- 22 hours ago
In this fascinating and thought-provoking video from Noor TV, we delve into one of the world's most enduring mysteries: 'The Mystery of The Bermuda Triangle | Does Dajjal live in Bermuda Triangle?' This episode explores the enigmatic disappearances within the Bermuda Triangle and critically examines the widespread belief among some Muslims that this mysterious region might be the dwelling place of Dajjal, the Antichrist.
The Bermuda Triangle, also known as the Devil's Triangle, is a region in the western part of the North Atlantic Ocean where a number of aircraft and ships are said to have disappeared under mysterious circumstances. Tales of unexplained phenomena, magnetic anomalies, and supernatural occurrences have fueled its legend for decades. This video will briefly touch upon these intriguing mysteries, providing a background to the enigma.
The core of this discussion, however, lies in connecting these mysteries to Islamic eschatology. Islamic traditions extensively describe Dajjal's appearance as one of the major signs of Qayamat (Doomsday). While many authentic Hadith detail his characteristics and actions, some modern interpretations and popular narratives suggest a link between Dajjal's whereabouts and remote, mysterious locations like the Bermuda Triangle. This video aims to scrutinize these claims through the lens of authentic Islamic teachings, differentiating between established facts, prophetic traditions, and popular theories.
Join Noor TV as we seek to unravel this intriguing connection. We will discuss what authentic Islamic texts say about Dajjal's origin and appearance, and whether there is any direct or indirect evidence to support the Bermuda Triangle theory. It is crucial for Muslims to rely on verified sources for information regarding such significant matters of faith. This video will provide a balanced perspective, encouraging informed understanding and discouraging reliance on unsubstantiated claims. Share this video to spread clarity on this captivating subject."
The Bermuda Triangle, also known as the Devil's Triangle, is a region in the western part of the North Atlantic Ocean where a number of aircraft and ships are said to have disappeared under mysterious circumstances. Tales of unexplained phenomena, magnetic anomalies, and supernatural occurrences have fueled its legend for decades. This video will briefly touch upon these intriguing mysteries, providing a background to the enigma.
The core of this discussion, however, lies in connecting these mysteries to Islamic eschatology. Islamic traditions extensively describe Dajjal's appearance as one of the major signs of Qayamat (Doomsday). While many authentic Hadith detail his characteristics and actions, some modern interpretations and popular narratives suggest a link between Dajjal's whereabouts and remote, mysterious locations like the Bermuda Triangle. This video aims to scrutinize these claims through the lens of authentic Islamic teachings, differentiating between established facts, prophetic traditions, and popular theories.
Join Noor TV as we seek to unravel this intriguing connection. We will discuss what authentic Islamic texts say about Dajjal's origin and appearance, and whether there is any direct or indirect evidence to support the Bermuda Triangle theory. It is crucial for Muslims to rely on verified sources for information regarding such significant matters of faith. This video will provide a balanced perspective, encouraging informed understanding and discouraging reliance on unsubstantiated claims. Share this video to spread clarity on this captivating subject."
Category
📚
LearningTranscript
00:25।
00:30نوح علیہ السلام سے کیا تعلق ہے
00:32دیوارِ ذلقرنین
00:33کب اور کیوں تعمیر کی گئی
00:35اور یہ کب ٹوٹے گی
00:36یہ دیوار کے ٹوٹنے کا قرب قیامت سے کیا تعلق ہے
00:39کیا یاجوج ماجوج برمودہ ٹرائنگل میں موجود ہیں
00:43برمودہ ٹرائنگل کیا ہے
00:44ان تمام باتوں کے بارے میں
00:46ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں بات کریں گے
00:48لہٰذا ان سب باتوں کے بارے میں
00:49مکمل جاننے کے لئے آپ سے گزارش ہے
00:51کہ ویڈیو کو اسکپ کیے بغیر آخر تک ضرور دیکھئے گا
00:54اور اگر آپ ہماری چینل پر نئے ہیں
00:56تو سب سے پہلے ہمارے چینل کو سبسکرائب کر لیں
00:58ناظرین ذلقرنین کا نام سکندر ہے
01:00یہ حضرت خضر علیہ السلام کے خالہ ذات بھائی ہیں
01:03حضرت خضر علیہ السلام ان کے وزیر اور جنگوں میں علم بردار رہے ہیں
01:07یہ حضرت سام بن نوح کی اولاد میں سے ہیں
01:10اور یہ ایک بڑھیہ کے اکلوتے فرزند ہیں
01:12حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دست حق پرست پر
01:15اسلام قبول کر کے مدتوں ان کی صحبت میں رہے
01:18اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے
01:21ان کو کچھ وسیعتیں بھی فرمائی تھی
01:22صحیح قول یہی ہے کہ یہ نبی نہیں ہے
01:25بلکہ بندہ سالے ہیں
01:26جو ولایت کے شرف سے سرفراز ہیں
01:28حضور علیہ السلام نے فرمایا
01:30کہ یہ ذلقرنین دو سینگوں والے کے لقب سے
01:33اس لئے مشہور ہو گئے
01:34کہ انہوں نے دنیا کے دو سینگوں
01:36یعنی دو کناروں کا چکر لگایا تھا
01:38اور بعض کا قول یہ ہے کہ ان کے دور میں
01:40لوگوں کے دو قرن ختم ہو گئے
01:42سو برس کا ایک قرن ہوتا ہے
01:44اور بعض کہتے ہیں کہ ان کے دو گیسو تھے
01:46اس لئے ذلقرنین کہلاتے ہیں
01:48اور یہ بھی ایک قول ہے کہ ان کے تاج پر دو سینگ بنے ہوئے تھے
01:51اور بعض اس کے قائل ہیں کہ خود
01:52ان کے سر پر دونوں طرف اُبھار تھا
01:54جو سینگ جیسا نظر آتا تھا
01:56اور بعضوں نے یہ وجہ بتائی چونکہ ان کے باپ اور ماں
01:59نجیب الترفین اور شریف زادے تھے
02:01اس لئے لوگ ان کو ذلقرنین کہنے لگے
02:04والا عالم
02:05ناظرین اللہ تعالی نے ان کو تمام روح زمین کی بادشاہی عطا فرمائی تھی
02:08دنیا میں کل چار بادشاہی سے ہوئے ہیں
02:10جن کو پوری زمین کی پوری بادشاہی ملی
02:13ان میں دو مومن تھے اور دو کافر
02:15مومن تو حضرت سلمان علیہ السلام اور ذلقرنین ہیں
02:18اور کافر ایک بخت نصر اور دوسرا نمرود ہے
02:21اور تمام روح زمین کے ایک پانچ بے بادشاہ
02:23اس امت میں ہونے والے ہیں
02:25جن کا اسم گرامی حضرت امام مہدی ہے
02:28مفسرین اور موردخین نے اس حوالے سے سکندر اعظم
02:30یمن کے حمیری بادشاہ اور سائرس اعظم کا خاص طور پر ذکر کیا ہے
02:35اس زمین میں اہم بات یہ ہے
02:37کہ ذلقرنین کا تائین قرآن پاک میں بیان کردہ نشانیوں کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے
02:41قرآن پاک کے مطابق
02:43ذلقرنین اللہ پر ایمان رکھنے والا ایک نیک بادشاہ تھا
02:46اس نے مختلف سمتوں میں تین بڑی فوجی مہمات سر انجام دیں
02:49یاجوج ماجوج سے حفاظت کے لیے ایک آہینی دیوار بنوائی
02:53اور پھر یہ کہ زمین کے ایک وسی حصے پر اس کی حکومت قائم تھی
02:57یہودیوں میں حضرت دانیال علیہ السلام کے ایک خواب کا چرچہ تھا
02:59جس میں انہوں نے لمبی سینگوں والے ایک ایسے مہندے کو دیکھا تھا
03:03جو مختلف سمتوں میں سینگیں مارتا
03:05اور کوئی جانور اس کے مقابلے میں نہ ٹھہر تھا
03:07یہودی کتب کے مطابق حضرت جبریل علیہ السلام نے
03:10اس خواب کی تعبیر یوں فرمائی کہ
03:11مینڈھا ماد اور فارس کا بادشاہ ہے
03:14یہودی سی بنیاد پر اس بادشاہ کے منتظر تھے
03:17جو انہیں ان کا کھویا مقام واپس دلا سکے
03:19تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہو چکی ہے
03:21کہ وہ سائرس ہی تھا
03:22جس نے ماد اور فارس کو متحد کر کے
03:24ایک عظیم سلطنت کی بنیاد ڈالی
03:26اور پھر ایک کے بعد دوسرا علاقہ فتح کرتا چلا گیا
03:29یہاں تک کہ اس کی سلطنت بقول مولانا مودودی
03:31ایک طرف سندھ اور ترکستان سے لے کر
03:34مصر اور لیبیا تک اور دوسری طرف
03:36مقدونیا تک وسیح ہو گئی تھی
03:38شمال میں اس کی سلطنت قفقاز اور خوارزم تک پھیل گئی تھی
03:42عملاً اس وقت کی پوری محذب دنیا
03:44اس کی تابع فرمان تھی
03:46سائرس نے یہودیوں کو بخت نصر جیسے
03:48ظالم اور جابر بادشاہ کی غلامی سے نجات دلائی
03:50اور ان کے مقدس ترین مقام
04:01اسی بنیاد پر یہودی سائرس کو ہی
04:03ظلقرنین بتاتے ہیں
04:04ناظرین قرآن مجید میں حضرت ظلقرنین کے
04:06تین سفروں کا حال بیان ہوا ہے
04:07جو سورہ کحاف میں ہے
04:09ہم قرآن مجید ہی سے
04:10ان تینوں سفروں کا حال تحریر کرتے ہیں
04:12جن کی رودات بہت ہی عجیب اور عبرت خیز ہے
04:15سب سے پہلے بات کرتے ہیں
04:16آپ کے پہلے سفر کے بارے میں
04:17حضرت ظلقرنین نے پرانے کتابوں میں پڑھاتا
04:20کہ سام بن نوح علیہ السلام کے اولاد میں سے
04:22ایک شخص آب حیات کے چشمے پر پانی پی لے گا
04:25تو اس کو موت نہ آئے گا
04:26اس لئے حضرت ظلقرنین نے مغرب کا سفر کیا
04:28آپ کے ساتھ حضرت خضر علیہ السلام بھی تھے
04:30وہ تو آب حیات کے چشمے پر پہنچ گیا
04:32اور اس کا پانی بھی پی لیا
04:33مگر حضرت ظلقرنین کے مقدر میں نہیں تھا
04:36وہ محروم رہ گئے
04:37اس سفر میں آپ جانے پر مغرب روانہ ہوئے
04:39تو جہاں تک آبادی کا نام و نشان ہے
04:41وہ سب منزلیں تہہ کر کے
04:43آپ ایک ایسے مقام پر پہنچے
04:44کہ انہیں سورج گروپ کے وقت ایسا نظر آیا
04:47کہ وہ سیاہ چشمے میں ڈوب رہا ہے
04:48جیسا کہ سمندری سفر کرنے والوں کو
04:50آفتاب سمندر کے کالے پانی میں ڈوبتا نظر آتا ہے
04:53وہاں ان کو ایسی قوم ملی
04:55جو جانوروں کی کھال پہنے ہوئے تھے
04:56ان کے سوا کوئی دوسرا لباس ان کے بدن پڑنا تھا
04:59اور دریائے مردہ جانوروں کے سوا
05:00ان کی غزہ کا کوئی دوسرا سامان نہیں تھا
05:03یہ قوم ناسک کہلاتی تھی
05:04حضر ذلقرنے نے دیکھا کہ ان کے لشکر
05:07بے شمار ہیں اور یہ لوگ بہت ہی طاقتور
05:09اور جنگجو ہیں
05:09تو حضر ذلقرنے نے ان لوگوں کے گرد
05:12اپنی فوجوں کا گھیرہ ڈال کر ان لوگوں کو بے بس کر دیا
05:15چنانچہ کچھ تو مشرف بائیمان ہو گئے
05:17اور کچھ آپ کی فوجوں کے ہاتھوں سے
05:19مقتول ہو گئے
05:19دوسرا سفر آپ نے مشرق کا سفر فرمایا
05:21یہاں تک کہ جب سورج طلو ہونے کی جگہ پہنچے
05:24تو یہ دیکھا کہ وہاں ایک ایسی قوم تھی
05:26جن کے پاس کوئی عمارت اور مکان نہیں ہے
05:28اور مکانات نہیں ہیں
05:29ان لوگوں کا حال یہ تھا کہ سورج طلو ہونے کے وقت
05:32یہ لوگ زمین کے غاروں میں چھپ جاتے تھے
05:33اور سورج دھل جانے کے بعد غاروں سے نکل کر
05:35اپنی روزی کی تلاش میں لگ جاتے تھے
05:37یہ لوگ منسک کہلاتے تھے
05:48ناظرین اسی طرح تیسرا سفر آپ نے شمال کے جانب سفر فرمایا
05:51یہاں تک کہ صدین دو پہاڑوں کے درمیان میں پہنچے
05:54تو وہاں کی آبادی والوں کی عجیب و غریب زبان تھی
05:56ان لوگوں کے ساتھ اشاروں سے بہ مشکل بات چیت کی جا سکتی تھی
05:59ان لوگوں نے حضرت القرنین سے یاجوج ماجوج کے مظالم کی شکایت کی
06:02اور آپ کی مدد کے طالب ہوئے
06:04ناظرین یہاں آپ کو یاجوج ماجوج کے متعلق بھی بتاتے چلیں
06:07یافظ بن نوح علیہ السلام کے اولاد میں سے ایک فسادی گروہ ہے
06:10اور ان لوگوں کی تعداد بہت ہی زیادہ آئے
06:13یہ لوگ بلا کے جنگجی اور خونخار
06:15بلکہ وحشی اور جنگلی ہیں
06:16جو بلکل جانوروں کی طرح رہتے ہیں
06:18موسم ربی میں یہ لوگ اپنے غاروں سے نکل کر
06:20تمام کھیتیاں اور سبزیاں کھا جاتے ہیں
06:23اور خوشک چیزوں کو لاد کر لے جاتے ہیں
06:25آدمی اور جنگلی جانوروں کو یہاں تک کہ سام بچو گرگٹ
06:28ہر چھوٹے بڑے جانوروں کو کھا جاتے تھے
06:30قرآن واضح طور پر گواہی دیتا ہے
06:32کہ یہ دو بہشی خونخار قبیلوں کے نام تھے
06:35وہ لوگ اپنے ارد گد رہنے والوں پر
06:37بہت زیادتیاں اور ظلم کرتے تھے
06:38مفسر علامہ تباتائی نے
06:40المیزان میں لکھا ہے کہ توریت کی ساری باتوں سے
06:42مجموعی طور پر معلوم ہوتا ہے
06:44کہ یاجوج ماجوج یہ ایک یا کئی بڑے قبیلے تھے
06:47یہ شمالی عشق کے دور دراز علاقے میں رہتے تھے
06:50یہ جنگ جو غارتگر ڈاکو کسن کے لوگ تھے
06:52تقریباً روز کا معامل بن چکا تھا
06:54کہ پہاڑ کی دوسری جانب سے
06:55بدحیت بہشی خونخار یاجوج ماجوج
06:58بڑی تعداد میں آ کر
06:59محضب انسانی دنیا پر حمل آور ہوتے
07:01اور ہر چیز تباہ و برباد کر ڈالتے
07:03ان کے لئے انسانوں کو ہلاک کرنا
07:05مبیشی لوٹنا اور کھیت کھلیاں تباہ کرنا
07:07ایک عام سی بات تھی
07:17ایک عالی شان اجنبی فوج
07:19ان کے کھرے میدانوں میں خیم ازن ہے
07:21پہلے تو وہ حیران اور خوف زتا ہوئے
07:23لیکن پھر قوم کے چند سردار
07:24جنگ جو لشکر کو اپنے لئے غیبی مدد
07:26اور نجات دہندہ سمجھتے ہوئے لشکر کی جانب گئے
07:29اور سپے سالار سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
07:31اجادت کے بعد مقامی سرداروں کو
07:33فوج کے سپے سالار کے خیمے میں پیش کیا گیا
07:35سپے سالاروں نے موززین شہر کو
07:37خوش آمدیت کہتے ہوئے یہ یقین دلائے
07:39کہ ان کی فوج ان کے علاقوں پر قبضہ
07:41نہ ہی ان کے مال مویشی اور کھیت کھلیان
07:43کو کوئی نقصان پہنچائے گی
07:44مقامی سردار جنگی لباس ملبوس
07:46فوج کے سپے سالار کا حسن اخلاق
07:48اور طرز مہربانی دیکھ کر مطمئن ہو گئے
07:50لیکن جب ان کے سامنے یہ بات لائی گئی
07:52کہ وہ دنیا کا عظیم بادشاہ
07:53ذلقرنین سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل کر رہے ہیں
07:56تو بہت حیران ہوئے
07:57اور دل میں سوچنے لگے
07:58کہ شاید یہ شخص قدرت کی جانب سے
07:59ہمارے لئے نجات دہت نہ بن کر آیا ہے
08:01سرداروں کو سوچ میں گم دیکھ کر
08:03ذلقرنین نے کہا
08:04اے میرے قابل احترام دوستو
08:05بیسے تو میں اپنی بادشاہت سے
08:07بہت دور دیار غیر کے سفر پر ہوں
08:09لیکن اگر میں آپ لوگوں کی کوئی خدمت کر سکوں
08:11تو مجھے خوشی ہوگی
08:12بس یہی وہ لمحہ تھا
08:13جب ان کی دلی خواہش ان کے لبوں پر آ گئی
08:15ان سب نے ایک دوسری کی جانب دیکھا
08:17اور پھر ایک شخص بولا
08:18اے مہربان بادشاہ
08:19اس پہاڑ کی دوسری جانب
08:20یاجوج ماجوج نام کی قوم رہتی ہے
08:21جو زمین پر بہت فساد مچانے والے لوگ ہیں
08:24اگر ہم آپ کو کچھ خراج ادا کر دیں
08:26تو کیا اس کے عوض
08:27آپ ہمارے اور ان کے درمیان
08:28ایک دیوار تعمیر کر دیں گے
08:29بادشاہ نے کہا
08:30میرے قابل احترام دوستو
08:32رب نے مجھے جو کچھ دے رکھا ہے
08:33وہ بہت بہتر ہے
08:34البتہ اگر تم میری مدد
08:36قوت و طاقت سے کرو
08:38تو میں تمہارے اور ان کے درمیان
08:39ایک مضبوط دیوار تعمیر کر دوں گا
08:42سورہ کحف آیت چورانوے پچھانوے
08:44ذلقرنہ نے مشرق کی طرف رکھ کیا
08:46یہاں تک کہ جب وہ سورج کے
08:48طلوع ہونے کی جگہ پہنچے
08:49تو انہوں نے دیکھا
08:50کہ وہ ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے
08:52جسے ہم نے اس کی دھوپ سے بچنے کے لیے
08:54کوئی اوٹ مہیاں نہیں کی تھی
08:56یعنی وہ کھلے میدانوں میں رہنے کے عادی تھے
08:58جس کی وجہ سے سورج کی شوائیں
08:59ان پر براہ راست پڑتی تھی
09:01اس کے بعد انہوں نے تیسری مہم کا آغاز کیا
09:03جس کی سمت کا قرآن کریم میں کوئی ذکر نہیں
09:05تاہم مفسرین کے مطابق یہ سفر شمال کی جانب ہوا تھا
09:09یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچے
09:11تو انہوں نے ان پہاڑوں سے کچھ لوگ ملے
09:13جن کے بارے میں ایسا لگتا تھا
09:14کہ وہ کوئی بات نہیں سمجھتے
09:16بہرحال ذلقرنین نے کسی طریقے سے
09:18ان سے گفتگو کی
09:19تو وہ بولے
09:20اے ذلقرنین
09:21یاجوج ماجوج زمین میں
09:22اس فساد پھیلانے والے لوگ ہیں
09:24ناظرین جب حضرت ذلقرنین سے
09:25لوگوں نے فریاد کی
09:26کہ آپ ہمیں یاجوج ماجوج کے شر
09:28اور ان کی عیزہ رسانیوں سے بچائیے
09:30اور ان لوگوں نے
09:31اس کے عیوز کچھ مال دینے کی پیشکش کی
09:33تو حضرت ذلقرنین نے فرمایا
09:35کہ مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں ہے
09:36اللہ تعالی نے مجھے سب کچھ دیا ہے
09:38بس تم لوگ جسمانی محنس سے
09:40میری مدد کرو
09:41چنانچہ آپ نے دونوں پہاڑوں کے درمیان
09:43بنیاد خدوائی
09:44جب پانی نکل آیا
09:45تو اس پر پگلے ہوئے
09:47تامبے کے گارے سے پتھر جمائے
09:49اور لوہے کے تختیں نیچے
09:50اوپر چن کر
09:51ان کے درمیان لکڑی اور کوئلہ بھروا دیا
09:54اور اس میں آگ جلوا دی
09:55اس طرح یہ دیوار پہاڑ کی بلندی تک
09:57اونچی کر دی گئی
09:58اور دونوں پہاڑوں کے درمیان
09:59کوئی جگہ نہ چھوڑی
10:00پھر پگلا ہوا تامبہ دیوار میں پلا دیا گیا
10:03جو سب مل کر بہت ہی مضبوط اور نہایت
10:06مستحقم دیوار بن گئی
10:07قرآن مجید کی سورہ قحاف میں
10:09اس سے پہلے سفر کا ذکر ہے
10:10پھر دوسرے سفر کا تذکرہ ہے
10:21جن کے نام سام، ہام، یافس اور کنان ہے
10:24کنان طوفانِ نوح میں غرق ہو گیا تھا
10:26عرب اسے یام کے نام سے جانتے ہیں
10:28سام کے اولاد کے رنگوں میں
10:29سفید اور گندمی رنگت شامل ہے
10:31سام سے اقوامِ عرب، فارس اور روم وغیرہ پیدا ہوئے
10:35ابن عباس فرماتے ہیں
10:36کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی بھیجی
10:38کہ اے موسیٰ تُو اور تیری قوم
10:40اہلِ جزیرہ اور اہلِ الال
10:42یعنی بالائی عراق کے باشندے
10:44سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد ہیں
10:46سام کے اولاد نے بابل سے نکل کر
10:48مجول کی زمین میں قیام کیا
10:50یہ زمین کا مرکز یہی ہے
10:52اسی قوم کو اللہ تعالیٰ نے پیغمبری، نبوت
10:54کتاب شریعت، حسن و جمال
10:56گندم گونی اور گورہ رنگتہ فرمایا
10:59جمہورِ علماءِ تفسیر
11:00اور حدیث کا قول ہے کہ
11:01یاجوج ماجوج بنی نوع انسان کی
11:03دو قوموں یا دو قبیلوں کے نام ہیں
11:05جو یافس بن نوح علیہ السلام کی نسل سے
11:08اور ترکوں کے جدہ آلہ ہیں
11:10یہ نسل انسانی کے وحشی قبائل ہیں
11:12جو شمال مشرقی ایشیا میں زندگی بسر کرتے
11:14اور مغربی علاقوں میں آ کر تباہی مچائے کرتے تھے
11:17ان کے متعلق اسرائیلی روایات
11:19اور تاریخی قصے کہانیوں میں
11:20بہت سے بے سروپا اور عجیب و غریب باتیں مشہور ہیں
11:23جنہیں بعض مفسرین نے بھی
11:24تاریخی حیثے سے نکل کر دیا ہے
11:26جبکہ قرآنِ کریم اور حدیثِ مبارکہ میں
11:28اس قصے کے تعلق سے
11:30امت کو جو آگاہی فراہم کی گئی ہے
11:32وہ ہمارے لئے مستند اور مسلمہ ہے
11:34اس کے علاوہ کتب میں جو تاریخی واقعات
11:36اور جیغرافیائی اور ماہولیاتی حالات
11:38کی تفصیل بیان کی گئی ہے
11:39وہ بہت زیادہ تزاد اور اختلاف سے بھری ہوئی ہے
11:41جن کے صحیح یا غلط ہونے سے
11:43مطالق کچھ نہیں کہا جا سکتا
11:44لہٰذا ہم آپ تک وہی بات پہنچائیں گے
11:46جو قرآن و حدیث کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے
11:48اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی سورہ قحاف
11:50اور سورہ انبیاء میں یاجوج ماجوج کا ذکر فرمایا ہے
11:53جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:55نے مختلف احادیث مبارکہ میں
11:57اس واقعے کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں
11:59صحیح بخاری میں یاجوج ماجوج سے مطالق
12:01گیارہ احادیث مبارکہ ہیں
12:03صحیح مسلم شریف میں سات
12:04جام ترمیزی میں پانچ
12:06سنن نبی ماجہ میں سات
12:07مسنہ دحمد میں چھے
12:08مشکات میں چار اور ابو دعوت میں ایک حدیث ہے
12:11یاجوج ماجوج کے تعلق سے
12:12کل احادیث مبارکہ کی تعداد سیتالیس ہے
12:14یہاں آپ کو یاجوج ماجوج کے مطالق
12:16کچھ احادیث مبارکہ سناتے چلیں
12:18یاجوج ماجوج کی دیوار کو توڑنے کے بارے میں
12:20حضرت ابو حریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
12:22کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
12:25کہ یاجوج ماجوج
12:27دیوار ذلقرنین کو ہر روز کھوڑتے ہیں
12:29جب وہ دیوار میں شگاہ دالنے کے قریب پہنچ جاتے ہیں
12:31تو ان کا نگرہ ان سے کہتا ہے
12:33کہ واپس چلو
12:34کل ہم اس میں سراخ کر دیں گے
12:35ادھر اللہ تعالیٰ اسے پہلے سے زیادہ مضبوط اور ٹھوس بنا دیتا ہے
12:39اگلے روز پھر یہ کھوڑنے کے کام میں مصروف ہو جاتے ہیں
12:42چنانچہ یہ روز کھوڑتے ہیں
12:43اور اللہ تعالیٰ درست فرما دیتا ہے
12:45یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا
12:47یہاں تک کہ ان کے خروج کا وقت آ جائے گا
12:49اور اللہ تعالیٰ ان کے کھولنے کا حکم فرما دے گا
12:52جب یہ دیوار کے شگاہ کو آخری حد تک کھوڑ دالیں گے
12:55تو اس دن ان کا نگرہ کہے گا
12:56کہ انشاءاللہ تعالیٰ ہم کل اسے پار کر لیں گے
12:59حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
13:01جب وہ اگلے دن لوٹ کر آئیں گے
13:03تو اسے اسی حالتیں پائیں گے
13:05جس حالت میں چھوڑ کر کہتے
13:06پھر وہ اسے توڑ ڈالیں گے
13:07اور باہر نکل کر لوگوں پر ٹوٹ پڑیں گے
13:10سارا پانی پی جائیں گے
13:11لوگوں سے بچنے کیلئے بھاگیں گے
13:13پھر وہ اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں گے
13:15تیر خون میں ڈوبے پر واپس آئیں گے
13:17وہ کہیں گے کہ ہم زمین والوں پر
13:18اور آسمان والوں سے بھی
13:20ہم قوت و بلندی میں بڑھ گئے
13:22پھر اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں کیڑا پیدا کر دے گا
13:24جس سے وہ حلاک
13:25اسی طرح ام المومنین حضرت زینب بنت حجش
13:27رضی اللہ تعالیٰ انہا بیان فرماتی ہیں
13:30کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:32ان کے پاس تو شریف لائے
13:33تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ پریشان تھے
13:36آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
13:38اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں
13:40عرب اسی شر کی وجہ سے حلاک ہو گئے
13:42جو اب قریب آ پہنچا ہے
13:44آج یاجوج ماجوج کی دیوار اس قدر کھل گئی ہے
13:46کہ آپ نے شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کو ملا کر
13:48حلقہ بنایا
13:49حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ انہا نے عرض کیا
13:52ہم میں نیک لوگ موجود ہوں
13:54یا پھر بھی ہم حلاک ہو جائیں گے
13:55آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
13:58ہاں جب شر اور گندگی زیادہ ہو جائے گی
14:00جب فس کو فجور بڑھ جائے گا
14:02تو یقیناً بربادی ہوگی
14:03اس بیان سے متعلق صحیح بخاری کی سات احادیث
14:06حضرت زینب بن تحجیس رضی اللہ تعالیٰ انہا سے مر گئی ہیں
14:09جبکہ دو احادیث کے راوی حضرت ابو حریرہ رضی اللہ عنہ ہیں
14:12اسی طرح صحیح بخاری کے حدیث ہے
14:13کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائے
14:16کہ اللہ تعالیٰ حضرت آدم علیہ السلام سے فرمائے گا
14:19کہ اے آدم
14:19آدم کہیں گے حاضر ہوں فرما بردار ہوں
14:22اللہ تعالیٰ فرمائے گا
14:34جب بچے غم سے بوڑے ہو جائیں گے
14:37اور حاملہ عورتیں اپنا حمل گرا دیں گی
14:39اور تم لوگوں کو نشی کی حالت میں کھو دو گے
14:42حالانکہ وہ نشی کی حالت میں نہیں ہوں گے
14:43بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہوگا
14:45صحابہ کرام رضی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:48کو یہ بات بہت سخت معلوم ہوئی
14:50تو انہوں نے عرض کیا
14:51یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:53پھر ہم میں سے وہ خوش نصیب کون شخص ہوگا
14:56آن حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
14:58تمہیں خوش خبری ہو
15:00ایک ہزار یاجوج ماجوج کی قوم سے ہوں گے
15:03اور تم میں سے وہ ایک جنتی ہوگا
15:05پھر آپ نے فرمایا
15:06اس ذات کے قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے
15:08مجھے امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہوں گے
15:12رابی نے بیان کہا کہ ہم نے
15:13ہم نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی
15:15اور اس کی تقبیر کہی
15:17پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
15:19حضرت کے قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے
15:21مجھے امید ہے کہ آدھا حصہ اہل جنت کا تم لوگ ہوگے
15:24تمہارے مثال دوسری امتوں کے مقابلے میں ایسی ہے
15:27جسے کہ سیاہ بیل کے جسم پر
15:29سفید بالوں کی
15:30یعنی معمولی تعداد ہوتی ہے
15:31صحیح بخاری
15:34ناظرین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:37نے مختلف وقات میں
15:38احادیث مبارکہ کے ذریعے
15:40یاجوج ماجوج کے قروج کا وقت بتاتے ہوئے
15:42ان کے قروج کو قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی بتایا
15:45قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
15:48یاجوج ماجوج کھول دی جائیں گے
15:50اور وہ ہر بلندی سے دورتے ہوئے آئیں گے
15:53سورہ امبیاء آیت 96
15:55یاجوج ماجوج کا عروج ظہور مہدی علیہ السلام
15:58اور قروج دجال کے بعد
16:00حضرت عیسی علیہ السلام کی موجودگی میں ہوگا
16:02ان کی تعداد اس قدر زیادہ ہوگی
16:04کہ جس کا کوئی شمار نہیں
16:05ان کا بے پنہ سیلاب ایسی شدت
16:07اور تیز رفتاری سے آئے گا
16:09کہ کوئی انسانی طاقت نہیں روک سکے گی
16:11یوں معلوم ہوگا کہ ہر ٹیلے اور پہاڑ سے
16:13ان کی پوجیں فسلتی اور لڑکتی ہوئی چلی آ رہی ہیں
16:16اپنی کسرت از دھام کی وجہ سے
16:18یہ تمام بلندی اور پستی پچھا جائیں گے
16:22ناظرین قرآن و سنت کی تصریحات سے
16:24بات بلا شبہ ثابت ہے
16:25کہ یاجوج ماجوج کوئی عجیب الخلقہ چیز نہیں
16:28بلکہ نسل انسانی سے ان کا تعلق ہے
16:30اور یہ حضرت نو علیہ السلام کے اولاد میں سے ہیں
16:32ان کا سلسلہ نصب حضرت نو علیہ السلام کے فرزن
16:34یافظ سے ملتا ہے
16:36صحیح مسلم کے ایک حدیث میں
16:37اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
16:39ان کے بارے میں تفصیل بیان فرمائی ہے
16:42جو حضرت نواز بن سامان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
16:45حدیث کے شروع میں دجال کا تذکرہ ہے
16:47اور پھر یاجوج ماجوج سے متعلق تفصیل ہے
16:49نواز بن سامان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
16:52کہ یاجوج ماجوج کے بارے میں
16:54اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
16:57یاجوج ماجوج کا ظہور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد
17:00ان کی موجودگی میں ہوگا
17:01اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جانے بہی فرمائے گا
17:04کہ میں نے اپنے پیدا کی ہوئے بندوں کو باہر نکال دیا ہے
17:07ان سے جنگ کرنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے
17:09تم میری بندگی کرنے والوں کو اکھٹا کر کے
17:12کوہتور کی طرف چلے جاؤ
17:13اور پھر اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کا خروج فرما دے گا
17:16وہ ہر اونچی جگہ سے امٹتے ہوئے آئیں گے
17:19ان کے اگلی جماعتیں بحریہ تبریہ سے گزریں گی
17:22تو اس کا سارا پانی پی جائیں گی
17:23اور جب ان کی آخری جماعت گزرے گی
17:25تو کہیں گی کہ اس جگہ کسی وقت پانی تھا
17:27بحریہ تبریہ کو بحریہ گلیل بھی کہتے ہیں
17:30یہ اسرائیل میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے
17:33اس کا محید 53 کلومیٹر
17:35اور لمبائی 21 کلومیٹر
17:36اور چوڑائی 13 کلومیٹر ہے
17:37جبکہ جھیل کا کل رقبہ 166 مربع کلومیٹر ہے
17:41اس جھیل میں پانی دریا اردن سے آتا ہے
17:44یہ وہ وقت ہوگا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام
17:46اور ان کے ساتھ ہی
17:47یاجوج ماجوج کے ہاتھوں محسور ہو جائیں گے
17:49پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام
17:51اور ان کے ساتھ ہی اللہ سے دعا کریں گے
17:53تو اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کی گردنوں میں
17:55ایک کیڑا پیدا فرمارے گا
17:56جس سے یہ سب یک لخت ہلاک ہو جائیں گے
17:58اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام
18:00اور ان کے ساتھ ہی کوہتور سے نیچے اتریں گے
18:02تو زمین یاجوج ماجوج کی لاشوں سے اٹی پڑی ہوگی
18:05ایک بالش جگہ بھی ایسی نہ ہوگی
18:06جو یاجوج ماجوج کی باقیات
18:08اور بدبو سے خالی ہو
18:09پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھ ہی دعا کریں گے
18:12اور اللہ تعالیٰ بہت سے ایسے بھاری بھر کم پرندوں کو بھیجے گا
18:15جن کی گردنیں اونٹ کی گردن کی مانند ہوں گی
18:18جو انہیں اٹھا کر لے جائیں گے
18:20اور جہاں اللہ چاہے گا وہاں انہیں پھینک دیں گے
18:22پھر اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا
18:24جس سے ہر مکان شہر جنگل سمیت
18:26ساری زمین دھل کر شیشے کی مانند صاف و شفاف ہو جائے گی
18:29پھر اللہ تعالیٰ زمین کو حکم فرمایا گا
18:31کہ اپنے پیٹ سے پھلوں اور پھولوں کو گل دے
18:34اور اپنی برکت لوٹا دے
18:35پس ان دنوں ایسی برکت ہوگی
18:37کہ ایک انار پوری جماعت کے لیے کافی ہوگا
18:39اور اس کے چھلکے کی چھتری بنا کر سایہ حاصل کرے گی
18:42اور دودھ میں ایسی برکت دی جائے گی
18:44کہ ایک دودھ دینے والی گائے سے پورا قبیلہ سیر ہوگا
18:47اور ایک دودھ دینے والی بکری پورے گھرانے کی کفالت کرے گی
18:51اور دوران اللہ تعالیٰ خوشگوار ہوا بھیجے گا
18:53جس کی وجہ سے سب مسلمانوں کی بگلوں کے نیچے
18:55ایک خاص بیماری ظاہر ہوگی
18:57اور سب کی وفات ہو جائے گی
18:59صرف بد لوگ ہی باقی رہ جائیں گے
19:01جو زمین پر جانوروں کی طرح کھلی بدکاری کریں گے
19:04اور ایسے ہی لوگوں پر قیامت آ جائے گی
19:06صحیح مسلم 7373
19:10مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
19:13کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
19:16کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے دس حصے کیے ہیں
19:19ان میں سے نو حصے یاجوج ماجوج کے ہیں
19:22اور باقی ایک حصے میں ساری دنیا کے انسان ہیں
19:24معرف القرآن
19:26پھر احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا
19:28کہ سیلابی ریلے کی طرح پہاڑوں سے زمین پر
19:30یلغار کرنے والے ان بدحیت چہروں والے
19:34بہشی یاجوج ماجوج کی تعداد
19:36ایک ہزار کے نزبت سے ہوگی
19:38یعنی ایک مسلمان اور 999 جہنمی یاجوج ماجوج
19:41پھر یہ جب زمین پر اتریں گے
19:43تو خالی ہاتھ نہیں ہوں گے
19:44بلکہ ان کے پاس اس زمانے کا بہترین اسلحہ بھی ہوگا
19:47جیسے کہ حدیث میں حضرت نواز بن سمان
19:49رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
19:51کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:53نے فرمایا
19:54کہ یاجوج ماجوج اتنا اسلحہ چھوڑ کر مریں گے
19:57کہ کمانوں تیروں ڈھالوں کو
19:58مسلمان سات سو سال تک ایندھن کے طور پر استعمال کریں گے
20:02سنن نبی ماجا
20:04حدیث نمبر 4076
20:06ناظرین یاجوج ماجوج کی
20:07اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے
20:10کہ میراج کے موقع پر پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
20:14حضرت عیسیٰ علیہ وسلم سے ان کے متعلق بتایا
20:16حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
20:19کہ شب میراج
20:20رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:21نے حضرت عبراہیم علیہ وسلم سے
20:23قیامت کے بارے میں دریافت کیا
20:25لیکن انہیں علم نہیں تھا
20:26پھر حضرت موسیٰ علیہ وسلم سے پوچھا
20:28انہیں بھی اس کا علم نہیں تھا
20:30تب حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ وسلم سے
20:32بات کرنے کو کہا گیا
20:33تو انہوں نے فرمایا کہ
20:34مجھے قیامت قائم ہونے سے پہلے کی بات بتائی گئی ہیں
20:37باقی رہا کہ یہ کب آئے گی
20:38تو اس کے وقت کا علم اللہ کے سوا کسی کو بھی نہیں
20:40پھر انہوں نے دجال کے ظہور کا ذکر کیا
20:43اور فرمایا
20:43میں نازل ہو کر اسے قتل کروں گا
20:45پھر یاجوج ماجوج ہٹیلے سے تیزی کے ساتھ
20:48نیچے اتر رہے ہوں گے
20:49وہ جس پانی کے پاس سے گزریں گے پی جائیں گے
20:51جہاں سے گزریں گے تباہ و برباد کر دیں گے
20:53لوگ اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے
20:55چنانچہ میں اللہ سے دعا کروں گا
20:57کہ یاجوج ماجوج کو تباہ کر دے
20:58تب ساری زمین میں ان کی سڑاند پھیل جائے گی
21:01لوگ اللہ سے فریاد کریں گے
21:03میں بھی اللہ سے دعا کروں گا
21:04چنانچہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل فرمائے گا
21:07جو انہیں اٹھا کر سمندر میں پھینک دے گی
21:09پھر پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا
21:11اور زمین کو اس طرح کھینچ دیا جائے گا
21:14جس طرح چمڑے کو کھینچ دیا جاتا ہے
21:17مجی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا ہے
21:18کہ جب یہ واقعہ ہوگا
21:20تو قیامت اتنی قریب ہوگی
21:21جیسے وہ حاملہ جس کا وقت بالکل قریب ہو
21:23اور اس کی گھر والوں کو پتا نہ ہو
21:25کہ کب اچانک ولادت ہو جائے گی
21:27سنن نبی ماجہ چار ہزار اکیاسی
21:29ناظرین قرآن کریم کی دو صورتوں
21:31اور سیتالیس سے زیادہ احادیث مبارکہ میں
21:34یاجوج ماجوج سے متعلق
21:35جو کچھ بیان کیا گیا ہے
21:36وہی حقیقت ہے
21:38قیامت سے پہلے صد ذلقنین کا ٹوٹنا
21:41یاجوج ماجوج کا محذب دنیا پر حملہ آور ہونا
21:43اور ان سب باتوں پر یقین کرنا
21:46مسلمانوں کی ایمان کا حصہ ہے
21:47جبکہ اہل مغرب اور یہود و نصارہ کا منفی پروپیگنڈا
21:50تاثب اللہ علمی کی بنا پر ہے
21:52جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں
21:54ناظرین اب بات کرتے ہیں
21:56ذلقنین کی تعمیر کردہ دیوار کہاں ہے
21:58اس میں خاصا اختلاف ہے
21:59یہ دیوار شمال میں بنائی گئی تھی
22:01مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان علاقوں میں
22:03ابھی تک کئی ایسی دیواریں سامنے آ چکی ہیں
22:05جو بیرونی حملہ آوروں سے بچاؤں کے لیے
22:08بنائی گئی تھی
22:09سب سے مشہور دیوار دیوار چین ہے
22:11مگر وہ لوہے اور تعمیقی نہیں ہیں
22:12دوسری دیوار بخارہ اور ترمس کے قریب دربند میں ہے
22:16جو تیمول لنگ کے دور میں بھی موجود تھی
22:18کیونکہ اُس زمانے میں ایک اندلیسی قائد
22:20نے اپنے سفر نامے میں
22:21اس کا ذکر کیا ہے
22:22تیسری دیوار داغستان میں ہے
22:25یہ بھی دربند اور باب الابواب کے نام سے مشہور ہے
22:28چوتھی دیوار
22:29اسی باب الابواب سے کچھ فاصلے پر
22:31کوہ قاف قفقاز میں ایک درے کو بند کرتی ہے
22:34جو درہ دریال کے نام سے مشہور ہے
22:36یہ درہ پہاڑ کی دو بلند چوٹیوں سے گھیرا ہوا ہے
22:39ابباسی باشا واسق باللہ نے
22:41ایک رات خواب میں دیکھا کہ
22:43صد زلقنین ٹوٹ گئی ہے
22:44تو اس نے تحقیق کے لیے جو وفد بھیجا
22:46وہ بھی اسی دیوار کو دیکھنے آیا
22:47اس وفد نے یہ بھی بتایا کہ وہ دیوار
22:50لوہے اور پگلے ہوئے تامبے سے بنائی گئی ہے
22:51بیشتر مفسرین اسی دیوار کو
22:53صد زلقنین قرار دیتے ہیں
22:55کچھ لوگ کہتے ہیں کہ
22:56یاجوج ماجوج برمودہ ٹرائنگل میں ہے
22:58اور جبکہ کچھ کے نزدیک دجال
23:00اس میں موجود ہے
23:01برمودہ ٹرائنگل دراصل بحر و اقیانوس میں
23:03باقی خلائی برمودہ تکون کی طرح کا
23:06ایک پورا سرار مقام ہے
23:07اس مقام سے وابستہ چند داستانیں ایسی ہیں
23:09کے باعث اس کو شیطانی مسلس بھی کہا جاتا ہے
23:12ان داستانوں میں انسانوں کا غائب ہو جانا
23:14بحری اور فضائی جہازوں کا کھو جانا
23:16جیسے غیر معمولی اور معفوق
23:18الفطرت واقعات شامل ہیں
23:19ناظرین بحر القاہل کے
23:21ڈیول سی یا شیطانی سمندر اور بحر اقیانوس کے
23:24برمودہ ٹرائنگل میں کئی خصوصیات کے
23:26اعتبار سے مماثلت پائی جاتی ہے
23:28جو یہ سوچنے پر مجبور کرتی کہ دونوں میں
23:30ایسا تعلق ضرور ہے جو دنیا کی نظر سے
23:32پوشیدہ ہے
23:32کہا جاتا ہے کہ اس پورا اثرار جگہ پر
23:35بے شمار ہاتھ سے رونما ہو چکے ہیں
23:36یہاں یہ بات قابل جکر ہے کہ دنیا میں دو جگہیں
23:39ایسی ہیں جہاں قطب نما کام کرنا چھوڑ دیتا ہے
23:41دونوں میں ہی متعدد بحری اور
23:43ہوائی جہاز غائب ہو چکے ہیں
23:44اور تو اور ان علاقوں میں ایسے جہاز کو بھی سفر کرتے دیکھا گیا
23:47جو برسوں پہلے غرق ہو چکے ہیں
23:49دونوں میں ہی ایسی برقی لہر اور مقنتیشی
23:51کشش موجود ہے
23:52جو بڑے بڑے جہازوں کو توڑ مروڑ کر رکھ دیتی ہے
23:55امریکی میڈیا پر انہی جگہوں پر
23:57خلائی اور دیگر حقائق سامنے لانے والوں کو بھی
23:59قتل کیا جا چکا ہے
24:01رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث سے
24:03معلوم ہوتا ہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے ہی
24:05دجال پیدا ہو چکا تھا
24:07اور اب وہ اپنی رہائی کا منتظر ہے
24:09دجال کے رہنے کی جگہی غیر آباد جزیرہ ہے
24:12اس کے کارندے لمحہ بالمحہ
24:14دنیا اور انسانوں سے آگاہ کرتے رہتے ہیں
24:16دجال کو غیر معمولی طاقتیں دی جائیں گی
24:18صحیح مسلم کے حدیث کے مطابق
24:20حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے
24:23کہ جان لو کہ دجال نہ شام کے سمندر میں ہے
24:25نہ ہی یمن کے سمندر میں
24:26اب عرب سے مشرق کی جانب دیکھا جائے
24:29تو ڈیول سی یعنی شیطانی سمندر
24:31اور بحرہ اوقیانوس کے برمودہ ٹرائنگل ہی
24:34وہ دو جگہ ہیں جنہیں یہودی بھی
24:35جہنم کا دروازہ مانتے ہیں
24:37حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دونوں جگہوں کا ہی
24:39آخری سیرہ امریکہ سے جا کر ملتا ہے
24:41مصری موقع ایس اداود نے اپنی کتاب
24:44مسلس برمودہ میں کہا
24:45کہ دجال بحر القاہل کے ان غیر آباد
24:47اور بیران جزائر میں تھا
24:49اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسال تک
24:51وہ بیڑیوں میں جکڑا تھا
24:53مگر آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
24:55کے وسال کے بعد اس کی بیڑیاں ٹوڑ گئیں
24:57اور وہ آزاد ہو گیا
24:58مگر اس سے خروج کی اجازت نہیں تھی
25:01لہٰذا وہ ڈیول سی سے برمودہ ٹرائنگل تک
25:03رابطے میں ہے
25:04جس کے قریب شیطانی تہذیب پرمان چڑھ کر
25:06نقطہ عروض کو پہنچنے والی ہے
25:08یعنی یاجوج ماجوج کیا ہونے والی بات تو
25:11بلکل بنیاد ہے
25:11کیونکہ ان کو کسی دیوار میں قید کیا گیا ہے
25:14جس کی موجود کی وہاں پر ہونا کچھ ممکن نظر نہیں آتی
25:16البتہ دجال کے متعلق باتوں کو کچھ لوگ حقیقت مانتے ہیں
25:20لیکن اس کے متعلق بھی حقیقی علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کو ہے
25:23لہذا محض ان قیاس آرائیوں سے بچنا چاہیے
25:26اور انہی باتوں پر صرف یقین کرنا چاہیے
25:28جو قرآن و حدیث کے ذریعے ہم تک پہنچائی گئی ہیں
25:30ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
25:32ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
25:35ضرور پسند آئی ہوگی
25:36اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہے
25:38تو آپ سے گزارش کرتے ہیں
25:40کہ آپ ہمارے چینل کو ضرور سبسکرائب کر لیں
25:42اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
25:44تاکہ آپ کے پاس ہماری آنے والی
25:46مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹفیکشن بروقت ملتا رہے
25:49سبسکرائب کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
25:51اور اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں
25:53کمنٹس میں آپ اپنے سوالات بھی ہم تک پہنچا سکتے ہیں
25:56اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظ و مان میں رکھے
25:58آمین
Comments