Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:01Bismillah ar-Rahman ar-Rahim
00:03Allah tb. wa ta'ala کے پاکزہ نام سے آغاز کرتے ہیں
00:06جو بہت مہربان نہایت الرحم والا ہے
00:09درس بخاری کا سلسلہ جاری و ساری ہے
00:12اور الحمدللہ ہم کتاب الشروط تک پہنچے ہیں
00:15اور پشلے پروگرام میں
00:212729 نمبر حدیث پاک
00:2330 نمبر حدیث پاک فکر کی تھی
00:25اور انشاءاللہ آج 2731
00:29اور 2732 ہی حدیث پاک پر کلام ہوگا
00:34امام بخاری نے ان دونوں حدیثوں کو
00:36ایک ہی جگہ جمع کیا ہے
00:39کیونکہ راوی بعض وقت
00:40جیسے ایک استاد سے
00:43آپ نے سیکھی حدیث لی
00:45پھر دوسرے استاد سے لی
00:46اس کی سنت تھوڑی سی مختلف ہوتی ہے
00:49اس کی تھوڑی سی مختلف
00:50لیکن آگے مطن ایک ہی جیسا ہوتا ہے
00:53تو پھر وہ اس کو دو حدیثیں کر کے پیش کرتے ہیں
00:57چنانچہ
00:58مروی ہے کہ
00:59عروہ بن زبیر
01:01نے
01:02مصور بن مخرمہ
01:04اور مروان سے یہ روایت کی
01:06ان میں سے ایک اپنے صاحب کی تزدیک کرتا ہے
01:10ان دونوں نے یہ باقیہ بیان کیا
01:12اس کا خلاصت تھوڑا سن لیں
01:14کیونکہ یہ بہت ہی طویل حدیث ہے
01:16جو اس کی کتاب کے تقریباً
01:18چار پانچ صفات پر مشتمل ہے
01:20اور اس میں صلح حدیبیہ کا اصل میں واقعہ ذکر ہوا
01:24کہ کیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر فرمایا
01:27اور کس طرح کیا کیا حالات بیچ میں آئے
01:30کیسے صلح حدیبیہ ہوئی اور کیسے سرکار باہر تشریف لائے
01:34اب چونکہ یہ بہت ہی طویل حدیث ہے
01:36اگر میں اس کو پورا بیان کر کے پھر اس پر تفسرہ کرنا شروع کروں گا
01:39تو بہت ہی لمبا ہوگا
01:40اس لئے میں حدیث بیان کرتا جاؤں گا
01:43اور اس پر جو جو چیزیں قابل تفسرہ ہیں
01:46قابل وضاحت ہیں
01:47اس پر انشاءاللہ ہم درس ارس کرتے رہیں گے
01:50تو یہ دونوں بیان کرتے ہیں
01:52کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
01:54حدیبیہ کے زمانے میں نکلے
01:57یعنی صلح حدیبیہ کے زمانے میں مدینہ سے نکلے
02:01حتی کہ جب راستے میں ایک مقام پر پہنچے
02:04تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے
02:08صحابہ اکرام سے فرمایا
02:09کہ خالد بن ولید ہماری نقل و حرکت کی جاسوسی کے لیے
02:14مقام غمیم میں قریش کے سواروں کے ساتھ
02:18بطور مقدمت الجیش ہے
02:22اس وقت تک حضرت خالد بن ولید ایمان نہیں لائے تھے
02:26کفار کے ساتھ تھے
02:27اور وہ ان کو پتا چلا تھا
02:29کسی طرح کے ایسے کہ کوئی کافلہ نکلا ہے
02:32تو وہ اس کی ڈھونڈ تلاش میں تشریف لائے
02:35اور اس وقت ان کے ساتھ کئی اور لوگ بھی تھے
02:39اور اگر یہ مسلمانوں کے کافلے کا ان کے ساتھ سامنا ہو جاتا
02:43تو وہ حملہ کر دیتے
02:44یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غیبی خبر دی
02:48کہ ابھی وہ سامنے بھی نہیں ہیں
02:50فرمایا کہ وہ خالد بن ولید آگے ہیں
02:51اور مقام غمیم میں ہیں
02:54اور بطور مقدمت الجیش
02:58مقدمت الجیش جیش کہتے ہیں لشکرکر
03:00مقدمہ کہتے ہیں آگے ہونے والے
03:02یعنی اس گروہ کو کہتے ہیں
03:05اس گروہ کو طائفہ بھی کہتے ہیں عربی میں
03:07تو وہ گروہ جو کافلے کے آگے آگے چلتا ہے
03:11اور اس کا مقصود یہ ہوتا ہے
03:13کہ پیچھے آنے والوں کے لیے آسانی فراہم کرے
03:17اسے کہتے ہیں مقدمت الجیش
03:19اس لئے کتابوں کے اندر بھی آپ نے دیکھا ہوگا
03:22شروع میں لکھا ہوتا ہے
03:23مقدمہ پھر آگے کتاب سٹارٹ ہوتی ہے
03:26تو یہ مقدمت الجیش سے ہی اس کو نکالا گیا ہے
03:29کہ جیسے ایک لشکر کے آگے کچھ لوگ چلتے ہیں
03:33جو اگر لڑائی کے لیے ہیں
03:35تو وہ جا کے اچھی زمین دیکھتے ہیں
03:36اور لوکیشن دیکھتے ہیں
03:38کہ کہاں پہ رہ کے ہمیں جنگ کرنی چاہیے
03:40قریب پانی ہے یا نہیں ہے
03:42تو وہ آگے جا کر بڑے ماہر ہوتے ہیں
03:44تو وہ ایسی جگہ کے انتخاب کرتے ہیں
03:47تو پورے لشکر کو آسانی ملتی ہے
03:49تو اس کو کہتے ہیں مقدمت الجیش
03:51تو کتاب کے شروع میں بھی وہ کتاب کا حصہ
03:55جو آگے پوری کتاب کو سمجھنے میں آسانی فراہم کرتا ہے
04:00اسے بھی مقدمہ کہا جاتا ہے
04:02تو بہرحال مقدمت الجیش جو تھے وہ خالد بن ولید تھے
04:06سرکار نے فرمایا
04:07کہ خالد بن ولید ہماری نقل و حرکت کی جاسوسی کے لیے
04:11مقام غمیم میں قریش کے ساوروں کے ساتھ
04:15بطور مقدمت الجیش ہے
04:17لہٰذا تم لوگ دائیں طرف کے راستے سے چلو
04:21یعنی وہ اس طرف سے آ رہے ہیں
04:23تو یہاں سے نکل جاؤ
04:24یا ادھر سے آ رہے ہیں تو اس طرف سے نکل جاؤ
04:26تاکہ ہمارا سامنا نہ ہو
04:28اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے
04:30کہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
04:32نے کیوں سیدھا راستے اختیار نہیں کیا
04:35ہو جاتا سامنا
04:36تو مقابلہ ہو جاتا
04:38اس میں کیا تھا
04:38یہ بہادری تھی
04:40لیکن رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
04:42نے راستہ بدل لیا
04:44تو کیا رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
04:46ماذا اللہ سمہ ماذا اللہ
04:48ڈر گئے تھے
04:49آپ خوف زدہ تھے
04:51یا مسلمانوں میں لڑنے کی صلاحیت نہیں تھی
04:54ایسا کوئی مسئلہ نہیں تھا
04:56اسی نقطے کو بہت زیادہ سمجھنا چاہئے
04:58اور ہماری جنگ جنرنیشن کو خاص طور پر
05:01کہ بعض اوقات
05:03کوئی اگر حکمت اختیار کرتا ہے
05:05تو فوراً اس کو بزدلی کا نام دے دیا جاتا ہے
05:08حالانکہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
05:11بلکہ ہر نبی اور ہمارے نبی تو بدرجہ اولا
05:14کبھی کسی مخلوق سے نہیں ڈرتے ہیں
05:16ان کی تائید
05:18ان کی مدد
05:19ان کی نصرت
05:20برائرازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے
05:22اور نبی کبھی خوف زدہ نہیں ہوتا
05:24کبھی ڈرتا نہیں ہے
05:25وہ ہمیشہ مضبوط رہتا ہے
05:28اب رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ بدلنا
05:31اس کا مطلب یہ ہوا کہ بزدلی کی بنا پر نہیں تھا
05:33حکمت کی بنا پر تھا
05:35کیونکہ آپ لوگ عمرے کے لئے روانہ ہوئے تھے
05:38اور مقصود جنگ نہیں تھی
05:39تو اب اگر آمنہ سامنا ہو جاتا
05:42تو مسلمان ڈرتے کسی سے نہیں تھے
05:44نہ سرکار ڈرتے تھے
05:45لیکن یقیناً ان کے پاس تلوارے تھیں
05:47ہتیار تھے
05:48تو اس طرف زیادہ نقصان کا اندیشہ تھا
05:50اور جب جنگ کرنا ہی مقصود نہیں ہے
05:53تو پھر خامہ خامہ کسی کے ساتھ مدھر کر کے
05:56اور اپنے لوگوں کو شہید کروانا
05:59یہ ایک اچھے لیڈر کی شنافت اور پہچان تو نہیں ہے
06:01لہذا معلوم یہ ہوا
06:03کہ بساوقات انسان حکمت اختیار کرتا ہے
06:06اور عام نظر رکھنے والے
06:09اس کو فوراً بزدلی کا نام دے دیتے ہیں
06:12جو غلط ہوتا ہے
06:13ہر گھر کے اندر خاندان کے اندر
06:15بعض اوقات بڑے ایسا فیصلہ کرتے ہیں
06:17کہ چھوٹے کہتے ہیں
06:18کہ آپ کے ڈر گئے ہیں
06:19کہ ہم ڈرتے ہیں
06:20ایسی بعض برادری کے جو
06:22ینگ جنریشن ہوتی ہے
06:23وہ کہتے ہیں کہ ہم ڈرتے ہیں فلان سے
06:25ہم ایسا کریں گے ویسا کریں گے
06:26بڑے حکمت کے ساتھ فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں
06:29اسی طریقے سے
06:31آج کے دور میں
06:32بہت سارے امور ایسے ہیں
06:34کہ جو اکابر علماء کرام ہوتے ہیں
06:37جن میں لیڈرشپ کی صلاحیت ہوتی ہے
06:39وہ اپنی پوری کمیونٹی
06:41اپنی پوری قوم کے لیے کچھ فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں
06:44تو پھر نیچے والے کچھ ایسے ہوتے ہیں
06:46جو صاحبِ حکمت نہیں ہوتے
06:48صاحبِ فاہم و فراست نہیں ہوتے
06:50وہ کہتے ہیں کہ
06:51یار یہ بڑے کیسے ہمارے اوپر آ کر بیٹھ گئے ہیں
06:53بزدلیں بلکل ڈر پوک ہیں
06:55انہیں اس وقت یہ کرنا چاہیے تھا
06:56انہیں یہ کرنا چاہیے تھا
06:58ایسے نوجوانوں کو ذرا
07:00ان واقعات کے بارے میں سوچنا چاہیے
07:02آج کے دور میں جو بھی آپ کے اکابر ہیں
07:05ان کے سب سے بڑے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
07:09اور رحمتِ قونین صلی اللہ علیہ وسلم نے
07:11ہر ایسے موقع پر
07:13کہ جہاں حکمت اختیار کرنا ہی بہتر تھا
07:15آپ نے حکمت اختیار کی
07:17جذبات کے تابع ہو کر فیصلے نہیں کیے ہیں
07:21مکہ کے اندر تیرہ سال تک
07:23رحمتِ قونین صلی اللہ علیہ وسلم نے
07:25مسلمانوں کو تلقین کی
07:26کہ اپنے اسلام کا اظہار نہ کریں
07:29جب آپ حجرت فرمانے لگے
07:31تو دن دھاڑے نہیں نکلے تھے
07:33رات کے اس پہر نکلے
07:35جب آپ کو یقین تھا
07:36کہ کفار گہرینین سورے ہوں گے
07:38تو ہم آرام سے نکل جائیں گے
07:40غارِ ثور میں جب کفار اوپر تھے
07:42تو رحمتِ قونین صلی اللہ علیہ وسلم نے
07:45کوئی ایسا نہیں کیا
07:46کہ باہر نکل کے مقابلہ کیا ہو
07:48بلکہ بالکل آرام سے بیٹھے رہے
07:50حتیٰ کہ وہ چلے گئے
07:53ایسے ہی مدینہ منورہ آ کر
07:54آپ نے یہود کو فورا نہیں نکالا
07:56بلکہ ان سے معاہدہ کیا
07:58پھر انہوں نے وعدہ خلافی کی
07:59تو رحمتِ قونین صلی اللہ علیہ وسلم
08:01نے ان کو جلہ وطن کیا
08:03ایسی عرصہ دراست تک
08:05منافقین آپ کے ساتھ رہے
08:06اور رحمتِ قونین پہچانتے بھی تھے
08:08لیکن حکمِ الٰہی کا انتظار فرماتے رہے
08:11اور ان کو برداشت کرتے رہے
08:14تو اب ان تمام امور کے اندر
08:15تھوڑا سا غور کر لیں
08:16کہ کیا کوئی یہ کہے گا
08:18کہ رحمتِ قونین صلی اللہ علیہ وسلم
08:20نے بزدلی
08:20یا ماذا اللہ
08:21در کی بنا پر یہ سارے معاملات کیے تھے
08:24نہیں
08:24اس کو حکمت کہتے ہیں
08:25اس لئے سمجھئے گا
08:26تو سرکار نے شاہد فرمایا
08:28کہ یہ خالد بن ولید ہے
08:30جو ہماری نقل و حرکت کی جاسوسی کے لیے
08:32مقامِ غمیم میں
08:33قریش کے سواروں کے ساتھ
08:36بطورِ مقدمتِ الجیش ہے
08:38لہٰذا تم لوگ
08:39دائیں طرف کے راستے سے چلو
08:41رابی کہتے ہیں
08:42کہ پس اللہ کی قسم
08:44خالد کو
08:45مسلمانوں کے لشکر کا
08:47بلکل پتہ نہیں چلا
08:48حتیٰ کہ جب انہوں نے
08:50مسلمانوں کے لشکر کا غبار
08:52اٹھتے ہوئے دیکھا
08:53تو وہ گھوڑا دوڑاتے ہوئے
08:55قریش کو خبردار کرنے کے لیے
08:57روانہ ہوئے
08:58یعنی مقافلہ نکل بھی گیا
09:00پھر ان کو دور سے جب غرد و غبار
09:02نظر آیا
09:03وہ حیران ہو گئے
09:04کہ میرے پاس سے چلے کیسے گئے
09:06تو انہوں نے پھر دوسرا راستے
09:07اختیار کر کے قریش کو بتایا
09:08کہ مسلمانوں کے لشکر آ رہا ہے
09:11اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
09:13چلتے رہے
09:14حتیٰ کہ جب آپ وادی سنیہ پر پہنچے
09:17جہاں سے مکہ میں داخل ہونے کے لیے
09:21اترتے ہیں
09:22تو آپ کی سواری بیٹھ گئی
09:24آپ کی اونٹنی کا نام پسوہ تھا
09:27تو وہ اونٹنی بیٹھ گئی
09:28آگے نہیں بڑھ رہی تھی
09:31تو جب بیٹھ گئی تو
09:32صحابہ اس کو اٹھانے کے لیے
09:34حل حل کرنے لگے
09:35حل حل یہ لفظ نکالتے تھے
09:37اس کا طرح تھا اٹھو اٹھو
09:41لیکن وہ اسی طرح اڑی رہی
09:44صحابہ نے کہا قصوہ اڑ گئی ہے
09:47قصوہ اڑ گئی ہے
09:48یعنی رک گئی ہے
09:49جم گئی ہے چلتی کیوں نہیں ہے
09:51تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
09:54نے اشاعت فرمایا
09:55کہ قصوہ اڑی نہیں ہے
09:57اور نہ یہ اس کی عادت ہے
09:59اس کو اس ذات نے چلنے سے روک لیا ہے
10:02جس نے ہاتھیوں کو روک لیا تھا
10:06جب ابراہ نے مکہ پہ حملہ کیا تھا
10:09جس کو عام الفیل بھی کہتے ہیں
10:11تو اونٹوں پہ سوار تھے وہ لوگ
10:13اب وہ اونٹوں کو لے کے آگے چلتا تھا
10:15جب اللہ نے چاہا
10:16تو وہ اونٹ بیٹھ گئے
10:17اور وہ چلتے ہی نہیں تھے
10:19مکہ کی طرح
10:20اور جب وہ پلٹ کے اس طرف کرتا
10:22تو بھاگنے لگ جاتے تھے
10:24تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
10:25نے فرمایا
10:26کہ قصوہ اپنی مرضی سے نہیں بیٹھی
10:28بلکہ
10:28اللہ تعالیٰ نے حکمتاً
10:30اس اونٹنے کو بیٹھنے کا حکم دیا ہے
10:32اس لئے یہاں پر بیٹھی ہے
10:35اور اسی طریقے سے جیسے
10:37ابراہ کے اونٹوں کو
10:38اللہ تعالیٰ نے روکا تھا
10:39تو سرکار نے فرمایا
10:41کہ اس کو اس ذات نے چلنے سے روک لیا ہے
10:43جس نے ہاتھیوں کو روک لیا تھا
10:45پھر آپ نے فرمایا
10:47اس ذات کی قسم
10:47جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے
10:50قریش مجھ سے
10:51جب بھی کسی ایسے امر کا سوال کریں گے
10:54یعنی کسی بھی معاملے کا سوال کریں گے
10:57جس میں وہ اللہ کی خرومات کی تعظیم کریں گے
11:01تو میں ان کو وہ عطا کروں گا
11:04خرومات سے مراد قابل احترام چیزیں
11:07کہ اگر قریش سے میرا سامنا ہوتا ہے
11:09اور وہ کوئی معاہدہ کرتے ہیں
11:10اور اس میں کچھ ایسی شرط رکھتے ہیں
11:12کہ جس کے بنا پر
11:13اللہ کی خرومات پامال نہیں ہو رہی
11:15بلکہ ان کا تحفظ ہو رہا ہے
11:17تعظیم کا پہلو نکل رہا ہے
11:19تو میں قریش کو وہ عطا کر دوں گا
11:21ان شرائط پر یس کر دوں گا
11:23اس کا مطلب یہ ہوا
11:24کہ قصوہ کو اللہ نے اس لئے بٹھایا تھا
11:27کہ سب صحابہ جمع ہو جائیں
11:29اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
11:31یہ بات تمام صحابہ کو بتائیں
11:34کیونکہ اس وقت پھر جب یہ معاہدہ ہوگا
11:36اس وقت ہر سکتا ہے
11:38کہ کوئی سنے نہ سنے
11:39یا کسی کوئی ذہن میں
11:40اچانک اس طرح کے معاہدے کے وقت
11:42کوئی ایسی بات ذہن میں آ جائے
11:44تو پہلے سے ہی ہے
11:45ایک اللہ تبارک و تعالی نے
11:47صحابہ کے ذہن میں
11:48ایک بات ڈالنے کے لئے
11:50اس محول کو بنایا
11:52جو ازل سے اللہ کا فیصلہ تھا
11:54مارز وجود میں آیا
11:55اور یہی وجہ ہے
11:56راوی کہتے ہیں
11:57کہ پھر آپ نے قصوہ کو ڈانٹا
12:00تو وہ اچھل کر کھڑی ہو گئی
12:02یعنی پھر سرکار نے فرمی ہے
12:03کھڑی ہو تو اقدم کھڑی ہو گئی
12:05اس کا مطلب وہ معاملہ پورا ہو گیا
12:07جو اللہ تعالی نے چاہا تھا
12:09پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
12:11صحابہ سے آگے نکل گئے
12:13حتی کہ ہدیبیہ کے آخری کنارے پر
12:16مقام ثمد پر قیام فرمایا
12:19اس جگہ کم پانی تھا
12:21جس کو صحابہ تھوڑا تھوڑا استعمال کر رہے تھے
12:25یعنی صحابہ پہنچے
12:26تو گڑھے میں پانی نظر آیا
12:28تو تھوڑا تھوڑا وہ لیتے رہے
12:29لیکن فرماتے ہیں
12:31کہ پھر انہوں نے اس گڑھے کا
12:32سارا پانی نکال لیا
12:34اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے
12:37پیاس کی شکایت کی گئی
12:39یعنی صلی اللہ پانی ختم ہو گیا
12:42تو رحمتِ قونین صلی اللہ علیہ وسلم
12:44نے اپنے ترکش میں سے
12:46ایک تیر نکالا
12:47یعنی جو خول سا ہوتا ہے
12:49ایک لمبا سا ڈبا سے ساملے
12:50اس میں تیر رکھے ہوتے ہیں
12:51تو سرکار نے اس میں سے ایک تیر نکالا
12:54پھر آپ نے ان کو حکم دیا
12:56کہ اس تیر کو اس گڑھے میں گاڑ دیں
13:00پس راوی کہتے ہیں
13:01کہ اللہ کی قسم اس گڑھے میں
13:03جوش سے پانی ابلنے لگا
13:06اور اس پانی سے
13:08سیراب ہو گئے
13:11اب یہ دیکھیں یہ موجزہ تھا
13:12رحمتِ قونین صلی اللہ علیہ وسلم کا
13:14صحابہ نے جب وہ تھوڑا سا پانی استعمال کر لیا
13:17ابھی لوگ پیاسے ہیں
13:18جانور پیاسے ہیں
13:20کسی پر غسل جنابت ہے
13:22کسی نے غضو کرنا ہے
13:23تو پانی کی شدید ضرورت
13:25تو وہ رحمتِ قونین صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے
13:28کہ رسول اللہ پانی ختم ہو گیا ہے
13:30تو یہ نکتے پہ میں بارہا کلام کر چکا ہوں
13:33کہ اپنی حاجات میں
13:35مسئیبتوں میں
13:36تکلیف میں
13:37مشکلات میں
13:38اللہ تعالیٰ کے ان بندوں کی طرف توجہ کرنا
13:42جن کے بارے میں گمان ہے
13:44کہ اللہ تعالیٰ نے انعامات سے نوازہ ہے
13:47یہ صحابہ اکرام علیہ مردوان کی سنت اور طریقہ ہے
13:51ماد اللہ یہ شرک نہیں ہے
13:52یہ کفر نہیں ہے
13:54یہ اللہ کو چھوڑنا نہیں ہے
13:56یہ اللہ کے خزانوں پر
13:58عدمِ اعتماد کی کوئی دلیل نہیں ہے
14:02رحمتِ قونین صلی اللہ علیہ وسلم نے
14:04جواب میں یہ کیوں نہیں فرمایا
14:05کہ مجھ سے کیوں کہتے ہو
14:06اللہ سے کہو نا
14:07حاجت راوہ تو اللہ تعالیٰ ہے
14:09مشکل کشا تو اللہ تعالیٰ ہے
14:11وہی پانی دیتا ہے
14:12وہی بارش برساتا ہے
14:13تم جا کے اللہ سے دعا کرو
14:15لیکن نہیں
14:17صحابہ سرکار کے پاس حاضر ہوئے ہیں
14:19اور سرکار نے ان کی اس مشکل کا حل بھی نکال دیا ہے
14:23اسی قسم کے احادیث لوگوں کو متوجہ کرتی ہیں
14:27ان نفوسِ قدسیہ کی طرف
14:29کہ جو نیک ہیں پریزگار ہیں متقی ہیں
14:32اور ان کے بارے میں غالب گمان ہے
14:34کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں انعامات سے نوازا ہے
14:37تو لوگ اپنی حاجات کی تکمیل کیلئے ان کے پاس آتے ہیں
14:41اور پھر وہ اپنی ان کی حاجات کو
14:43یا تو بتطریقِ کرامت پورا کر دیتے ہیں
14:47اور یا اللہ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں
14:50اور اللہ تعالیٰ ان کی دعا کی برکت سے مشکلات کو حل کر دیتا ہے
14:53تو اس میں کوئی شرک کا تصور نہیں ہے
14:57اعتماد اللہ کی ذات پر ہی ہونا چاہیے
14:59جیسے کہ ہمارا عقیدہ ہے
15:01کہ دینے والی ذات فقط اللہ تعالیٰ کی ہے
15:04اسی ذات سے مدد طلب کرنا
15:07افضل بھی ہے
15:08آولہ بھی ہے
15:09اس کی اجازت اور ازن کے بغیر
15:13کوئی ایک تنکہ بھی اٹھا کر ہمیں نہیں دے سکتا
15:17لیکن اللہ تعالیٰ غیر محتاج ہونے کے باوجود
15:21ہمیں جو کچھ حطا فرماتا ہے
15:24وہ وسیلے سے ہی حطا فرماتا ہے
15:25اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ برہراست بھی دے سکتا ہے
15:28لیکن اس کی عادتِ کریمہ جاری و ساری ہے
15:31کہ وہ خود اپنے سے بھی دعا کے لئے ارشاد فرماتا ہے
15:35مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا
15:38اور ساست قرآن میں یہ بھی فرماتا ہے
15:40کہ اے حبیب اگر یہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں
15:43تو ان کو فرمائیں کہ میرے پاس حاضر ہو جاؤ
15:45پھر یہ اللہ کی بارگاہ میں استغفار کریں
15:48اور یہ رسول بھی ان کے لئے استغفار کریں
15:52تو یہ اللہ کو بہت بخشنے والا مہربان پاہیں گے
15:56تو اگر یہ اپنی جانوں پر ظلم کریں
15:58جاؤ کا
15:59تو یہ لوگوں تم ان نبی کی بارگاہ میں حاضر ہو
16:02اب یہ کیوں فرمایا کہ جب تم نے جانوں پر ظلم کریں
16:06مطلب کوئی گناہ ہو گیا
16:07تو یہ کیوں نہیں فرمایا جب یہ اپنی جانوں پر ظلم کریں
16:09تو فوراں دو رکعت نماز پڑھیں
16:12تازہ وضو کریں دو رکعت نماز پڑھیں
16:14اللہ کی بارگاہ میں کامل توبہ کریں
16:16اس کے یہ حکم بھی موجود ہے قرآن پاک میں
16:18کامل توبہ کرنے کا
16:19لیکن ساتھ ساتھ دیکھیں یہ حکم بھی موجود ہے
16:22کہ حبیب کی بارگاہ میں حاضر ہوں
16:23اور پھر استغفار کریں
16:25اور یہ استغفار کافی نہیں
16:27بلکہ یہ نبی بن کے لئے استغفار کریں
16:29تو اللہ تعالیٰ بہت بخشتے والا
16:31مہرمان
16:32اس کا مطلب ہوا کہ خود اللہ تعالیٰ اشارہ فرمارا ہے
16:35کہ براہ راست بھی آپ
16:37اللہ سے طلب کر سکتے ہیں
16:38اور وسیلہ بھی اختیار کر سکتے ہیں
16:40لیکن جب آپ وسیلہ اختیار کریں
16:42تو آپ کا اعتماد اور اعتقاد
16:45یہی ہونا چاہئے
16:46آپ کا عقیدہ ہی ہونا چاہئے
16:47کہ اگر یہ مخلوق مجھے کچھ دے بھی رہی ہے
16:50تو حقیقتاً یہ نہیں دے رہی
16:51میرا رب عطا فرمارا
16:53یہ تو ایک وسیلہ ہے
16:54پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے
16:56آپ بالکل کر سکتے ہیں
16:57جیسے کہ صحابہ اکرام
16:59علیہ وآلہ وسلم نے کیا
17:01اور اگر
17:02اللہ تعالیٰ کو ماد اللہ
17:04سم ماد اللہ
17:05اس کو چھوڑنا کہتے ہیں
17:06بات کہ اللہ کو چھوڑ کر
17:07مخلوق سے مانگنا
17:08اگر مطلقاً شرک ہوتا
17:09تو کیا صحابہ اکرام نے شرک کیا
17:11اور کیا نبی اکریم اس پر راضی رہے
17:13اور اللہ نے وحی نازل نہ فرما کر
17:15کہ اللہ بھی اس شرک سے ماد اللہ راضی رہا
17:17توجہ کرنی چاہئے
17:18انشاءاللہ بقیہ حدیث نیکس پرگرام میں
17:21وآخر دعوانا
17:22ان الحمدللہ رب العالمين