Hazrat Yahya (A.S) Ki Shahadat Ka Waqia | Prophet Yahya (Pbuh) and King | Noor TV
Hazrat Yahya (AS) — ek azeem paighambar, jo Hazrat Zakariya (AS) ke bete aur Hazrat Isa (AS) ke rishtedaar thay. Allah ne unhein ilm, hikmat, aur taqwa se nawaza tha jab woh sirf ek bachpan mein thay. Unka zindagi ka sabse bara imtihaan tha haq aur batil ke darmiyan khula muqabla.
Hazrat Yahya (AS) ne ek badshah ko uske haram kaam (ghair shari nikaah) se roka. Badshah ne unki baat se gussa mein aakar unki shahadat ka hukm de diya. Yeh qurbani Islam ki tareekh mein sabr, haq aur imaan ki misaal ban gayi.
Is Video Mein Aap Jaan Sakein Ge:
✅ Hazrat Yahya (AS) ka nasab aur unki nabuwwat ka aghaaz
✅ Unka ta’alluq Hazrat Zakariya (AS) aur Hazrat Isa (AS) se
✅ Zalim badshah ka haram kaam aur Yahya (AS) ka rad-e-amal
✅ Shahadat ka waqia aur is se milne wala sabq
Hazrat Yahya (AS) Se Milne Wale Sabaq:
📖 Haq kehna chaahe jaan ka khatra ho
🕊️ Sabr aur tawakkul har paighambar ka asal silah hai
🔥 Zulm kabhi dair pa nahi rehta – Allah insaaf karta hai
Yeh video un sab logon ke liye hai jo imaan, sachchai aur haq ke raste par chalna chahte hain. Hazrat Yahya (AS) ki zindagi har musalman ke liye ek roshni ka chiraag hai.
📢 Like, Share & Subscribe 💖
🔔 Bell Icon Dabayein Taake Aapko Har Nayi Islamic Video Ki Update Milti Rahein
#HazratYahyaAS #ProphetYahya #ShahadatKaWaqia #IslamicHistory #NoorTV #QuranAurHadees #PaighambaronKiKahani #TruthVsInjustice #YahyaAurBadshah #IslamicTeachings
Hazrat Yahya (AS) — ek azeem paighambar, jo Hazrat Zakariya (AS) ke bete aur Hazrat Isa (AS) ke rishtedaar thay. Allah ne unhein ilm, hikmat, aur taqwa se nawaza tha jab woh sirf ek bachpan mein thay. Unka zindagi ka sabse bara imtihaan tha haq aur batil ke darmiyan khula muqabla.
Hazrat Yahya (AS) ne ek badshah ko uske haram kaam (ghair shari nikaah) se roka. Badshah ne unki baat se gussa mein aakar unki shahadat ka hukm de diya. Yeh qurbani Islam ki tareekh mein sabr, haq aur imaan ki misaal ban gayi.
Is Video Mein Aap Jaan Sakein Ge:
✅ Hazrat Yahya (AS) ka nasab aur unki nabuwwat ka aghaaz
✅ Unka ta’alluq Hazrat Zakariya (AS) aur Hazrat Isa (AS) se
✅ Zalim badshah ka haram kaam aur Yahya (AS) ka rad-e-amal
✅ Shahadat ka waqia aur is se milne wala sabq
Hazrat Yahya (AS) Se Milne Wale Sabaq:
📖 Haq kehna chaahe jaan ka khatra ho
🕊️ Sabr aur tawakkul har paighambar ka asal silah hai
🔥 Zulm kabhi dair pa nahi rehta – Allah insaaf karta hai
Yeh video un sab logon ke liye hai jo imaan, sachchai aur haq ke raste par chalna chahte hain. Hazrat Yahya (AS) ki zindagi har musalman ke liye ek roshni ka chiraag hai.
📢 Like, Share & Subscribe 💖
🔔 Bell Icon Dabayein Taake Aapko Har Nayi Islamic Video Ki Update Milti Rahein
#HazratYahyaAS #ProphetYahya #ShahadatKaWaqia #IslamicHistory #NoorTV #QuranAurHadees #PaighambaronKiKahani #TruthVsInjustice #YahyaAurBadshah #IslamicTeachings
Category
📚
LearningTranscript
00:00. . . . .
00:02حضرت یحییٰ علیہ السلام
00:04اللہ کے خوف میں رونے والے نبی
00:06کبھی سوچا ہے کوئی شخص اتنا روئے کہ اس کے آنسو رخصار پر نشان چھوڑ جائیں
00:11کوئی نبی جو دن رات اللہ کے خوف سے لرستا رہے
00:14جس کی عبادت زمین کو بھیگو دے
00:15اور جس کی سچائی ظالموں کو برداشت نہ ہو
00:17یہ ہے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی حیران کن اور ایمان افروز داستان
00:22بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:24السلام علیکم رحمت اللہ وبرکاتہ
00:27ناظرین کبھی آپ نے کسی کو اتنا روتے دیکھا ہے کہ اس کے آنسو رخصار پر نشانات چھوڑ جائیں
00:32کبھی کسی کو اللہ کے خوف سے کھاپتے اور لرستے دیکھا ہے
00:35کہ اس کی راتیں سجدوں میں اور دن نصیحت اور عبادت میں گزریں
00:39کہ آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کیسا ہوگا وہ دل جو ہر لمحہ اللہ کی عظمت کے احساس سے
00:44لرزا ہو
00:45جس کے ہر سانس میں آخرت کا خوف اور جس کے آنسو زمین کو بھیگو دیں
00:49یہ ہے حضرت یحییٰ علیہ السلام
00:51جن کی پاکیزہ زندگی ہمیں اللہ کی محبت اس کے خوف اور دنیا کی بے ثباتی کا درست دیتی ہے
00:58آج ہم ان کی زندگی کے وہ گوشے کھولیں گے جنہیں جان کر دل کانپ اٹھے
01:02روح جھنجوڑ دی جائے اور آنکھیں نم ہو جائیں
01:05ہم ان کے بچپن کی معصومیت ان کی جوانی کے تقوی
01:08ان کی راتوں کی عبادت اور ان کے سجدوں کے آسوں کو محسوس کریں گے
01:12ہم دیکھیں گے کہ کیسے ایک انسان جو اللہ کا چنا ہوا نبی تھا
01:16اس دنیا میں بسنے کے باوجود اس دنیا سے بے نیاز تھا
01:19اور کیسے اس نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کے قرب اور اس کے خوف میں گزارا
01:23یہ وہ نبی تھے جنہیں دنیا کی رغبت نہ تھی
01:25جو محلات کی چمک دمک کو چھوڑ کر تنہائی میں اللہ کو یاد کرتے
01:29جن کی آنکھیں ہر وقت عشق بار اور دل آخرت کے خوف سے بے چین رہتا
01:34وہ حق گوئی میں بے مثال تھے
01:35اور ظالموں کے سامنے کلمہ حق بلند کرتے رہے
01:38یہاں تک کہ اسی راہ میں اپنی جان قربان کر دی
01:41یہ محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک سبق ہے
01:43دنیا کی بے ثباتی آخرت کی تیاری اور اللہ کی حقیقی خوف کا سبق
01:48اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا دل بھی خشیت الہی سے معامور ہو
01:52تو اس ویڈیو کو آخر تک دیکھیں
01:53کیونکہ آج ہم حضرت یحیٰ علیہ السلام کی بابر کا زندگی کی
01:57وہ جھلکیاں دیکھیں گے جو ایمان والوں کے دلوں کو جھنجوڑ کر رکھ دیں گی
02:01ناظرین حضرت یحیٰ علیہ السلام ایک برگزیدہ نبی تھے
02:04جن کے پیدائش خود ایک معجزہ تھی
02:06ان کے والد حضرت ذکریہ علیہ السلام بھی اللہ کے نبی تھے
02:08جو اپنی پوری زندگی اللہ کی عبادت اور اس کے دین کی تبلیغ میں گزار چکے تھے
02:13مگر ان کے دل میں ایک تمنہ تھی
02:15ایک ایسی تمنہ جو ہر نیک انسان کے دل میں ہوتی ہے
02:18کہ ان کے بعد کوئی ایسا بیٹا ہو جو اللہ کا دین سر بلند رکھے
02:21اس کے حکامات کو پھیلائے اور قوم کو ہدایت کی روشنی عطا کرے
02:24لیکن وقت گزر چکا تھا
02:26عمر ڈھل چکی تھی
02:27بال سفید ہو چکے تھے
02:29اور ان کی اہلیہ بانجھ تھی
02:31اولاد کی کوئی ظاہری امید باقی نہ تھی
02:33لیکن امید کا چراغ اس وقت بھی جلتا رہا
02:36جب دنیا کے اسباب ختم ہو چکے تھے
02:38کیونکہ وہ جانتے تھے
02:39کہ جس ذات کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے
02:41اس کے لئے کچھ بھی نہ ممکن نہیں
02:43ایک رات حضرت ذکریہ علیہ السلام نے
02:45نہایت خلوص دل سے
02:46اللہ کے حضور دعا کی
02:47اے میرے پروردگار
02:49مجھے اپنی رحمت سے ایک سہل وارث عطا فرما
02:51جو میرے بعد تیری کتاب
02:53اور تیرے دین کی تعلیم کو جاری رکھے
02:55یہ وہ دعا تھی جو
02:56دل کی گہرائیوں سے نکلی تھی
02:58ایک بے بس مگر پر امید دل کی پکار تھی
03:00اور اللہ نے اس پکار کو رد نہ کیا
03:03ایک دن حضرت ذکریہ علیہ السلام
03:04اپنی عبادتگاہ میں مہوے عبادت تھے
03:06کہ اچانک فرشتے نہ کر
03:07انہیں خوشخبری سنائی
03:08اے ذکریہ
03:09ہم تمہیں ایک بیٹے کی بشارت دیتے ہیں
03:11جس کا نام یحیاء ہوگا
03:13یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہ تھا
03:15اور نہ اس کے بعد کوئی اس جیسا ہوگا
03:17یہ سن کر
03:18حضرت ذکریہ علیہ السلام حیرت میں پڑ گئے
03:20وہ جانتے تھے کہ
03:21اللہ ہر چیز پر قادر ہے
03:22مگر انسانی سوچ بہرحال محدود ہوتی ہے
03:24انہوں نے عرض کیا
03:25اے میرے رب
03:26میں بڑھا ہو چکا ہوں
03:27میری ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں
03:29میرا سر بڑھاپے سے سفید ہو چکا ہے
03:31اور میری بیوی بانجھ ہے
03:32پھر میرا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے
03:34اللہ تعالیٰ نے فرمایا
03:35یہ میرے لئے آسان ہے
03:37میں نے اس سے پہلے بھی
03:38تجھے پیدا کیا
03:39جب تو کچھ بھی نہ تھا
03:41یہ اللہ کی قدرت کا ایک عظیم مظہر تھا
03:43تمام دنیاوی اسباب کے ختم ہونے کے باوجود
03:45اللہ نے
03:46حضرت ذکریہ علیہ السلام کے دعا قبول کی
03:48اور انہیں ایک بیٹا تا کیا
03:50جو نہ صرف نبی تھا
03:51بلکہ ایک عظیم المرتبت ہستی تھی
03:53جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی کیا گیا ہے
03:55حضرت یحییٰ علیہ السلام کا نام خود اللہ نے رکھا
03:58اور یہ انفرادت کسی اور نبی کو نصیب نہ ہوئی
04:00حضرت یحییٰ علیہ السلام کی ولادت ہی غیر معمولی تھی
04:03اور ان کے زندگی بھی عام انسانوں جیسی نہ تھی
04:05وہ بچپن ہی سے غیر معمولی شخصیت کے مالک تھے
04:08ان میں وہ تمام خوبیاں موجود تھیں
04:10جو ایک نبی کے لئے ضروری ہوتی ہیں
04:11قرآن میں ان کے بارے میں فرمایا گیا
04:13اے یحییٰ
04:15ہم نے تجھے بچپن میں ہی حکمت اتا کر دی
04:17اور تجھے نرم دل اور پاکیزہ بنایا
04:19اور تُو ہمیشہ متقی رہا
04:21سورہ مریم آیت بارہ تیران
04:23یہ اللہ کی طرف سے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے
04:25مقام و مرتبے کی سب سے بڑی گواہی تھی
04:27وہ دنیا کی محبت سے بالکل بے نیاز تھے
04:30ان کا دل ہر وقت اللہ کے ذکر میں لگا رہتا
04:32اور ان کا چہرہ ہمیشہ خشیت الہی سے تر رہتا
04:35ان کے بچپن ہی سے عبادت اور زہد کی ایسی مثالیں قائم ہوئیں
04:39جو آنے والی نسلوں کے لئے روشنی کا مینار بن گئیں
04:41حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بچپن میں ہی نبوت عطا کی گئی
04:44اور وہ اس کم عمری میں بھی اپنی قوم کے لئے ہدایت کا ذریعہ بن گئے
04:48لوگ ان کے پاس آ کر نصیحت طلب کرتے
04:50اور وہ انتہائی حکمت اور نرمی سے انہیں دین کی باتیں سکھاتے
04:53ان کی زبان میں ایسی تاثیر تھی کہ سخت دل انسان بھی
04:56ان کے نصیحتوں کو سن کر نرم پڑ جائے
04:58وہ اپنے والد حضرت ذکریہ علیہ السلام کی طرح
05:00ہر لمحہ اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے
05:02اور ہر وقت اللہ کی رضا کے طلبگار رہتے
05:05یہی وہ خصوصیات تھیں جنہوں نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو
05:08دیگر نبیوں سے ممتاز کیا
05:10ان کے پیدائش ایک معزہ تھی
05:12ان کے زندگی اللہ کے خوف عبادت اور زہد کی ایک بے مثال داستان تھی
05:16اور ان کی شہدت تاریخ کے علمناک واقعات میں سے ایک ہے
05:20جو ظلم کے خلاف استقامت اور سچائی کی سربلندی کا پیغام دیتی ہے
05:24ناظرین حضرت یحییٰ علیہ السلام کو
05:26اللہ تعالیٰ نے بچپنی سے غیر معمولی صفات سے نوازا تھا
05:29قرآن مجید میں ان کا ذکر بڑی عزت و تقریم کے ساتھ کیا گیا ہے
05:33اور انہیں حکمت زہد و تقوی میں منفرد قرار دیا گیا
05:36وہ کم عمری ہی سے عبادت گزار تھے
05:38دنیا بھی کھیل تماشوں سے دور رہتے
05:40اور ہمیشہ اللہ کی یاد میں مشغول رہتے
05:42ان کا دل ہر وقت اللہ کے خوف سے لرزاں رہتا
05:45اور وہ لوگوں کو نیکی اور پرحزگاری کے تلقین کرتے
05:48ان پر اللہ کی خاص رحمت تھی
05:50جس کی بدولت وہ پاکیزہ اور گناہوں سے محفوظ زندگی بسر کرتے
05:54ان کی طبیعت میں انتہائی سادگی
05:55ان کے ساری اور خشیتِ الٰہی پائی جاتی تھی
05:58اور وہ ہر لمحہ اللہ کی رضا کے طالب رہتے
06:01ان کا لباس سادہ خوراک محدود
06:03اور طرز زندگی دنیاوی لذتوں سے بالکل خالی تھا
06:06کیونکہ ان کی نظر ہمیشہ آخرت پر مرکوز رہتی
06:09حضرت یحییٰ علیہ السلام کی زندگی
06:11اللہ کی خوف اور کسرتِ گریہ کی ایک مثال ہے
06:13جس میں آجزی خشو اور تقوی کا ایسا رنگ جھلگتا ہے
06:17جو ہر صاحبِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ ہے
06:19وہ ان برگزیدہ نبیوں میں سے تھے
06:21جن کے دل ہر لمحہ اللہ کی عظمت کے احساس سے لرزا رہتے
06:25اور جن کی راتیں سجدوں اور دعاؤں اور آسوں میں بسر ہوتی
06:28روایت ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے
06:31تو ان کی روح اللہ کے خوف میں ڈوب جاتی
06:33وہ اس قدر خلوس و خشو سے روتے
06:36کہ ان کے آنسو بہتے بہتے ان کے جائے نماز تر ہو جاتی
06:39وہ اپنے خالق کی بارگاہ میں اتنی آجزی
06:41اور ان کے ساری کے ساتھ دعا کرتے
06:43کہ دیکھنے والے بھی بے اختیار رو پڑتے
06:45ان کے رونے میں صرف خوف نہیں تھا
06:47بلکہ اللہ کی بے پناہ محبت
06:48اور اس کی رحمت کی طلب بھی شامل تھی
06:51وہ اللہ کی قہر سے لرستے ضرور تھے
06:53مگر اس کی رحمت کے بھی امیدوار تھے
06:55وہ جانتے تھے کہ اللہ کی پکڑ سخت ہے
06:57لیکن اس کی رحمت اس کے غزب پر غالب آتی ہے
07:00اس لئے وہ ہر وقت مغفرت اور رضا کے طلبگار رہتے
07:03حضرت یحییٰ علیہ السلام کا دن بھی
07:04ذکر الہی عبادت اور نصیحت میں گزرتا تھا
07:07جب بھی کسی محفل میں آخرت
07:09حساب و کتاب یا جہنم کا ذکر آتا
07:11ان پر شدید کپ کپی تاریح ہو جاتی
07:13اور وزار و قطار رونے لگتے
07:15وہ دنیا کی حقیقت کو خوب سمجھتے تھے
07:17جانتے تھے کہ یہ زندگی آرزی ہے
07:19اور اصل زندگی وہ ہے جو قیامت کے بعد شروع ہوگی
07:22یہی سوچ کر وہ ہمیشہ
07:23آخرت کی تیاری میں مشغول رہتے
07:25بعض روایات میں ذکر ملتا ہے
07:27کہ ان کے آنسو اتنے زیادہ بہتے
07:29کہ ان کے رخصار پر مستقل نشانات پڑھ چکے تھے
07:31ان کے آنسو گواہی دیتے تھے
07:33کہ وہ اللہ کی حضور حقیقی آجزی
07:35اور خشیت کا نمونہ تھے
07:37حضرت یعیہ علیہ السلام کی خشیت کا عالم یہ تھا
07:39کہ وہ جب کسی وادی میں سے گزرتے
07:42وہاں کے درخت اور پرندے بھی
07:43ان کی عبادت سے متاثر ہوتے
07:45جب وہ اللہ کی حمد و سنہ کرتے
07:46تو ایسا محسوس ہوتا
07:47کہ پوری فضاء میں
07:49ایک روحانی کیفیت تاریح ہو گئی ہو
07:51روایت میں ہے
07:51کہ جب وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے
07:53تو پرندے بھی اپنی آوازیں بند کر لیتے
07:55گویا وہ بھی ان کی فریاد سن رہے ہوں
07:57گویا وہ بھی ان کی فریاد کو سن رہے ہوں
08:01ان کا دل اللہ کی محبت
08:03اور اس کے خوف میں اتنا ڈوبا ہوا تھا
08:05کہ وہ اپنی پاکیزہ
08:06اور معصومانہ زندگی کے باوجود
08:08خود کو کسی عام گنہگار انسان سے
08:11کم نہیں سمجھتے تھے
08:12وہ ہر لمحہ اللہ کی مغفرت کے طلبگار رہتے
08:14اپنی ہر سانس میں استغفار کرتے
08:16اور ہر پل اللہ کی رحمت کے امیدوار بنے رہتے
08:19حضرت یحیلی علیہ السلام کا یہ انداز زندگی
08:22ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیق کامیابی
08:23دنیا کی محبت میں گرفتار ہونے میں نہیں
08:26بلکہ اللہ کی محبت
08:27اور اس کے خوف میں جینے میں ہے
08:29وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جو دل
08:30اللہ کے خوف سے کامتا ہے
08:32جو آنکھیں اس کی خشیت میں آنسو بہاتی ہیں
08:34وہ قیامت کے دن عذاب سے محفوظ رہیں گی
08:36ان کی زندگی ایک عملی درس ہے
08:39کہ اگر کوئی شخص اللہ سے محبت کرتا ہے
08:41تو وہ اس کی نافرمانی سے بھی ڈرتا ہے
08:43یہی خوف یہی عشق
08:44اور یہی قرب الہی کا جذبہ تھا
08:46جس نے حضرت یحیلی علیہ السلام کو
08:48ایک عظیم نبی کا درجہ دا کیا
08:50ایک مرتبہ حضرت یحیلی علیہ السلام کے پاس
08:52کچھ لوگ آئے اور ان سے سوال کیا
08:54آپ اللہ کے برگزیدہ نبی ہیں
08:56معصوم ہیں گناہوں سے پاک ہیں
08:58پھر آپ اتنا کیوں زیادہ روئے
08:59اللہ سے اس قدر کیوں ڈرتے ہیں
09:01یہ سوال سن کر حضرت یحیلی علیہ السلام کا چہرہ
09:04مزید سنجیدہ ہو گیا
09:05ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے
09:06اور ان کے لبوں پر ایک مسکرہت حبری
09:08جس میں دنیا کی بے ثباتی
09:10اور آخرت کی حقیقت کا گہرہ ادراک تھا
09:12وہ کچھ لمحے خاموش رہے
09:14پھر نہایت آجزی سے سر جھکا کر جواب دیا
09:16میرے مثال اس بندے کسی ہے
09:18جس کے سامنے جنت اور جہنم دونوں رکھی گئی ہوں
09:21اور اسے کہا جائے کہ چل لو
09:23میں کیسے بے خوف ہو سکتا ہوں
09:25جب تک مجھے یقین نہ ہو جائے
09:27کہ میرا رب مجھ سے راضی ہے
09:28میں کیسے مطمئن ہو جاؤں
09:29یہ کہہ کر وہ شدت سے رونے لگے
09:32ان کے سسکیاں پزا میں گونجنے لگیں
09:34ان کے آنسو رخصاروں پر بہتے چلے گئے
09:36اور ان کی لرستی آواز سن کر
09:38محفر میں موجود سب لوگ ساکت ہو گئے
09:41ان کے گریہ کی شدت نے
09:43ہر دل کو جھنجوڑ کر رکھ دیا
09:44وہ جو ہنسی مزاک میں مشغول تھے اچانک خاموش ہو گئے
09:47وہ جو اپنے گناہوں میں غافل تھے
09:49ان کے آنکھوں میں ندامت کے آنسو آ گئے
09:51حضرت یحیٰ علیہ السلام کا جواب
09:53ایک ایسی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے
09:54جو عام لوگ بھول جاتے ہیں
09:56وہ اللہ کے برگزیدہ نبی ہونے کے باوجود
09:58کبھی اپنی نیکیوں پر غرور نہیں کرتے تھے
10:01وہ ہمیشہ آخرت کی فکر اور اللہ کی عظمت
10:03کے احساس میں ڈوبے رہتے
10:04انہیں معلوم تھا کہ جنت کوئی معمولی نام نہیں
10:07اور جہنم کی حول نہ کی صرف سننے کی چیز نہیں
10:09بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے
10:10جس سے پناہ مانگنی چاہیے
10:12وہ جانتے تھے کہ جو شخص اللہ کی رضا
10:14کے بغیر دنیا سے رخصت ہو جائے
10:16وہ کتنی بڑی محرومی میں مبتلا ہوگا
10:18یہ احساس انہیں لمحہ بلمحہ
10:20اللہ کے حضور جھکنے اور اس کی رحمت کے
10:22طلبگار بننے پر مجبور کرتا تھا
10:24ان کی ساجزی اور خشیت نے ہزاروں دلوں کو نرم کر دیا
10:27جو لوگ ان سے اللہ کی محبت اور خوف کے بارے میں
10:30سوال کرنے آئے تھے وہ خود بھی سجدے میں گر کر
10:32استغفار کرنے لگے
10:33ان کے آنسو ان کے الفاظ اور ان کی لرستی ہوئی آواز
10:36نے سب کو یہ سبق دے دیا
10:38کہ اللہ کے نیک بندے
10:39اپنی نیکیوں پر اتراتے نہیں
10:41بلکہ ہر لمحہ اللہ کی رضا کے لئے فکر مند رہتے ہیں
10:44وہ دنیا کے فریب میں مبتلا نہیں ہوتے
10:46بلکہ ہر وقت اپنے رب کے سامنے جھکنے
10:49اور اس کی مغفرت کی طلب میں رہتے ہیں
10:50یہی وہ کیفیت ہے جو
10:52حضرت یحییٰ علیہ السلام کی زندگی کا
10:54سب سے روشن پہلو تھی
10:55ایک دن حضرت یحییٰ علیہ السلام
10:57ایک بڑے مجمع میں واضح فرما رہے تھے
10:59وہ ہمیشہ لوگوں کو اللہ کی اطاعت کی تلقین کرتے
11:01اور انہیں نافرمانی کے انجام سے خبردار کرتے تھے
11:04مگر اس دن ان کے الفاظ میں خاص درد اور شدت تھی
11:07ان کا چہرہ نورانی مگر سنجیدہ تھا
11:10آنکھوں میں خشیت الہی کی جھلک نمائی تھی
11:12اور زبان سے نکلنے والے الفاظ
11:15براہ راز دلوں میں اثر کر رہے تھے
11:17وہ لوگوں کو گناہوں کے نقصانات
11:18اور آخرت کی سختیوں کے بارے میں آگاہ کر رہے تھے
11:21جب انہوں نے جہنم کے عذاب
11:22اور اللہ کی نافرمانی کے حولناک نتائج کا ذکر کیا
11:25تو ان کی آواز بھر رہ گئی
11:26ایک لمحے کے لیے وہ خاموش ہو گئے
11:28جیسا الفاظ ساتھ چھوڑتے گئے ہوں
11:30پھر اچانک ان پر شدید لرزہ تاری ہو گیا
11:32اور وہ خود پر قابو نہ رکھ سکے
11:34وہ آسمان کی طرف دیکھنے لگے
11:35آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے
11:37اور وہ زار و قطار رونے لگے
11:39ان کی ہشکیاں بند گئیں
11:40دل خوف خدا سے لرزنے لگا
11:42اور وہ بے اختیار
11:43اپنے ہاتھ بلند کر کے دعا کرنے لگے
11:45اے میرے رب
11:46کاش لوگ جان سکیں
11:48کہ تیری نافرمانی کا انجام کتنا بھیانک ہے
11:50کاش انہیں احساس ہو کہ
11:52گناہوں کی طرف بڑھتے قدم
11:53درحقیقہ جہانم کی طرف بڑھ رہے ہیں
11:55اے اللہ انہیں ہدایت عطا فرما
11:57انہیں اپنے عذاب سے بچا لے
11:59اور ان کے دلوں میں اپنا خوف بٹھا دے
12:01یہ کہہ کر وہ اور زیادہ شدت سے رونے لگے
12:03ان کی دعاوں میں اتنا درد اور سچائے تھی
12:05کہ مجمع میں سناٹا چھا گیا
12:07لوگوں پر سکتہ تاری ہو گیا
12:08کچھ افراد کی آنکھیں عشقبار ہو گئیں
12:10کچھ کانپنے لگے
12:11اور کچھ خوف سے سجدے میں گر پڑے
12:13کئی لوگ اپنے گناہوں پر نادیم ہو کر
12:15بلند آواز میں استغفار کرنے لگے
12:17اور کچھ ایسی قیفت میں چلے گئے
12:19جیسے ان کے دلوں میں ایک نئی روشنی داخل ہو گئی ہو
12:22روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت یحییٰ علیہ السلام دعا کرتے
12:24تو آسمان کے پرندے بھی خاموش ہو جاتے
12:27جیسے فضا بھی ان کے آسموں اور خوشو کا احترام کرتی ہو
12:30درفتوں کے پتے ساکت ہو جاتے
12:32ہوائیں تھم جاتی
12:33اور ایسا لگتا جیسے زمین و آسمان بھی
12:35ان کی گریہ و زاری میں شریک ہو گئے ہوں
12:37ان کے دل میں اللہ کی محبت اور خشیت کا ایسا سمندر موجزن تھا
12:40کہ ان کی ہر دعا آسمان تک پہنچتی محسوس ہوتی
12:43حضرت یحییٰ علیہ السلام کی یہی آجزی
12:46اللہ کے خوف میں بہنے والے آنسو
12:47اور ان کا سچا جذبہ ہی تھا
12:49جو ان کے وعاظ کو ایک عام تقریر سے بڑھ کر
12:51ایک روحانی تجربہ بنا دیتا تھا
12:54ان کے الفاظ دلوں میں پیوست ہو جاتے
12:56اور لوگوں کو اپنی زندگی بدلنے پر مجبور کر دیتے
12:59ان کے مجلسوں میں بیٹھنے والے کبھی بیسے نہ رہتے
13:01جیسے وہ پہلے تھے
13:02وہ یا تو تائب ہو جاتے
13:04یا خوف الہی میں لرزنے لگتے
13:06ان کا ہر آنسو اللہ کی رحمت کو کھینچ لاتا
13:08ان کی ہر دعا آسمان کے دروازے پر دستک دیتی
13:10حضرت یحییٰ علیہ السلام کی زندگی
13:12مکمل طور پر سادگی
13:14زہد اور دنیا سے بے رغبتی کا
13:16ایک بے مثال نمونہ تھی
13:17وہ دنیاوی آسائشوں اور عیش و عشرت سے
13:20نہ صرف خود کو دور رکھتے
13:21بلکہ دوسروں کو بھی
13:23اس فرعب نظر سے بچنے کی تلقین کرتے
13:25ان کی طبیعت میں آجزی
13:26قناعت اور توقل کا یہ عالم تھا
13:28کہ انہوں نے کبھی مال و دولت کی خواہش نہیں کی
13:30نہ کسی نرم و نازک لباس کی آرزو کی
13:32اور نہ کسی دنیاوی لذت کی طرف مائل ہوئے
13:35ان کے لباس کی سادگیز بات کی گواہ تھی
13:37کہ وہ دنیا کو میز ایک فانی سرائے سمجھتے تھے
13:39بعض روایات کے مطابق ان کا لباس
13:41خردرا اور سادہ ہوتا
13:43جو اکثر اون یا خجور کے پتوں سے بنایا جاتا تھا
13:46وہ شہانہ لباس قیمتی رشم
13:48یا آرام دے کپڑوں سے دور رہتے
13:49اور سخت سادگی میں زندگی بسر کرتے
13:51ان کی خوراک بھی دنیا کی رغبت سے
13:53بینیاز ہونے کی علامت تھی
13:54وہ نہ ہی پرتائش کھانے کھاتے
13:57اور نہ ہی کسی خواہد ذائقی کی طلب رکھتے تھے
13:59روایت ہے کہ ان کی خوراک انتہائی سادہ تھی
14:02کبھی درختوں کے پھل
14:03کبھی خردرو سبزیاں
14:05اور کبھی محض شہد اور جنگلی پھلوں پر گزارا کر لیتے
14:07وہ اپنی بھوک کو کم سے کم رکھتے
14:09اور کھانے کو بس ایک ضرورت کی طور پر لیتے
14:11نہ کہ کوئی خواہش
14:12بعض روایت میں یہ بھی ملتا ہے
14:14کہ بعض اوقات صرف گھاس یا پتوں پر گزارا کر لیتے
14:17مگر کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا پسند نہ کرتے
14:20حضرت یعیہ علیہ السلام کی رہائش بھی
14:22دنیا کی محبت سے
14:22ان کی بے رغبتی کے ایک واضح ثبوت تھی
14:24وہ نہ تو کسی آلی شان محل میں رہتے
14:27نہ کسی بڑی آبادی میں
14:28بلکہ زیادہ تر جنگلوں و بادیوں
14:30اور سنسان مقامات پر اپنا وقت گزارتے
14:32انہیں تنہائی محبوب تھی
14:34کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خلوت میں عبادت زیادہ خالص ہوتی ہے
14:37اور دل اللہ کی یاد میں زیادہ یکسو رہتا ہے
14:39وہ زیادہ تر درختوں کے نیچے
14:41پہاڑوں کے دامن میں
14:42یا کسی ندی کے قریب وقت گزارتے
14:44اور گھنٹوں
14:45بلکہ بعض وقت دنوں تک عبادت میں مشغول رہتے
14:48انہیں دنیا داروں
14:49بادشاہوں اور عمرہ کی مجلس میں بیٹنا پسند نہ تھا
14:51کیونکہ وہ جانتے تھے
14:52کہ دنیا کی محبت اور دولت کا نشاہ
14:54انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیتا ہے
14:56وہ نہ ہی درباروں میں جاتے
14:58اور نہ ہی کسی دنیا میں اقتدار کے قریب ہوتے
15:00وہ ہمیشہ لوگوں کو یہ نصیحت کرتے
15:02کہ دنیا کی محبت سب برائیوں کی جڑھ ہے
15:04اور جو اس کی چمک دمک کے پیچھے بھاگے گا
15:07وہ اصل کامیابی سے محروم ہو جائے گا
15:09حضرت یعیہ علیہ السلام کے زندگی کا ہر لمحہ
15:11اللہ کی خشیت اور آخرت کی تیاری میں بسر ہوتی
15:15ان کا دل ہمیشہ اللہ کی محبت میں مگن رہتا
15:17ان کی زبان ہمیشہ ذکر میں مشغول رہتی
15:20اور ان کی آنکھیں اکثر
15:21اللہ کے خوف سے اشکبار رہتی
15:23ان کے زندگی کا ایک ہی مقصد تھا
15:25اللہ کی رضا
15:26وہ لوگوں کو بار بار یہ درس دیتے
15:27کہ اصل زندگی وہی ہے جو اللہ کے لئے گزاری جائے
15:30اور دنیا کی محبت میں علچ کر
15:31آخرت کو بھلانے والا شخص سب سے بڑا خسارے میں ہے
15:34ان کے صیرت ہمیں سکھاتی ہے
15:36کہ کامیابی کا راز دنیا سے بے نیاز ہو کر
15:38اللہ کے قریب ہونے میں ہے
15:40اور یہی وہ دولت ہے جو کبھی فنا نہیں ہوتی
15:42ایک دن چند ماسوں بچے کھیل میں مصروف تھے
15:44ہنسی مزاک کر رہے تھے
15:46دوڑ رہے تھے اور خوشی سے جھوم رہے تھے
15:47اسی دوران ان کی نظر حضرت یعیہ علیہ السلام پر پڑی
15:50جو بچپن میں بھی ایک سنجیدہ
15:52اور عبادت گزار طبیعت کے حامل تھے
15:54بچوں نے محبت بھرے انداز میں
15:55انہیں اپنے ساتھ کھیلنے کے لئے بلائیا اور کہا
15:57آؤ ہمارے ساتھ کھیلو
15:59یہ کھیل کتنا مزے کا ہے
16:00عام طور پر بچوں کی ایسی پرخلوز دعوت کو رد کرنا مشکل ہوتا ہے
16:04کیونکہ کھیل کت بچپن کا فطری جز ہے
16:06لیکن حضرت یعیہ علیہ السلام کی سوچ
16:08عام بچوں سے بلکل مختلف تھی
16:10وہ اس وقت بھی اپنی مخصوص روحانی کیفیت میں تھے
16:12دنیا کی حقیقت اور زندگی کے اصل مقصد پر غور و فکر میں مشغول تھی
16:16بچوں کی دعوت سن کر
16:18انہوں نے انتہائی سنجیدگی اور بصیرت کے ساتھ جواب دیا
16:21ہم کھیل کے لئے پیدا نہیں کیے گئے
16:23ان کے یہ الفاظ نہ صرف ان کے گہرے شعور کا مظہر تھے
16:25بلکہ اس بات کی نشانی بھی تھے
16:27کہ اللہ نے انہیں بچپن ہی سے ایک عظیم مقصد کیلئے چن لیا تھا
16:31وہ کھیل اور دنیاوی تفری سے بے نیاز ہو کر
16:33زیادہ تر وقت ذکر الہی اور عبادتیں بسر کرتے
16:36ان کے دل میں آخرت کے فکر اس قدر غالب تھی
16:38کہ وہ کسی بھی لمحے اپنی توجہ غیر ضروری کاموں کی طرف مبزول نہیں کرتے تھے
16:43یہ واقعہ ان کی شخصیت کی گہرائی
16:45سنجیدگی اور غیر معمولی روحانی بصیرت کو ظاہر کرتا ہے
16:49جہاں عام بچے کھیل کود اور تفریح میں وقت گزارتے ہیں
16:52وہیں حضرت یحییٰ علیہ السلام جیسے برگزیدہ ہستیاں
16:55وہیں حضرت یحییٰ علیہ السلام جیسی برگزیدہ ہستیاں
16:58اپنی کم عمری میں ہی اللہ کی محبت اور خشیت میں ڈوبی ہوتی ہیں
17:02ان کا یہ انداز ہمیں سکھاتا ہے
17:04کہ زندگی محض کھیل کود
17:06عارضی لذتوں کے پیچھے بھاگنے کے لئے نہیں
17:08بلکہ اس کا اصل مقصد
17:10اللہ کی رضا حاصل کرنا اور آخرت کی تیاری کرنا ہے
17:13ان کی شخصیت کا ہر پہلو یہی پیغام دیتا ہے
17:15کہ دنیاوی تفریح میں کھو جانے کے بجائے
17:17اپنے زندگی کے اصل مقصد کو سمجھنا چاہیے
17:20کیونکہ حقیقی کامیابی اسی میں ہے
17:22ناظرین اس زمانے کا بادشاہ
17:24ایک ظالم عیاش اور دین سے بے پرواز شخص تھا
17:26جس کی زندگی کے مقصد صرف
17:28اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل تھا
17:30وہ شریعت کے اصولوں کو
17:31اپنی خواہشات کے تابعہ رکھنا چاہتا تھا
17:33اور کسی بھی ایسی بات کو سننے کا
17:36روضار نہ تھا جو اس کے ارادوں میں رکاوٹ بنے
17:38اسی دوران اس نے ایک ایسا فیصلہ کیا
17:40جو شریعت کی کھلی خلاف عرضی تھی
17:42اس نے اپنے سوتے لے بھائی کی بیٹی سے
17:44نکاح کرنے کا ارادہ کیا
17:45حالانکہ یہ نکاح دین اسلام اور سابقہ
17:56میں عدل انصاف اور سچائی کی شمع
17:58روشن کرنے کے لیے آتے ہیں
17:59نہ کہ کسی ظالم کی خواہشات کی تکمیل کے لیے
18:02خاموش رہنے کے لیے
18:03جب حضرت یعیہ علیہ السلام کو اس حرام نکاح کے بارے میں
18:06معلوم ہوا تو انہوں نے بلا خوف و خطر
18:08بغیر کسی لچک کے کھلے عام اس نکاح
18:10کو حرام قرار دے دیا
18:11وہ اللہ کے نبی تھے سچ کہنے سے نہ گھبراتے تھے
18:14چاہے وہ کسی جعبیر حکمران کے خلاف ہی کیوں نہ ہو
18:16انہوں نے بادشاہ کے دربار میں
18:18عوام الناس میں اور ہر محفل میں
18:20برملہ اعلان کیا کہ یہ نکاح اللہ کے حکم کے خلاف ہے
18:23اور کسی صورت جائز نہیں ہو سکتا
18:25ان کی یہ بے باق نصیحت اور دو ٹوک موقف
18:27ظالم حکمران کے لیے
18:29ناقابل برداشت تھا
18:30خصوصاً ملکہ جو اس نکاح کے حق میں تھی
18:32حضرت یعیہ علیہ السلام کی اس مخالفت پر آگ بگولہ ہو گئی
18:35اس کے دل میں پہلے ہی کینا اور حسد بھرا ہوا تھا
18:38اور اب اس کا غصہ انتقام میں بدلنے لگا
18:40وہ جانتی تھی
18:42کہ جب تک حضرت یعیہ علیہ السلام موجود ہیں
18:44ان کی آواز بادشاہ کو اس گناہ سے روکنے کے لیے کافی ہے
18:46اور اس کی ناپا خواہش کبھی پوری نہیں ہو سکتی
18:49یہی سوچ کر اس نے سازش کا جال بلنا شروع کر دیا
18:52چونکہ بادشاہ پہلے ہی اپنی حوث میں اندھا ہو چکا تھا
18:54اس لئے ملکہ نے بڑی چالاکی سے اس پر اثر ڈالا
18:57اور اس اس بات پر قائل کر لیا
18:58کہ اگر وہ اپنی خواہش پوری کرنا چاہتا ہے
19:00تو اس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ
19:02یعنی حضرت یعیہ علیہ السلام کو ہٹانا ہوگا
19:05وہ بادشاہ کو بہکاتی رہی
19:06اس کے جذبات کو مزید بھڑکاتی رہی
19:08یہاں تک کہ بادشاہ نے فیصلہ کر لیا
19:10کہ اس نبی کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا جائے گا
19:13یہ فیصلہ سراصل ظلم
19:15نائنصافی اور شیطانی سازشوں کا کاس تھا
19:17لیکن یہی فیصلے اللہ کے برگزیدہ بندوں کے لیے
19:20آزمائش بن کر آتے ہیں
19:21حضرت یعیہ علیہ السلام کی پاکیزہ زندگی کے خلاف
19:23ایک ناپاک منصوبہ تیار کیا گیا
19:25ایک ظالمانہ فیصلہ کیا گیا
19:27جو بلاخر ایک عظیم نبی کی شہادت کا سبب بننے والا تھا
19:30بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا
19:32کہ حضرت یعیہ علیہ السلام کو گرفتار کر کے قتل کر دیا جائے
19:35تاکہ اس کی راہ کی آخری رکاوٹ بھی ختم ہو جائے
19:38اس فیصلے نے در حقیقت اس کی تباہی کی بنیاد رکھ دی
19:41کیونکہ اللہ کے نبی کو قتل کرنا
19:43اللہ کے غزب کو دعوت دینے کے مترادف تھا
19:45مگر اس وقت اہل دنیا و ظالم کے اقتدار کو دے کر
19:47شاید یہی سوچ رہے تھے
19:48کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے
19:50جبکہ اللہ کی عدالت میں فیصلے کچھ اور ہی ہو رہے تھے
19:53حضرت یعیہ علیہ السلام کی شہادت تاریخ میں
19:55ان المناک اور روح فرصہ واقعات میں سے ایک ہے
19:59جو حقی سر بلندی
20:00باطل کے خلاف استقامت
20:01اور اللہ کے دین کی حفاظت کے لئے
20:03قربانی دینے کا لازوال سبق دیتا ہے
20:05آپ ایک ایسے نبی تھے
20:07جنہوں نے اپنے زمانے کے ظالم بادشاہ کی خلاف آواز بلند کی
20:10جو اپنے نفس کی خواہشات کا غلام تھا
20:12اور دین کے اصولوں کو روندنا چاہتا تھا
20:14جب بادشاہ نے اپنی سوتیلی بیٹی سے
20:16نکاح کا ناپاک ارادہ کیا
20:26اور اس کی ملکہ جو خود بھی اس گناہ میں شریک تھی
20:29حضرت یحیی علیہ السلام کے خلاف انتقام کی آگ میں جلنے لگی
20:32آخر کار بادشاہ نے اپنے حوض کی تکمیل
20:34اور اختدار کی بقاہ کے لئے فیصلہ کیا
20:36کہ حضرت یحیی علیہ السلام کو قتل کر دیا جائے
20:38روایات میں آتا ہے کہ جب سپائیوں کو حضرت یحیی علیہ السلام کی شہادت کا حکم دیا گیا
20:42تو وہ اس وقت اللہ کی عبادت میں مشغول تھے
20:44وہ سجدے میں جھکے ہوئے تھے
20:46اپنے رب کی حمد و سنا میں مصروف تھے
20:48کہ انہی لمحات میں صفاق قاتل مسجد میں داخل ہوئے
20:50ان کے ہاتھوں میں تلواریں تھیں
20:52ان کے نیت میں خالص ظلم تھا
20:53لیکن حضرت یحیی علیہ السلام کا دل
20:55اللہ کے نور سے منور تھا
20:57وہ اپنے نماز مکمل کر رہے تھے
20:58جب ان پر حملہ کر دیا گیا
21:00ظالموں نے ان کا سر تنج سے جدا کر دیا
21:02اور ظلم و بربریت کی انتہا دیکھیں
21:04کہ اس مقدس سر کو ایک تشت میں رکھ کر
21:06بادشاہ کے دربار میں پیش کیا گیا
21:08لیکن اللہ کے برگزیدہ نبی کی شہادت کو بھی
21:10اللہ نے ایک موجزہ بنا دیا
21:12بعض روایات میں ذکر ملتا ہے
21:13کہ جب حضرت یحیی علیہ السلام کا سر
21:15دربار میں پہنچائے گیا
21:16تو وہ اللہ کے ذکر میں مصروف تھا
21:18ان کے لبوں سے توحید کے کلمات جاری تھے
21:20وہ ہونٹ جو اللہ کی ہمیشہ بڑائی بیان کرتے تھے
21:23وہ زبان جو ہمیشہ حق کی گواہی دیتی تھی
21:25وہ آج بھی ظلم کے ایوانوں میں گونج رہی تھی
21:27یوں لگتا تھا کہ ان کا سر
21:28ظالموں کے ظلم کا پردہ چاک کر رہا ہو
21:30گویا وہ اپنی جان کا نظرانہ پیش کر کے بھی
21:33حق کی آواز کو بلند کر رہے تھے
21:34لیکن یہ کہانی یہاں خط نہیں ہوتی
21:36اللہ کا نظام ہمیشہ حق کی فتح
21:38اور باطل کی شکست پر مشتمل ہوتا ہے
21:40وہ بادشاہ جس نے حضرت یحیی علیہ السلام کے خون سے
21:43اپنے محل کو آلودہ کیا
21:44وہ زیادہ عرصے تک ظلم کی مسنت پر نہ بیٹھ سکا
21:46کچھ ہی عرصے بعد اس کے اقتدار ختم ہو گیا
21:49اس کا ظلم بربادی میں بدل گیا
21:51اور وہ خود بھی عبرتناک انجام کو پہنچا
21:53ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
21:55اگر آپ کو یہ ویڈیو پسند آئی ہے
21:57اور اسے کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہو
21:58تو اسے دوسروں تک ضرور پہنچائیں
22:00تاکہ حضرت یحیی علیہ السلام کی مبارک سیرت سے
22:03زیادہ سے زیادہ لوگ روشنی حاصل کر سکیں
22:05آپ کا ایک شیئر کسی کے دل میں
22:07اللہ کا خوف پیدا کر سکتا ہے
22:08کسی کی زندگی بدل سکتا ہے
22:10اور کسی کو حق کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے
22:12اس پیغام کو عام کیجئے
22:14تاکہ ہم سب حضرت یحیی علیہ السلام کی تعلیمات سے
22:16سبق حاصل کر سکیں
22:17اور اپنی زندگی کو
22:18اللہ کی رضا کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں
22:21اللہ ہمیں ہدایت عطا فرمائے
22:23اور ہمارے دلوں کو اپنے نور سے منور کرے
22:25آمین
Comments