Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Yazeed Ke Darbar Main Bibi Zainab Ka Rula Dene Wala Khutba! | Waqia Karbala Ki Haqeeqat | Noor TV

In this deeply moving and historically significant video from Noor TV, we recount the powerful and heart-wrenching sermon delivered by Bibi Zainab (S.A.), the courageous sister of Imam Hussain (R.A.), in the court of Yazeed. Titled 'Yazeed Ke Darbar Main Bibi Zainab Ka Rula Dene Wala Khutba,' this video brings to light one of the most pivotal moments after the tragedy of Karbala.

After witnessing the martyrdom of her beloved brother, Imam Hussain (R.A.), and other family members and companions, Bibi Zainab (S.A.) was brought as a captive to Damascus. In the presence of Yazeed, surrounded by his court, she delivered a sermon that exposed his tyranny, glorified the sacrifices of Karbala, and upheld the true message of Islam. Her words were so powerful that they shook the very foundations of Yazeed's false authority and left his court in awe, and in some cases, tears.

This video aims to highlight the extraordinary bravery, eloquence, and unwavering faith of Bibi Zainab (S.A.). Despite the immense grief and suffering she endured, she stood firm, embodying the spirit of Karbala and ensuring that the message of Imam Hussain's (R.A.) sacrifice would not be silenced. Her sermon served as a crucial turning point, transforming a seemingly defeated event into a timeless victory of truth over falsehood.

Join Noor TV as we revisit this defining moment in Islamic history. Her address is not just a historical account; it is a timeless lesson in standing up against injustice, speaking truth to power, and maintaining dignity in the face of immense adversity. This Muharram, let us draw inspiration from Bibi Zainab's (S.A.) unparalleled courage and dedication to upholding the principles of Islam. Share this video to spread awareness about her incredible legacy and the enduring message of Karbala."

Category

📚
Learning
Transcript
00:00
00:01
00:40
01:01
01:02
01:02
01:03
01:03
01:04
01:06
01:12
01:14ڈین اسلام کی بقا اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کا مثالی کردار
01:19ناظرین یہ بات تاریخ کے برق پر واضح دکھائی دیتی ہے
01:22کہ دین اسلام کی بقا امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب کی شہادت سے نصیب ہوئی
01:27اور اس مقصد کی تکمیل سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کی اسیری اور کوفہ و شام کی راہوں اور درباروں
01:33میں بلی خطبات دینے سے ممکن ہوئی
01:35امام حسین رضی اللہ عنہ کے اہداف کو مختلف مقامات پر خاص طور پر دربار یزید میں
01:40جب شہدائے کربلا کے کٹے سروں کے ساتھ محفل ترب و سرور سجائے گئی تھی
01:45اور اسلامی ملکوں کے نمائندوں اور سفرہ کو دعوت دی گئی تھی
01:48ان کے درمیان زمیر کو جگہ دینے والی بے نظیر خطبات کے ذریعے بیان کرنا
01:52اور بنو امیہ کی حکومت اور اس کے افکار کو زمانے بھر کے سامنے رسوا کر دینا
01:57یقیناً یہ دلیری اور شجاعت فقط اور فقط
02:00عقیلہ بن حاشم حضرت زینب رضی اللہ عنہ بن تعلی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی
02:06روایت بتاتی کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کو بچپنی سے
02:09امام حسین رضی اللہ عنہ سے اتنی محبت اور الفت تھی
02:12کہ ایک رات بھی بغیر بھائی کے سکون نہیں ملتا تھا
02:15جس کی دلیل حضرت علی رضی اللہ عنہ کا
02:17عبداللہ بن جعفر سے شادی کی پیشکش پر دو شرطوں کا رکھنا ہے
02:20ان شرطوں کو تاریخ کی کتب نے اس طرح ذکر کیا ہے
02:24نمبر ایک میری بیٹی زینب کبرا حسین سے بے حد محبت رکھتی ہے
02:28لہٰذا میں اس شد پر تمہارے عقد میں دوں گا
02:30کہ تم اسے چوبیس گھنٹے میں ایک بار ضرور
02:32حسین رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اجازت دوگے
02:35چونکہ زینب حسین رضی اللہ عنہ کو دیکھے بھی نہ
02:38ایک دن بھی نہیں رہ سکتی
02:39نمبر دو جب بھی امام حسین رضی اللہ عنہ سفر کریں
02:43اور زینب رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے جانا چاہیں
02:46تم زینب رضی اللہ عنہ کو نہیں رکھو گے
02:49اور حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ جانے کی اجازت دوگے
02:52ناظرین بہن بھائیوں کا اس قدر پیار اور محبت
02:54اور آشورہ کا دن بھائی کی لاش سامنے رکھی ہے
02:57اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کا امتحان و آزمائش شروع ہو گیا
03:01کتنا حوصلہ چاہیے اس امتحان سے گزرنے کے لیے
03:04اگر یہاں پر سیدہ ہمت ہار جاتی تو کربلا کے لق و دک سہرہ میں لکھی گئی
03:09داستان شجاعت و حریت کا علم کسی کو بھی یاد نہ ہوتا
03:12یقین نمام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے جان نسار ساتھیوں کی بے مثال
03:16قربانیاں رائے گاں چلی جاتیں
03:17اور آج ہر سو یزیدیت کا راج ہوتا
03:20دین کے شکل نہ جانے کیسی ہوتی
03:22جو بھی ہوتی وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لائے ہوا
03:26دین ہرگز نہ ہوتا
03:27ناظرین تاریخ گواہ ہے کہ
03:29سیدہ زینب رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر
03:32سب سے پہلے مخدراتِ اسمت
03:34اوطہارت پاک بیبیوں
03:36اور شہدہ کی بیوگان
03:38اور بچوں کی ہمت نہیں ٹوٹنے دی
03:39ان کے حوصلے بلند رکھے اور ان نے
03:42جلت خیام اور یزیدیوں کی لوٹ مار سے بچایا
03:44اس موقع پر سب سے اہم ترین کام
03:46امام زین العابدین رضی اللہ عنہ
03:48جو حالت بیماری میں خیمے میں موجود تھے
03:51ان کو شمر کے مظالم سے بچایا
03:52اور شمر کے سامنے ڈٹ گئیں
03:54اور یہ کہا کہ تمہیں میری لاج سے گزر کر جانا ہوگا
03:57اس طرح جلت خیام سے
03:58امام زین العابدین کو اٹھا لائیں
04:00اور امامت کے چراک کو بجھنے نہیں دیا
04:03تقوی اور دینداری کی یہ حالت تھی
04:05کہ اتنے سخت حالات میں بھی اپنے نماز شب کو نہیں بھولیں
04:07اور حالت سیری میں
04:08جب ہاتھ بندے ہوئے تھے
04:10اونٹوں پر سوار تھیں
04:11تو نماز کی ادائی کی ترک نہ کی
04:13اس طرح سب پر اہمیت نماز بھی واضح کر دی
04:15اور یہ بھی ثابت کر دیا
04:17کہ جنہیں باغی قرار دے کر شہید کیا گیا
04:19وہ اسلام کے اصل وارث تھے
04:21بازاروں اور درباروں میں
04:22سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کے خطابات
04:24ناظرین اسی طرح بازاروں اور درباروں میں دیئے گئے
04:27سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کے خطبات بھی
04:30تاریخ کے سنہر ابواب ہیں
04:31ان خطبات ہی نے اس صورتحال کو تبدیل کیا
04:34جو یزیدیوں نے اپنے حق میں بنائی تھی
04:36یہ خطبات کیا تھے
04:37ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے
04:39ہم سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کے مکمل
04:41خطبات بھی آگے چل کر بیان کریں گے
04:44البتہ یہاں پر حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے خطبات سے
04:47چند اختفاصات
04:48مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں
04:49روایات بتاتی ہیں کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہ
04:52عبیداللہ بن زیاد کے دربار میں یوں گویا ہوئیں
04:55خدا کا شکر ہے
04:56اس نے اپنے رسول کے ذریعہ ہمیں عزت بخشی
04:57اور گناہ سے دور رکھا
04:59رسوہ تو صرف فاسق ہوتے ہیں
05:01جھوٹ تو صرف تجھ جیسے
05:02ابن زیاد بدکار بولتے ہیں
05:04اسی طرح بازار کوفہ میں
05:06کوفیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا
05:07اے مکار غدار خائن کوفیوں
05:10خدا کبھی تمہارے آنسوں کو خشک نہ کرے
05:13تمہاری قسمت میں سوائے
05:14خدا کی ناراضگی اور عذاب دوزک کے سوا کچھ نہیں
05:17رو اور خوب رو
05:19چونکہ تمہارے نصیب میں صرف رونا ہی لکھا ہے
05:22زلت خواری
05:23زلت خواری تمہارا مقدر بن چکی ہے
05:25تم نے کام ہی ایسا کیا ہے
05:27کہ قریب ہے کہ آسمان زمین پر آ جائے
05:29زمین پھڑ جائے
05:30پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں
05:32اگر خدا کا عذاب ابھی تم پر نہیں آیا
05:34تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم محفوظ ہو
05:36خدا عذاب کو ہمیشہ پورا نہیں بھیجتا
05:39لیکن ایسا بھی نہیں ہے
05:40کہ مظلوم کو انصاف نہ دلائے
05:42موریخین نے لکھایا کہ
05:43سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کی فساحت و بلاغت
05:45اور لب و لہجہ کا یہ حال تھا
05:47کہ ہر کوفی حیران تھا
05:48کہ کیا علی رضی اللہ عنہ دوبارہ آ گئے ہیں
05:51باپ اور بیٹی کے درمیان
05:53ایسی فکری اور لسانی شباحت
05:55تاریخ پیش کرنے سے قاسر ہے
05:56یزید کے دربار میں سیدہ زینب کا
05:58بے مثال خطبہ
05:59ناظرین حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے
06:01یزید کے دربار میں دیئے گئے
06:03خطبے کا اقتباس ملاحظہ فرمائیے
06:05روایات بتاتی ہیں کہ
06:06یزید کے محفل میں
06:07جب حضرت زینب کبرا
06:08رضی اللہ عنہ کی نظر
06:10اپنے بھائی امام حسین
06:11رضی اللہ عنہ کے
06:12خون آلود سر پر پڑی
06:13تو آپ نے ایسی غمناک آواز میں فریاد کی
06:16جس سے سب لوگوں کے دل دہل گئے
06:18اے حسین
06:19اے محبوب رسول خدا
06:21اے مکہ و منہ کے بیٹے
06:23اے فاطمہ زہرہ
06:24سید النسال العالمین کے بیٹے
06:26اے محمد مصطفیٰ کی بیٹی کے بیٹے
06:29حضرت زینب کی سعواز پر
06:30وہ تمام لوگ رونے لگے
06:32جو یزید کے دربار میں بیٹے ہوئے تھے
06:34اور یزید اس طرح خاموش بیٹھا ہوا تھا
06:36جس طرح اس کو سامپ سون گیا ہو
06:38یزید نے خزران کی
06:39لکڑی لانے کا حکم دیا
06:41پھر یزید نے اس لکڑی کو
06:42امام حسین کے لبوں اور دانتوں پر لگایا
06:44رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی
06:47ابو برزہ اسلامی نے
06:49یزید کو مخاطب کر کے کہا
06:51اے یزید کیا تو اس چھڑی کو
06:52حسین فرزند فاطمہ کے دندان مبارک پر مار رہا ہے
06:56میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے
06:57کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:00حسین اور ان کے بھائی حسن کے لبوں
07:02اور دندان مبارک کو بوسا دیتے تھے
07:04اور فرماتے تھے
07:05تم دونوں جوانان جنت کے سردار ہو
07:08جو تمہیں قتل کرے
07:09خدا اس کو قتل کرے
07:10کہتے ہیں کہ یزید غصے سے چیخنے لگا
07:12اور حکم دے کے صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:15کو باہر نکال دو
07:16بعض روایت کے مطابق یہ صحابی رسول خود ہی
07:18محفل سے اٹھ کر چلے گئے
07:20روایات کے مطابق
07:21یزید اپنے غرور میں مست تھا
07:23اور یہ اشعار بلند آواز میں پڑھ رہا تھا
07:25جس کا ترجمہ یہ ہے
07:26کاش کہ میرے وہ بزرگ جو جنگ بدر میں قتل کر دیے گئے تھے
07:29وہ آج ہوتے اور دیکھتے کہ کس طرح
07:31قبیلہ خزرج
07:32نیزہ مارنے کے بجائے گریہ وزاری میں مشغول ہیں
07:35اس وقت وہ خوشی میں فریاد کرتے
07:37اور کہتے
07:38اے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ہوں
07:39یہ سنکہ حضرت زینب کبرہ رضی اللہ عنہ کھڑی ہو گئی
07:42اور یوں خطبہ ارشاد فرمایا
07:44سب تعریف ہے اس خدا کے لیے ہیں
07:46جو کائنات کا پروردگار ہے
07:48اور خدا کی رحمت نازل ہوں
07:50پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر
07:52اور ان کی پاکیزہ اطرت و اہل بیعت پر
07:55بلاخر ان لوگوں کا انجام برا ہے
07:58جنہوں نے اپنے دامن حیات کو
07:59برائیوں کی سیاہی سے داغدار کر کے
08:01اپنے خدا کی آیات کی تقزیب کی
08:03اور آیات پروردگار کا مزاق اڑایا
08:06اے یزید کیا تُو سمجھتا ہے
08:08کہ تُو نے ہم پر زمین کے گوشے
08:09اور آسمان کے کنارے مختلف طرح سے تنگ کر دیئے ہیں
08:12اور آلِ رسول کو رسیوں
08:14اور زنجیروں میں جکڑ کر
08:15در بدر پھرانے سے
08:16تُو خدا کی بارگاہ میں سر فراز ہوا
08:18اور ہم رسوہ ہوئے ہیں
08:19کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہو کر
08:21زلیل ہو گئے
08:21اور تُو ظالم بن کر سر بلند ہوا ہے
08:23کیا تُو سمجھتا ہے
08:24کہ ہم پر ظلم کر کے
08:26خدا کی بارگاہ میں تجھے
08:27شان و مقام حاصل ہو گیا ہے
08:29آج تُو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں
08:31سر مست ہے
08:32مسرط و شادمانی سے شرشار ہو کر
08:34اپنے غالب ہونے پر اترا رہا ہے
08:36اور زمامداری یعنی خلافت کے
08:38ہمارے مسلمہ حقوق کو غزب کر کے
08:40خوشی و سرور کا جشن منانے میں مشغول ہے
08:43اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو
08:45اور ہوش کی سانس لے
08:46کیا تُو نے خدا کا یہ فرمان بھولا دیا
08:48کہ حق کا انکار کرنے والے ہی خیال نہ کریں
08:51کہ ہم نے انہیں جو مولد دی ہے
08:52وہ ان کے لئے بہتر ہے
08:53بلکہ ہم نے انہیں اس لئے
08:55ڈھیل دے رکھی ہے
08:56کہ جی بھر کر اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں
08:58اور ان کے لئے خوف ناک عذاب
09:00موین کیا جا چکا ہے
09:02اے تلقا کے بیٹے
09:03کیا یہ تیرا انصاف ہے
09:05کہ تُو نے اپنی مستورات و لونڈیوں کی چادر
09:07اور چار دیواری کو تحفظ فراہم کر کے
09:09پردے میں بٹھا رکھا ہے
09:10جبکہ رسول زادیوں کو سر برہنہ دربدر پھیرا رہا ہے
09:14تُو نے مخدراتِ عصمت کی چادریں لوٹنی
09:16اور ان کے بے حرمتی کا مرتقب ہوا
09:18تیرے حکم پر عشقیہ نے
09:20رسول زادیوں کو بے نقاب کر کے
09:22شہر با شہر پھیرایا
09:23تیرے حکم پر دشمنانِ خدا
09:25اہلِ بیتِ رسول کی
09:26پاک دامن مستورات کو ننگے سر
09:28لوگوں کے حجوم میں لے آئے
09:29اور لوگ رسول زادیوں کے کھلے سر دیکھ کر
09:32ان کا مزاق بڑا رہے ہیں
09:33اور دور و نزدیک کے رہنے والے
09:35سب لوگ ان کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے ہیں
09:37ہر شریف و کمینے کی نگاہے
09:39ان پاک بیبیوں کے ننگے سروں پر جمع ہیں
09:41آج رسول زادیوں کے ساتھ
09:43ہمدردی کرنے والا کوئی نہیں ہے
09:45آج ان قیدی مستورات کے ساتھ
09:47ان کے مرد موجود نہیں ہیں
09:48جو ان کی سر پرستی کریں
09:50آج آلِ محمد کا موین و مددگار کوئی نہیں ہے
09:53اے یزید
09:54کیا تجھے شرم نہیں آتی
09:55کہ تُو اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرنے
09:58اور اتنے بڑے گناہ کو انجام دینے کے باوجود
10:00فخر و مباہات کرتا ہوا یہ کہہ رہا ہے
10:02کہ آج اگر میرے اجداد موجود ہوتے
10:04تو ان کے دل باغ باغ ہو جاتے
10:06اور مجھے دعائیں دیتے ہوئے کہتے
10:08کہ اے یزید تیرے ہاتھ شلنا ہو
10:10اے یزید کیا تجھے حیاء نہیں آتی
10:12کہ تُو جوانانِ جنت کے سردار
10:14حسین ابن علی کے دندانِ مبارک پر
10:16چھڑی مار کر ان کے بے عدبی کر رہا ہے
10:18اے یزید
10:19تُو کیوں خوش نہ ہو
10:20اور فخر و مباہات کے قصیدیں نہ پڑھے
10:22کیونکہ تُو نے اپنے ظلم و استبداد کے ذریعے
10:24فرزندِ رسولِ خدا
10:25اور عبد المطلب کے خاندانِ ستاروں کا خون بہا کر
10:28ہمارے دلوں کے زخموں کو گہرہ کر دیا ہے
10:30اور شجرہِ طیبہ کی جڑے کاٹنے کے
10:33گناہوں نے جرم کا مرتقب ہوا ہے
10:35تُو نے اولادِ رسول کے خون میں
10:37اپنے ہاتھ رنگین کیا ہے
10:38تُو نے عبد المطلب کے خاندان کے
10:39ان نوجوانوں کو تہہ تیک کیا
10:41جن کے عظمت و کردار کے درخشندہ ستارے
10:43زمین کے گوشے گوشے کو منبر کیے ہوئے ہیں
10:46آج تُو آلِ رسول کو قتل کر کے
10:48اپنے اسلاف کو پکار کر
10:49انہیں اپنی فتح کے گئے سنانے میں
10:51منہمک ہے
10:52تُو سمجھتا ہے کہ وہ تیری آواز سن رہے ہیں
10:54جلدی نہ کر
10:56انقریب تُو بھی ان کے ساتھ جا ملے گا
10:58اور اس وقت اپنی گفتار و کردار پر پشیمان ہو کر
11:01یہ عرضو کرے گا کہ کاش
11:02میرے ہاتھ شل ہو جاتے
11:03اور میری زبان بولنے سے آجیس ہو جاتی
11:05اور میں نے جو کچھ کیا
11:07اور کہا اسے باز رہتا
11:08اے ہمارے پروردگار
11:10تُو ہمارا حق ان ظالموں سے ہمیں دلا دے
11:13اور تُو ہمارے حق کا بدرہ ان سے لے
11:15اے پروردگار
11:16تُو ہی ان ستمگروں سے ہمارا انتقام لے
11:18اور اے خدا
11:19تُو ہی ان پر اپنا غضب نازل فرما
11:21جس نے ہمارا عزیزوں کو خون میں نہلایا
11:24اور ہمارے مددگاروں کو تہہ تیخ کر دیا
11:26اے یزید خدا کی قسم
11:28تُو نے جو ظلم کیا ہے
11:29یہ اپنے ساتھ ظلم کیا ہے
11:31تُو نے کسی کی نہیں بلکہ اپنی ہی کھال
11:33چاک کی ہے
11:34اور تُو نے کسی کا نہیں بلکہ
11:35اپنا ہی گوشت کاٹا ہے
11:37تُو رسولِ خدا کے سامنے
11:38ایک مجرم کی صورت میں لائے جائے گا
11:40اور تُو سے تیرے
11:41اس گھناؤنے جرم کی باز پرس ہوگی
11:43کہ تُو نے اولادِ رسول کا خون نہاک کیوں بہایا
11:46اور رسول زادیوں کو کیوں دربدر پھرایا
11:48نیز رسول کے جگر پاروں کے ساتھ
11:50ظلم کیوں ربا رکھا
11:51اے یزید یاد رکھ
11:53کہ خدا آلِ رسول کا تُو سے انتقام لے کر
11:56ان مظلوموں کا حق انہیں دلائے گا
11:57اور انہیں امن و سکون کی نعمت سے مالا مال کر دے گا
12:00خدا کا فرمان ہے
12:01کہ تم گمان نہ کرو
12:02کہ جو لوگ راہِ خدا میں مارے گئے وہ مر چکے ہیں
12:04بلکہ وہ ہمیشہ کے زندگی پا گئے
12:06اور بارگاہِ الہی میں روزی پا رہے ہیں
12:08اے یزید یاد رکھ
12:10کہ تُو نے جو ظلم آلِ محمد پر ڈھائے ہیں
12:12اس پر رسولِ خدا
12:13عدالتِ الہی میں تیرے خلاف شکایت کریں گے
12:16اور جبریل امین آلِ رسول کی گواہی دیں گے
12:18پھر خدا اپنے عدل و انصاف کے ذریعے
12:20تجھے سخت عذاب میں مبتلا کرے گا
12:22اور یہی بات تیرے برے انجام کے لئے کافی ہے
12:25انقریب وہ لوگ بھی اپنا انجام کو پہنچیں گے
12:27جنہوں نے تیرے لئے ظلم و استبداد کی بنیادیں مضبوط کی
12:30اور تیری آمرانہ سلطنت کی بسات بچھا کر
12:33تجھے اہلِ اسلام پر مسلط کر دیا
12:35ان لوگوں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا
12:37کہ ستمگروں کا انجام برا ہوتا ہے
12:39اور کس کے ساتھ ہی ناتوانی کے شکار ہیں
12:41اے یزید یہ گردش ایام اور حبادی سے روزگار کا اثر ہے
12:45کہ مجھے تجھ جیسے بدنہاد برے انسان سے ہم کلام ہونا پڑا
12:49اور میں تجھ جیسے ظالم و ستمگر سے گفتگو کر رہی ہوں
12:52لیکن یاد رکھ میری نظر میں
12:54تو ایک نہایت پست اور گھٹیا شخص ہے
12:56جس سے کلام کرنا بھی شریفوں کی توہین ہے
12:58میرے اس جرت سخن پر
13:00تو مجھے اپنے ظلم کا نشانہ ہی کیوں نہ بنا دے
13:02لیکن میں اسے ایک عظیم امتحان اور آزمائش سمجھتے ہوئے
13:05سب روستقامت اختیار کروں گی
13:07اور تیری بدکلامی بدسلو کی
13:09میرے عظم استقامت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی
13:12اے یزید ہماری آنکھیں عشقبار ہیں
13:14اور سینوں میں آتش غم کے شولے بھڑک رہے ہیں
13:17افسوس تو اس بات پر ہے
13:19کہ شیطان کے ہم نبا اور بدنام لوگوں نے
13:21رحمان کے سپاہیوں اور پاک باز لوگوں کو تہوتیق کر ڈالا
13:25اور ابھی تک اس شیطانی ٹولے کے ہاتھوں سے
13:27ہمارے پاک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں
13:30ان کے ناپاک دہن ہمارا گوشت چبانے میں مصروف ہیں
13:33اور سہرہ کے بھیڑیے ان پاک باز شہیدوں کی
13:36مظلوم لاشوں کے ارد گرد گھوم رہے ہیں
13:38اور جنگل کے نجس درندے
13:39ان پاکیزہ جسموں کی بے حرمتی کر رہے ہیں
13:42اے یزید اگر آج تو ہماری مظلومیت پر خوش ہو رہا ہے
13:46اور اسے اپنے دل کی تسکین کا باعث سمجھ رہا ہے
13:48تو یاد رکھ جب قیامت کے دن
13:50اپنی بد کرداری کی سزا پائے گا
13:52تو اس کا برداشت کرنا تیرے بس سے باہر ہوگا
13:54خدا عادل ہے اور وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا
13:57ہم اپنے مظلومیت اپنے خدا کے سامنے پیش کرتے ہیں
14:00اور ہر حال میں اسی کی انعیات
14:02اور عدل انصاف پر ہمارا بھروسہ ہے
14:04اے یزید تو جتنا چاہے مکرو فریب کر لے
14:06اور بھرپور کوشش کر کے دیکھ لے
14:08مگر تجھے معلوم ہونا چاہیے
14:10کہ نہ تو ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹا سکتا ہے
14:12اور نہ ہی وہی یہ الہی کے پاکیزہ
14:15آسار مہف کر سکتا ہے
14:16تو یہ خام خیال اپنے دل سے نکال دے
14:19کہ ظاہر سازی کے ذریعے
14:20ہماری شان و شوکت کی منزل کو پا لے گا
14:22تو نے جس گھناوں نے جرم کا ارتکاد کیا ہے
14:24اس کا بدنما داغ اپنے دامن سے نہیں دھو پائے گا
14:27تیرے نظریہ نہائیت کمزور اور گھٹیا ہے
14:29تیری حکومت میں گنتی کے چند دن باقی ہیں
14:31تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑ دیں گے
14:34تیرے پاس اس دن کی حسرت و پریشانی کے سوا
14:36کچھ نہیں بچے گا
14:37جب منادی ندا کرے گا
14:39کہ ظالم و ستمگر لوگوں کے لیے خدا کی لانت ہے
14:42ہم خدا قدوس کی بارگاہ میں سپاس گزار ہیں
14:44کہ ہمارے خاندان کے پہلے فرد
14:46حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
14:49سعادت و مغفرت سے بہرمند فرما
14:52اور امام حسین کو شہادت و رحمت کی نعمتوں سے نواز
14:55ہم بارگاہے ایزدی میں دعا کرتے ہیں
14:57کہ وہ ہمارے شہیدوں کے سواب و عجر میں اضافہ
14:59اور تکمیل فرمائے
15:01اور ہمیں باقی سب افراد کو
15:02اپنی انعائتوں سے نوازے
15:04بے شک خدا ہی رحم و رحمت کرنے والا ہے
15:06اور حقیقی معنوں میں مہربان ہے
15:08خدا کی انعائتوں کے سوا
15:10ہمیں کچھ مطلوب نہیں
15:11اور ہمیں صرف اور صرف
15:12اسی کی ذات پر بھروسہ ہے
15:14اس لیے کہ اس سے بہتر کوئی سہارہ نہیں
15:17ناظرین یہ تھا وہ خطبہ جو سیدہ
15:19زینب رضی اللہ عنہ نے
15:20یزید کے دربار میں دیا
15:21یاد رہے کہ مختلف روایات میں
15:23اس خطبے کے الفاظ مختلف نقل کیے گئے ہیں
15:26البتہ یہ بات تو واضح ہے
15:27کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہ نے
15:29یزید کے دربار میں بھی
15:31اور اس کے علاوہ بھی
15:32کئی مقامات پر خطبات فرمائے ہیں
15:33اور ان خطبات نے
15:34تاریخ میں جو نقوص چھوڑے ہیں
15:36ان کا انکار نہیں کیا جا سکتا
15:37بلکہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے
15:39کہ ان خطبات نے
15:40واقع کربلا کی تکمیل کی ہے
15:41اور حضرت امام حسین
15:43رضی اللہ عنہ کے موقف
15:45اور مقصد کا پرچار فرمایا ہے
15:46سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کا
15:48مثالی کردار
15:49اور تحریک کربلا کی پختگی
15:51ناظرین یاد رکھیں
15:52تاریخ کربلا میں
15:53ہر ہر قدم پر
15:54حضرت زینب رضی اللہ عنہ کا
15:56مثالی کردار موجود ہے
15:57چاہے وہ بھائی کی
15:58آخری رخصت و جدائی کا
16:00دلخراش منظر ہو
16:01یا اثر آشور کی
16:03تنہائی و بیبسی کی روداد ہو
16:04یا ظلم کے دربار میں
16:06حق و حقیقت کے دفاع کا
16:07مرحلہ ہو
16:08آپ رضی اللہ عنہ
16:09بے مثال شخصیت
16:11تاریخ کے ہر دور
16:12اور زمانے کے لیے
16:13نمونہ و اسواہ ہے
16:14آپ رضی اللہ عنہ کی سیرت پر
16:16مختصر روشنی ڈالتے ہیں
16:18یاد رکھے
16:19سیدہ زینب رضی اللہ عنہ
16:20نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:22کی لخت جگر
16:23حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ
16:24کی آگوش میں پلی ہیں
16:26اور پیغمبر اسلام
16:27صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:29اور حضرت علی رضی اللہ عنہ
16:30جیسی الہی و آسمانی ہستیوں کے
16:33دامان فضیلت میں پروان چڑھی ہیں
16:35علم و عبادت
16:36عفت و تقوی
16:37فصحت و بلاغت
16:38ثابت قدمی
16:39حق کا مخلصانہ دفع
16:40عزت نفس
16:41اور وفاداری
16:42آپ رضی اللہ عنہ کے
16:43نمائع صفات و کمالات میں شامل ہیں
16:45حضرت زینب رضی اللہ عنہ
16:47وہ پاکیزہ صیرت خاتون ہیں
16:48جو اپنے والد
16:49حضرت علی اور اپنی والدہ
16:51حضرت فاطمہ توزہرہ رضی اللہ عنہ کی
16:53صیرت و گفتار پر
16:54صدق دل سے ایمان رکھتی تھی
16:55اور اخلاق و آدام میں
16:57مہربان
16:58صادق
16:58اور محضب و مودب خاتون تھی
17:00وہ دوسروں کی جان کی حفاظت کے لیے
17:02اپنی جان کو خطروں میں ڈال دیا کرتی تھی
17:05اور تمام میدانوں میں
17:06دوسروں کو
17:07خود پر مقدم رکھتی تھی
17:09مارکہ کربلا میں
17:10آپ حد و لمکان
17:11اپنے حصے کا پانی بھی نوچ نہیں فرماتی تھی
17:13بلکہ بچوں کو پلا دیا کرتی تھی
17:15ایسے بہرانی حالات
17:16و مسائب و آلام کے ماحول میں
17:17جہاں ہر انسان کے قدم
17:19متزلزل ہو جائے کرتے ہیں
17:20سیدہ زینب رضی اللہ عنہ ثابت قدم رہیں
17:23ظالموں اور جابروں سے
17:24ڈٹ کر مقابلہ کیا
17:26اور موقع و محل کے مطابق
17:28گون اگون حالات میں
17:29بہترین کردار کا مظاہرہ کیا
17:31آپ نے کبھی دشمن کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
17:33اپنے عظیم خطبوں کے بار سے
17:35ان کے دلوں پر کاری ضربے لگائیں
17:36تو کبھی غمزدہ بی بیوں
17:38اور بچوں کی تسکین کے لیے
17:39نرب و مہربان مشفقانہ
17:41لہجے میں دل جوئی کی
17:42اور امام وقت
17:43سید سجاد کی جان کی حفاظت کرتے ہوئے
17:45انہیں جلتے ہوئے شولوں سے نکال کر
17:47امام حسین رضی اللہ عنہ کے بعد
17:49حسین انقلاب کی قیادت پاسبانی کے
17:51فرائض ادا کیے
17:52اور ایسے خطرناک مراحل میں
17:54صرف خداوند عالم سے مدد طلب کی
17:56آپ نے کربلا سے کوفہ
17:58اور کوفہ سے شام کے سفر کے دوران
18:00ظالم و جابر ستمگروں کے دربار
18:02اور لوگوں کے حجوم میں
18:03اپنے حقیمانہ خطبوں اور تقریروں سے
18:05کربلا کے انقلاب کو
18:07حیات نو عطا کی
18:08خطبوں اور تقریروں کی فصاحت و بلاغت
18:10آپ کے علم و کمال کے ساتھ
18:12دیگر شخصی خصوصیتوں کی بھی اکاسی کرتی ہے
18:14خطابت کے علاوہ
18:16آپ کی ایک نمائی خصوصیت یہ بھی تھی
18:17کہ آپ نے جگہ جگہ
18:19وقت و حالات کے مطابق
18:20بالکل صحیح و بجا مستحقام فیصلے کیے ہیں
18:22ناظرین صیرت نگاہ لکھتے ہیں
18:24کہ حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہ
18:26اس بات سے بخوبی واقف تھیں
18:27کہ کہاں پر نرم لہجے میں گفتگو کرنا ہے
18:29اور کہاں جوش و خروش کے ساتھ
18:31ہماسہ آفری تقریر کرنا ہے
18:33آپ رضی اللہ عنہ کے ان خطبوں
18:35اور تقریروں میں آپ کی عظمت و شہامت
18:37قوت ایمان اور
18:39ثبات و استقامت کے جوہر نمائی ہیں
18:41ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں
18:43کہ سیری کے بعد حضرت زینب
18:44دیگر اہل حرم کے ساتھ
18:46کوفہ و شام کے دربار میں
18:47ابن زیاد اور یزید پلید کے سامنے لائی گئیں
18:50تو آپ نے بے مثال خطبے پیش کیے
18:52یہ خطبے ایسے حالات میں دیئے گئے
18:54جب اہل بیعت یزیدیوں کے
18:55ذرخلید غلاموں کی قید میں
18:57عذیتوں کے سخت دور سے گزر رہے تھے
18:59اور دشمن اپنی پوری طاقت و طوانائی صرف کر کے
19:02اپنے زوم ناقص میں
19:03انہیں ماز اللہ ظلیل اخوار کرنا چاہتے تھے
19:05لیکن حضرت زینب رضی اللہ عنہ نے
19:07اپنی شولہ بار تقریروں سے
19:09ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا
19:11اور ان کی نیندیں حرام کر دیں
19:12یہ خطبے اور تقریریں
19:14اس بات کے اکاسی کرتی ہیں
19:15کہ تمام مسائب و علام
19:17حضرت زینب کے پائے ثبات کو
19:18متزلزل کرنے میں ناتما تھے
19:20ایسے سخت حالات میں
19:22ایک دل شکستہ و غمگین خاتون کے ذریعے دیئے گئے
19:24عظیم خطبے اور تقریریں
19:26مخصوص الہی امداد کے بغیر ممکن نہ تھی
19:28اور یہ چیز حضرت زینب کی کرامات میں
19:30شمار ہوتی ہیں
19:31ناظرین سیرت نگار لکھتے ہیں
19:33کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہ
19:34خوبصورت تھی اور خوبصورت بھی
19:37جب سنہیں بلوغت کو پہنچیں
19:38تو بہت سے نوجمان شادی کے خواہش منتے ہیں
19:40لیکن سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے
19:43ان کے لئے اپنے شہید بھائی
19:45اور جنگ موتا کے ہیرو
19:46حضرت جعفر تیار رضی اللہ عنہ کے
19:48سعادت من صاحب زادے
19:50عبداللہ بن جعفر کو منتخب فرمایا
19:52حضرت جعفر کی شہادت کے بعد
19:54ان کے بچوں کی تربیت و پرورش
19:55آن حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:57نے خود فرمائی تھی
19:58اور آپ کی وفات کے بعد
20:00یہ ذمہ داری
20:01حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سمع لی
20:03حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ
20:04اپنے والد کی طرح
20:05اعلی صفات اور پاکیز اخلاق کے مالک تھے
20:08حضرت زینب رضی اللہ عنہ کا
20:10بچپن فقر و غنہ میں گزرا تھا
20:12گھر میں تنگ دستی کا راج تھا
20:13لیکن جب شہر کے گھر آئیں
20:15تو مال و دولت کی فراوانی دیکھی
20:16کیونکہ حضرت عبداللہ کا شمار
20:18مدینہ کے امیر ترین تاجروں میں ہوتا تھا
20:20روایات بتاتی ہیں کہ
20:21سیدنا علی المرتضی نے
20:28ان کا نکاح مسجد نبوی میں
20:29نہایت سادگی سے پڑھایا
20:31سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
20:33جس نکاح کی محفل میں تشریف فرما تھے
20:35کہنا تھا کہ ایک مثالی مسلمان جوڑے کا نکاح تھا
20:38حضرت عبداللہ اکثر فرماتے تھے
20:40کہ میں نے خاتون خانہ میں
20:41زینب رضی اللہ عنہ سے بہتر
20:43کوئی عورت نہیں دیکھی
20:44اللہ تعالی نے انہیں چار صاحبزادے
20:46آن، محمد، علی، عباس
20:48اور ایک صاحبزادی کلسو مطاف فرمائی
20:51آن اور محمد نے
20:52اپنے مامو کے ساتھ میدان کربلا میں شہادت پائی
20:54ناظرین جہاں تک بات ہے
20:56سیدنا زینب رضی اللہ عنہ کی وفات کی
20:58تو مورخین لکھنے کے واقع کربلا کے کچھ عرصے بعد
21:01مدینہ منورہ میں قیام کے بعد
21:02حضرت زینب رضی اللہ عنہ
21:04اپنے شہر اور بچوں کے ساتھ شام چلی گئیں
21:0663 ہجری میں دمشق میں ان کا انتقال ہوا
21:08دمشق میں حضرت زینب رضی اللہ عنہ کا
21:10شاندار مقبرہ آج بھی شام کربلا کا امین ہے
21:13جبکہ یزید اور قاتلان کربلا
21:15عبرت کا نشان بن چکے ہیں
21:16ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
21:18کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں
21:20اور بتائیں کہ آپ اگلی ویڈیو
21:22کون سے اسلامیک ٹاپک پر دیکھنا چاہتے ہیں
21:24آپ کی قیمتی رائے ہمارے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے
21:27اور جانے سے پہلے
21:28ویڈیو کو شیئر ضرور کیجئے
21:30ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
21:32ضرور پسند آئی ہوگی
21:33اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہے
21:35تو اسے لائک کریں
21:36آخر میں لوگوں سے ایک بار پھر درخواست ہے
21:38کہ ہمارے چینل مسلم ایٹرز ٹی وی کو ضرور سبسکرائب کر لیں
21:41جنہوں نے ابھی تک ہمارے چینل کو سبسکرائب نہیں کیا
21:44سبسکرائب کے ساتھ لگی
21:45گھنٹی کے بٹن کو بھی ضرور کلک کریں
21:47تاکہ آپ کو ہماری آنے والی
21:49مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹفیکشن
21:51بروقت ملتا رہے
21:52اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظ امان میں رکھے
21:54آمین
Comments

Recommended