Skip to playerSkip to main content
Hazrat Luqman Haqeem Aur Gadhay Ka Waqiya | Islamic Story Of Wisdom | Noor TV

Hazrat Luqman Hakeem ka naam hikmat, danayi aur aqalmandi ka aik azeem namoona hai. Allah ne aapko hikmat ka khazana ata farmaya aur aapke aqalmandi bhare nasihat Quran-e-Pak mein bhi bayan ki gayi hain.

Aaj ki video mein hum aik behtareen waqia share kar rahe hain jo Hazrat Luqman Hakeem aur unke gadhay se mutaliq hai. Yeh kahani aqalmandi, samajhdaari aur logon ki baaton ka asar na lene ka sabq deti hai.

Is Video Mein Aap Jaan Sakein Ge:
✅ Hazrat Luqman Hakeem ka asal waqia aur unki hikmat
✅ Insaan ko logon ki tanqeed aur mashwara kaise lena chahiye?
✅ Kya har kisi ki baat sunna aur uspar amal karna zaroori hota hai?

Hazrat Luqman Hakeem aur unke bete ka yeh waqia har insaan ko aqal aur hikmat se faislay karne ka sabq deta hai. Yeh kahani humein batati hai ke har kisi ki baat sunna zaroori nahi, balke aqal aur samajhdaari se faislay lena sabse zaroori hai.

Agar aap bhi hikmat bhari islami kahaniyan pasand karte hain, to yeh video zaroor dekhein! Noor TV aapko Quran o Sunnat ki roshni mein behtareen maloomat faraham karega.

📢 Like, Share & Subscribe 💖
🔔 Bell Icon Dabayein Taake Aapko Naye Islamic Updates Milti Rahein

#HazratLuqmanHakeem #IslamicWisdom #NoorTV #QuranKiKahaniyan #HikmatKiBaatain #IslamicStories #QuranAurHadees #LuqmanKiNasihat #IslamicKnowledge #AqalmandiKaSabaq

Category

📚
Learning
Transcript
00:26ڈاللکمان اور گدھے
00:30جس سے انسانیت کو ہمیشہ رہنمائی حاصل ہوئی
00:33آپ ایک عظیم حکیم دانا اور مسلحت ہے
00:35جن کے حکمت اور نصیحتوں کو آج بھی سننا اور عمل کرنا
00:39ہمارے لئے باعث سے فقر ہے
00:40حضرت لقمان کا ذکر قرآن مجید میں بھی آیا ہے
00:44جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکمت و دانش سے نوازا
00:47اور آپ کی زندگی کے بعض واقعات کو بطور درس بیان کیا
00:51حضرت لقمان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے
00:54جو بہت کام عمری میں حکمت و دانائی کی بلند ترین سطح تک پہنچے
00:58آپ کے علم کا یہ راست تھا کہ آپ نے ہمیشہ
01:01اللہ کی رضا کو مد نظر رکھا
01:03اور زندگی کے ہر معاملے میں عدل، صبر اور حکمت کو اپنایا
01:08آپ کے زندگی کا ایک مشہور واقعہ یہ ہے
01:10کہ آپ نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی
01:12وہ آج بھی ہمارے لئے قیمتی خزانہ ہے
01:15حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنے کی تاقید کی
01:18والدین کی عزت کرنے، نماز قائم کرنے اور اللہ کے راستے پر چلنے کی اہمیت بتائی
01:23اس کے علاوہ حضرت لقمان نے ہمیشہ ان باتوں کو اپنانے کی کوشش کی
01:28جو دنیا میں انسان کے لئے مفید اور آخرت میں اس کے لئے کامیابی کی راہ ہمبار کریں
01:32آپ کی یہ حکمت و دانش اس بات کو واضح کرتی ہے
01:36کہ حکمت صرف علم میں نہیں بلکہ عمل میں بھی ہوتی ہے
01:38آج ہم ان حکمتوں کو اپنی زندگی میں اپناتے ہوئے
01:42اخلاق و کردار کو بہتر بنا سکتے ہیں
01:44اور حضرت لقمان کی تعلیمات سے استفادہ کر کے
01:47اپنی زندگی کے مشکل ترین مسائل کا حل تلاش کر سکتے ہیں
01:50تو اس ویڈیو میں ہم آپ کو حضرت لقمان رحمت اللہ علیہ کے
01:53ان بے شمار حکمتوں بھرے باقیات کے بارے میں تفصیل سے بتائیں گے
01:57تاکہ ہم سب اپنی زندگی میں ان کی تعلیمات کو عملی طور پر اپنا سکیں
02:02ناظرین حضرت لقمان رحمت اللہ علیہ کے بارے میں
02:04رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث ہے
02:07جس میں آپ نے فرمایا
02:09میں سچ کہتا ہوں کہ لقمان پیغمبر نہیں تھے
02:11لیکن وہ ایک ایسے بندے تھے
02:13جو بہت زیادہ غور و فکر کرتے تھے
02:15وہ ایمان کے بلند درجے پر فائز تھے
02:18اللہ کو دوست رکھتے تھے
02:20اور اللہ تعالیٰ بھی انہیں اپنے دوستوں میں شمار کرتا تھا
02:23اللہ نے انہیں حکمت جیسی عظیم نعمت سے نبازا تھا
02:27حضرت لقمان وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے طویل عمر پائی
02:31ان کی عمر کے بارے میں مختلف روایات ہیں
02:33جو دوستوں سے پانس سو ساٹھ اور ہزار سے
02:36تین ہزار پانس سو سال تک مختلف انداز میں ذکر کی گئی ہیں
02:40حضرت لقمان افریقہ کے علاقے نوبہ کے رہائشی تھے
02:43جس کی وجہ سے ان کا رنگ سیاہ ہونٹ موٹے اور پاؤں چوڑے تھے
02:47وہ ایک عرصے تک بنی اسرائیل کے ایک امیر شخص
02:49قین بن حسر کے غلام رہے
02:52لیکن ان کی حکمت کی بدولت انہیں آزاد کر دیا گیا
02:55مشہور محدث مسعودی لکھتے ہیں
02:57کہ حضرت لقمان افریقہ کے گاؤں
02:59نوبہ کے رہائشی تھے
03:01اور ان کے آقا کا نام قین بن حسر تھا
03:04حضرت لقمان رحمت اللہ علیہ
03:06حضرت دعوت علیہ السلام کی حکومت کے
03:08دسمے سال دنیا میں تشریف لائے
03:10اور وہ ایک عبد سالح تھے
03:12اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت کی نعمت سے نوازا
03:15اور وہ طویل عمر پانے والے افراد میں سے تھے
03:19حضرت لقمان کی حکمت کی وجہ سے آپ کا ذکر
03:21دنیا کے مختلف حصوں میں ہوا
03:23اور آپ حضرت یونس علیہ السلام کے زمانے تک زندہ رہے
03:26حضرت لقمان کے حکیمان اقوال
03:28قرآن کریم میں نقل کیے گئے ہیں
03:30تاکہ قیامت تک آنے والے انسان
03:32ان سے فائدہ اٹھا سکیں
03:34اور اپنے زندگی کو بہتر بنا سکیں
03:37حکیم لقمان رحمت اللہ علیہ کا نام
03:39تو بچپنی سے سننے کو ملتا ہے
03:41کیونکہ اللہ نے ان کے نام سے
03:43ایک صورت نازل فرمائی ہے
03:44جس کی تلاوت قیامت تک جاری رہے گی
03:46تاہم بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں
03:49کہ حکیم لقمان کون تھے
03:51اللہ نے اپنے کلام میں
03:53ان کے نصب یا خاندان کا ذکر نہیں کیا
03:56لیکن ان کے حکمت کے اقوال
03:57ضرور ذکر کیا ہیں
03:58قدیم تاریخ کے مطابق
04:00حضرت لقمان کا تعلق افریقی نسل سے تھا
04:03اور وہ ایک غلام کی حصیت سے عربائے تھے
04:06مختلف روایت میں
04:07ان کے نصب کے بارے میں اختلاف پائے جاتا ہے
04:09ایک روایت کے مطابق وہ حضرت عیوب علیہ السلام کے بھانجے
04:12یا خالہ زاد بھائی تھے
04:13جبکہ دوسری روایت کے مطابق
04:15وہ حضرت دعوت علیہ السلام کے ہم اثر تھے
04:17جمہور علماء کا کہنا ہے
04:19کہ حضرت لقمان نبی نہیں تھے
04:21اور نہ ہی ان پر وہی نازل ہوئی
04:23کیونکہ قرآن و حدیث میں
04:24ان کے نبی ہونے کی کوئی واضح نشانی نہیں ہے
04:27حکیم لقمان کی شکل و صورت بھی
04:29زیادہ خوبصورت نہیں تھی
04:30تاہم ان کی حکمت اور دانائے کی بنا پر
04:33ان کا مقام بلند تھا
04:34حضرت سعید بن مسیب رحمت اللہ علیہ نے
04:37ایک حبشی سے کہا تھا
04:38کہ تمہیں اس بات کا غم نہیں کرنا چاہیے
04:40کہ تم سیاہ حبشی ہو
04:42کیونکہ حبشیوں میں تین افراد
04:43دنیا کے بہترین انسانوں میں شمار کیے گئے ہیں
04:46حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ
04:48حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا غلام
04:50مہجے اور حکیم لقمان رحمت اللہ علیہ
04:54اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت لقمان کا
04:56تعلق حبشی نسل سے تھا
04:57حضرت لقمان کے حکمت اور ان کے اقوال
05:00کی سب سے بڑی گواہی
05:01اللہ تعالیٰ نے سورہ لقمان میں دی
05:03جہاں آپ کی اپنے بیٹے کو دی گئی
05:05نصیحتوں کا ذکر کیا گیا ہے
05:07ان حقیبانہ اقوال کا ذکر قرآن میں
05:09اس لئے کیا گیا ہے تاکہ قیامت تک آنے والے
05:11انسان ان سے فائدہ اٹھا کر
05:13اپنی زندگی کو بہتر بنا سکیں اور
05:15اچھا معاشرہ قائم کر سکیں
05:17ناظرین ایک حدیث میں آیا کہ حضرت لقمان
05:19رحمت اللہ علیہ نے اپنے بیٹے کو
05:21فرمایا اے میرے بیٹے میں نے چار سو
05:23پیغمبروں کی خدمت کی ہے اور
05:25ان کے کلام سے چار اہم باتیں سیکھی
05:27ہیں جب تم نماز میں ہو تو
05:29اپنے دل کی حفاظت کرنا جب
05:31دخترخان پر بیٹھو تو اپنے گلے کو بچانا
05:33یعنی حرام مال سے بچنا
05:35جب کسی دوسرے گھر جاؤ
05:37جب کسی دوسرے کے گھر جاؤ
05:39تو اپنی آنکھوں کی حفاظت کرنا
05:40اور نامحرم پر نظر نہ ڈالنا
05:42اور جب لوگوں کے درمیان جاؤ
05:44تو اپنی زبان کی حفاظت کرنا
05:46حضرت لقمان رحمت اللہ علیہ نے اپنی زندگی
05:48کا بیشتر حصہ مشرق وستہ
05:50خاص طور پر فلسطین اور بیت المقدس میں گزارا
05:53اور ان کے قبر فلسطین کے شہر
05:54علاقی کی ایک بندرگاہ میں
05:56واقع ہے وہ ایک سیاہ فام افریقی
05:58تھے اور بدصورت ہونے کے باوجود
06:00حکمت کے بلند مقام پر
06:02فائز تھے اور یہ صرف اور صرف
06:04ان کی روح کی پاکیزگی اور دل کی
06:06صفائی کی وجہ سے تھا
06:07ایک روایت میں ذکر ہے کہ ایک شخص نے حضرت لقمان سے
06:10پوچھا کہ تم بھیڑ بکریاں نہیں شراتے تھے
06:13حضرت لقمان نے کہا ہاں ایسا تھا
06:15پھر اس شخص نے پوچھا
06:16تمہیں علم اور حکمت کہاں سے ملی
06:18تم تو کسی مدرسے میں نہیں پڑھے
06:20حضرت لقمان نے جواب دیا
06:21مجھے حکمت اللہ کی رضا
06:23امانتداری سچ بولنے اور فضل باتوں سے
06:25بچنے کی وجہ سے ملی ہے
06:26ناظرین حضرت لقمان رحمت اللہ علیہ کی
06:29اپنے بیٹے کو دی گئی دس نصیحتیں
06:31قرآن میں سورہ لقمان میں مذکور ہیں
06:33یہ نصیحتیں اقائد اخلاق
06:35اور آداب معاشرت کا مجموعہ ہیں
06:37اور ان میں سے چند اہم نصیحتیں یہ ہیں
06:39کہ اے بیٹے اللہ کا شریک نہ بناو
06:42بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے
06:44بیٹا نیکی اور بدی
06:46اگر رائے کے دانے کے برابر بھی ہو
06:48اور کسی پتھر کے اندر ہو
06:50یا آسمانوں پر یا زمین کے گہرائیوں میں ہو
06:52تو اللہ اسے سامنے لے
06:54تو اللہ اسے سامنے لے آئے گا
06:56کیونکہ وہ لطیف اور باخبر ہے
06:58بیٹا نماز قائم کرو
07:00نیکی کا حکم دو
07:01برائی سے روکو
07:03اور اس میں جو مسئیبت آئے اس پر صبر کرو
07:05یہ بہت بڑی حکمت کا کام ہے
07:07خبردار لوگوں کے سامنے اکڑ کر نہ چلنا
07:10زمین پر غرور کے ساتھ نہ چلنا
07:12کیونکہ اللہ غرور کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
07:15اپنے رفتار میں میانہ روی اختیار کرو
07:17اور اپنی آواز کو دھیمہ رکھو
07:19کیونکہ سب سے بری آواز گدھے کی ہوتی ہے
07:22ایک روز حکیم لقمان رحمت اللہ علیہ
07:24دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے
07:26کہ اچانک انہوں نے ایک آواز سنی
07:28اے لقمان
07:29کیا تم یہ چاہتے ہو
07:30کہ اللہ تمہیں زمین پر اپنا خلیفہ
07:32اور نمائندہ بنا دے
07:33تاکہ تم لوگوں کے درمیان حق کا فیصلہ کرو
07:36حضرت لقمان رحمت اللہ علیہ نے جواب دیا
07:38اگر میرا پروردگار مجھے یہ اختیار دے
07:41تو میں
07:41راہِ آفیت کو ترجی دوں گا
07:44اور اس بہت بڑے انتہان کے لئے تیار نہیں ہوں گا
07:46لیکن اگر یہ حکم ہو
07:48تو اسے دل و جان سے قبول کروں گا
07:51کیونکہ مجھے یقین ہے
07:52کہ اگر اللہ مجھے یہ ذمہ داری دے گا
08:00تم قضاوت کی ذمہ داری کیوں قبول نہیں کرتے
08:03حضرت لقمان نے کہا
08:04لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنا ایک سخت ذمہ داری ہے
08:07اور اس میں ظلم و ستم کے آثار ہوتے ہیں
08:09اگر اللہ انسان کی حفاظت کرے
08:11تو وہ نجات پاتا ہے
08:12لیکن اگر وہ غلط راستے پر چل نکلے
08:15تو وہ جنت کے راستے سے منحرف ہو جاتا ہے
08:18جو شخص دنیا میں سر جھکائے
08:20اور آخرت میں سر بلند ہو
08:21وہ دنیا میں بلند سر والے سے کہیں بہتر ہے
08:24حضرت لقمان کی اس حکمت سے فرشتہ حیران رہ گئے
08:27اور اس کے بعد حضرت لقمان گہری نیند سو گئے
08:30اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں حکمت کا نور روشن کیا
08:32جب حضرت لقمان رحمت اللہ علیہ بیدار ہوئے
08:35تو ان کے زمان سے حکمت کے موتی پھوٹنے لگے
08:38اور وہ حضرت دعوت علیہ السلام کی مدد کرنے کے لیے
08:40حکمت کی روشنی فراہم کرنے لگے
08:42حضرت دعوت علیہ السلام نے فرمایا
08:44اے لقمان تمہیں خوشخبری ہو
08:46کہ تمہیں حکمت عطا کی گئی ہے
08:48ناظرین آج ہم آپ کو حضرت لقمان علیہ السلام کے زندگی کے
08:51کچھ اہم واقعات اور حکمتیں سنائیں گے
08:53جن میں ہر ایک کے لیے قیمتی سبق اور نصیحت موجود ہے
08:57ایک دفعہ ایک مالدار شخص جو کہ خواہشات میں ڈوبا ہوا تھا
09:01ایک چشمے کے کنارے بیٹھا تھا
09:03اور جوہ کھیل رہا تھا
09:04اس نے شرط رکھی کہ جو بھی ہار جائے گا
09:07وہ یا تو اس چشمے کا سارا پانی پی لے گا
09:10یا اپنی بیوی اور مالدولت جیتنے والے کے حوالے کر دے گا
09:13اس مالدار شخص نے جوہ ہار دیا
09:15اور جیتنے والے شخص نے اس سے اس کی بیوی اور مالدولت مانگ لی
09:19اب وہ شخص بہت مشکل میں تھا
09:21اس نے حضرت لقمان علیہ السلام سے مدد کی درخواست کی
09:24اور کہا کہ وہ اس مشکل سے اسے نجات دلائیں
09:27حضرت لقمان رحمت اللہ علیہ نے اس سے کہا
09:30کہ میں تمہیں ایک شرط پر اس سے نجات دلاؤں گا
09:37اور مالدار شخص نے اس کی شرط کو بھول کر لی
09:38پھر حضرت لقمان نے اس سے کہا
09:40کہ جب وہ جیتنے والا شخص تم سے اس شرط کو مانگنے آئے
09:43تو تم اسے یوں جواب دینا
09:45اگر وہ پانی جس کی بات کر رہا ہے
09:47وہ کل اس ندی میں تھا
09:49تو اسے لے آؤ تاکہ میں پیوں
09:51اور اگر وہ پانی وہ ہے جو اس وقت موجود ہے
09:55تو تم چشمے کا مو بند کر دو
09:56تاکہ باقی پانی میں پی سکوں
09:58اور اگر وہ پانی جو مانگ رہا ہے
10:00وہ آئندہ ندی میں آئے گا
10:02تو سبر سے کام لو
10:03کیونکہ وہ ابھی تک نہیں آیا
10:05جب مالدار شخص نے جوہ جیتنے والے سی یہی باتیں کی
10:08تو اس کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا
10:10اور وہ خاموش ہو گیا
10:11اس واقعے کے بعد حکیم لقمان کی حکمت
10:14لوگوں کے سامنے آئی
10:15اور انہیں پہچانا گیا
10:17تاریخی روایت کے مطابق وہ مالدار شخص
10:19حضرت لقمان کا آقا قین تھا
10:22جس نے تیس مسکال سونے کے عوض
10:24حضرت لقمان کو غلام بنایا تھا
10:30ایک اور واقعے میں حضرت لقمان رحمت اللہ علیہ کے ہے
10:32آقا نے ان سے کہا کہ ایک بھیڑ زبا کرو
10:35اور اس کے دو بہترین آزا میرے لئے پکاؤ
10:37حضرت لقمان رحمت اللہ علیہ نے بھیڑ زبا کی
10:40اور اس کا دل اور زبان نکال کر پکائی
10:43اور آقا کے سامنے پیش کر دی
10:45اگلے دن آقا نے پھر کہا
10:47کہ اب ایسی بھیڑ کے دو بترین آزا پکاؤ
10:49حضرت لقمان رحمت اللہ علیہ نے پھر وہی
10:52دل اور زبان پکا کر پیش کر دی
10:54आका ने पोछा, मैंने तum से कहा ता कि बैती नाजा पकाओ और तुमने दिल और जबान पकाई
10:59फिर मैंने बत्तरी नाजा का होकम दिया, फिर तुमने वही दिल और जबान पकाई
11:03इसकी बज़ा क्या है
11:05حضرت لقمان رحمت اللہ علیہ نے
11:07جواب دیا اگر یہ دونوں آزا پاک ہوں
11:08تو ایک بہترین آزا ہے
11:10اور اگر یہ گناہ اور پلیدی سے بھر جائے
11:12تو یہ بدترین ہے
11:14یہ باقی حضرت لقمان کے حکمت
11:16اور ان کے کردار کے اکاسی کرتا ہے
11:18جہاں ان کے دل و زبان کے صفائی ہی کیوں
11:20جہاں ان کے دل و زبان کے صفائی
11:22کو ہی حقیقتاً بہترین
11:24اور بدترین قرار دیا گیا
11:26ایک دن حضرت لقمان کے آقا
11:28بیت الخلا میں گئے اور کافی دیر تک
11:30واپس نہیں آئے
11:31حضرت لقمان رحمت اللہ علیہ نے بلند آواز سے کہا
11:34زیادہ دیر تک بیت الخلا میں بیٹھنا
11:36جگر کے درد اور بواسیر کا سبب
11:38بن سکتا ہے اور بیت الخلا کی
11:40آلودہ حرارت دماغ میں جذب ہو کر
11:42مسائل پیدا کرتی ہے
11:43اس لئے اعتدال سے کام لے کر باہر آ جانا چاہیے
11:46بعد میں حضرت لقمان
11:48کس نصیت کو بیت الخلا کے دروازے پر لکھ دیا گیا
11:50تاکہ دوسروں کو بھی یہ بات
11:52سمجھ میں آ جائے
11:53حضرت لقمان رحمت اللہ علیہ کے آقا کے پاس
11:55بہت سے باغات اور غلام تھے
11:57حضرت لقمان بن غلاموں میں شامل تھے
11:59لیکن آقا جو ظاہری طور پر سوچنے والے تھے
12:02انہیں اکثر سرد اور معمولی کاموں
12:04جیسے جھاڑو دینے کیلئے لگا دیتے تھے
12:07جبکہ دیگر سفید چمکتے
12:08غلاموں کو باغات میں
12:09پھل توڑنے جیسے اہم کام دی جاتے تھے
12:12اس طرح حضرت لقمان علیہ السلام کو
12:14حقیر سمجھا جاتا تھا
12:15حالانکہ وہ اپنی سیرت و کردار میں
12:17تمام غلاموں سے
12:18کہیں زیادہ بلند تھے
12:20آقا کی یہ روش باقی غلاموں میں بھی
12:22حضرت لقمان کے بارے میں
12:23بے قدری اور توہین کے جذبات
12:25پیدا کرنے کا سبب بنی
12:26ایک دن آقا نے غلاموں کو
12:28باغات میں پھل توڑنے کے لیے بھیجا
12:30لیکن جب وہ واپس آئے
12:32تو انہوں نے پھل کھا لیے
12:33اور آقا سے جھوٹ بول کر کہا
12:35کہ حضرت لقمان نے تمام پھل کھا لیے ہیں
12:37آقا نے جب یہ سنا
12:39تو حضرت لقمان کے بارے میں
12:40بدگمان ہو گیا
12:41حضرت لقمان نے آقا سے کہا
12:43کہ وہ سب غلاموں کے امتحان لیں
12:44تاکہ حقیقت سامنے آ جائے
12:46حضرت لقمان نے تجویز دی
12:48کہ انہیں گرم پانی دیا جائے
12:50اور پھر آقا گھوڑے پر سوار ہو کر
12:52غلاموں کو ان کے پیچھے دوڑنے کا حکم دے
12:55اس سے یہ پتہ چل جائے گا
12:57کہ حقیقت میں پھل کس نے کھائے ہیں
12:59آقا نے حضرت لقمان کی تجویز پر عمل کیا
13:01اور گرم پانی پینے کے بعد
13:03سب غلاموں کو دوڑایا
13:04جیسے ہی دوڑنے کی حالت میں
13:06وہ غلام جو پھل کھا چکے تھے
13:08تھوکے گئے اور ان کی حالت خراب ہو گئی
13:11اس سے آقا کو سمجھ آ گیا
13:12کہ حضرت لقمان نے پھل نہیں کھائے
13:14بلکہ دوسرے غلاموں نے جھوٹ بولا تھا
13:17حضرت لقمان نے
13:18اس امتحان میں سرخ روح ہو کر
13:20اپنی بے گناہی ثابت کی
13:22اور باقی غلام شرمندہ ہوئے
13:24حضرت لقمان کا آقا
13:25اگرچہ دیگر غلاموں سے محبت کرتا تھا
13:27لیکن وہ حضرت لقمان سے خاص محبت کرتا تھا
13:30جب بھی آقا کھانا کھاتا
13:32وہ پہلے حضرت لقمان کو کھانا پیش کرتا
13:34اور وہ جو بچا ہوتا
13:36آقا بڑے شوق سے کھا لیتا
13:37ایک دن آقا کے لئے خربوزہ ہدیئے کی طور پر آیا
13:40آقا نے خربوزہ کٹ کر
13:42حضرت لقمان کو دیا
13:43اور لقمان نے بڑے شوق سے
13:45اس کے میٹھے میٹھے ٹکڑے کھائے
13:47جب آقا نے دیکھا کہ
13:48لقمان اتنی لذت سے کھا رہے ہیں
13:50تو اس نے باقی خربوزہ حضرت لقمان کو دے دیا
13:53اور خود ایک ٹکڑا رکھا
13:55جیسے ہی آقا نے وہ بچا ہوا ٹکڑا کھایا
13:57اس کی زبان جلنے لگی
13:58اور اسے شدید کرواہٹ کا سامنا ہوا
14:00آقا نے لقمان سے پوچھا
14:03کہ آپ نے اتنی کڑوی پھانکیں کیسے کھا لی
14:05حضرت لقمان نے جواب دیا
14:07آپ نے مجھے سالوں تک میٹھی
14:09اور لذیذ غزائے دیں
14:10اور آج ایک کڑوی چیز آگئی
14:12تو اس پر شکایت کرنے کے بجائے
14:14حق شناسی اور شکر گزاری کا تقاضی
14:16یہی تاکہ خاموش رہوں
14:18حضرت لقمان کی حکمت
14:19ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے
14:21کہ زندگی میں جب کبھی تلخیاں
14:23یا مشکلات آئیں
14:23تو ان پر شکوہ نہ کریں
14:25بلکہ اللہ کی نعمتوں کا شکر گزار ہوں
14:27اور ان کے دروازے سے
14:28ناشکری سے بچیں
14:29ایک دن حضرت لقمان رحمت اللہ علیہ
14:32نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی
14:34اے میرے بیٹے
14:35لیکن وہ اپنے نصیحت ہمیشہ
14:37اے میرے بیٹے کے الفاظ سے شروع کرتے تھے
14:40جس سے یہ تاثر ملتا تھا
14:41کہ شاید ان کا صرف ایک بیٹا تھا
14:43تاریخ میں
14:44اس بیٹے کا نام باران درش کیا گیا ہے
14:47تاہم حضرت لقمان کی نصیحتیں
14:49تمام اولاد کے لیے تھی
14:50اور یہ ایک تجربے کار خطیب کا انداز ہوتا ہے
14:53کہ وہ بڑے افراد کو
14:56مخاطب کر کے
14:57چھوٹوں کی توجہ حاصل کرتے ہیں
14:58اور انہیں اہم باتیں سکھاتے ہیں
15:01حضرت لقمان رحمت اللہ علیہ نے
15:02اپنے بیٹے سے کہا
15:03بیٹے اپنے دل کو
15:05لوگوں کی پسند اور ناپسند سے
15:07وابستہ نہ کرو
15:08کیونکہ ایسی کوئی چیز
15:09انسان کے قابو میں نہیں آتی
15:11چاہے وہ جتنی بھی کوشش کرے
15:13بیٹے نے کہا
15:14بجان مجھے اس بات کو
15:15بہتر طور پر سمجھانے کے لیے
15:17کوئی عملی مثال دیں
15:18حضرت لقمان نے فرمایا
15:20اچھا
15:21اٹھو اور گھر سے باہر چلو
15:23تاکہ میں تمہیں سبق سمجھا سکوں
15:25حضرت لقمان اور ان کے بیٹے
15:27گھر سے باہر نکلے
15:28ان کے ساتھ ایک گدھا بھی تھا
15:30ان کے ساتھ ایک گدھا بھی تھا
15:32حکیم لقمان اس پر سوار ہو گئے
15:34اور ان کا بیٹا پیدل چل رہا تھا
15:36جب وہ ایک گروہ کے قریب پہنچے
15:38تو لوگوں نے یہ منظر دیکھا
15:40اور کہا
15:40یہ بڑا کتنا بے رہم ہے
15:42کہ خود تو گدھے پر سوار ہے
15:43اور اس کا بیٹا
15:44پیچھے پیچھے پیدل چل رہا ہے
15:46حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا
15:48کیا تم نے ان کی باتیں سنی
15:49بیٹے نے کہا
15:50جی ہاں
15:51حضرت لقمان نے فرمایا
15:52اب میں پیدل چلوں گا
15:53اور تم گدھے پر سوار ہو جاؤ
15:54چند قدم چلنے کے بعد
15:56حضرت لقمان اور ان کا بیٹا
15:58ایک اور گروہ کے پاس پہنچے
15:59جنہوں نے کہا
16:01یہ دونوں
16:01کتنے بد تربیت ہیں
16:03باپ کو چاہیے تھا
16:04کہ وہ گدھے پر سوار ہوتے
16:05اور بیٹے کو
16:06پیدل چلنے کا نہیں کہتے
16:08بیٹے کو چاہیے تھا
16:09کہ وہ اپنے بڑے والد پر رہم کرتا
16:11اور اس کے گدھے پر سوار ہونے دیتا
16:12حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا
16:15کیا تم نے ان کی باتیں سنی
16:16بیٹے نے کہا
16:16جی ہاں
16:17بیٹے نے کہا
16:18جی ہاں
16:18حضرت لقمان نے فرمایا
16:20اب ہم دونوں گدھے پر سوار ہوتے ہیں
16:22دونوں گدھے پر سوار ہوگے
16:23اور چلتے ہوئے
16:24ایک اور گروہ کے پاس پہنچے
16:25جنہوں نے کہا
16:26دونوں بے رہم ہیں
16:28دونوں سوار ہو کر
16:29بے زبان جانور پر سوار ہیں
16:33اور اس پر اتنا وزن ڈالا ہوا ہے
16:35کہ اس کی کمر ٹوٹ سکتی ہے
16:37بہتر تھا
16:38کہ ایک سوار ہوتا
16:39اور دوسرا پیدل چلتا
16:40حضرت لقمان نے بیٹے سے پوچھا
16:42کہ تم نے ان کی باتیں سنی
16:44بیٹے نے کہا
16:45جی ہاں
16:46حکیم لقمان نے فرمایا
16:48حکیم لقمان نے فرمایا
16:49اب ہم دونوں
16:51اب ہم دونوں گدھے کے پیچھے پیچھے پیدل چلتے ہیں
16:53اب دونوں گدھے سے اتر کر پیچھے پیچھے چلنے لگے
16:56جلدی ایک اور گروہ کے پاس پہنچے
16:58جنہوں نے کہا
16:59یہ دونوں جاہل ہیں
16:59سواری کے ہوتے ہوئے پیدل چل رہے ہیں
17:03اور جانور کو خالی چھوڑا ہوا ہے
17:07لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا
17:09کیا تم نے ان لوگوں کی باتیں سنی
17:11بیٹے نے کہا
17:12جی ہاں
17:13حضرت لقمان نے فرمایا
17:14اب کیا ہم لوگوں کو خوش کرنے کے لیے
17:16اور کچھ کر سکتے ہیں
17:18آخر کار حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو یہ بات سمجھائی
17:21کہ جب تک آپ لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے
17:24آپ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے
17:26اس لیے خدا کی رضا اور خوشنودی کو
17:33تم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکو
17:36روایت میں ہے کہ ایک دن
17:38لقمان رحمت اللہ علیہ نے اپنے بیٹے کو تین اہم نصیتیں کی
17:41اور کہا بیٹے
17:41ان تین نصیتوں کو اپنی یاد داشت میں محفوظ رکھو
17:44اور ان پر عمل کرو
17:46سب سے پہلی بات یہ ہے
17:47کہ اپنا راز اپنے بیوی سے نہ کہو
17:49دوسری بات یہ ہے
17:50کہ حکومتی اہلکاروں سے دوستی نہ رکھو
17:52اور تیسری بات یہ ہے
17:54کہ کسی نئے اور مالدار شخص سے قرض نہ لو
17:57جب حضرت لقمان دنیا سے رخصت ہو گئے
18:00تو ان کے بیٹے نے ان نصیتوں کو آزمانہ شروع کیا
18:02تاکہ یہ سمجھ سکے
18:04کہ ان باتوں کو ماننے سے کیا رخصان ہو سکتا ہے
18:06اس نے گوزفن زبا کیا
18:08اور اس کی لاش کو بوری میں ڈال کر گھر لے آیا
18:10پھر اس بوری کو پلنگ کے نیچے دفن کر دیا
18:13اور اپنی بیوی سے کہا
18:14کہ میرے ایک دشمن کو
18:15میں نے قتل کر کے یہاں دفن کر دیا ہے
18:17اس راز کو چھپانا اور کسی کو نہ بتانا
18:20اس کے بعد اس نے اپنے محلے کے
18:22ایک حکومتی اہلکار سے دوستی کر لی
18:24اور روزانہ اسے دعوت دیتا رہا
18:26ایک نیا مالدار نوجوان بھی تھا
18:28جس نے محنت کر کے دولت کمائے تھی
18:30حضرت لقمان کے بیٹے نے اس سے کچھ درہم قرض لیے
18:33اور انہیں گھر میں چھپا کر رکھ لیا
18:35کچھ دنوں بعد لقمان کے بیٹے کا
18:37اپنی بی بی سے جھکڑا ہو گیا
18:38اس نے بلند آواز میں کہا
18:40اے خون ریز عورت
18:41تم نے ایک بے گناہ شخص کو قتل کر کے
18:43دفن کر رکھا ہے
18:44اور اب مجھے بھی ماننے کی کوشش کر رہی ہو
18:46یہ آواز حکومتی اہلکار کے کانوں تک پہنچی
18:49جو حضرت لقمان کے بیٹے کا دوست بن چکا تھا
18:52وہ فوراں بادشاہ کے پاس جا کر
18:54ساری بات بتایا
18:55بادشاہ نے حکم دیا کہ اس قاتل کو حاضر کیا جائے
18:59حکومتی اہلکار
19:00حضرت لقمان کے بیٹے کو پکڑنے آیا
19:02اور اسے دربار میں لے گیا
19:04راستے میں نئے مالدار نوجوان نے جب
19:06حضرت لقمان کے بیٹے کو اس حالت میں دیکھا
19:09تو اس نے غصے میں آ کر کہا
19:10اگر تمہیں قتل کے بدلے قتل کر دیا جائے گا
19:13تو میری رقم ضائع ہو جائے گی
19:14لہذا مجھے درہم واپس کرو
19:16اس نے حضرت لقمان کے بیٹے کی بیزت کی
19:19لوگ مہا جمع ہو گئے
19:20اور حضرت لقمان کے بیٹے کو بادشاہ کے دربار میں لے گئے
19:23بادشاہ نے حضرت لقمان کے بیٹے سے کہا
19:26تم تو لقمان کے بیٹے ہو
19:27تمہیں قتل و غارت میں ملوث نہیں ہونا چاہیے تھا
19:30لقمان کے بیٹے نے جواب دیا
19:32میں نے کسی بے گناہ کو قتل نہیں کیا
19:34حکومتی اہلکار نے کہا
19:35یہ جھوٹ بول رہا ہے
19:36اس نے کسی کو قتل کر کے دفن کر رکھا ہے
19:38حضرت لقمان کے بیٹے نے کہا
19:40میں بادشاہ سے درخواست کرتا ہوں
19:42کہ حکوم دے کر اس مقتول کو حاضر کریں
19:44وہ بوری میں دفن ہے
19:47اور میں نے اسے فلان جگہ دفن کیا ہے
19:48بادشاہ نے حکم دیا
19:50کہ مقتول کو تلاش کیا جائے
19:51حکومتی اہلکار حضرت لقمان کے بیٹے گھر پہنچے
19:54اس کی بیوی نے دفن کرنے کی جگہ کی نشان دہی کی
19:57سب سے
19:58ماں سے ایک بوری نکالی گئی
20:00جس میں گوزفن کا لاشہ تھا
20:02جب بوری کھولی گئی تو سب لوگ حیران رہ گئے
20:08بادشاہ نے پوچھا
20:09بیٹے تم نے گوزفن کو کیوں دفن کیا
20:12حضرت لقمان کے بیٹے نے کہا
20:13میرے والد نے مجھے نصیت کی تھی
20:15کہ اپنا راز اپنی بیوی سے نہ کہنا
20:17حکومتی اہلکاروں سے دوستی نہ کرنا
20:19اور نئے مالدار سے قرض نہ لینا
20:21میں نے نصیتوں کو آزمایا
20:23اور اب میں سمجھ گیا ہوں کہ میرے والد کی باتیں
20:25حقیقت مربنی تھی
20:26اس کے بعد حضرت لقمان کے بیٹے نے
20:29ان نصیتوں کو دوسروں کے سامنے بیان کیا
20:31اور کہا
20:31جو شخص ان باتوں پر عمل کرے گا
20:34اس کی دنیا اور آخرت کی کامیہ بھی ممکن ہے
20:36حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو
20:38جو حکمت کی نصیتیں کی
20:39وہ نہ صرف اس وقت کے حالات کے لیے مفید تھیں
20:42بلکہ ہر دور اور ہر زمانے کے انسان
20:44کے لیے کرانمائی کا خزانہ ہے
20:46ان نصیتوں میں زندگی کے مختلف پہلوں کے بارے میں
20:49گہری بصیرت اور سچائی موجود ہے
20:51جو انسان کو کامیاب خوشحال
20:53اور اخلاقی طور پر درست زندگی گزارنے کی ترغیب دیتی ہے
20:57سب سے پہلی نصیت جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹوں کو کی
21:00وہ دنیا کے بارے میں تھی
21:02حضرت لقمان نے فرمایا
21:03دنیا پر بھروسہ نہ کرو
21:05کیونکہ اس میں گناہ اور شیطان کی موجودگی ہے
21:07دنیا کو اپنے لئے قید خانہ سمجھو
21:10تاکہ آخرت میں تمہیں جنت نصیب ہو
21:12اس نصیت میں حضرت لقمان نے
21:14دنیا کی فانی نویت اور اس میں موجود چیلنجز
21:17گناہ اور شیطانی فریب سے خبردار کیا
21:19وہ چاہتے تھے کہ ان کے بیٹے کا دل
21:21دنیا کی عارضیت اور فریب سے نہ بہلے
21:24بلکہ وہ اپنی آخرت کی تیاری کرے
21:26دنیا ایک عارضی مقام ہے
21:28اور اس میں انسانوں کو بہت سے آزمائشوں
21:30کا سامنا کرنا پڑتا ہے
21:31اس لئے حضرت لقمان نے دنیا کو قید خانہ
21:33سمجھنے کی ہدایت دی
21:34تاکہ انسان اپنی زندگی کا مقصد
21:37صحیح طور پر پہچانے اور اسے
21:39آخرت کی فلح کی طرف موڑ سکے
21:41دوسری نصیحت بیٹے پہاڑ کو
21:43اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتے
21:44اس لئے بلا وجہ مشکلات اور بوجھ
21:47اپنے کاندھوں پر مت لو
21:48حضرت لقمان نے اس بات کی طرف
21:51اشارہ کیا کہ انسان کو اپنے معاملات
21:53اور مشکلات کو حکمت اور تدبر
21:55کے ساتھ دیکھنا چاہیے
21:56اگر کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا تو اس کے پیچھے
21:59زیادہ جدوجہت کرنے کے بجائے
22:00صبر اور سکون اختیار کرنا چاہیے
22:03اس نصیحت میں یہ پیغام دیا گیا
22:05کہ انسان کو ان مسائل سے
22:07دور رہنا چاہیے جو اس کی زندگی کو
22:09غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنائے
22:11بے جا فکروں اور
22:13بوجھوں کو اپنے دل و دماغ میں جگہ
22:15دینا انسان کو پریشان کر دیتا ہے
22:17لہٰذا حضرت لقمان نے
22:19بیٹے کو سکھایا کہ زندگی
22:21میں تبازن اور سکون برکار رکھنا
22:23ضروری ہے حضرت لقمان کے
22:25تیسری عام نصیحت تھی کہ
22:26بادشاہوں کی ہمسائیگی مت کرو
22:29کیونکہ وہ تمہیں ہلاک کر دیں گے
22:30ان کی پیروی سے بچو ورنہ تم
22:33کافر ہو جاؤ گے اس نصیحت میں
22:34حضرت لقمان نے حکمرانوں اور طاقت
22:37و لوگوں کے ساتھ بے جا تعلقات رکھنے سے
22:39منع کیا ان کی پیروی انسان
22:41کو غلط راستوں پر لے جا سکتی ہے
22:42اگر وہ حکمران یا طاقت و لوگ
22:45اپنی خواہشیات یا غلط فیصلوں
22:47کے پیچھے چلتے ہیں تو ان کی
22:49پیروی کرنے سے انسان کا ایمان بھی
22:51خطرے میں پڑ سکتا ہے
22:52حضرت لقمان نے اس بات کو جاگر کیا
22:54کہ انسان کو اپنی ایمانداری
22:56سچائی اور اللہ کے ساتھ
22:57تعلق کو ترجیح دینی چاہیے
22:59اور ان لوگوں سے بچنا چاہیے
23:01جو دنیاوی طاقت اور مفادات کے
23:03پیچھے چل رہے ہیں
23:04حضرت لقمان نے اپنے بیٹوں کو یہ بھی
23:07فرمایا کہ کمزوروں اور
23:09حاجت مندوں کے ساتھ رہو اور ان کے
23:11ساتھ ہمدردی کرو اس نصیحت میں
23:13حضرت لقمان نے انسانیت کے
23:14اہمیت اور دوسروں کے ساتھ
23:16ہمدردی کی بات کی
23:17جو لوگ دنیا میں کمزور اور
23:19محتاج ہیں ان کے ساتھ تعلق رکھنا
23:22ان کی مدد کرنا انسانیت کا حصہ ہے
23:24حضرت لقمان نے اپنے بیٹوں کو
23:26سکھایا کہ کسی انسان کی حالت
23:28اور حیثیت کے مطابق اس کے ساتھ
23:30حسن سلوک کرنا ضروری ہے
23:32اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا
23:33اللہ کی رضا کا سبب بنتا ہے
23:35ایک اور اہم نصیحت حضرت لقمان
23:38نے یہ دی کہ اگر تمہیں قیامت کے بارے میں
23:40شک ہے تو نیند سے بیدار ہونے
23:42کو اپنی حقیقت سمجھو کیونکہ
23:43نیند موت کی مانند ہے اور
23:45بیدار ہونا قیامت کے بعد کی زندگی
23:47کی طرح ہے اس نصیحت حضرت لقمان
23:50نے قیامت کے دن کے بارے میں
23:51یقین کو مستحقم کرنے کی کوشش کی
23:53انہوں نے فرمایا کہ نیند موت
23:56کے قریب ترین چیز ہے اور جب انسان
23:58بیدار ہوتا ہے تو اس کا بیدار ہونا
23:59قیامت کے بعد کی حقیقت کو
24:01سمجھانے کی طرح ہے حضرت لقمان
24:07کی یہ بات ہمیں اس بات کی طرف متوجہ
24:09کرتی ہے کہ قیامت کا دن
24:10ہر انسان کا انتظار کر رہا ہے
24:13اور اس دن کے لئے تیاری کرنا
24:15اور اس دن کے لئے تیاری کرنا
24:17ہماری زندگی کا سب سے اہم مقصد
24:19ہونا چاہیے حضرت لقمان
24:21نے اپنے بیٹے کو جو حکمت کی باتیں کی
24:23ان کا مقصد اسے ایک اچھا مسلمان
24:25انسان اور معاشرتی فرد بنانا
24:27تھا ان کی نصیحتوں میں
24:29دنیا کی فانی نویت
24:30اللہ کی رضا کا تاقب عبادت کی
24:33اہمیت اور اخلاقی اقدار کو
24:35مضبوطی سے قائم رکھنے کی بات کی گئی تھی
24:38ناظرین یہ تھی ہماری آج کی
24:39ویڈیو ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو
24:41ہماری آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی
24:43اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
24:45پسند آئی ہے تو آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ
24:47ہماری چینل کو ضرور سبسکرائب کر لیں
24:49اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن کو بھی
24:51پریس کر لیں تاکہ آپ کے پاس ہماری آنے
24:53مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹفیکشن
24:55بروقت ملتا رہے
24:57سبسکرائب کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
24:59اور اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹس میں
25:01ضرور کریں کمنٹس میں آپ اپنے سوالات
25:03بھی ہم تک پہنچا سکتے ہیں
25:05اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظ و مان میں رکھے
25:07آمین
Comments

Recommended