Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:28بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30باب
00:31وقف کا مطلب آپ کو پہلے بھی ایک دفعہ بتایا تھا
00:33پھر یادہ کر دیتے ہیں
00:35کہ پہلی بات پہ سمجھ لیں
00:37کہ بعض اوقات
00:39ہم کسی چیز کی
00:41ملکیت کے نسبت اللہ تعالیٰ
00:44کی طرف کرتے ہیں
00:44اور اپنی طرف بھی کرتے ہیں
00:47جب اللہ کی طرف کرتے ہیں تو حقیقی
00:49اس کو نسبت کہتے ہیں جیسے ہم کہتے ہیں
00:51پوری کائنات کا زرے زرے
00:53کا مالک اللہ تعالیٰ ہے
00:55لیکن اسی کے ساتھ ہم یہ کہہ رہے ہوتے ہیں
00:57اس مکان کا مالک میں ہوں
00:59اس گاڑی کا مالک میں ہوں
01:00اس موبائل کا مالک میں ہوں
01:02تو جب زرے زرے کا مالک اللہ تعالیٰ
01:04تو بھائی پھر آپ کہاں سے مالک ہوئے
01:06تو ہم کہتے ہیں کہ یہ مجازن نسبت ہے
01:09یعنی اللہ کی عطا سے ہم مالک ہیں
01:11حقیقی طور پہ اللہ مالک ہے
01:13اس کا مطلب یہ ہوا
01:15کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف بھی ملکی نسبت کر سکتے ہیں
01:17اور مخلوق کی طرف کر سکتے ہیں
01:20فرق کیا ہوگا
01:21جب اللہ کی طرف کریں گے
01:22تو نسبت حقیقیہ کہلاتی ہے
01:24اور جب ہم مخلوق کی طرف کرتے ہیں
01:26تو نسبت مجازیہ کہلاتی ہے
01:29اب وقف کا مطلب یہ ہوتا ہے
01:31کہ انسان کسی چیز کو
01:32اس طرح اپنی ملکیت سے باہر کر دے
01:35کہ اب نسبت حقیقیہ باقی رہے
01:38نسبت مجازیہ بلکل ختم ہو جائے
01:41یعنی یوں کہتے ہیں اس کو
01:42کہ کسی چیز کو نکل نکال کر
01:44اپنی ملکیت سے نکال کر
01:46مکمل طور پر
01:47اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل کر دینا
01:50جیسے میرے ایک پلوٹ ہو فرض کر لیں
01:52تو میں یوں کہوں
01:53کہ میں نے یہ وقف کیا
01:55اس کا مطلب یعنی مسجد کے لئے وقف کیا
01:57یا یتیموں کے لئے وقف کیا
01:59تو اس کا مطلب کیا ہوگا
02:00کہ اب میں اپنی ملکیت
02:01بلکل اس سے ختم کرتا ہوں
02:03اور یہ مکمل طور پر
02:04اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں دیتا ہوں
02:07اب میں اس سے کوئی نفع نہیں حاصل کر سکتا
02:09بعض صورتوں میں کر سکتے ہیں
02:11وہ بعد میں ہم بحث کریں گے
02:12یعنی اب وہ اللہ تعالیٰ کا ہو گیا
02:14اب کسی مخلوق کی طرف
02:16اس کی ملک کی نزبت نہیں کر سکتے ہیں
02:19اس کو وقف کہتے ہیں
02:21تو جب آپ کچھ وقف کرتے ہیں شیعہ کو
02:23تو اس کا بھی بہت کافی مسائل ہوتے ہیں
02:25تو اس میں ہم بعد اوقات
02:27کچھ غلط قسم کی کنڈیشن لگا دیتے ہیں
02:30غلط شرائط لگا دیتے ہیں
02:31اس لئے اس کا بھی علم سیکھنا ضروری ہے
02:33یا کم از کم جب آپ کوئی چیز
02:35مکان دکان
02:36یا فلیٹ اپنا
02:37یا کوئی ایسا پلوٹ وغیرہ وقف کرنا چاہیں
02:40یا ذرعی زمینیں
02:41بعض اوقات لوگ وقف کر دیتے ہیں
02:43کہ یہ ذرعی زمینیں
02:44اور اس کی کھیتیاں
02:45فلان ادارے کے لئے وقف ہیں
02:46تو کسی اچھے مستند
02:48مفتی صاحب سے
02:49اس پر ریڈن فتوہ لے لیں
02:51کہ ہم وقف کرنا چاہتے ہیں
02:53اور ان شرائط کے ساتھ
02:54یہ ٹھیک ہے کہ نہیں
02:55وہ انشاءاللہ پھر آپ کوئی بتا دیں گے
02:57اور آپ احسن طریقے سے
02:59اپنے لئے ایک اچھا
03:01آخرت کا سرمایہ جمع کر سکیں گے
03:03حدیث نمبر ہے
03:05دو ہزار سات سو سنتیس
03:07اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہو
03:10بیان کرتے ہیں
03:11کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہو
03:14کو خیبر میں زمین ملی
03:16یہ جب خیبر فتح ہوا
03:18تو زمین وغیرہ تقسیم ہوئی
03:20مجاہدین میں
03:20تو حضرت عمر کو بھی ملی
03:22وہ اس زمین کے متعلق
03:24مشورہ کرنے کے لئے
03:25نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے
03:28اور عرض کی
03:30یا رسول اللہ خیبر میں
03:31مجھے ایسی زمین ملی ہے
03:33کہ ویسا نفیس مال
03:35مجھے کبھی نہیں ملا
03:36چنانچہ آپ مجھے اس کے متعلق
03:39کیا مشورہ دیتے ہیں
03:40رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
03:43کہ اگر تم چاہو
03:44تو اصل زمین کو
03:45اپنی ملکیت میں باقی رکھ کر
03:48اس کی پیداوار کو صدقہ کر دو
03:52راوی نے بیان کیا
03:53کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ
03:56نے اس کو صدقہ کر دیا
03:58کہ اس زمین کو
04:00نہ فروخت کیا جائے گا
04:01نہ کسی کو توفتن دیا جائے گا
04:04نہ اس کا وارث بنایا جائے گا
04:06بلکہ
04:07اس کی پیداوار کو فقراء میں
04:10اور قرابتداروں میں
04:11اور غلاموں کو آزاد کرنے میں
04:14اور اللہ کی راہ میں
04:15اور مسافروں میں
04:16اور مہمانوں کے خرچ میں
04:19صدقہ کیا جائے گا
04:22اور جو شخص اس زمین کا
04:23متولی ہو
04:24یعنی آپ نے وسیعت کی
04:26اگر میں دنیا سے رخصت ہو جاتا ہوں
04:27تو کوئی اور اس زمین کو
04:28سنبھالے گا
04:29اس کو متولی کہتے ہیں
04:30اور جو شخص اس زمین کا
04:32متولی ہو
04:33اس پر اس زمین سے
04:35دستور کے مطابق
04:36کھانے میں
04:37کوئی حرج نہیں
04:39دستور کا مطلب
04:40عرف کے مطابق
04:41کیونکہ جب وہ سنبھالے گا
04:42دیکھ بھال کرے گا
04:43ٹائم دے گا
04:44تو تھوڑا بہت وہ اس کی
04:45پیداوار میں سے
04:46لے سکتا ہے
04:47کیونکہ تب ہی تو
04:48وہ وقف ہوگا
04:48وہ بیچارہ
04:49یعنی اس سے ٹائم نکال سکے گا
04:51ورنہ اگر وہ
04:52اپنے کاموں میں رہے گا
04:53تو زمین کے دیکھ بھال نہیں
04:54اور یہاں پورا وقت دے گا
04:56تو اس کا گزارہ کیسے ہوگا
04:57تو بقدر ضرورت
04:58اسی پیداوار میں سے
04:59وہ بھی لے سکتا ہے
05:02اور فرمایا
05:03اور وہ مال جمع کیے
05:04بغیر اس زمین میں سے
05:05کھائے
05:06یعنی یہ نہیں کہ
05:07اتنا زیادہ لے کے
05:08جمع بھی کرے
05:09بس ضرورت کے تحت لیا
05:11کھاپی کے ختم
05:12اس طرح
05:12اس زمین سے
05:13وہ اپنا کر سکتا ہے
05:14راوی کہتے ہیں
05:15کہ میں نے یہ حدیث
05:16ابن سیرین کو بیان کی
05:17تو انہوں نے کہا
05:19کہ وہ مال جمع کرنے والا
05:21نہ ہو
05:22یعنی یہ انہوں نے
05:23مزید وضاحت کی
05:24تو حضرت دیکھئے
05:25اس میں حضرت عمر فاروق کو
05:27غنیمت میں زمین ملی
05:29تو آپ فوراں
05:31نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
05:32کے پاس تشریف لائے
05:33اس سے یہ پتہ چلتا ہے
05:34کہ جب ہمیں
05:36کوئی وراست ملتی ہے
05:37ہمیں کوئی مال ملتا ہے
05:38ہم دینداروں کے پاس
05:40آنا پسند نہیں کرتے ہیں
05:41ہم سب سے پہلے دیکھتے ہیں
05:43کہ دوڑ دو چار کیسے ہوں گے
05:44اس سے نفع کیسے حاصل ہوگا
05:46اس کو اپنے رشتہ داروں کی
05:48بری نظروں سے کیسے بچائیں
05:50اور اس کو دشمنوں سے
05:51کیسے محفوظ رکھا جائے
05:53یہ چیزیں غلط نہیں ہیں
05:54لیکن کاش ہم
05:55اس کے ساتھ ساتھ
05:56دین کو بھی فوقعت دیتے
05:58کہ یہ جو چیز میرے پاس آئی
05:59اس سے اگر میں نفع حاصل کرنا چاہتا ہوں
06:01اس سے کسی اور کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہوں
06:04اس کو ٹھیکے وغیرہ پر دینا چاہتا ہوں
06:06تو کن شرائط کے ساتھ دوں
06:08کہ میرا جتنا بھی عمل ہے
06:10وہ اللہ کی رزا کے خاطر
06:12جائز اور شریعت کے مطابق ہو
06:14اور میں گناہگار نہ ہوں
06:15لیکن ایسا نہیں ہوتا
06:16اس لئے میں تو چونکہ ایز مفتی ورک کر رہا ہوں
06:19لوگ سال ہا سال تک
06:21کوئی معاملہ کرتے رہتے ہیں
06:22اور پھر ان کو کوئی بیان سن لیا
06:24کوئی مسئلہ سمجھ میں آ
06:26کسی نے بتایا
06:27یا خود دل میں ایسے
06:28کچھ مطلب
06:30اونچ نیچ سی ہوئی
06:31اللہ کی طرف سے ہدایت ملی
06:33پھر وہ ہم سے کہتے ہیں
06:34کہ جی بیس سال ہوگے میں ایسا کر رہا ہوں
06:35یہ جائز ہے کے ناجائز
06:37اور آپ یقین کریں
06:38بعض اوقات پتہ چلتا ہے
06:40کہ بیس بیس سال
06:40پانچ مر سال
06:42چھے چھے سال
06:43دو دو سال سے
06:44ناجائز کام ہو رہا ہے
06:45حرام گھر کے اندر آ رہا ہے
06:47تو یہ کس وجہ سے ہوتا ہے
06:49کہ جب ہم قرآن کو
06:50حدیث کو اجنبی بناتے ہیں
06:52انہیں معذرت کے ساتھ
06:53لفظ استعمال کر رہا ہوں
06:54اپنے نگاہوں میں
06:55انتہائی کم تر اور حقیر
06:57کہ یہ تو سب سے آخر میں دیکھیں گے
06:59پہلے دنیا کو تو دیکھ لیں
07:00اس سے پر نقصان ہوتا ہے
07:02حضرت عمر فاروق
07:03خود ایک زبردست صحابی ہیں
07:06اور مشتہد صحابی ہیں
07:08حدیث آپ سن چکے ہیں
07:09بخاری کی ہی تھی
07:10کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
07:12نے صحابہ کرام سے فرمایا
07:13کہ رات مجھے ایک دودھ کا پیالہ دیا گیا
07:16جب میں نے وہ دودھ پیا
07:17تو میں نے اس کی تری کو
07:20اس کی برکات کو
07:21اپنے ناخنوں تک محسوس کی
07:23یعنی پورے جسم میں سرائیت کر گیا
07:25اور پھر اس پیالے میں سے جو بچا
07:27وہ میں نے عمر کو دے دیا
07:28تو صحابہ نے پوچھا
07:30یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
07:36یعنی دودھ کی تعبیر علم ہے
07:38کہ اللہ نے جو مجھے علم دیا
07:40وہ میرے پورے روحے روحے میں
07:42سرائیت کیے ہوئے
07:43یعنی زبردست صاحبی علم ہیں
07:44اس لئے آپ کو عالم الخلق کہتے ہیں
07:47کہ تمام مخلوق میں
07:48سب سے زیادہ علم رکھنے والے
07:50اور آپ نے اس علم میں سے
07:52حضرت عمر فاروق کو بھی حصہ دیا
07:54اس کا مطلب زبردست مشتہد صحابی ہیں
07:56اور صاحبی علم ہیں
07:58لیکن اس کے باوجود
07:59رحمت کونین
08:00صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر
08:02مشورہ طلب کر رہے ہیں
08:04یہ بڑی پیاری بات ہے
08:05اور سرکار نے مشورہ بھی بڑا پیارہ دیا
08:07اچھا اب یہ بھی دیکھیں
08:09حضرت عمر فاروق نے لفظ کیا استعمال کیے
08:12یا رسول اللہ خیبر میں
08:13مجھے ایسی زمین ملی ہے
08:15کہ ویسا نفیس مال
08:16مجھے کبھی نہیں ملا
08:18ایک ہوتا ہے
08:19اب یہ بھی میں معذرت چاہتا ہوں
08:21بار پر معذرت کر لیتا ہوں
08:22بعض لوگ چونکہ برا مان جاتے ہیں
08:23ہرٹ ہو جاتے ہیں
08:24کہ ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں
08:26وہ چیز دیتے ہیں
08:27کہ بعض اوقات
08:28جو سب سے تھرڑ کلاس قسم کی ہوتی ہے
08:31اس لئے مسجد میں
08:32اگر ہم چندہ دے رہے ہوتے ہیں
08:33تو پیسہ جیب سے نوٹ نکالتے ہیں
08:36پانچ ہزار
08:37ایک ہزار
08:39پانچ سو
08:40پھر سو پچاس
08:42پھر دس بیس کا کوئی نوٹ پڑا ہوتا
08:44اس کو نکال کر
08:45ڈال دیتے ہیں
08:46چلیں دس بیس بھی دیا آپ نے
08:48منع نہیں ہے
08:48لیکن کبھی کوئی بڑا نوٹ بھی ڈال دے آدمی
08:51لیکن نہیں
08:52وہ بڑا نوٹ ہے
08:53بیوی کے لیے
08:53ماں باپ کے لیے
08:54دوستوں کے لیے
08:55کھلانے پلانے کے لیے
08:57اپنے بچوں کی خواہشات پوری کرنے کے لیے
08:59اللہ کے لیے دس بیسی کافی ہیں
09:01اور وہ بھی وہ نوٹ
09:02اگر دو قرارے نوٹ آ جائے نا
09:04ایک بڑا قڑک نوٹ ہو
09:05اور ایک بلکل مراوہ نوٹ ہو
09:07تو اللہ کے لیے مراوہ نوٹ دیں گے
09:09قرارہ نوٹ جیب میں رکھ لیں گے
09:10حالانکہ اس نے بھی خرچ ہونا
09:11لیکن فطرت انسانی کا تقاضی
09:14ایسی نئے کپڑے صدقے کم کرتے ہیں
09:16پرانے کپڑے فورا ہم صدقہ کر دیتے ہیں
09:18اچھی باتیں
09:19ضائع کرنے سے بہتر ہے صدقہ کریں
09:21لیکن کبھی تو اپنا ہم امتحان لیں
09:23کہ جس طریقے سے ہم انسانوں کو فوقیت دے کر
09:26بلکہ اپنے اوپر فوقیت دے کر
09:28بعض اوقات اپنے فسند کی چیز اس کو دے دیتے ہیں
09:31اور ہم اس ثابت کرنے کوشش کرتے ہیں
09:33کہ یہ محبت ہے
09:34اگر ایک ماں انڈا کھا رہی ہے
09:37اور بچے نے انڈے کا مطالبہ کر لیا
09:39امی کا بہت دل چاہ رہا ہے
09:40لیکن وہ اس کو کھلا دے گی خود نکھائے گی
09:42کیوں
09:42وہ کہے گی یہی تو مامتہ ہے
09:44یہی تو محبت ہے
09:45کہ میں نے اپنے خواہش کو قربان کر کے
09:47اپنے بچے کو کھلا دیا
09:48یہ جذبہ اللہ تعالیٰ کے لئے کیوں نظر نہیں آتا
09:52اپنے نفیس مال کو
09:53اچھی چیز کو خرچ کرنے کو
09:55ہمارا دل کیوں نہیں چاہتا
09:56ادھر ہم کیوں بخل میں مبتلا ہو جاتے ہیں
09:59اچھا بعض لوگ کہتے ہیں
10:00جی اللہ تعالیٰ کو کس چیز کی ضرورت ہے
10:02بالکل صحیح بات ہے
10:03اللہ تو بے نیاز ہے
10:04آپ اچھا دیں برا دیں
10:05اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا
10:06لیکن اصل چیز کیا ہے
10:09جذبہ
10:10آپ کے دل کی کیفیات
10:12اللہ تعالیٰ نے قرآن میں
10:14کفار کی مذہبت فرمائی
10:17کہ بعض قبائل ایسے تھے
10:19کفار قریش کے جو کہتے تھے
10:20کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں
10:23فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں
10:25تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں
10:26مذہبت فرمائی
10:27کہ یہ اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہیں
10:29اور اللہ کے لئے
10:31اگر اولاد بھی انہوں نے
10:32ثابت کرنے کی کوشش کی
10:34تو بیٹیاں
10:34کتنا برا فیصلہ کرتے ہیں یہ
10:37یہ اللہ نے بیان فرمایا
10:38اب کیا اللہ تعالیٰ اس سے کوئی ماذا اللہ ہٹ ہوگا
10:40کیا اللہ تعالیٰ یہ چارہ تھے
10:42میرے طرح بیٹے منصوب ہوں
10:43وہ تو علاق سے پاک و صاف ہے
10:45لیکن اس نے مذہبت فرمائی ہے
10:47کہ یہ اللہ تعالیٰ سے محبت کا ثبوت نہیں ہے
10:49کہ اپنے لئے تم افضل چیز کو پسند کرو
10:51جو تمہاری نگاہوں میں افضل ہیں
10:53اور اللہ کے لئے ارزل چیز کو پسند کرو
10:56کم آلہ چیز کو پسند کرو
10:57یہ اچھی عادت نہیں ہوتی ہے
10:59لہذا اس سے یہ سیکھئے
11:00کبھی کبار اپنے دل کو بڑھا کر کے
11:03اپنی ضرورت کی چیز کو بھی
11:05اللہ کی راہ میں دیں
11:06حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ
11:08نمہ کے بارے میں معروف ہے
11:09کہ آپ کو جو چیز پسند آ جائے کرتی تھی
11:12اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیا کرتے تھے
11:15اور آپ نے یہ حدیث پر بیان کی
11:16کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہد فرمایا
11:18کہ جو اپنی محبوب شیع اللہ تعالیٰ کی
11:21بارگاہ میں خرچ کرے گا
11:22اس کے لئے اللہ کی طرف سے یہ نامشہ
11:24جنت کی بشارت میرے صحیح ذہن میں نہیں ہے
11:26اس لئے میں حدیث کو کمپلیٹ نہیں کر رہا ہوں
11:28کہ آپ آگے کوڑ کریں
11:29لیکن آپ یہ کرتے تھے اور کہتے تھے
11:31کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
11:32اس کی ترغیب دیا
11:33تو لہذا اچھی چیز کو بھی
11:35کبھی کبار صدقہ کر دیا کریں
11:37جیسے آپ گھر کے کھانے ہوتے ہیں
11:39ہم بعض اوقات جو فریج میں پرانے کھانا ہو جاتا ہے
11:42نا دال کوئی سبزی
11:43دو دن کا ہو گیا
11:45وہ ہم سب بانڈ دیتے ہیں
11:47اچھی بات ہے
11:48میں اس کو برا نہیں کہہ رہا ہوں
11:49ضائع کرنے سے بہتر ہے
11:50کسی کے پیٹ میں پہنچ جائے
11:51ماسی کو دے دیا
11:52کسی غریب پیٹ میں
11:53اچھی بات ہے
11:54لیکن کبھی ایسا بھی کریں
11:55کہ آپ ایک بریانی بنائیں
11:57اور ایک بریانی کی پلیٹ بھر کے
11:59واقعی محلے میں جو سب سے غریب لوگ ہوں
12:01ان کو بھیج دیں
12:02یہ ہے بہت اچھی بات
12:04اور آپ بھیجتے ہوں گے
12:05لیکن جو نہیں بھیجتا
12:06اور یہی کرتا ہے
12:07کہ اچھا خود کھا لیتا ہے
12:08اور باقی سب جو ہے
12:09صدقہ کرتا ہے
12:10اس طرح کی چیزیں
12:11اور بڑے خوشی کے ساتھ کرتا ہے
12:12اس کو اپنی نیت
12:14اور اپنی قلبی کیفیت پر
12:15توجہ کرنے کے ضرورت ہے
12:17اسی طریقے سے
12:18جب ہم قربانی کا گوشت
12:19بانٹنے لگتے ہیں
12:20اس میں بھی میں نے دیکھا ہے
12:22کہ رانیں الیدہ کر لیں
12:24اچھے چھے گول گول بوٹیاں
12:25الیدہ کر لیں
12:26اب بانٹنے کے لئے کیا ہے
12:27وہ پسلیوں کا گوشت
12:28جس کو اٹھایا تو ہڈیاں ہڈیاں
12:30وہ بھر کے ادھر ادھر ادھر
12:31اچھا اگر کسی کو دیتے ہیں
12:33بعض اوقات
12:33تو بدلے کے اندر دے رہے ہوتے ہیں
12:34ادھر سے ران آئی
12:35تو ہم نے بھی ران بھیج دی
12:36ان کا اچھا گوشت آیا
12:38تو ان کو بھیج دیا
12:38باقی غریبوں کے اندر
12:39اس طرح کی چیزیں
12:40تقسیم کر رہے ہوتے ہیں
12:42اس پر توجہ کی ضرورت ہے
12:43حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
12:46نے ارز کی
12:47کہ یا رسول اللہ
12:48خیبر میں مجھے ایسی زمین ملی ہے
12:49کہ ویسا نفیس مال
12:51مجھے کبھی نہیں ملا
12:52لہذا اس کے متعلق
12:53آپ کیا مجھے مشورہ دیتے ہیں
12:55رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
12:57چونکہ
12:59حادی امت ہیں
13:00سرکار کا کام ہی یہ ہے
13:02کہ لوگوں کو اللہ سے ملائیں
13:03ان کے درجات کو بلند کریں
13:05تو مشورہ بھی بڑا پیارہ دیا ہے
13:06تو اس لئے
13:08ہم بھی کبھی ایسا ہوتا ہے
13:09کہ کوئی بھائی بینہ میں کہتے ہیں
13:11جیسے ایک صاحب نے کہا
13:12کہ جی میں اپنا سارا بالنا
13:13موت مرنے سے پہلے پہلے
13:15اپنے بیوی بچوں میں
13:16تقسیم کرنا چاہتا ہوں
13:17تو میرا ارادہ یہ ہے
13:19صاحب بیوی کو اتنا دے دوں
13:20بچوں کو اتنا دے دوں
13:21فلان کو اتنا
13:22فلان کو اتنا
13:23کیسا ہے
13:23میں نے کہا بہت اچھی بات ہے
13:25لیکن مجھے بتائیں
13:26کہ اس میں
13:26اللہ کے لئے کتنا رکھا ہے آپ نے
13:29تو خاموش
13:29میں نے کہا کچھ اللہ کے لئے بھی رکھیں
13:31ان سب کو آپ دے دیں گے
13:33خوش ہوں گے
13:33آپ کے ہاتھ بھی چومیں گے
13:35آپ کی تعریفیں کریں گے
13:37اور کبھی تو ایسا ہوگا
13:39کہ زندگی میں غائب ہو جائیں گے
13:40کیونکہ اب آپ کے پاس
13:41کچھ نہیں بچا
13:42آپ بے فائدہ ہو گئے
13:43بھاگ جائیں گے
13:44اور فرض کر لیں
13:45مروت میں کم از کم زندگی تک رہے
13:47تو اس کے بعد
13:48کیا اس سارے پیسے کو
13:49آپ کی اس سالے سواب کے لئے
13:50استعمال کریں گے
13:51نہیں
13:52لہذا آپ خالی ہاتھ
13:53اللہ کی بارگاہ میں پہنچ جائیں گے
13:55اور آپ حسرت سے دیکھ رہے ہوں گے
13:56کہ کاش ہی میرے مال سے صدقہ کریں
13:58اور آپ نے خود تو صدقہ کیا نہیں تھا
14:00دوسرا کیا آپ کے لئے کرے گا
14:01پھر انہوں نے کہا
14:02کہ نہیں میں اللہ کے لئے بھی کرتا ہوں
14:04اس لئے میں جتنے بھائی بہن دیکھ رہے ہیں
14:05ان سب سے گزارش کرتا ہوں
14:07جتنا آپ کے پاس سونا ہے
14:09چاندی ہے
14:09روپیہ ہے
14:12زندگی میں بھی
14:12اللہ کا حصہ نکالتے رہیں
14:14ورنہ مرنے کے بعد
14:15نہ اولاد کام آتی ہے
14:16اولاد بھی کب تک آئے گی
14:18جب تک زندہ ہے
14:19وہ فوت ہو گئے
14:20گئے
14:20اس کے بعد تو کوئی دعا کرنے والا نہیں ہوگا
14:23ان کی نسلیں اپنے باب آپ کے لئے کریں گے
14:24آپ کے لئے نہیں کریں گے
14:25اور بعض وقت میں نے دیکھا ہے
14:27کہ اولاد بھی بھول بھال جاتی ہے
14:28کوئی دعا نہیں کرتا
14:30جن غریبوں کو آپ زکاة دیتے رہے تھے
14:32جب آپ ان کو زکاة دیتے ہیں
14:34بڑی دعائیں دیتے ہیں
14:35آپ اگر مر گئے بیمار ہو گئے
14:37زکاة کا سلسلہ رکا
14:38وہ آپ کو چھوڑ کے دوسروں کی طرف چلے جائیں گے
14:40اب آپ کے لئے کوئی دعا نہیں کرے گا
14:42اس لئے اللہ کی رضا کی خاطر
14:44اپنی آخرت کی فکر کریں
14:46تو زندگی میں بھی اللہ کا حصہ رکھیں
14:48اور فوت ہونے سے پہلے بھی
14:50اللہ کا حصہ رکھیں
14:51کہ کسی بڑے ثواب جاریے میں پیسہ لگا جائیں
14:55یا وسیعت کر جائیں
14:56کہ اتنا پیسہ
14:56اس چیز کے اندر خرچ کیا جائیں
14:59تو بس سمجھ لیں
15:00آپ اپنے ساتھ مخلص ہیں
15:01ورنہ اتنا پشتائیں گے
15:03کہ کچھ انتہان
15:03یہ کتاب الوسیعت میں
15:05میں اور انشاءاللہ
15:05آپ کو اس کی ترغیب عرض کروں گا
15:08تو بہت سے لوگ
15:10بیوی کو خوش کر رہے ہیں
15:11بچوں کو خوش کر رہے ہیں
15:13فلنشدار کو خوش کر دیا
15:14بھئی ٹھیک ہے
15:15لیکن یہ آپ کے جنت کے زامن نہیں ہیں
15:17جو صرف آپ کے پیسے سے خوش ہو رہا ہے
15:20جب آزما کر دیکھیں
15:21سب کو دیں
15:22ایک کو محروم کرنے
15:23کہ تجھے نہیں دیتا
15:24اور دیکھیں کیسا موڑ خراب ہوگا اس کا
15:25اور آپ کو سلام بھی کر دیں
15:27تو ہمارا نام بدل دیجئے گا
15:29جو اس طرح صرف اپنے مفادات کے لیے
15:31آپ کے سامنے بچ رہے ہیں
15:32اور آپ بھی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں
15:35کہ اگر میں اس کو محروم کر دوں
15:36تو اس کا رویہ کیا ہوگا
15:37صرف آپ کے پیسے سے وہ خوش ہو رہا ہے
15:39ان پر سب خرچ کرنا
15:40اور جو رب کریم غیر محتاج ہے
15:43اس پر ہم کوئی احسان نہیں کر رہے
15:45لیکن اس نے خود فرمایا
15:48اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے
15:50اللہ تمہاری امداد فرمائے گا
15:51وہاں پر جب ہم خرچ نہیں کرتے ہیں
15:54یہ نقصان ہوتا ہے
15:55اور افسوس ہوتا ہے
15:56کہ ادھر اصل میں خرچ کرنا چاہیے
15:58کہ اس کا بدلہ پھر اللہ تعالیٰ آپ کو
16:00موت کے وقت قبر میں
16:01میدانِ معاشر میں دے گا
16:02جب سارے یہ بھاگ جائیں گے
16:04اور کوئی آپ کا پرسان حال نہیں ہوگا
16:07سمجھدار کے لئے اشارہ کافی ہے
16:08اور میں نے تو اتنی لمبی تقریر کر دی ہے
16:11سمجھئے اس بات کو
16:13تو رحمتِ قونین صلی اللہ علیہ وسلم
16:15نے بہت پیارا مشورہ دیا
16:16آپ نے فرمایا
16:17اگر تم چاہو
16:17تو اصلِ زمین کو اپنی ملکت میں رکھو
16:20یعنی ملکت کا مطلب
16:22اپنے قبضے میں رکھو
16:23اور آمدنی ٹوٹل وقف کر دو
16:25اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر
16:27تمہارے لئے سوابِ جاریہ
16:28ہوتا چلا جائے گا
16:30تو جب سرکار نے یہ فرمایا
16:31تو راوی نے بیان کیا
16:32کہ بھر حضرت عمر فاروق نے
16:33اس کو صدقہ کر دیا
16:34یعنی صدقہ کرنے کا مطلب
16:36اس کی تمام آمدنی کو
16:38اس طرح وقف کر دیا
16:39کہ زمین ابھی میرے ایک ملکت میں رہے گی
16:40ملکت سے مراد
16:42میں نے آپ کو پہلے سمجھایا
16:43کہ یہ آپ متولی رہیں گے
16:53تو اب وہ میری ملکت نہیں رہے گا
16:54ملکت نہ رہنے کے علامت کیا
16:56نہ میں اس کو بیٹھ سکتا ہوں
16:57نہ توفتان دے سکتا ہوں
16:59نہ اس کو ذاتی استعمال میں لے سکتا ہوں
17:01لیکن اگر میں اس پر مسجد بناوں
17:03اور میں کہوں جب تک میں زندہ ہوں
17:05میں اس مسجد کا متولی ہوں
17:06بالکل ہو سکتا ہے
17:07یہ تھا معاملہ
17:08کہ ملکت کا مطلب یہ ہے
17:10کہ دیکھ بھال میں ہی کروں گا
17:11لیکن یہ اللہ کے لئے وقف ہے
17:13اس کے آمدنی سے میں نفع نہیں اٹھاؤں گا
17:15اس لئے آگے بیان فرمایا
17:17کہ اس زمین کو نہ فروخت کیا جائے گا
17:19نہ توفتان دیا جائے گا
17:21نہ اس کا وارث بنایا جائے گا
17:22ہاں اس کے پیدوار کو فقراء
17:24قرابتداروں غلاموں وغیرہ میں
17:25آزاد کیا جائے گا
17:27اللہ تعالی ہمیں سمجھنے کے توفیق تفرمائے
17:29آمین
17:29وآخر دعوانا
17:31الحمد للہ رب العالمين

Recommended