Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:02اللہ تبارک و تعالیٰ کے پاکیزہ ترین نام سے آغاز کرتے ہیں
00:06جو بہت مہربان نہایت رحم والا ہے
00:08حدیث نمبر دو ہزار سات سو بتیس اور سات سو اکتیس اور بتیس
00:14یہ دونوں حدیثیں بیان ہو رہی ہیں
00:15اور صلح ہدیبیہ کا واقعہ آپ کو بیان کیا جا رہا ہے
00:19حدیث طویل ہے
00:21تو جسے جسے حدیث میں بیان کر رہا ہوں
00:23ویسے ویسے ہم اس پر تفسرہ بھی کرتے چلے جا رہے ہیں
00:26تو پچھلے پرگرام میں بات یہاں تک پہنچی تھی
00:28کہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم وادی ثنیہ تک پہنچے
00:32جس کے ذریعے مکہ کے اندر اترا جاتا تھا
00:35اور وہاں پر ایک گھڑا میں پانی موجود تھا
00:37تو صحابہ کرام نے اس پانی کو استعمال کیا
00:40لیکن تھوڑی دیر بعد ہی وہ گھڑا خالی ہو گیا
00:43تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں
00:46پیاس کی شکایت کی گئی
00:48شکایت سے مراد یہ لفظی ترجم ہے
00:50فریاد کی گئی
00:51یا رسول اللہ پانی بلکل ختم ہو گیا ہے
00:53اور اس پر میں پورا تفسرہ کر چکا ہوں
00:55کہ صحابہ کا
00:56اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کے بجائے
00:59نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر
01:02یہ کہنا ہے
01:03یا رسول اللہ پانی ختم ہو گیا ہے
01:04یہ کوئی کفر و شرک نہیں ہے
01:06کیونکہ ان صحابہ نے
01:10مانگنا اللہ سے ہی ہے
01:11وہ طلب اللہ سے ہی کر رہے ہیں
01:13لیکن وہ جانتے ہیں
01:15کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے انعامات کی تحصیل کیلئے
01:19سب سے زبردست اور بڑا وسیلہ
01:21رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم ہے
01:24تو اب دوی چیزیں تھیں
01:26یا تو سرکار بطریق موجزہ
01:27ان کی حاجت کو پورا کرتے
01:29اور موجزہ بھی اللہ کی اتاسی ہوتا ہے
01:31اور یا سرکار دعا فرماتے
01:33اور اللہ تعالیٰ آپ کی دعا کی برکت سے
01:35ان کی حاجت کو پورا فرماتا
01:37اور یہ بھی اللہ کا ہی پورا کرنا
01:39وسیلہ سرکار کے دعا بنتی
01:41اس سے معلوم ہوا کہ
01:43ہمارے جو مسلمان بہن بھائی ہیں
01:46وہ اگر کسی
01:47صحابی کی طرف متوجہ ہوئے
01:49یا تابعین کی طرف ہوئے
01:52یا اولیع عظام کی طرف متوجہ ہوئے
01:54اپنی حاجات اور مشکلات کے حل کے لیے
01:56لیکن اگر اعتقاد ان کا یہی ہے
01:59کہ کرنے والی ذات تو اللہ کی ہے
02:01وہ اگر نہ کرے
02:02تو یہ بھی کچھ نہیں عطا کر سکتے
02:05یہ صرف ایک وسیلہ ہے
02:06دے گا اللہ ہی وسیلہ یہ بنیں گے
02:09تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے
02:10اور کفر شرک کا کوئی تصور نہیں ہے
02:12جیسے کہ صحابہ اکرام علم و رضوان
02:15کیا عقیدہ تھا
02:16اور اس پر باقیدہ انہوں نے عمل بھی کیا
02:20تو انہوں نے آ کر
02:21ارس کی اصول اللہ پانی نہیں ہے
02:23فریاد کی
02:24سرکار نے ایک تیر دے دیا
02:26آپ نے پیچھے حدیث گزر چکی ہے
02:28دیکھا پڑھا تھا
02:29میں نے بیان کیا تھا
02:31کہ ایک جگہ پر جب پانی ختم ہو گیا
02:33حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ
02:34انہوں نے ارس کی اصول اللہ پانی ختم ہو گیا ہے
02:36تو آپ نے فرمایا کہ تمہارے پاس تھوڑا سا پانی ہے
02:39تو تھوڑا سا پانی جمع کیا گیا
02:41ایک برتن میں
02:42جو اس کے صرف پیندے تک تھا
02:44تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
02:46نے اپنا دست اقدس اس پانی کے اندر رکھا
02:48اور صحابہ کہتے ہیں
02:50کہ ہم نے یہ دیکھا
02:50کہ آپ کی انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہو گیا
02:53اور وہ پانی نکل کر بہنے لگا
02:56اور تمام صحابہ جتنے پیاسے تھے
02:58انہوں نے پانی پیا
02:59اپنے جانوروں کو پانی پلایا
03:01جن پر غسل جنابت تھی
03:03انہوں نے غسل کیے
03:04جنہوں نے وضو کرنا تھا
03:05وضو کیے
03:06اپنے برتن بھر لیے
03:07مشکیزیں بھر لیے
03:09پانی ویسے ہی جاری ہو ساری رہا
03:11اور جب صحابہ نے
03:12ارس کی اصول اللہ بس
03:13ہمارے لئے کافی ہے
03:14سرکار نے دست اقدس باہر نکالا
03:16تو جتنا پانی پہلے وہاں موجود تھا
03:19اب بھی اتنا ہی موجود تھا
03:21تو اس کو کہتے ہیں موجزہ
03:23موجزہ ہوتا ہی
03:24وہ کوئی بھی ایسا عمل ہے
03:25کہ جو اللہ کے نبی سے
03:28یا رسول سے صادر ہوتا ہے
03:29یعنی ظاہر ہوتا ہے
03:30اور اس کی نظیر
03:32اور اس کی مثال لانے سے
03:34لوگ آجز ہو جاتے ہیں
03:35اسے کہتے ہیں معجزہ
03:37موجزہ کا لفظی ترجمہ یہ ہے
03:39آجز کر دینے والا
03:41تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
03:43نے بہت سارے موجزات دکھائیں
03:45اور مختلف طریقوں سے دکھائیں
03:47تو کہیں تو دیکھیں اس طرح ہوا
03:50دست پانی کو بڑھایا
03:51کہیں ایسا بھی ہوا
03:53کہ کونے کا پانی بہت نیچا ہے
03:54اور آپ نے لعاب دہن اقدس
03:56اس میں ڈال دیا
03:57تو پانی جوش مارنے لگا
03:59اوپر تک آ گیا
03:59تو آپ کے لعاب دہن سے پانی بڑھ گیا
04:02اور کہیں ایسا ہوا ہے
04:04کہ آپ نے تیر دیا ہے
04:05نہ دعا کی
04:07نہ دست اقدس لگایا
04:09نہ لعاب دہن اقدس لگایا
04:11بلکہ اپنا ایک تیر دے دیا
04:13اس کو جا کے گاڑ دو
04:14انہوں نے گاڑا
04:15اور پانی ابلنے لگا
04:17اور ضروریات پوری ہو گئی
04:18اس کا مطلب ہے
04:20کہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
04:22سراپہ موجزہ ہیں
04:23آپ کا لعاب دہن اقدس
04:25آپ کا دست اقدس
04:27حتیٰ کہ آپ سے تعلق رکھنے والی چیزوں کے اندر
04:30بھی اللہ نے برکات رکھی ہیں
04:32جیسے ام المومنین اشارت فرماتی ہیں
04:35کہ سرکار جب دنیا سے تشریف لے گئے
04:37تو آپ کا ایک جبہ ہمارے پاس تھا
04:39اور جب کوئی بیمار ہوتا
04:41تو ہم اس جبے کو پانی میں بھیگوتے
04:44اور وہ پانی بیمار کو پلاتے
04:46اور اس سے اس کو شفہ حاصل ہوتی
04:48یعنی سرکار کے جسم اقدس سے لگنے والے
04:52جبہ مبارکہ میں
04:53اللہ نے اتنی برکت رکھی تھی
04:54کہ وہ پانی اگر اس سے ٹچ ہوتا تھا
04:57اس میں بھی برکت پیدا ہوتی
04:59اور وہ بیماریوں کو دور کرنے کا وسیلہ بن جاتا تھا
05:02اس کا مطلب یہ ہوا کہ
05:03جو ہمارے گھروں میں بزرگان دین کے تبرکات ہوتے ہیں
05:06کہ یہ فلان کا جی چادر ہے
05:09یہ فلان کے مزار کی کوئی چیز لے آتے ہیں
05:12تو یہ جو عقیدت اور محبت کا اظہار ہے
05:15کوئی نیا نہیں ہے
05:16یہ صحابہ اکرام علم وردوان سے چلتا چلا آ رہا ہے
05:19اور یہ
05:21مطلب کوئی
05:23عقیدہ جدیدہ
05:24نہیں ہے
05:25کہ ہم لوگوں نے اپنی
05:26بیجا عقیدت کے نتیجے میں مرتب کر لیا ہو
05:29بلکہ یہ پیچھے سے آیا
05:31اور جیسی برکات وہاں پر حاصل ہوئیں
05:34ایسی ہی برکات
05:35ہمیں بھی اس زمانے میں حاصل ہوتی ہیں
05:38اور ہو رہی ہیں
05:38اب جس کا عقیدہ نہیں ہے
05:40تو بہرحال اس کی مرضی ہے
05:41لیکن آپ غور کرو
05:42اور آگے بھی اسی طرح کا
05:44ایک عقیدے کا اظہار آپ یہ دیکھیں گے
05:47اور انشاءاللہ اس پر بھی کلام ہوگا
05:50تو انہوں نے گار دیا
05:51راوی کہتے ہیں
05:52پس اللہ کی قسم اس گڑھے میں
05:54جوش سے پانی ابلنے لگا
05:55اور لوگ اس پانی سے سیراب ہو گئے
05:58لوگ اس حال میں تھے
06:00کہ بدیل بن ورقہ الخضاعی
06:02اپنی قوم خضاعہ کے چند لوگوں کے ساتھ آیا
06:07یہ لوگ تیہامہ کے رہنے والے تھے
06:10اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رازدار
06:12اور خیرخواہ تھے
06:15یعنی ابھی ایمان نہیں لائے تھے
06:17اور یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے
06:20حلیف تھے
06:21ان سے حلف ہوا تھا
06:22ایک معایدہ ہوا تھا
06:24کہ تم مسلمانوں کے خلاف نہیں جاؤ گے
06:26مسلمان تمہارے خلاف نہیں جائیں گے
06:27اور مسلمانوں کے ضرورت ہوگی
06:29تو تم ساتھ دوگے
06:31اور تمہیں ضرورت ہوگی تو مسلمان ساتھ دیں گے
06:33تو یہ لوگ وہاں پر آئے
06:35انہوں نے بتایا
06:36کہ میں نے اپنے پیچھے
06:38قعب بن لعی اور عامر بن لعی کو چھوڑ کر آ رہا ہوں
06:43یہ لوگ ہدیبیہ کے پانی کے گرد
06:46ڈیرہ ڈال چکے ہیں
06:47اور ان کے ساتھ دودھ دینے والی اونٹنیاں
06:51اپنے بچوں کے ساتھ ہیں
06:53یعنی کفار کے بارے میں بتایا
06:55کہ یہ لوگ وہاں پر ہیں
06:56تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارت فرمایا
06:59کہ ہم یہاں کسی سے جنگ کرنے نہیں آئے
07:01بلکہ ہم یہاں عمرہ کرنے آئے ہیں
07:04لیکن واقعہ یہ ہے
07:06کہ جنگوں کے تسلسل نے
07:08قرائش کو کمزور کر دیا ہے
07:10اور ان کو نقصان اٹھانا پڑا ہے
07:12پس اگر وہ چاہیں
07:14تو میں انہیں ایک مدت تک
07:16صلح کی محلت دوں
07:18اور وہ میرے اور لوگوں کے درمیان
07:21نہ پڑے
07:21یعنی اب یہ سرکار فرما رہے ہیں ان کو
07:25حضرتِ بدیل کو
07:26جو بعد میں ایمان لائے
07:28ان بدیل سے فرما رہے ہیں
07:30کہ اگر قرائش
07:32کیونکہ بڑے کمزور ہو چکے ہیں
07:34اگر چاہیں تو میں ان کے ساتھ ایک صلح کر سکتا ہوں
07:36اور یہ کہنے کا مقصد یہ تھا
07:38کہ سرکار جانتے تھے کہ یہ پھر جا کر
07:40ان سے بات کریں گے
07:42اور سرکار نے فرمایا کہ صلح
07:44میں ان سے چاہیں تو ایک مدت تک
07:46صلح کی محلت دوں اور وہ میرے اور لوگوں کے درمیان
07:48نہ پڑے
07:50پھر اگر میں اپنے میں کامیاب ہو جاؤں یعنی جو میں مشن لے کر آیا ہوں
07:54مسلمان ہوتے جائیں لوگ اور اللہ تعالی دین کو غلب عطا فرما دیں
08:00تو پھر وہ دین اسلام میں داخل ہو جائیں جس طرح دوسرے لوگ داخل ہوئے ہیں
08:05سو اگر وہ چاہیں تو ایسا کر لیں
08:07اور اگر
08:09سرکار نے فرمایا میں کامیاب نہیں ہوتا
08:11یعنی بالفرض
08:12کیونکہ یہ تو اللہ کا وعدہ تھا کہ دین سب پر غالب آئے گا
08:15اور نبی کریم کامیاب ہی ہوں گے
08:17سرکار فرماتے ہیں کہ بالفرض میں کامیاب نہ بھی ہوا
08:20تو وہ جنگ کی کوت سے آرام پالیں گے
08:23اور اگر انہوں نے اس کا انکار کیا
08:25تو ذات کی قسم جس کے قبض و قدرت میں میری جان ہے
08:28میں اپنے دین کے تحفظ کے لیے ان سے لڑتا رہوں گا
08:32حتیٰ کہ میرا سر تن سے جدہ ہو جائے
08:36اور اللہ ضرور اپنے دین کو غلبہ عطا فرمائے گا
08:40یہ ایک جو مختصر سرکار نے بات فرمای
08:43یہ بہت پیاری بات ہے
08:45اس میں بڑی حکمتیں ہیں
08:47کفار قریش کمزور ہو چکے تھے
08:50اور ربی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے
08:52کہ ابھی اگر جنگ ہوتی بھی ہے
08:54تو لڑنے کے قابل تو ابھی بھی نہیں ہے
08:56لیکن ہم جنگ کرنے نہیں آئے
08:58ہم مرا کرنے آئے تو نقصان ہوگا
09:00تو بہتر یہ ہے کہ ایک صلح کا پیغام دے دیا جائے
09:03تو جب مسلمان حالت جنگ میں نہ ہوں
09:06ان کے پاس جنگی ساز و سامان نہ ہو
09:09اور صحیح مسلحت ہو
09:10تو کفار کے ساتھ صلح کر لینے میں
09:13کوئی حرج نہیں ہے
09:15یہ جو آج کل ہماری ایک خارجہ پولیسی ہوتی ہے
09:20کس کے ساتھ اتحاد کرنا ہے
09:22کس کے ساتھ اتفاق کرنا ہے
09:24کس کے ساتھ نہیں کرنا
09:25اور یہ خلی اس کے اہل لوگ جو اپر لیول پر ہوتے ہیں
09:28وہی اس کے فیصلے کرتے ہیں
09:29تو یہ جو صلح بعض اوقات کی جاتی ہے
09:32بعض اوقات بہت بڑا دشمن ہوتا ہے
09:33مثلا دشمن اسلام ہے
09:35مسلمانوں کا سخ دشمن ہے
09:37لیکن پھر بھی صلح کر لی جاتی ہے
09:38تو اس کی اصل اسی قسم کے حدیثیں ہیں
09:41کہ یہ صلح کو ڈر کر نہیں ہوتی ہے
09:43بلکہ حکمت کے تحت ہوتی ہے
09:45صلح حدیبیہ
09:46جو اس وقت سرکار نے فرمائی تھی
09:49اس سال
09:49اس کا فائدہ پھر اگلے سال ہوا
09:51کہ سرکار عمرے کے لئے تشریف لائے
09:53اور تمام کفار پر آپ کی دھاگ بیٹھ گئی
09:56اور یہی چیز پھر آگے غلبہ اسلام کا سبب بنی
10:00لہذا
10:01یہ جو بعض اوقات
10:02وہی بات ہے جو میں آپ کو بار بار عرص کرتا ہوں
10:05کہ ہم گھر میں بیٹھ کر تفسریں کر رہے ہوتے ہیں
10:07ارے بھائی یہ کیوں
10:08ایسا کیوں نہیں کر لیتے
10:10ایسا کیوں نہیں کر لیتے
10:11ہم نے یہ ہتھیار بنایا کیوں تھا
10:13کہہ رکھنے کے لئے بنایا تھا
10:14حملہ کر دو
10:16جنگ میں کبھی کوئی بھلائی نہیں ہوتی
10:17اگر دو چار بمی پڑ جائے نہ
10:20کسی کے ٹانگیں اڑ جائیں گی
10:21کسی کے آنتیں باہر نکل جائیں گی
10:23آج کل تو آپ کو پتا ہے
10:24کہ ڈرونز کے ذریعے اور
10:26میزائل پھیکے جاتے ہیں
10:27دو بودو جنگ تو بہت ہی کم ہوتی ہے
10:29اور ایک میزائل آکے گرتا ہے
10:31تو جسم ایسے اڑ جاتے ہیں
10:32جیسے ریت کے ذرات
10:34ٹکڑے ٹکڑے ہو کر
10:35تو پھر جو جنگ کی تمنہ کرنے والے ہیں
10:37یہ ایسے اب دم دبا کر بھاگیں گے
10:39کہ نظر بھی نہیں آئیں گے
10:40اور اپنے پیارے کو جب جسم کے ٹکڑے ٹکڑے اڑتا دیکھتا ہے آدمی
10:44تو اس کی حالت خراب ہو جاتی ہے
10:46لیکن میں کوئی بزدلی کی بات نہیں کر رہا ہوں
10:48مومن شہادت چاہتا ہے
10:50ہم لڑنے سے نہیں ڈرتے ہیں
10:52اللہ کے بڑا کرم ہے
10:53کہ مسلمان قوت ایمانی رکھتے ہیں
10:56لیکن خامحہ کی جنگ کو دعوت دینا
11:05آپ فرض کہلیں ایک ٹرک آ رہا ہو
11:07آپ روڈ کے بیچ میں کھڑے ہو جائیں
11:09اور کہیں کہ میں کوئی ڈرتے ہو کوئی ہوں اس ٹرک سے
11:12یہ آئے ذرا سامنے میں ٹکرا جاؤں گا
11:14بتائیں آپ کو کوئی سمجھدار کہے گا
11:16یا بے وقوف کہے گا
11:17کیا ضرورت ہے آپ کا روڈ کے بیچ میں آنے کی کونسی حکمت ہے اس میں
11:20اور ٹرک سے ٹکرائیں گے
11:22تو آپ کا تو انجامی خراب ہونا ہے
11:24تو یعنی خامخام
11:26کسی کو آ بیل مجھے مار جس کو کہتے ہیں
11:28یہ ہمیشہ ٹھیک نہیں ہوتا
11:30اپنے نبی سے سیکھیں
11:32سرکار نے فرمایا کہ اگر یہ قریش چھاں ہیں
11:34تو میں ان سے صلاح کر لیتا ہوں
11:36اور پھر دو چیزیں ہوں گی
11:38کہ اللہ تعالی مجھے غلباتہ فرمائے گا
11:40اور وہ تھا ہی
11:41ان سرکار کو پتا تھا
11:42اللہ نے بشارت دے دی تھی
11:44فتح مکہ کی
11:45تو پھر یہ اسلام میں داخل ہو جائے
11:47جیسے دوسرے ہیں
11:48تو ان کے لئے امن ہی امن ہوگا
11:56ترہی نہیں ہوگا
11:56یعنی قلاصے کلام یہ
11:58کہ ٹکرانے کا کوئی فائدہ نہیں
11:59اگر صلح کر لیں گے
12:00تو ان کا فائدہ ہے
12:02اور سرکار نے فرمایا
12:03کہ اللہ تعالی اس غلبہ اسلام کو
12:05اسلام کو غلبہ ہی دے گا
12:07اور میں اپنے دین کی تحفظ کے لئے
12:09لڑتا رہوں گا
12:09تک کہ میرا سر تن سے جدہ ہو جائے
12:12یہ ہے بہادری
12:14یعنی اس کا مطلب یہ ہوا
12:15کہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
12:17ماد اللہ کوئی ڈر کر
12:18کوئی گھبرا کر
12:20کسی خوف کے تابع ہو کر
12:22یہ فیصلے نہیں کر رہے ہیں
12:23بلکہ ارادہ تو یہی ہے
12:25کہ اسلام کو غلبہ دیا جائے گا
12:26لیکن یہ موقع ایسا نہیں ہے
12:28صرف عمرے کے لئے صحابہ
12:29احرام پہن کر آئے ہوئے ہیں
12:31اور اس وقت
12:32جب جنگ کا
12:34کی تیاری بھی نہیں ہے
12:36اسلاحہ بھی نہیں ہے
12:37اور ٹکرا جانا
12:37اپنے آپ کو حلاکت میں مبتلا کرنا ہے
12:40وَلَتُلْكُو بِأَيْدِيكُمْ اِلَى تَحْلُقَ
12:42اپنے آپ کو جان بوچ کر
12:44حلاکت میں مبتلا نہ کرو
12:46تو لہذا رحمتِ قورنس صلی اللہ علیہ وسلم
12:48نے ساری بات بیان فرمائی
12:50پس بودیل نے کہا
12:52کہ میں انقریب آپ کا پیغام
12:53ان کو پہنچا دوں گا
12:55یہی مقصد تھا سرکار کا
12:57کہ تم جاؤ اور جا کے پیغام پہنچاؤ
12:59پھر بودیل واپس گیا
13:01اور قریش کے پاس پہنچا
13:02اور کہا کہ میں تمہارے پاس
13:03اس شخص کی طرف سے آیا ہوں
13:05اور میں نے سنا
13:06کہ انہوں نے ایک پیشکش کی ہے
13:08اگر تم لوگ چاہو
13:10تو ہم تمہارے سامنے اس کو بیان کریں
13:12تو ہم بیان کر دیتے ہیں
13:14تو قریش کے جاہلوں نے کہا
13:16ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے
13:18کہ تم ہمیں کسی چیز کی خبر دو
13:20اور قریش کے بردبار
13:22سمجھدار لوگوں نے کہا
13:24کہ تمہیں بتاؤ وہ تم سے کیا کہہ رہے تھے
13:27تو پھر ہم کوئی فیصلہ کرتے ہیں
13:29اب یہ دیکھیں اندادہ کریں
13:31یہ حدیث کے اندر دونوں الفاظ ہیں
13:33کہ جاہلوں نے کہا
13:34ہمیں نے سننے جاؤ یہاں سے
13:35یہ ہوتا ہے جوش کی بات
13:37یہ ہوتا ہے بغیر سوچے سمجھے
13:39فوراں کوئی فیصلہ کر لینا
13:40اور اس سے ہمیشہ نقصان ہوتا ہے
13:42گھروں کے اندر بھی آپ دیکھ لیں
13:44اگر پیرنٹس سوچے سمجھے بغیر
13:46ایک بچوں کہیں نکل جاؤ یہاں سے
13:48کسی بچی کے بارے میں
13:49بہو کے بارے میں کوئی فیصلہ کر لیں
13:51اور فوری طور پر
13:52اتنے غلط فیصلے ہوتے ہیں
13:53کہ پورا کا پورا گھر تباہ ہو جاتا ہے
13:55اور بعد میں پشتانہ پڑتا ہے
13:57ایسی جو بغیر سوچے سمجھے
13:59دوستیاں رشتہ داریاں ختم کر دیتے ہیں
14:01بعض لوگ ریزائن کر دیتے ہیں
14:04مجھے نہیں کرنے نوکری
14:05ذرا سا جوش چڑا اور نکل گئے
14:07اور پھر اچھی نوکری ملتی نہیں
14:08اور وہ پشتاتے رہتے ہیں
14:10اور ایسی یہ گھر میں
14:11طبعہ کاریاں کر کے پشتاتے رہتے ہیں
14:13اس لیے سوچ سمجھ کے فیصلہ کرنا چاہئے
14:16تو جاہلوں نے
14:17جاہلوں کا لفظ کہا گیا
14:19کہ جو حالہ نے کہا
14:20ہمیں بات نہیں سننے جاؤ یہاں سے
14:21لیکن جو بردبار تھے
14:23انہوں نے کہا
14:23ہاں ٹھیک ہے بیان کرو
14:25وہ کیا چاہتے ہیں
14:26تاکہ ہم دیکھیں
14:27اس پر عمل کرنا چاہئے
14:28یا نہیں کرنا چاہئے
14:32چنانچہ بردبار لوگوں نے کہا
14:33کہ تم ہمیں بتاؤ
14:34وہ تم سے کیا کہہ رہے تھے
14:35تو میں نے ان کو بتایا
14:37بدیل کہتے ہیں
14:38میں نے ان کو بتایا
14:39کہ وہ اس اس طرح کہہ رہے تھے
14:41اور بدیل نے ان کو بتایا
14:42کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
14:50پہلے تو انہوں نے تمہید باندھی
14:51ایک بات کی
14:52اور وہاں بن مسعود جو ان کی طرف سی تھے
14:55کہ کیا تم باپ کی طرح
14:56مجھ پر شفیق نہیں ہو
14:59اور کیا میں بیٹے کی طرح
15:01تمہارا خیرخواہ نہیں ہوں
15:04نیز کہا کہ کیا تم مجھ پر
15:05کوئی تحمت لگاتے ہو
15:07یعنی کبھی میں نے کوئی دھگا بازی کی ہو
15:09جھوڑ بولا ہو تمہارے ساتھ
15:11امانت میں خیانت کی ہو
15:13لوگوں نے کہا کہ نہیں
15:15یعنی اقرار کیا
15:17کہ نہیں ہاں واقعی تم ہمارے خیرخواہ ہو
15:19ہم بھی تم سے پیار کرتے ہیں
15:20اور تم نے کبھی کوئی خیانت وغیرہ نہیں کی
15:23پھر کہا کہ کیا تم کو معلوم نہیں
15:25کہ میں نے اہلِ اوقاز کو
15:26تمہاری مدد کیلئے بلایا تھا
15:28اور جب وہ نہیں آئے
15:30تو میں اپنے گھر والوں کو
15:31اور اپنے بیٹوں کو
15:32اور اپنے خدام کو لے کر
15:34تمہارے پاس آیا
15:36یعنی یہ عربہ بن مسعود نے کہا
15:38کہ میں اتنا مخلص ہوں
15:40کہ جب اہلِ اوقاز نے تمہاری بدد نہیں کی
15:42تو میں آگیا تھا
15:43اپنے گھر والوں تک کو لے کر
15:44لوگوں نے کہا ہاں کیوں نہیں
15:46تو اس شخص نے تمہارے سامنے
15:48پھر انہوں نے کہا
15:49کہ تو اس شخص نے تمہارے سامنے
15:51ایک نیک پیشکش کی ہے
15:53تم اس کو قبول کر لو
15:55اور مجھے اس کے پاس جانے دو
15:58یعنی میرا مشفرہ یہ ہے
15:59کہ قبول کرو
16:00اس میں فائدہ نظر آرہا ہے
16:01اور اگر چاہو
16:02تو میں اتمنان کیلئے جاتا ہوں
16:04اور ان سے بات کرتا ہوں
16:05لوگوں نے کہا
16:06کہ تم اس کے پاس جاؤ
16:07عروہ بن مسعود کو کہا
16:09کہ تم اس نبی کے پاس جاؤ
16:11پس وہ نبی کے پاس آئے
16:13اور ان سے گفتگو شروع کی
16:14آپ نے اس سے وہی باتیں کی
16:17جو آپ بدائل سے فرما چکے تھے
16:20اس وقت عروہ نے کہا
16:22کہ اے محمد
16:22یہ بتاؤ کہ اگر آپ نے
16:25اپنی قوم کو جڑ سے اکھار دیا
16:27تو کیا آپ نے اس سے پہلے یہ سنا ہے
16:30کہ کسی عرب نے اپنی قوم کو
16:32جڑ سے اکھار دیا ہو
16:34یعنی یہ تو اچھی بات نہیں ہوگی
16:36کہ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا
16:37کہ کسی نے اپنے ہی قبیلے
16:39اور اپنے ہی قوم کو
16:40تباہ و برباد کر دیا ہو
16:42یہ بات تو مناسب نہیں ہوگی
16:43اور اگر دوسری صورت ہوئی
16:46یعنی اگر آپ ہم پر غالب نہ آسکے
16:49تو بے شک اللہ کی قسم میں
16:51ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں
16:53اور میں لوگوں کی ایسی جماعت دیکھ رہا ہوں
16:56جو بھاگ جائیں گے
16:58اور آپ کو چھوڑ کر چلے جائیں گے
17:01یعنی عربہ من مسعود نے
17:02ایک نفسیاتی مادلہ حملہ کیا
17:04کہ اگر آپ غالب آئے
17:06تو یہ بڑی بے مروتی کے بات ہوگی
17:08لوگ کہیں گے اپنی قوم کو تباہ کر دیا
17:10اور اگر ہم غالب آگئے
17:12تو یہ جو آپ کے ساتھ ہیں
17:13یہ بھاگ جائیں گے آپ کو چھوڑ کر
17:15تو اس پر سرکار نے کیا فرمایا
17:18اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
17:20نے کیا تفسرہ کیا
17:21یہ انشاءاللہ نیکس پروگرام میں
17:23وآخر دعوانا
17:24ان الحمدللہ رب العالمين

Recommended