00:00تصور کریں ایک ایسی سرزمین جہاں فارسی سلطنت اپنے اروج پر ہے
00:05لیکن اندر ہی اندر تخت کی جنگ سلگ رہی ہے
00:09ایک بھائی سائرس دی ینگر جس کی آنکھوں میں تخت کا خواب ہے
00:13اور دوسرا اردش اردون جو پہلے ہی تخت پر بیٹھا ہے
00:18ایک خفیہ لشکر تیار ہوتا ہے
00:21اور ان کے ساتھ آتے ہیں دس ہزار تربیت یافتہ دلیر یونانی سپاہی
00:26جنہیں حقیقت کا علم ہی نہیں کہ وہ کس جہنم میں قدم رکھ رہے ہیں
00:32یہ ہے کناکسا کی جنگ ایک ایسی خون ریز جنگ جہاں بھائی بھائی کے خلاف تلوار کھینچتی ہیں
00:39اور غیر ملکی فوج ایک اندیکھی سرزمین میں اپنے لیے رہ تلاش کرتی ہے
00:45جب سائرس مارا جاتا ہے تب یونانی فوج تنہا رہ جاتی ہے
00:50دشمن کے بیچوں بیچ نہ کوئی رہبر نہ آرازتہ نہ واپسی کی امید
00:57لیکن پھر ابرتا ہے ایک سپاہی ایک فلسفی زینفون
01:02شروع ہوتا ہے ایک ایسا سفر جو تاریخ کی سب سے خطرنات فوجی واپسی کہلاتی ہے
01:09مارچ آف دی ٹین تھاؤزینڈز
01:12یہ صرف ایک جنگ نہیں یہ قیادت خوصلے اور زندہ بچنے کی ایسی کہانی ہے
01:18جو ہزاروں سال بعد بھی دنیا کو حیران کر دیتی ہے
01:22دیکھئے مکمل داستان زینفون سائرس اردشیر اور کناکسا کے میدان کی صرف ہماری ویڈیو میں
01:42زینفون کی انا بیسس نصری داستان سات کتابوں پر مجتمل یونانی قرائے کے سپاہیوں کی کہانی ہے
01:55جو سائرس دی ینگر کے لیے اپنے بھائی آٹازرکسیز دوم سے فارسی تخت پر قبضہ کرنے کی کوشش میں لڑے تھے
02:03اس میں قرائے کے فوجیوں کے لمبے سفر ٹین تھاؤزنڈ کا مارچ کا ایک مشہور بیان ہے
02:09جو چار سو ایک قبل مسیح میں لڑی گئی کوناکسا کی جنگ میں سائرس کی شکست کے بعد
02:14بابل کے قریب سے یوکسین بہیرہ اسود تک ہے
02:19زینفون جو ایک قرائے کے سپاہی کی حیثیت میں اس یونانی فوج کے ساتھ گیا تھا
02:27ان کی کام یا پسپائی کا حال بیان کرتا ہے
02:29زینفون ایک یونانی مورخ تھا
02:32اس نے بعد ازان جو تاریخ مرتب کی اس میں اس واقعہ کو خاص اہمیت دی
02:37اس داخلی ایرانی جنگ میں سپاٹا نے معاہدہ سلوہ کو بالائے تاک رکھ کر باغی شہزادے کی مدد کی
02:44جس کی وجہ سے سپاٹا اور ایران کے درمیان معاہدہ سلوہ ٹوٹ گیا
02:48اس پر سپاٹا کے حریف کے ایتھنز نے ایرانیوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا
02:53اور اپنی بحریہ ایرانی بحریہ میں شمل کر دی
02:56اہل سپاٹا کو جب کوئی چارہ کار نظر نہ آیا
02:59تو انہوں نے ایران سے پھر مسالحت کر لی
03:02کنیکسا کی جنگ چار سوے قبل مسیح کے موسم گرمہ کے آخر میں
03:09فارسی بادشاہ آٹھا زرکسیز دوم اور اس کے بھائی سائرس دی ینگر
03:13یعنی کوروش اسگر کے درمیان اچھے میڈیٹ یا حخہ منشی تخت حاصل کرنے کے لیے لڑی گئی
03:20سائرس کی بغاوت کی یہ عظیم جنگ بابل کے شمال میں ستر کلومیٹر دور
03:25فراد کے بائیں کنارے کناکسا کے مقام پر ہوئی
03:29یونانی قرائے کے سپائیوں اور سائرس کی فارسی فوجوں کے بام اتحاد سے ہونے والی
03:35اس جنگ میں کامیابی کے باوجود جنگ کا نتیجہ تخت پر بیٹھنے والے کے دعوے دار کی موت کے ساتھ
03:42اتحاد کی شکست کے ساتھ ہوا
03:44داریوش دوم کی ملکہ پریسیتی چاہتی تھی کہ اس کا بیٹا سائرس یا کروشی اسگر ولی اہد نامزد کیا جائے
03:56مگر داریوش دوم نے ملکہ کی خواش کو رد کرتے ہوئے
04:00اپنے دوسرے بیٹے ارشک یا ارساسس کو ولی اہد نامزد کیا
04:05جس کی وفات پر چاسو چار قبل مسیح میں آٹازرکسیز دوم یا اردشیر دوم کے نام سے تخت نشین ہوا
04:12آٹازرکسیز دوم کی رسم تاج پوشی پازارگد میں ہوئی
04:16سائرس دی جنگر کو یہ کب گوارہ تھا کہ آٹازرکسیز دوم تاج پہنے اور وہ محروم رہ جائے
04:22چنانچہ اس نے این تاج پوشی کے دن آٹازرکسیز پر حملے کی تھانی
04:27ایک درباری امیر تسافرون یا ٹیسا فرنس نے اس کے فاسد ارادے سے آٹازرکسیز کو اگاہ کر دیا
04:34اس پر سائرس کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کے قتل کا حکم جاری ہو گیا
04:39مگر مادر ملکہ پری سٹی آڑے آئی اور سائرس کی جان بخشی کروا کر
04:44اسے ایشیا کوچک کا حکمران بنا کر بھیج دیا گیا
04:48سائرس واہن جاکہ بھی خاموش نہیں بیٹھا
04:54اس نے اپنے تجربہ کار یونانی جرنیل کلی ریکس کو ایک بڑا لشکر تیار کرنے پر معمور کیا
05:00اور وہ یونانی قرائے کے گوریلے بھرتی کرنے شروع کر دیئے
05:03سائرس اسگر کی غیر معمولی فوجی تیاریوں کو دیکھ کر اس مرتبہ بھی
05:14تیسا فرنس نے بادشاہ کو خبردار کیا
05:17ادھر سائرس بھی اپنے لشکر کے ساتھ شام کے حکمران
05:21عمر قومہ پر حملہ کرنے کے بہانے نکلا
05:24جب اس کی فوج کو پتا چلا کہ اس کا ارادہ شہنشاہ ایران سے لڑنے کا ہے
05:28تو فوج میں بددلی پھیل گئی مگر سائرس نے ذرو مال کے ترغیب سے انہیں آگے بڑھنے پر آمادہ کر لیا
05:36جنگ کی تیاریاں
05:43سائرس نے یونانی قرائے کے فوجیوں کی ایک فوج جمع کی
05:48جس میں دس آزار چار سو ہائپلائٹس اور پچی سو پیادہ فوجی شامل تھے
05:53جو سپارٹن جنرل کیلریکس کے ماتہ تھے
05:57چار سو ایک قبل مسیح میں سائرس بابل کی حدود میں میسوپوٹیمیا یعنی عراق میں داخل ہو گیا
06:04جب سائرس کو ملوم ہوا کہ اس کا بڑا بھائی عظیم بادشاہ اپنی فوج کے ساتھ قریب آ رہا ہے
06:10تو اس نے اپنی فوج کو جنگی صف میں لا کھڑا کیا
06:13اس نے یونانی قرائے کے فوجیوں کو دائیں طرف دریاء کے قریب رکھا
06:17اس کے علاوہ ان کے دائیں طرف کچھ گھوڑ سوار دستے بھی تھے
06:21سائرس خود چھے سو باڈی گارڈ کے ساتھ یونانی قرائے کے فوجیوں کے بائیں طرف مرکز میں تھا
06:28جبکہ سائرس کے شیائی دستے بائیں جانب تھے
06:31اس کے برایکس آٹاز ارکسیز دوم نے اپنا میسرہ دریاء پر رکھا
06:36جس میں گھوڑ سوار فوج کی ایک یونٹ بیس کی حمایت کر رہی تھی
06:39آٹاز ارکسیز اپنی فوج کے مرکز میں تھا
06:43جس میں فارسی کیولری کے چھے ہزار سوار تھے
06:46جو سائرس کے بائیں طرف تھا
06:48حتمی حملہ شروع ہونے سے پہلے
06:50کناکسا کے واقعات کا مرکزی تعلق رکھنے والے
06:54زینفون نے جو شاید اس وقت درمیانی ترجیح کا افسر تھا
06:58سائرس سے رابطہ کیا
06:59تاکہ اس بات کو جگنی بنایا جا سکے
07:02کہ تمام مناسب احکامات اور انتظامات کیے گئے ہیں
07:05سائرس نے لڑائی سے پہلے مذہبی قربانیاں پیش کی
07:08جو روایتی طور پر جنگ سے پہلے کی جاتی تھی
07:11تاکہ کامیابین کا مقدر بنے
07:14جنگ
07:20سائرس کے دائیں طرف تیونات یونانیوں نے
07:24آٹاز ارکسیز کی فوج کے بائیں حصے پر حلہ بولا
07:27جس نے ان کی صفے توڑ کر رکھ دی
07:29اور ان کو تتر بتر کر دیا
07:31تاہم فارسی دائیں طرف آٹاز ارکسیز کی فوج
07:35اور سائرس کے درمیان لڑائی
07:36کہیں زیادہ مشکل اور طویل تھی
07:39سائرس کے ایک وفادار
07:41یو اس کے بائی آٹاز ارکسیز کا ذاتی محافظ تھا
07:44نے آٹاز ارکسیز کو ایک برچی سے مار ڈالا
07:47جسے دیکھ کر باغیوں نے پسپائی اختیار کی
07:50برچہ پھینکنے والا وہ شخص
07:52میتھرے ڈیٹس کے نام سے جانا جاتا تھا
07:54اسے بھی بعد میں صفاقیت سے
07:57سزائے موت دے دی گئی
07:58کیونکہ ایک جشن کی دعوت میں
08:00نشے میں آ کر وہ اس نے آٹاز ارکسیز
08:02کے قتل کے واقعے کے بارے میں شیخی ماری
08:05اور آٹاز ارکسیز کو ناراض کیا
08:07جو ابتدا میں اس کا شکر گزار تھا
08:10اور اسے بھرپور انعام دیا گیا تھا
08:13صرف یونانی قرائے کے فوجی
08:14جنہوں نے سائرس کی موت کی خبر نہیں سنی تھی
08:17اور وہ باری اتھیاروں سے لیز تھے
08:19ثابت قدم رہے
08:20پلیر ایکس نے آٹاز ارکسیز کی فوج
08:26کے بہت بڑے دائیں بازو کے خلاف
08:28پیش قدمی کی اور اسے پسپا کر دیا
08:30دریسنا آٹاز ارکسیز
08:33کے فوجیوں نے یونانی چھونی پر
08:34قبضہ کر لیا اور ان کے
08:36کھانے کا سامان تباہ کر دیا
08:38ماباد اس جنگ
08:48یونانی سپاہی اور اس جنگ کے شاہد
08:51مصنف زینفون کے مطابق
08:53یونانی فوجوں نے اپنے مخالف
08:55فارسیوں کو منتشر کر دیا
08:57صرف ایک یونانی زخمی ہوا تھا
08:59جنگ کے بعد جب انہوں نے سنا
09:01کہ سائرس خود مارا گیا ہے
09:02تو ان کی فتح غیر متعلق اور مہم
09:05ناکام ہو گئی
09:06وہ ایک بہت بڑی سلطنت کے بیچ میں تھے
09:09جس میں کوئی خوراک کوئی مدد
09:11اور کوئی قابل اعتماد دوست نہیں تھا
09:13انہوں نے اپنے فارسی تحادی
09:16ایریس کو بادشاہ بنانے کی پیش کش کی
09:18لیکن اس نے اس بنیاد پر انکار کر دیا
09:21کہ وہی شاہی خون سے نہیں ہے
09:23اب یونانیوں نے اپنی خدمات
09:28ٹیسا فرنس کو پیش کی
09:30جو آٹاز ارکسیز کے ایک سرکردہ
09:32صوبیدار تھے
09:33لیکن اس کی ہتھیار ڈالنے کی شرط سے
09:35یونانیوں نے انکار کر دیا
09:37ٹیسا فرنس کے سامنے یہ بڑی فوج ایک مسئلہ تھی
09:40جسے وہ آمن سامنے
09:41حملے سے شکست نہیں دے سکتا تھا
09:44اس لئے اس نے انہیں کھانا فرام کیا
09:46اور ایک تاویل انتظار کے بعد
09:48انہیں شمال کی طرف
09:49اپنے صوبے کی طرف لے گیا
09:51اسی دوران ایریس اور اس کے
09:53فوجی دستوں کو ان یونانیوں سے
09:55الگ کر دیا گیا
09:57اب دھوکے سے ٹیسا فرنس نے
09:59یونانی آل افسروں کے عزاز میں
10:01ایک دعوت کا احتمام کیا
10:02ٹیسا فرنس کی دعوت کو قبول کر لیا گیا
10:05دعوت کے دوران ان کو دھوکے سے
10:07قیدی بنا لیا گیا
10:08بعد میں ان سب کو بادشاہ کے پاس لے جایا گیا
10:11اور وہاں ان کا سر کلم کر دیا گیا
10:13یونانیوں نے اب
10:17اپنے نئے افسروں کا انتخاب کیا
10:19اور بہرہ اسود کی طرف
10:21شمال کی طرف
10:22اوڈوین اور آرمینیا سے ہوتے ہوئے
10:25ساحل پر آباد
10:26یونانی کالونیوں تک پہنچنے کے لیے
10:28روانہ ہوئے ان کی حتمی تعداد
10:31دس ہزار بتائی جاتی ہے
10:33یونانی فوج کے جرنیلوں کے قتل سے فوج مایوس ہو گئی
10:45لیکن زینفون نے حمد دکھائی
10:47وہ خود ایک فلسوی
10:48آشاگرد سکرات تھا
10:50لیکن اس نے کمان سنبھالی
10:51اور باقی فوج کو زندہ واپس لانے کا ارادہ کیا
10:54زینفون اور اس کی فوج نے
10:56جنوب سے شمال کا رخ کیا
10:58تاکہ بہرہ اسود تک پہنچا جا سکے
11:01یہ سفر تقریباً سولہ سو کلومیٹر پر محیط تھا
11:04اور اس دوران ان کا سامنا ہوا
11:06دشمن قبائل سے
11:08شدید سردی اور برف سے
11:11خوراک کی قلت
11:12دھوکہ دئی اور راستے کی لاعلمی
11:16پہاڑوں اور دریاؤں سے گزرنے کی مشکلات سے
11:20تھلاسہ تھلاسہ
11:26یعنی سمندر سمندر
11:27کئی مہینوں بعد جب یونانی فوج نے بہرہ اسود کو دیکھا تو خوشی سے چلا اٹھے
11:33تھلاسہ تھلاسہ
11:35یونانی زبان میں اس کا مطلب تھا سمندر سمندر
11:39کہ وہ اب یونانی زمین کے قریب آ چکے ہیں
11:42اور بچ جانے کے امید پیدا ہو چکی ہے
11:45اس کے بعد زینفون نے اپنی فوج کو واپس یونان پہنچایا
11:49حالانکہ راستے میں کئی مقامی حکمرانوں اور سپاہ سالاروں سے لڑائیاں بھی ہوئیں
11:54بلاخر وہ اپنی قوم کے علاقے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے
11:59حرف آخر
12:02سائرس کی حمد اور قابلیت کی
12:05یونانیوں نے خاص طور پر تاریخ دان زینفون کی طرف سے
12:08بہت تعریف کی گئی
12:11جو کہ یونانی قرائے کے فوجیوں میں سے ایک تھا
12:13جس نے اپنی اینابیسز میں یونانی پسپائی کی تاریخ لکھی
12:17لیکن اچیمینائیڈز کے نکتہ نظر سے
12:20سائرس ایک غدار تھا
12:22جس نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے
12:25دشمن یونانیوں کو سلطنت پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا
12:38موسیقی
12:50موسیقی
Comments