد کے حصے میں آئی
08:41اور بنو جہم اس کے متولی بنے
08:43لیکن کچھ عرصے بعد انہوں نے مکہ کی حرمت کا لحاظ نہ رکھا
08:46زارین پر ظلم کرنے لگے
08:48اور قابہ کے نظریں خود استعمال کرنے لگے
08:50نتیجتاً ان کا احترام جاتا رہا
08:52پھر قبیلہ خازہ نے ان پر قابو پا لیا
08:55اور انہیں وادی سے نکال دیا
08:56حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شادی قبیلہ بنو جہرم میں ہوئی
08:59جہت ابراہیم علیہ السلام کے مخلص پیروکار تھے
09:02یہ قبیلہ مکہ مکرمہ میں آ کر آباد ہوا
09:04اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے نسل میں
09:06اللہ تعالیٰ کی بشارت کے مطابق خوب برکت ہوئی
09:09ان کے بارہ بیٹے پیدا ہوئے
09:10جن سے بارہ قبائل وجود میں آئے
09:12اور ہر بیٹا اپنے قبیلے کا سردار بنا
09:14حضرت اسماعیل علیہ السلام
09:15تو بیت اللہ کی خدمت کے لئے وقف تھے ہی
09:18ان کی اولاد نے بھی
09:19یہ ذمہ داری نسل در نسل نبھائی
09:21ان کے بڑے بیٹے نابت کو
09:23خانے کعبہ کے انتظامات کی ذمہ داری سوپ ہی گئی
09:26بنو جرم جو ان کے قریبے سسرالی رشتدار تھے
09:28ان کی حمایت اور خدمت میں شریک ہو گئے
09:30جب بنی اسماعیل کی تعداد میں اضافہ ہوئے
09:32تو وہ مختلف علاقوں میں پھیل گئے
09:34جہاں اللہ نے ان کو برکت دی
09:36اور کئی ریاستیں قائم ہو گئیں
09:37اس کے نتیجے میں بنو جرم کو مکہ میں
09:39زیادہ اختیار حاصل ہوا
09:40اور وہ بیت اللہ کے خادم بن بیٹھے
09:42ابتداء میں انہوں نے اخلاص سے خدمت انجام دی
09:44لیکن وقت کے ساسات و غفلت
09:46لالا چل بیرہ ربی میں مبتلا ہو گئے
09:48وہ خانہ کعبہ میں آنے والے
09:49زائرین کی نظریں خود کھانے لگے
09:51زائرین کی خدمت کو بہت سمت جانے لگا
09:54اور ان پر ظلم و ستم کا رویہ اپنا آیا گیا
09:56یہاں تک کہ خانہ کعبہ کی حرمت کی بھی پروانہ رہی
09:59ان کی نوجوان نسل دولت کی فرمانی کے باعث
10:01عیاشی تکبر اور جرائم میں ملوث ہو گئی
10:04ان کا معمول بن چکا تھا
10:05کہ وہ زائرین کمال حتیٰ کے عزت تک لوٹ لے دیں
10:08قوم کے بزرگ اس زوال کو روکنے میں ناکام رہے
10:11اور قوم جرہم کے سردار
10:12مزاز بن عمرو بن حالس
10:14اس صورتحال سے مایوس ہو گئے
10:15وہ حرم مقدس کی بے حرمتی اور گناہوں سے لرزاں و ترساں تھے
10:19کہ اللہ کا عذاب کسی بھی وقت آ سکتا ہے
10:21اسی دوران اطلاع ملی کی جمن سے تعلق اکنے والے
10:23قبیل بنو خزا کی ایک طاقتور فوج
10:26مکہ کی طرف پیش خدمی کر رہی ہے
10:28تین دن کی شدید جنگ کے بعد
10:30بنو جھرم کو شکست ہوئی
10:31اور وہ مکہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے
10:33جاتے جاتے انہوں نے خان کعبہ کے قریب واقع
10:35زمزم کے کوئن میں اپنا اسلحہ
10:37قیمتی سامان پھینک کر
10:38کوئن مٹی سے بھر دیا
10:39تاکہ اس کا نشان مٹ جائے
10:41ان کا خیال تھا کہ اگر دوبارہ اقتدار ملا تو
10:43خزانے کو نکال لیں گے
10:44مگر ایسا نہ ہو سکا
10:46اور مکہ پر قرائش کا تسلط مستقل ہو گیا
10:48یہ خزانہ جس میں خان کعبہ کے لیے
10:50مختلف ادوار میں وقف کی گئی
10:52سونے چاندی کی اشیاء
10:53قیمتی ظروف اور اسلحہ شامل ہیں
10:55آج تک ایک راز ہے
10:56کچھ اشیاء خان کعبہ کے اندرونی فرش میں بھی دفن ہیں
10:59جنہیں چھونا بھی ممکن نہیں
11:00اس خزانے میں سونے چاندی سے بنے اسلحے کے علاوہ
11:03کچھ اشیاء خالص لوہے کی بھی ہیں
11:05جو اپنی قدامت اور قیمت کے احتوار سے
11:07نہائیت قیمتی تصور کی جاتی ہیں
11:09اگرچہ بنو جرحم کی بدعامالیاں انتہا کو پہنچ چکی تھیں
11:12لیکن چونکہ وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے سسرالی تھے
11:14اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ سخت اعزا کا معاملہ نہ کیا
11:17بلکہ صرف مکہ کی حکمرانی اور بیت اللہ کی خدمت کا اعزاز چھین لیا
11:21اور انہیں شہر سے بے دخل کر دیا
11:23ان کی جگہ بنو خزاہ کے سردار ربیہ بن الحارس کو
11:26حرم شریف کی نگرانی سوپ دی گئی
11:28ربیہ کی وفات کے بعد عمر بن لہی قیادت میں آیا
11:30جو پہلا شخص تھا جس نے عرب میں بدھ پرستی کو فروغ دیا
11:33اس نے شام کے علاقے میں عمال کا قوم کا بدھ حبل خرید کر
11:37خان کعبہ میں نمائے مقام پر نصب کیا
11:39جہاں سے شرک آغاز ہوا
11:40اور پورے عرب میں بدھ پرستی عام ہو گئی
11:43حضور نبی علیہ السلام نے صحابہ اکرام سے فرمایا
11:46انہوں نے عمر بن لہی کو جہنم میں
11:48اپنی آتوں کے ساتھ گھسیٹتے ہوئے دیکھا ہے
11:52ناظرین زمانہ جاہلیت میں بھی مکہ مقرمہ کی
11:55سرزمین ظلم و زیادتی کے متحمل نہ تھی
11:57جب قبیلہ بنو جرحم نے زمزم کی کونے کو
12:00مٹی سے بھر کر بند کر دیا
12:01تو اس کا پانی خوشک ہو گیا
12:02اور وقت کی گرد نے اس کے اثار کو مٹا دیا
12:04وقت گزرتا گیا
12:06کئی دور بدلے
12:07یہاں تک کہ اللہ تعالی نے
12:08سردار عبد المطلب کو
12:09اس چشمہ زمزم کی اثر نو دریات کا ذریعہ بنایا
12:12اس وقت تک اس کونے کا کوئی نام و نشان باقی نہ تھا
12:15عبد المطلب نے اپنے آبا و اجداد کی
12:17روایت کو زندہ رکھتے ہوئے
12:18حجاج اکرام کو پانی پلانی کی خدمت
12:20سقایا نہایت خوبی سے انجام دی
12:22اور اہل مکہ میں اس قدر منزلت حاصل کی
12:24کہ وہ کسی دوسرے کو سردار تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوتے
12:28ایک روز حسین کعبہ کے سہن میں
12:30حتیم کے اندر آرام فرما رہے تھے
12:31کہ خواب میں ایک شخص نمودار ہوا
12:33اور اس نے کہا
12:34تیبہ کو کھو دو
12:35اگلے ہی روز وہ شخص آیا اور کہا
12:38برہ کو کھو دو
12:39تیسے دن کہا گیا
12:40مسنونہ کو کھو دو
12:41اور چوتھے دن واضح الفاظ میں حکوم ہوا
12:43زمزم کو کھو دو
12:46عبد المطلب میں دریافت کیا زمزم کیا ہے
12:48جواب ملا یہ وہ چشمہ ہے جو نہ خوشک ہوتا ہے نہ کم
12:50حجاج اس سے سہراب ہوتے ہیں
12:52اور یہ فضلہ اور خون کے درمیان واقع ہے
12:55سفیدی مائل قبے کی چونش کی جگہ
12:57اور چیوٹیوں کے بل کے پاس
12:58جب جگہ کی نشاندہی مکمل ہو گئی
13:01تو سردار عبد المطلب نے کوئی دال اٹھائی
13:03اور اپنے بیٹے حالس کو ساتھ لے کر کھدائی شروع کی
13:05ابھی کام کا آغاز ہوا تک
13:07کہ قریش کے سرداروں نے شور مچانا شروع کر دیا
13:09کہ یہ تو ہمارے جد امجد
13:11حضرت اسمائل علیہ السلام کا کنہ ہے
13:12اس میں سب کا حق ہے
13:14عبد المطلب نے انکار کیا
13:15تو تیپ آیا کہ شام کے قبیلہ
13:17بنو سعید بن حضیم کی
13:18ایک خاتون کاہنہ کے پاس فیصلہ کروایا جائے
13:21دورانے سفر ان کا قافلہ مقام پر خیمہ زند تھا
13:23جب زادہ راہ ختم ہو گیا
13:25اور سب پریشان ہو گئے
13:26اس موقع پر عبد المطلب نے کہا
13:27چلو شاید آگے پانی مل جائے
13:29جیسے ہی وہ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے
13:31اور اونٹنی نے اونٹنے کی کوشش کی
13:33تو اس کے قدم ترے
13:34مٹی کے پانی کا چشمہ ابر پڑا
13:35سب کوششی سے جھوم اونٹے
13:37قافلے والوں نے پانی پیا
13:38مشکے بھرین
13:40قریش اور دیگر قبائل کو بلایا
13:42وہ بھی آئے اور سہراب ہوئے
13:43سب نے یک زبان ہو کر کہا
13:44عبد المطلب
13:45اللہ کی قسم تم ہی اس خدمت کے حق دار ہو
13:47آئندہ ہم زمزم پر تم سے کوئی نظار نہیں کریں گے
13:51یوں یہ مسئلہ کاہنہ کی سالسی کے بغیر ہی
13:53کچھ اسلوبی سے تہبا گیا
13:55اور عبد المطلب نے
13:56حجاج بیت اللہ کی ثقائیت کو
13:58اپنی زندگی کا مشن بنا لیا
14:00ایک طویل عرصے بعد
14:01جب نبی آخر زمان
14:02رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیست ہوئی
14:05اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے
14:06موجزہ میراج عطا فرمایا
14:08تو اس سفر مقدس سے قبل
14:09آپ کی سینے مبارک کو
14:10زمزم کے پانی سے دھویا گیا تھا
14:12حضرت ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
14:14کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
14:17میرے گھر کی چھت کھلی
14:19میں مکہ میں تھا
14:20جبریل علیہ السلام نازل ہوئے
14:22میرا سینہ چاک کیا
14:23زمزم سے دھویا
14:24پھر سونے کا تشت جو ایمان و حکمت سے بھرا تھا
14:26میرے سینے میں انڈیل دیا
14:28اور اسے بند کر دیا
14:29پھر وہ میرا ہاتھ تھامے
14:30مجھے آسمان کی جانب لے چلے
14:32بیست کے وقت بھی
14:33حجاج بیت اللہ زمزم سے فیضیاب ہوتے تھے
14:36اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا
14:39حضرت ابباس رضی اللہ عنہ
14:40اس خدمت پر معمور تھے
14:42نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
14:44اس عمل کو نیکی اور سہلے عمل قرار دیا
14:46حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
14:48فرماتے ہیں
14:49کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:51اس مقام پر تشریف لہائے
14:52جہاں حضرت ابباس رضی اللہ عنہ
14:54حاجیوں کو زمزم پلا رہے تھے
14:56آپ علیہ السلام نے بھی پانی طلب فرمایا
14:58حضرت ابباس رضی اللہ عنہ نے
15:00بیٹے فضل کو حکم دیا
15:02کہ اپنی والدہ کے پاس جا کر زمزم لے آؤ
15:04لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:07نے فرمایا
15:07مجھے یہیں سے پلا دو
15:08حضرت ابباس رضی اللہ عنہ نے
15:10عرض کیا
15:10اے اللہ کے رسول
15:11لوگ اس میں ہار ڈال چکے ہیں
15:13فرمایا یہیں سے پلاو
15:14پینے کے بعد
15:15رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:16کونے کے قریب پر شریف لے گئے
15:18جہاں بنو عبد المطلب پانی نکالنے
15:20اور پلانے میں مشغول تھے
15:21آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:23نے فرمایا
15:23کرتے جاؤ
15:24یہ بہت امدہ کام ہے
15:25اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا
15:27کہ لوگ تم پر پوٹ پڑیں گے
15:29تو میں بھی اتر کر
15:30یہ خدمت انجام دیتا
15:31اور اپنے مبارک کاندھے پر پانی اٹھاتا
15:33یہ سرشاد کی تائد
15:35امام مسلم رحمت اللہ علیہ کی
15:36روایت سے بھی ہوتی ہے
15:37جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:39نے فرمایا
15:40اے بنو عبد المطلب
15:41پانی کھیشتے رہو
15:42اگر لوگوں کے حجوم کا خوف نہ ہوتا
15:44تو میں بھی یہ کام کرتا
15:45ناظرین دنیا میں
15:46پانی کے بے شمار اقسام پائے جاتی
15:48مگر اللہ رب العزت نے
15:49ان تمام میں
15:50جو مقام و مرتبہ
15:52آب زمزم کو عطا فرمایا ہے
15:53وہ کسی اور پانی کو نصیب نہیں ہوا
15:55عام پانی کو ہم
15:56روز مردہ کی ضروریات کے تحت
15:57استعمال کرتے ہیں
15:58اس کے لئے کوئی خاص اعتمام
16:00یا روحانی مقصد پیش نظر نہیں ہوتا
16:01لیکن آب زمزم کو پینے سے قبل
16:03دل میں عقیدت اور زبان پر دعائیں ہوتی ہیں
16:06کیونکہ اسے برکت شفا
16:07اور روحانی تاثیر کا سرچشمہ سمجھا جاتا ہے
16:10دیگر پانیوں کو
16:11ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا
16:12بوجھ محسوس ہوتا ہے
16:13مگر زمزم کی بوتنیں
16:15اور شاق حرم
16:16اپنی قیمتی سامان کی مانند
16:17حفاظت سے شہروں شہروں لے جاتے ہیں
16:19یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:22کی سنت بھی ہے
16:22اور آپ علیہ السلام
16:24نے بھی زمزم کو ساتھ لے جانا پسند فرمایا
16:27اسی لئے حجاج اکرام
16:28اسے اپنے لئے نہیں
16:29بلکہ اپنے اہل وآہباب کے لئے بھی
16:31ایک متبرک تحفہ تصور کرتے ہیں
16:33نبی علیہ السلام نے زمزم نوش فرمایا
16:35اور اسے حج کے شاعر میں شامل فرمایا
16:38چونکہ خانہ کعبہ مسلمانوں کا قبلہ ہے
16:40اس لئے حج اور عمری قیدائیگی کے دوران
16:42زمزم گویا زائرین کی
16:43زیافت الہی کا حصہ ہوتا ہے
16:45اپنی روحانی فضیلتوں کے ساتھ ساتھ
16:47زمزم دنیا کا واحد پانی ہے
16:49جو پیاس کے ساتھ
16:50بھوک کو بھی مٹاتا ہے
16:51یہ وہی پانی ہے جو حجاجرہ
16:53اور حضرت اسماعیل علیہ السلام
16:54جیسے جلیل قدر
16:56مہمانہ نے خدا کے لئے
16:57وادی غیر زی ذرا میں
16:59رب کی طرف سے عطا کردہ ایک موجزہ تھا
17:02صحیح مسلم کے کروایت میں
17:03حضرت ابو زرغفالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
17:05کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
17:08زمزم کھانے کا کام دیتا ہے
17:09اور بیماری کے لئے شفا ہے
17:10حضرت جابیر رضی اللہ عنہ سے
17:12امام احمد نے نقل کیا
17:13کہ آب زمزم جس نیت سے پیا جائے
17:15وہ فائدہ دیتا ہے
17:16سیدنا عبداللہ بن عباس
17:18رضی اللہ عنہ ماں فرماتے ہیں
17:19میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:21کو کھڑے ہو کر
17:22زمزم پیتے دیکھا
17:24حضرت طاوس رحمت اللہ علیہ کے مطابق
17:25زمزم کا ذائقہ چکھنا ہی
17:27حج کی تکمیل ہے
17:28حضرت عطا کہتا ہے
17:29کہ میں نے حضرت طاوس کو دیکھا
17:30وہ زمزم پینے کے بعد
17:31اپنے ہونٹ چاٹتے تھے
17:33دوستو زمزم وہ مبارک پانی ہے
17:35جو رب کریم
17:35کی پانچ ہزار سال پرانی رحمت کا مظہر ہے
17:38جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قدموں سے پھوٹا
17:41جب حضرت حاجرہ صفا اور مربع کے درمیان
17:44پانی کی تلاش میں دوٹ رہی تھی
17:45جب زمین سے چشمہ اول پڑا
17:47تو حضرت حاجرہ نے زمزم کے الفاظ گئے
17:48یعنی ٹھہر جا
17:49تاکہ پانی بے قابو ہو کر بہنا جائے
17:52اسی سے اس کونے کا نام زمزم پڑا
17:54یہ جان کر آپ کو حیرت ہوگی
17:55کہ صدیوں سے جاری اس کونے میں
17:56نہ کبھی کائی جمی ہے
17:58نہ بدبو پیدا ہوئی
17:59نہ کیڑے پیدا ہوئے ہیں
18:00اور نہ ہی آلودگی کا شکار ہوا ہے
18:02اس میں شامل مادنیات عام پانی سے زیادہ ہیں
18:04جو اس کے ذائقے کو بھی ممتاز بناتے ہیں
18:07حج ہو عمرہ ہو
18:08یا زیارت بیت اللہ
18:10کوئی بھی مکہ مکرمہ آ کر
18:11زمزم پیے بغیر واپس نہیں لوٹتا
18:13ہر سال تیس سے پچاس لاکھ
18:14زائری نہرم آتے ہیں
18:16اور سیراب ہو کر آب زمزم پیتے ہیں
18:18پھر اس کی بوتلے پر ساتھ
18:19وطن لے جانا نہیں بہتے
18:20اس پانی کو پینے کے بعد
18:22زائرین جسمانی تازگیہ
18:23روحانی سرشاری محسوس کرتے ہیں
18:25بعض لوگ اسے دنیا کے بہترین
18:27مادنی پانی سے تشبیر دیتے ہیں
18:28اور بعض اس کی تاثیر کو
18:30عقیدت کا نتیجہ کہتے ہیں
18:31لیکن حقیقت یہ کہ
18:33آب زمزم ایک ایسا موجزہ ہے
18:34جو صرف اس کے ذائقے
18:35یا مادنی عجزہ تک محدود نہیں
18:37بلکہ یہ کئی حیران کون خسلتوں کا حامل ہے
18:39جن پر سائنس یا قلبی حیران رہ جاتی ہے
18:42اسی حیرت کو سمجھنے کے لیے
18:43ہر سال مختلف ممالک کے سانجدان
18:45مکہ کا روح کرتے ہیں
18:46تاکہ اس مقدس پانی پر تحقیق کر سکیں
18:48حد سے پہلے ان تحقیقات کا
18:50سلسلہ زور پکڑ لیتا ہے
18:51اور متعدد تجربات کے ذریعے
18:53اس کے خواست پر ریسرچ کی جاتی ہے
18:54ایک تحقیق کے دوران ماہرین نے
18:56اس کے رنگ کو بدلنے کی کوشش کی
18:58مگر کوئی بھی کیمیائی مرکب
18:59آب زمزم کو متاثر نہیں کر سکا
19:01ان کا کہنے تاکہ
19:02عام پانی پر یہ مرکبات
19:04رنگ بدل دیتے ہیں
19:05لیکن زمزم ایک ایسا پانی ہے
19:07جسے اللہ نے
19:07ہر طرح کی آمیجز سے محفوظ رکھا ہے
19:09جب اس سائنسی موجزے کی خبر
19:11سعودی ولی حید محمد بن سلمان تک پہنچی
19:13تو وہ خود تجربہ گا گئے
19:15اور اپنی آنکھوں سے حقیقت کو دیکھا
19:17سبحان اللہ
19:18حدیث شریف میں آتا ہے
19:19کہ زمزم میں بیماریوں سے شفا ہے
19:21اس لئے ظاہرین
19:22اسے اپنے وطن لے جا کر
19:23اپنے پیاروں کو
19:24بطور تبرک پیش کرتے ہیں
19:25حد اروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے
19:28روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ
19:30مدینہ واپس جاتے وقت
19:31زمزم ساتھ لے جاتی ہیں
19:32اور فرماتی
19:33کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:35بھی یہی عمل کیا کرتے تھے
19:36ناظرین اکرام قانعہ کابہ
19:38چونکہ مسلمانوں کا قبلہ ہے
19:39اس لئے حجر عمری کی سعادت
19:41حاصل کرنے والوں کے لئے
19:42یہ ایک عظیم زیافتگاہ کی مانند ہے
19:44یہاں کی روحانی فضاؤں کے ساتھ
19:45ساتھ ایک اور
19:46بے نظیر نعمت ہے
19:47آب زمزم
19:48یہ کیسا مبارک پانی ہے
19:50جو نہ صرف پیاس بوجاتا ہے
19:51بلکہ
19:51بھوک کے وقت بھی
19:52طوالائی کا ذریعہ بنتا ہے
19:54اس بنجر وادی میں
19:55اللہ تعالیٰ نے
19:55اپنے دو برگزی دربندوں
19:56حضرت حاجرہ
19:57اور حضرت اسماعیل
19:58حضرت سلام کے لئے
19:59اس چشمے کو جاری فرمایا
20:01جو کہ آج بھی
20:01ان کی میزبانی کی
20:02یاد دلاتا ہے
20:03حضرت ابو زرگفاری
20:04رضی اللہ عنہ سے
20:05روایت ہے کہ
20:06رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:07نے ارشاد فرمایا
20:08زمزم کا پانی
20:10کھانے کی جگہ لیتا ہے
20:11اور یہ شفا بخش دوا ہے
20:12نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:14نے ایک موقع پر فرمایا
20:16زمزم
20:17اس نیت سے پیا جائے
20:18تو اسی مقصد کے لئے
20:19فائدہ پہنچاتا ہے
20:20اگر تم اسے
20:21سہتیابی کی نیت سے پی ہوگئے
20:22تو اللہ تعالیٰ شفاعتہ فرمائے گا
20:24بھوک مٹانے کے لئے پی ہوگئے
20:25تو اللہ تعالیٰ سیر کردے گا
20:26اور اگر پیاز بجھانے کے لئے پی ہوگئے
20:28تو
20:28اللہ تمہاری پیاز بجھا دے گا
20:30یہ کونہ حضرت جبریل علیہ السلام کی
20:32رہنمائی سے وجود میں آیا
20:33اور اللہ کی طرف سے
20:34حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لئے
20:36سیر آبی کا سامان ہے
20:37ان فرامین کی روشنی میں
20:39علماء اکرام نے بیان کیا ہے
20:40کہ دنیا بھی
20:41اور دینی حاجات کی تکمیل کے لئے
20:42آب زمزم کا استعمال سمنت طریقہ ہے
20:45کتاب شفاہ الغرام میں
20:46امام تقی الدین
20:47فاسی رحمت اللہ لے تحریر کرتے ہیں
20:49کہ احمد بن عبداللہ شریفی نابینا ہو گئے تھے
20:52جنہوں نے آب زمزم کو آنکھوں کی بینائے کے لئے پیا
20:55اور اللہ کے فضل سے ان کی بسارت
20:56واپس لوٹائے
20:58اسی طرح
20:58علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں
21:14ناظرین ان واقعات اور اقوال سے بھی واضح ہوتا ہے
21:16کہ زمزم نہ صرف ایک روحانی پانی ہے
21:17بلکہ دنیاوی مسائل کے حل کے لئے بھی
21:20ایک موثر بابرکت اور سنن طریقہ ہے
21:22قدیم زمانے میں
21:23اب زمزم ہی مکہ مکرمہ میں
21:24قیام پذیر لوگوں کے لئے
21:26پانی کی بنیادی سہولت تھا
21:28حیرت کی بات یہ ہے
21:29کہ پچھلے پانچ ہزار سال میں
21:30اس کوئے نے کبھی خوشک ہونے کا سامنے نہیں کیا
21:32سوائے چند محدود مواقعوں کے
21:34اس کوئے کی حفاظت کا فریضت
21:36نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا
21:38حضرت عبد المطلب سے لے کر
21:39خلفہ اور بعد میں
21:40سعودی حکمرانوں نے انجام دیا
21:42موجودہ دور میں
21:43اس کے نگداشت
21:44جدید سائنسی حصولوں کی روشنی میں کی جا رہی ہے
21:46سن 2013 میں
21:47سعودی عرب کے سابق فرما روا
21:49شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز
21:50نے ایک جدید اور وسی پیمانے پر
21:52زمزم پروجیکٹ کا باقاعدہ آغاز کیا
21:54اس پروجیکٹ کا مقصد
21:55زمزم کے پانی کی فرامی کو بہتر بنانا
21:57اور اس کی حفاظت کو
21:58مزید موثر بنانا تھا
21:59تاکہ بڑھتی ہوئی حاجیوں
22:00اور عمرہ کرنے والوں کی تعداد
22:02کو مدنظر رکھتے ہوئے
22:03پانی کی طلب کو بخوبی پورا کیا جا سکے
22:06اس کے تحت زمزم کے پانی کی
22:07پمپنگ، فلٹرنگ
22:08اور تقسیم کا
22:09نظام انتہائی جدید
22:10ٹیکنکی علات
22:11اور طریقوں کی ذریعے نافذ کیا گیا
22:13پورے عمل میں خاص توجہ دی گئی
22:15اس پاکیزہ پانی کی قدرتی
22:17اور روحانی خصوصیات میں
22:18کوئی فرق نہ آئے
22:19اور اس کی اصل صفات قائم رہیں
22:21اس پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد
22:22زمزم کی کوالیٹی کی نگرانی کے لیے
22:24ایک مقصود صدارہ قائم کیا گیا
22:25جسے زمزم سٹڈی اینڈ ریسرچ سینٹر
22:27کا نام دیا گیا
22:28یہ مرکز نہ صرف
22:29زمزم کے پانی کے میار کی
22:31مستقل جانچ پر تال کرتا ہے
22:32بلکہ اس کے مختلف نمونوں کا
22:34ہفتے بارا تجزیہ بھی کرتا ہے
22:36تاکہ کسی بھی قسم کی آلودی
22:37یا تغیر کو فوری طور پر
22:39شناک کیا جا سکے
22:40اس طرح نہ صرف پانی کی صفائی
22:42اور حفظان سہت کو یقینی بنایا جاتا ہے
22:44بلکہ اس کی فطری مادنی خصوصیات
22:46اور ذائقے کو بھی برقرار رکھا جاتا ہے
22:48اس جدید نگرانی کے نظام کی بدولت
22:50زمزم کے پانی کی حفاظت اور فراہمی
22:52ایک عالم میار کی سہولت بن چکی ہے
22:54جو لاکھوں زائرین کی
22:55صحت و سلامتی کی زامن ہے
22:57ناظرین آبے زمزم کی چند حیران کن خصوصیات ہی ہیں
23:00کہ ایک کونہ کبھی خوشک نہیں ہوا
23:01اس کا ذائقے میں بھی کوئی فرق نہیں آیا
23:03اور اس کے اندر موجود مادنیات
23:05آج بھی وہی ہیں جو صدیوں پہلے تھیں
23:07اس میں نہ کبھی فنگس پیدا ہوئی
23:08نہ بدبو نہ لطگی
23:10دنیا کے اکثر کونوں میں
23:11کچھ ہی عرصے بعد نامیاتی اجسام پیدا ہو جاتے ہیں
23:13لیکن زمزم کا پانی تمام خرابیوں سے پاک ہے
23:16جو یقیناً ایک موجزے سے کم نہیں
23:19آدیس میں اب اے زمزم کی بے شمار فضیلتیں بیان کی گئی ہیں
23:22سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
23:25کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
23:27زمین پر سب سے بہترین پانی زمزم ہے
23:30جو بھوک مٹانے والا اور بیماریوں کا علاج ہے
23:32حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں
23:35کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
23:37زمزم کو جس مقصد کیلئے پیا جائے وہ مقصد پورا ہوتا ہے
23:40حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ زمزم پینے سے قبل دعا مانگا کرتے تھے
23:44اے اللہ مجھے نفع بخش علمتہ فرما
23:46رزق میں وسط دے اور ہر بیماری سے شفاعتہ فرما
23:49اسی طرح حضرت عبداللہ بن مبارک رحمت اللہ علیہ
23:52جب زمزم پیتے تو دعا کرتے
23:53کہ قیامت کے دن پیاس نہ لگے
23:55یہ مبارک مانی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم اور خاص نعمت ہے
23:58جو حضرت حاجرہ صلی اللہ علیہ
23:59اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے صبر
24:01استقامت اور قربانی کے لازوال
24:03یادگار کے طور پر زمین پر نمودار ہوا
24:06یہ وہی مقدس پانی ہے جسے
24:08جبریل علیہ السلام نے حضور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
24:11پاک دل پر بہائی آتا کہ
24:12آپ علیہ السلام کے قلبِ اتھر کو پاک و ساپ کر کے
24:16انہیں آسمانوں کی سیر اور جنت و دوزق کی
24:18باریک بینی سے مشاہدہ کرنے کے لیے
24:21روحانی طور پر تیار کیا جا سکے
24:23زمزم کی خاصت اور برکت
24:24اسے نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی اعتبار سے بھی
24:27بے مثال بناتی ہے
24:28اس لئے زمزم کو نیات عدب اور احترام کے ساتھ پینا چاہیے
24:31اس کے اندر چھپی ہوئی رحمت اور برکتوں سے
24:33بھر پور استفادہ کرتے ہوئے
24:35دل و جان سے اللہ تعالی کی بارگاہ
24:37میں دعا کرنے چاہیے
24:38فقہہ نے بھی اس کی حرمت اور عظمت کو مد نظر رکھتے ہوئے
24:41واضح فرمایا کہ
24:42ایسے کام جن سے زمزم کی بے حرمتی ہو
24:44مثلاً اس سے ناپاکد ہونا
24:46استنجا کرنا یا کسی بھی غیر مناسب طریقے سے
24:49استعمال کرنا وہ مکروح تحریمی ہے
24:51اور ان سے استناب کرنا لازم ہے
24:53زمزم اللہ تعالی کا قیمتی اور انمول
24:55تحفہ ہے جسے ہمیں اپنے زندگیوں میں
24:57خاص مقام دینا چاہیے
24:58اور اس کے اندر پوشیدہ روحانی
25:01جسمانی اور طبی فوائد کو پوری
25:03نیت اور ایمان کے ساتھ قبول کرنا چاہیے
25:05یہ پانی نہ صرف ہماری جسم کو
25:07تازگی بخشتا ہے بلکہ ہمارے دلوں کو سکون دیتا ہے
25:09اور ہماری روحانی زندگی کو
25:11روشنی فراہم کرتا ہے دعا ہے کہ
25:13اللہ تعالی ہمیں اس مبارک ماننے سے کامل سہرابی
25:15نصیب فرمائے ہماری تمام ضروریات
25:17پوری فرمائے اور قیامت کے دن
25:18اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
25:20کے حوض کوثر سے ہمیں آبِ حیات پلائے
25:23تاکہ ہم ہمیشہ کی پیاس سے نجات پا سکیں
25:25آمین ناظرین زمزم کے
25:27بے شمار نام ہیں اور ناموں کی قصد
25:29اس کی عظمت کی گواہ ہے
25:30حقیقت یہی ہے کہ زمزم حضرت حاجہ
25:33صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت اسم
25:45کریں کہ اللہ ہمیں دنیا اور آخرت میں
25:47کامیابی عطا فرمائے اور اپنے نبی
25:49صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
25:50حوض کوثر سے بھی ہمیں سہراب کرے
25:52آمین سمہ آمین
25:54ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
25:56ضرور پسند آئی ہوگی
25:57اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہے تو آپ سے گزارش کرتے ہیں
26:00کہ آپ ہمارے چینل کو ضرور سبسکرائب
26:03کر لیں اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن
26:04کو بھی پیس کریں تاکہ آپ کے پاس
26:06ہماری آنے والی مزید معلوماتی
26:08ویڈیوز کا نوٹفیکشن بھروقت ملتا رہے
26:10سبسکرائب کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو
26:12لائک بھی کریں اور اپنی قیمت کی رائے کا اظہار
26:14کمنٹس میں ضرور کریں کمنٹس میں آپ
26:16اپنے سوالات بھی ہم تک مہچا سکتے ہیں
26:18اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے عفض و مان میں رکھے آمین
Comments