Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
NooTV
Why are Jews so powerful in the world today? This is a question that has intrigued historians, economists, and political thinkers for centuries. Despite being a tiny minority—comprising only about 0.2% of the global population—their influence in science, finance, media, and politics is immense. From holding over 20% of Nobel Prizes to dominating Wall Street and Hollywood, the footprint of this small community is everywhere.
+4

In this documentary, we dive deep into the historical and strategic reasons behind their rise. We explore how centuries of persecution in Europe forced them into the world of finance and trade, leading to the birth of powerful banking empires like the Rothschild family. We also examine their religious commitment to education, which ensured a high literacy rate even during the Middle Ages, giving them a massive intellectual advantage.
+4

Furthermore, we analyze the pillars of their strength: Collective Unity and Strategic Networking. Whether it’s the diamond industry or political lobbying groups like AIPAC, their ability to protect communal interests is a key factor in their global dominance.
+3

The video also reflects on the Quranic perspective regarding the Children of Israel (Bani Israel), discussing their honors, their trials, and the warnings given by Allah. Most importantly, we discuss the lessons for the Muslim Ummah. Why has the Muslim world, despite its vast resources and population, fallen behind in research and technology?. This video is a call to action for Muslims to embrace knowledge (Iqra), unity, and long-term planning to reclaim their lost glory.
+4

Category

📚
Learning
Transcript
00:28
00:30امریکی میڈیا کے بڑے ادارے
00:31اور واشنگٹن کی سیاست کی اندرونی ایوان
00:34ہر جگہ ایک ہی کہانی
00:35ایک چھوٹی سی اقلیت
00:37لیکن ایک بہت بڑی طاقت
00:38یہ سوال صدیوں سے انسانی ذہنوں میں گردش کر رہا ہے
00:41موریخین نے اس پر تحقیق کی
00:43ماہرین معاشیات نے اس کا تجزیہ کیا
00:45ماذبی علماء نے اس پر غور کیا
00:47اور سیاسی مفکرین نے اس کے اسباب تلاش کرنے کی کوشش کی
00:50لیکن سب سے اہم اور گہرہ جواب وہ ہے
00:52جو چودہ سو سال پہلے قرآن کریم نے
00:54ویانِ الٰہی کی صورت میں ہمیں دیا
00:56جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی تاریخ
00:59ان کی خصوصیات ان کی طاقت ان کی کمزوریاں
01:01اور ان کا انجام سب تفصیل سے بیان کیا
01:04آج کے اس دستاویزی پیشکش میں
01:06ہم تاریخ کے نوراق کو پٹیں گے
01:07جن پر خون اور قلم دونوں سے لکھا گیا ہے
01:09ہم سمجھنے کی کوشش کریں گے
01:11کہ یہودیوں نے کس طرح معلیاتی
01:13علمی، سیاسی اور ثقافتی
01:14میدانوں میں غلبہ حاصل کیا
01:16اور ہم یہ بھی دیکھیں گے
01:17کہ مسلمانوں کے لیے
01:19اس پوری کہانی میں کیا سبق پوشیدہ ہے
01:21کیونکہ یہ صرف یہودیوں کی کہانی نہیں
01:22یہ اس بات کی کہانی ہے
01:24کہ علم، انظیم اور حکمت عملی
01:26کس طرح کس قوم کو
01:27دنیا کی سب سے بڑی طاقتوں کے برابر
01:29یا ان سے بالتر کر سکتی ہے
01:31پیارے دوستو
01:32قرآن مجید نے
01:33بنی اسرائیل کا ذکر خاص احتمام
01:35اور تفصیل کے ساتھ کیا ہے
01:37قرآن کریم میں
01:37سورہ بقرہ سے لے کر
01:38سورہ الاسرہ تک
01:40بنی اسرائیل کا ذکر بار بار آیا ہے
01:42قرآن کریم میں
01:43سورہ جاسیہ میں
01:44اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
01:45کہ ہم نے بنی اسرائیل کو
01:46کتاب، حکم اور نبوت عطا کی
01:48انہیں پاکیزہ رسک سے نوازا
01:50اور انہیں
01:51اس دور کے لوگوں پر فضیلت دی
01:53یہ ایک غیر معمولی احزاز تھا
01:55یہ قوم انبیاء کی بارش تھی
01:56جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام
01:57حضرت دعوت علیہ السلام
01:59حضرت سلمان علیہ السلام
02:00اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام شامل ہیں
02:02لیکن قرآن نے یہ بھی بتایا
02:03کہ اس فضیلت کے باوجود
02:04بلکہ شاید کسی فضیلت کی وجہ سے
02:06ان کی ذمہ داری اور احتساب بھی
02:09زیادہ سکتا
02:09اور جب انہوں نے
02:10اللہ کے حکامات سے مو موڑا
02:12تو نتائج بھی انتہائی سنگین آئے
02:14لیکن اس وقت ہم صرف
02:15ان کی تاریخی مذہبی حیثت کی بات نہیں کر رہے
02:17ہم بات کر رہے ہیں
02:18اس زمینی حکمت عملی کی
02:20اس نظام تعلیم کی
02:21اس اجتماعی اکجہتی کی
02:23اور اس مالیاتی دور اندیشی کی
02:25جس نے ایک چھوٹی سی قوم کو
02:26دنیا کی سب سے بڑی معاشی
02:28اور سیاسی طاقتوں پر غالب کر دیا
02:30تاریخ کے اور آق پٹیں تو پتا چلتا ہے
02:32کہ یہودیوں کی کامیابی کا آغاز
02:34کسی آسان راستے سے نہیں ہوا
02:36بلکہ یہ کامیابی
02:37ان تکالیف اور مسائب کی بھٹی میں
02:39تبکر نکلی جو صدیوں پر محیط تھی
02:41قرون عبستہ کے
02:43یورپ میں یہودیوں کی زندگی
02:44انتہائی کٹھن تھی
02:46انہیں زمین خریدنے کی اجازت نہیں تھی
02:48سنتی داروں میں شامل نہیں ہو سکتے تھے
02:50پوجن بھرتی نہیں ہو سکتے تھے
02:52بیشتر پیشے ان کے لیے بند تھے
02:53انہیں یورپ کے مختلف ممالک سے
02:55بار بار بے دخل کیا گیا
02:57انگلینڈ سے سن 1290 میں
02:59پرانس میں سن 1306 میں
03:01اور اسپین سے سن 1492 میں
03:03وہ تاریخی جلہ وطنی
03:04جسے عربی میں
03:05الجلہ کہتے ہیں
03:06اور جسے یہودی اپنی تاریخ کا
03:08سب سے بڑا دکھ سمجھتے ہیں
03:09پیارے دوستو
03:10لیکن ان تمام پابندیوں نے
03:12ایک عجیب کرشمہ کیا
03:13جب تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں
03:15تو ذہین انسان وہ راستہ ڈھونتا ہے
03:17جو ابھی کھلا ہو
03:18اور یورپ میں وہ واحد کھلا دروازہ تھا
03:20مالی لیندین کا
03:21سودی کاروبار کا
03:23کیاتھولک چرچ نے سن 149 میں
03:25ایک فرمان جاری کیا
03:26جس میں
03:27عیسائیوں پر سود لینا
03:28حرام قرار دیا گیا
03:29اس فرمان نے
03:30یورپ کی مالیاتی تاریخ بدل دی
03:32عیسائی تاجر اور بینکار
03:33اس کاروبار سے ہٹ گئے
03:34اور وہ جگہ یہودیوں نے بھر لی
03:36کیونکہ یہودی شریعت میں
03:37غیر یہودیوں سے
03:38سود لینا جائز تھا
03:39انگلینڈ میں یہودیوں کا
03:40مالیاتی کردار
03:41اتنا اہم تھا کہ
03:42تاجے برطانیہ نے
03:43ایک خاص محکمہ قائم کیا
03:45جسے یہودی خزانہ
03:46یعنی جیوش
03:47ایکس چیکر کہتے تھے
03:48اس محکمہ کا کام
03:49یہودی قرض دہندگان کی
03:51نگرانی اور ان پر
03:52ٹیکس لگانا تھا
03:53پولی ٹیکس کوئی معمولی
03:54رقم نہیں تھی
03:55بعض سالوں میں یہ
03:56سرکاری خزانے کی
03:57سب سے بڑی آمدنی
03:58کا ذریعہ بنتا تھا
03:59بات چاہوں کی حکمت
04:00عملی بلکل واضح تھی
04:01عوام سے براہ راست ٹیکس لینا
04:03ہمیشہ سیاسی طور پر
04:04خطرناک ہوتا تھا
04:05تو آسان طریقہ یہ تھا
04:06کہ یہودی قرض دہندگان
04:08کو پھلنے پھولنے دو
04:09پھر ان کی کمائے میں سے
04:10اپنا حصہ لے لو
04:11یہ وہ پس منظر ہے
04:13جس میں
04:13روتھ شیلڈ خاندان
04:15جیسے بینک کاری خاندانوں
04:16کا ظہور ہوا
04:17جنہوں نے بعد میں
04:18نہ صرف یورپ
04:18بلکہ پوری دنیا کے
04:19مالیتی رھانچے پر
04:21اثر ڈالا
04:21مائر ایمشل روتھ شیلڈ
04:23نے
04:23اٹھارویں صدی کے آخر میں
04:25فرنکفورٹ کی
04:26ایک تنگ گلی سے
04:27اپنا کاروبار شروع کیا
04:28انہوں نے
04:28اپنے پانچ بیٹوں کو
04:30یورپ کے پانچ بڑے شہروں
04:31لندن
04:31پیریس
04:32ویانہ
04:33نیپلز
04:33اور فرنکفورٹ میں بھیجا
04:35یہ خاندان
04:36نیپولین کی جنگوں کے دوران
04:37یورپ کے کئی ممالک کو
04:38قرض دیتا رہا
04:39اور انہوں نے
04:40ایک ایسی مالیاتی سلطنت قائم کی
04:41جو کسی ملک کی
04:42سرحدوں کی پابند نہیں تھی
04:44پیارے دوستو
04:44لیکن
04:45کیا صرف مجبوری نے
04:46یہودیوں کو
04:47مالیات کی طرف دھکیلا
04:48تاریخ کا گہرہ
04:49مطالعہ بتاتا ہے
04:49کہ اس کے پیچھے
04:50ایک اور زیادہ
04:51بنیادی وجہ تھی
04:52اور وہ تھی تعلیم
04:53دوسری صدی عیسوی سے
04:54یہودی مذہبی قانون میں
04:56ایک اہام اصول قائم ہوا
04:57والدین کے لیے لازم ہے
04:58کہ وہ اپنے بچوں کو
04:59تورات پڑھانا سکھائیں
05:00یہ کوئی اختیاری بات نہیں تھی
05:12اب سوچیں قرون وستہ کی
05:13یورپ میں
05:14جب عام آبادی کے
05:15اکثریت ناخاندہ تھی
05:16جب کسان اپنی عمر بھی
05:18بلکل صحیح بتا نہیں سکتے تھے
05:19اس دور میں یہودی بچے
05:21پڑھنا لکھنا سیکھ رہے تھے
05:22مذہبی مطون پر بحث کر رہے تھے
05:24منطق اور استدلال کی
05:26مشکر رہے تھے
05:27ایک تاریخی دستابیس
05:28اس بات کا خوبصورت ثبوت دیتی ہے
05:30انکوازیشن کے مقدمات میں
05:32جب لوگوں سے
05:32ان کی عمر پوچھی جاتی تھی
05:34کام لوگ گول تعداد بتاتے
05:35تیس چالیس پچاس
05:37وہ اپنی صحیح عمر نہیں جانتے تھے
05:38لیکن یہودی عموماً صحیح عمر بتاتے
05:41بتیس ستائیس چونتیس
05:43یہ معمولی فرق نہیں تھا
05:44ایک پوری تہذیب کی خاندگی کا فرق تھا
05:46اور جب آٹھمی اور نمی
05:48صدی میں اباسی سلطنت کے دور میں
05:50بغداد بسرہ اور دیگر
05:51اسلامی شہر ترقی کرنے لگے
05:53جب دنیا کے سب سے بڑے تجارتی مراکز
05:55اسلامی دنیا میں قائم ہوئے
05:56تو ان پڑھے لکھے
05:57یہودی کسانوں نے
05:58فوری طور پر شہروں کی طرف فجرت کی
06:00وہ ڈاکٹر بنے
06:01تاجر بنے
06:02بینک کار بنے
06:02مترجم بنے
06:03اور اس طرح وہ ایک نئے
06:05معاشی نظام کا حصہ بن گئے
06:06یہاں یہ بات قابل غور ہے
06:07کہ اسلامی دنیا میں
06:08یہودیوں پر وہ پابندیاں نہیں تھی
06:10جو یورپ میں تھی
06:11وہ زمین خریش سکتے تھے
06:13کاریگری کر سکتے تھے
06:14ہر قسم کی تجارت کر سکتے تھے
06:16لیکن پھر بھی
06:17انہوں نے شہروں کا رکھ کیا
06:18اور خدماتی شعبے میں
06:19اپنی پہچان بنائی
06:20کیونکہ ان کی تعلیمی تربیت
06:21نے انہیں
06:22دستی مزدور سے زیادہ
06:23ذہنی کام کے لیے تیار کیا تھا
06:25پیارے دوستو
06:26اب ہمیں یہودی طاقت کا
06:27دوسرا بڑا ستون سمجھنا ہے
06:28اور وہ ہے
06:29ان کی اجتماعی اجہتی
06:31اور باہمی اعتماد کا نظام
06:32ہیرے کی تجارت کی مثال لینے
06:34ہیروں کی سنت میں
06:35صدیوں سے یہودیوں کا غلوہ ہے
06:37ہیرے کی تجارت میں
06:38سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے
06:39اعتماد
06:40ایک ہیرہ لندن سے
06:41ایمسٹرڈیم بھیجا جاتا ہے
06:42قیمت بعد میں ادا ہوگی
06:44اگر خریدار غائب ہو جائے تو
06:45اگر فروخت کندہ نے
06:47میار میں دھوکہ دیا تو
06:48عدالتیں سشت ہیں
06:49قانونی چارہ جوئی مہنگی ہے
06:50لیکن یہودی تاجروں نے
06:52اس مسئلے کا حل نکالا
07:02بھی برادری سے نکال دیا جاتا
07:04خاندان اور دوست
07:05سب ساتھ چھوڑ دیتے
07:06یہ سزا اتنی بھاری تھی
07:08کہ دھوکہ دینے کا
07:08خیال ہی نہیں آتا تھا
07:10ڈی بیرز گروپ
07:11جس نے بیسویں صدی کے بست میں
07:12عالمی ہیرے کی تجارت پر
07:14تقریباً مکمل اجارداری قائم کی
07:16روتشیلٹ خاندان کی
07:17سرمایہ کاری سے تشکیل پائی تھی
07:19انیس سو ساٹھ کی دہائی میں
07:20اس گروپ کا عالمی ہیرے کی منڈی پر
07:22سو فیصد کے قریب خبزہ تھا
07:24اور چار دہائیاں بعد بھی
07:25پینسٹھ فیصد
07:26نیو یورک کی سیتالیس بھی سٹریٹ
07:28دنیا کا سب سے بڑا ہیرے کا بازار
07:30آج بھی بڑی حد تک
07:31یہودی تاجروں کے ہاتھ میں ہے
07:33یہ برادری کا نظام صرف تجارت میں نہیں
07:35سیاست میڈیا
07:36اور علمی اداروں میں بھی کام کرتا ہے
07:39امریکہ میں جویش
07:40فری لون ایسوسییشن جیسی
07:42تنظیم یہودی نوجوانوں کو
07:44بلا سوت قرض دیتی ہیں
07:45تاکہ وہ کاروبار شروع کر سکیں
07:46گے تعلیم حاصل کر سکیں
07:48ایپیک
07:49یعنی
07:50امریکن اسرائیل پبلک اپیرز کامیٹی
07:52امریکی سیاست میں
07:53اسرائیل کے حق میں
07:54لابنگ کرنے والی
07:55سب سے طاقت پر تنظیم ہے
07:56اس کے کانگریس کے ارکان سے
07:58رابطے اور انتخابی مہمات پر
08:00اثر انداز ہونے کی صلاحیت
08:01یہ سب کچھ
08:02اس اجتماعی نظام کا حصہ ہیں
08:04جو صدیوں کے تجربے سے تراشا گیا
08:06پیارے دوستو
08:07اب آئیے سیاست اور میڈیا کی بات کریں
08:09کیونکہ یہاں سے تصویر
08:10اور بھی واضح ہوتی ہے
08:11امریکی میڈیا کے بڑے اداروں پر
08:13ایک نظر ڈالیں
08:14سینن
08:15فاکس نیوز
08:15این بی سی
08:16سی بی ایس
08:18اے بی سی
08:19ان سب کے بانیوں
08:20شریک بانیوں
08:21یا اہم ترین حصہ داروں میں
08:23یہودی شامل رہے ہیں
08:24نیو یوک ٹائمز جیسا
08:25اثر انداز اخبار
08:26سولز برگر خاندان کا ہے
08:28جو یہودی ہیں
08:29ہالی ووڈ کے بڑے فلمی ادارے
08:31وارنر برادرز
08:32یونیورسل
08:33فیراماؤن
08:33ایم جیم
08:34ان کی بنیاد
08:35یہودی تاریکی نے وطن نے رکھی
08:37جو بیچویں صدی کے اوائل میں
08:38یورپ سے امریکہ آئے تھے
08:40اب سوچیں جو قوم یہ تیہ کرتی ہو
08:41کہ
08:41لوگ اخبار میں کیا پڑھیں
08:43ٹیلیویشن میں
08:44کیا دیکھیں
08:44سینما میں کیا محسوس کریں
08:46اس قوم کا اثر صرف معاشی نہیں
08:47ذہنی اور نفسیاتی بھی ہے
08:49اور یہاں سے سمجھ آتی ہے
08:50کہ اسرائیل
08:51جو کہ ایک چھوٹا سا ملک ہے
08:52جس کا رقبہ پاکستان کے
08:53ایک صوبے سے بھی چھوٹا ہے
08:54آخر کس طرح
08:55امریکی خارجہ پالیس پر
08:57اتنا زبردست اثر رکھتا ہے
08:59انیس سو اٹالیس سے
09:00آج تک امریکن اسرائیل کو
09:02جو فوجی اور مالی امداد دی ہے
09:04اس کا کل حجم
09:05تین سو ارب ڈالر سے بھی
09:06تجاوز کر چکا ہے
09:07اور یہ وہ رقم ہے
09:08جو باقاعدہ حساب میں آتی ہے
09:10اقوام متحدہ کی
09:11سلامتی کانسل میں
09:12امریکن اسرائیل کے حق میں
09:14جتنے ویٹو استعمال کیے ہیں
09:15وہ تعداد میں
09:16دوسرے تمام ویٹوز کے
09:17مقابلے میں بہت زیادہ ہیں
09:19یہ کیوں ہوتا ہے
09:20اس کا جواب صرف
09:21جغرافیہی سیاست میں نہیں
09:22بلکہ امریکی اندرونی سیاست میں ہے
09:25پیارے دوستو
09:25اپک ہر سال واشنگٹن میں
09:27ایک کانفرنس کرتی ہے
09:28جس میں سینیٹرز
09:29کانگریس کے عرقان
09:30اور صدارتی امیدوار
09:31قطار لگا کر حاضر ہوتے ہیں
09:33کیوں؟
09:33کیونکہ انتخابی مہموں کے لئے
09:34فنڈنگ اور میڈیا کی حمایت
09:36یہ دونوں چیزیں
09:37اس نیٹورک سے جڑی ہیں
09:38ایک امریکی صدر جو
09:40اسرائیل کے خلاف
09:41کوئی سخت موقع پہ اختیار کرنا چاہے
09:43اسے معلوم ہے
09:44کہ اگلے انتخاب میں
09:45اسے میڈیا کی مخالفت
09:46اور مالیاتی حمایت کی
09:47کمی کا سامنا ہوگا
09:49یہ کوئی سازشی نظریہ نہیں
09:50یہ امریکی سیاسی نظام کی
09:52دستاویزی حقیقت ہے
09:53جسے خود امریکی مفکرین
09:55اور سابق صدور تک نے
09:56تسلیم کیا ہے
09:57سابق امریکی صدر جیمی کارٹر
09:59نے اپنی کتاب
10:00فلسطین
10:00امن نسل پرستی نہیں
10:02میں لکھا ہے کہ
10:02امریکہ میں اسرائیل کی
10:04لابی اتنی طاقتور
10:05کہ کوئی سیاستدان
10:06اسرائیلی پالیسیوں پر
10:07کھلے عام تنقید کرنے
10:09کی حمت نہیں کر سکتا
10:10ہاورٹ کے پروفیسر
10:11جان من شائمر
10:12اور شکاگو کے پروفیسر
10:14اسٹیفن وارٹ نے
10:15اسرائیلی لابی کے عنوان سے
10:16ایک تحقیقی کتاب لکی
10:18جس میں
10:18کہ امریکی خارجہ پالیسی پر
10:20اسرائیلی لابی کا اثر
10:21امریکی قومی مفادات سے بھی
10:23آگے نکل جاتا ہے
10:24یہ کتاب جب چھپی
10:25تو ایک توفان آ گیا
10:26لیکن اس کے آداد و شمار
10:27و دلائل کو رد نہیں کیا جا سکا
10:29اب اس تناظر میں
10:30قرآن کریم کی آیت پر غور کریں
10:32اللہ تعالیٰ نے
10:33سورہ البقرہ میں
10:33بن اسرائیل کے مکرو فریب
10:35اہد شکنی اور سازشی طبیعت کا بیان
10:38کئی مقامات پر کیا ہے
10:39قرآن کریم میں
10:40سورہ المائدہ کی آیت میں
10:41ارشاد ہوتا ہے
10:42کہ آپ ان میں سے
10:43اکثر لوگوں کو
10:44گناہ
10:44زیادتی
10:45اور حرام خوری میں
10:46جلدی کرتے ہوئے دیکھیں گے
10:48قرآن نے ان کی
10:49ایک خاص فطری خصوصیت کا ذکر کیا
10:51اور وہ ہے دنیا سے محبت
10:53اور دنیاوی فائدے کیلئے ہی لبازی
10:55پیارے دوستو
10:56لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے
10:57کہ قرآن کی تمام آیت
10:58تمام یہودیوں کے بارے میں نہیں ہیں
11:00بلکہ ان مخصوص یہودی گروہوں کے بارے میں ہیں
11:02جنہوں نے
11:03انبیاء کی مخالفت کی
11:04اہد توڑا
11:05دنیاوی مفاد کے لئے
11:07اخلاقی
11:07حدود پار کی
11:08قرآن نے
11:09اہل کتاب میں سے
11:10ان لوگوں کی تعریف بھی کی
11:12جو راہ راست پر چلتے ہیں
11:13تیکنیکی اور علمی غلبے کی بات کریں
11:15تو اسرائیل کو
11:16سٹارٹ اپ نشن
11:17یعنی
11:18نئے کاروباروں کی قوم
11:19کہا جاتا ہے
11:20ایک ایسا ملک
11:21جس کی آبادی صرف 90 لاکھ ہے
11:22لیکن جہاں
11:24ناسڈیک
11:24اسٹاک مارکیٹ پر
11:25ریجسٹرٹ کمپنیوں کی تعداد
11:27تمام یورپی ممالک سے زیادہ ہے
11:29انٹل
11:29گوگل
11:30مایکروسوفٹ
11:31سسکو
11:31ان سب کے اہم تحقیقی مراکز
11:33اسرائیل میں ہیں
11:34آئی سی کیو
11:35دنیا کا پہلا
11:36آن لائن پیغام رسانی کا نسام
11:38اسرائیل میں بنا
11:39یو ایس بی فلیش ڈرائی
11:40اسرائیلی انجینئروں کی ایجاد ہے
11:42ویز نیوگیشن ایپ
11:44اسرائیلی ہے
11:44چیک پوائنٹ
11:45سوٹویر کا
11:46فائر وال سسٹم
11:47جو آج دنیا بھر کے
11:48کمپیٹر نیٹورک
11:49محفوظ کرتا ہے
11:50اسرائیلی ہے
11:51لیکن یہ تیکنیکی برطری
11:52کہاں سے آئی
11:53جسے اسرائیلی فوج
11:54دیفنس پورس کہتے ہیں
11:55دنیا کے کچھ بہترین
11:56تیکنیکی یونٹس رکھتی ہیں
11:58یونٹ آٹھ ہزار دو سو
11:59جو ایک انٹیلیجنس
12:00اور سائبر وار فیر یونٹ ہے
12:02نے سیکرو تیکنیکی
12:03ماہرین پیدا کیے
12:04جو فوج ریٹائرمنٹ کے بعد
12:06کمپنیاں شروع کرتے ہیں
12:07فوجی تربیت
12:08اور تیکنیکی
12:08تعلیم کا یہ امتزاج
12:10ایک ایسا ماہولیاتی نظام
12:11بناتا ہے
12:12جو مسلسل جدت پیدا کرتا ہے
12:14پیارے دوستو اب ذرا
12:15یشیوہ نظام تعلیم پر بھی
12:16نظر ڈالیں
12:17یشیوہ ایک یہودی
12:18مذہبی درسگاہ ہے
12:19جہاں تورات اور تالمود
12:21کا گہرہ متعلیہ ہوتا ہے
12:22لیکن اس متعلیہ کا طریقہ
12:24جسے شیوروتا کہتے ہیں
12:26یہ ہے کہ
12:27دو طالب مل کر
12:28ایک مسئلے پر بحث کرتے ہیں
12:30سوال کرتے ہیں
12:31ایک دوسرے کی دلیل
12:32کو چیلنج کرتے ہیں
12:33یہ طریقہ دراصل
12:34تنقیدی سوچ
12:35استدلال
12:36اور مباحثی کی
12:37صلاحیت پیدا کرتا ہے
12:38جنوبی کوریا میں
12:39ایک متعلیہ کے دوران
12:40یہ پائے گیا
12:40کہ تقریباً
12:41ہر گھر میں
12:42تالمود کا ترجمہ موجود ہے
12:43کوریا والدین نے سوچا
12:45کہ اگر یہودی
12:45اتنے ذہین ہے
12:46تو ان کے کتاب
12:47ضرور کوئی خاص چیز
12:48رکھتی ہوگی
12:48اب ہم اس سوال کی طرف آتے ہیں
12:50جو شاید سب سے زیادہ اہم ہے
12:51مسلمانوں کے لئے
12:52اس پوری کہانی میں
12:53کیا سبق ہے
12:54قرآن مجید کی
12:55سورہ راد میں
12:55اللہ تعالی نے
12:56ارشاد فرمایا
12:57کہ اللہ کسی قوم
12:58کی حالت نہیں بدلتا
12:59جب تک وہ خود
13:00اپنی حالت نہ بدلیں
13:01یہ آیت کریمہ
13:03اس پوری گفتگو کا
13:04نچوڑ ہے
13:04مسلمان آج
13:05دنیا کی سب سے بڑی
13:06مذہبی آبادی میں سے ہیں
13:07دو عرب سے زیادہ
13:08ان کے پاس
13:09وہ علمی برسہ ہے
13:10جس نے صدیوں تک
13:11دنیا کو روشن کیا
13:12ابن سینہ
13:13ابن رشد
13:14البیرونی
13:15الخارزمی
13:15یہ وہ نام ہیں
13:16جن کے بغیر جدید
13:17سائنس کی تاریخ
13:18مکمل نہیں ہوتی
13:19مسلمانوں کے پاس
13:20قرآن کی صورت میں
13:21وہ کتاب ہے
13:21جو خود پڑھنے
13:22اور سوچنے کی دعوت
13:23دیتی ہے
13:24اقراء یعنی پڑھو
13:25پہلا حکمی تعلیم
13:26کا حکم ہے
13:27پیارے دوستو
13:28لیکن آج کی حقیقت
13:29کیا ہے
13:29اسلامی دنیا کے
13:30تمام ممالک
13:31مل کر جتنی تحقیقی
13:32کتابیں اور مقالے
13:33سالہ نہ شائع کرتے ہیں
13:34اسرائیل اکیلا
13:35اس سے زیادہ شائع کرتا ہے
13:36مسلم ممالک
13:37جیو ڈی پی کا
13:38اوسطاً
13:38ایک فیصد سے بھی
13:39کم تحقیق
13:40اور ترقیق پر خرچ کرتے ہیں
13:41مسلم دنیا میں
13:42بیشتر جگہوں پر
13:43تعلیم کا نظام
13:44حفظ اور رکھے پر مبنی ہے
13:46تنقیدی سوچ
13:47سوال کرنے
13:47اور بحث کرنے کی
13:48حوصلہ افضائی نہیں ہوتی
13:49یہودیوں نے
13:50صدیوں کی تکلیف میں سے
13:51سبق سیکھا
13:52کہ جو چیز
13:53چھینی نہیں جا سکتی
13:54وہ صرف علم ہے
13:55زمین چھن سکتی ہے
13:56مال و دولت
13:57لوٹ سکتے ہیں
13:57گھر جلائے جا سکتے ہیں
13:59لیکن ذہن میں
14:00محفوظ علم
14:00دل میں موجود ہونر
14:01اور روح میں بسی محنت
14:03یہ کوئی نہیں چھین سکتا
14:04یہودیوں نے
14:05اپنے بچوں کو یہ سمجھائے
14:06کہ تمہاری سب سے بڑی دولت
14:07تمہارا دماغ ہے
14:08کیا مسلمانوں نے
14:09یہ سبق نہیں سیکھا
14:14کیا ہم نے
14:15مساجد اور مدارس
14:16صرف مذہبی رسومات
14:17کے مراکز بن گئے
14:18یا وہ علم و تحقیق
14:19کے گہوارے بھی ہیں
14:20پیارے دوستو
14:21مسلم دنیا کے دوسری
14:22بڑی کمزوری
14:23انتشار اور تفریق
14:24یہودیوں نے
14:25جو برادری کا نظام
14:26بنایا
14:26اسے مذہبی
14:27سیاسی اور نظریاتی
14:28اختلافات کے باوجود
14:30ایک چیز مشترک رہی
14:31یہودی مفادات کا تحفظ
14:33اشکی نازی ہو
14:34یا سفاردی
14:35ارثوڈکس ہو
14:36یا سیکولر
14:37جب اسرائیل کی بات آئی
14:38تو یہودی ایک ہو گئے
14:40لیکن مسلمان
14:41ہمارے ملک
14:42ایک دوسرے کی خلاف
14:42محاذ کھولے بیٹھے ہیں
14:43شیعہ سننے کی آگ
14:45مسلم دنیا کے دشمنوں
14:46نے نہیں لگائی
14:46ہم نے خود لگائی ہے
14:48عرب عجم کی دیوار
14:49ہم نے خود کھڑی کی ہے
14:50قرآن مجید کی
14:51سورہ آل عمران میں
14:52اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
14:53کہ اللہ کی رسی کو
14:54مل کر تھامو
14:56اور تفرقے میں نہ پڑو
14:57یہ صرف ایک روحانی نصیت نہیں
14:58یہ ایک سیاسی اجتماعی
15:00اور تہذیبی حکمت عملی ہے
15:01مسلم دنیا کی
15:02تیسری بڑی کمزوری
15:03حکمت عملی کا فقدان
15:05اسرائیل نے دیکھا
15:06کہ امریکہ میں
15:06اثر و رسوق کا راستہ ہے
15:08پیسہ میڈیا اور ووڈ
15:09انہوں نے اس رستے پر
15:11دہائیوں تک کام کیا
15:12مسلمان و مالک نے کیا کیا
15:13ہم نے یا تو خاموشی اختیار کی
15:15یہ جذباتی احتجاج کیا
15:17لیکن منظم
15:18طویل المدد
15:27کانگریس تک پہنچ رہے ہیں
15:28لیکن یہ سب ابھی
15:29ابتدائی مراحل میں ہے
15:30اسرائیلی لابی نے
15:31جو نظام پچاس سال نے بنایا
15:33اسے پار کرنے کے لئے
15:35مسلمانوں کو
15:35مزید دہائیاں درکار ہوں گی
15:37اگر انہوں نے
15:38ابھی سے منظم ہونا شروع کیا
15:40پیارے دوستو
15:41کیا یہودیوں کی طاقت کی
15:42کہانی میں کوئی تضاد نہیں
15:43بلکل ہے
15:44قرآن مجید نے
15:45بنی اسرائیل کے بارے میں
15:46جو پیشگوئیاں کیوں
15:47وہ لرزہ خیز ہیں
15:48سورہ الاسرہ میں
15:49اللہ تعالیٰ نے
15:50ایک بازے انتباہ دیا
15:51اور قرآن کریم کی آیت میں
15:52ارشاد ہوتا ہے
15:53کہ ہم نے بنی اسرائیل کو
15:54کتاب میں خبر دی
15:55کہ تم
15:56زمین میں دو بار
15:57فساد برپا کرو گے
15:58اور بڑا تکبر دکھاؤ گے
16:00پھر اللہ نے بتایا
16:01کہ پہلی بار
16:01جب انہوں نے فساد کیا
16:02تو اللہ نے ان پر
16:03ایک طاقتور دشن مسلط کیا
16:05اور دوسری بار بھی
16:06ایسا ہی ہوگا
16:07سورہ الاسرہ میں بھی
16:08یہی ارشاد ہے
16:09کہ اگر تم نے دوبارہ
16:10فساد کیا
16:10تو ہم نے پھر تمہیں سزا دی
16:12آج فلسطین میں
16:13جو کچھ ہو رہا ہے
16:13غزہ میں بے گناہ
16:14بچوں عورتوں
16:15اور بزرگوں کا قتل عام
16:16یہ وہ ظلم ہے
16:17جو ایک دن
16:18اپنا حساب مانگے گا
16:19تاریخ کا سبق یہی ہے
16:20کہ ظلم پر
16:21قائم طاقت
16:22ہمیشہ کے لیے نہیں رہتی
16:23فیرون نے بھی یہی سوچا تھا
16:24نمرود نے بھی
16:25لیکن اللہ کا قانون
16:27نہیں بدلتا
16:27لیکن ساتھ ہی
16:28یہ بھی سمجھنا ضروری ہے
16:29کہ اسرائیل کی طاقت
16:30صرف فوجی نہیں
16:31وہ علمی معاشی
16:32اور سفارتی بھی ہے
16:33اس کا مقابلہ
16:34صرف جذبے سے نہیں
16:34بلکہ
16:35علم حکمت
16:36اور تنظیم سے ہوگا
16:37مسلمانوں کو سمجھنا ہوگا
16:38کہ دشمن کی طاقت
16:39کو سمجھنا
16:40ان کی حکمت عملی
16:41کو جاننا
16:41یہ کوئی کمزوری نہیں
16:42یہ دراصل جنگی ذہانت ہے
16:44پیارے دوستو
16:45نبی علیہ السلام
16:46کا ارشاد اگرامی ہے
16:47کہ طاقت پر مومن
16:48اللہ کو
16:49کمزور مومن سے
16:50زیادہ پسند ہے
16:51یہاں طاقت
16:52صرف جسمانی نہیں
16:52بلکہ علمی
16:53مالی
16:54تنظیمی
16:54اور جہنی طاقت
16:55بھی مراد ہے
16:55آئیے بن خصوصیات
16:56کا خلاصہ کریں
16:57جنہوں نے
16:58یہودیوں کو
16:58یہ مقام دلایا
16:59اور سوچیں
17:00کہ مسلمان
17:00ان سے کیا سیکھ سکتے ہیں
17:02پہلے خصوصیت یہ ہے
17:03کہ یہودیوں نے
17:03ہر نسل میں
17:04تعلیم کو
17:05سب سے اہام سمجھا
17:06اور علم سرمایہ کاری کی
17:07مسلمانوں کے
17:08نبی نے بھی
17:09پہلا حکم
17:10اقراء
17:10یعنی پڑھو کا دیا
17:11اور یہ حکم
17:12قیامت تک کے لیے ہے
17:13ہمیں اپنی مساجد کو
17:14مدارس کو
17:15اور گھروں کو
17:15علم کے مراکز بنانا ہوگا
17:17اور ایسا علم
17:17جو صرف رٹے کا نہیں
17:18بلکہ سوچنے
17:19سمجھنے
17:19اور ایجاد کرنے کا ہو
17:21دوسری خصوصیت
17:22اجتماعی یک جہتی ہے
17:23یہودیوں نے
17:24اپنی برادری میں
17:25ایک دوسری کی مدد کو
17:26مذہبی فریضہ سمجھا
17:27اسلام نے بھی
17:28مسلمانوں کو
17:29جسد واحد کہا
17:30کہ ایک عضو کو
17:31تکلیف ہو تو
17:32پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے
17:33ہمیں اپنے
17:34مسلمان کاروباریوں کی
17:35مدد کرنی ہوگی
17:36ان سے خلیداری کرنی ہوگی
17:38انہیں ترقی دینی ہوگی
17:39تیسری خصوصیت
17:40موافقت
17:41اور تبدیلی کی صلاحیت ہے
17:42یہودیوں نے
17:43ہر نئے ماحول میں
17:43خود کو ڈھال لیا
17:44لیکن
17:45اپنی اصل شناح کو
17:46ضائع نہیں کیا
17:46مسلمانوں کو بھی
17:47جدید دنیا میں
17:48خود کو ڈھالنا ہوگا
17:49نئے ٹیکنالوجی
17:50اپنانی ہوگی
17:51نئے علوم سیکھنے ہوں گے
17:53لیکن اپنے ایمان
17:54اخلاق اور اقدار کی
17:55حفاظت کرتے ہوئے
17:56چوہتی خصوصیت
17:57تبیل المدد سوچ ہے
17:58یہودیوں نے نہیں سوچا
18:00کہ آج کیا ملے گا
18:01انہوں نے
18:01اگلی نسل کے لئے
18:02بنیادے رکھیں
18:03مسلم دنیا کی سیاست
18:04ابھی تک قبائلی
18:05اور فوری مفاد کی
18:07سوچ میں گرفتار ہے
18:08ہمیں پچاس اور سو سال کی
18:10منصوبہ بندی کرنی ہوگی
18:11پانچوی اور آخری خصوصیت
18:13میڈیا اور بیانیے پر قابو ہے
18:14دنیا کے بارے میں
18:16لوگ کیا سوچتے ہیں
18:16یہ میڈیا تائے کرتا ہے
18:17مسلمانوں کے پاس
18:19اربو ڈالر کی دولت ہے
18:20لیکن عالم میڈیا میں
18:21ہماری آواز کہاں ہے
18:22الجزیرہ ایک اچھا قدم ہے
18:24لیکن ابھی بہت کام باقی ہے
18:26قرآن کریم میں
18:27سورے بقرہ کی آیت میں
18:27ارشاد ہوتا ہے
18:28کہ کیا تم لوگوں کو
18:29نیکی کا حکم دیتے ہو
18:30اور خود اپنے آپ کو
18:31بھول جاتے ہو
18:32جبکہ تم کتاب بھی پڑھتے ہو
18:33یہ آیت بنی اسرائیل کے بارے میں
18:35نازل ہوئی
18:36لیکن اس میں ہر شخص
18:37اور قوم کے لئے سبق ہے
18:38جو دوہرہ میار رکھے
18:39آج جو نوجوان یہ سن رہے ہیں
18:41چاہے وہ پاکستان میں ہوں
18:42ترکی میں
18:43ملیشیا میں
18:44انڈونیشیا میں
18:44یا مغربی دنیا میں
18:46ان سے ایک سوال ہے
18:47آپ کے پاس قرآن ہے
18:48جو علم کی کتاب ہے
18:49آپ کے پاس نبی کا عصوہ ہے
18:51جو بہترین حکمت عملی کا نمونہ ہے
18:53آپ کے پاس ایک ایسی تاریخ ہے
18:54جس میں آپ کے اجداد نے
18:56صدیوں تک دنیا کی رہنمائی کی
18:57پھر آج یہ حال کیوں
18:59جواب وہی ہے
19:00جو اللہ میں اقبال نے کہا
19:01وہ زمانے میں معزز تھے
19:03مسلمان ہو کر
19:03اور تم خوار ہوئے
19:05تاریخِ قرآن ہو کر
19:06قرآن کو چھوڑنا
19:07صرف تلاوت چھوڑنا نہیں
19:08قرآن کو چھوڑنا یہ ہے
19:10کہ اس کی تعلیمات پر
19:11عمل بند ہو جائے
19:12علم کا راشتہ چھوٹ جائے
19:13اخوت کا راشتہ ٹوٹ جائے
19:15اور سوچنے سمجھنے کی
19:16عادت ختم ہو جائے
19:17اسیل کی طاقت
19:18آج اپنے اروج پر لگتی ہے
19:20لیکن اروج ہمیشہ
19:21زبال سے پہلے آتا ہے
19:22یہ اللہ کی سنت ہے
19:23اور قرآن اس کا گواہ ہے
19:24فیرون کی طاقت بھی
19:26اپنے وقت میں
19:26متلق لگتی تھی
19:27جب تک سمندر نے
19:28اپنا فیصلہ نہیں سنایا
19:30تاتاریوں نے بغداد کو
19:31راک کر دیا
19:32لیکن آج تاتاری مسلمان ہیں
19:34اور جنگ کا ذکر
19:35صرف کتابوں میں ہیں
19:36تو پیارے دوستو
19:37آج کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے
19:38کہ یہودی
19:39اس لئے طاقتور نہیں
19:40کہ وہ کوئی جادوی قوم ہیں
19:41وہ اس لئے طاقتور ہیں
19:42کیونکہ
19:43انہوں نے
19:43مسئیبتوں سے سبق لیا
19:45علم کو ہتیار بنایا
19:46برادری کو ڈھال بنایا
19:47مالیتی طاقت کو
19:49ذریعہ بنایا
19:49میڈیا کو آواز بنایا
19:51اور حکمت عملی
19:51کو اپنا راستہ بنایا
19:52یہ کوئی ایسی خصوصیت نہیں
19:54جو صرف انہی کے لئے ہے
19:55یہ ہر اس قوم کے لئے ممکن ہے
19:57جو سنجیدگی سے کوشش کرے
19:58مسلمانوں کے پاس
19:59دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی ہے
20:01اور اس کے پاس
20:01دنیا کے قدرتی وسائل کا
20:03بڑا حصہ ہے
20:03ان کے پاس ایک مکمل
20:05نظام حیات ہے
20:05لیکن یہ سب وسائل
20:07تب تر بیکار ہیں
20:08جب تک انہیں جوڑنے والی
20:09قوت موجود نہ ہو
20:10اور وہ قوت ہے
20:11علم اخوت اور عمل
20:13قرآن نے بنی اسرائل کی کہانی
20:15اس لئے نہیں سنائی
20:16کہ ہم اس سے نفرت کریں
20:17قرآن نے یہ کہانی
20:18اس لئے سنائی
20:19کہ ہم اس سے سیکھیں
20:20ان کی طاقت کے ازباب بھی
20:21ان کے زبال کے ازباب بھی
20:23اور سب سے اہم بات یہ
20:24کہ اللہ نے جو نعمتیں
20:25اور فضیلتیں دیتیں
20:26وہ اس وقت تک باقی رہتی ہیں
20:28جب تک انسان اس کی قدر کرے
20:30ان کا حق ادا کرے
20:31اور ظلم و فساد سے بچے
20:32مسلمانوں کو آج وہی کرنا ہے
20:34جو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کیا
20:35اپنے رب پر بھروسہ رکھا
20:37لیکن ساتھ سوچا
20:38منصوبہ بنایا
20:39محنت کی اور میدان میں اترے
20:41تاریخ انتظار نہیں کرتی
20:42یا تو آپ اسے لکھتے ہیں
20:44یا وہ آپ کو اپنے صفوں میں
20:45گم کر دیتی ہے
20:46فیصلہ آپ کا ہے
Comments

Recommended