Skip to playerSkip to main content
Gaza ki Aakhri Eid | Qayamat ki Nishani ya Azaab ka Aghaz? | Noor TV
Eid har musalman ke liye khushi, barkat aur rehmat ka paigham hoti hai. Magar jab wohi Eid Gaza jaise mazloom ilaqon mein khoon, aansuon aur tabahi mein doobi ho, to sawal uthta hai – kya yeh Eid aakhri hai?
Gaza ki halat har rooz kharab hoti ja rahi hai – masoom log shaheed, bacche yateem, aur har taraf zulm ka nanga naach. Yeh sab dekh kar Quran aur Hadees ki woh nishaniyan yaad aati hain jo Qayamat ke qareeb hone ka paigham deti hain.
Is Video Mein Aap Dekh Sakte Hain:
✅ Gaza ka halat – Haqeeqat aur media se pare tafseel
✅ Quran aur Hadees mein Qayamat se pehle ki nishaniyan
✅ Zulm aur fasad ka anjam – azaab ya fitna?
✅ Ummah ke liye paigham – kya hum tayyar hain?
Kya Yeh Azaab Ka Aghaz Hai?
⚠️ Masoomon ka khoon behta rahe aur duniya khamosh ho – kya yeh azaab nahi?
📖 Quran mein Allah ne farmaya: "Zulm karne walon se khuda poochega nahi, unhein seedha pakdega."
🤲 Yeh waqt hai toba, istighfar, aur ekattha ho kar dua karne ka
Gaza ki aaj ki haalat sirf ek region ka masla nahi – yeh poori Muslim Ummah ka imtehaan hai. Kya hum ab bhi khamosh rahenge ya is aakhri Eid ko ibret aur jagane ka paigham banayenge?
📢 Like, Share & Subscribe 💖
🔔 Bell Icon Dabayein Taake Aapko Har Aakhri Video Milti Rahein
#GazaKiAakhriEid #QayamatKiNishaniyan #GazaUnderAttack #NoorTV #AzaabKaAghaz #IslamicWarnings #EidUnderWar #PalestineUpdate #QuranAurHadees #ZulmKaAnjam

Category

📚
Learning
Transcript
00:04ڈوبی عید اور امت مسلمہ کی بے حصی
00:15جب ہم نئے کپڑوں کا انتخاب کر رہے ہوں گے
00:17تب غزہ کے مل بے تلے کوئی بچہ
00:19اپنی آخری سانسیں لے رہا ہوگا
00:21جب ہم کہہ کہہ لگا رہے ہوں گے
00:24تب کسی ماں کی سسکیاں خاموشی میں دفن ہو رہی ہوں گی
00:27کیا باقی ہم عید کے مستحق ہیں؟
00:30یہ ہماری بے بسی نے ہمیں مردہ بنا دیا ہے
00:32بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:34السلام علیکم رحمت اللہ وبرکاتہ
00:37ناظرین ذرا سوچیں اندھیری رات کا سناٹہ ہو
00:40اور اچانک فضا دھماکوں سے گونج اٹھے
00:42بچے نین سے چیخیں مار کر جاگیں
00:44ماں اپنے معصوموں کو سینے سے لگائے
00:46بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھیں
00:48اور باپ اپنی بیٹی کو مل بے تلے دبا دیکھ کر
00:50بے اختیار رو پڑے
00:51یہ کوئی فلم منظر نہیں یہ حقیقت ہے
00:53یہ غزہ کی کہانی ہے
00:55وہی غزہ جہاں ہر دن قیامت کی صبح ہوتی ہے
00:59اور ہر رات موت کی تاریخی میں ڈھل جاتی ہے
01:01یہاں عید بھی آتی ہے
01:03مگر خوشیوں کے بغیر
01:05یہاں چاند بھی نکلتا ہے
01:06مگر روشنی نہیں دیتا
01:08یہاں بچے بھی ہیں
01:09مگر عید کے نئے کپڑوں کے بجائے
01:11ان کے جسم خون میں رنگے ہوتے ہیں
01:13دوسری طرف ہم ہیں
01:14امت مسلمہ جو بازاروں میں گھوم رہی ہے
01:17مہنگے کپڑے خرید رہی ہے
01:19عید کی تیاریوں میں مصروف ہے
01:21لیکن کیا ہمیں احساس بھی ہے
01:23کہ ہماری یہ عید
01:24خون میں ڈوبے ان معصوموں کے دل پر
01:26کیا گزر رہی ہوگی
01:28یہی وہ تلخ سچ ہے
01:29جو آج ہم سب کو سوچنا ہوگا
01:31کیا ہم واقعی ایک امت ہیں
01:33کیا ہمارا دل واقعی ایک جسم کی معنید ہے
01:35جیسا کہ ہمیں سکھایا گیا تھا
01:37یا صرف زبانی ہمدردی کر کے
01:39سوچل میڈیا پر ایک پوست لگا کر
01:41اور چند لمحوں کی دعا مانگ کر
01:42فارغ ہو جاتے ہیں
01:43آج ہم ان سوالوں کے جواب تلاش کریں گے
01:46اور دیکھیں گے کہ کیا ہم واقعی
01:47اس عید کے حق دار ہیں
01:49ناظرین غزائی کی صورتحال ملاحظہ کیجئے
01:51یہاں دھواں ہے چیخیں ہیں
01:53روتے ہوئے معصوم چہرے ہیں
01:55زخمی ہاتھ ہیں جو مدد کے لیے اٹھتے ہیں
01:57لیکن تھکر گر جاتے ہیں
01:58یہاں صبح کا سورج
02:00روشنی نہیں موت کا پیغام لے کر آتا ہے
02:02اور رات کی تاریخ کی سکون نہیں
02:04بلکہ خون میں بھیگے جنازے لے کر آتی ہے
02:06یہاں عید بھی آتی ہے
02:08مگر خوشوں کے بغیر
02:10مسکراہتوں کے بغیر
02:11زندگی کی رمک کے بغیر
02:12جب دنیا عید کی خوشیوں میں گم ہوتی ہے
02:15بازاروں میں رش لگا ہوتا ہے
02:17نئے لباس چونے جا رہے ہوتے ہیں
02:18عیدی کے نوٹ سجائے جا رہے ہوتے ہیں
02:20تب غزہ میں ایک ماں
02:22اپنے بیٹے کے خون میں
02:23لطپت جسم کو سینے سے لگا کر
02:25چیخ رہی ہوتی ہے
02:26بیٹا جاگ جا
02:27عید آئی ہے
02:28مگر وہ بچہ نہیں جاگتا
02:29وہ کفن میں لپٹا ہوتا ہے
02:31کیونکہ یہاں عید پر
02:32نئے کپڑے نہیں ملتے
02:33صرف کفن نصیب ہوتا ہے
02:35ایک باپ اپنے گھر کی دہلیس پر بیٹھا
02:37ٹوٹے کھلونے دیکھ رہا تھا
02:39آنکھوں میں آسو ہیں
02:40کیونکہ اس کے بچے جو ان کھلونوں سے کھیلتے تھے
02:42اب وہ مٹی میں دفن ہو چکے ہیں
02:44ایک بہن اپنے بھائی کی تصویر کو چوم رہی ہے
02:46کیونکہ بھائی
02:47اب صرف یادوں میں باقی رہ گیا ہے
02:49یا سجی ہوئی گلیاں نہیں
02:50دماغوں سے بکھری ہوئی ایٹیں ہیں
02:52یا کہہ کہہ نہیں
02:53آہوں کی گونج ہے
02:54یا خوشبوں سے مہکتے دسترخان نہیں
02:57مل بے تلے دبی ہوئی لاشیں ہیں
02:59یا ایت کی خریداری نہیں ہوتی
03:01یہاں صرف قبریں کھو دی جاتی ہیں
03:03اور دوسری طرف ہم ہیں
03:04امت مسلمہ
03:06ہم خوبصورت لباس پہن رہے ہیں
03:08مہنگے جوتے خرید رہے ہیں
03:09دسترخان انواع اقسام کے کھانوں سے بھرے ہوئے ہیں
03:12موبائل فون پر عید کی مبارک بادیں دی جا رہی ہیں
03:15خوشبوںیں چھڑکی جا رہی ہیں
03:16مہمان نوازی ہو رہی ہے
03:17سیلفیاں لی جا رہی ہیں
03:19لیکن کہیں بھی کوئی درد محسوس نہیں ہوتا
03:21کسی کو یہ خیال نہیں آتا
03:23کہ آج جب ہم عید کی خوشیوں میں مہم ہیں
03:25تب غزہ میں کوئی ماں
03:26اپنے جگر کے ٹکڑے کو لہید میں اتار رہی ہوگی
03:29کوئی بہن اپنے بھائی کی خون آلو
03:30تصویر کو سینے سے لگائے بیٹھی ہوگی
03:32کوئی بچہ بھوکا پیاسا
03:33اپنے شہید والد کو پکار رہا ہوگا
03:35یہی وہ امت ہے جسے ایک جسم کی مانند ہونا تھا
03:38یہی وہ امت ہے جس کے بارے میں کہا گیا تھا
03:40کہ اگر ایک عضو کو تکلیف ہو
03:42تو پورا جسم بے قرار ہو جاتا ہے
03:43مگر آج ایک عضو نہیں
03:45ایک پورا خطہ زخموں سے چور چور ہے
03:47اور ہم اپنے عید کی رونقوں میں گم ہیں
03:49یہ وقت ہے کہ ہم خود سے سوال کریں
03:52کہ ہم واقعی اس عید کے مستحق ہیں
03:53یہ ہماری بے بسی نے ہمیں مردہ بنا دیا ہے
03:56ناظرین یہاں آپ کو غزہ کی مختصر ظلم کی داستان سناتے چلیں
04:00غزہ ایک چھوٹا سا خطہ
04:02مگر ظلم و ستم کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے
04:04یہ وہ زمین ہے جو ہزاروں سال سے
04:06مختلف سلطنتوں کے زیر اثر رہی
04:08کبھی رومیوں کے زیر حکومت
04:09کبھی اسلامی خلافت کے حصے کے طور پر
04:11تو کبھی برطانوی سامرات کے شکنجے میں
04:14مگر بیس میں صدی میں جو ظلم سرزمین پر برپا ہوا
04:17وہ انسان تاریخ کے بدترین مظالم میں شمار ہوتا ہے
04:20یہ کہانی 1917 میں بالفور اعلامی سے شروع ہوتی ہے
04:23جب برطانوی حکومت نے سہونیوں سے وعدہ کیا
04:26کہ وہ فلسطین کی سرزمین پر
04:27یہودیوں کے لئے قومی وطن قائم کرے گی
04:29یہ فلسطینی عوام کے خلاف وہ پہلا دھوکہ تھا
04:31جس کے اثرات آج بھی جاری ہیں
04:33برطانوی سرزمین پر غیر قانونی آبادکاری کا آغاز ہوا
04:38اور یہ زمین ان لوگوں سے چھینی جانے لگی
04:40جو صدیوں سے یہاں رہ رہے تھے
04:411948 میں جب برطانیہ نے فلسطین کو چھوڑ دیا
04:44تو قائم اتحدہ نے غیر منصفانہ منصوبہ بنایا
04:47جس کے تحت فلسطین کی سرزمین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا
04:5055 فیصد علاقہ یہودیوں کو دے دیا گیا
04:53جبکہ فلسطینی جو یہاں اکثریت میں تھے
04:55انہیں صرف 45 فیصد زمین ملی
04:58یہ وہی سال تھا جب نقبہ یعنی تباہی کا آغاز ہوا
05:02ہزاروں فلسطینی شہید کر دی گئے
05:04پانچ لاکھ سے زائد بے گھر ہو گئے
05:06اور فلسطین کا ایک بڑا حصہ اسرائیلی قبضے میں چلا گیا
05:09وہ فلسطینی جن کے آباو اجداد صدیوں سے سرزمین پر بس رہے تھے
05:13انہیں زبردستی بے دخل کر دیا گیا
05:15ہزاروں خاندان ٹوٹ گئے
05:16بستیاں اجڑ گئیں
05:17اور لاکھوں لوگوں کو پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا
05:21نہت فلسطینیوں کے زخم ابھی بھرے بھی نہ تھے
05:25کہ 1967 میں اسرائیل نے ایک اور جاریت کی
05:27جسے چھے روزہ جنگ کے نام سے جانا جاتا ہے
05:30اس جنگ میں اسرائیل نے نہ صرف فلسطین
05:32بلکہ مصر شام اور اردن کے علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا
05:35اسی جنگ کے بعد غزہ اسرائیلی تسلط میں آ گیا
05:38اور یہاں کے لوگ براہ راست اسرائیلی بربریت کے شکنجے میں پھز گئے
05:41زمین چھینی گئیں
05:43گھر تباہ کر دیے گئے
05:44اور فلسطینیوں کے لئے آزادی کا خواب مزید دھندلا ہو گیا
05:472005 میں اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ غزہ سے اپنی فوج واپس بلا رہا ہے
05:51اور یوں بظاہر غزہ کو آزاد کر دیا گیا
05:54مگر یہ آزادی ایک دھوکہ دہی تھی
05:56کیونکہ اسرائیل نے غزہ کی سرادوں
05:58فضائی حدود اور سمندری راستوں پر مکمل کنٹرول برقرار رکھا
06:01گویا کہ یہ کھلی جیل بن چکا تھا
06:04جہاں داخلہ اور خروج کے تمام راستے اسرائیلی قبضے میں تھے
06:072007 میں جب فلسطینی تنظیم ہماس نے غزہ کا انتظام سمحالا
06:11تو اسرائیل نے پورے علاقے کو دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا
06:13غزہ کی سرادیں مکمل چیل کر دی گئیں
06:15تجارتی راستے بند کر دیے گئے
06:17اور اسرائیل نے ایک غیر انسانی معاشی ناکہ بندی نافذ کر دی
06:20اس کے نتیجے میں غزہ کے 20 لاکھ سے زائد فلسطینی
06:23شدید مشکلات کا شکار ہو گئے
06:26یہاں کے لوگ نہ تو آزادہ نہ طور پر سفر کر سکتے ہیں
06:28نہ روزگار حاصل کر سکتے ہیں
06:30اور نہ ہی بنیادی ضروریات زندگی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں
06:332008, 2012 اور 2014 میں اسرائیل نے وحشیانہ بمباری کی
06:38جس میں ہزاروں ماسوم فلسطینی شہید ہوئے
06:40لاکھوں بے گھر ہوئے
06:41اور غزہ کا انفرسٹرکچر مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا
06:45ہر حملے کے بعد اپناہ متحدہ اور عالمی برادری نے محض مضمتی بیان جاری کی
06:49مگر اسرائیلی مظالم نہیں رکے
06:51آج غزہ دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے
06:54یہاں کے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں
06:57اسرائیل نے غزہ میں غزہی اشہی کی ترسیل پر سخت پابندی آئیت کر رکھی ہیں
07:01جس کے باعث یہاں کے لوگ بھوک اور پیاسے لڑ رہے ہیں
07:03غزہ میں روزانہ 20 گھنٹے سے زائد بجلی غائب رہتی ہے
07:06کیونکہ اسرائیل نے بجلی کی فراہمی کو محدود کر رکھا ہے
07:09اسپتالوں میں دمائے اور طبیع آلات ختم ہو چکے ہیں
07:12زخمیوں کا علاج ممکن نہیں
07:13اور بیمار لوگ بے بسی میں موت کے موں میں جا رہے ہیں
07:16اسکول تباہ کر دئیے گئے
07:18یونیورسٹیاں ویران ہو چکی ہیں
07:19اور غزہ میں بے روزگاری کے شرح 50 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے
07:23ناظرین یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی عالمی برادری خاموش ہے
07:26اقوائے متحدہ قراردادے پاس کرتی ہیں
07:28مگر اسرائیل ان پر عمل نہیں کرتا
07:29مسلم ممالک سے بیانات دیتے ہیں
07:31مگر عملی اقدامات سے گرے ساہیں
07:34کیا فلسطینی بچے انسان نہیں
07:35کیا ان کا خون ان کے خواب ان کے امیدیں کوئی قیمت نہیں رکھتی
07:39کیا ظلم کب ختم ہوگا
07:40کیا غزہ کے لوگوں کو جینے کا حق نہیں ہے
07:43کیا فلسطینی بچوں کی
07:44معصوم مسکراہت دنیا کے کسی قانون میں قابل قدر نہیں
07:47یا ہم سب کی بے حیثی نے
07:49غزہ کو ہمیشہ کے لیے
07:50ملبے میں دفن کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے
07:52یہی وہ سوال ہے جس کا جواب
07:54ہم سب کو دینا ہوگا
07:55ناظرین غزہ میں عید کی خوشیوں کے بجائے جنازوں کا دن ہے
08:05میں یہ صبحوں ایک الگی منظر پیش کرتی ہے
08:07یا عید کی ازان کے ساتھ
08:09گولیوں کے آوازیں بھی گونچتی ہیں
08:10یا چاند رات کو بازاروں میں خریداری کے بجائے
08:13گھروں میں سسکیاں سنائی دیتی ہیں
08:15یا عید کے کپڑوں کی جگہ کفن بکتے ہیں
08:17یا عید کے دن ایک باپ اپنی بیٹی کے لیے
08:19نئے کپڑے خریدنے کے بجائے
08:20اس کی لاش کو دپنانے کا بندوبست کر رہا ہوتا ہے
08:23یا ہمائے اپنے جگرگوشوں کو تیار کرنے کے بجائے
08:25ان کے جنازے اٹھا رہی ہوتی ہیں
08:27یا بچے عید کی سوغات کے بجائے آسمان پر اٹھتے
08:30جنگی جہازوں کو دیکھ کر خوف سے سہم جاتے ہیں
08:33ناظرین یہاں عید کے دن جنازے کیوں اٹھتے ہیں
08:35کیونکہ سائل جب چاہتا ہے غزہ پر بمباری کر دیتا ہے
08:38کبھی عید سے ایک دن پہلے ہے
08:39کبھی عید کے رات اور کبھی عید کے دن
08:41یہ حملے ان معصوموں کو بھی نہیں بخشتے
08:42جنہوں نے زندگی کے رنگ دیکھے بھی نہیں ہوتے
08:44جو بچے عید پر نئے جوتے پہننے کے خواب دیکھتے ہیں
08:48وہ بمباری کے بعد ننگے پیر خون میں لطپ زمین پر پڑے ہوتے ہیں
08:51یہاں کے بچوں کے دل میں عید کی خواہش باقی نہیں رہتی
08:53دنیا کے بچے جب عید پر عیدی کے نوڑ گنتے ہیں
08:55تو غزہ کے بچے شہید ہونے والے اپنے بھائیوں کے نام گنتے ہیں
08:59دنیا کے بچے جب چاکلیٹ اور آئس کریم کھانے کے زد کرتے ہیں
09:01تو یہاں کے بچے ایک وقت کے کھانے کے لئے ترستے ہیں
09:03دنیا کے بچے جب عید پر تحفے کھولتے ہیں
09:06تو یہاں کے بچے اپنے والدین کی قبروں پر جا کر
09:08کھلونے رکھنے کے سوا کچھ نہیں کر پاتے
09:10یہاں عید صرف ایک نام ہے
09:12یہاں خوشیوں کی جگہ آنسوں ہیں
09:13کہکہوں کی جگہ سسکیاں ہیں
09:15دعوتوں کی جگہ جناسے ہیں
09:17اور نئے لباسوں کی چکہ
09:18خون میں بھیگی ہوئی چادریں ہیں
09:20کیا یہ وہ عید ہے جو ہم سب مناتے ہیں
09:23کیا یہ وہ عید ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سکھائی تھی
09:27یہاں ہم نے صرف اپنی خوشیوں کو عید سمجھ لیا ہے
09:29اور امت کے غموں کو فراموش کر دیا ہے
09:31یہی وہ تلخ حقیقت ہے جس پر ہمیں غور کرنا ہوگا
09:34ناظرین اگر غزہ کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں
09:36تو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جاریت کا سلسلہ بدستور جاری ہے
09:40جس کی نتیجے میں انسانی جانوں کا زیاء اور بنیادی دھانچی کی تباہی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے
09:45وزارت سہیت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی
09:49اس تباہ کن جنگ میں اب تک شہدہ کی تعداد 50144 تک پہنچ چکی ہے
09:53جبکہ زخمیوں کی تعداد 1,13,704 سے تجاوز کر چکی ہے
09:57اسرائیلی حملوں میں بے شمار معصوم شہری شہید ہو چکے ہیں
10:00جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں
10:02رپورٹس کے مطابق 7,000 بچے یہ جاریت کا نشانہ بن چکے ہیں
10:06جو اس علمناک صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے
10:09اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ میں
10:104,5 لاکھ سے زائد رہائشی یونٹس کو نقصان پہنچا ہے
10:14جن میں سے 1,7 لاکھ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں
10:17اس تباہی کے 22 لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں
10:20جو پہلے ہی محاصرے اور معاشی پابندیوں کا شکار تھے
10:23ہزاروں زخمیوں کو طبی امداد کی ضرورت ہے
10:25لیکن غزہ کے طبی مراکز بھی اسرائیلی حملوں کی ضد میں آ چکے ہیں
10:2834 اسپتال اور 80 سے زائد صحت کے مراکز کو شدید نقصان پہنچا ہے
10:33جس کی وجہ سے زخمیوں کو مناسب علاج معالجہ میسر نہیں
10:36ان کے علاوہ طبی عملے کے افراد بھی شہید ہوئے ہیں
10:39جس سے صحت کی سہولیات مزید متاثر ہوئی ہیں
10:41غزہ کے عوام کو روز مرہ کے زندگی میں بے شمار مشکلات کا سامنا ہے
10:45بجلی پانی اور بنیادی ضروریات کے قلت نے
10:47زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے
10:49اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے غزہ قلت اور عدویات کے دم دستیابی جیسے مسائل بھی درپیش ہیں
10:54اس کے علاوہ تعلیمی داروں کی تباہی اور معاشی سرگرمیوں کی موطلی نے
10:58غزہ کے مستقبل کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے
11:01ان سنگین حالات میں عالمی برادری کی خاموشی اور بے عملی نے
11:04غزہ کے مظلوم عوام کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے
11:07ضرورتی سمر کی ہے کہ عالمی سطح پر اس انسانی علمی کو سنجیدگی سے لیا جائے
11:11اور فوری طور پر اقدامات کیے جائیں
11:13تاکہ غزہ کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق اور ایک محفوظ زندگی محسر آسکے
11:18ناظرین یہ غزہ میں عید ہے
11:20مگر خوشیاں کہاں ہیں
11:21دنیا کے دوسرے ممالک میں جب عید کی صبح ہوتی ہے
11:24تو گھروں میں خوشبویں بکھری ہوتی ہیں
11:27بچے نئے کپڑے پہنے گلے مل رہے ہوتے ہیں
11:29مہمانوں کے لئے دسترخان سجائے جا رہا ہوتا ہے
11:32لیکن غزہ میں عید کی صبح ایک اور خوفناک رات کے بعد طلوع ہوتی ہے
11:36یہاں کے عام فلسطینی خاندان کی عید کچھ یوں ہوتی ہے
11:39صبح فجر کے وقت ایک باپ اپنے چھوٹے بیٹے کا ہاتھ تھامے گھر سے نکلتا ہے
11:43مگر یہ عید کی نماز کے لئے نہیں
11:45بلکہ شہدہ کے قبرستان جانے کے لئے نکل رہا ہے
11:48اس کا بیٹا اپنے بڑے بھائی کی قبر پر جا کر کہتا ہے
11:50بھائی جاگ جاؤ آج عید ہے لیکن قبر خاموش رہتی ہے
11:54عید کی خوشیوں کے بجائے یہاں یتین بچوں کی آہیں سنائی دیتی ہیں
11:57وہ بچے جو کل تک اپنے والد کے ساتھ عید کی شاپنگ کے خواب دیکھ رہے تھے
12:01آج ان کے پاس نہ باپ ہے نہ نئے کپڑے نہ عیدی
12:03صرف آنکھوں میں بے بسی کے آنسو اور ہاتھ میں ایک پرانی تصویر ہے
12:07جن کے والد کے آخری نشانی ہے
12:09کھانے کی قلت نے عید کے مزے چھین لیا ہے
12:11جہاں دنیا بھر میں لوگ مزے دار پکوان تیار کر رہے ہیں
12:14وہی غزہ میں ایک ماں اپنی خالی دیکچی کو حسد بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے
12:18گھروں میں آٹے چاول دودھ کی شدید کمی ہے
12:21بچے اپنے ماں سے پوچھتے ہیں
12:22امی آج عید ہے ہمارے لئے کیا بنایا ہے
12:25اور ماں کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
12:27کیونکہ یہاں عید پر پکوان نہیں بنتے
12:29صرف آنسو بہائے جاتے ہیں
12:30پانی اور بجلی کا بہران بھی عید کی صبحوں کو مزید دردناک بنا دیتا ہے
12:34بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں خاندان اندھیرے میں زندگی گزار رہے ہیں
12:38پینے کا صاف پانی بھی دستیاب نہیں
12:40بچے پیاسے بلکتے ہیں
12:41اور ماں کو سمجھ نہیں آتا کہ وہ اپنے معصوموں کو کیا جواب دے
12:45یہاں کے بازار ویران پڑے ہیں
12:46یہاں کے گلیاں سنسان ہیں
12:48یہاں کے قہقہوں کے بجائے سسکیاں سنائے دیتی ہیں
12:51یہ ہے غزہ کی عید
12:52نہ نئے کپڑے ہوتے ہیں
12:54نہ خوشیاں نہ عیدی نہ داوتیں
12:55بلکہ صرف جنازے مل بے بھوک اور بے بسی
12:58کیا یہ وہ عید ہے جس کا ہمیں انتظار ہوتا ہے
13:01کیا واقعی ہمیں ایک امت ہے
13:02جب ہمارے بھائیوں کی عید ایسی ہوتی ہے
13:04ناظرین جب غزہ پر بمباری ہوتی ہے
13:06جب معصوم بچے خون میں لطپت ہوتے ہیں
13:08جب ایک ماں اپنے جگر کے ٹکڑ کو ملبے سے نکال کر چیخیں مارتی ہے
13:11تب مسلم دنیا کہاں ہوتی ہے
13:13کہ ہم وہی امت ہیں جس کے بارے میں کہا گیا تھا
13:16مسلمان ایک جسم کی معنی ہے
13:18اگر ایک حصے کو تکلیف ہو تو سارا جسم درد محسوس کرتا ہے
13:21مگر حقیقت میں یہ جسم بے حص ہو چکا ہے
13:23اور دل مردہ ہو چکے ہیں
13:25مسلم ممالک کے حکمران محض تشویش کا اظہار کرتے ہیں
13:28مضمتی بیان جاری کرتے ہیں
13:29اور اقوائے متحدہ میں چند قراردادیں پیش کر کے خاموش ہو جاتے ہیں
13:33مگر یہ سب فلسطینیوں کے خون کے سامنے کچھ نہیں
13:35ان حکمرانوں کے ایوان تو روشنیوں سے جگمگا رہے ہیں
13:38مگر غزہ میں اندھیرے ہیں
13:39ان کے دسترخانوں پر انواع اقسام کے کھانے ہیں
13:41مگر غزہ میں بھوک اور پیاس ہے
13:43ان کے لئے عید رنگین ہے
13:44مگر غزہ میں کفن بچھے ہیں
13:46یہ وہی امت ہے جس کے پاس
13:48دنیا کے ستر فیصد تیل کے زخائر ہیں
13:50جس کے پاس اربوڈالر کے وسائل ہیں
13:52مگر پھر بھی یہ امت اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کی مدد نہیں کر پا رہی
13:55یہ بے بسی نہیں بلکہ بے حصی ہے
13:57آج اسلامی موالک کے بیشتر حکمران
13:59عالمی طاقتوں کے سامنے جھکے ہوئے ہیں
14:02انہیں اپنے اقتدار کی فکر ہے
14:03مگر غزہ کے شہیدوں کی کوئی پرواہ نہیں
14:05وہ ان طاقتوں سے معاشی معاہدے کر رہے ہیں
14:08صفارتی تعلقات بڑھا رہے ہیں
14:09مگر ان معصوموں کے بچوں کی لاشوں پر
14:11ان کے ہونٹ بند ہیں
14:12کیا یہ وہی امت ہے
14:14جس کے عباو اجداد نے دنیا میں
14:15عدل انصاف کا نظام قائم کیا تھا
14:17یہ امت اپنی بے حصی کی
14:20سب سے خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے
14:22جب غزہ میں ظلم ہوتا ہے
14:23تو ہم سوشل میڈیا پر پوسٹ لگا کر خاموش ہو جاتے ہیں
14:26ہم مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے
14:28صرف زبانی دعوے کرتے ہیں
14:29مگر ہماری دعائیں
14:31ہمارے عمل اقدامات نہیں
14:32ہماری جذبات ہیں
14:33مگر ہم بے عمل ہیں
14:35ہمیں ایک دوسرے کو کوشتے ہیں
14:36مگر ظالموں کے خلاف کھڑے نہیں ہوتے
14:38اگر ہم واقعی ایک جسم کی مانند ہوتے
14:40تو آج پاج غزہ میں یہ حال نہ ہوتا
14:42اگر ہم واقعی ایک امت ہوتے
14:44تو آج ہمارا رد عمل دنیا کو ہلا کر رکھ دیتا
14:46مگر حقیقت یہی ہے
14:48کہ ہم اپنی عید کی خوشیوں میں مصروف ہیں
14:49جبکہ ہمارے بھائی کفن میں لپٹے پڑے ہیں
14:52ناظرین اگر ہم عوام کی بے حصی کی بات کریں
14:54تو ہمارا کردار بھی تماشائیوں سے کم نہیں ہے
14:56ہم روزانہ سوشل میڈیا پر فلسطین کی ویڈیوز دیکھتے ہیں
14:59دل دہلا دینے والی تصفیریں شیئر کرتے ہیں
15:01کچھ دیر افسوس کرتے ہیں
15:03پھر اپنی زندگی میں مگن ہو جاتے ہیں
15:04کیا ہماری ذمہ داری بس اتنی سی ہے
15:06کیا صرف ایک پوست لگانے سے
15:08یہ چند لمحے اللہ مدد کرے کہہ دینے سے
15:10غزہ کے مظلوموں کے حالت بدل جائے گی
15:12نہیں
15:13ہم فلسطین کے حق میں ہیش ٹائک چلاتے ہیں
15:15ویڈیوز پر افسوسناک لکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں
15:18مگر کبھی خود سے پوچھا کہ
15:20کیا ہم نے باقی ان کے لئے کچھ کیا ہے
15:22ہم اگر چاہیں تو اپنی روز مرہ کے فیصلوں میں
15:24ایسی تبدیل ہی لاسکتے ہیں جو فلسطین کے لئے موثر ہو
15:26مثلاً اسرائیلی مصنوعات کا بائیکارڈ
15:29فلسطینی فلاہی اداروں کی مدد
15:31اور اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالنا
15:33کہ وہ عملی اقدامات کریں
15:34مگر ہم ایسا نہیں کرتے
15:35کیونکہ ہمیں اپنی زندگیوں کی آسانیت زیادہ عزیز ہیں
15:38ہم میں سکسر لوگ فلسطین کی تاریخ تک نہیں جانتے
15:41ہم جانتے ہیں کہ یہ ظلم کب اور کیسے شروع ہوا
15:43کون کون سے مظالم ڈھائی جا چکے ہیں
15:45اور عالمی سازشیں کیا ہیں
15:47ہم فلسطین کے بارے میں بس اتنا ہی جانتے ہیں
15:49جتنا سوشل میڈیا پر نظر آتا ہے
15:51ہم نے کبھی کتابیں پڑھ کر
15:52تحقیق کر کے یا گہرائی میں جا کر
15:54اس مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کی
15:55اگر ہم واقعی سنجیدہ ہوتے
15:57تو آج ہماری سوچ بھی مختلف ہوتی
15:59اور ہمارا رد عمل بھی
16:00جب ہم برینڈڈ کپڑوں کی خریداری میں
16:02مصروف ہوتے ہیں
16:03تب غزہ میں کسی کا گھر ملبے میں
16:04بدل چکا ہوتا ہے
16:05جب ہم مہنگے جوتے پرفیوم
16:07اور تحفے خرید رہے ہوتے ہیں
16:08تب غزہ میں ایک بچہ
16:09زخمی حالت میں اپنی ماں کو
16:10تلاش کر رہا ہوتا ہے
16:11جب ہم پارکوں میں
16:12اور تفریح مقامات پر
16:13خوشیہ منا رہے ہوتے ہیں
16:14تب غزہ کے کسی ہسپتال میں
16:16بجلی نہ ہونے کی وجہ سے
16:17ایک معصوم دم توڑ چکا ہوتا ہے
16:19ناظرین یہ تضاد
16:20ہمیں جھنجوڑتا کیوں نہیں
16:21کیا ہم واقعی اس بات پر
16:23یقین رکھتے ہیں
16:23کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہے
16:25اگر ہمارا دل غزہ کے
16:26بچوں کے ساتھ نہیں دھڑکتا
16:27اگر ہماری آنکھوں میں
16:28ان کے لئے آنسو نہیں ہے
16:30اگر ہمارا ہاتھ
16:31ان کی مدد کے لئے نہیں بڑھتا
16:32تو پھر ہمیں خود سے
16:33یہ سوال کرنا چاہیے
16:34کہ کیا ہم
16:35بے حصی کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں
16:37یہ وقت جاگنے کا ہے
16:38سوشل میڈیا پر صرف
16:39جذباتی پوسٹ لگانے کے بجائے
16:41ہمیں عملی اقدامات کرنے ہوں گے
16:42ہمیں اپنی زندگی میں کچھ حصے
16:44ان مظلوموں کے لئے وقف کرنے ہوں گے
16:46ہمیں اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی
16:47ہمیں اپنے حکمرانوں کو مجبور کرنا ہوگا
16:49وہ فلسطین کے لئے کھڑے ہوں
16:51ورنہ یہ بے حصی
16:52ہماری اپنی بربادی کا سبب بن جائے گی
16:54ناظرین ہمیں سکسل لوگ یہ سوال کرتے ہیں
16:56کہ ہم کیا کر سکتے ہیں
16:57ہم تو صرف عام لوگ ہیں
16:58مگر یہی سوچ ہمیں بے عمل رکھتی ہے
17:00ہر بڑی تبدیلی ایک فرد کے عمل سے ہی شروع ہوتی ہے
17:03اگر ہم واقعی فلسطین کے مظلوموں کا ساتھ دینا چاہتے ہیں
17:06تو ہمیں عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے
17:08نہ کہ صرف جذباتی بیانات دینے سے اقتفاہ کرنا ہوگا
17:11غزہ کے لوگ بھوک پیاس بے گھری
17:13اور طبی سہولیاتی کمی کا سامنا کر رہے ہیں
17:15ہمیں چاہیے کہ فلسطینی فلاہی داروں کے ذریعے
17:18اپنی استطاعت کے مطابق مدد کریں
17:19چند سو روپے بھی اگر اخلاص کے ساتھ دیے جائیں
17:22تو وہ کسی بھوکے کے لیے کھانے کا انتظام کر سکتے ہیں
17:25کسی زخمی کے لیے دوہ خرید سکتے ہیں
17:27یا کسی یتیم کی آنسو پوچھ سکتے ہیں
17:29آج کے دور میں سوشل میڈیا سب سے بڑا ہتیار ہے
17:32ہمیں چاہیے کہ فلسطین کے بارے میں
17:33مصدقہ معلومات تاریخ اور زمین حقائق پر مبنی مواد شیئر کریں
17:37تاکہ لوگ صحیح طور پر ظلم کو سمجھ سکیں
17:39صرف ایک تصویر یا ویڈیو شیئر کر دینا کافی نہیں
17:41بلکہ ہمیں ایسی پوسٹ جو لوگوں کے زمیر کو جھنجوڑ دیں
17:45انہیں عملی اقدام اٹھانے پر مجبور کر دیں
17:47ہم روزانہ ایسی مصنوعات خریدتے ہیں
17:49جن کے عامدنی سے اسرائیل کو مائلی فائدہ ہوتا ہے
17:52اور یہی پیسہ فلسطینیوں پر بمباری میں استعمال ہوتا ہے
17:54ہمیں چاہیے کہ اسرائیلی مصنوعات اور ان کمپنیوں کا بائیکارٹ کریں
17:57جو اسرائیل کی معاملت کر رہی ہیں
17:59اور اس کے بجائے فلسطینی مصنوعات کو ترجی دیں
18:01اگر دنیا بھر کے مسلمان متحد ہو کر بائیکارٹ کریں
18:04تو یہ اسرائیلی معیشت پر زبردست اثر ڈال سکتا ہے
18:06اگر ہم یہ تین اقدامات بھی مانداری سے شروع کر دیں
18:09تو یہ فلسطین کے لئے ایک مضبوط آواد بن سکتے ہیں
18:11یہ وقت زبانی ہمدردی کا نہیں بلکہ عملی اقدام کا ہے
18:15کہ ہم واقعی تیار ہیں اپنی زندگیوں میں ایسی تبدیلی لائیں
18:18جو غزا کے مظلوموں کے لئے امید بن سکے
18:20یا ہم پھر صرف ایک پوست لگا کر اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہو جائیں
18:24فیصلہ ہمیں کرنا ہے
18:25ناظرین اگر امت مسلمہ باقی ایک جسم کی مانند ہے
18:29تو پھر فلسطین کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے
18:31اجتماعی اقدامات کیوں نہیں کیے جارے
18:33جب بھی غزا پر بمباری ہوتی ہے
18:35مسلم حکمران مضمت کے بیانات دے کر خاموش ہو جاتے ہیں
18:38وہ ایسی اجلاس بلاتی ہے
18:40قراردادیں پاس ہوتی ہیں
18:41مگر عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے
18:43مسلم ممالک کے پاس بے پناہ وسائل
18:46طاقت اور صفارتی اثر و رسوخ موجود ہے
18:48مگر وہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں
18:50اگر مسلم دنیا واقعی فلسطین کی آزادی چاہتی ہے
18:52تو اسے زبانی بیانات سے آگے بڑھ کر
18:54عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے
18:56اسرائیل سے صفارتی تعلقات ختم کیے جائیں
18:58اور ان ممالک پر دباؤ ڈالا جائیں
19:00جو اسرائیل کے ساتھ تجارت اور صفارتی تعلقات بڑھا رہے ہیں
19:03اقتصادی بائیکارٹ کے جریعے
19:05اسرائیلی معیشت کو نقصان پہنچائے جائے
19:07کیونکہ اسرائیل کی جنگی طاقت کا بڑا حصہ
19:09مغربی سرمایہ کاری اور مسلم ممالک سے ہونے والی
19:11تجارت پر منحصر ہے
19:13فلسطین کو عسکری و دفاعی مدد فرہام کی جائے
19:15تاکہ وہ اپنی سرزمین کا دفاع کر سکیں
19:17اسرائیلی اور اسرائیلی جارہیت کا مقابلہ کر سکیں
19:21عالمی سطح پر فلسطین کے حق میں
19:23مضبوط صفارتی مہم چلائیں
19:24تاکہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر
19:27فلسطینیوں کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑا جا سکیں
19:30اسلامی تعاون تنظیم OIC
19:32جو ستاون مسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم ہے
19:34اگر واقعی فلسطین کے لئے سنجیدہ ہو جائے
19:37تو دنیا کی سیاست بدل سکتی ہے
19:38مگر بدقسمتی سے
19:40OIC محض اجلاس بلانے
19:41مذہمتی بیانات جاری کرنے
19:43اور تشویش کے اظہار تک محدود ہو چکی ہے
19:45OIC کو چاہیے کہ فلسطین کے لئے مستقل
19:48مالی سفارتی اور انسانی امداد
19:50کا ایک مضبوط نظام بنائے
19:52اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی سطح پر
19:54قانونی کاروائی کرے
19:55تاکہ اسے جنگی جرائے میں ملوث ثابت کیا جا سکے
19:58مسلم ممالک کو متحد کر کے
20:00امریکہ اور یورپی طاقتوں پر دباؤ ڈالے
20:02کہ وہ اسرائیل کے اندھی حمایت ترک کر رہے ہیں
20:04فلسطینی عوام اپنی زمین کے دفاع کے لئے
20:06مضاہمت کر رہے ہیں مگر انہیں دنیا دشتگرد
20:08قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے
20:09یہ امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے
20:11کہ وہ فلسطینی مضاہمت کو ایک جائز جد و جہت
20:13کے طور پر تسلیم کرائے اور ان کے حمایت کرے
20:16اگر مسلم ممالک ایک جہتی کا مظاہرہ کریں
20:18تو فلسطینی مضاہمت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے
20:20اور اسرائیلی جاریت کا
20:22موثر جواب دیا جا سکتا ہے
20:23یہ مضاہمت صرف ہتیاروں سے نہیں
20:25بلکہ اقتصادی صفارتی اور
20:27سوشل میڈیا کے میدان میں بھی ہونی چاہیے
20:29یہ وقت صرف مضمت کرنے کا نہیں
20:30بلکہ عملی اقدامات کرنے کا ہے
20:32اگر آج بھی مسلم حکمران خاموش رہے
20:35OIC بے عمل رہی
20:36اور مسلم عوام بے حس بننی رہی
20:38تو یاد رکھیں یہ ظلم
20:41صرف فلسطین تک محدود نہیں رہے گا
20:44یہ وقت جاگنے کا ہے
20:45کیونکہ اگر آج ہم نے کچھ نہ کیا
20:47تو کل ہمیں بھی کوئی بچانے والا نہیں ہوگا
20:49ناظرین ذرا تصور کریں
20:52ایک چھوٹا سا معصوم بچہ
20:53جس کے عمر بمشکل ساتھ یا آٹھ سال ہوگی
20:56ایک ہاتھ میں اپنے بوسی در جوتے پکڑے
20:57دوسرے ہاتھ سے اپنے آنسوں پہنچتے ہوئے
20:59کیمرامین کے سامنے کھڑا ہے
21:00اور اس کے آنکھیں سوجی ہوئی ہیں
21:02چہرہ مٹی سے اٹا ہوا ہے
21:04ہونٹ خوشک ہیں
21:05جس سے کئی دنوں سے پیاسا ہو
21:06وہ اپنے اردگرد بکھری تباہی کو دیکھ رہا ہے
21:08وہ جگہ جہاں کبھی اس کا گھر ہوا کرتا تھا
21:10آج ملوے کا ڈھیر ہے
21:12میرے بابا کہاں ہے
21:13وہ معصومیت سے پوچھتا ہے
21:15کوئی جواب نہیں دیتا
21:16بس ہوا کی جھوکے میں
21:18اس کے الفاظ گونج کر کھو جاتے ہیں
21:20پھر وہ اپنی نظریں اٹھاتا ہے
21:21شاید کسی موجزے کا انتظار کر رہا ہو
21:23اور دھیرے سے کہتا ہے
21:24میں نے بابا سے وعدہ کیا تھا
21:26کہ اس بار ہم عید پر نئے کپڑے پہنیں گے
21:28ساتھ میں عیدی لیں گے
21:30اور خوب ہسی خوشی گزاریں گے
21:31مگر بابا تو چلے گئے
21:33میں عید کیسے مناؤں
21:34یہ بچہ وہ نہیں
21:36جو صرف غزہ کی گلیوں میں رہتا ہے
21:38یہ ہر فلسطینی بچہ ہے
21:39جو اپنے والدین
21:40اپنے بہن بھائیوں
21:41اور اپنے پیاروں کو کھو چکا ہے
21:42اس کی عید نئے کپڑوں
21:44کھلونوں یا مٹی سے نہیں
21:45بلکہ آنسوں اور شہدہ کی جنازے سے شروع ہوتی ہے
21:47اس کی مسکرہات چھین لی گئی ہے
21:50مگر کیا واقعی
21:51ہم اس کے دکھ کو محسوس کر رہے ہیں
21:52کہ ہم نے کبھی سوچا ہے
21:53کہ اگر ہمارا یہ بچہ ہوتا
21:54اگر یہ دکھ
21:55یہ بربادی
21:56یہ محرومی ہمارے گھر آتی
21:58شاید نہیں
21:59کیونکہ اگر سوچتے
22:00تو شاید ہم خاموش نہیں رہتے
22:02شاید ہم کچھ کرتے
22:03یہ بچہ ہم سے کچھ مانگتا ہے
22:05بس چاہتا ہے
22:21یہ بچہ ہم سب سے سوال کر رہا ہے
22:23کیا ہم واقعی اس کے آنسوں پوچھنے جا رہے ہیں
22:26کیا ہم واقعی اس کے آنسوں پوچھنے کے لیے تیار ہیں
22:29یا ہم پھر ایک بار سب بھول کر
22:32اپنی عید کی خوشیوں میں گم ہو جائیں گے
22:34ناظرین سپیل ہے
22:35کیا ہم واقعی جاگنے کے لیے تیار ہیں
22:38یہ وقت محض افسوس کرنے
22:39آنسوں بہانے اور چند لمحوں کے لیے
22:41جذباتی ہونے کا نہیں
22:42یہ وقت جاگنے کا ہے
22:44ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
22:46ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
22:48ضرور پسند آئی ہوگی
22:50اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہے
22:52تو آپ سے گزارش کرتے ہیں
22:53کہ آپ ہمارے چینل کو ضرور سبسکرائب کر لیں
22:55اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
22:57تاکہ آپ کے پاس ہماری آنے والی
22:59مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹفکیشن بھروقت ملتا رہے
23:02سبسکرائب کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
23:04اور اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں
23:06کمنٹس میں آپ اپنے سوالات بھی ہم تک پہنچا سکتے ہیں
23:09اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظ و مان میں رکھے
23:11آمین
Comments

Recommended