Skip to playerSkip to main content
Who was Thucydides? Discover the mind of the man who redefined history writing. Thucydides, an Athenian general turned historian, chronicled the Peloponnesian War with brutal realism and unmatched insight into power, politics, and human behavior. In this video, we dive deep into his life, his methods, and how his timeless ideas echo in modern warfare and global politics.

From realpolitik to the "Thucydides Trap," this is more than ancient history — it's a mirror to our present and future.
🔔 Subscribe for more historical deep-dives!

#Thucydides #HistoryOfWar #PeloponnesianWar #AncientGreece #ThucydidesTrap #Realism #GreekHistory #WorldPolitics #ClassicalHistory

Category

📚
Learning
Transcript
00:00ایک ایسا مورخ جو سچ بولنے سے نہ ڈرا
00:05ایک ایسا فلسفی جس نے طاقت کی ننگی حقیقت کو بے نکاب کیا
00:10جب دنیا دیوتاؤں پر یقین رکھتی تھی
00:14تب ایک شخص نے انسان کے اندر چھپے درندے کو پہچانا
00:18جہاں تاریخ داستانوں میں گم تھی
00:21وہاں اسے نے سچائی کی شمع جلائی
00:24اور دکھایا کہ جنگ صرف میدان میں نہیں
00:26دلوں اور دماغوں میں بھی لڑی جاتی ہے
00:29یہ کہانی ہے تھیوسی ڈائٹس کی
00:33وہ شخص جس نے تاریخ کو کلم سے نہیں خون سے لکھا
00:54تھیوسی ڈائٹس ایک اتنیائی مورخ اور جنرل تھا
00:57پیلپونیشن جنگ کی اس کی تاریخ
01:00پانچویں صدی قبل مسیح کی سپارٹا اور ایتھنز کے درمیان
01:04چار سو گیارہ قبل مسیح تک کی جنگ کا ذکر کرتی ہے
01:07تھیوسی ڈائٹس کو سائنسی تاریخ کا باپ کہا جاتا ہے
01:12تھیوسی ڈائٹس کو سیاسی حقیقت پسندی کے مکتب کا باپ بھی کہا جاتا ہے
01:18یہ افراد کے سیاسی رویے اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کے نتیجے میں
01:23پیدا ہونے والے انتطائج کو آخرکار بلا خوف اور خودگرزی کے دیکھتا ہے
01:29اس کا مطن اب بھی دنیا بھر کی یونیورسٹریوں اور ملٹری کالجز میں بڑھایا جاتا ہے
01:35میلین ڈائلاغ کو بین القوامی تعلقات کے نظریہ کا بنیادی مطن سمجھا جاتا ہے
01:41جبکہ پیریکلیز کے جنازے کی تقریر کے اس کے سیاسی نظریے کو داناؤں، مورخین اور کلاسی کی طلبہ نے بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا ہے
01:52عام طور پر تھیوسی ڈائٹس نے تعاون، قتل عام اور جنگوں جیسے بہرانوں میں رویے کی وضاحت کرنے کے لیے انسانی فطرت کی سمجھ پیدا کی
02:11زندگی
02:13ایک مورخ کے طور پر ان کے قدر کے باوجود جدید مورخین تھیوسی ڈائٹس کی زندگی کے بارے میں نسبتاً کم جانتے ہیں
02:22سب سے زیادہ قابل اعتماد معلومات ان کی اپنی ہسٹری آف تھی پہلوپنیش انوار سے ملتی ہے
02:29جس میں اس نے اپنی قومیت، ولدیت اور جائے پیدائش کا ذکر کیا ہے
02:34تھیوسی ڈائٹس کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ لڑی، تعاون کا مرض لاحق ہوا
02:40اور جمہوریت کے ذریعے اسے جلاوطن کر دیا گیا
02:43تھیوسی ڈائٹس اپنی شاناخت ایک ایتھنیائی کی طور پر کرتا ہے
02:50ہمیں بتاتا ہے کہ اس کے والد کا نام اولورس تھا
02:54اور وہ حالی موس کے ایتھنیائی ڈائم سے تھا
02:56تھیوسی ڈائٹس نے لکھا تھا کہ تھریسین علاقے میں اس کے اثر و رسوخ کی وجہ سے
03:01اسے چار سو چوویس قبل مسیح میں سوس کی طرف ایک جرنل کے طور پر بھیجا گیا تھا
03:07چار سو قتی قبل مسیح میں ایتھن اور سپارٹا میں جنگ چھڑ گئی
03:11جسے تاریخ میں جنگ پیلوپنیشیا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے
03:17تھیوسی ڈائٹس نے جنگ میں ایتھن کی طرف سے حصہ لیا
03:21اس دوران چار سو اندیس قبل مسیح میں جب ایتھن میں تاؤون یا خسرہ کی وبا پھیلی
03:27تو تھیوسی ڈائٹس بھی اس کا شکار ہوا
03:30مگر وہ ان چند خوشن سیبوں میں شامل تھا
03:33جو کچھ دن سابع فراش رہ کر صحتیاب ہو گئے
03:37اس جنگ کے دوران تقریبا چار سو چوبیس قبل مسیح میں
03:46وہ تھراکیہ کے ساحل کے قریب ایک بحری دستہ کے سالار کے طور پر متعین تھا
03:51کہ اسے خبر ملی کہ تراکیہ کے اہم شہر
03:53ایلی پولیس پر سپارٹا کے ایک جرنل حملہ کرنے والا ہے
03:57تھیوسی ڈائٹس نے فوراں اس طرف کا رخ کیا
04:00مگر اس کے پہنچنے سے پہلے ہی یہ شہر کا سکوت عمل میں آ چکا تھا
04:05اسے معلوم تھا کہ ایتھن کے حکمران اس کی اس نکامی کو کبھی معاف نہ کریں گے
04:09بلکہ اسے سزا دیں گے جو سزا موت یا جلاوطنی سے کم نہ ہوگی
04:14اس خیال سے اس مہم نکامی کے بعد
04:18اس نے رضا کرانا طور پر خود جلاوطن ہونے کا فیصلہ کر لیا
04:22اس جلاوطنی کے دوران وہ کہاں کہاں گیا اس کا سراغ نہیں ملتا
04:28مگر یہ بات بالکل ایہاں ہے
04:31کہ اپنی اس جلاوطنی کے دوران
04:34اس نے اپنی تواریخ کے لیے مواد کٹھا گیا
04:38چند سالوں کے بعد وہ تقریباً چارسو چوبیس قبل مسیح میں ایتھنز واپس لوٹا
04:43لیکن واپسی کے بعد اسے موت نے زیادہ محلت نہ دی
04:46اور تقریباً پانچ سال بعد اس کا انتقال ہو گیا
04:50پیلوپولیشین جنگ پر اس کی تاریخ کشوار دنیا کی بلند ترین عدبی
04:55بلکہ علمی کتبِ عالیہ میں ہوتا ہے
04:57چونکہ تسیڈائز خود پیلوپولیشین جنگ میں شریک تھا
05:01اس لئے اپنی فراست علمی سے اس نے آغاز ہی میں یہ اندازہ لگا لیا تھا
05:07کہ یہ ایک عظیم جنگ ہوگی
05:08جس کی ماضی میں کوئی مثال نہ مل سکے گی
05:11اس لئے وہ خود کہتا ہے
05:13اس خیال سے اس نے جنگ چھڑتے ہی
05:16اس کا احوال کلم بند کرنے پر توجہ دی
05:18اور یوں مباد جمع ہونے لگا
05:21اس کا عظم تھا کہ وہ اپنی اس تاریخ میں جنگ کے اختتام
05:24یعنی چار سو چار قبل مسیح تک کے واقعات کا انتراج کرے
05:28مگر وہ صرف چار سو گیارہ قبل مسیح تک کے واقعات کا حال لکھ پایا
05:32ابتدائی کتاب میں اس نے قدیم ترین ایام سے لے کر
05:40خود اپنے زمانے تک کے یونانی معاشرے کی ارتقاء پر مختصر بحث کی ہے
05:45اس کے بعد واقعات کو اس نے سال بسال کی ترطیب دی
05:49وہ سال کو موسمِ گرمہ اور موسمِ سرمہ میں تقسیم کرتا
05:53اس کی وجہ وہ بڑے بڑے فوجی اقدامات تھے
05:56جن کے لئے موسمِ گرمہ ہی سازگار ہو سکتا تھا
06:00اس کی تاریخ میں ایتھنز کے تعاون کا بیان بھی نہائیت خوب ہے
06:10جو چار سو تیس سے چار سو پچیس قبل مسیح کے دوران آیا
06:14یہاں تک کہ وہ اس سورج گرہن کا ذکر بھی کرتا ہے
06:17جو تین آگست چار سو کتیس قبل مسیح کو ایتھنز میں نظر آیا
06:22یہ پہلا موقع ہے کہ کسی تاریخدان نے اپنی کتاب میں
06:25سورج گرہن کا مکمل حال لکھ پیان کیا ہو
06:29اس واقعے میں سورج مکمل طور پر گہنا گیا تھا
06:32اس لئے وہ بیان کرتا ہے کہ دن کے وقت بعض تاریخ نظر آنے لگے تھے
06:37اسی طرح اس نے بری اور بحری جنگوں کا حال خوب طریقے سے بیان کیا ہے
06:44اس کے نزدیک اس جنگ کا سبب خوف تھا
06:48جو ایتھنز کی توصیح پسندی سے سپارٹا پر تاریخ ہوا
06:51اور جس نے آخر جنگ کی شکل اختیار کر لی
06:54سوسی ڈائز نے اپنی اس تصنیف کے بارے میں دعویٰ کیا تھا
06:58کہ یہ عمر ہو جائے گی
06:59آج پچیس سو سال گزرنے کے بعد
07:02اس کا یہ دعویٰ بلکل درست ثابت ہوا
07:05کیونکہ اس تصنیف کی وجہ سے
07:07جنگ پیلو پولیشیا آج بھی پانچویں صدق علم سی کے
07:11یونانی تمدن کی اقلیت پسندی کی ایک
07:14غیر متزلزل یادگار کے طور پر ہمارے سامنے ہیں
07:18دستیاب تمام ٹکڑوں کے شواہد کو یکجا کرتے ہوئے
07:26ایسا لگتا ہے کہ اس کے خاندان کے پاس
07:28تھریس میں ایک بہت بڑی جائدہ تھی
07:30جس میں سونے کی کانیں بھی تھیں
07:32اور جس نے خاندان کو کافی اور دیر پا خوشحالی کا موقع دیا
07:37سونے کی کانوں سے اپنی کافی آمدنی کو دیکھتے ہوئے
07:41وہ خود کو کل وقتی تاریخ لکھنے
07:44اور تحقیق کے لیے وقف کرنے کے قابل تھا
07:47تھیوسی ڈائیڈز کو ایتھنز واپس جاتے ہوئے قتل کر دیا گیا تھا
07:54اس کا مقبرہ میں لائٹ گیٹ کے قریب بنایا گیا
07:57بہت سے لوگ اس روایت پر شک کرتے ہیں
08:00شواہد کو دیکھ کر یہ بتاتے ہیں
08:02کہ وہ تین سو ستانوے کمل امسی کے آواخر میں
08:04یا شاید تھوڑا ایسا بعد میں زندہ رہا
08:08تھیوسی ڈائیڈز جنگ میں موروسی مسائب سے متاثر ہوئے تھے
08:14اور ان زیادتیوں کے بارے میں فکر مند تھے
08:17جن کا شکار انسانی فطرت ایسے حالات میں ہوتی ہے
08:20جیسا کہ ایک اور سیرہ پر خانہ جنگی کے دوران
08:24ہونے والے مظالم کے اس کے تجزیے میں
08:26جس میں یہ جملہ شامل ہے
08:28کہ جنگ ایک متشدد استاد ہے
08:32تاؤن کی وباہ کی دوران
08:37وہ ایتھنز کا آنکھوں دیکھا حال
08:39کچھ یوں بیان کرتا ہے
08:41اگرچہ بہت سے لوگ بغیر دفن پڑے تھے
08:45پرندے اور درندے انہیں چھو نہیں سکتے تھے
08:48یا انہیں چکھنے کے بعد مر جاتے تھے
08:51مرے ہوئے آدموں کی لاشیں ایک دوسرے پر پڑی تھیں
08:54اور آدھی مردہ مخلوق گلیوں میں دورتی پھرتی تھی
08:58اور پانی کی آرزوں میں تمام چشموں کے گرد جمع ہو جاتی تھی
09:02وہ مقدس مقامات بھی جن میں انہوں نے قیام کیا تھا
09:07ان لوگوں کی لاشوں سے بھرے پڑے تھے
09:09جو وہاں مر چکے تھے
09:11جیسے وہ تھے
09:13کیونکہ جیسے یعفت نے تمام حدوں کو عبور کر لیا
09:16لوگ یہ نہ جانتے ہوئے کہ ان کا کیا ہونا ہے
09:20دیوتاؤں کی جائدات اور واجبات کی یقصہ توہین کرنے لگے
09:24استعمال میں آنے سے پہلے تدفین کی تمام رسومات مکمل طور پر ناپیت تھیں
09:30اور انہوں نے لاشوں کو جہاں تک ممکن تھا دفن کیا
09:34مناسب آلات سے محروم بہت سے
09:37اپنے بہت سے دوستوں کے ذریعے جو پہلے ہی مر چکے تھے
09:41انتہائی بے شرم قبروں کا سہارا لیتے تھے
09:44کبھی کبھی ان لوگوں کی شروعات ہوتی تھی
09:47جنہوں نے دھیر اٹھا رکھا تھا
09:49انہوں نے اپنی لاش کو اجنبی کی چتہ پر پھینک دیا
09:53اور اسے جلا دیا
09:55کبھی کبھی وہ لاش کو پھینک دیتے تھے
09:57جسے وہ کسی دوسرے کے اوپر لے جا رہے تھے
10:01جو جل رہی تھی
10:02اور اس طرح چلی گئی
10:04تھوسی ڈائیڈز کا فلسفیانہ نکتہ نظر اور اس کے اثرات
10:21تھوسی ڈائیڈز صرف ایک مورخ نہیں
10:24بلکہ ایک سیاسی مفکر انسانی فطرت کا گہرہ مشہدہ کرنے والا فلسفی تھا
10:30ان کی خیالات نے صدیوں بعد بھی سیاست تاریخ اخلاقیات اور بین الاقوامی تعلقات کو متاثر کیا
10:37ان کی تحریر میں یاد لاتی ہے کہ طاقت اور مفاد پرستی انسانی فیصلوں پر کس قدر گہرہ اثر ڈالتی ہیں
10:46تھوسی ڈائیڈز نے طاقت کو بین الاقوامی تعلقات کا بنیادی انصر کرا دیا
10:52ان کے مطابق ریاستیں خلاقیات یا انصاف کی بنیاد پر نہیں
10:57بلکہ قومی مفادات اور طاقت کے توازن کی بنیاد پر فیصل کرتی ہیں
11:03میلین ڈائیلاؤگ اس نظریہ کی بہترین مثال ہے
11:06جہاں طاقتور ریاست ایتھنز کمزور ریاست میلیوز کو خلاقیات کی بجائے
11:12طاقت کی زبان میں مخاطب کرتی ہے
11:16سوشی ڈائیڈز کا معنی تھا کہ انسان فطری طور پر خود گرس اور مفاد پرست ہے
11:35خاص طور پر جب طاقت حاصل ہو جائے
11:38جنگ اور بہران کی صورت میں انسانی فطرت کی اندھی خواہشات
11:43خوف اور لالچ سب سے زیادہ نمائع ہوتی ہیں
11:46تھیوسی ڈائیڈز نے دکھایا کہ کس طرح جنگوں میں خلاقی اقدار دم توڑ دیتی ہیں
11:51پیلپونیشن جنگ میں دونوں طرف کی ریاستوں نے جھوٹ دھوکہ اور طاقت کا بے دریگ استعمال کیا
11:58جیسے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خلاقیات اکثر صرف امن کے دور کی چیز ہے
12:04ان کی تحریر کا مقصد صرف واقعات کا بیان نہیں
12:08بلکہ مستقبل کے لیے سبق دینا تھا
12:10انہوں نے لکھا
12:11وہ تاریخ کو انسانی روئیوں کے مستقل نمون کے طور پر دیکھتے تھے
12:35جو وقت اور جگہ بدلنے کے باوجود وہی رہتے ہیں
12:38جدید ریالیسٹ سکول آف تھارٹ مسلحوبز اور مکیاولی تھیوسی ڈائٹس سے متاثر ہے
12:45طاقت مفاد اور خوف کو عالمی سیاست کے بنیادی اصول ماننے والا نظریہ
12:51انہی کی سوچ کا تسلسل ہے
12:53انہوں نے اساتیری روایات کو مسترد کر کے عقلی اور تجرباتی انداز اپنایا
12:59واقعات کے سباب و انتائج کو سائنسی انداز میں بیان کرنے کی روایت قائم کی
13:05ان کا کام آج بھی پینل اقوامی تعلقات
13:13سفارتکاری جنگی حکمت عملی اور انسانی فطرت کے متعلیات میں بنیادی حوالہ سمجھا جاتا ہے
13:21موسیقی
Be the first to comment
Add your comment

Recommended