Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Bismillah ar-Rahman ar-Rahim
00:02Allah tb. wa ta'ala
00:03ke paki zatari nama se aghaz kerti hain
00:05joh bhoht mahruban nahayet ar-Rahimbala hai
00:08Dersi Bukhari ka selisla
00:102710 numbar
00:11hadithi paak tuk pahuncha ta
00:12اور یہ hadith kai dfah mختلف turk se
00:15imam Bukhari r.a.
00:18ne dhikr firmayi hai
00:19حضرت اقعab bin malik
00:20r.a. anhu
00:22بiyan kerti hai
00:23کہ آپ ne
00:23حضرت ابn abhi حضرت
00:25r.a. anhu
00:27ko qarz dya hua ta
00:28تو مسجد نبوی میں
00:29آپ کو ملاقات ہوئی
00:30تو آپ نے
00:31حضرت اقعab
00:32نے قرض کا
00:33مطالبہ کیا
00:34وہ کچھ
00:34انکار کر رہے تھے
00:36یا کمی کا
00:36مطالبہ کر رہے تھے
00:37تو دونوں کی آوازیں
00:38تھوڑی سی بلند ہو گئیں
00:40رحمت اقعان
00:41صلی اللہ علیہ وسلم
00:41نے اپنے گھر میں
00:42ان آوازوں کو سنا
00:43تو آپ نے
00:44پھر اپنے
00:45حجرے کا پردہ کھولا
00:46اور حضرت اقعab
00:48کو آواز دی
00:48اے قعب
00:49عرص کیا
00:50میں حاضر ہوں
00:50آپ نے فرمایا
00:52ہاتھ کی اشارت سے
00:52کہ اس کو نصف کر دو
00:53یعنی آدھا معاف کر دو
00:55کیونکہ وہ
00:55کمی کا مطالبہ کر رہے تھے
00:57یا محلت مانگ رہے تھے
00:58حضرت اقعاب نے
00:59فوراں کہا
01:00میں نے کر دیا
01:01پھر سرکار نے
01:02حضرت ابن ابی حضرت
01:04رضی اللہ تعالیٰ
01:05انہوں سے فرمایا
01:06اب آپ قرض ادا کر دیں
01:07تو اس سے کئی باتیں
01:09معلوم ہوئیں
01:09دوارہ ہم ایک دفعہ
01:10تفسرہ کر لیتے ہیں
01:11پہلی بات یہ ہے
01:12کہ اگر کسی نے
01:13کسی کو قرض دیا ہو
01:14اور مقروض دیر کر رہا ہو
01:17تو اپنے قرض کا مطالبہ کرنا
01:19اور اس میں تھوڑی بہت
01:21سختی کرنا
01:22شرعا جائز ہوتا ہے
01:24سختی کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے
01:26کہ آپ گالی مگلوچ کریں
01:27مارے پیٹیں
01:28محلے میں جا کے
01:30اتنا شور مچا دیں
01:31کہ پورے محلے والوں کو
01:32پتہ چل جائے
01:32کہ اس سفید پوش آدمی
01:34نے قرضہ لیا ہے
01:35اس سے اس کی عزت پر فرق آئے گا
01:37ہاں جیسے ملاقات ہو گئے
01:38آپ کہیں
01:39کہ بھئی اب میں تمہیں
01:39مزید محلت نہیں دے سکتا
01:41مجھے میرا قرضہ واپس کرو
01:42اس میں تھوڑی بہت آواز بلند ہو جائے
01:44تھوڑی سختی ہو جائے
01:45تو کوہرج نہیں
01:46کیونکہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
01:48نے اگر یہ ناجائز ہوتا
01:50تو حضرت کعب کو ضرور منع کر دے
01:52اسی طریقے سے
01:54مساجد کے اندر
01:55اس طرح کے معاملات کو
01:57ڈسکس کرنا شرنجائز ہے
02:00غیر ضروری دنیاوی بات
02:01منع ہوتی ہے
02:02ضروری اگر کوئی بات ہے
02:03تو جیسے اب گئے نماز پڑھنے
02:05ملاقات ہو گئی
02:06تو جی وہیں مطالبہ
02:07کر ڈالا
02:08ایسا ہو شکتا ہے
02:09بہتر ہوتا ہے
02:10کہ مسجد میں نہ کریں
02:11باہر جا کے کر لیں
02:12کہ آواز بلند نہ ہو
02:13جیسے یہاں ہو گئی
02:14لیکن یہ کوئی منع نہیں ہے
02:17کہ مسجد کے اندر
02:18ایسی باتیں نہیں کر سکتے ہیں
02:20تیسی چیز یہ ہے
02:21کہ اگر مقروض
02:23ایسا ہو کہ
02:24جو بشارہ تنگ دست ہے
02:25بات دیفولٹ کر جاتے ہیں
02:27مارکیٹ کے اندر
02:28اور آپ جانتے ہیں
02:29کہ واقعی اس کی حالت ایسی ہے
02:30تو پھر دو چیزیں افضل ہوتی ہیں
02:32ایک یہ کہ محلت دے دیں آپ
02:34کہ کچھ حرصہ چلیں
02:35میں آپ مزید آپ کو محلت دے دیتا ہوں
02:37اور دوسرا یہ ہوتا ہے
02:38کہ آپ معافی کر دیں قرضہ
02:40اس کو عبرہ کہتے ہیں
02:42بری کر دینا
02:43دونوں چیزیں بہت اچھی ہیں
02:44ایک شاید یہ روایت بھی گزر چکی ہے
02:47کہ کاروباری آدمی تھا
02:49کہ جب وہ لوگوں کو
02:50چیزیں دیتا
02:51اور پیمنٹ میں دیر ہوتی
02:52تو ان کو محلت دیتا
02:54اور کبھی معاف بھی کر دیا کرتا تھا
02:56جو بہت تنگ دست تھے
02:57تو جب اس کا انتقال ہوا
02:58تو اللہ تعالی نے فرشنوں سے فرمایا
03:00کہ یہ بندہ ہو کر
03:01میرے بندوں سے درگزر کرتا ہے
03:03تو میں رب ہو کر اس سے درگزر نہ کروں
03:05تو اللہ تعالی نے اس کی بخشش و مغفرت فرما دی
03:08اس کا مطلب یہ ہے
03:09کہ جب آپ نرم رویہ اختیار کرتے ہیں
03:11کائننس دکھاتے ہیں
03:12آپ افو کرتے ہیں
03:14درگزر کرتے ہیں
03:15محلت دیتے ہیں
03:16تو یہ کوئی معمولی چیزیں نہیں ہیں
03:19ان میں ایک تو اخلاص ہونا چاہیے
03:20اپنی واوا نہیں ہونی چاہیے
03:21کہ سامنے اللہ متاثر ہو جائے نہیں
03:23اللہ کی رضا کے خاطر کریں
03:25تو معمولی چیزیں نہیں ہیں
03:26یہ بعض اوقات ہماری
03:27بخشش و مغفرت کا سبب بن سکتی ہیں
03:30تیسری چیز جو پتا چلی وہ یہ
03:32کہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
03:34نے حضرت ابن ابی حضرت
03:36رضی اللہ عنہ کے
03:38حق میں سفارش کی گویا
03:40کہ آپ آدھا کر دیں
03:42تو اس کا مطلب ہے
03:44کہ کسی کوئی مظلوم ہو
03:45کوئی اس طرح مقروض ہو
03:47کوئی پریشان ہو
03:48اگر آپ اس کی سفارش کر سکتے ہوں
03:50تو سنت کی نیت سے کر دیں
03:52بہت اچھی بات ہے
03:53اس پر آپ کو ثواب ملے گا
03:55لیکن ناجائز سفارش کرنا حرام ہوتا ہے
03:58کہ کسی کو ناجائز نوکری دلوا دی
04:01ناجائز ٹینڈر دلوا دیا
04:03اور دیگر کام
04:04رشوتوں کے ذریعے
04:05اور حقدار کو ہٹا کے
04:07بچارے ناحق کو
04:08کہیں پر آپ نے بٹھا دیا
04:10سفارش کروا کے
04:11یہ حرام اور گناہ کبیرہ ہے
04:13اور یہ سفارشیں
04:14گلے کا پھندہ ہیں
04:15جو آخرت کے اندر وبال ہوگا
04:18اور گناہ بے لذت
04:19کہ بعض اوقات صرف ہم جان پہچان پر
04:21غلط سفارش کر کے
04:22کسی کو لگا دیتے ہیں
04:23اب اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا
04:25نہ کوئی ہمیں کوئی خمیشن دیتا ہے
04:27نہ کچھ بس سفارش کر دی
04:28ہم چلے گئے
04:28اس کے بعد
04:30اب برو دے قیامت
04:32ہماری سفارش کی وجہ سے
04:34جس کا حق مارا گیا
04:35وہ اللہ کی بارگاہ میں
04:37جب فریاد کرے گا
04:38تو پھر وہاں پر
04:39ہمیں حساب و کتاب دینا ہوگا
04:40اس وقت
04:41شدید پشتاوا ہوگا
04:43کہ کیا فائدہ ہوا
04:44اس سفارش کرنے کا
04:45گناہ بے لذت
04:46کہ گناہ بھی ہوا
04:48کوئی مزہ بھی نہیں آیا
04:49کوئی بینیفٹ بھی نہیں بلا
04:50سزا علیدہ
04:51تو ایسے جتنے بھی
04:53اچھی پوسٹوں پہ بیٹھے ہوئے لوگ ہیں
04:54یا اللہ نے آپ کو
04:56اتنا قد دیا ہے
04:57کہ ایک قول کے اوپر
04:58آپ بات کروا سکتے ہیں
05:00یا مسئلہ حل کروا سکتے ہیں
05:01تو خدا رہا اس کو
05:02مسیوز نہ کریں
05:03ہمارا مشورہ ہے
05:04اگر کسی ایسے تک
05:05میرا یہ بیان پہنچ جاتا ہے
05:07ہمارا مشورہ ہے
05:08ایسا نہ کریں
05:08ورنہ وبالے آخرت ہوگا
05:10منصب کسی کے پاس نہیں رہتا
05:12ابھی آپ ہیں
05:13کسی سیٹ کے اوپر
05:14کلاب باہر ہوں گے
05:15اور اس وقت
05:16آپ اپنی ویلیو خود جانتے ہیں
05:18کہ جب تک انسان سیٹ پر ہوتا ہے
05:19لوگ اٹھ اٹھ کے سلام کر رہے ہوتے ہیں
05:21اور ہم نے دیکھا ہے
05:22کہ سیٹ سے ہٹ جائیں
05:23تو چوکی دار تک
05:24سلام کرنا چھوڑ دیتا ہے
05:26ایسا مو پھیر لیتا ہے وہ
05:27تو کیا فائدہ پھر ان لوگوں کا
05:30کہ جن کے لئے آخرت برباد کریں
05:31اور بعد میں سلام تک نہ کریں
05:33آپ کے لئے دعا تک نہ کریں
05:34اور میدان مہاشر میں آپ فز جائیں
05:36بہرحال ہمارا کام تو سمجھانا ہے
05:38تو اچھی سفارش کر دینی چاہیے
05:41اس میں کوئی حرج نہیں ہو
05:43پھر دیکھیں حضرت قعب نے
05:44اپنے مالی نقصان کو
05:46رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
05:48کے ایک اشارے پر فوراً قبول کر لیا
05:51یہ بڑی بات ہے
05:53صحابہ کرام علی مردوان
05:55اسی لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں
05:57بہت بلند مقام رکھتے ہیں
05:59کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
06:01کی مخالفت نہیں کی بلکہ اطاعت کی
06:03انہوں نے یہ نہیں دیکھا
06:05کہ ہماری جان جا رہی ہے
06:06ہمارا مال جا رہا ہے
06:08ہماری عزت پر فرق پڑے گا
06:09جیسے کوئی بڑا منصب والا تھا
06:11اور سرکار نے اس کو کس چیز سے منع کیا
06:13اس نے بھی اطاعت کی
06:14اور یہ نہیں دیکھا
06:16کہ اب بات کو قبول کرنے میں
06:17مجھے اپنے منصب سے نیچے اترنا پڑے گا
06:19کوئی بات نہیں
06:20اگر اس میں بظاہر میرے لئے
06:22تھوڑا سا عزت کے خلاف معاملہ ہے
06:25لیکن حقیقی عزت تو نبی کا کہنا ماننے میں ہے
06:28اب ہم معاملہ برعکس ہو چکا ہے
06:30اب ہم نارے بازیوں تک رہ گئے ہیں خالی
06:32لنگر کھانے پر رہ گئے ہیں
06:34جلسے جلوسوں میں رہ گئے ہیں
06:36نات کی محفل تک رہ گئے ہیں
06:38لیکن اطاعت رسول کی طرف
06:39حقیقتاً آنے کے لئے تیار نہیں ہے
06:42اگر ہمارا کوئی جسمانی نقصان ہوتا ہے
06:45جسمانی نقصان سے مراد
06:46ہمیں مشقت میں پڑنا پڑے
06:48ہم نبی کا حکم نہیں مانتے
06:50جیسے فجر کی نماز میں کتنے
06:51اسی لئے نہیں اٹھتے کہ نیند ہوتی ہے
06:53جسم ٹائیڈ ہوتا ہے
06:55تھکے ہوئے ہوتے ہیں
06:56تو کون اپنے نبی کا کہنا مانے سو رہے
06:58کتنے لوگ زکاة ادا نہیں کرتے
07:00قربانی نہیں کرتے
07:01بلکہ حساب و کتابی معلوم نہیں کرتے
07:03شرائط معلوم نہیں کرتے
07:04کہ ایسا نہ ہو قربانی واجب ہو جائے
07:06حالانکہ اللہ کے نبی حکم دے رہے ہیں
07:08لیکن چونکہ مال خرچ ہو رہا ہے
07:10اس لئے فوراں مال کو فوقت دے کر
07:12نبی کریم کی اطاعت سے مو موڑ لیا جاتا ہے
07:14جنہیں وراست تقسیم کرنی چاہیے
07:17دینی چاہیے
07:18وہ وراستیں کھا کر بیٹھے ہوئے ہیں
07:19اپنے بیوی بچوں کو آرام اور آسائش سے رکھا ہوا ہے
07:32ہمیں شرم نہیں آتی ہے
07:33کہ دوسروں کی غمی کے اوپر
07:36دوسروں کی تکلیف کے اوپر
07:38اپنی خوشیوں کے بنیاد رکھ کر
07:40ہم نبی کریم کی اطاعت نہیں کر رہا
07:42پھر اپنے آپ کو کہتے ہیں
07:43کہ ہم بہت محبت کرنے والے ہیں
07:44اسی طریقے سے روحانی تکلیفیں برداشت کرنے کے لئے
07:47ہم تیار نہیں ہیں
07:48ہم غلط کاموں سے جھوٹی عزتیں حاصل کر لیتے ہیں
07:51اور اس جھوٹی عزت کو اگر ہم ختم کریں گے
07:54تو یقینی سے بات ہے کہ روحانی تکلیف ہوگی
07:56نا نا نا بھئی ہم یہ نہیں ہیں
07:57جھوٹی عزت قائم رہے
07:59چاہے نبی کی کتنی نافرمانی کرنے پڑے
08:01اس سے فرق صاف ظاہر ہوتا ہے
08:03اور میں اسی کو عشق و محبت رسول کی علامت قرار دیتا ہوں
08:08یعنی میں اپنے پاس سے نہیں
08:09اکابر نے
08:10اور بہت ساری لکھی ہیں
08:12لیکن میں اس کو خاص کہتا ہوں
08:13کہ اس کے اوپر
08:14اس طرازوں میں اپنے آپ کو درہا طول کر دیکھیں
08:16تو آٹے ڈال کا بھاؤ پتہ چل جائے
08:18یہ نعرہ تو بہت آسان ہے
08:20کہ غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے
08:22جہونا عشق مصطفیٰ
08:24تو زندگی فضول ہے
08:25تو آئیے نا پھر امتحان کی طرف
08:27سب سے پہلی علامت
08:28اور سب سے ضروری
08:29نبی کریم کا حکم ماننا ہے
08:31مانے
08:32جو یہ نعرہ لگا رہا
08:33اس کو تو یہ نہیں پتا ہوتا
08:34کہ سرکار نے کس چیز کے بارے میں
08:36کیا کیا احکام بیان کی ہیں
08:37جاہل آدمی ہوتا ہے
08:39بلکل شریعت کا پتہ نہیں ہوتا
08:41احکامی معلوم نہیں ہے
08:43تو ان پر عمل کیا کرے گا
08:44نہ جاننے کی زحمت گوارہ کرتے ہیں
08:46اور نعرے ایسے سے لگاتے ہیں
08:47خواہ مخواہ آپ نے آپ کو
08:48ہم دھوکے میں مبتلا کیے ہوئے ہیں
08:51جب تک حقیقت کی طرف نہیں آئیں گے
08:53منزل نہیں ملتی
08:54آپ سہرہ میں جا رہے ہیں
08:56تو دور سے سلکتا ہے
08:57ریت چمکتی
08:57جیسے پانی ہے
08:58اس کو سراب کہتے ہیں
09:00آپ سراب کی پیچھے بھاگتے رہیں گے
09:01کبھی منزل نہیں ملے گی
09:02حقیقی پانی ملے گا
09:03تو جان بچے گی نا
09:04ورنہ دور دور کی حلاق ہو جائیں گے
09:06تو بہرحال یہ ہیں وہ حدیثیں
09:08جن کو بنیاد بنا کر
09:10ان سے نکات نکال کر
09:11ہمیں مثل آئینہ سامنے
09:13ان کو کھڑا کر کے
09:14اپنے عقص کو دیکھنا چاہیے
09:15کہ ہم کیسے ہیں
09:17تو دیکھیں کیسے ان کا قرضہ تھا
09:19اور کتنا قرضہ تھا
09:20یہ تو تعداد نہیں بیان ہوئی
09:21اس حدیث کے اندر
09:22پیچھے بھی کئی حدیثیں گزری ہیں
09:23لیکن بڑا ہوگا قرضہ
09:25اور اس میں سے آدھا معاف کر دو
09:27فوراں معاف کر دیا
09:28یہ نہیں کہا
09:29یا رسول اللہ
09:29ایک تو میں اتنے دیر
09:30ان کو ویٹ کرتا رہا ہوں
09:31ان کو محلت دیتا رہا ہوں
09:33اگر یہ پیسہ میرے پاس ہوتا
09:35میں انویسٹ کرتا
09:36مجھے اور زیادہ نفع ہوتا
09:37اس نفع سے محروم ہوتا رہا ہوں
09:39تو آپ اب مجھے دلوانی رہے
09:41بلکہ آپ فرما رہے
09:42کہ آدھا معاف کر دو
09:43کوئی آیا ان کی تیوری پہ بل
09:46ایک لمحے میں
09:47بس سرکار نے فرمایا
09:48کہ آپ آدھا معاف کر دو
09:50عرصیہ صلحہ کر دیا
09:52سرکار کی قدموں پہ جان قربان
09:54یہ ہے وہ پریکٹیکل جو کر کے دکھانا چاہیے
09:56اور ایک گھر کے سرپرست کو رول موڈل بننا چاہیے
10:00لیکن ہم ان امتحانات میں فیل ہوتے ہیں
10:02ہم نے خود ساختہ اپنے مناسب
10:05اور اپنے مقامات متعین کر لیے ہیں
10:08میں عاشق رسول ہوں
10:10تم بہت متقی ہو
10:11یہ بہت پریزگار ہے خود ہی
10:13اور علامات وارہ کوئی بھی نہیں
10:15اور آخرت کے جو انعامات ملنے والے ہیں
10:18وہ بھی ہم نے خود ہی مختص کر دی ہیں
10:21یہ تو انشاءاللہ سیدھے جنت میں جائیں گے
10:23یہ عاشق رسول ہے انشاءاللہ ان کو بڑا مقام ملے گا
10:25ارے بھائی
10:26حدیثیں کس لیے ہیں
10:27قرآن کس لیے ہیں
10:28شریعت ایک آئینے کی طرح ہوتی ہے
10:30اس کے سامنے اپنے آپ کو کھڑا کریں
10:32اس میں عقص دیکھیں
10:33آپ اس کے مطابق ہیں
10:34تو انعام ملے گا
10:35نہ یہ کہ بندر بانٹ ہے
10:36کہ جنت تم لے لینا
10:37ہور تم لے لینا
10:38محل تم لے لینا
10:39کون باتے گا
10:40آپ باتیں گے
10:41آپ کو اختیار حاصل ہے
10:43اور کن عامال کے بدلے میں
10:45کیا وہ عامال
10:46اللہ تعالی نے مقرر کیے
10:47کہ ان عامال کے بدلے میں دوں گا
10:48دلیل لے آئیں
10:49قرآن سے حدیث سے لے کر آئیں دلیل
10:51جو عامال آپ سمجھ رہے ہیں
10:53کہ اس پر ہمیں بہت بڑا انعام مل جائے گا
10:55تو قرآن و حدیث سے دلیل نہ آئیں
10:56بہرحال ہمارا کام سمجھانا ہے
10:58تو سمجھنا چاہیے
10:59اور پھر سرکار نے حضرت ابن ابی حضرت سے فرمایا
11:03کہ اب آدھا قرض آپ آدھا کر دیں
11:05بھائی نے تم پہ کرم کیا ہے
11:07آدھا کر دیا
11:08اب آپ کو آدھا کرنا چاہیے
11:09تو جو مقروض لوگ ہیں
11:11یہ بھی یاد رکھیں
11:12کہ بعض اوقاتیں سو ہوتا ہے
11:13کہ واقعی آدمی تنگ دست ہوتا ہے
11:15نہیں ہوتا اس کے پاس
11:17چلیں ٹھیک ہے
11:17آپ کو شش کریں
11:19اور سرکار نے فرمایا
11:20جو دینے کا ارادہ رکھتا ہے
11:22اللہ تعالیٰ اس کے لئے آسانی بھی پیدا کر دیتا ہے
11:24لیکن میں نے بعض مقروضوں کو دیکھا ہے
11:26کہ وہ دینے والے کو
11:28اتنا تنگ کرتے ہیں
11:29اور اتنا زچ کر دیتے ہیں
11:31کہ وہ کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے
11:32کہ آئندہ کسی کو قرض نہیں دینا
11:35حالانکہ آپ دے سکتے ہیں
11:36آسانی سے
11:37میں نے یہاں تک دیکھا ہے
11:39کہ مقروض ہیں
11:40قرضہ دنی کر رہے ہیں
11:41عمرے کر رہے ہیں
11:42فیملی کے ساتھ
11:44پکنک پوائنٹ پہ جا رہے ہیں
11:45کھا رہے ہیں
11:46پی رہے ہیں
11:46عیدے منا رہے ہیں
11:47بھائی قرضہ لوٹا ہو
11:48قرضہ نہیں لوٹا رہے
11:50اور اس طریقے سے
11:52اپنے اس برے فعل سے
11:53آپ سامنے والے کو
11:54اتنا پختہ کر دیتے ہیں
11:55کہ اب وہ کسی کے ساتھ
11:57ہمدردی کرنے کے لئے
11:58تیار نہیں ہوتا
11:58یہ آپ نے اپنے لئے
12:00ایک اور گناہ کا کام کیا
12:01کہ اپنے برے طرز عمل سے
12:03آپ نے
12:03اس بیچارے کے نرم دل کو
12:05سخت کر دیا
12:06جو رحم دلی اس کے دل میں
12:07اللہ نے ڈالی تھی
12:08آپ نے اس کو دل سے نکال دی
12:10جو غریبوں کی مدد کی
12:11وہ ایک تمنا رکھتا تھا
12:13ایک جذبہ رکھتا تھا
12:14آپ نے اس کو سرد کر دیا
12:15اپنے گندے فعل کی وجہ سے
12:18اور بعض ایسے ہوتے ہیں
12:19جو کھا جاتے ہیں قرضہ
12:21صاف منع کر دیتے ہیں
12:22نہیں ہمارے پاس
12:23یہ خاص طور پر
12:24باہر کے ملکوں سے
12:25کئی کیسز مجھے آئے
12:26کیونکہ وہاں پہ
12:27ارننگ بعض لوگ چھپاتے ہیں
12:29کہ ٹیکس بہت زیادہ لگ جاتا ہے
12:30آپ کس نے قرضہ مانگا
12:32اس نے جو سیونگ کی ہوئی تھی
12:33جس کا ٹیکس پے نہیں کیا تھا
12:35وہ بطور قرض دے دیا
12:36اب وہ جب مانگتے ہیں
12:38کہتے ہیں نہیں جاؤ
12:40اب کیا کریں
12:41اگر آپ شکایت کریں گے
12:42تو سب سے پہلے
12:43تو آپ کو دھر لیا جائے گا
12:44کہ اس کا بتائیں
12:45یہ رقم آئی کہاں سے تھی
12:47اماؤنٹ کہاں سے آیا تھا
12:48ٹیکس پے کیا تھا آپ نے
12:50نہیں کیا تھا
12:50تو اس پہ پکڑا جائے گا
12:51تو آدمی در کے تو جاتا ہی نہیں ہے
12:53اور وہ دبا کے بیٹھ جاتے ہیں
12:55یہ جو
12:55اس قسم کے کوئی میرے باہر سن رہا ہے
12:57میرا کلپ نکال کے
12:58خدا رہا ایسے لوگوں کو بھیج دے
13:00کہ یہ جو آپ بڑے شیر بنے ہوئے نا
13:02اس وقت
13:02اور بڑے خوش ہو رہے ہیں
13:03کہ میں نے کسی سے پیسہ لے کر
13:05اور ایسی ٹیکنیک سے
13:07میں نے پیسہ لے لیا
13:07کہ وہ واپس بھی نہیں مانگ سکتا
13:09یہ آپ کو بروزی قیامت دینا پڑے گا
13:11یہ کتنے دن کھالیں گے
13:13یہ حرام اور گناہِ قبیر
13:14اور جہنم کی آگ
13:15اپنی آتوں میں اتار کر
13:17کتنے عرصے تک آپ سکون حاصل کر سکتے ہیں
13:19اس کے بعد ہوگا یہ
13:21کہ بروزی قیامت اللہ تعالی
13:22آپ کو بھی کھڑا کرے گا
13:23اس شخص کو کھڑا کرے گا
13:25اور پھر آپ کی نیکیاں نکال کر
13:27اس کے نام عمال میں ڈال دی جائیں گے
13:29آپ کی نمازیں
13:30روزے
13:30زکاة
13:31درود پاک
13:32محافل میں شرکت
13:34ناتخانیوں میں شرکت
13:35قدم جو آپ نے جماعت کے لئے اٹھائے
13:37اس ساری نیکیاں ادھر
13:38اور اگر حساب پورا نہیں ہوگا
13:40تو اس کے گناہ نکال کر
13:41آپ کے نام عمال میں
13:42آپ سیدھے جہنم میں
13:44اور ہو سکتا ہے
13:45کہ وہ جنت میں چلا جائے
13:46اس لئے قرضہ واپس کریں
13:48اگر آپ نے ایسے کسی کا لیا ہے
13:50اس کے لئے ثبوت کا ہونا
13:52اس کے لئے واپسی کی طاقت کا ہونا
13:54واجب نہیں ہے
13:55آپ کو واپس کرنا واجب ہے
13:57ایسی جو مجھے
13:59ایسے دکاندار سن رہے ہیں
14:00جو سیلزمنوں کی پیمنٹز دبا کر بیٹھے ہوئے ہیں
14:02کیا ان کا پیٹرول خرچ نہیں ہوتا
14:04آپ کے پاس آنے پر بیچارے
14:05دس دس بار آتے ہیں
14:06بارہ بار آتے ہیں
14:07اور آپ کہتے ہیں
14:08جب بعد میں لے لینا
14:09بعد میں سب پیسہ پڑا ہوئے
14:10دیں اور فارغ ہوں
14:11اسی حالت میں آپ مر گئے تو ہو سکتا ہے
14:13کہ آپ کے اولاد
14:14تو آپ کے خرص بھی ادا نہ کریں
14:15نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
14:17نے شاہد فرمایا
14:18کہ جب شہید شہادت پاتا ہے
14:20تو خون کا قطرہ گرنے سے پہلے
14:22اللہ تعالیٰ اس کو مقام جنت میں پہنچا دیتا ہے
14:26لیکن دوسری روایت میں فرمایا
14:27کہ شہید کے جنت میں داخل ہونے میں
14:30صرف قرض رکاوٹ ہوتی ہے
14:31اگر وہ مقروض مرا ہے
14:33تو اس کی روح جنت میں داخل نہیں ہوگی
14:35وہ معلق رہے گی
14:37جب تک کہ یہ قرض ادا نہ ہو جائے
14:39اور ہم یہ پیمنٹس دبا کر بیٹھے ہوئے ہیں
14:41اور قرض آدھا نہیں کرتے ہیں
14:43بعض کھا گئے ہیں قرضے
14:44کئی کئی متب لاکھ روپے کھا گئے ہیں
14:47وہ آدمی مر گیا بیچارہ
14:49اس کے ورسا کو نہیں دیا
14:50خوب کھا گیا کہ ٹھیک ہے اب
14:52تو یہ میرے جتنے ایسے سمجھدار بھائی بہن ہیں
14:56سمجھدار سے ایک اور لفظ آگے کہوں گا
14:58ہوشیار قسم کے جو ہیں
14:59آپ اتنے ہوشیار و سمجھدار ہیں نہیں
15:01جیسے آپ سمجھ رہے ہیں
15:03وہ کیوں اس لیے کہ آپ نے دنیا کو پسند کر لیا
15:06اور آخرت کی بربادی کو
15:08آپ نے اس کے مقابلے میں لے لیا
15:10کہاں سے سمجھداری ہوگی
15:11یہاں چند ٹکے اور وہاں ساری آپ کی نیکیاں
15:15یہاں تھوڑا سا آرام
15:16اور وہاں کا سخت پھر عذاب
15:18سمجھداری یہ ہے دیں
15:20تلاش کریں
15:21اور اگر وہ نہیں ملتا جس کا آپ نے قرضہ دبایا ہوا ہے
15:24تو اس نامعلوم مالک کی طرف سے
15:27یعنی اس کے وارث بھی نہیں پتا
15:28اس کا بھی نہیں پتا کہاں چلا گیا
15:30تو اتنا پیسہ آپ صدقہ کریں گے
15:32ہو سکتے اللہ تعالی آپ کو برود قیمت
15:34اس شخص کو آپ سے راضی کر دے
15:36صدقہ کرنا لازم ہے
15:37تو جتنے نہ بھی ایسے قرضیں لیا ہوئے
15:39خدارہ تھوڑا تھوڑا کر کے
15:41چاہے کیسے بھی فوراں ادا کریں
15:42اور میں تو کہتا ہوں
15:44اگر کچھ گھر کی چیز بھی بیچ نہیں پڑے
15:46بیچ کے قرض اتار دیں
15:47اپنے سر سے وبال ختم کرنے
15:50آخرت میں ہلکے پھل کے چلے جائیں
15:52میں کبھی کبھی مثال دیتا ہوں
15:53آپ نے ائرپورٹ پہ سفر کیا ہوگا
15:55جن کے ہاتھ میں ہینڈ کہہ رہی ہوتا ہے
15:57جب آپ جہاز سے اترتے ہیں
15:59تو ان کو رکنا نہیں پڑتا
16:00وہ سیدھے گیٹ سے باہر نکل جاتے ہیں
16:02لیکن جن کے پاس سامان ہوتا ہے بہت سارا
16:04وہ بیچارے کھڑے گئے
16:06اپنے سامان کے آنے کے انتظار کرتے ہیں
16:07بعض اوقات تو ایک ایک ڈڈڈڈ گھنٹا
16:10انتظار کرنا پڑ جاتا ہے
16:11اس کا مطلب ہے جتنا آدمی ہلکا ہوتا ہے
16:13اتنے ہی جلدی فارغ ہوتا ہے
16:15جتنا بھاری ہوتا ہے
16:17اتنے ہی انتظار کرنا پڑتا ہے
16:19بس آخرت کے معاملات بھی ایسے ہیں
16:21جتنے ہلکے ہم جائیں گے
16:22اتنے جلدی جنت میں
16:24اور جتنے بھاری ہو کر جائیں گے
16:26اتنے ہی وبال آخرت ہے
16:27اور مصیبت ہے
16:29اللہ تعالیٰ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے
16:31یہاں تک ہمارا کتاب الصلح ختم ہوا
16:34اب انشاءاللہ کتاب شروط کا آغاز ہوگا
16:38یعنی امام بخاری رحمت اللہ علیہ
16:40اس حصہ کتاب میں
16:41ان احادیث کریمہ کو لائے ہیں
16:43جن میں کسی نہ کسی شرط کا ذکر ہے
16:46شرط کا مطلب ہوتا ہے
16:47کہ ہم کسی چیز کو ایک کام کو
16:49دوسرے کام پر معلق کر دیتے ہیں
16:51لٹکا دیتے ہیں
16:53اگر تم نے کل اس سے بات کر لی
16:56تو میں تمہیں اتنے پیسے دے دوں گا
16:57یہ جیسے ہم شرط اگر
16:58مگر کے ساتھ شرط لگاتے ہیں
17:00ان شروط کا انشاءاللہ بیان ہوگا
17:02اور نیکس پروگرام سے انشاءاللہ ہم اس کا آغاز کریں گے
17:04وآخر دعوانا
17:05ان الحمدللہ رب العالمين
Comments

Recommended