Skip to playerSkip to main content
Hazrat Ayub (AS) Ki Biwi Ka Waqia | Story of Hazrat Ayub | Seerat-e-Ayub A.S | Noor TV
Hazrat Ayub (AS) sabr aur shukr ka behtareen namoona hain. Allah ne unko bohot si aazmaishon mein dala, magar unka imaan kabhi nahi dagmagaaya. Magar kya aap jaante hain ke is sabar bhari kahani mein unki biwi ka kya kirdar tha?
Hazrat Ayub (AS) ek waqt duniya ke sabse ameer aur sehatmand shakhs thay, magar phir Allah ne unko bimari aur muflisi mein daal diya. Jab sab unka saath chor gaye, unki biwi ne wafadari aur sabar ka azeem sabq diya.
Is Video Mein Aap Jaan Sakein Ge:
✅ Hazrat Ayub (AS) ki aazmaish aur sabr ki kahani
✅ Unki biwi ka wafadari aur Allah ki taraf se bada inam
✅ Sabr aur shukr ka asal maqam kya hai?
Allah ne Hazrat Ayub (AS) ka sabr dekh kar unki bimari door ki, unko phir se dolat di, aur unki biwi ko izzat di. Yeh kahani har musalman ke liye sabar, tawakkul aur Allah par bharose ka sabse bara sabaq hai.
Agar aap bhi is imaan afroz kahani ko samajhna chahte hain, to yeh video zaroor dekhein! Noor TV aapko Quran o Sunnat ki roshni mein asal maloomat faraham karega.
📢 Like, Share & Subscribe 💖
🔔 Bell Icon Dabayein Taake Aapko Naye Islamic Updates Milti Rahein
#HazratAyubAS #StoryOfAyubAS #SabrAurShukr #SeeratEAyub #IslamicStories #QuranicWisdomom #IslamicTeachings #NoorTV #AyubKiBiwi #QuranAurSunnat

Category

📚
Learning
Transcript
00:00. . . . . . . . . . . . . .
00:58ڈاکاتوو
01:07اور اس کہانی کے سب سے خوبصت پہلو وہ عورت ہے جو ہر حال میں اپنے شہر کے ساتھ کھڑی
01:11رہی
01:12چاہے فاقے ہو چاہے تنہائی ہو چاہے زمانے کے تانے ہو یہ وہی خاتون ہے جنہیں کبھی مال و دولت
01:17کی شہزادی کہا جاتا تھا
01:19مگر جب آزمائی شائی تو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے محنت کر کے اپنے شہر کی خدمت کی
01:22ان کا صبر وفاداری اور قربانی قیامت تک ہر عورت کے لئے ایک مثال ہے
01:27آج کے اس ویڈیو میں ہم آپ کو لے کر چلیں گے اس لازوال قربانی اور بے مثال وفاداری کی
01:31کہانی کی گہرائیوں میں
01:32ایک ایسی کہانی جو نہ صرف ہمارے دلوں کو جھنجوڑ دے گی بلکہ ہم یہ سبق سکھائے گی
01:37کہ محبت ریمان کی اصل طاقت کیا ہے
01:39یہ ویڈیو آپ کو حضرت عیوب علیہ السلام کی آزمائش ان کی بیوی کے صبر اور اللہ کی بے پایاں
01:45رحمت کے سفر پر لے جائے گی
01:46تو آئیے وقت کے اس سفر کا آغاز کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ صبر اور وفا کی یہ داستان
01:52ہمیں کیا سکھاتی ہے
01:53ناظرین حضرت عیوب علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک تھے
01:57آپ کا نصب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بیٹے حضرت عیسو سے جا ملتا ہے
02:01اور آپ کا تعلق سرزمین شام یارب کے علاقوں سے بتایا جاتا ہے
02:04آپ نہایت صابر اور اللہ کے شکر گزار بندے تھے
02:08اللہ نے آپ کو بے پناہ مال و دولت زمین مویشی اولاد اور عزت عطا کی تھی
02:12آپ کے پاس بڑی تعداد میں غلام، کھیت، باغات اور مویشی تھے
02:16اور آپ کی سخاوت و نیکی کی وجہ سے لوگ آپ کو بہت عزت کے نگاہ سے دیکھتے تھے
02:21اللہ نے حضرت عیوب علیہ السلام کو عظیم آزمائش میں مبتلا کیا
02:24تاکہ وہ صبر اور ایمان کی حقیقی مثال بن سکیں
02:27پہلے آپ کا مال و دولت تباہ ہو گیا
02:29پھر آپ کے اولاد ایک حادثے میں وفات پا گئی
02:31اور آخر میں ایک شدید بیماری نے آپ کو مکمل طور پر کمزور کر دیا
02:34آپ کے جسم پر سخت زخم آئے اور لوگ آپ سے دور ہونے لگے
02:38حتیٰ کہ قریبی رشتدار اور دوست بھی ساتھ چھوڑ گئے
02:41مگر ان تمام مسئیبتوں کے باوجود حضرت عیوب علیہ السلام نے
02:44اللہ کی رضا پر صبر کیا اور کبھی شکوا نہ کیا
02:47یہ عزمائش کئی سالوں تک جاری رہی
02:49اور آپ کی وفادار بیوی ہی وہ واحد ہستی تھی
02:51جو ہر حال میں آپ کے ساتھ کھڑی رہی
02:53آپ کی خدمت کرتی رہی
02:55اور صبر و وفا کی لا زوال مثال بن گئی
02:57ناظرین حضرت عیوب علیہ السلام پر
03:00ایک دن اچانک آزمائشوں کا سلسلہ شروع ہوا
03:02پہلا آپ کی تمام جائداد
03:03زمینیں اور مویشی تباہ ہو گئے
03:05وہی لوگ جو آپ کے پاس مدد لینے آتے تھے
03:07اب آپ سے مو موڑنے لگے
03:09پھر آپ کے تمام بیٹے اور بیٹیاں
03:11ایک حادثے میں وفاد پا گئے
03:13اور پھر آپ کے گھر کی رونہ ختم ہو گئی
03:15یا آزمائش بھی کم نہ تھی
03:16کہ آپ کو ایک ایسی خطرناک بیماری نگھیل لیا
03:19جس سے آپ کا سارا جسم متاثر ہو گیا
03:21آپ کی بیماری کے سبب
03:22لوگ آپ سے کترانے لگے
03:23پہلے عزیز و اقارب نے کناہ رکھیا
03:25پھر عام لوگ بھی آپ سے دور ہو گئے
03:27یہاں تک کہ شہر والوں نے بھی
03:28آپ کو اپنے علاقے سے نکال دیا
03:30اور آپ کو شہر سے باہر
03:31ایک کونے میں تنہا چھوڑ دیا گیا
03:33اب آپ کے پاس
03:34نہ دولت رہی
03:35نہ اہل و ایال
03:35نہ دوست اور نہ ہی صحت
03:37مگر آپ کا ایمان متزلزل نہ ہوا
03:39حضرت ایوب علیہ السلام پر
03:40ایک کے بعد ایک مسئبت آئی
03:42لیکن آپ نے کبھی شکوہ نہ کیا
03:43نہ ہی آپ نے اللہ سے یہ شکایت کی
03:45کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے
03:46آپ ہمیشہ اللہ کی تصویر بیان کرتے
03:48اس کی حمد و سنا کرتے
03:49اور دعا کرتے
03:50کہ اللہ انہیں صبر عطا کرے
03:52آپ جانتے تھے
03:53کہ دنیا کی یہ آزمائش وقتی ہے
03:54اور اللہ آپ نے نیک بندوں کو آزماتا ہے
03:56تاکہ وہ ثابت قدم رہیں
03:58آپ کے صبر و استقامت میں
03:59سب سے بڑا کردار آپ کی وفدار بیوی کا تھا
04:02جب سب نے ساتھ چھوڑ دیا
04:03وہ اکیلے آپ کی خدمت کرتی رہیں
04:05وہ محنت مزدوری کر کے
04:06کھانے کے انتظام کرتی
04:07اور ہر حال میں آپ کا سہارا بنی رہیں
04:09جب لوگ آپ کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے
04:11تب بھی
04:12وہ آپ کی خدمت میں
04:13کوئی کمی نہیں آنے دیتی تھی
04:15یہ آزمائش کئی سالوں تک جاری رہی
04:17ایک وقت ایسا بھی آیا
04:18کہ حضرت عیوب علیہ السلام کی
04:19بیوی کو کام ملنا ہی مشکل ہو گیا
04:21کیونکہ لوگ ان سے بھی نفرت کرنے لگے
04:23روایات کے مطابق
04:24جب ان کے پاس کھانے کو کچھ نہ بچا
04:26تو انہوں نے اپنی ایک چٹیا بیج دی
04:27تاکہ حضرت عیوب علیہ السلام کیلئے
04:29کچھ کھانے کا بندوست کر سکیں
04:30مگر جب حضرت عیوب علیہ السلام کو
04:32اس کا علم ہوا تو انہیں حساس ہوا
04:34کہ ان کے آزمائش ان کی بیوی کو بھی
04:35متاثر کر رہی ہے
04:36یہ وہ لمحہ تھا
04:37جب حضرت عیوب علیہ السلام نے
04:38اللہ سے دعا کی
04:39جس کا ترجمہ ہے
04:40اے میرے رب
04:41مجھے بیماری نے چھو لیا ہے
04:43اور تُو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
04:45یہ دعا کرتے ہی
04:46اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی
04:48اور حضرت عیوب علیہ السلام کی
04:49آزمائش کا اختتام ہونے والا تھا
04:51یہ صبر اور آزمائش کی
04:52ایک لازوال کہانی ہے
04:54جو قیامت تک دنیا کے لیے
04:55صبر وفا اور اللہ پر توقل کا
04:57ایک عظیم سبق بنی رہے گی
04:59ناظرین حضرت عیوب علیہ السلام کی
05:01آزمائش کی کہانی
05:02جہاں صبر اور اللہ پر بھروسے کی
05:04ایک بے مثال داستان ہے
05:05وہیں اس میں ایک اور اہم ترین پہلو
05:07ان کی بیوی کی عظمت و وفاداری
05:09اور قربانی کا بھی ہے
05:10جب سب نے حضرت عیوب علیہ السلام
05:12کا ساتھ چھوڑ دیا
05:13تب بھی ان کی بیوی نے
05:14ہر حال میں ان کا ساتھ دیا
05:15اور اپنی محبت خدمت اور قربانی
05:17کی ایسی مثال قائم کی
05:18جو رہتی دنیا تک
05:19یاد رکھی جائے گی
05:20روایت میں حضرت عیوب علیہ السلام کی
05:22بیوی کا نام حضرت رحمت
05:23لائیہ بتایا جاتا ہے
05:25بعض مورخین کے مطابق
05:26وہ یوسف علیہ السلام کے خاندان سے تھی
05:28اور بعض کے مطابق
05:29وہ ایک رئیس گھرانی کی شہزادی تھی
05:31ان کے والدین نے انہیں
05:32خوشحال زندگی دی تھی
05:33اور وہ نازو نام میں پلی بڑی تھی
05:35مگر جب حضرت عیوب علیہ السلام کی
05:37آزمائش کا وقت آیا
05:38تو انہوں نے اپنی تمام تر آسائشوں
05:40کو چھوڑ کر اپنے شہر کے ساتھ
05:41سبر و استقامت کا راستہ اختیار کیا
05:43حضرت عیوب علیہ السلام کی بیوی
05:45کی سب سے بڑی خوبی
05:46ان کی بے مثال محبت اور وفاداری تھی
05:48جب حضرت عیوب علیہ السلام مالدار تھے
05:50تب وہ ایک خوشحال زندگی گزار رہی تھی
05:52لیکن جب آزمائش کا وقت آیا
05:54تو انہوں نے اپنی تمام آسائشیں
06:05لوگ حضرت عیوب علیہ السلام کو چھوڑ کر چلے گئے
06:07انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی
06:09اپنے شہر کا ساتھ نہ چھوڑا
06:10وہ جانتی تھیں کہ آزمائش وقتی ہے
06:12اور اگر وہ ثابت قدم رہیں
06:14تو اللہ کی رحمت ضرور آئے گی
06:16حضرت عیوب علیہ السلام کی بیماری کے دوران
06:18ان پر ایسی آزمائشیں آئیں
06:19کہ عام انسان شاید برداشت نہ کر سکتا
06:21ان کے جسم پر زخم آگئے
06:23وہ کمزور ہو گئے
06:24اور انہیں شہر سے نکال دیا گیا
06:25اس وقت ان کی بیوی ہی واحد ہستی تھی
06:27جو ان کے ساتھ کھڑی رہی
06:28انہوں نے ہر تکلیف کو برداشت کیا
06:30لوگوں کے تانے سنے
06:32اپنے شہر کی تیمارداری کی
06:33اور دن رات ان کے خدمت میں مصوف رہی
06:35مگر جب انہیں کھانے کے لیے کچھ نہ ملا
06:38تب بھی وہ صبر کرتی رہی
06:39اور اللہ سے مدد مانگتی رہی
06:40حضرت عیوب علیہ السلام
06:42جب اپنی بیماری کی شدت کے باعث تنہا ہو گئے تھے
06:44تو قریبی رشتدار
06:45دوست یہاں تک کہ
06:46عام لوگ بھی ان کے قریب آنے سے کترانے لگے
06:48ہر شخص نے ان سے دوری اختیار کر لی
06:50لیکن ان کی بیوی نے کسی بھی حال میں
06:52ان کا ساتھ نہ چھوڑا
06:53انہوں نے خود ہر قسم کے مشکلات برداشت کی
06:55مگر حضرت عیوب علیہ السلام کے ساتھ رہیں
06:58یہاں تک کہ ایک وقت ایسا بھی آیا
06:59جب لوگوں نے ان پر تانے دینا بھی شروع کر دیئے
07:02مگر انہوں نے صبر کیا
07:03اور کبھی اپنی وفاداری میں کمی نہ آنے دی
07:05حضرت عیوب علیہ السلام کی بیماری کی شدت کے بعد
07:08ان کی بیوی کے پاس کوئی ذریعہ معاش نہ بچا
07:10کیونکہ ان کا سارا مال و دولت ختم ہو چکا تھا
07:12اس وقت انہوں نے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا شروع کیا
07:15تاکہ کچھ پیسے کما سکیں
07:16اور اپنے شہر کے لیے کھانے پینے کا بندوست کر سکیں
07:19وہ مختلف گھروں میں جا کر محنت مزدوری کرتیں
07:21کبھی کسی کے برطند ہوتیں
07:22کبھی کسی کے لیے کھانا بناتیں
07:24اور جو کچھ کماتیں وہ حضرت عیوب علیہ السلام کی خدمت میں لے آتیں
07:27لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا
07:28جب لوگوں نے ان کو کام دینا بھی بند کر دیا
07:30کیونکہ وہ حضرت عیوب علیہ السلام کی بیوی تھی
07:33اور لوگ ان کے شہر کی بیماری کو ناپسندیدہ سمجھنے لگے تھے
07:36یہاں تک کہ حالات اتنے خراب ہو گئے
07:38کہ روایت کے مطابق انہوں نے اپنی ایک چھٹیا بیش دی
07:41تاکہ حضرت عیوب علیہ السلام کے لیے کھانے کے انتظام کر سکیں
07:43جب حضرت عیوب علیہ السلام کو اس بات کا علم ہوا
07:45تو انہیں بہت افسوس ہوا
07:47کہ ان کی بیوی ان کی وجہ سے ایسی قربانی دے رہی ہے
07:49تب ہی انہوں نے اللہ سے دعا کی
07:51اور اللہ نے ان کی آزمائش ختم کر دی
07:53جب سب نے حضرت عیوب علیہ السلام کو چھوڑ دیا
07:55تب بھی ان کی بیوی نے ہر حال میں ان کا ساتھ دیا
07:57وہ ایک ایسی عظیم عورت تھیں
07:58جنہوں نے صبر وفداری اور قربانی کی وہ
08:01مثال قائم کی جو قیامت تک یاد رکھی جائے گی
08:03ان کی محبت اور استقامت کا سلاللہ نے
08:05یہ دیا کہ جب حضرت عیوب علیہ السلام کی آزمائش ختم ہوئی
08:08تو نہ صرف ان کی صحت بحال ہوئی
08:10بلکہ انہیں پہلے سے زیادہ دولت اور
08:13اولاد عطا کی گئی اور ان کی بیوی کو بھی
08:15پہلے سے زیادہ عزت اور وقار نصیب ہوا
08:16ناظرین واضح رہے کہ حضرت عیوب علیہ السلام کی آزمائش
08:19کا سلسلہ ایک طویل عرصے تک جاری رہا
08:21مال و دولت کی بربادی
08:23اولاد کی وفات اور بیماری کی شدت جیسے
08:24کٹھن مراحل کے باوجود
08:26انہوں نے کبھی اللہ کی رحمت سے
08:28مایوسی کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی
08:30کسی لمحے شکوا کیا
08:32مگر آزمائش کا یہ امتحان مزید سخت ہونا تھا
08:35ان کی بیوی نے بھی صبر اور استقامت
08:37کا بھرپور مظاہرہ کیا
08:38لیکن حالات ایسے بتر ہو گئے
08:40کہ ایک موقع پر وہ بھی مجبور ہو کر
08:41حضرت عیوب علیہ السلام سے دعا کی درخواست کرنے لگیں
08:44حضرت عیوب علیہ السلام کی بیماری اور کمزوری
08:46کے باعث لوگ ان سے دور ہونے لگے
08:47پہلے تو ان کے پاس آیا کرتے تھے
08:49ان سے برکت حاصل کرنے کی خواہش رکھتے تھے
08:51لیکن جب بیماری نے شدت اختیار کر لی
08:53تو ان کے قریب رشتدار دوست اور جاننے والے
08:55اکے کر کے انہیں چھوڑ کر چلے گئے
08:57یہاں تک کہ عام لوگ بھی ان سے نفت کرنے لگے
08:59شہر کے لوگ انہیں اچھوٹ سمجھنے لگے
09:01اور ان کے قریب آنے سے گھبرانے لگے
09:03آخر کار ان پر الزام لگایا جانے لگا
09:06کہ شاید ان پر کوئی آسمانی عذاب نازل ہوا ہے
09:08یا وہ کسی بڑے گناہ کی وجہ سے اس حالت میں ہے
09:10نتیجہ تن انہیں شہر سے باہر نکال دیا
09:13اور وہ تنہائی میں ایک کونے میں
09:14زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے
09:15ان کی بیوی جو پہلے گھروں میں
09:17کام کر کے گزر بسر کر رہی تھی
09:19اب انہیں کام ملنا بھی مشکل ہو گیا
09:20لوگ ان سے بھی نفت کرنے لگے
09:22اور یہ آزمائش اتنی شدید ہو گئی
09:24کہ ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ رہا
09:26یہ آزمائش کئی سالوں تک جاری رہی
09:28حضرت عیوب علیہ السلام مسلسل صبر اور شکر کے ساتھ
09:30اللہ کی عبادت کرتے رہے
09:31مگر جب حالات انتہاں سے زیادہ مشکل ہو گئے
09:34حضرت عیوب علیہ السلام کی بیوی بھی
09:35بہت کمزور ہو گئی
09:37تو انہوں نے ایک دن حضرت عیوب علیہ السلام سے عرض کیا
09:39اے عیوب آپ اللہ کے برگزیدہ نبی ہیں
09:41اگر آپ اللہ سے دعا کریں
09:43تو وہ ضرور آپ کی تکلیف دور کر دے گا
09:45یہ عام سی بات تھی مگر چونکہ حضرت عیوب علیہ السلام
09:47بہت صبر و استقامت کا مظاہرہ کر رہے تھے
09:49وہ نہیں چاہتے تھے کہ آزمائش کے مکمل ہونے سے پہلے وہ دعا کریں
09:52اس پر حضرت عیوب علیہ السلام نے قدر ناراضگی سے فرمایا
09:55اللہ نے ہمیں نعمتیں ستر سال دی تھی
09:57اگر ہم ستر سال آزمائش برداشت کر لیں
10:00تب ہی دعا مانگنے کے اقدار ہوں گے
10:02یہ جملہ اس بات کا اظہار تھا
10:03کہ وہ اللہ کی مرضی پر مکمل طور پر راضی تھے
10:05اور کسی صورت بے سبری کا اظہار نہیں کرنا چاہتے تھے
10:08مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا
10:10حالات مزید سنگین ہو گئے
10:12اور آخر کارب علمہ آیا
10:13جب حضرت عیوب علیہ السلام نے
10:18اللہ کی رحمت کی دعا کی
10:19جب آزمائش اپنی انتہا کو پہنچ گئی
10:22اور حضرت عیوب علیہ السلام کی بیوی بھی
10:24مزید مشکلات برداشت کرنے کے قابل نہ رہیں
10:26تب حضرت عیوب علیہ السلام نے
10:28اللہ سے انتہائی عاجزی کے ساتھ دعا کی
10:30جس کا تذکرہ ہم پہلے بھی کر چکے ہیں
10:32ناظرین یہ دعا مختصر مگر بے حد امیق تھی
10:35اس میں نہ کوئی شکوہ تھا
10:37نہ بے سبری
10:38بلکہ صرف اللہ کی رحمت کا اعتراف تھا
10:40جیسے ہی حضرت عیوب علیہ السلام نے یہ دعا کی
10:42اللہ تعالی کی رحمت جوش میں آئی
10:44اور ان کی طویل آزمائش کا خاتمہ ہونے والا تھا
10:47یہ دعا اس بات کی علامت ہے
10:48کہ جب انسان صبر اور استقامت کے ساتھ
10:50اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے
10:51تو اللہ اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے
10:53حضرت عیوب علیہ السلام کی یہ دعا
10:55آج بھی دنیا بھر کے مسلمان
10:57مسئبت کے وقت پڑھتے ہیں
10:58کیونکہ یہ
10:59اللہ پر کامل بھروسے اور صبر کی سب سے بہترین مثال ہے
11:03ناظرین یہ آزمائش حضرت عیوب علیہ السلام کے لئے ایک امتحان تھی
11:05مگر ساتھ ہی
11:06ان کی بیوی کے استقامت اور قربانی کی بھی آزمائش تھی
11:09جو ہر حال میں اپنے شہر کے ساتھ رہی
11:11اور کبھی ان کا ساتھ نہ چھوڑا
11:13ناظرین الغرض حضرت عیوب علیہ السلام کے آزمائش کئی سالوں تک جاری رہی
11:16لیکن ان کا صبر اور اللہ پر بھروسہ کبھی متزلزل نہ ہوا
11:19جب آزمائش اپنی انتہا کو پہنچی
11:21اور حضرت عیوب علیہ السلام کی بیوی بھی
11:23کمزوری اور تنگدستی کی وجہ سے مزید مشکلات جھیلنے کے قابل نہ رہی
11:27تب حضرت عیوب علیہ السلام نے اللہ تعالی سے رحمت کی دعا کی
11:30یہی وہ لمحہ تھا
11:31جب اللہ تعالی نے اپنی خاص رحمت کا نزول فرمایا
11:34اور حضرت عیوب علیہ السلام کی تکلیف کا خاتمہ ہوا
11:37حضرت عیوب علیہ السلام نے جب انتہای آجزی اور خشو کے ساتھ
11:41اللہ تعالی سے فریاد کی تو اللہ تعالی نے وہی نازل فرمائی
11:43اپنا پاؤں زمین پر مارو
11:45یہ ٹھنڈا پانی ہے نہانے اور پینے کے لیے
11:48سورہ سعاد آیت 42
11:50اللہ کے حکم کے مطابق
11:51حضرت عیوب علیہ السلام نے زمین پر پاؤں مارا
11:53تو ایک چشمہ جاری ہو گیا
11:54انہوں نے اس پانی سے غسل کیا
11:56اور اسے پیا جس سے ان کا جسم فوری طور پر صحت مند ہو گیا
11:59اور تمام بیماری ختم ہو گئی
12:01پھر ایک اور چشمہ جاری ہوا
12:03جس کے پانی سے نہانے کے بعد
12:04حضرت عیوب علیہ السلام کی کھوئی ہوئی طاقت
12:06اور جوانی بحال ہو گئی
12:07یہی وہ لمحہ تھا
12:08جب اللہ تعالی نے اپنے صابر بندے کی آزمائش کو ختم کر کے
12:11انہیں پہلے سے زیادہ نعمتوں سے نوازا
12:13اللہ تعالی نے نہ صرف حضرت عیوب علیہ السلام کو دوبارہ صحت عطا کی
12:16بلکہ انہیں پہلے سے زیادہ مال و دولت
12:18اور اولاد سے بھی نوازا
12:20قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں
12:22اور ہم نے انہیں ان کے اہل و آیال لوٹا دیئے
12:24اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور عطا کیے
12:27اپنی خاص رحمت سے
12:28اور عقل والوں کے لئے نصیحت کے طور پر
12:30سورہ سعاد آیت نمبر تیہ تالیس
12:32اس آیت کی تفسیر میں مفسرین بیان کرتے ہیں
12:35کہ اللہ تعالی نے حضرت عیوب علیہ السلام کی اولاد کو
12:37یا تو دوبارہ زندہ کر دیا
12:39یا انہیں پہلے سے زیادہ اولاد عطا کی
12:41ان کے کھیت باغات مبیشی
12:43سب کچھ پہلے سے زیادہ کر دیے گئے
12:45اور وہ دوبارہ خوشحال زندگی گزارنے لگے
12:47حضرت عیوب علیہ السلام کی بیوی نے
12:48ان کے آزمائش کے دوران
12:49بے پناہ صبر اور قربانی کا مظاہرہ کیا
12:51جب سب نے حضرت عیوب علیہ السلام کو چھوڑ دیا
12:54وہ واحد ہرستی تھی
12:55جو ان کے ساتھ کھڑی رہی
12:56ان کی خدمت کرتی رہی
12:57اور ہر حال میں ان کا ساتھ نبھایا
12:58اللہ تعالی نے
12:59ان کی اس بے مثال وفاداری کا صلاح بھی دیا
13:02جب حضرت عیوب علیہ السلام صحت مند ہو گئے
13:04اور انہیں دوبارہ عزت اور دولت ملی
13:06تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے
13:07مگر وہ انہیں پہچان نہ سکی
13:09کیونکہ اللہ تعالی نے حضرت عیوب علیہ السلام کو
13:11پہلے سے زیادہ جوان
13:12صحت مند اور خوبصورت بنا دیا تھا
13:14جب انہیں معلوم ہوا
13:15کہ یہ ان کے شوہر ہیں
13:16تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھیکانہ نہ رہا
13:18کہا جاتا ہے کہ ایک موقع پر
13:19حضرت عیوب علیہ السلام نے اپنے بیوی سے
13:21کسی بات پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا
13:23اور قسم کھائی تھی
13:24کہ وہ انہیں سزا دیں گے
13:25لیکن اللہ نے انہیں اجازت دی
13:27کہ وہ محض نرم سی علامتی سزا دیں
13:29تاکہ ان کی قسم بھی پوری ہو جائے
13:31اور بیوی کی عزت بھی برقرار رہے
13:32یہ حضرت عیوب علیہ السلام کی بیوی کے لیے
13:34اللہ کی طرف سے عزت اور انعام کا اظہار تھا
13:37کہ ان کے قربانیوں کو ضائع نہیں کیا گیا
13:39بلکہ انہیں دنیا اور آخرت میں
13:41بہترین مقام دیا گیا
13:42ناظرین حضرت عیوب علیہ السلام کی کہانی
13:44ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے
13:45کہ اگر ہم صبر کے ساتھ
13:46اللہ کی آزمائشوں کو جھیلیں
13:48اور اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں
13:50تو اللہ ہمیں ہمارے مشکلات سے نجات دے کر
13:52پہلے سے زیادہ نواز سکتا ہے
13:53یہ واقعہ ہمیں بھی سکھاتا ہے
13:55کہ وفداری اور قربانی کبھی رائے گا نہیں جاتی
13:57حضرت عیوب علیہ السلام کی بیوی کی محبت
14:00وفداری استقامت کی بدولت
14:01اللہ نے انہیں بھی ان کے صبر کا بہترین سلا دیا
14:04آزمائش کے بعد رحمت آتی ہے
14:06بس شرط یہ ہے
14:07کہ ہم اللہ پر بھروسہ رکھیں
14:08اور صبر کا دامن نہ چھوڑیں
14:10حضرت عیوب علیہ السلام اور ان کی بیوی کی زندگی
14:12ایک عظیم مثال ہے
14:13کہ مشکلات میں صبر
14:14اللہ پر بھروسہ
14:15اور میاں بیوی کے رشتے میں
14:17وفداری کس قدر اہمیت رکھتی ہے
14:19ان کی کہانی محض ایک تاریخی واقعہ نہیں
14:21بلکہ ہر دور کے انسانوں کے لئے
14:23ایک راہنما سبق ہے
14:24جو ہمیں سکھاتا ہے
14:25کہ آزمائشیں آتی ہیں
14:26مگر جو صبر اور وفداری کے ساتھ
14:28اللہ کی رضا میں راضی رہتے ہیں
14:30اللہ انہیں بے شمار نعمتوں سے نوازتا ہے
14:32ناظرین
14:33حضرت عیوب علیہ السلام کی زندگی
14:35آزمائش صبر
14:36اور اللہ کی رحمت کی ایک بے مثال داستان ہے
14:39ان کی بیوی نے بھی صبر و استقامت
14:41اور بے پناہ وفداری کا مظاہرہ کیا
14:42جو دنیا بھر کے خواتین کے لئے
14:44ایک مشہل راہ ہے
14:45اس کہانی سے ہمیں کئی عام اسباق ملتے ہیں
14:47حضرت عیوب علیہ السلام نے
14:48اپنی زندگی کی
14:49سب سے بڑی آزمائش کو صبر کے ساتھ جھیلا
14:51ان کا صبر ایک سچا پیغام دیتا ہے
14:53کہ جب مشکلات آتی ہیں
14:55تو بے صبری کے بجائے
14:56اللہ کی رضا میں راضی رہنا ہی
14:57سب سے بہترین راستہ ہے
14:59آزمائش چاہے کتنے ہی تبیل کیوں نہ ہو
15:01اگر ہم اللہ پر بھروسہ رکھیں
15:03تو بلاخر بہتری ضرور آتی ہے
15:05حضرت عیوب علیہ السلام کی
15:06سب کچھ کھو جانے کے بعد بھی
15:08اللہ پر امید اور یقین تھا
15:10کہ وہ انہیں آزمائش سے نکالے گا
15:12یہی سبق ہمیں سکھاتا ہے
15:13کہ جب سب دروازے بند ہو جائیں
15:15تب بھی اللہ پر یقین رکھنا چاہیے
15:17کیونکہ وہی سب کچھ لوٹانے والا ہے
15:19جو شخص اللہ کے فیصلے پر راضی رہتا ہے
15:21اللہ اسے ایسا عجر دیتا ہے
15:23جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوتا
15:24حضرت عیوب علیہ السلام کی بیوی نے
15:26ہر حال میں ان کا ساتھ دیا
15:27چاہے وہ بیماری کا وقت ہو
15:28غربت ہو
15:29یہ لوگ ان سے نفرت کرنے لگیں
15:31انہوں نے نہ صرف جذباتی طور پر
15:32بلکہ عملی طور پر بھی
15:33حضرت عیوب علیہ السلام کا ساتھ دیا
15:35محنت مزدوری کی
15:36اور ہر ممکن طریقے سے ان کا خیال رکھا
15:38یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے
15:39کہ سچی محبت
15:40اور وفاداری کا مطلب
15:42صرف خوشحالی کے ساتھ رہنا نہیں
15:43بلکہ مشکل وقت میں
15:44ایک دوسرے کا سہارہ بننا ہے
15:46حضرت عیوب علیہ السلام کی بیوی نے
15:48اپنی ضروریات
15:49آرام اور آسائش
15:50سب کچھ قربان کر دیا
15:51مگر شوہر کا ساتھ نہیں چھوڑا
15:53یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق
15:55جب کھانے کو کچھ نہ رہا
15:56تو انہوں نے اپنے بال تک بیش دیئے
15:57تاکہ حضرت عیوب علیہ السلام کے لئے
15:58کھانے کا بندوبست کر سکیں
16:00ناظرین زندگی میں
16:01مشکلات اور آزمائشیں آنا لازمی ہیں
16:03لیکن یہ مشکلات انسان کے ایمان
16:05اور رشتوں کا امتحان بھی ہوتی ہیں
16:07حضرت عیوب علیہ السلام کی کہانی
16:09ہمیں سکھاتی ہے
16:10کہ جو لوگ آزمائشوں میں ثابت قدم رہتے ہیں
16:12اللہ انہیں بے حد نوازتا ہے
16:14ہر شخص کی زندگی میں مشکلات آتی ہیں
16:16چاہے وہ صحت کی ہو
16:17مالی پریشانی ہو
16:18یا رشتوں کے مسائل
16:20حضرت عیوب علیہ السلام کی آزمائش
16:21ہمیں سکھاتی ہے
16:22کہ کبھی بھی
16:22اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے
16:25اگر ہم صبر کے ساتھ
16:26اللہ پر بھروسہ رکھیں
16:27تو آزمائش کے بعد
16:28اللہ ہمیں پہلے سے زیادہ نمازتا ہے
16:30آج کے دور میں
16:31معمولی مشکلات پر
16:32میاں بیوی کے تعلقات کمزور پڑ جاتے ہیں
16:34مگر یہ کہانی
16:35ہمیں یاد دلاتی ہے
16:36کہ مشکل وقت میں
16:37ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہی
16:51ناظر حضرت عیوب علیہ السلام
16:53اور ان کی بیوی کی کہانی
16:54محض ماضی کا ایک قصہ نہیں
16:55بلکہ یہ آج کے معاشرے کے لیے بھی
16:57بہت اہم سبق رکھتی ہے
16:59آج کے دور میں
17:00لوگ محبت اور رشتوں کو
17:01زیادہ تر فائدے
17:02اور آسائشوں کے ساتھ جوڑتے ہیں
17:04لیکن یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے
17:06لیکن یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے
17:07کہ سچے رشتے وہی ہوتے ہیں
17:08جو مشکل وقت میں قائم رہتے ہیں
17:10جب حالات خراب ہوتے
17:11ایک دوسرے کا ساتھ دینا
17:12اور قربانی دینا ہی
17:14اصل محبت کی پہچان ہے
17:15جب انسان مشکلات میں گھر جاتا ہے
17:17تو وہ اکثر مایوس ہو جاتا ہے
17:18لیکن حضرت عیوب علیہ السلام کی کہانی
17:20یہ سبق سکھاتی ہے
17:21کہ مشکل وقت ہمیشہ نہیں رہتا
17:23بس صبر اور دعا ضروری ہے
17:25جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں
17:27اللہ ان کے لیے راستے آسان کر دیتا ہے
17:29آج کے دور میں
17:30معمولی باتوں پر طلاق اور جدائی عام ہو چکی ہے
17:33مگر حضرت عیوب علیہ السلام کی بیوی کا کردار
17:35ہمیں سکھاتا ہے
17:36کہ سچا ساتھی وہی ہوتا ہے
17:37جو ہر حال میں برقرار رہے
17:39میاں بیوی کو چاہیے
17:40کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارہ بنے
17:42نہ کہ ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں
17:44ناظرین اسلام میں
17:45نیک وفادار اور صابر بیوی کو
17:46عظیم مرتبہ دیا گیا ہے
17:48قرآن و حدیث میں
17:49ایسی بیوی کی بے شمار فضیلتیں بیان کی گئی ہیں
17:51جو اپنے شوہر کی اطاعت گزار
17:53صابر اور فودار ہو
17:54ایک نیک بیوی نہ صرف شوہر کے لیے
17:56دنیا میں سکون کا ذریعہ بنتی ہے
17:57بلکہ آخرت میں بھی
17:58اس کے درجات کی بلندی کا سبب بن سکتی ہے
18:01رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
18:03دنیا ساری کی ساری فائدہ مند چیز ہے
18:06اور دنیا کی سب سے بہترین چیز
18:08نیک بیوی ہے
18:09مسلم 1467
18:11یہ حدیث واضح کرتی ہے
18:13کہ دنیا میں سب سے قیمتی دولت نیک بیوی ہے
18:15کیونکہ وہ شوہر کی دنیا اور آخرت
18:17دونوں کو سمارنے میں مددگار ہوتی ہے
18:19رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
18:22اگر عورت پانچ وقت کی نماز پڑے
18:24رمضان کے روزے رکھے
18:25اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے
18:27اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے
18:29تو اسے کہا جائے گا جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جا
18:32یہ حدیث نہ صرف عبادت کی اہمیت کو جاگر کرتی ہے
18:34بلکہ یہ بھی بتاتی ہے
18:35کہ ایک مومنہ کی زندگی میں
18:38نماز، روزہ، افت اور ازدواجی تعاون
18:40کس قدر مانی خیز ہیں
18:41پانچ وقت کی نماز اللہ کے ساتھ
18:44مستقل رابطے کا ذریعہ ہے
18:45جو دل کو سکون اور روح کو تقویت بخشتی ہے
18:50جبکہ رمضان کے روزے نہ صرف جسمانی پاکیزگی کا سبب بنتے ہیں
18:53بلکہ نفس کی تربیت
18:54اور تقوی کی افضائش میں بھی
18:56مددگار ثابت ہوتے ہیں
18:58اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنا
19:00ایک اخلاقی فرض ہے
19:01جو ذاتی وقار اور معاشرتی عزت کو برقرار رکھتا ہے
19:03اور شوہر کی اطاعت
19:05ایک خوشگوار اور بامقصد ازدواجی زندگی کی زمانت ہے
19:08جس سے خاندان میں اتحاد اور محبت کو فروغ ملتا ہے
19:11ان تمام آمال کے ادائیگی نصف
19:13دنیاوی زندگی میں سکون اور کامیابی کا باعث بنتی ہے
19:16بلکہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے
19:18بے مثال جزا اور جنت میں داخلے کا عزاز بھی عطا کرتی ہے
19:22اس طرح یہ حدیث ہمیں یہ درست دیتی ہے
19:24کہ ایک مومنہ کے لئے
19:25عبادات اور اخلاقی فرائز کی پابندی
19:27انفرادی اور اجتماعی زندگی
19:29دونوں میں برکت اور کامیابی کا سبب بنتی ہے
19:32قرآن مجید کی سورہ روم کی آیت اکس میں
19:34اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے
19:36ایک عظیم نشانی محبت
19:37ایک عظیم نشانی محبت
19:39اور رحمت بیان کیا گیا ہے
19:41اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس نے تمہارے لئے
19:43تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کی
19:45تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو
19:47اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت قائم ہو جائے
19:50اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے
19:51کہ ازدباجی زندگی کا بنیادی مقصد
19:53ایک دوسرے میں محبت رحمت اور سکون
19:55تلاش کرنا ہے
19:56ایک نیک وفدار بیوی نہ صرف
19:58اپنے شہر کے دل کو روحانی تسکین فراہم کرتی ہے
20:02بلکہ وہ گھر کو امن
20:03تعاون اور روحانیت کا مرکز بنا دیتی ہے
20:05اس کا کردار محض ذاتی سطح پر محدود نہیں
20:08بلکہ وہ معاشرے میں ایک محضبت مثال قائم کرتی ہے
20:10جہاں خاندان نظام کی مضبوطی
20:12اور باہمی اعترام سے
20:14زندگی کی رونک دوبالہ ہو جاتی ہے
20:16ایسی بیوی اپنے کردار
20:18اور اخلاق کے ذریعے شہر کے لیے
20:19ہر قسم کی پریشانی کو دور کر کے
20:28ان کی فلاح و بہبود میں
20:29اہم کردار ادا کرتا ہے
20:31ایک جگہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
20:34جس مرد کو نیک بیوی مل جائے
20:37اللہ نے اس کی آدھے دین کی حفاظت کر دی
20:39باقی آدھی اس کے لیے
20:41باقی آدھی کے لیے
20:42اسے چاہیے کہ وہ اللہ سے ڈرے
20:44مصطدرے کا حاکم 2681
20:47یہ حدیث اس بات کو واضح کرتی ہے
20:49کہ نیک بیوی شہر کی دینداری
20:51اور نیکی میں مددگار ثابت ہوتی ہے
20:53وہ اپنے گھر کو دینداری
20:55صبر اور سکون کا گہوارہ بناتی ہے
20:57اسلام میں حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی کی
20:59مثال واضح پیغام دیتی ہے
21:00کہ بیوی کو ہر حال میں اپنے شہر کے ساتھ
21:03وفادار اور صابر رہنا چاہیے
21:04جب حضرت ایوب علیہ السلام پر سخت آزمائش آئی
21:07سب نے انہیں چھوڑ دیا
21:08مگر ان کی بیوی نے صبر قربانی اور محنت کے ساتھ
21:11ان کا ساتھ دیا
21:13آخرکار اللہ نے ان کی آزمائش کو دور کر دیا
21:15اور انہیں انعامات سے نبازا
21:17مشکل وقت میں شہر کا ساتھ دینا
21:19بیوی کی اصل وفاداری اور محبت کی نشانی ہے
21:22اسلام نے عورت کو صرف نیک ہونے کا حکم نہیں دیا
21:24بلکہ اس کی حقوق اور عزت کا بھی مکمل تحفظ کیا
21:27نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
21:30تم میں سے سب سے بہتین
21:32وہ شخصے جو اپنی بیوی کے ساتھ سب سے اچھا ہے
21:34اور میں اپنی بیویوں کے ساتھ سب سے اچھا ہوں
21:42ناظرین یہ حدیث ثابت کرتی ہے
21:44کہ اسلام میں نیک بیوی کی قدر و منزلت بہت زیادہ ہے
21:47اور شہر کو بھی چاہیے
21:48کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرے
21:50ایک اور جگہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
21:54قیامت کے دن نیک اور وفادار بیویوں کو
21:56جنت میں ان کے شہروں کے ساتھ رکھا جائے گا
21:58اگر وہ دونوں اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزاریں
22:01یہ ثابت کرتا ہے
22:03کہ اگر شہر اور بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں
22:05صبر اور محبت سے زندگی گزاریں
22:07تو جنت میں بھی وہ ایک ساتھ رہیں گے
22:09اسلام نے شہر اور بیوی کے درمیان
22:11ایک مضبوط شراکتداری اور تعبون کو فروغ دیا ہے
22:14بیماری اور غربت جیسے
22:15سخت حالات میں عورت کا کردار
22:17نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے
22:18بیماری کے دوران عورت کو چاہیے
22:20کہ وہ شہر کی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال رکھے
22:23اس میں دواء دینا
22:24آرام کا بندوبست کرنا
22:26اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے
22:28مسلسل موجود رہنا شامل ہے
22:29شفقت اور محبت سے بھرپور نگداش
22:31نہ صرف بیماری کا اثر کم کرتی ہے
22:33بلکہ شہر کو حوصلہ اور سکون بھی فراہم کرتی ہے
22:35مشکلات کے وقت ایمان کو مضبوط بنانا ضروری ہے
22:38عورت کو چاہیے کہ وہ شہر کے ساتھ دعا کرے
22:41اللہ کی رحمت و شفایابی کی طلبگار رہے
22:43اور اسے بھی یقین دلائے کہ یہ آزمائش وقتی ہے
22:47روحانی حمایت اور مضبط رویہ
22:48دونوں کی زندگی میں امید کی کرن بن کر سامنے آتے ہیں
22:52ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
22:54ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
22:56ضرور پسند آئی ہوگی
22:57اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہے
22:59تو آپ سے گزارش کرتے ہیں
23:00کہ آپ ہمارے چینل کو ضرور سبسکرائب کر لیں
23:03اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
23:05تاکہ آپ کے پاس ہماری آنے والی
23:07مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹفکیشن
23:09بروقت ملتا رہے
23:10سبسکرائب کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
23:12اور اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمیٹس میں ضرور کریں
23:15کمیٹس میں آپ اپنے سوالات بھی ہم تک پہنچا سکتے ہیں
23:18اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظ زمان میں رکھے
23:20آمین
Comments

Recommended