Skip to playerSkip to main content
  • 1 week ago
Is Video Mein Hum Middle East Ke Maujooda Halaat, Israel Iran Tanazay Aur Masjid Al-Aqsa Se Mutaliq Un Pehluon Par Baat Kar Rahe Hain Jo Aksar Media Mein Mukammal Taur Par Samne Nahin Aate. Yeh Video Tareekh, Maujooda Geopolitics Aur Mukhtalif Tajziyon Ki Roshni Mein Yeh Samajhne Ki Koshish Karti Hai Ke Aakhir Israel Iran Tanaza Kis Simt Ja Raha Hai Aur Is Ka Masjid Al-Aqsa Par Kya Asar Par Sakta Hai.

Is Video Ka Maqsad Kisi Bhi Qaum Ya Mazhab Ke Khilaf Nafrat Phelana Nahin Balkay Maujooda Siyasi Aur Tareekhi Pehluon Ko Samajhna Hai. Hum Yeh Bhi Dekhenge Ke Kis Tarah Middle East Mein Barhti Hui Tension Poori Duniya Ki Siyasat Aur Security Ko Mutasir Kar Sakti Hai.

Is video mein aap dekhenge Masjid Al Aqsa ke bare mein nayi developments aur Israel ke naye plan ki tafseel. Duniya bhar ke reactions aur Muslim world ki situation bhi cover ki gayi hai Is Video Mein Hum Middle East Ke Maujooda Halaat, Israel Iran Tanazay Aur Masjid Al-Aqsa Se Mutaliq Un Pehluon Par Baat Kar Rahe Hain Jo Aksar Media Mein Mukammal Taur Par Samne Nahin Aate. Yeh Video Tareekh, Maujooda Geopolitics Aur Mukhtalif Tajziyon Ki Roshni Mein Yeh Samajhne Ki Koshish Karti Hai Ke Aakhir Israel Iran Tanaza Kis Simt Ja Raha Hai Aur Is Ka Masjid Al-Aqsa Par Kya Asar Par Sakta Hai.

Is Video Ka Maqsad Kisi Bhi Qaum Ya Mazhab Ke Khilaf Nafrat Phelana Nahin Balkay Maujooda Siyasi Aur Tareekhi Pehluon Ko Samajhna Hai. Hum Yeh Bhi Dekhenge Ke Kis Tarah Middle East Mein Barhti Hui Tension Poori Duniya Ki Siyasat Aur Security Ko Mutasir Kar Sakti Hai.

Agar Aap Middle East News, Israel Iran Conflict, Masjid Al-Aqsa Updates Aur Geopolitical Analysis Mein Dilchaspi Rakhte Hain To Is Video Ko Poori Tawajjo Se Dekhiye. Apni Rai Comment Mein Zaroor Share Karein Aur Channel Ko Subscribe Karna Na Bhoolein.

Category

📚
Learning
Transcript
00:02Bismillah ar-Rahman ar-Rahim
00:30ایران اور امریکہ اور اسرائیل کی جنگ دیکھتے ہیں
00:31تو آپ کے ذہن میں پوری طور پر یہ سوال اٹھتا ہے
00:34کہ آخری سب کیوں ہو رہا ہے
00:35کیا یہ سب صرف تیل کی سیاست ہے
00:37یا کیا یہ صرف علاقہ تسلط کی جنگ ہے
00:40کیا یہ محض طاقت اور ملکوں کی کمزور ملکوں کو دبانے کی کوشش ہے
00:43یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور
00:45کہیں زیادہ گہری اور اہم حقیقت چھپی ہوئی ہے
00:48جس ہم دیکھنے سے قاصر ہیں
00:49آج کے اس ویڈیو میں ہم اسی سوال کا جواب ڈھونیں گے
00:52لیکن محض جذباتی ناروں سے نہیں
00:54بلکہ حقائق تاریخ اور تینوں
00:56ابراہی مذاہب کی تعلیمات کی روشنی میں
00:58اور یاد رہے کہ یہ تجزیہ کسی
01:00ایک قوم یا ملک کے خلاف نہیں
01:02بلکہ حق اور باطل کی اس
01:04عبدی کشمکش کو سمجھنے کی کوشش ہے
01:06جو شروع سے چلی آ رہی ہے
01:07اور جس کا ذکر ہر آسمانی کتاب میں موجود ہے
01:10سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے
01:12کہ یہ جنگ دراصل ہے کیا
01:13اور اس کے اصل محورکات کیا ہیں
01:15بظاہر یہ تین ملکوں
01:16یہ تین طاقتوں کے درمیان کشمکش لگتی ہے
01:18ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کی
01:20متحدہ طاقت ہے
01:22اور دوسری طرف ایران اکیلہ کھڑا ہے
01:24لیکن اگر آپ گہری نظر سے دیکھیں
01:25تاریخ کے اوراک پلٹیں
01:27اور محضبی تعلیمات کا مطالعہ کریں
01:29تو آپ کو اندازہ ہوگا
01:30کہ یہ محض دو حکومتوں کی رڑائی جھگڑا نہیں
01:32ایک نظریاتی روحانی
01:33اور تہذیبی جنگی جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے
01:36اور جس کا ذکر آسمانی کتابوں میں موجود ہے
01:38آپ نے اقصد دیکھا ہوگا
01:39کہ ہم مسلمان اپنے آپ کو شیعہ
01:41اور سننی کی اینک سے دیکھتے ہیں
01:42یہ ہماری سب سے بڑی اور سب سے خطرناک کمزوری ہے
01:45لیکن جو لوگ ہمارے خلاف صف آ رہا ہیں
01:47جو ہمارے خلاف منصوبے بنا رہے ہیں
01:49اور جو ہمیں کمزور کرنا چاہتے ہیں وہ
01:51ہمیں شیعہ سننی نہیں دیکھتے
01:52ان کے نزدیک ہم صرف مسلمان ہیں
01:54یعنی ایک ایسی قوم جو ان کی راہ میں رکاوٹ ہے
01:56جو ان کے شیطانی نظام کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے
01:59اور جو اللہ کے احکام کو
02:01اپنی زندگی کا مہور بنانا چاہتی ہے
02:03سوچنے کی بات یہ ہے
02:04کہ جب دشمن ہمیں ایک سمجھتا ہے
02:06تو ہم خود اپنے اندر تقسیم کیوں رہتے ہیں
02:08یہ سوال آج کے وقت میں
02:10بہت اہام اور اس کا جواب ہمیں تلاش کرنا چاہیے
02:12اب بات ہے اس بنیادی سوال کی طرف کے
02:14آخر مسلمانوں کا وجود
02:15ان طاقتوں کے لیے تنا بڑا مسئلہ کیوں ہیں
02:17اس کی کئی وجوہات ہیں
02:18اور وہ سب آپس میں گہرے طور پر جڑے ہوئی ہیں
02:21پہلی بات یہ کہ اسلامی تعلیمات
02:23ایک مضبوط اور مکمل اخلاقی نظام پیش کرتی ہے
02:25جو سود پر مبنی معاشی دھانچے کو تسلیم نہیں کرتی
02:28دنیا کا موجودہ مالیاتی نظام
02:30سود کی بنیاد پر کھڑا ہے
02:31اور اسلام اسے سریحن حرام قرار دیتا ہے
02:33جب تک ایک بڑی مسلمان آبادی موجود ہے
02:36جس نظام کو چیلنج کرتی ہے
02:37اس وقت تک یہ نظام اپنی جڑے مضبوط نہیں کر سکتا
02:40یہ ایک معاشی مسئلہ ہے
02:42جو براہ راست سیاسی اور عسکری فیصلوں کو متاثر کرتا ہے
02:45دوسری وجہ یہ ہے کہ اسلام
02:46ایک ایسا مکمل ذابطہ حیات ہے
02:48جو معاشرے میں بے حیائی ظلم
02:50اور کمزوروں پر زیادتی کے خلاف سختی سے کھڑا ہوتا ہے
02:53اسلامی معاشرہ بچوں کے تحفظ کو فرص قرار دیتا ہے
02:56مظلوم کی حمایت کا عبادت سمجھتا ہے
02:58اور نائنصافی کے خلاف آواز اٹھانا
03:00ایک مومن کے ذمہ داری بتاتا ہے
03:02جب دنیا میں ایسی آبادیاں موجود ہوں
03:04جو ان برائیوں کو نہ صرف مسترد کرتی ہوں
03:06بلکہ ان کے خلاف آواز بھی اٹھاتی ہوں
03:08تو جو لوگ ان برائیوں کو عام کرنا چاہتے ہیں
03:11انہیں یہ آبادی ایک بڑی رکاوٹ لگتی ہے
03:13تیسری اور سب سے اہم وجہ
03:15مذہبی پیشگوئیاں ہیں
03:16اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر ہمیں
03:18سب سے زیادہ غور کرنا چاہیے
03:20کیونکہ اس کو سمجھے بغیر موجودہ واقعات کو سمجھنا ممکن نہیں
03:23تینوں ابراہیمی مذہب
03:24یعنی اسلام، عیسائیت اور یہودیت
03:26تینوں میں ایک بڑی عالمگیر آزمائش اور زبردست
03:28تبدیلی کا ذکر موجود ہے
03:29مسلمان اسے ملحمت القبرہ کہتے ہیں
03:32یعنی وہ سب سے بڑی جنگ
03:33جو آخری زمانے میں ہوگی
03:34اور جس کے بعد دنیا کا نقشہ مکمل طور پر بدل جائے گا
03:37عیسائیت اور یہودیت میں اسی واقعے کو
03:39آر میگڈن کہا جاتا ہے
03:41یہ نام بائبل کے کتاب مکاشفہ میں آیا ہے
03:43اور اس میں اچھائی اور برائی کی آخری
03:45اور فیصلہ کن لڑائی کا ذکر ہے
03:47لیکن یہاں ایک بہت اہم فرق ہے
03:49جسے سمجھنا ضروری ہے
03:50مسلمان اور مسیحی دونوں یقین رکھتے ہیں
03:52کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
03:53آخری زمانے میں واپس تشریف لائیں گے
03:56اور حق و باطل کا فیصلہ کریں گے
03:57تاہم یہودی روایات میں
03:59اس آنے والی شخصیت کو اپنا مسیحہ سمجھا جاتا ہے
04:01جبکہ اسلامی تعلیمات میں
04:03اسی شخصیت کو دجال کہا جاتا ہے
04:05جو کہ باطل کی علامت اور انسانیت کے لئے
04:07سب سے بڑا فتنہ ہوگا
04:08یعنی جس شخصیت کا انتظار کیا جا رہا ہے
04:10وہ ایک ہی ہے
04:11لیکن اسے دیکھنے کا نقطہ نظر بلکل مختلف ہے
04:14ان کے لئے وہ نجات دیندہ ہے
04:16اور دوسرے کے لئے وہ سب سے بڑا فتنہ ہے
04:17اور یہی وہ بنیادی دزاد ہے
04:19جو موجودہ کشمکش کو سمجھنے کی اصل کنجی ہے
04:22یہودی تعلیمات کے مطابق
04:24ان کے مسیحہ کی آمد سے پہلے چند ضروری شرائط پورا ہونا لازمی ہے
04:27پہلی اور سب سے ہم شرط یہ ہے
04:29کہ گریٹر اسرائیل کا قیام مکمل ہو
04:31گریٹر اسرائیل کا نقشہ
04:32وہ ہے جو قدیم دریا نیل سے لے کر
04:35دریا فرات تک کے علاقے کو محیط ہے
04:37اور اس میں موجودہ فلسطین
04:38اردن کا بڑا حصہ
04:40لبنان شام عراق کا کچھ حصہ
04:42اور مصر کا کچھ حصہ شامل ہے
04:44دوسری شرط یہ ہے کہ مسجد اقصہ کو گرا کر
04:46اس کی جگہ حیکل سلمانی تعمیر کی جائے
04:48جسے یہودی تیسری حیکل کہتے ہیں
04:50تیسری شرط ایک خاص مذہبی قربانی ہے
04:53جسے سرخ بچڑے کی قربانی کہا جاتا ہے
04:55جو تقریباً مکمل ہونے کی قریب ہے
04:57چوتھی شرط یہ ہے کہ ایک مرکزی
04:59عالمی نظام قائم ہو
05:00جس میں دنیا کا ہر فرد اس نظام کا پابند ہو
05:02اسلامی تعلیمات میں اسے دابت الارت کی
05:04چھاپ کہا گیا ہے
05:06اور عیسائیت میں اسے مارک اوہ بیس
05:08یعنی شیطانی نشان کہا جاتا ہے
05:10اگر آپ آج کے واقعات کو
05:12اس پر سمندر میں دیکھیں تو بہت سی
05:14چیزیں سمجھانا شروع ہو جاتی ہیں
05:15کیونکہ تمام شرائط پوری کرنے کی کوشش
05:17ہمارے سامنے کھلنم کھلا ہو رہی ہے
05:20آئیے اب امریکی اور اسرائیلی قیادت کے
05:22بیانات پر غور کریں
05:23کیونکہ یہ بیانات صرف تجزیہ نہیں ہیں
05:25بلکہ ریکارڈ پر موجود ہیں
05:26اور خود ان کی اپنی زبان سے نکلیں ہیں
05:28یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی فوجی کمانڈروں نے
05:31اپنی سپاہیوں کو یہ کہہ کر جنگ کے لئے تیار کیا ہے
05:33کہ یہ جنگ ہمارے ملک کی نہیں
05:35بلکہ ہمارے مذہب کی جنگ ہے
05:36اور یہ خدائی منصوبے کا حصہ ہے
05:38انہوں نے بائبل کے کتاب مکاشوہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا
05:41کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی قریب ہے
05:43اور یہ جنگ اسی واپسی کا راستہ ہے
05:44یہ الفاظ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں
05:46ایک سوپر پاور کے فوجی افسر اپنے سپاہیوں کو
05:49مذہبی جذبات کے نام پر جنگ کے لئے تیار کر رہے ہیں
05:52یہ ٹھیک وہی انداز ہے
05:53جس طرح سلیبی جنگوں کے دوران
05:55یورپی فوجوں کو اسلام کے خلاف لڑنے کے لئے
05:57مذہب کا نعرہ دے کر میدان میں اتارا گیا تھا
05:59تاریخ اپنے آپ کو دوہر آ رہی ہے
06:01مگر نئے ہتیاروں اور نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ
06:04اس کے علاوہ یہ بھی سامنے آیا ہے
06:05کہ وائٹ ہاؤس میں باقاعدہ مذہبی اجلاس منعقت کیے گئے ہیں
06:08جہاں اس جنگ کو خدای ارادے کی تقنیل قرار دیا گیا ہے
06:12اسرائیلی حکام نے بین الاقوامی ٹیلی ویجن پر آ کر
06:14کھل نمکھل اعلان کیا
06:15کہ یہ آر میکڈن ہے
06:17اور ہمیں گریٹر اسرائیل قائم کر کے
06:19اپنے مسیحہ کو تخت پر بٹھانا ہے
06:21انہوں نے نیتن یاہو کو اسرائیل کا آخری وزیرازم قرار دیا ہے
06:24اور کہا ہے کہ اس کے بعد ان کے بادشاہ کی حکومت شروع ہوگی
06:27یہ سب باتیں کسی سازشی کہانی کا حصہ نہیں
06:29بلکہ ان کے اپنے میڈیا اور ان کے اپنے بیانات میں موجود ہے
06:33اب مسجد اقصہ کے مسئلے پر بات کرتے ہیں
06:35کیونکہ یہ اس پوری پہلی کا مرکزی اور سب سے حساس ٹکڑا ہے
06:39اسرائیل کئی سالوں سے مسجد اقصہ کے نیچے گہری سرنگیں کھود رہا ہے
06:42یہ سرنگیں کئی سو میٹر لمبی ہیں
06:44اور ان کا مقصد کیا ہے
06:45وہ وہاں حضرت سلمان علیہ السلام کے زمانے کی قدیم اشیعہ تلاش کرنا چاہتے ہیں
06:49جن میں سب سے اہم تابوت سکینہ ہے
06:51یہ ایک نہایت حساس اور اہم مذہبی موضوع ہے
06:54اسلامی روایات کے مطابق تابوت سکینہ امام مہدی علیہ السلام کو ملے گا
06:58اور یہ واقعہ دجال کے نکلنے سے کچھ عرصہ پہلے ہوگا
07:01یعنی اسرائیل جو چیز جھون رہا ہے وہ اسے نہیں ملے گی
07:04کیونکہ اللہ کی تقدیر میں وہ کسی اور کے لیے مقرر ہے
07:07لیکن خطرہ یہ کہ اس تلاش کے دوران اور اس بہانے وہ مسجد اقصہ کی بنیادوں کو کمزور کر رہے
07:12ہیں
07:12اور اسے گرانے کا موقع تلاش کر رہے ہیں
07:14امریکی صحافی و تجزے نگاہ ٹکر کالسل نے ایک انکشاف کیا ہے
07:18جو بہت تشویشناک ہے
07:20ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل مسجد اقصہ کو خود ایک جھوٹے پرچم آپریشن میں تباہ کر سکتا ہے
07:24اور اس کا الزام ایران پر ڈال سکتا ہے
07:26وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی میزائل مسجد کو نشانہ بنائے
07:29اور اسرائیل یہ ظاہر کرے کہ یہ میزائل ایران کی طرح سے آیا ہے
07:32تو تمام عرب ممالک خود بخود ایران کے خلاف ہو جائیں گے
07:35اس طرح مسلمان آپس میں لڑ پڑیں گے
07:37اور اسرائیل مسجد کو گرانے اور اپنا حیکل سلمانی تعمیر کرنے کا اعلان کر دے گا
07:41اسرائیلی ٹیمپل ایسوسیشن نے حیکل سلمانی کے نقشے سے لے کر
07:45اس کے سازو سامان اور رسومات تک سب کچھ برسوں پہلے تیار کر رکھا ہے
07:49یہ کوئی خفیہ بات نہیں بلکہ ان کی اپنے اشاعتوں اور ویب سائٹس پر موجود ہے
07:54ایک اسرائیلی فوجی کا ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے
07:56جس میں وہ اقرار کرتا ہے کہ یہ جنگ اسی مقصد کے لئے شروع کی گئی ہے
08:00یعنی مسجد اقصہ کو ہٹانا اور اس کی جگہ حیکل سلمانی بنانا
08:04اس پوری منصوبہ بندی کا حتمی مقصد ہے
08:06اب ذرا خلیجی ممالک کی صورتحال پر نظر ڈالیں
08:09کیونکہ یہاں بھی بہت اہم واقعات رونما ہو رہے ہیں
08:11امریکی سینٹرلنس گراہم نے بینو لقوامی ٹیلیویجن پر آ کر
08:15خلیجی ممالک کو دھنکی دی کہ اگر تم اس جنگ میں شامل نہیں ہوئے
08:18تو ہمارے ساتھ تمہارے تمام دفاعی محایدے ختم ہو جائیں گے
08:21اس نے سعودی عرب کو برہراست مخاطب کرتے ہوئے کہا
08:24کہ تمہیں اس جنگ میں آنا ہی پڑے گا
08:26یہ بیان بہت کچھ بتاتا ہے
08:27اس سے پتا چلتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا منصوبہ یہ تھا
08:30کہ تمام مسلمان ممالک اس جنگ میں کود پڑھیں
08:33شیعہ سنی اختلافات کی بنا پر
08:35ایران کے خلاف متحد ہو جائیں
08:36اور آپس میں لڑ کر کمزور ہو جائیں
08:38اس طرح ان کا کام آسان ہو جاتا
08:40یہ بھی غور طلب ہے کہ جو دفاعی محایدے
08:42امریکہ نے خلیجی ممالک کے ساتھ کیے ہوئے ہیں
08:44ان کا مقصد یہ تھا کہ ان ممالک پر
08:47حملے کی صورت میں امریکہ ان کا دفاع کرے گا
08:49لیکن آج وہی امریکہ
08:50اُلٹن ممالک کو دھمکی دے رہا ہے
08:52کہ ہمارے لئے لڑو ورنہ نتائج بھگ دو
08:54صرف سعودی عرب کے ساتھ
08:56امریکہ کا 142 ارب ڈالر کا دفاعی محایدہ ہے
08:59اور باقی ممالک کے ساتھ بھی
09:00اربہ ڈالر کے محایدے ہیں
09:02یہ رقم اس بات کی زمانت تھی
09:03کہ امریکہ ان کا دوست ہے
09:04لیکن آج وہی دوست ان پر دباؤ ڈال رہا ہے
09:06کہ اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف لڑو
09:08خوش آئین بات یہ کہ اب خلیجی ممالک
09:10اس جال میں نہیں آ رہے
09:11متحدہ عرب امارات نے واضح اور غیر مفہم اعلان کیا ہے
09:14کہ ہم ایران کے خلاف کسی بھی حملے کا حصہ نہیں بنیں گے
09:17اور نہ ہی اپنی سرزمین
09:18اس مقصد کے لئے استعمال ہونے دیں گے
09:20اور نہ ہی ہم اس تنازعے میں شامل ہوں گے
09:22یہ ایک جرت مندانہ اور دور اندیشانہ موقف ہے
09:25یہ تبدیلی بتاتی کہ
09:26مسلمان دنیا میں ایک نئی بیداری آ رہی ہے
09:29اور ہوشمندی کی یہ لہر پھیل رہی ہے
09:30اب ایران کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہیں
09:33جرمنی کے وزیر خارجہ نے کہا
09:35کہ امریکہ اور اسرائیل اب مذاکرات سے
09:36جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں
09:38لیکن ایران اس وقت مذاکرات کے لئے تیار نہیں ہے
09:41ایران کا موقف یہ ہے کہ
09:42اس سے پہلے بھی مذاکرات ہوئے
09:43لیکن ہر بار دھوکہ ملا
09:44مذاکرات کے دوران ہی حملے کیے گئے
09:47مہاہدوں کی خلاف ورجیں کی گئیں
09:48اور بار بار اعتماد کو پامال کیا گیا
09:50اور اب جب ایرانی رہبر کے والدین
09:53بھائی بہن بیٹے قریب ساتھیوں
09:55اور عالی عہدداروں کو شہید کر دیا گیا ہے
09:57ان کے بعد ان سے امن کی بات کی جا رہی ہے
10:00یہ بات سادہ اقل سے بھی سمجھ میں نہیں آتی
10:02کہ کوئی شخص اس کے ساتھ مذاکرات کیسے کر سکتا ہے
10:05جس نے اس کے گھر کے ہر فرد کو نشانہ بنایا ہو
10:07یہاں ایک اہم نکتہ ہے
10:09جسے سمجھنے کی ضرورت ہے
10:10ایران کی موجودہ قیادت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے
10:13جن کے پاس کھونے کے لئے کچھ خاص نہیں ہے
10:15نہ کوئی محل
10:16نہ کوئی جادات
10:17نہ بینک بیلنس
10:18نہ غیر ملک میں کوئی پناہ کا
10:19یہ وہ لوگ ہیں جو کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں
10:21پورانے جوتے پہنتے ہیں
10:23اپنی آبادی کا درد خود سے پہلے محسوس کرتے ہیں
10:26تاریخ بتاتی ہے کہ جو لوگ صاحب کردار ہوں
10:28جن کا اللہ پر توقل ہو
10:30اور جو صحیح معنوں میں اپنی قوم
10:31اور اپنے دین کے لئے لڑ رہے ہوں
10:33انہیں مال و دولت کے لالچ
10:35یا موت کے خوف سے نہیں خریدا جا سکتا
10:37اور نہ ڈرائیا جا سکتا ہے
10:47کیونکہ جو تصویر دکھائی جا رہی ہے
10:49وہ پوری حقیقت نہیں ہے
10:50میڈیا بلیک آؤٹ کا مطلب ہے
10:51کہ اصل نقصانات چھپائے جا رہا ہے
10:53ایران نے اردن میں موجود
10:55امریکہ کا تیسرہ فضائی دفاع نظام تباہ کر دیا ہے
10:58یہ نظام ایک ارب ڈالر مالیت کا تھا
11:01اب امریکہ کے پاس یہ نظام کل آٹھ تھے
11:04اور ان میں صرف چار پہلے ہی تباہ ہو چکے ہیں
11:06یعنی آدھی طاقت ضائع ہو گئی ہے
11:08اور یہ تو محض ایک مثال ہے کل نقصان کا
11:10ایران نے امریکی اور اسرائیلی بینکوں کو بھی
11:12نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے
11:14کیونکہ امریکہ نے ایران کے بینکوں کو نشانہ بنایا
11:16یہ معاشی جنگ آگے چل کر بہت اہم موڑ لے گی
11:19کیونکہ مالیتی نظام کو نقصان پہنچانا
11:21جدید جنگ کا ایک محاذ ہے
11:23امریکی میرین انٹیلیجنس آفیسر
11:25اور اقوام متحدہ کے سابق
11:27اسلحہ اسپیکٹر بلیم اسکوٹ نے
11:29بڑی جورت سے کہا ہے کہ ہم یہ جنگ ہار رہے ہیں
11:32اور ہمیں یہ جنگ ہارنی بھی چاہیے
11:33کیونکہ یہ ایک غیر قانونی
11:35ناجائز اور تاریخ کا سب سے بڑا جنگی جرم ہے
11:38ایران کوئی غلط کام نہیں کر رہا
11:40بلکہ اپنے دفاع میں لڑ رہا ہے
11:41اور امریکہ اسرائیل اس جنگ کو پوری دنیا تک پھیلانا چاہتے ہیں
11:44جب ایک ملک کے اپنے آلہ پوجی
11:46اور انٹیلیجنس آفیسر
11:47اس طرح بولنے لگیں
11:48تو سمجھ دیجئے کہ حالات واقعی بہت خراب ہیں
11:51تو پھر امریکہ اور اسرائیل مذاکرات کیوں چاہتے ہیں
11:53اس لیے نہیں کہ وہ واقعی امن چاہتے ہیں
11:55بلکہ اس لیے کہ وہ وقت لینا چاہتے ہیں
11:57جنگی تھکاوٹ ہے
11:58نقصان بڑے ہیں
11:59دنیا میں تنقید ہو رہی ہے
12:00اور ساسد دوبارہ تیاری کرنی ہے
12:02تاکہ اور خطرناک طریقے سے حملہ کیا جا سکے
12:05یہ ان کا پرانا اور آزموتا طریقہ ہے واردات ہے
12:17اسرائیل کے راہ میں اس وقت صرف تین ممالک رکاوٹ بنے ہوئے ہیں
12:20جن کے پاس اسرائیل اور امریکہ کو مو توڑ جواب دینے کی صلاحیت
12:24طاقت اور ارادہ ہے
12:25وہ تین ممالک ہیں ایران، ترکی اور پاکستان
12:28اگر خدا نخواستہ آج ایران ٹوڑ گیا
12:31یا کمزور ہو گیا تو اگلی باری ترکی اور پاکستان کی ہے
12:33یہ کوئی ڈرانے کی بات نہیں ہے
12:35بلکہ موجودہ صورتحال کا تھنڈے دل اور سر دماغ سے کیا گیا تجزیہ ہے
12:39فتح کی جغرافیہ اس سیاست اور طاقت کے توازن اسی طرف اشارہ کر رہا ہے
12:43اسی تناظر میں پاکستان کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے
12:47پاکستان دنیا کا باہت ایٹمی طاقت رکھنے والا مسلمان ملک ہے
12:50جو آبادی کے لحاظ سے بھی بڑا ہے
12:52اور جغرافیہی لحاظ سے بھی انتہائی اہم مقام پر واقع ہے
12:55یہی وجہ ہے کہ امریکی سیکریٹری آف ڈیفنس کا وہ بیان
12:58جس میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی آسمانی مذہب کے ماننے والوں کے پاس
13:01جہوری ہتھیار نہیں ہونے چاہیے
13:03وہ صرف ایران کے بارے میں نہیں تھا
13:05بلا باستہ طور پر اس بیان میں پاکستان اور ترکی بھی شامل تھے
13:08کیونکہ یہ تینوں ممالک ان کے منصوبی قرحہ میں سب سے بڑی رکاوٹے ہیں
13:12اب ایک ایسے واقع کا ذکر کرتے ہیں جو سننے میں عجیب لگتا ہے
13:15یہ ریکارڈ پر موجود ہے
13:17امریکی سیکریٹری آف ڈیفنس پیٹ ہیکسٹ کے بازو پر ایک ٹیٹو ہے
13:20جس میں انگریزی زبان میں لکھا ہے کافر
13:23یہ وہی لفظ ہے جو اسلامی تعلیمات میں غیر مومن کے لیے استعمال ہوتا ہے
13:27یہ شخص ایران جنگ کا سب سے بڑا اور سخت ترین حامی ہے
13:31اور اسلام کے خلاف اپنی نفرت کو کبھی نہیں چھپاتا
13:34اور یہ محض ایک اتفاق نہیں ہے
13:35تاریخ میں درج ہے کہ جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تھا
13:39تب بھی اس کے ٹینکوں پر یہی لفظ کافر لکھا ہوا تھا
13:42جو آج بھی دستاوزی شکل میں موجود ہے
13:44اب یہی لفظ مغرب میں فیشن بن رہا ہے
13:46ٹی شٹس پر پرنٹ ہو کر بازار میں بکنے لگا ہے
13:49اور لوگ اسے فقر کے ساتھ پہن رہے ہیں
13:51اسلامی روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے
13:53کہ درجال کی پیشانی پر کافر لکھا ہوگا
13:56جسے ہر صاحب ایمان آسانی سے پڑھ سکے گا
13:59اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے
14:01کہ درجال کے آنے سے پہلے
14:02ایسا ماحول تیار ہوگا
14:04جہاں یہ لفظ اتنا عام اور فقر کی بات بن جائے گا
14:07کہ لوگ اسے اپنانے میں کوئی آر محسوس نہیں کریں گے
14:10آج یہ عمل ہمارے سامنے ہو رہا ہے
14:12آہستہ آہستہ
14:13منظم طریقے سے ذہن سازی ہو رہی ہے
14:15یہی ہوتی ہے نسلوں کی ذہن سازی
14:18یہی ہوتی ہے وہ پرپیگنڈا
14:19جو دیکھتے دیکھتے پوری نسل کو بدل دیتا ہے
14:22اب آتے ہیں
14:23احادیث مبارکہ کی روشنی میں
14:24موجودہ صورتحال کی طرف
14:26کیونکہ یہی وہ حصہ ہے
14:27جس پر سب سے زیادہ غور کرنے کی ضرورت ہے
14:29رسول علیہ السلام نے چودہ سو سال پہلے
14:32ایک حدیث ارشاد فرمائی
14:33جس کا مفہوم یہ ہے
14:34کہ آخری زمانے میں کفار تم مسلمانوں پر
14:37اس طرح ٹوٹ پڑیں گے
14:38جیسے بھوکے لوگ کھانے کی طرف لپکتے ہیں
14:40صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا
14:42کہ اس وقت ہم تعداد میں کم ہوں گے
14:44تو آپ علیہ السلام نے فرمایا نہیں
14:46بلکہ تم تعداد میں بہت زیادہ ہوگے
14:48لیکن سیلاب کے جھاک کی طرح
14:50بے وزن اور بے اثر ہوگے
14:52آج دنیا میں مسلمانوں کی تعداد
14:54دو عرب سے زیادہ ہے
14:55لیکن ہم ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں
14:57کمزور ہیں تقسیم ہیں
14:59اور اپنے ہی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں
15:00اور کفر کی متحدہ قوتیں
15:03مسلمانوں کے خلاف ایک صف میں کھڑی ہیں
15:05کیا یہ وہی صورتحال نہیں
15:06جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کی تھی
15:10حدیث میں یہ بھی آتا ہے
15:11کہ اللہ تعالیٰ کفر کی ان طاقتوں کو
15:13عارضی طور پر غلبہ دے گا
15:15اور وہ اپنا نظام دنیا پر مسلط کرنے کے قریب پہنچ جائیں گے
15:18مسلمان کمزور ہوتے چلے جائیں گے
15:20لیکن یہ غلبہ مستقل نہیں ہوگا
15:22یہ عارضی ہے
15:23اس کے بعد اللہ کا منصوبہ کچھ اور ہے
15:25جو ان کے منصوبے سے بالکل مختلف
15:27اور بالکل برقس ہے
15:29وعدہ الہی سے بڑا کوئی منصوبہ نہیں ہوتا
15:31اور وہ الہی منصوبہ کیا ہے
15:33حدیث مبارکہ میں بشارہ تھے
15:35کہ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوگا
15:36اور تمام حالات یک دم پلٹ جائیں گے
15:39حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے
15:41دجل کا خاتمہ ہوگا
15:43اور پوری دنیا پر اللہ کے دین کا غلبہ ہوگا
15:45یہ وہ وعدہ ہے جو اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام سے کیا
15:49اور اللہ کا وعدہ سچا ہے
15:51حدیث میں ایک اور اہم پیش گوئی بھی موجود ہے
15:53کہ امام مہدی علیہ السلام کا ساتھ دینے کے لیے
15:55خوراسان کے علاقے سے ایک لشکر نکلے گا
15:57خوراسان سے مراد آج کے ایران
15:59افغانستان اور پاکستان کا علاقہ ہے
16:01یہ لشکر کالے پرچموں کے ساتھ نکلے گا
16:04اور امام مہدی کی فوج میں شامل ہوگا
16:06یہ امت کے بہترین اور عزیم ترین لوگ ہوں گے
16:08اور کفر کی متحدہ قوتوں کے سامنے
16:10یہ لشکر فتحیاب ہوگا
16:12اب یہاں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے
16:14جو باقی ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے
16:16ایران نے حال ہی میں اپنا قومی پرچم اتار کر
16:18اس کی جگہ کالا پرچم لہر آیا ہے
16:20جس پر کلمہ لکھا ہوا ہے
16:22یہ وہی علاقہ ہے جسے خوراسان کہا جاتا ہے
16:24یہی کالے پرچم
16:26احادیث میں بیان ہوئے ہیں
16:27اور یہی وہ کفر کا لشکر ہے
16:29جو ایران پر حملہ آور ہے
16:30اور آج وہی مسلمانوں کا لشکر ہے
16:32جو اس علاقے سے نکلنے والا ہے
16:34ایک ایک نشانی اپنی جگہ پر سچتی جا رہی ہے
16:37جیسے کوئی اسکرپٹ لکھا ہوا ہو
16:39اور واقعات اسی کے مطابق چل رہے ہوں
16:41امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ
16:43مارکو روبیو کا ایک بیان بھی سامنا آیا ہے
16:45جو بہت کچھ بتاتا ہے
16:47انہوں نے کہا کہ میرے بعد آنے والے سیکریٹری
16:49کو بھی یہ پتا ہونا چاہیے
16:50کہ مسلمان ہمارے خلاف ہمیشہ
16:52ایک بڑی فوج اور لشکر تیار کرنے والے ہیں
16:55اور ہم سب کو ہمیشہ اس کے لئے تیار رہنا ہے
16:57یہ بیان غور سے پڑھیں
16:58یہ شخص مستقبل کے بارے میں بات کر رہا ہے
17:01وہ خود اعتراف کر رہا ہے
17:02کہ آنے والے وقت میں
17:03مسلمان ایک متحد لشکر کی صورت میں
17:05ان کے سامنے آئیں گے
17:07یعنی یہ لوگ خود جانتے ہیں
17:08کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے
17:10اور اسی لئے تیاریاں کر رہے ہیں
17:12اس بیان سے یہ بھی واضح ہوتا ہے
17:14کہ ان کا اصل مقصد
17:15ایران کی حکومت بدلنا نہیں تھا
17:17نہ تیل لینا تھا
17:18نہ جمہوریت لانا تھا
17:19بلکہ ان کا اصل مقصد
17:20امام مہدی علیہ السلام کی آمد کو روکنا ہے
17:23اور دجال کے لئے راستہ صاف کرنا ہے
17:25اور یہ لوگ خود اعتراف کر رہے ہیں
17:27وہ دجال کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں
17:29کیونکہ انہیں پتا ہے
17:30کہ دجال کے ساتھ ہی
17:32اس وحان کے علاقے سے
17:33یعنی ایران سے نکلیں گے
17:34اور امام مہدی کے ساتھ ہی بھی
17:36خوراسان سے
17:37یعنی اسی علاقے سے نکلیں گے
17:38اسی لئے وہ اس خطے کو
17:39اس قدر اہمیت دیتے ہیں
17:40اور اسی لئے وہ ایران کے خلاف
17:42اس قدر متحرک ہیں
17:44ایران کے جن سپریم لیڈر کو شہید کیا گیا
17:46یعنی آیت اللہ خامنائی
17:48وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل سے تھے
17:51یعنی فاتمی تھے
17:52اور احادیث میں امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں بھی بیان کیا گیا ہے
17:55کہ وہ بھی فاتمی ہوں گے
17:56یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل سے ہوں گے
18:00اس لئے یہ طاقتیں
18:01ہر اس شخص کو نشانہ بناتی ہیں
18:03جس کے بارے میں
18:03انہیں لگتا ہے کہ وہ اس نسل سے ہو سکتا ہے
18:06یا امام مہدی کے لشکر کا حصہ بن سکتا ہے
18:08اب آتے ہیں ایک ایسے نکتے کی طرف
18:10جو آج کے ہر مسلمان کے لئے
18:11سب سے ضروری اور قابل عمل سبق ہے
18:13چار عرب کے قریب مسلمانوں کی آبادی میں سے
18:16امام مہدی کا ساتھ دینے کے لئے
18:18صرف تین ہزار افراد کا لشکر نکلے گا
18:20صرف تین ہزار
18:21یہ تعداد پڑھ کر دل بھاری ہو جاتا ہے
18:23لیکن یہ کیوں ہوگا
18:25کیونکہ اتنی بڑی آبادی میں صرف اتنے تھوڑی لوگ ہوں گے
18:27جو حق کی راہ پر چلیں گے
18:29اس کا جواب بھی ہمارے سامنے ہے
18:30پھر قاباریت
18:31ہم مسلمان صدیوں سے شیعہ سنی دیوبندی بریلوی میں
18:34تقسیم میں اس قدر اُلت چکے ہیں
18:36کہ ہماری اجتماعی بصیرت
18:37اور دور اندیشی ختم ہو گئی ہے
18:39ہم اپنے بھائیوں کو دشمن سمجھتے ہیں
18:40اور دشمن کو دوست
18:41ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑتے ہیں
18:43اور بڑے خطرات سے غافل رہتے ہیں
18:45اور یہی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے
18:47جس سے ہمارے دشمن بہت اچھی طرح واقف ہیں
18:49اور وہ اسی کو استعمال کر رہے ہیں
18:51غور کریں اسرائیلی حکام ایران جنگ
Comments

Recommended