- 4 days ago
In this truly fascinating and mind-blowing video from Noor TV, we explore the shocking revelation by scientists about the birth of Egyptian King Ramses II, a historical figure often associated with the Pharaoh of Prophet Musa's (A.S.) time. Titled 'Scientist Found How Egyptian King Ramses ii Was born | Birth of Pharoha | Firon Waqiya,' this episode connects a major scientific discovery with Islamic and historical narratives.
The Pharaohs of ancient Egypt, particularly those from the era of Prophet Musa (A.S.), hold a significant place in Islamic history. The Holy Quran and prophetic traditions recount their arrogance, their defiance of Allah's commands, and their ultimate destruction. While the identity of the specific Pharaoh of Musa's time is a subject of scholarly debate, Ramses II is a prominent candidate. This video delves into a new scientific discovery that allegedly sheds light on his birth, a detail that could add a new layer of understanding to this historical period.
The video will discuss the methods used by scientists to uncover this information – whether it involves DNA analysis, forensic studies of ancient remains, or new archaeological findings. It will explore what this discovery might mean for our understanding of ancient Egyptian royalty and their lineage. More importantly, we will critically examine these scientific findings through an Islamic lens, discussing how they align with or differ from the stories of the Pharaoh as narrated in the Quran and Hadith.
Join Noor TV as we bridge the gap between ancient history, modern science, and Islamic teachings. This video is for anyone interested in the stories of the prophets, historical mysteries, and the intersection of faith and science. Discover how new discoveries can sometimes confirm or challenge our understanding of the past. Share this video to spark an insightful conversation about this intriguing topic."
The Pharaohs of ancient Egypt, particularly those from the era of Prophet Musa (A.S.), hold a significant place in Islamic history. The Holy Quran and prophetic traditions recount their arrogance, their defiance of Allah's commands, and their ultimate destruction. While the identity of the specific Pharaoh of Musa's time is a subject of scholarly debate, Ramses II is a prominent candidate. This video delves into a new scientific discovery that allegedly sheds light on his birth, a detail that could add a new layer of understanding to this historical period.
The video will discuss the methods used by scientists to uncover this information – whether it involves DNA analysis, forensic studies of ancient remains, or new archaeological findings. It will explore what this discovery might mean for our understanding of ancient Egyptian royalty and their lineage. More importantly, we will critically examine these scientific findings through an Islamic lens, discussing how they align with or differ from the stories of the Pharaoh as narrated in the Quran and Hadith.
Join Noor TV as we bridge the gap between ancient history, modern science, and Islamic teachings. This video is for anyone interested in the stories of the prophets, historical mysteries, and the intersection of faith and science. Discover how new discoveries can sometimes confirm or challenge our understanding of the past. Share this video to spark an insightful conversation about this intriguing topic."
Category
📚
LearningTranscript
00:27ڈاللہ کی موت اور قرآنی موجزہ
00:30مگر جب فیرون اور اس کے لشکر نے اس راستے سے گزرنے کی کوشش کی تو سمندر دوبارہ آپ پس
00:35میں مل گیا اور وہ سب کے سب ہمیشہ کے لیے سمندر کی گہرائیوں میں غرق ہو گئے مگر قدرت
00:40کا معجزہ تو بھی باقی تھا اللہ تعالیٰ نے فیرون کی لاش کو سینکڑوں سال تک سمندر میں بہنے کے
00:44بعد محفوظ کر لیا یہ لاش صدیوں بعد ایک ایسی جگہ سے ملی جس پر سمندری نمک کی ایک تہہ
00:49جمی ہوئی تھی یہ وہ لاش تھی جس کے بارے میں قرآن پاک میں چودہ سو س
00:53پہلے اعلان کیا گیا تھا کہ اسے آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کا نشان بنا کر محفوظ کر لیا
00:58جائے گا جب اس لاش کا ایک فرانسیسی سائنسدان ڈاکٹر موریس بکائی نے جدی ٹیکنالوجی سے معاینہ کیا تو اس
01:03نے دریافت کیا کہ فیرون کی موت کی اصل وجہ سمندر میں ڈوبنا ہی تھی اس حیران کن سچائی کو
01:08جان کر وہ بے اختیار ہو کر پکار اٹھا کہ یہ ایک سچی کتاب ہے اور اللہ کے سوا کوئی
01:13معبود نہیں اور اسی وقت کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا یہ ایک ای
01:17اسے ہے جو آج بھی انسانوں کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ خالق کائنات کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں
01:21ہوتا بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم دوستو آج میں آپ کے سامنے تاریخ کا ایک ایسا سنسنی خیز اور
01:28سبقاموز واقعہ پیش کروں گا جو ہر انسان کو اللہ کی عظمت اور اس کے وعدوں کی سچائی پر غور
01:33کرنے کی دعوت دیتا ہے یہ واقعہ ہزاروں سال پرانا ہے مگر اس کا نشان آج بھی دنیا کے سامنے
01:38موجود ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فیرون کا �
01:41یہ ساڑھے تین ہزار سال پہلے کی بات ہے جب مصر کے زمین پر ایک طاقت اور بادشاہ کی حکومت
01:46ہی جس کا نام فیرون تھا فیرون کا خرور آسمان کو شو رہا تھا اور اس نے اپنے ریایہ کو
01:50یہ یقین دلا رکھا تھا کہ وہی ان سب کا سب سے بڑا رب ہے اور اس کی عبادت کی
01:54جانی چاہیے اس کے دور میں بنی اسرائیل ایک امزور اور بے بس قوم تھی جس سے وہ غلاموں کی
01:58طرح سخت محنت کرواتا تھا وہ ان پر ظلم و صدم کی انتہا کرتا اور ان کے بچوں کو زباہ
02:02کروا دیت
02:03اسی دوران اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی رہنمائی کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنا پیغمبر بنا کر
02:08بھیجا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فیرون کے دربار میں پہنچ کر اسے اللہ کی وحدانیت کی دعوت دی اور
02:12حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ جانے دے تاکہ وہ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں
02:17مگر فیرون جو خود کو خدا کہتا تھا اس کے لیے یہ بات ناقابل قبول تھی اس نے حضرت موسیٰ
02:22علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور انہیں
02:23جھوٹا قرار دے دیا اللہ نے فیرون کو راہ راست پر لانے کے لیے اس پر مختلف عذاب بھیجے جن
02:28میں خوشک سالی، ٹڈی دل، مینڈک اور خون کی بارش شامل تھی ان عذابوں سے پریشان ہو کر فیرون نے
02:34کہا کہ وعدہ کرتا ہوں اگر یہ عذاب ختم ہو جائند وہ بنی اسرائیل کو آزاد کر دے گا مگر
02:38جب عذاب ٹل جاتا تو وہ پھر سپنی سرکشی اور تکبر پر لوٹ آتا آخر کار اللہ نے فیرون کی
02:42سرکشی اور تکبر کی حد دیکھ لی تو اس نے حضرت موسیٰ
02:45علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ رات کی تاریخی میں بنی اسرائیل کے ساتھ مصر چھوٹ کر چلے جائیں
02:49جب فیرون کو اس بات کا علم ہوا تو اس کا غصہ آسمان کو چھونے لگا اس نے فوراً اپنا
02:54سب سے بڑا اور طاقتور لشکر تیار کیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کا پیچھا کرنا
02:58شروع کر دیا فیرون کا ارادہ تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو ختم کر دے اور ان کی نسل کا
03:02نام و نشان مٹا دے سمندر کا پھٹنا اور فیرون کا ڈوبنا حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بن
03:13بے رحم لشکر تیجی سے آ رہا تھا بنی اسرائیل کے نظر جب پیچھے آتیوے فوج پر پڑی تو وہ
03:17خوف زدہ ہو گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے اب تو ہم ختم ہو گئے مگر حضرت
03:22موسیٰ علیہ السلام نے کمال یقین اور اتمنان کے ساتھ فرمایا کہ ہرگز نہیں میرا رب میرے ساتھ ہے اور
03:27وہ ضرور ہمیں راستہ دکھائے گا تب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وہی بھیجی اور حکم دیا
03:31کہ وہ اپنی آسا یعنی لاتھی مبارک کو
03:33وہ سمندر پر ماریں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فوراں ایسا ہی کیا اور ایک حیرت انگیز موجزہ رونوما ہوا
03:38سمندر کا پانی دیکھتے ہی دیکھتے دو بڑے حصوں میں بٹھ کر ایک دیبار کی شکل میں کھڑا ہو گیا
03:43اور درمیان میں ایک خوشک سیدھا اور چوڑا راستہ بن گیا بنی اسرائیل اللہ کا شکر دا کرتے ہوئے اسی
03:47راستے سے اپنے مالو اسباب سمیت سمندر پار کرنے لگے اس سب کے سب بخیرے دوسرے کنارے پر پہنچ گئ
03:53ادھر جب فیرون اور اس کے لشکر نے دیکھا کہ بنی اسرائیل ایک خوشک راستے سے سمندر پار کر رہے
03:57ہیں تو اس کا تکبر بھی اود کر آیا اس نے یہ سوچا کہ یہ اللہ کا موجزہ ہے بلکہ
04:01اسے اپنی طاقت کا مظاہرہ سمجھا فیرون نے غرور سے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ وہ بھی اس راستے
04:05پر بنی اسرائیل کا پیچھا کریں فیرون اور اس کی پوری فوج اس راستے پر چلنے لگی جب وہ سب
04:09درمیان میں پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو دوبارہ مل ج
04:12ایک حکم دیا اور سمندر کی دونوں دیواریں دھڑام سے واپس اپنی جگہ پر آ گئیں دیکھتے دیکھتے فیرون اس
04:17کا غرور اس کا تخت اور اس کا پورا لشکر سمندر کی لہروں میں ڈوب کر ختم ہو گیا اس
04:21طرح خود کو خدا کہنے والی کے زندگی کا بھیانک انجام ہوا فیرون کی لاش کا محفوظ ہونا دوب کر
04:27مرنے کے بعد سمندر نے فیرون کی لاش کو باہر پھینک دیا جبکہ اس کے باقی لشکر کا کوئی نام
04:31و نشان نہیں ملا اس طرح اللہ تعالیٰ نے فیرون کو اس کی زندگ
04:40باقی رکھنے کا مقصد یہ تھا کہ اس کی حتہ کامیز موت کا نشان ہمیشہ باقی رہے اس وقت مصر
04:45میں فیرون کی لاش کو محفوظ کرنے کا رواج تھا جس کے لیے وہ لاش پر مخصوص مسالے لگا کر
04:50اسے پٹیوں میں لپیٹ کر تابوت میں رکھ دیتے تھے یہ ہونا صرف اسی قوم کے پاس تھا فیرون کی
04:55لاش جب سمندر کے کنارے ملی تو مصری نے اسے پہچان لیا اور اسے اس کے محل میں پہنچایا دربار
05:00میں موجود لوگ اس پر مسالے لگا کر اسے پوری عزت کے ساتھ محفوظ
05:03کرنے لگے مگر اس عمل کے دوران ان سے غلطی ہو گئی جس کے وجہ سے فیرون کی لاش میں
05:07ایک مخصوص نشان باقی رہ گیا چونکہ فیرون سمندر میں ڈوب کر مرہ تھا اور مرنے کے بعد کچھ عرصے
05:13تک پانی میں رہا تھا اس لیے اس کے جسم پر سمندری نمک اور سمندری ذرات کی ایک موٹی تہہ
05:17جم چکی تھی مصریوں نے یہ سوچ کر کے لاش کا حصہ ہے اسے ہٹایا نہیں اور اسی حالت میں
05:22اسے محفوظ کر دیا وقت گزرتا گیا ہزاروں سال کی تاریخ گزر گئی فیرون کا ن
05:26اور اس کی شان و شوقت صرف کتابوں اور عمارتوں میں رہ گئی اس کی لاشیں اور اس کے مقبر
05:30زمین کتاہوں کے اندر چھپ گئے اس واقعے کے تقریباً دو ہزار سال بعد دنیا میں اللہ کے آخری نبی
05:35حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ان پر اللہ کی آخری کتاب قرآن پاک نازل ہوئی جس
05:42میں انسانوں کی عبرت کے لیے فیرون کے قصے بڑے تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں اسے سلسلے میں
05:46فیرون کی جسم کو محفوظ کرنے کے بارے میں ایک آیت
05:49نازل ہوئی جس کے اندر اللہ تعالی صاف طور پر فرماتے ہیں جس کا ترجمہ ہے سورہ یونس آیت انیس
05:54اور ترجمہ ہے آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے ایک نشانی
05:58ہو جائے اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں اس آیت مبارکہ کی سچائی پر تمام
06:03مسلمانوں کو یقین تو تھا لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاسر تھے کہ خود کو خدا کہنے والے کی لاش
06:08آخر کہاں محفوظ کی گئی ہوگی اسے کیسے عبرت کا نشان بنایا جائے گا
06:12کون اس کی تصدیق کرے گا یہ بہت نازک معاملہ تھا کیونکہ قرآن پاک میں بیان کی گیا اللہ تعالیٰ
06:17کے تمام الفاظ میں سے اگر صرف ایک آیت بھی غلط ثابت ہو جاتی تو مسلمان غیر مسلموں کے سامنے
06:22باقی قرآن کو کیسے سچا ثابت کرتے مگر یہ اللہ کا کلام ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں
06:28اس لیے ہر دور میں اس نے اپنی سچائی کو ثابت کیا ہے قرآن کی لاش کی دریات اور جدید
06:33سائنس کا موجزہ
06:331873 میں مصر کے ایک چھوٹے اور غریب گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک معمولی چور احمد عبد الرسول کو
06:40اتفاق سے قدیم فرائین کے مغبروں تک پہنچنے کا ایک خفیہ راستہ مل گیا
06:44اس کا مقصد صرف مغبروں میں سے قیم کی نواد رات جیسے سونا چاندی ہیرے موتی وغیرہ چورانا تھا وہ
06:50تپتی ہوئی دھوپ میں ایک خفیہ راستے کا پتہ چلنے پر جگہ کھودنے لگا
06:54اس دوران اسے باقی چور سمجھ کر کچھ لوگوں نے پکڑ دیا اور پولیس کے حوالے کر دیا بعد میں
06:59وہ جن جگہ کو کھود رہا تھا وہاں سے ملنے والے راستوں کی منسلسل خودائے کی گئی
07:03تو 1898 میں دوسری ممیوں یعنی محفوظ شدہ لاشوں کے ساتھ ساتھ اس فیرون کی لاش بھی مل گئی جو
07:08سمندر میں ڈوب کر مرا تھا
07:10اس کے کفر پر سینے کی جگہ پر اس کا نام بھی لکھا ہوا تھا
07:13ان ممیوں کو ماہرین اپنے ساتھ کاہرہ لے گئے جہاں پر جب ان کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا
07:17تو فیرون کی لاش پر جمی ہوئی نمک کی تہہ سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ یہ وہی
07:22فیرون ہے
07:22جسے پانی میں غرق کر کے عبرت کا نشان بنانے کا بادہ کیا گیا تھا
07:26اس دریافت سے پوری دنیا میں حلچل مچ گئی
07:27اس کی تصدیق کے لئے دنیا بھر سے ماہرین مورخین اور سائنسدان مصر کی طرف متوجہ ہوئے
07:32جب سائنسی ٹیسٹ کیے گئے تو دنیا بھر کے سائنسدانوں نے یہ تصدیق کر دی
07:35کہ باقی تمام لاشوں کے مقابلے میں صرف اس ایک فیرون کی لاش پر سمندری نمک اور سمندری ذرات کی
07:41تہہ جمی ہوئی تھی
07:42جس نے اسے خراب ہونے سے بچائے رکھا
07:43اس سچائی کے سامنے آنے کے بعد اسے آخرکار فیرون کی لاش قرار دے کر
07:47اجائب گھر یعنی میوزم میں محفوظ کر دیا گیا
07:50ڈاکٹر مورس بکائی کا سفر ایمان
07:52یہ لاش 1922 میں دریافت ہوئی تھی
07:541970 کی دہائی میں جب یہ ممی خراب ہونے لگی
07:57تو مصری حکومت نے فرانس کی حکومت سے درخواست کی
07:59کہ اسے خراب ہونے سے بچائے جائے
08:01اور جدید سائنسی آلات کی مدد سے اس کی موت کی اصل وجہ بھی معلوم کی جائے
08:05چنانچہ مصری اور فرانسی سے حکومت انہیں مل کر اس ممی کو فرانس لچانے کے انتظام کیا
08:09جب فیرون کی لاش کو فرانس پہنچایا گیا
08:11تو ائرپورٹ پر اس وقت کے فرانسی سے صدر
08:13خود حکومت کے تمام عالا ہوتیداروں
08:15وزراء اور فوجی افسران کے ساتھ
08:17اس کے استقبال کے لیے موجود تھے
08:18یہاں فیرون کی لاش کا استقبال کسی عظیم بادشاہ کی ترقیہ گیا
08:21فوجی دستوں نے اسے سلامی دی
08:23اور اس کی ممی کو ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کے حوالے کر دیا گیا
08:26اس ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر مورس بکائی تھے
08:28جو اس وقت کے سب سے بڑے سرجن اور ماہرین میں سے ایک مانے جاتے تھے
08:31جب مایکروسکاپک ٹیسٹوں کے ذریعے
08:33ممی کے تمام حصوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا
08:36تو ڈاکٹر مورس کو معلوم ہوا
08:37کہ اس کی لاش کے اندر سمندری ذرات ابھی تک موجود ہیں
08:40اس سے یہ بات ثابت ہو گئی
08:41کہ اس کی موت سمندر میں ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی تھی
08:43کیونکہ سمندری پانی کے اندر ہی
08:45اس طرح کی نمکیات اور ذرات پائے جاتے ہیں
08:47مگر ایک بادشاہ کی موت پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے ہو
08:50یہ سوچنا اپنے آپ میں ایک بہت ہی حیران کون سوال تھا
08:52کیونکہ ایسے عظیم بادشاہ
08:54اپنی شان و شکت کے ساتھ دفن کیے جاتے ہیں
08:56ڈاکٹر مورس کے لیے بھی یہ بات حیرت کی تھی
08:58اور اسی تجسس میں اس نے اس ممی کے بارے میں
09:00مزید جاننے کی کوشش کی
09:01تو اسے معلوم ہوا کہ اس بادشاہ کی موت کے حالات
09:04مسلمانوں کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر
09:07نازل ہوئی کتاب قرآن پاک کے اندر
09:09چودہ سو سال پہلے تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں
09:11اسے معلوم تھا کہ جہاں سے یہ لاش ملی ہے
09:13وہ ایک اسلامی ملک ہے
09:14چنانچہ تجسس میں مجبور ہو کر وہ مصر پہنچا
09:17اور اس نے ایک مسلم عالم سے ملقات کی
09:18جس نے اسے قرآن پاک کھول کر
09:20سورہ یونس کی آیت 92 کا ترجمہ
09:22لفظ بل لفظ سنایا
09:23جس میں فیرون کے دعویٰ خدائی
09:25اور اس کے پانی میں ڈوب کر مرنے
09:26اور پھر پانی سے نکال کر
09:28اس کی لاش کو محفوظ کرنے کا وعدہ
09:29اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر کیا ہوا تھا
09:31ان قرآنی آیت کا اشارہ بلکل واضح تھا
09:33اور صرف ایک ہی نتیجہ نکلتا تھا
09:35کہ میں تجھے مرنے کے بعد آنے والوں کے لیے
09:38محفوظ کر کے عبرت کا نشان بنا دوں گا
09:41ڈاکٹر مورس نے جب یہ سب کو جانا
09:42تو وہ بے اختیار چلاہ اٹھا
09:44کہ یہ بلکل سچی کتاب ہے
09:45اور اس کا ایک ایک لفظ اللہ کا ہے
09:47اسی وقت اس نے کلمہ پڑھ کر
09:48اسلام قبول کر لیا
09:49فیرون تو تنخامن اور سائنس کا ایک اور موجزہ
09:53ایک اور واقعہ جس نے سائنس دانوں کو حیرت میں ڈال دیا
09:55وہ فیرون کا تو تنخامن کی دریافت سے متعلق ہے
09:58قدیم مصر میں فیرون تو تنخامن کو
10:00عموماً ایک مضبوط جسم اور بڑے جلال والے بادشاہ کے طور پر
10:03پیش کیا جاتا تھا
10:12اکثر میں فیرون کے مقبروں کے شہر میں
10:14موجود تو تنخامن کے دھانچے اور باقیات پر
10:16جب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تحقیق کی
10:18اور سوپر کمپیوٹر کی مدد سے
10:20اس کے جسم کی ساتھ کی تصویر تیار کی
10:22تو معلوم ہوا کہ یہ فیرون ایک بہت نازک جسم کا مالک تھا
10:25بایا پیر خراب تھا
10:26اور کمزوری کی وجہ سے وہ چھڑی کے سہارے چلتا تھا
10:28اس کے والدین کے ڈی این اے کے نمونوں سے یہ بھی معلوم ہوا
10:31اس کے والدین آپس میں بہن بھائی تھے
10:33اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیرون کے جسمانی نقائس
10:35اور کمزوریوں کی وجہ بھی یہی تھی
10:37کہ اس کے والدین کا آپس میں بہن بھائی کا رشتہ تھا
10:39اس فیرون کے ساتھ ایک ایسے خنجر کو بھی دفن کیا گیا تھا
10:42جس پر جدید تحقیق کے مطابق
10:43یہ کسی زمینی لوہے سے نہیں
10:45بلکہ کسی شہاب ساقب یا اسرائٹ سے حاصل ہونے والے
10:48لوہے سے تیار کیا گیا تھا
10:50یہ وہی خنجر تھا جسے
10:51انیس سو پچیس میں برطانوی ماہر اثار قدیمہ
10:53ہورڈ کارٹر نے دریاد کیا تھا
10:55سائندانوں کو ایک اور بات نے چکرا کر رکھ دیا
10:58کہ اس لوہے کو زنگ نہیں لگتا تھا
11:00اور اس طرح کے لوہے کا مصر میں پائے جانا
11:02بہت ہی حیرت کی بات تھی
11:03میٹرکس اینڈ پلینرٹری سائنس نامی
11:05میگزین میں چھپنے والی ریپورٹ کے مطابق
11:07مصر اور اٹلی کے محققین نے
11:09اس خنجر کے لوہے کی بناوٹ کی تجدیق کرنے کے لیے
11:11ایک سری فلورسنس کی تیکنیک استعمال کی
11:14اور اس کی عمر کا تائین کیا
11:15ان کا کہنا ہے کہ اس کا موازنہ
11:17اس اسٹیرویڈ سے کیا جا سکتا ہے
11:19جو کہ مصری ساحل پر دو ہزار کلومیٹر کے دائرے میں
11:22کبھی گرا تھا
11:22اگر آپ حالیہ تحقیق کی گہرائی سے چھانبین کریں
11:25تو آپ یہ جان پائیں گے کہ قدیم مصری فیرون
11:27اور کاریگر یہ جانتے تھے کہ لوہے کے ٹکڑے
11:29آسمان سے گرے ہیں
11:30جبکہ یہ بات مغرب کو دو ہزار سال بعد
11:33یعنی آج سے تقریباً تیرہ سو سال پہلے
11:35کافی سائنسی تحقیق کے بعد معلوم ہوئی
11:36مگر مسلمانوں کو اس سے بھی
11:38چودہ سو سال پہلے
11:39اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:41نے قرآن پاک کے اندر
11:42بازے طور پر بیان کر دیا تھا
11:44کہ لوہے جیسی دھات
11:45زمین پر پیدا نہیں ہوتی
11:46بلکہ یہ آسمان سے نازل ہوئی ہے
11:48یہ قرآن کا ایک اور سائنسی موجزہ ہے
11:50جو انسانوں کے لئے ایک بہت بڑا سبق ہے
12:03انسانوں کی آنکھ کے سامنے
12:04ہر وقت ایک واضح ثبوت کے طور پر موجود ہے
12:06فیرون کا انجام ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے
12:08کہ عبرت کے لئے سوچنے کے لئے
12:10اور دائمی رہنے والی صرف ایک ہی ہستی ہے
12:12جو کہ سب کا خالق اور مالک ہے
12:14اور سب کا رزق دینے والا ہے
12:16اگر دنیا کے انسانوں میں واقعی کوئی خدا موجود ہے
12:19تو وہ اپنی قوم کو تباہ ہونے سے پہلے
12:21خود کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا کر دکھا دے
12:23اللہ تعالیٰ ہمیں سچ کو سمجھنے
12:25اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
12:27آمین
12:27دعا
12:28اے اللہ ہم سب تیرے بندے ہیں
12:31تیرے ہی در کے سوالی ہیں
12:33تیرے ہی رحم کے طلبکار ہیں
12:35اور تیرے ہی سامنے چھکنے والے ہیں
12:37تو غفور ہے رحیم ہے کریم ہے
12:39تو بخشنے والا ہے
12:41در گزر کرنے والا ہے
12:43تو سب جانتا ہے
12:44ہم کچھ نہیں جانتے
12:46تو سب کچھ کر سکتا ہے
12:47ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے
12:49یا اللہ ہمیں اس حال میں نہ چھوڑ
12:52کہ ہم اپنے نفس کے حوالے کر دیے جائیں
12:54ہمیں ہمارے گناہوں کی وجہ سے تباہ نہ کر
12:56ہماری لغزشوں کو در گزر فرما
12:59ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما
13:01ہمارے دلوں کو ہدایت دے
13:02ہماری زبانوں کو سچائی پر قائم رکھ
13:05اور ہمارے عمال کو اپنے لئے خالص بنا دے
13:08یا رب العالمین
13:10ہم کمزور ہیں
13:11ہم بھولنے والے ہیں
13:12ہم بار بار گناہ کرنے والے ہیں
13:14مگر تو ہر بار معاف کرنے والا ہے
13:17ہم نے دنیا کی محبت میں تیری یاد کو بھولا دیا
13:20مگر اے رب
13:21تو ہمیں مت بھولا
13:22ہمیں اپنے ذکر سے زندہ رکھ
13:25اپنی عبادت میں لگا دے
13:26اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
13:30سنت پر عمل کرنے والا بنا دے
13:32یار ہم الراہمین
13:33ہمیں وہ آنکھیں عطا فرما جو تیرے خوف سے عشق بار ہوں
13:36وہ دل عطا فرما جو تیری عظمت سے کام پھٹھے
13:39وہ زبان عطا فرما جو ہر وقت تیرا ذکر کرے
13:42اور وہ زندگی عطا فرما جو تیری رضا میں گزرے
13:45اے مالی کے یوم الدین
13:47جب ہمارے جنازے اٹھیں تو ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما
13:50جن کے لئے فرشتے دعائیں کرتے ہوں
13:53جب ہمیں لہد میں اتارا جائے
13:55تو ہماری تنہائی کو اپنی رحمت سے آباد فرما
13:58جب حساب کا وقت ہو
13:59تو ہمیں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت فرما
14:04اور ہمیں ان کے حوزک حسر سے پانی نصیب فرما
14:06اے اللہ ہمارے ماباپ کو بخش دے
14:09ان کے قبر کو نور سے بھرتے
14:10جنہوں نے ہمیں پالا سکھایا
14:13ہر تکلیف پرداش کی
14:14ان کے قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما
14:17اور ہمیں ان کے لئے صدقہ ایچاریہ بنا دے
14:19اور اگر وہ زندہ ہیں
14:21تو ان کے عمروں میں برکت عطا فرما
14:23ان کے صحت کی حفاظت فرما
14:24ان کی دعائیں ہمارے لئے قبول فرما
14:27یارب جن کے اولاد ہے
14:29ان کے بچوں کو نیک صالح اور فرما بردار بنا
14:32جن کے اولاد نہیں
14:33ان کو نیک اولاد عطا فرما
14:35جن کے رزق میں تنگی ہے
14:37ان کو وسط عطا فرما
14:38جن پر قرض ہے
14:40ان کو حلال رزق سے
14:41ادائیگی کی توفیق عطا فرما
14:43جن کے دل زخمی ہے
14:45انہیں تسلی عطا فرما
14:46جن کے گھر اجڑ چکے ہیں
14:48ان کو سکون عطا فرما
14:50جو بیمار ہیں انہیں شفا عطا فرما
14:52جو بے اولاد ہیں انہیں خوشی دے دے
15:22صحی اللہ!
15:25جن پر تیرا فضل ہوتا ہے
15:27اور جنہیں تو اپنا قرب عطا فرماتا ہے
15:29یا رب
15:30ہمیں پلے صرات پر نور عطا فرما
15:32ہمارے قدموں کو ثابت رکھ
15:34ہمارے گناہوں کو ہمارے چہروں پر نہ لانا
15:37ہمارے عیبوں کو دھاپ لینا
15:39اور ہمیں رسوائی سے بچا لینا
15:41اے مالک
15:42جب تو جنت کی کنجی عطا کرے
15:44تو ہمیں پیچھے سے نہ چھوڑنا
15:45جب تو اپنے نیک بندوں کو بلائے
15:47تو ہمیں محروم نہ رکھنا
15:49جب تو اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
15:52مقام محمود دے
15:53تو ہمیں ان کے قریب رکھنا
15:55جب تو جنت کی ہوا چلا دے
15:57تو ہمیں بھی ان میں شامل کر لینا
15:59جب تو جنت کے دروازے کھولے
16:01تو ہمیں بھی داخل عطا فرما دینا
16:03یا اللہ ہمیں دنیا میں بھی سکون عطا فرما
16:06اور آخرت میں بھی کامیابی دے
16:08ہمیں اس امت کے لیے نفع بخش بنا دے
16:11ہمارے قلم زبان
16:13اور وسائل کو تیرے دین کی خدمت میں لکا دے
16:16ہمیں گمراہی سے بچا اور حق کے راستے پر قائم رکھ
16:19ہمارے عمال کو قبول فرما
16:21اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما
16:23جنہیں تو اپنا محبوب کہے
16:26یا اللہ ہمارے دلوں کو ہر قسم کے کینے
16:28حسد بغض نفرت اور دشمنی جیسے زہریل جذبات سے
16:33مکمل طور پر پاک فرما دے
16:35ان اندھیری کیفیتوں کو
16:37ہمارے دلوں سے ایسے مٹا دے
16:39جسے روشنی اندھیرے کو ختم کر دیتی ہے
16:41ہمارے سینوں کو فراخ دے
16:43ہماری طبیعوں کو نرم
16:44اور ہمارے رویوں کو درگزر پر مائل فرما
16:47اے رب کریم
16:49ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما
16:51جن کے دل محبت سے لبریز ہوتے ہیں
16:53جن کی زبانیں دوسروں کے لئے خیر کہتی ہیں
16:56جن کے عمل
16:57امن رحم اور شفقتہ پیغام ہوتے ہیں
17:00ہم ایسا انسان بنا دے
17:01جو دوسروں کو معاف کرنے والا ہو
17:03جو رشتے جوڑنے والا ہو
17:05جو دوسروں کی غلطیوں پر پردے ڈالنے والا ہو
17:07جو ہر حال میں نرمی اختیار کرنے پالا ہو
17:10اے پروردگار
17:11ہمیں ایسا دل عطا فرما
17:13جو تکبر سے پاک ہو
17:14جو حسد سے دور ہو
17:16جو نہ کسی کا برا چاہے
17:17نہ کسی کی خوشی سے جلنے لگے
17:19نہ کسی کی کامیابی سے پریشان ہو
17:21ہمیں ایسا ذرف عطا کر دے
17:23جو دوسروں کے لئے دعا کرے
17:25حتیٰ کہ ان کے لئے بھی جنہوں نے ہمیں دکھ دیا ہو
17:28اور ہمیں ایسے دل دے دے
17:29جو تیرے بندوں سے بغض نہ رکھیں
17:31بلکہ ان کے لئے خیر کا ذریعہ بنے
17:33یا اللہ ہمارے گھروں میں
17:35محبت، الفت، اتحاد اور سکون نازل فرما
17:38ہمارے خاندان کو باہیمی اعترام
17:41اعتماد اور خلوص کی دور سے باندھ دے
17:43ہمارے درمیان
17:45نفرت، زد، انائیت
17:47اور بدگمانی کی دیواریں گرا دے
17:49ماباپ اور اولاد کے درمیان
17:51محبت گہری کر
17:52میاں بیوی کے درمیان
17:54مودت پیدا کر
17:55بہن بھائیوں کے دلوں میں
17:57اتفاق اور قربانی کا جذبہ پیدا کر
18:00آمین یا رب العالمین
18:02ہمیں وہ گھر اتا فرما
18:03جن کے درو دیوار ذکر سے گونجتے ہوں
18:06جن میں تجھ پر توقل کیا جاتا ہو
18:09جن پر فرشتے رحمت لے کر اترتے ہوں
18:11یا اللہ
18:12ہمارے نفس کی شرارتوں کو قابو میں رکھ
18:14ہمیں خواہشات کا غلام بننے سے بچا
18:16ہمیں اپنی خواہشات کے بجائے
18:19تیرے احکامات کا تابع بنا
18:20ہمیں صبر اتا فرما
18:22قنات اتا فرما
18:23شکر کا جذبہ اتا فرما
18:25اور نفس کی ہر غلط طلب سے محفوظ فرما
18:27ہمیں دنیا کی چمک دمک پریب
18:29اور دھوکہ دہی سے نجات اتا فرما
18:31کہ یہ سب عارضی ہیں
18:32اور اصل کامیابی تیری رضا میں ہے
18:34یار اب اس ویڈیو کو
18:36اس پیغام کو
18:37اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما
18:39جنہوں نے اسے سنا
18:40ان کے دلوں پر اثر فرما
18:42انہیں نیکی کی طرف مائل فرما
18:44اور برائیوں سے دور رکھ
18:45اس ویڈیو کے ذریعے
18:47ہدایت کا ذریعہ بنا
18:48مغفرت کا ذریعہ بنا
18:50بخشش کا ذریعہ بنا
18:51یا اللہ
18:52جو بھائی بہن ہماری اس کابش میں شامل ہیں
18:54ان سب کے درجات بلند فرما
18:56ان کے رزق
18:57صحت
18:57علم
18:58اور عامال میں برکت اتا فرما
19:00انہیں اور ان کے اہل خانہ کو اپنے حفاظت میں رکھ
19:02ان کے دعائیں قبول فرما
19:04ان کے راستے آسان فرما
19:06ان کے لئے دنیا اور آخرت کی بھلائیاں لکھتے
19:08یار ہم الراہمین
19:10ہمیں موت کی حقیقت یاد دلا
19:11یار ہم الراہمین
19:13ہمیں موت کی حقیقت یاد دلا
19:15ہمیں دنیا کی فانی خوشیوں سے نکل کر
19:17تیری رزق کی طلب اتا فرما
19:19ہمیں قنات
19:20صبر
19:20شکر
19:21اور توقل کا راستہ دکھا
19:23ہمیں اپنی محبت اتا فرما
19:24اور اپنی معرفت سے سرفراز فرما
19:26اے اللہ جب قبر میں اکیلے ہو
19:28تو تو ہمارا ساتھی ہو
19:29جب اندھیرے ہوں
19:30تو تو روشنی اتا فرما
19:32جب آمال کا پلڑا تولا جائے
19:34تو تو ہمارے نیک آمال کو بھاری کر دے
19:36جب کتابیں دی جائیں
19:37تو ہمیں دائیں ہاتھ میں دینا
19:39جب نام آئے آمال کھلے
19:41تو ہمیں شرمندہ نہ کرنا
19:42یا اللہ
19:43ہم سب کی توبہ قبول فرما
19:45ہمیں ہدایت دے
19:46ثابت قدمی دے
19:47اور ہمارے زندگی کا قاتم ایمان پر فرما
19:50اے اللہ
19:51تو ہمارے دلوں کو سیدھا کر دے
19:53ہمارے راستوں کو درست کر دے
19:54ہمارے نیتوں کو پاک کر دے
19:56اور ہمیں صرف اور صرف
19:57تیرے لئے جینے
19:58اور مرنے کی توفیق دے
20:00ربنا تقبل مننا
20:02انکا انتا السامی العلیم
20:04وطبع لینا انکا انتا تباب الرحیم
20:08اللہم سلی علی محمد وعلا آل محمد
20:12کما سلیتا علی ابراہیم
20:14وعلا آل ابراہیم
20:16انکا حمید مجید
20:17اللہم بارک
20:19علی محمد وعلا آل محمد
20:21کما بارکتا
20:22علی ابراہیم
20:23وعلا آل ابراہیم
20:25انکا حمید مجید
20:27آمین
20:28یا رب العالمین
Comments