00:00جب دنیا دیوتاؤں کے سائے میں سوچتی تھی جب کائنات کو اسرار اور جادو سمجھا جاتا تھا
00:10تب دو انسان ایسے بھی تھے جنہوں نے ہزاروں سال پہلے کہہ دیا کہ ہر چیز چھوٹے ناقابل تقسیم ذرات ایٹم سے بنی ہے
00:20یہ کہانی ہے لیوسیپس اور ڈیموگریٹس کی
00:30یوسیپس ایٹمیزم کا بانی
00:56قدیم یونان میں نظریہ آئٹم یا جہریت کے دو بانی تسلیم کیا جاتے ہیں لیوسیپس اور ڈیموگریٹس
01:05ان دونوں کے کارنامے اور شخصیت اتنی جڑوا ہے کہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا
01:13تاریخ میں ان دونوں کا ذکر ہمیشہ ایک ساتھ آتا ہے
01:17پانچویں صدی قبل مسیح کا سن ہے چار سو چالیس قبل مسیح اور وہ یونان کی شہر ملیتس سے آ کر ایلیا میں آباد ہوا
01:27اور اس نے شہر سے وابستہ اقلی فلسفہ سائنس کو آگے بڑھایا
01:32وہ تھا مفکر لیوسیپس وہ پارمنائٹس اور زینوں سے متاثر تھا
01:37اگرچہ ایپیکیورس کے خیال میں یہ ڈیموگریٹس کا شکر تھا اس کی شخصیت خیالی ہے
01:43مگر ارستو کے ہاں اس کے بہت سے فکری حوالے ملتے ہیں
01:47اسے پتا چلتا ہے کہ اس کا تاریخی وجود تھا
01:51مگرنہ ارستو جیسا اول درجہ کے مفکر اس کے فکری حوالے کیوں دیتا
01:56یہ وہ شخص تھا جس نے سب سے پہلے یہ نظریہ پیش کیا
02:00کہ کائنات کسی خودائی مداخل سے نہیں بلکہ صرف دو چیزوں سے بنی ہے
02:06ایٹمز یعنی وہ باریک تارین ذرات یوں مزید تقسیم نہیں ہو سکتے
02:12اور خلا یعنی وہ خالی جگہ جہاں یہ ذرات حرکت کرتے ہیں
02:17اسی پس کی تحریریں تو وقت کی گرد میں کھو گئیں
02:23مگر ان کے شاگرد نے ان خیالات کو زندہ رکھا
02:30اور پھر دنیا نے ایک اور مفکر کو جانا جس کا نام ہے ڈیموکریٹس
02:36ڈیموکریٹس ایٹمی نظریہ کا معمار
02:44ڈیموکریٹس زمانہ قدیم کی ایک زیادہ واضح شخصیت ہے
02:49وہ یعنی ریاست تھریس کا رہنے والا تھا
02:52جہاں تک اس کے اہد کا تعلق ہے مورخی نے 432 قبل مسیح قرار دیا ہے
02:57اس نے 420 قبل مسیح میں شورت پائی
03:01ایک ایسا فلسفی جسے ہنستے ہوئے فلسفی کے نام سے جیاد کیا جاتا ہے
03:06کیونکہ وہ خوش رہنے کو عقل کی سب سے بڑی طولت مانتا تھا
03:10علم کی تلاش میں وہ یونان سے مصر، بابل اور شاید ہندوستان تک گیا
03:16وہ صرف فلسفے میں ہی نہیں بلکہ طبیعت، ریاضی، طب اور اخلاقیات میں بھی ماہر تھا
03:23ایک مورخ نے لکھا ہے کہ وہ اپنے ہم اثر فلسفر میں علمی اعتبار سے ممتاز
03:28اور اپنی زکاوت اور راست فکری میں سب پر حاوی تھا
03:32وہ سکرات اور صفستائی فلسفر کا ہم اثر تھا
03:35ڈیموکریٹس خود لکھتا ہے کہ جب وہ ایتھنز آیا تو اسے کوئی نہیں جانتا تھا
03:40اس کے فلسفے کو ایک عرصہ تک نظر انداز کیا جاتا رہا
03:44ڈیو جینیس لارٹس سے اسے اتنا نابسند کرتا تھا
03:48کہ وہ چاہتا تھا کہ اس کی تمام کتابیں جلا دی جائیں
03:51ڈیموکریٹس نے اسے پس کے ایٹمی نظریہ کو نہ صرف اپنایا
03:57بلکہ اسے سائنسی اور منطقی بنیادوں پر منظم کیا
04:01وہ کہتا تھا کائنات میں ہر چیز ایٹمز کی ترتیب، سائز اور حرکت کی وجہ سے وجود میں آئی ہے
04:08نہ کوئی موجزہ، نہ جادو، صرف قانون فطرت
04:13روح، ذہن، جسم سب باریک ایٹمز سے بنے ہیں
04:17موت صرف ان ایٹمز کے منتشر ہو جانے کا نام ہے
04:21نہ کوئی عذاب، نہ کوئی جنت، صرف خاموشی
04:25ڈیوسیپس اور ڈیموکریٹس کے مشترکہ فلسفے کی بنیادی صفورات
04:36اول زکر کے مرہنے منت ہیں
04:37لیکن جہاں تک ان کی وضاحت کا تعلق ہے
04:40ان دونوں کو علیدہ کرنا بہت مشکل ہے
04:42یہ بات حیرت انگیز ہے
04:44کہ ان کا ایٹمی نکتہ نظر جتیز زمانے کی سائنس کے ایٹمی نظریہ کے مطابق تھا
04:50ان کا خیال تھا کہ ہر چیز ایٹمز سے بنی ہے
04:52اور ایٹم یا جوہر اضروعہ حنصہ نہیں
04:55بلکہ مادی طور پر نقابل تقسیم ہیں
04:58اور وہ ہمیشہ حرکت میں رہتے ہیں
05:00ان کی تعداد لا محدود ہے
05:02اور تمام اقسام کے جوہر کی نویت ایک ہی ہے
05:05وزن کے بارے میں ارستو نے ڈیمکریٹس کا کال نکتل کیا ہے
05:10کہ کوئی ایٹم جتنا نقابل تقسیم ہوتا ہے
05:13اتنا ہی زیادہ بھاری ہوتا ہے
05:16اتنے قدیم زمانے میں اتنا صحیح ایٹمی نظریہ پیش کرنا
05:20ان دونوں مفقرین کا خاصہ تھا
05:22انہیں ہم بجاہ طور پر اولین ایٹمی مفقر کہتے ہیں
05:30افلاتون اور ارستو جیسے بڑے فلاسفہ نے ان کے خیالات کو غیر سینسی کرا دیا
05:43صدیوں تک ان کا نظریہ دبایا گیا
05:45لیکن وقت آیا اور سینس نے انی خیالات کو تجربات سے ثابت کر دیا
05:51انیسویں اور بیسویں صدی میں ایٹم، الیکٹرون، نیوکلیس
05:55سب وہی ثابت ہوا جو ان فلسفیوں نے صرف عقل سے کہا تھا
05:59دو ہزار سال پہلے نہ خردبین تھی نہ لیبارٹری
06:04مگر دماغ وہ تھا جو کائنات کی گہرائیوں کو سمجھ گیا
06:09یوسیپس اور ڈیموکریٹس
06:12وہ نام جنہوں نے سوچ کا دھارہ بدلا
06:15اور انسان کو ایٹم کی تحلیز تک منچا دیا
06:18آج اگر ہم ایٹمی توانائی نیوکلیر سائنس یا فزکس کی بات کرتے ہیں
06:24تو یہ سب انہی عظیم مفقرین کا قرض ہے
06:28اگر آپ کو ہماری یہ تاریخی کہانی پسند آئی تو لائک شیئر اور سبسکرائب ضرور کریں
06:36موسیقی
Comments