Aaj kal social media platforms par aik viral video ne poori Muslim duniya ko hairani mein daal diya hai – jisme dawa kiya gaya hai ke ye 1400 saal purana Khutba-e-Nabwi ﷺ ka asli recording hai. Is viral audio mein ek pur-sukoon aur dabdabay wali awaz sunayi deti hai jo Khutbah Hajjatul Wida ke lafzon par mabni hai. Magar sawal uthta hai:
Kya waqai yeh awaz Rasool Allah ﷺ ki hai?
Noor ne is hawalay se ek tahqiqi aur ilmi tajziya tayar kiya hai jahan ulema, technology experts aur Islamic historians se guftagu ki gayi.
📌 Ilmi Haqiqat:
Islamic history ke mutabiq, Rasool ﷺ ke zamane mein kisi qisam ki audio recording technology mojood nahi thi. Pehli sound recording 19th century mein Edison ke zamane mein hui. Is lihaaz se yeh audio agar asli hoti, to yeh ilm, waqt aur technology ke tamaam qaida-o-zawabit ke khilaaf hota.
📌 Digital Creation Ka Shuba:
Experts ka kehna hai ke yeh viral audio AI voice generation ya deepfake tools ka natija ho sakti hai jisme Qurani ayat ya Rasool ﷺ ke lafzon ko emotional voice modulation ke sath viral banaya gaya hai – jisse log asliyat samajhne mein ghalti kar rahe hain.
📌 Hamari Zimmedari:
Muslamano ka farz hai ke kisi bhi dawe ko bina tahqiq ke na maanain. Khutba-e-Hajjatul Wida ka asal matn Hadith aur Seerah ki mukhtalif kitabon mein mojood hai – jise hifazat aur sanad ke sath aaj tak pohanchaya gaya hai.
Yeh viral video chahe jazbaat barhaye, lekin ilm aur yaqeen ke sath kehna zaroori hai:
Nabwi ﷺ ki awaz ko Allah ne mehfooz nahi rakha – magar un ke paigham ko zaban dar zaban poori ummat ne mehfooz rakh liya hai.
#KhutbaENabwi #1400YearOldKhutba #ProphetMuhammadSAW #ViralVideoTruth #NoorTV #IslamicInvestigation #KhutbaHujjatulWida #VoiceOfTheProphet #DigitalDeception #AIInIslam #IslamicClarification #SeerahTruth #PropheticMessage
Ask
Kya waqai yeh awaz Rasool Allah ﷺ ki hai?
Noor ne is hawalay se ek tahqiqi aur ilmi tajziya tayar kiya hai jahan ulema, technology experts aur Islamic historians se guftagu ki gayi.
📌 Ilmi Haqiqat:
Islamic history ke mutabiq, Rasool ﷺ ke zamane mein kisi qisam ki audio recording technology mojood nahi thi. Pehli sound recording 19th century mein Edison ke zamane mein hui. Is lihaaz se yeh audio agar asli hoti, to yeh ilm, waqt aur technology ke tamaam qaida-o-zawabit ke khilaaf hota.
📌 Digital Creation Ka Shuba:
Experts ka kehna hai ke yeh viral audio AI voice generation ya deepfake tools ka natija ho sakti hai jisme Qurani ayat ya Rasool ﷺ ke lafzon ko emotional voice modulation ke sath viral banaya gaya hai – jisse log asliyat samajhne mein ghalti kar rahe hain.
📌 Hamari Zimmedari:
Muslamano ka farz hai ke kisi bhi dawe ko bina tahqiq ke na maanain. Khutba-e-Hajjatul Wida ka asal matn Hadith aur Seerah ki mukhtalif kitabon mein mojood hai – jise hifazat aur sanad ke sath aaj tak pohanchaya gaya hai.
Yeh viral video chahe jazbaat barhaye, lekin ilm aur yaqeen ke sath kehna zaroori hai:
Nabwi ﷺ ki awaz ko Allah ne mehfooz nahi rakha – magar un ke paigham ko zaban dar zaban poori ummat ne mehfooz rakh liya hai.
#KhutbaENabwi #1400YearOldKhutba #ProphetMuhammadSAW #ViralVideoTruth #NoorTV #IslamicInvestigation #KhutbaHujjatulWida #VoiceOfTheProphet #DigitalDeception #AIInIslam #IslamicClarification #SeerahTruth #PropheticMessage
Ask
Category
📚
LearningTranscript
00:00.
00:30. . . . .
01:00ڈرون جمع اور نبی آخر زمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ تاریخی خطبہ جو صحیفوں میں محفوظ تھا
01:06اب ہمیں خود آپ علیہ السلام کی زمان مبارک سے سننے کو ملے حالی میں ایک ایسی ویڈیو نے انٹرنیٹ
01:13پر تحلکہ مچا دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فرانس میں ایک ایسی حیرت انگیز مشین تیار
01:18کی جا چکی ہے جو ہزاروں سال پرانی آوازوں کو دوبارہ سننے کے قابل بنا سکتی ہے بظاہر یہ سائنس
01:24کی ایک انقلابی پ
01:29اگر ایسا ممکن ہو بھی جائے تو کیا مسلمانوں کے لیے اس کا سننا جائز ہے اور بحیثیت امتی ہمیں
01:36ایسے دعویوں پر کیسا ربعی اختیار کرنا چاہیے آج کی بیڈیو میں ہم اسی حیران کن دعوی کا نہ صرف
01:41سائنسی اور عقلی تجزیہ کریں گے بلکہ شرعی رہنمائی کی روشنی میں اس کے اثرات کا بھی جائزہ لیں گے
01:46ساتھی ہم نبی علیہ السلام کی وہ حدیث مبارکہ بھی پیش کریں گے جن میں آپ علیہ السلام نے آخری
01:53زمانے کے فتنوں سے آ
01:54اگہ کیا اور امت کو ان سے بچنے کی تلقین فرمائی لہذا آپ سے گزارشے کے ویڈیو کو آخر تک
01:59دیکھئے گا کیونکہ جو کچھ آپ جاننے جا رہے ہیں وہ نہ صرف حیران کن بلکہ آپ کے ایمان شعور
02:05اور فہم کے لیے ایک گہرہ پیغام رکھتا ہے اور اگر آپ ہمارے چینل پر نئے ہیں تو سبسکرائب کرنا
02:10مت بھولئے گا تاکہ آپ ایسی بصیرت افروز ویڈیو سے جڑے رہے ہیں
02:14ناظرین پچھلے سال جسٹس ریٹارڈ غازی نظیر احمد صاحب کی ایک ویڈیو تیزی سے بائرل ہوئی جس میں وہ دعویٰ
02:21کر رہے تھے کہ فرانس کی ایک کمپنی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز میں خطبہ
02:26حجت الویدہ کو ریکارڈ کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے
02:29ان کے بقول انہوں نے یہ آواز خود سنی ہے اور فی الوقت اس کی آوڈیو کالٹی بہتر بنانے پر
02:34کام جاری ہے
02:35جبکہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ 2030 تک عوام الناسی خطبہ براہ راست نبی اقدس صلی اللہ علیہ
02:41وآلہ وسلم کی زبان اقدس سے سن سکیں گے
02:44ایسے میں تمام مسلمانوں کو اس بات کا بخوبی ادراک ہونا چاہیے کہ ہم اس وقت ایک پر فتن دور
02:50میں زندگی گزار رہے ہیں
02:51جہاں بغیر تحقیق و دلیل کے کسی بھی بات کو سچ مان لینا خود کو گمراہی اور ہلاکت میں ڈالنے
02:56کے مترادف ہے
02:57لہذا ضروری ہے کہ ہم ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھائیں اور کسی بھی دعوے کو قبول کرنے سے قبل
03:02اس کے تمام پہلوں پر سنجیدگی سے غور کریں
03:05ناظرین گزشتہ چند برسوں میں ایک حیران کن دعوے بارہا سوشل میڈیا یوٹیوب اور بعض مذہبی خطابات میں سننے کو
03:11ملا ہے
03:12کہ بعض مغربی کمپنیاں یا ادارے خصوصاً فرانس میں موجود ایک مبینہ سائنس لیب
03:16ایسی جدید ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے جس کے ذریعے ہزاروں سال پرانی آوازوں کو دوبارہ سننا اور یہاں
03:22تک کے ریکارڈ کرنا ممکن ہو گیا ہے
03:24بعض دعوے اس قدر پور اثر اور جذباتی انداز میں پیش کیے گئے کہ عام سامین انہیں سس سمجھ بیٹھے
03:29ان میں یہ بھی کہا گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فیرون سے مقالمہ
03:33یا کربلا کے میدان میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی آواز
03:36یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ دوبارہ سنا جا سکتا ہے
03:40یہ خیالات عقیدت کی بنیاد پر جذبات کو چھونے والے ضرور ہو سکتے ہیں
03:44مگر سائنسی اعتبار سے ان کی کیا حقیقت ہے
03:46آئیں ہم ایک مکمل سائنسی تذریع کے ساتھ اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں
03:50ناظرین سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آواز دراصل ہے کیا
03:54آواز ایک میکینیکل ویو ہوتی ہے
03:56یعنی یہ توانائی کی ایک ایسی شکل ہے جو کسی میڈیم جیسے ہوا پانی
03:59یا کسی ٹھوز چیز کے ذرات کی حرکت کے ذریعے سفر کرتی ہے
04:03جب کوئی آواز پیدا ہوتی ہے جیسے انسان بولتا ہے
04:05تو اس کے موز سے خارج ہونے والی سوتی توانائی ہوا میں موجود مولیکیولز کو متحرک کرتی ہے
04:10یہ مولیکیولز ایک دوسرے سے ٹکرا کر آگے توانائی منتقل کرتے ہیں
04:14اور اسی عمل کو ہم آواز کا سفر کہتے ہیں
04:16یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ آواز خلا میں سفر نہیں کر سکتی
04:19کیونکہ وہاں کسی قسم کے مولیکیولز موجود نہیں ہوتے
04:22اس لئے آواز کو ہمیشہ کسی نہ کسی میڈیم کی ضرورت ہوتی ہے
04:25اور چونکہ ہر میڈیم کی اپنی مضاہمت ہوتی ہے
04:28اس لئے آواز کی توانائی اس میڈیم سے گزرتے ہوئے کم ہوتی جاتی ہے
04:32یہ وہ اہم نکتہ ہے جو ماضی کی آوازوں کے دوبارہ سننے کے تصور کو
04:37سرسر غیر سائنسی ثابت کرتا ہے
04:39جب آواز کسی میڈیم میں سفر کرتی ہے تو
04:41اس کی توانائی آہستہ آہستہ تحلیل ہو جاتی ہے
04:44اس عمل کو سائنسی اسطلاح میں اٹینیویشن کہا جاتا ہے
04:47آواز جب ایک میڈیم سے گزرتی ہے
04:49تو ہر مولیکیول پچھلے مولیکیول سے
04:51صرف کچھ توانائی ہی آگے منتقل کرتا ہے
04:54باقی توانائی حرارتی شکل میں ضائع ہو جاتی ہے
04:57یہی وجہ ہے کہ کوئی آواز جتنی زیادہ دوری تیہ کرے گی
05:00اتنی زیادہ کمزور ہو جائے گی
05:01یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے
05:04ایک سادہ مثال ہے
05:05اگر آپ کسی کھلے میدان میں زور سے پکاریں
05:07تو سو میٹر دور کھڑے شخص کو
05:08آپ کی آواز بہت مدھم سنائے دے گی
05:10اور اگر پانسو میٹر دور ہو
05:12تو ممکن ہے کہ اسے کچھ بھی سنائیں نہ دے
05:14اب سوچیں
05:15اگر آج سے ہزار سال پہلے کوئی آواز پیدا ہوئی ہو
05:17تو وہ آج تک کیسے برقرار رہ سکتی ہے
05:20نہ اس کی توانائی باقی رہی
05:21نہ اس کا راستہ
05:22اور نہ ہی کوئی محفوظ کرنے والا ذریعہ
05:24آج ہم جو ٹی وی پروگرامز
05:26ریڈیو براڈکاسٹ یا موبائل کال سنتے ہیں
05:28وہ سب موڈیولیشن کے ذریعے نشر ہوتے ہیں
05:30اس میں سوٹی ویوز کو
05:32ایک مخصوص کیریر ویو پر
05:33موڈیولیٹ کیا جاتا ہے
05:34یعنی ان کی فرکونسی اور ویو لیندھ کو بدلہ جاتا ہے
05:38تاکہ وہ زیادہ فاصلے تک سفر کر سکیں
05:40مگر ان ویوز کو پکڑنے کے لیے
05:42ریسیونگ ڈیوائس کو خاص فرکونسی پر
05:44ٹیون کرنا ہوتا ہے
05:45اگر آپ اپنے ریڈیو یا ٹی وی کو
05:47درست فرکونسی پر نہ رکھیں
05:49تو آپ کچھ بھی نہیں سن سکتے
05:50اس کا مطلب یہ ہے کہ
05:52ہر نشریاتی ویوز کو سننے کے لیے
05:53مخصوص لمحے پر مخصوص آلات کی ضرورت ہوتی ہے
05:56اگر کوئی ویوز کئی دن پہلے نشر ہوا ہو
05:59اور اب اس کی فرکونسی خلا میں بکھر گئی ہو
06:01تو اسے دوبارہ وصول کرنا ناممکن ہے
06:03اگر ماضی کی آوازیں آج بھی فضا میں موجود ہوتی ہیں
06:06اور انہیں دوبارہ سنا جاتا
06:08تو آج ہم اپنے انٹینہ لگا کر
06:10انیس سو اسی کی خبریں
06:11انیس سو سینٹالیس کی تقریریں
06:13یا پہلی جنگ عظیم کے دھماکے سن سکتے
06:15لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا
06:16اور نہ کبھی ہوگا
06:17ناظرین اس طرح اگر کوئی آواز آج سے سو سال پہلے
06:20محفوظ کی گئی ہو
06:21مثلاً کسی گرامو فون یا ٹیپ ریکارڈ میں
06:23تو وہ اس لیے سنائی جا سکتی ہے
06:25کیونکہ اس وقت وہ آواز ایک مخصوص میڈیم پر ریکارڈ کی گئی تھی
06:28یعنی اس کی ویو کو ایک میٹیریل پر نقش کیا گیا تھا
06:31یہی اصول آج کی ڈیجیٹل ریکارڈنگ
06:33سیڈی
06:33یو ایس بی
06:35یا ہارڈ ڈرائی پر لاغو ہوتا ہے
06:36مگر اگر کوئی آواز بغیر کسی ریکارڈنگ کے فضا میں پھیل گئی ہو
06:40تو وہ چند سیکنڈز یا زیادہ سے زیادہ چند منٹ میں
06:43مکمل طور پر ختم ہو جائے گی
06:44اس کے بعد نہ تو وہ سنی جا سکتی ہے
06:47نہ ہی بازی آفت
06:48ناظرین اب یہاں ایک سائنسی اور دلچسپ مواجنہ سمجھنا ضروری ہے
06:51روشنی ایک الیکٹرو میگنیٹیو ویو ہے
06:53اور یہ خلا میں بغیر کسی میڈیم کے سفر کر سکتی ہے
06:56یہی وجہ ہے کہ ہم سورج چاند ستارے
06:58اور عربوں نوری سال دور موجود
07:00کہکشائیں دکھائی دیتی ہیں
07:01دراصل ان کہکشاؤں کی روشنی ابھی ہم تک پہنچ رہی ہے
07:04حالانکہ وہ روشنی کروڑوں سال پہلے خارج ہوئی تھی
07:07لیکن آواز کے ساتھ ایسا ممکن نہیں
07:09کیونکہ وہ میکینیکل ویو ہے
07:10اور خلا میں سفر نہیں کر سکتی
07:12لہٰذا کسی ماضی کی آواز کو سننے کا تصور
07:15اسی وقت ٹوڑ جاتا ہے جب ہم جان لیتے ہیں
07:26جو لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں
07:27کہ کسی فرانس کی کمپنی نے
07:29ہزاروں سال پرانی آواز سننے والی
07:31مشین ایجاد کی ہے
07:32کیا وہ کوئی ثبوت پیش کرتے ہیں
07:34کیا کسی معروف سائنسی جریدے
07:36مثلا سائنس یا نیچر میں اس کے اشارت ہوئی ہے
07:38کیا کوئی بینوالاقوامی یونیورسٹی
07:40مثلا ایمائیٹی سٹین فورڈ نے اس پر تحقیق کی ہے
07:42حقیقت یہ ہے کہ نہ کوئی کمپنی ہے
07:45نہ کوئی ریجسٹرڈ پیٹن
07:46نہ کوئی مشین
07:47نہ کوئی سائنسی ثبوت
07:48صرف ایک افواہ
07:50جو کئی سالوں سے مذہبی حوالوں کے ساتھ پھیلائی جا رہی ہے
07:52تاکہ سادہ لوہ عوام کو متاثر کیا جا سکے
07:55یہ بات عقیدت کو کم کرنے کے لیے نہیں کہی جا رہی
07:58بلکہ سچائی کو باضح کرنے کے لیے کہی جا رہی ہے
08:00سائنسی حقیقت یہ ہے کہ آواز میکینیکل بیو ہے
08:03خلا میں سفر نہیں کر سکتی
08:05آواز کی توانائی وقت کے ساتھ تحلیل ہو جاتی ہے
08:08آواز چند لمحوں میں ختم ہو جاتی ہے
08:10آج تک کوئی سائنسی ٹیکنالوجی
08:12ماضی کی آوازوں کو بازیافت کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی
08:15اگر یہ ممکن ہوتا
08:16تو دنیا کے ہر ریڈیو
08:17مذہبی عقائد
08:18اپنی جگہ اور ٹی وی پر
08:20ماضی کے پروگرام خود بخود سنائے دیتے
08:21مگر سائنسی سچائی کو سمجھنا ضروری ہے
08:24ناظرین سچ کی بنیاد جذبات پر نہیں
08:26بلکہ دلیل اور تحقیق پر ہونی چاہیے
08:28اگر ہم سچائی سے آنکھیں بند کر لیں
08:30تو ہم افواہوں کے غلام بن جاتے ہیں
08:32مذہب اور سائنس دونوں حقیقت کے طلبگار ہیں
08:35فریق کے نہیں
08:35اس لیے ایسے ہر دعوے کو
08:37عقل دلیل اور تحقیق کی قسوٹی پر پرکنا
08:39ہم سب کا فرض ہے
08:40ناظرین اب جو بات
08:42مہتم جسٹس ریٹائر قاضی نظیر احمد صاحب کہہ رہے ہیں
08:45شاید ان کو بھی یہ معلوم نہیں
08:46کہ یہ بات پہلی بار نہیں ہو رہی
08:48سب سے پہلے
08:49اس مفروضے کو بطور خواہش پیش کرنے والا
08:52مرزا بشیر الدین مرتد قادیانی زنیم تھا
08:54سورہ نبع کی آیت نمبر 29 میں
08:56اللہ جلالہ جلالہو کا فرمان عالی شان ہے
08:58اور ہم نے ارچیز کو لکھ کر محفوظ کر رکھا ہے
09:01مرزا بشیر الدین قادیانی مرتد زنیم
09:04اپنی ملہدانہ تفسیر کبیر میں
09:05اس آیت مبارکہ
09:06یعنی قادیانی کتاب میں
09:08آیت نمبر 30 ہے
09:10کہ تحت یہ مفروضہ پیش کرتا ہے
09:11کہ مطلب یہ کہ وہ ایسی جگہ محفوظ ہیں
09:14جہاں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہو سکتی
09:16چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی انسانی عمل
09:18ایسا نہیں جو ضائع ہو جاتا ہو
09:20بلکہ وہ ضرور کسی نہ کسی شکل میں
09:22محفوظ ہوتا ہے
09:23ریڈیو کی ایجاد نے اس عداقت کو بہت بڑا ثبوت
09:26مہیا کر دیا ہے
09:28ہزاروں میل پر ایک شخص اپنی زبان سے کوئی لفظ
09:30نکالتا ہے تو فوراں ہم تک پہنچ جاتا ہے
09:32اور ہم گھر بیٹھے ہزاروں میل دور کی آواز
09:34اس طرح سن لیتے ہیں
09:36جیسے وہ ہمارے پاس بیٹھا باتیں کر رہا ہے
09:37مجھے خیال آیا کرتا ہے کہ کوئی تاجب نہیں
09:40اگر یہ علوم ترقی کرتے کرتے
09:42اس حالت کو پہنچ جائیں
09:43کہ گزشتہ زمانے کی آوازوں کو بھی ریکارڈ کیا جا سکے
09:46اگر کوئی ایسا آلہ نکل آئے
09:48تو ہو سکتا ہے کہ ہم
09:49رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
09:52وہ حدیثیں جو آج کتابوں میں پڑھتے ہیں
09:54خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے سننیں
09:57یہ بات موجودہ زمانے کی ایجاد کو دیکھتے ہوئے
09:59اب ناممکن نظر نہیں آتی
10:01زمانہ بہت ترقی کر چکا ہے
10:03ممکن ہے کہ آئندہ چل کر کوئی ایسا آلہ ایجاد ہو جائے
10:06اور گزشتہ زمانے کو بھی اپنے کنٹرول میں لائے جا سکے
10:09اس صورت میں ہمیں گزشتہ زمانے کی آوازیں آسانی سے سنائے دینے لگیں گی
10:12ہم جس صدی کے جس سال کی کوئی بات سننا چاہیں گے
10:15اس صدی کے اس سال پر اس حالے کو نصب کر دیں گے
10:18اور آوازوں کو سننا شروع کر دیں گے
10:19کاش دنیا اس ترقی سے صداقت کی طرف آئے
10:22چنانچہ یہاں پر سب سے اہم بات جس سے ملوز خاطر رکھا جانا چاہیے
10:25وہ یہ ہے کہ آقا کریم سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
10:29آواز مبارک کی تلاش اور ریکارڈ کر کے
10:32مرزا بشیر الدین قادیانی مرتد زنیم کا
10:35دنیا کو کس صداقت کی طرف بلانا مقصود ہے
10:38بلا شبہ وہ قادیانی مرتد ہے
10:39یاد رکھا جائے کہ یہ ملہدانہ کتاب تفسیر کبیر
10:431940 سے 1962 تک شائع ہوتی رہی
10:45چنانچہ دور میں ایسی کوئی ٹیکنالوجی میسری نہ تھی
10:48جس سے کسی مرتد زنیم کے دماغ میں
10:51امکانات پر مبنی یہ تصورات اُبھر سکیں
10:53کہ ماضی کی سواتی لہروں کو تلاش کیا جائے
10:55اور ان کو ریکارڈ کیا جائے
10:57حتیٰ کہ آج کے دن بھی ایسی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے
11:00جس کے ذریعے ماضی کی فرکونسی
11:02یا سواتی لہر کو ریکارڈ کیا جا سکے
11:05چنانچہ یقین رکھا جائے
11:06کہ آقا کریم سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:09کے آواز مبارکہ کو ریکارڈ کرنے کے تصور پیش کرنا
11:11تب بھی پلانٹڈ تھا
11:13اور اب بھی یہ ریکارڈ کر لینے کا دعوی پلانٹڈ ہے
11:15جس کی قبل از وقت مسلمانوں میں
11:17کسی خاص مقصد کے ساتھ تشہیر کی جا رہی ہے
11:20سائنس میں ایک فیلڈ ہے
11:21جس میں کسی بھی تاریخ مقام کی
11:23ہسٹوریکل ایکاوسٹک تاریخی سواتیات
11:26کا مطالعہ کیا جاتا ہے
11:27اس تاریخی مقامات یا ماحول کی
11:29سواتیات کا مطالعہ کر کے
11:31محققین بعض اوقات اس بارے میں
11:33محتاط اندازہ لگا سکتے ہیں
11:34کہ ماضی میں ان جگہوں پر
11:35کیسی آوازیں آتی رہی ہوں گی
11:37پھر اس اندازے کے بنیاد پر
11:38جدید ٹیکنولوجی کا استعمال کر کے
11:40ان ماضی کی آوازوں سے ملتی جلتی آوازیں
11:43پیدا کی جاتی ہیں
11:43جو کہ پھر حقیقت ماضی کی آوازیں
11:45یا سواتی لہریں نہیں ہوتی
11:46بلکہ اس تاریخی مقام کے
11:48ماضی کی سواتیاتی پیٹن کے مطالعہ پر
11:50جنریٹ کی گئی جدید آوازیں
11:52یا سواتی لہریں ہوتی ہیں
11:54لہٰذا یہی ٹیکنولوجی
11:55موجودہ مذکورہ صورتحال میں
11:57بھی استعمال کی جا سکتی ہے
11:58اس سے زیادہ کوئی امکانات
12:01موجود نہیں
12:01چنانچہ اگر ایسا ہوتا
12:02تو یہ کہانت کا
12:04ایک نیا باب کھلے گا
12:05جو آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:07کی بیثت مبارکہ کے ساتھ
12:09بند ہو گیا تھا
12:10تاغوت امت مسلمہ کو
12:12ان سواتی لہروں کے بارے
12:13میں قائل کرے گا
12:14کہ نعوذ باللہ یہ آقا کریم
12:16صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:17کی آواز مبارک ہے
12:18اور پھر نعوذ باللہ
12:19ان سواتی لہروں میں
12:20مسلمانوں کو سیکڑو جھوٹ سنائے گا
12:21اور ان کو گمراہ کرنے میں
12:23اپنا حصہ ڈالے گا
12:23ناظرین
12:24بہرحال اگر
12:25ایک لمحے کے لیے
12:26امان بھی لیا جائے
12:27کہ آواز فنہ نہ ہو
12:28اور ریکارڈ بھی ممکن ہو
12:30تو بھی ایک ایسے ثابت ہوگا
12:31کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:45سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا خطبہ ریکارڈ کر لیں
12:48کہ سور صاف کی آیت
12:50یعنی میرے بعد
12:51ایک نبی آئے گا
12:52جس کا نام احمد
12:53محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے
12:55تاکہ سارے عیسائی
12:56حضور کا کلمہ پڑھیں
12:57ہم اس حجت الخطبہ ودا
12:59یعنی اپنی طرف سے بنایا ہوئے
13:00اس خطبے کی ضرورت نہیں
13:01کیونکہ الحمدللہ
13:03ہمارے پاس صحیح سنت کے ساتھ
13:04خطبہ حجت الودا
13:05حدیث کی صورت میں موجود ہے
13:06اور ہم حدیث کا ویسا ہی عدب کرتے ہیں
13:09جو آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
13:11زبان اقدس سے
13:12نکلی ہوئی آواز مبارک
13:14سماعت کرنے میں کرتے
13:16لہٰذا
13:17تمام دوستوں سے گزارش ہے
13:18کہ اس مسئلے کے بارے میں
13:19تمام مسلمانوں کو
13:20بازابتہ تعلیم دی جانی چاہیے
13:22کہ ان کو
13:23اس ممکنہ دجل سے بچائے جا سکے
13:25فتنہ اپنی پلاننگ صدیوں سے کر کے بیٹھا ہے
13:27جبکہ اپنے آپ کو
13:28رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
13:31علم نبوت کے وارث کہنے والے علماء
13:32بدقسمتی سے غیر سیاسی بن کے بیٹھیں
13:35اور غیر سیاسی ازہان جہالت کی
13:37اور غیر سیاسی ازہان جہالت کی
13:39آماجگہ کے سوا کچھ نہیں ہو سکتے
13:41جو آپ مسلمانوں کو
13:43ہر قسم کے نظریاتی شکاری کا آسان شکار بنا دیتے ہیں
13:46ناظرین یہاں آپ کو
13:47آخری دور کے فتنوں کے متعلق
13:49کچھ حادث سے مبارکہ سناتے چلیں
13:51رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
13:53جیسے عبادات معاملات
13:55اخلاق اور حسن معاشر سے متعلق تعلیم دی ہے
13:57اسی طرح فتنوں سے بھی آگاہ فرمایا ہے
14:00اور فتنے کے زمانے سے
14:02متعلق بہت ساری ربایات ہیں
14:03ہدایات ہیں
14:04اور یہ فتنے قرب قیامت میں
14:06اتنے بڑھ جائیں گے
14:07جیسے اندھیری رات کی تاریخی ہوتی ہے
14:09اور ان فتنوں کے مختلف ازباب ہوا کرتے ہیں
14:11فتنہ کسے کہتے ہیں
14:12اس کے مختلف مفہوم ذکر کیے گئے ہیں
14:16آزمائشوں کو بھی فتنہ کہتے ہیں
14:18امتحان مال و دولت کو بھی فتنہ کہا گیا ہے
14:20گمراہ کرنا اور گمراہ ہونا
14:21اس پر بھی فتنے کا اطلاق ہوتا ہے
14:23کسی چیز کو پسند کرنا
14:24اور اس پر فریفتہ ہو جانا یہ بھی فتنہ ہے
14:26لوگوں کی رائے میں
14:27نظریات میں اختلاف یہ بھی فتنہ ہے
14:29جس دور سے ہم گزر رہے ہیں
14:31اس دور میں تقریباً یہ ساری چیزیں پائی جا رہی ہیں
14:33اس لیے
14:33اسے بھی دور فتن کہنا بجا ہے
14:36اور نامعلوم کہ آئندہ مزید
14:37کیا کیا فتنے رونما ہوں گے
14:40ہماری ذمہ داری بنتی ہے
14:41کہ ہم ایسے مواقع پر
14:42رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو
14:45اپنانے والے بنیں
14:46آپ علیہ السلام کی ہدایت و تعلیمات کے مطابق
14:49اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کریں
14:51اور یہ ہدایت دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کریں
14:53جو عملی طور پر ان فتنوں کا شکار ہے
14:55ناظرین سب سے پہلے بات کرتے ہیں
14:57قیامت کی نشانیوں کے متعلق
14:59جو ہمیں آج کل کے حالات
15:01جو ہمیں آج کل کے حالات میں پوری ہوتی نظر آ رہی ہیں
15:04اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
15:07قیامت کے نشانات بتلاتے ہوئے فرمایا
15:10اونٹوں اور بکریوں کے چروائے جو برہنہ بدن
15:13اور ننگے پاؤں ہوں گے
15:14وہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے
15:16لمبی لمبی عمارتیں بنوائیں گے
15:17اور فخر کریں گے
15:18صحیح مسلم
15:19آج ریاض شہر میں عمارتوں کا یہ مقابلہ
15:22اپنے اروج پر پہنچ گیا
15:23دبائی میں برج خلیفہ کی عمارت
15:25دنیا کی سب سے اونچی عمارت بن گئی
15:27تو ساتھی شہزادہ ولید بن تلال نے
15:29جدہ میں اس سے بھی بڑی عمارت بنانے کا اعلان کر دیا ہے
15:32جو زیر تعمیر ہے
15:35عمارتیں سارے جہاں سے اونچی ہو چکی ہیں
15:36نبی معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو فرمایا
15:40وہ پورا ہو چکا ہے
15:41اور پیجگوئی پوری ہو کر
15:42اپنے کامال کو پہنچ چکی ہے
15:44عمارت کا سب سے زیادہ تیل خریدنے والے
15:46امریکہ نے صدام کو ختم کر کے
15:48تیل کی دولت سے سہراب ملک عراق کے
15:50کونوں پر قبضہ جمع لیا ہے
15:52اور لاکھوں بیرل مفت وصول کر رہا ہے
15:54تو پھر تیل کی بڑھتی مانگ نے
15:56تیل کی قیمتوں کو نچلی سطح پر پہنچا دیا
15:59جس سے عرب ممالکہ سنہرہ دور
16:01ختم ہونے کے قریب ہے
16:02سوال پیدا ہوتا ہے کہ زوال کے بعد کیا ہے
16:05اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
16:07ایک اور حدیث ہے
16:08کہ قیامت سے پہلے سرزمین عرب دوبارہ سرسبز ہو جائے گی
16:11سعودی عرب اور عمارات میں
16:13بارشیں شروع ہو چکی ہیں
16:14مکہ اور جدہ میں سہلاب آ چکے ہیں
16:16عرب سرزمین جسے پہلے ہی جدید
16:18تیکنولوجی کو کام ملا کر
16:20سرسبز بنانے کی کوشش کی گئی ہے
16:22وہ قدرتی موسم کی وجہ سے بھی سرسبز بننے جا رہی ہے
16:25سعودی عرب گندم میں پہلے ہی
16:26خود کفیل ہو چکا ہے
16:27اب وہاں خوشک پہاڑوں پر بارش کی وجہ سے
16:29سبزہ اگنا شروع ہو چکا ہے
16:31پہاڑ سرسبز ہونا شروع ہو گئے ہیں
16:33بارشوں کی وجہ سے آخرکار حکومت کو
16:35ڈیم بنانا ہوں گے
16:37جس سے پانی کی نہریں نکلیں گی
16:38جس سے پانی کی نہریں نکلیں گی
16:40ہریالی ہوگی
16:41سبزہ مزید ہوگا
16:42فصلیں لے لہائیں گی
16:43یوں یہ پیشگوئی بھی
16:45اپنے تکمیلی مراحل سے گزرنے جا رہی ہے
16:47اور جو میرے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
16:50اسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے جا رہے ہیں
16:52اگر حدیث پر غور کریں
16:54تو مشرق وستہ کے زبال کا آغاز
16:55ملک شام سے شروع ہوا
16:57لیکن شاید عرب حکمران
16:59یا تو یہود و نصارہ کی چال سمجھنا سکے
17:01یا بے رخی اختیار کی
17:04لیکن وجہ جو بھی ہو یا نہ ہو
17:06سرکار علیہ السلام کی بتلائی ہوئی علامات کو
17:09ظاہر ہونا ہی ہے
17:10ایک اور مقام پر
17:11رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
17:14جب اہل شام تباہی و بربادی کا شکار ہو جائیں
17:16تو پھر تم میں کوئی خیر باقی نہ رہے گی
17:19حیدیث مبارکہ کی روس شام
17:21اور اہل شام سے
17:22امت مسلم کا مستقبل وابستہ ہے
17:24اگر ملک شام ایسے ہی برباد ہوتا رہا
17:27تو پوری امت کی بھی خیر نہیں
17:28ویسے تو نوے فیصد برباد ہو چکا
17:31پچھلے کئی سالوں سے ہونے والی خون ریزی میں
17:33لاکھوں بے گناہ بچے بوڑھے
17:35عورتیں شہید
17:36اور لا تعداد دوسرے ملکوں کی سردوں پر
17:38زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں
17:41اور اتنی تعداد میں زخمی یا معذور ہو چکے ہیں
17:43لہذا شام مکمل تباہی کے بعد
17:46اب نزہ کی حالت میں
17:47اس حدیث کے حساب سے
17:49عرب ممالک کے سنہر دور کے خاتمے کی اہم وجہ
17:51ملک شام کے موجودہ حالات ہیں
17:54نبی علیہ السلام کی
17:55ایک اور پیشگوئی کی علامت ظاہر ہو رہی ہے
17:58یا ہو چکی ہے
17:59کہ ملک شام کے متعلق اسرائیل روس و امریکہ
18:02جو بھی جھوٹے بہانے بنائے
18:03لیکن ان سب کا اصل حدف جزیرت العرب ہے
18:06کیونکہ کفار کا قیدہ ہے
18:08کہ دجال مسیح ہے
18:09اس وجہ سے یہ لوگ دجال کی انتظامات مکمل کر رہے ہیں
18:12جس کے لئے عرب ممالک میدم استحکام پیدا کرنا ہے
18:15کیونکہ حضرت مہدی کے ظہور سے قبل
18:17یہود و نصارہ ملک شام پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں
18:20اور یہ ہو کر رہے گا
18:21آخری زمانے میں جب مسلمان ہر طرف سے مغلوب ہو جائیں گے
18:24مسلسل جنگیں ہوں گی
18:25شام میں بھی عیسائیوں کی حکومت قائم ہو جائے گی
18:28علماء اکرام بتاتے ہیں
18:29کہ سعودیہ مصر ترکی باقی نہ رہیں گے
18:32ہر جگہ کفار کے مظالم بڑھ جائیں گے
18:34امت آپس کی خانہ جنگی کا شکار رہے گی
18:36عرب خلیجی ممالک
18:38سعودی عرب وغیرہ میں بھی
18:39مسلمانوں کی باقاعدہ پر شوقت حکومت نہیں رہے گی
18:43خبیر الخبر
18:44سعودی عرب کا چھوٹا سا شہر
18:45مدینہ منورہ سے
18:47170 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے
18:49کہ قریب تک یہود و نصارہ پہنچ جائیں گے
18:51اور اس جگہ تک ان کی حکومت قائم ہو جائے گی
18:54بچے کچھے مسلمان مدینہ منورہ پہنچ جائیں گے
18:56اس وقت امام مہدی
18:58مدینہ منورہ میں ہوں گے
19:00دوسری طرف دریائے
19:01تبریہ بھی تیزی سے خوشک ہو رہا ہے
19:02جو کہ حضرت مہدی کے ظہور سے قبل خوشک ہوگا
19:05مشرق بستہ کے حالات کو خصوصاً مسلمانوں
19:08اور ساری دنیا کے حالات کو
19:09دیکھتے ہوئے صاف نظر آتا ہے
19:11کہ دنیا ہولناکیوں کی جانے بڑھ رہی ہے
19:13فرانس میں حملوں کے بعد
19:15فرانس اور یورپ بھی
19:16عالمی جنگ کی بات کر چکے ہیں
19:18سوال پیدا ہوتا ہے کہ
19:19اس عالمی جنگ کا مرکز
19:21کونسا خطہ ہوگا
19:22واضح نظر آ رہا ہے
19:23کہ مشرق بستہ ہی متوقع ہے
19:25یہاں بھی ہندوستان اور پاکستان کی بڑھتی رنجش ہیں
19:27اور کشمکش سے لگتا ہے
19:29کہ حالات غزوہ ہند کی طرف رکھ کر رہے ہیں
19:31کیونکہ حضرت ابو حریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
19:33کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
19:36میری قوم کا ایک لشکر وقت آخر کے نزدیک
19:39ہند پر چڑھائی کرے گا
19:40اور اللہ اس لشکر کو فتح نصیب کرے گا
19:42یہاں تک کہ وہ ہند کے حکمرانوں کو
19:44بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے
19:45اللہ اس لشکر کے تمام گناہ معاف فرما دے گا
19:48پھر وہ لشکر واپس رکھ کرے گا
19:49اور شام میں موجود حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے ساتھ مل جائے گا
19:54حضرت ابو حریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا
19:56اگر میں اس وقت تک زندہ رہا
19:57تو میں اپنا سب کچھ بیچ کر بھی
19:59اس لشکر کا حصہ بنوں گا
20:00اور پھر جب اللہ ہمیں فتح نصیب کرے گا
20:02تو میں ابو حریرہ جہنم کی آگ سے آزاد کہلاؤں گا
20:05پھر جب شام پہنچوں گا
20:07تو عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو تلاش کر کے
20:09انہیں بتاؤں گا
20:10کہ میں محمد علیہ السلام کا ساتھی رہا ہوں
20:12رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
20:15تبصم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا
20:17بہت مشکل
20:18ناظرین آنے والے عدوار بڑے پرفتن نظر آتے ہیں
20:21اور اس کے متعلق بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا
20:24کہ میری امت پر ایک دور ایسا آئے گا
20:26جس میں فتنیں اتنی تیزی سے آئیں گے
20:28جیسے تسبیح ٹوٹ جانے سے
20:30تسبیح کے دانے تیزی سے زمین کی طرف آتے ہیں
20:32لہٰذا اپنی نسلوں کی
20:33عویز تربیت اور ایمان کے فکر فرمائیے
20:35موبائل کا بیجا استعمال سے
20:37رات دیر تک جاگنے سے
20:39فیشن اور یہودی انداز
20:40اور یہودی انداز اپنانے سے
20:42نمازوں کو ترک کرنے سے روکیے
20:44ورنہ آزمائش کا مقابلہ دشوار ہو جائے گا
20:46ناظرین قرب قیامت میں اٹھنے والے فتنوں
20:49اور موجودہ حالات کے مطالق
20:50مزید آپ کو بتاتے چلیں
20:51کہ حضرت ابو حریرہ رضی اللہ عنہ ربایت کرتے ہیں
20:54کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
20:56جب محصولات کو ذاتی دولت
20:58امانت کو غنیمت
20:59اور زکاة کو تعوان سمجھ جانے لگے گا
21:01غیر دینی کاموں کے لئے علم حاصل کیا جائے گا
21:04مرد اپنی بی بی کی فرما برداری کرے گا
21:06اور اپنی ماں کی نافرمانی
21:07اپنے دوست کو قریب کرے گا
21:09اور باپ کو دور
21:10مسجدوں میں آوازیں بلند ہونے لگیں گی
21:12قبیلے کا بدکار شخص
21:13ان کا سردار بن بیٹھے گا
21:15زلیل آدمی قوم کا لیڈر
21:16یعنی حکمران بن جائے گا
21:18اور آدمی کی عزت محض
21:19اس کے شر سے بچنے کے لئے کی جائے گی
21:21گانے والی عورتیں
21:22اور گانے بجانے کا سامان عام ہو جائے گا
21:24کھولے عام اور کسرت سے شرابیں پی جانے لگیں گی
21:27اور بعد والے لوگ
21:28پہلے لوگوں کو لانتان سے یاد کریں گے
21:30اس وقت سرخ آندھی
21:32زلزلے
21:32زمین دھس جانے
21:33شکنیں بگڑ جانے
21:35آسمان سے پتھر برسنے
21:36اور ترہ ترہ کے لگتار
21:38عذابوں کا انتظار کرو
21:39یہ نشانیاں یکے بعد دیگریں
21:41یوں ظاہر ہوں گی
21:42جیسے کسی ہار کا دھاگہ ٹوٹ جانے سے
21:44گرتے موتیوں کا تاتہ بند جاتا ہے
21:46آقا علیہ السلام نے فرمایا
21:48حضرت ابو حریرہ رضی اللہ عنہ
21:50روایت کرتے ہیں کہ
21:52نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
21:54ایسا وقت آئے گا جب میری امت میں
21:56حکمران اور لیڈر
21:57محصولات یعنی ٹیکس کی جمع شدہ رقم کو
21:59اپنی ذاتی دولت سمجھ کر کھانے لگیں گے
22:01لوگ ٹیکس ہدا کریں گے
22:03خزانے میں ٹیکسی رقم جمع ہوگی
22:05مگر حکمران بددیانت غدار اور حرام خور ہوں گے
22:08جو اپنی قوم کی امانت کو
22:09اپنے ذاتی فائدے کے لیے ہڑپ کر جائیں گے
22:12آپ علیہ السلام نے فرمایا
22:14یعنی امانت کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹا جائے گا
22:17یہ امانت جو در حقیقت قوم کی ملکیت ہے
22:20آپ کا مال ہے
22:21اگر بات پاکستان کی ہو تو یہ
22:22اٹھارہ کروڑ عوام کی امانت ہے
22:24لیکن جب حکمران اقدار میں آتے ہیں
22:26تو اسے لوٹ مار کا مال سمجھ کر کھا جاتے ہیں
22:29اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
22:31یعنی لوگ زکاة کو تعوان سمجھ کر دینے سے کترائیں گے
22:34زکاة کو ایک بوجھ ایک مشکل قرار دیں گے
22:37اور کم سے کم زکاة ادا کرنے کی فکر میں رہیں گے
22:40آئیے
22:40میراقہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
22:43ہر لفظ کو غور سے سنیں اور اپنے دلوں میں جھانک کر
22:45اپنے معاشر کے حالات کا جائزہ لیں
22:47پندرہ سو سال پہلے کی کلمات ایسے محسوس ہوتے ہیں
22:50جیسے آج کا زمانہ آپ کے سامنے ہو
22:52آپ ہمارے حالات
22:53ہماری اخلاقی بگاڑ
22:55ہماری خیانت
22:56کرپشن
22:57لوٹ مار اور بے ایمانی کو دیکھ رہے ہوں
22:59یہ الفاظ میرے نہیں بلکہ آقا دوجہان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رشادات ہیں
23:03جو ہماری حالی تاریخ اور معاشرتی صورتحال کی اکاسی کرتے ہیں
23:07ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے عامال پر غور کریں
23:09اور اپنے قومی اساسے یعنی امانت کی حفاظت کے لیے
23:12دل سے سنجید کی اختیار کریں
23:14ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
23:16آخر میں آپ سے گزارش ہے کہ اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ وائرل کریں
23:19تاکہ امت ایک بڑے فتنے سے خود بھی محفوظ رہے
23:21اور اپنی آنے والی نسل کے ایمان کو بھی محفوظ کریں
23:24اللہ پاک ہم سب کو ایسے اور اس جیسے اور فتنوں سے بچائے
23:27آمین
23:28ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی
23:31اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہے
23:33تو آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ ہماری چینل کو ضرور سبسکرائب کر لیں
23:37اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
23:39تاکہ آپ کے پاس ہماری آنے والی مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹفیکشن بھر وقت ملتا رہے
23:44سبسکرائب کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
23:46اور اپنے قیمتی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں
23:48کمنٹس میں آپ اپنے سوالات بھی ہم تک پہنچا سکتے ہیں
23:51اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے
23:53آمین
Comments