00:03جب مردوں نے خون میں ڈوبی جنگ کو اپنا مقدر بنا لیا
00:08جب شہر کی گلیوں میں امن کے بجائے ماتم بسا
00:12ارماؤں کی گودے صرف انتظار میں سوکھنے لگی
00:16تو اٹھیں وہ جنہیں ہمیشہ خاموش سنجھا گیا
00:25ایتھنز کی گلیوں میں ایک عورت لائسس ٹراؤٹا
00:28وہ جو صرف صلح کا خواب نہیں دیکھتی تھی
00:32بلکہ اسے حقیقت بنانے کا اعلان کرتی ہے
00:36اس نے عورتوں کو جمع کیا
00:38ایتھنز کی سپارٹا کی دشمن اور دوست سب کو
00:43اور کہہ دیا جب تک مرد جنگ چھوڑ کر وابس نہ آئیں
00:48ہم انہیں اپنا پیار نہیں دیں گی
00:51یہ صرف ہنسی نہیں یہ ایک بغابت تھی
00:55ایک انقلاب جو محبت کے اتھیار سے لڑا گیا
01:02محبت با مقاولہ جنگ
01:06لیسس ٹراؤٹا
01:08اریسٹو فینس کا وہ ڈراما جس نے دنیا کو بتایا
01:11کہ امن کبھی کبھی عورت کی خاموشی سے نہیں
01:14بلکہ اس کی ہڑتال سے آتا ہے
01:40تربیہ مزہیہ یا کومیڈی
01:43یونانی لفظ کومویڈا سے متعلق ہے
01:45جس کا مطلب ہے رنگ رلیاں منانے والی ٹولی کا گیت
01:51ریجڈی کی طرح کومیڈی کی ارتقاء کی تاریخ بھی اتنی ہی مبہم ہے
01:55کہ اریسٹو تک کو بھی اس زمن میں کوئی بات صحیح طور پر معلوم نہیں تھی
01:59دونوں میں بس یہ بات مشترک ہے
02:02کہ دونوں کا تعلق دیونسوس سے ہے
02:05جو یونان میں ذرخیزی کا دیوتا سمجھا جاتا تھا
02:09کومیڈی کی عدوی حصیت کو ایتھنز میں سرکاری طور پر پہلی مرتبہ
02:13چارسٹ چھاسی قبلی مسیح میں تسلیم کیا گیا تھا
02:16اس کے بعد سے اسے بھی علمیہ یا ٹریجڈی ڈراموں کے پہلو با پہلو سٹیج کیا جاتا تھا
02:23سپارٹا اور کورنث میں چھٹی ستی قبلی مسیح کے ایسے مرتبان ملے ہیں
02:28جن پر ایسی ٹولیوں کی تصویریں ہیں
02:30جو اول جلول لباس پہنے
02:32بلکہ جانوروں کے لبادوں میں دماغ چوکڑی مچاتے دیکھی جا سکتی ہیں
02:40ریسٹو فینس یونانی کالاسی کی عدب کا ایک نمائع اور مؤثر ڈراما نگار تھا
02:46جس نے قدیم ایتھنز کے سماجی، سیاسی اور ثقافتی منظرنامے کو
02:50اپنی تحریروں میں تنظمزا کے ذریعے نہائیت فنکارانہ انداز میں پیش کیا
02:58اس کی تاریخ پیدائش تقریباً 446 قبلی مسیح اور وفات 386 قبلی مسیح کے قریب بتائی جاتی ہے
03:05ریسٹو فینس کا شمار قدیم یونانی اولڈ کامیڈی
03:09یعنی قدیم مزاہیہ ڈرامے کے سب سے بڑے نمائندہ مصنفین میں ہوتا ہے
03:15اس کے دور میں تھیٹر صرف تفریح نہیں
03:17بلکہ ایک سماجی اور سیاسی سٹیئی تھا
03:20جہاں حکومت، فلسفہ، دنشوروں اور وامی روائیوں پر کھل کر بحث و تنقید کی جاتی تھی
03:28ریسٹو فینس ایک ایتھنیا اشاری تھا
03:31جو قیدہ تھی نائن کے ڈیم سے آیا تھا
03:34جو پانڈونیس کے اٹک قبیلے کا حصہ تھا
03:37اس کا باپ فلپس تھا اور اس کی ماں زینوڈورا تھی
03:40قدیم زمانے میں اس کے خاندان کا تعلق ایگینہ جزیرے سے سمجھ گاتا تھا
03:47ریسٹو فینس کی جنگی کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں
03:50اس کے ڈرامے ہی اس کے سوانی معلومات کا بنیادی ذریعہ ہیں
03:55جب ریسٹو فینس نے اپنا پہلا ڈراما دی بینک ویٹرز تیار کیا
04:00تو اس وقت ایتھنز ایک پر جوش سامراجی طاقت تھی
04:04اور پہلے پونیشن جنگ کا چوتھا سال تھا
04:07اس کے ڈرامے اکثر پرانی نسل کی کامیابیوں پر فخر کا اظہار کرتے ہیں
04:12وہ اسپارٹا کے ساتھ جنگ کے سخت مخالف تھا
04:15اس کے ڈرامے خاص طور پر جنگ سے فائدہ اٹھانے والوں پر تنقید کرتے تھے
04:20جن میں کلیون جیسے پاپولیسٹ نمائی ہیں
04:26جب اس کا آخری ڈراما تیار کیا گیا
04:29تقریباً 386 قبل امسی میں
04:31تو ایتھنز کو جنگ میں شکست ہوئی تھی
04:34اس کی سلطنت ختم ہو چکی تھی
04:36اور یونان سیاسی سے فکری تحظیم میں تبدیل ہو چکا تھا
04:41ارسٹو فینس بھی اس تبدیلی کا حصہ تھا
04:44اور اس نے اس دور کے فکری اتوار میں اپنا حصہ ڈالا
04:51ارسٹو فینس نے کل چوالیس ڈرامے لکھے
04:54جن میں سے صرف گیارہ مکمل حالت میں آج بھی محفوظ ہیں
04:58اس کے باقی ڈرامے جزوی طور پر محفوظ ہیں
05:01یا مکمل طور پر ناپید ہو چکے ہیں
05:04اس کے ڈرامے ڈی کلاوڈز ڈی واسپس ڈی بارڈز
05:08لائسٹراتا اور ڈی فراغ
05:11قدیم مزاہیہ ڈرامے کی کلاسی کی مثالیں سمجھی جاتی ہیں
05:19اس کے ڈراموں میں زبان بے حد رنگین
05:22مزاہیہ اور بعض اوقات فہش بھی ہوتی تھی
05:25لیکن یہ سب کچھ ایک مقصد کے تحت ہوتا تھا
05:29ریسٹو فینس نے اپنے ڈراموں کے ذریعے
05:31نہ صرف عوام کو ہنسایا
05:32بلکہ گہری سماجی اور سیاسی پیغامات بھی دیئے
05:36اس نے جمہوریت جنگ تعلیم فلسفہ مذہب
05:40اور عورتوں کے مقام پر کھل کر بات کی
05:43مسال کے طور پر اس کا مشہور ڈراما
05:46لائسسٹرا اس وقت کی پیلوپونیشن جنگ کے خلاف
05:49ایک زبردست تنزیارت عمل تھا
05:52جس میں عورتیں مردوں کو جنگ سے روکنے کے لیے
05:55ان سے جنسی تعلقات ختم کر دیتی ہیں
05:58یہ ڈراما آج بھی نسوانی طاقت
06:01اور امن کی علامت سمجھا جاتا ہے
06:06اسے کومیڈی کا باپ
06:08اور قدیم کومیڈی کا شہزادہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے
06:11اسے صرف تین بار اولین انام کا حق در سمجھا گیا
06:15اس کے معاصر
06:17کراتینوس اور آئیو پولس کومیڈی نگاری میں
06:20اس سے زیادہ مشہور تھے
06:22اور انہوں نے اس سے زیادہ انعامات جیتے
06:24مگر افسوس کی بات یہ ہے
06:26کہ ارسٹو فائنیز کے کسی بھی ہم اثر
06:28ڈراما نگار کا کام محفوظ نہیں رہا
06:33ارسٹو فائنس نے
06:34چارس سو ستائیس قبل مصی میں
06:36سٹی ڈونیشیا میں اپنے پہلے ڈرامے
06:38دی بینکویٹرز
06:40دی بیبلینینز کے ساتھ پہلے انعام جیتا تھا
06:43غیر ملکی معززین بھی سٹی ڈونیشیا میں عموماً جاتے تھے
06:47جس میں بابل کے بیشندے بھی شامل تھے
06:50یوں یہ ڈراما ایتھنیائی حکام کے لیے
06:52کچھ شرمندگی کا باعث بنا
06:54کیونکہ اس میں ڈیلین لی کے شہروں کو
06:57چکی میں پیستے ہوئے غلاموں کے طور پر دکھایا گیا تھا
07:01کچھ باثر شہریوں نے خاص طور پر
07:03کلیون نے اس ڈرامے کو پولس کے خلاف بہتان قرار دیا
07:07اور مصنف کے خلاف قانونی کاروائی کی مقدمے کی تفصیلات غیر ریکارڈ شدہ ہیں
07:15ریستو فینز کی مزانگاری کے اب تک کئی زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں
07:20اس کا پلے اہل خارنیاں چار سو پچیس قبلیمسی میں پیش کیا گیا تھا
07:24اور اسٹو فانیز کے دستیاب تربیوں میں یہ سب سے پرانا ہے
07:28اس کھیل کو بھی پہلے انعام کا مستحق سمجھا گیا تھا
07:33ریستو فینز کے ایک بہت بڑی خصوصیت یہ تھی
07:36کہ وہ اپنے وقت کے معروف فلسفیوں اور سیاستدانوں کو نشانے پر رکھتا تھا
07:40اس نے خاص طور پر سکرات کو اپنے ڈرامے دی کلاؤڈز میں
07:44ایک مزقہ خیز فلسفی کے طور پر بیش کیا
07:47جس نے بعد میں یہ تاثر دیا کہ ریستو فینز کے اس انداز پیشکش نے
07:52سکرات کی عوامی شبیہ کو متاثر کیا
07:55اگرچہ بعد میں مرخین اور فلسفیوں نے اس بات سے اختلاف کیا
07:59لیکن اس حقیقے سے انکار ممکن نہیں
08:02کہ ریستو فینز کی تحریریں عوام پر گہرہ اثر ڈالتی تھی
08:10ریستو فینز نے مزاہ کو صرف ہنسی کا ذریعہ نہیں سمجھا
08:14بلکہ اسے ایک سنجیتہ سیاسی و سماجی علا بنایا
08:17اس کے ڈرامے قدیم ایتھن کے شہریوں کی کمزوریوں
08:21منافقتوں
08:21سیاسی غلطیوں
08:23اور ثقافتی تضادات کو بینکاب کرتے تھے
08:26لیکن مزاہیہ انداز میں
08:28تاکہ وہ نہ صرف قابل برداشت ہوں
08:30بلکہ سوچنے پر بھی مجبور کریں
08:33اس کی تحریروں میں بے شمار علامتیں
08:36استعارے اور دکیانوسی کردار ہوتے تھے
08:39جو اس وقت کے معاشرتی ڈھانچے اور اقدار کی نمائنگی کرتے تھے
08:44ایریسٹو فینس کا انداز تحریر نہیت برجستہ
08:47جاندار اور عوامی زوب کے مطابق ہوتا تھا
08:51جس میں عام آدمی بھی اپنے جھلک دیکھ سکتا تھا
08:56تاریخی لحاظ سے ایریسٹو فینس ایک نہیت اہم عدوی شخصیت ہے
09:00کیونکہ اس کے ڈرامے نہ صرف اس کے وقت کی سیاسی تاریخ کا عقص پیش کرتے ہیں
09:05بلکہ ہمیں اس دور کی عوامی نفسیات
09:07شہری روئیوں اور اجتماعی تجربات کو سمجھنے کا نادر موقع افرام کرتے ہیں
09:14آج بھی ایریسٹو فینس کے ڈرامے دنیا بھار کے تھیٹروں میں پیش کیے جاتے ہیں
09:18اور جدید فقاہیہ عدب کے مصنفین اسے اپنا پیش شروع مانتے ہیں
09:23یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایریسٹو فینس نے مزا کو ایک ایسا فند بنایا
09:27جو صرف ہنسی نہیں دیتا بلکہ ایک آئینہ بھی فراہم کرتا ہے
09:32جس میں سماج اپنے چہرے کو پہچان سکتا ہے
09:35اس کا تنز کبھی کبھی تلخ ضرور ہوتا ہے لیکن اس کی نیت اصلاحی ہوتی ہے
09:47یہی اس کے فن کی خوبصورتی ہے جو آج بھی زندہ ہے
Comments