Muhammad ﷺ Ki Eid Ka Waqia | Yateem Bacha Aur Muhammad ﷺ Ka Waqia | Seerat-e-Nabvi | Noor TV
Eid Islam ka ek paigham hai — khushi, shukr aur rehmat ka. Magar Seerat-e-Nabvi ﷺ mein ek waqia aisa hai jo Eid ke asal maqsad ko samajhne mein madad karta hai.
Eid ke din log naye kapron mein sajay hue thay, khushi manayi ja rahi thi, lekin Nabi Kareem ﷺ ne masjid ke qareeb ek yateem bache ko udaas aur tanha dekha.
Jab Rasool Allah ﷺ ne us se poocha:
"Beta, sab bachay khush hain, tum kyu udaas ho?"
To usne rone lag kar kaha:
"Mere walid shaheed ho chuke hain. Na Eid ka jora hai, na khushi manane wala."
Nabi Kareem ﷺ ka dil bhar aya. Aap ﷺ us bache ko gale lagake apne ghar le gaye, use naya jora pehnaya, khana khilaya, aur kaha:
"Aaj se main tumhara walid hoon, Aisha tumhari maa hai, aur yeh sab tumhare bhai behan hain."
Is Video Mein Aap Jaan Sakein Ge:
✅ Yateem ke haq mein Nabi ﷺ ka bayan aur amal
✅ Eid ka asal maqsad – ek dosray ka dard mehsoos karna
✅ Seerat-e-Nabvi ﷺ ki roshni mein insaniyat ka paigham
✅ Aaj ke dor mein is sunnat ka amal kaise ho
Asar Dar Paigham:
💖 Eid un logon ke liye banaiye jinhain khushi ki sab se zyada zarurat hai
🤲 Yateemon, ghareebon aur tanha logon ko Eid mein shaamil karna sab se badi ibadat hai
📢 Like, Share & Subscribe 💖
🔔 Bell Icon Dabayein Taake Aapko Har Sunnat Bhari Kahani Milti Rahe
#MuhammadSAW #YateemKaWaqia #SeeratENabvi #EidSpecial #NabiKaPyar #EidAurRehmat #IslamicStories #NoorTV #SunnatEid #YateemAurEid
Eid Islam ka ek paigham hai — khushi, shukr aur rehmat ka. Magar Seerat-e-Nabvi ﷺ mein ek waqia aisa hai jo Eid ke asal maqsad ko samajhne mein madad karta hai.
Eid ke din log naye kapron mein sajay hue thay, khushi manayi ja rahi thi, lekin Nabi Kareem ﷺ ne masjid ke qareeb ek yateem bache ko udaas aur tanha dekha.
Jab Rasool Allah ﷺ ne us se poocha:
"Beta, sab bachay khush hain, tum kyu udaas ho?"
To usne rone lag kar kaha:
"Mere walid shaheed ho chuke hain. Na Eid ka jora hai, na khushi manane wala."
Nabi Kareem ﷺ ka dil bhar aya. Aap ﷺ us bache ko gale lagake apne ghar le gaye, use naya jora pehnaya, khana khilaya, aur kaha:
"Aaj se main tumhara walid hoon, Aisha tumhari maa hai, aur yeh sab tumhare bhai behan hain."
Is Video Mein Aap Jaan Sakein Ge:
✅ Yateem ke haq mein Nabi ﷺ ka bayan aur amal
✅ Eid ka asal maqsad – ek dosray ka dard mehsoos karna
✅ Seerat-e-Nabvi ﷺ ki roshni mein insaniyat ka paigham
✅ Aaj ke dor mein is sunnat ka amal kaise ho
Asar Dar Paigham:
💖 Eid un logon ke liye banaiye jinhain khushi ki sab se zyada zarurat hai
🤲 Yateemon, ghareebon aur tanha logon ko Eid mein shaamil karna sab se badi ibadat hai
📢 Like, Share & Subscribe 💖
🔔 Bell Icon Dabayein Taake Aapko Har Sunnat Bhari Kahani Milti Rahe
#MuhammadSAW #YateemKaWaqia #SeeratENabvi #EidSpecial #NabiKaPyar #EidAurRehmat #IslamicStories #NoorTV #SunnatEid #YateemAurEid
Category
📚
LearningTranscript
00:28ڈالفطر
00:30کچھ مواقع ایسے آتے ہیں جو دل کو مسررتوں سے بھر دیتے ہیں تو کچھ مواقع ایسے بھی ہوتے ہیں
00:34جو آزمائش کا رنگ لیے ہوتے ہیں
00:36لیکن ایک سچے مومن کے زندگی میں کوئی لمحہ ایسا نہیں ہوتا جو بے مقصد ہو
00:41کیونکہ اس کا ہر عمل ہر احساس اور ہر جذبہ شریعت کی روشنی میں اپنی منزل کا تعیون کرتا ہے
00:47یہی وہ دین اسلام ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں ہماری مکمل رہنمائی کرتا ہے
00:52عبادت سے لے کر معاملات تک معاشرت سے لے کر معیشت تک خوشی کے مواقع سے لے کر غم کے
00:57لمحات تک اسلام نے ہر موقع کے لیے بہترین اصول وضع کیے ہیں
01:01تاکہ انسان ایک متوازن پرمسررت اور بامقصد زندگی گزار سکے
01:05اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی میں خوشی کے اظہار کے لیے بھی خاص مواقع اتا کیے ہیں
01:10تاکہ ہم ان سے لطف اندوز ہوں اور اپنی مسررتوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹ سکیں
01:14جہاں دور جاہلیت میں بے شمار تہوار منائے جاتے تھے
01:18وہاں اللہ رب العزت نے ہمیں دو مقدس اور بابرکت دن اتا فرمائے
01:22عید الفطر اور عید الازحہ
01:24جی ہاں وہ مبارک دن جو خوشیوں عبادات اور اسلامی شاعر کے انتظاج سے بھرپور ہوتے ہیں
01:30نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
01:33تم سال میں جو عیدیں منائے کرتے تھے
01:36اب اللہ نے تمہیں ان سے دو بہتر دن اتا فرمائے ہیں
01:41یہ عید کے دن ہماری زندگی میں صرف خوشی کے علامت نہیں
01:45بلکہ عبادت، اجتماعیت، سخاوت اور بندگی کا حسین امتزاج بھی ہے
01:49لیکن سوال یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید کا دن کیسے گزارتے تھے
01:54وہ علمات کیسے ہوتے تھے جب رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
01:59اپنے اہل خانہ، صحابہ اکرام اور امت کے ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک ہوتے
02:03آج کس ایمان افروز اور معلوماتی ویڈیو میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ اسلام میں عید کی ابتدا کب
02:09ہوئی
02:09پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید کا دن کیسے گزارتے تھے
02:13اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کے وہ یادگار واقعات جن میں عید کی حقیقی روچھہ
02:20لگتی ہے
02:20یہ ویڈیو نہ صرف آپ کے علم میں اضافہ کرے گی بلکہ آپ کے دل کو محبت رسول صلی اللہ
02:25علیہ وآلہ وسلم سے بھی سرشار کر دے گی
02:27تو ویڈیو کو آخر تک دیکھئے اور جانئے وہ ایمان افروز حقائق جو شاید آپ نے پہلے نہ سنے ہو
02:33ناظرین عید الفطر شوال کی پہلی تاریخ کو منائی جاتی ہے
02:36جو رمضان المبارک میں کی گئی عبادات اور ریاضتوں کا حسین انام ہے
02:41عید کا مطلب خوشی اور فطر کا مطلب کھولنے کے ہیں
02:45کیونکہ اس دن رمضان کے روزوں کا سلسلہ مکمل ہوتا ہے
02:48اس لیے اسے عید الفطر کا نام دیا گیا ہے
02:51دوسری طرف عید العزہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی پیروی میں قربانی کی صورتیں منائی جاتی ہے
02:58ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی عید کے مبارک موقع کو
03:02نہای تقیدت اور خوشی کے ساتھ منایا اور اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس کی ترغیب دی
03:09اللہ تعالیٰ نے جائز حدود میں رہتے ہوئے خوشیوں کے اظہار کو پسند فرمایا ہے
03:13مگر اسلام اس بات کو ہرگز پسند نہیں کرتا
03:16کہ خوشیوں میں شریعت کی حدود کو پامال کیا جائے
03:18یہی وجہ ہے کہ چاند رات اور عید کے دن کی عبادات کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے
03:23چاند رات کو لیلت الجائزہ یعنی انام کی رات بھی کہا گیا ہے
03:27حدیث مبارکہ میں اس رات کی فضیلت کچھ یوں بیان ہوئی ہے
03:30کہ جس نے عید الفطر اور عید العزہ کی چاند رات کو عبادت میں گزارا
03:34اللہ تعالیٰ اس کے دن کو اس روز زندہ رکھے گا
03:37جب سب کے دل مردہ ہو جائیں گے
03:38اسی طرح عید کے دن کے بارے میں حدیث میں مذکور ہے
03:41کہ جب مسلمان عیدگاہ کی طرح فروانہ ہوتے ہیں
03:44تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتے ہیں
03:46میرے فرشتوں تم بتاؤ
03:47اس مزدور کا کیا صلح ہونا چاہیے
03:49جو اپنا کام مکمل کر چکا ہو
03:51فرشتے ارز کرتے ہیں
03:52اے ہمارے معبود
03:53اس کا بہترین بدلہ یہی ہے
03:55کہ اسے اس کی محنت کا بھرپورا جھر دیا جائے
03:58تب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
03:59اے فرشتوں گوا رہو
04:01کہ میں نے اپنے بندوں کو
04:02جو رمضان کے روزے رکھتے رہے
04:04تراوی پڑھتے رہے
04:05اپنی رضا اور مغفرت سے نواز دیا
04:07پھر اللہ سبحانہ تعالیٰ
04:09اپنے بندوں سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں
04:11میرا عزیز بندوں
04:12مانگو جو تم کچھ مانگنا چاہتے ہو
04:13مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم
04:15آج کے دن جو کچھ تم اپنی آخرت کے لئے مانگو گے
04:18عطا کروں گا
04:19اور جو کچھ اپنی دنیا کے لئے طلب کرو گے
04:21اس میں تمہارے حق میں بھلائی رکھوں گا
04:22جب تک تم میرا خیال رکھو گے
04:24میں تمہاری لگزشوں کو چھپاتا رہوں گا
04:26مجھے قسم میں اپنی عزت و جلال کی
04:28میں تمہیں کبھی مجرموں کے سامنے رسوہ نہیں کروں گا
04:30جاؤ
04:31تم اپنے گھروں کی طرف لوڑ جاؤ
04:33تمہیں معاف کر دیا گیا ہے
04:34تم نے مجھے راضی کرنے کی کوشش کی
04:36اور میں تم سے راضی ہو گیا
04:38یہ سن کر فرشتے خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں
04:40اور اللہ کی اس بے پناہ رحمت پر
04:42مصرط کا اظہار کرتے ہیں
04:43جو وہ اپنے بندوں پر فرماتا ہے
04:45عید الفطر کی حقیقی روس کے عملی اظہار میں پنہا ہے
04:48جو اسلام کے مجموعی طرز زندگی کے مطابق ہے
04:50جہاں بندہ اپنے رب کی کامل بندگی بجال آئے
04:53اور مخلوق خدا کے ساتھ محبت اور خیر خواہی
04:56اور نرمی سے پیش آئے
04:57اس دن کا مقصد صرف خوشی منانا نہیں
04:59بلکہ ایک ماہ کی روحانی تربیت کے بعد
05:01اللہ کا شکر ادا کرنا
05:02اس کی بارگاہ میں آدزی کے ساتھ جھکنا
05:04اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنا بھی ہے
05:06مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے
05:08کہ عید کی ان خوشیوں میں دوسروں کو بھی شریک کیا جائے
05:11عید کے قریب آتے ہی بازاروں میں گہمہ گہمی بڑھ جاتی ہے
05:14خریداری کا سلسلہ اروج پر پہنچ جاتا ہے
05:16اور اکثر لوگ اس قطر مصروف ہو جاتے ہیں
05:18کہ رب کے آحکام یاد نہیں رہتے
05:20حالانکہ اثراف اور دکھاوے سے بچنے کی بارہا تاقید کی گئی ہے
05:23یہاں تک کہ فضول خرچی کو شیطان کا عمل کہا گیا ہے
05:26لیکن عید کی تیاریوں میں یہ نصیحتیں پسے پشت چلی جاتی ہیں
05:30رمضان المبارک کے روزے ہمارے نفس کو قابو میں رکھنے کی تربیت تھے
05:33عید کے دن اصل آزمائش یہ ہوتی ہے
05:44کہ دل افسوس سے بھر جاتا ہے
05:46لگتا ہے جیسے ہم رمضان کی برکتوں سے فیضیاب ہونے سے پہلے ہی غفلت نے پڑ گئے
05:50عید کے دن حرط علی کرم اللہ بجو کو خوشک روٹی کھاتے دیکھا گیا
05:54تو کسی نے عرض کیا
05:56یا امیر المومنین آج تو عید کا دن ہے
05:58آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا
06:00عید تو حقیقت میں اسی کا دن ہے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو
06:03ناظرین اگر ہم اپنی عید کا جائزہ لیں
06:05تو اندازہ ہوگا کہ
06:07ہم سے تو رمضان میں بھی بہت سی کوتائیاں ہوئیں
06:09نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
06:11صیرت مبارکہ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
06:14ارشادات محض پڑھنے اور سننے کے لیے نہیں ہیں
06:17بلکہ انہیں اپنا نہ ہمارا فرض ہے
06:19ہمیں چاہیے کہ اسلامی اقدار اور روایات کو زندہ رکھیں
06:22ان سے رہنمائی حاصل کریں
06:23اور عید کے دن کسی سے ناراضگی یا بدگمانی نہ رکھیں
06:26ایک دوسرے سے محبت سے ملیں
06:28مبارک بات دیں
06:29چھوٹوں کو عیدی دیں
06:30بڑوں سے عیدی لیں
06:31اور اپنے آس پاس کے ان لوگوں کا بھی خیال رکھیں
06:33جو ہماری طرح عید کے لیے تیاری نہیں کر سکے
06:37ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:40نمازی عید کے لیے تشریف لے جا رہے تھے
06:42آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
06:44ایک معصوم بچے کو الگ تھلگ بیٹھے دیکھا
06:46جو غم سے نڑھا لو کر رو رہا تھا
06:48اس کے کپڑے بھی پھٹے پرانے تھے
06:50آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شفقت سے پوچھا
06:52بیٹا تم کیوں رو رہے ہو
06:54دوسرے بچے خوشی منا رہے ہیں
06:55اور تم اداز بیٹھے ہو
06:57یہ بچہ شاید پہچان نہ پایا کہ اس سے کون مخاطب ہے
07:00یہ اپنے غم میں اتنا ڈوبہ تھا
07:01کہ دھیان نہیں دیا
07:02اس نے جواب دیا جناب
07:04مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں
07:05میرا باپ ایک جنگ میں
07:06نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ
07:09لڑتے ہوئے شہید ہو گیا
07:10میری ماں نے دوسرا نکاح کر لیا
07:11اور میرے سوتے لے باپ نے میرا حق بھی کھا لیا
07:14اور مجھے گھر سے نکال دیا
07:15اب نہ میرے پاس کھانے کیلئے کچھ ہے
07:17نہ پہننے کیلئے کپڑے
07:18نہ سر چھپانے کی کوئی جگہ
07:20میں جب دوسرے بچوں کو خوشی سے کھیلتا دیکھتا ہوں
07:22تو میرا غم اور بڑھ جاتا ہے
07:24نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
07:26محبت سے اس بچے کا ہاتھ تھاما اور فرمایا
07:28کیا تم اس بات پر خوش ہو
07:29کہ میں تمہارا باپ ہوں
07:31اور عائشہ رضی اللہ عنہ تمہاری ماں
07:33فاطمہ رضی اللہ عنہ تمہاری بہن
07:35علی رضی اللہ عنہ تمہارے چچا
07:37اور حسن حسین رضی اللہ عنہ تمہارے بھائی
07:40اس ان کا بچہ خوشی سے جھوم اٹھا
07:42اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:45میں اس سے بڑھ کر اور کیا چاہ سکتا ہوں
07:47نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:49اسے اپنے گھر لے گئے
07:50نہلایا دھولایا
07:51اچھے کپڑے پہنائے اور کھانے کا انتظام کیا
07:53جب وہ خوش ہو کر باہر آیا
07:54تو دوسرے بچوں نے حیرت سے پوچھا
07:56ابھی تو تم رو رہے تھے
07:57اور اب اتنے خوش کیوں ہو
07:58بچے نے جواب دیا میں یتیم تھا
08:00اللہ نے مجھے باپتہ کر دیا
08:02میں بے سہارہ تھا مگر
08:09یہ سن کر دوسرے بچے حدثت سے کہنے لگے
08:12کاش آج ہم بھی یتیم ہوتے
08:14یہ بچہ ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:16کی کفالت میں رہا
08:17اور جب باپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:19کا وصال ہوا
08:20تو بزار و قطار روتے ہوئے کہہ رہا تھا
08:22آج میں پھر یتیم ہو گیا
08:23تب حضرت عبو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے
08:26اسے اپنی سرپرستی میں لے لیا
08:27یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے
08:29کہ عید کے اصل خوشی دوسروں کے مسکراہت میں پناہ ہے
08:32ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے خوشیوں میں
08:33ان لوگوں کو شامل کریں
08:34جو کسی مجبوری کی وجہ سے عید کی تیاری نہیں کر سکے
08:37تاکہ ہمارے عید حقیقی معنوں میں عید بن جائے
08:40ناظرین عید کا دن صرف خوشی منانے کیلئے نہیں
08:43بلکہ یہ خود احتسابی کا موقع بھی ہے
08:45کیا ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں
08:47جو عید کے دن ان یتیم و مسکین بچوں کو
08:49نئے کپڑے پہناتے ہوں
08:50جو سارا سال خوشی سے محروم رہتے ہیں
08:52کیا ہم میں سے کوئی ایسا ہے
08:54جو نادار بچے کے آنسو پوچھ کر
08:56اس کی محرومیوں کو خوشی میں بدلنے کی کوشش کرے
08:58یہ قیناً عید کی خوشیاں منانا ضروری ہے
09:01اور تیاریوں میں بھی کوئی حرچ نہیں
09:02مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے
09:04کہ اللہ تعالی نے اثراف اور فضول خرچی کو سخت ناپسند فرمایا ہے
09:07نمود و نمائش کو بھی برا قرار دیا ہے
09:10کیونکہ یہ عمل معاشرے میں احساس محرومی کو جنم دیتا ہے
09:13ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شریک کریں
09:16اور ایسا کوئی عمل نہ کریں جس سے
09:18کسی کی دلازاری ہو یا کسی کی دل میں حسرت پیدا ہو
09:20یاد رکھیں صاحب استطاعت افراد کے عامال کو
09:28غریب اور بے سہارا لوگ حسد بھری نظروں سے دیکھتے ہیں
09:31اگر ہم اپنی نعمتوں کے نمائش کریں
09:33تو ان کی محرومیاں مزید بڑھ جاتی ہیں
09:35اسی لئے ہمیں ہمیشہ یہ کوشش اور دعا کرنی چاہیے
09:38کہ ہماری کسی حرکت سے کسی کی دلازاری نہ ہو
09:41بلکہ ہم دوسروں کے لئے باعی سے رحمت اور راحت بنے
09:44ہم کوشش کر سکتے ہیں لیکن کامیابی اللہ کے ہاتھ میں ہے
09:47اور وہی ہر کام کو انجام تک پہنچانے والا ہے
09:50ناظرین اس موقع پر آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:53کے نوازوں کا ایک واقعہ سناتے ہیں
09:56یہ امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہم کے بچپن کا واقعہ ہے
10:00عید قریب تھی اور دونوں شہزادوں نے اپنی والدہ
10:03حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے کہا
10:05ماں مدینہ کے بچے عید کے دن نئے خوبصورت لباس پہنیں گے
10:08اور ہمارے پاس نئے کپڑے نہیں ہیں
10:10ہم کیسے عید منائیں گے
10:11حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے اپنے جگر گوشوں کو تسلی دی اور کہا
10:15بیٹا پریشان نہ ہو
10:16تمہارے کپڑے درزی جلدے آئے گا
10:18عید کی رات آئی اور بچوں نے دوبارہ اپنی ماں سے نئے لباس کی فرمائش کی
10:21حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے پھر انہیں دلاسہ دیا کہ کپڑے جلد آ جائیں گے
10:25ابھی صبح ہونے میں کچھ وقت باقی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی
10:28حضرت فضہ رضی اللہ عنہ نے دروازہ کھولا
10:30تو ایک شخص ایک گٹھری لے کر کھڑا تھا
10:32جب وہ کھولی گئی تو اس میں بچوں کے تمام ضروری لباس موجود تھے
10:36حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ جان گئی
10:38کہ یہ جنت سے بھیجا گیا توفہ ہے
10:39مگر انہوں نے خاموشی اختیار کی اور بچوں کو کپڑے دے دئیے
10:43جب صبح ہوئی اور بچوں نے کپڑے پہنے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ سفید رنگ کے ہیں
10:47بچوں نے کہا
10:48اممہ مدینہ کے بچے رنگ برنگے کپڑے پہنیں گے
10:50اور ہمارے کپڑے تو بالکل سفید ہیں
10:52ہمیں بھی رنگین لباس چاہیے
10:53نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی تلہ ملی
10:56تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود تشریف لائے
10:59اور شفقت سے فرمایا فکر مت کرو
11:01تمہارے کپڑے بھی خوبصت رنگوں میں تبدیل ہو جائیں گے
11:08اسی دوران حضرت جبریل علیہ السلام
11:10ایک برطن میں پانی لے کر حاصر ہوئے
11:12جیسے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
11:15ان کے شارے سے پانی ڈالا
11:16کپڑے سبز اور سرخ رنگ میں تبدیل ہو گئے
11:19امام حسن رضی اللہ عنہ نے سبز لباس زیبتن کیا
11:22جبکہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے سرخ جوڑا پہن لیا
11:26حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے
11:28محبت سے اپنے بیٹوں کو گلے لگایا
11:29اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شفقت سے بوسے دیئے
11:33اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
11:35دونوں نوازوں کو اپنے پشت پر سوار کر کے
11:37مدینہ کی گلیوں میں لے جانا شروع کر دیا
11:40حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے
11:41جب یہ منظر دیکھا تو محبت بری حسرت سے کہا
11:43کتنی بہترین سواری ہے
11:45جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
11:47زیر قدم ہے
11:48اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
11:51مسکراتے ہوئے جواب دیا
11:52ذرا یہ بھی تو دیکھو کہ سوار کتنے حسین ہے
11:54مسند احمد بن حمبل
11:58یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے
11:59کہ عید کی خوشیاں دوسروں میں بانٹنے سے بڑھتی ہیں
12:01ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی عید کو ان لوگوں کے لئے
12:04مسارت کا ذریعہ بنائیں
12:05جو کسی مجبوری کی وجہ سے اس خوشی سے محروم رہ جاتے ہیں
12:08ناظرین یاد رکھئے
12:09عید صرف ان کی نہیں جو خوشموئے لگا کر
12:12نئے لباس پہن کر
12:13خوبصورت زیورا سے آراستہ ہو کر
12:15اور لذیذ پکوان کھا کر خوشی مناتے ہیں
12:17بلکہ حقیقی عید ان کی ہے جو اپنے گناہوں سے تائب ہو گئے
12:20جنہوں نے اپنے عامال میں اخلاص پیدا کیا
12:22سچے دل سے اللہ کی طرف روجو کیا
12:24نیک بندے بننے کا عہد کیا
12:26تقویٰ اور پریزگاری کی رہا اپنائی
12:28اور یوم قیامت جہانم کے پل سے بہ آسانی گزر گئے
12:31گر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی عید حقیقی امانوں میں
12:34باعث سے برکت ہو تو اپنے عامال کا جائزہ لیجئے
12:36اور خالص دینی روح کے ساتھ خوشیاں منائیے
12:39اسلام میں عید کی ابتداء کب ہوئی
12:41دنیا کے تمام قومیں اور مذہب
12:43اپنے مخصوص تہہبار اور عیدیں بناتے ہیں
12:46ہر مذہب اور قوم کے ماننے والے
12:48اپنے قائد روایات اور ثقافت کے مطابق
12:50خوشی کے مواقعوں کا احترام کرتے ہیں
12:52جو اس حقیقت کی نشاندہ ہی کرتا ہے
12:54کہ عید کا تصور انسانی فطرت کا
12:56ایک بنیادی تقاضہ اور مشترکہ قدر ہے
12:59تاہم مسلمان اپنے اعتقادی بنیادوں
13:01فکری نظریات اور روحانی اقدار
13:03کے لحاظ سے دیگر اقوام سے ممتاز ہیں
13:05اور ان کے عید منانے کا انداز بھی
13:07دوسروں سے جدہ گانا ہے
13:08اسلامی تعلیمات کے مطابق عید صرف ظاہری
13:11زیب و زینت اور دنیاوی خوشیوں کا نام نہیں
13:13بلکہ یہ روح کی پاکیزگی
13:15دل کی صفائی لباس
13:17اور جسم کی طہارت کے ساتھ ساتھ
13:19بندگی آدزی اور شکر گزاری کا مظہر ہے
13:21یہ وہ دن ہے جب تمام مسلمان
13:23اخوت اور بھائچارے کے جذبات سے سرشار ہو کر
13:25اللہ کی حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں
13:28اور اس کی نعمتوں کا شکر بجا لاتے ہیں
13:30اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں
13:32حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک دعا کا ذکر فرمایا ہے
13:34جس میں وہ اللہ سے اپنی امت کے لیے
13:36ایک خاص نعمت طلب کرتے ہیں
13:38عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے عرض کیا
13:40اے ہمارے پروردگار
13:41ہم پر آسمان سے کھانے کے خوان نازل فرما
13:44تاکہ یہ دن ہمارے لیے
13:45اولین
13:47تاکہ یہ دن ہمارے اولین و آخرین کے لیے
13:49ایک عید اور تیری جانب سے نشانی بن جائے
13:52اور ہمیں رزق عطا فرما
13:53بے شک تو بہترین رزق دینے والا ہے
13:55سورہ المائدہ
13:57اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا
13:58میں یہ خان تم پر ضرور اتاروں گا
14:01لیکن اس کے بعد اگر تم میں سے
14:03کسی نے ناشکری کی
14:04تو میں اسے ایسا سخت عذاب دوں گا
14:06جو کسی اور قوم کو نہ ملا ہوگا
14:08یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے
14:09کہ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی
14:12اور وہ خان نازل ہوا
14:13قرآن نے اس بارے میں خاموشی اختیار کی ہے
14:16تاہم تفاثیر میں اس حوالے سے
14:17مختلف روایات ملتی ہیں
14:19اسلامی تعلیمات کے مطابق
14:20وہ دن جو کسی قوم کے لیے
14:22اللہ کی خاص رحمت اور نعمت کا نزول ثابت ہو
14:24وہی دن ان کے لیے عید کہلانے کے لائق ہے
14:27مسلمانوں کے لیے عید کا آغاز اس وقت ہوا
14:29جب ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں
14:31اسلامی معاشرت، ثقافت اور تمدن کی بنیاد رکھی گئی
14:34ناظرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:37کے مدنی دور میں عید کا سلسلہ شروع ہوا
14:40حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
14:42کہ مدینہ کے لوگ جاہلیت کے زمانے میں
14:44دو مخصوص دن تہوار کے طور پر مناتے تھے
14:46جن میں وہ کھیل تماشے کیا کرتے تھے
14:48رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:50نے ان سے پوچھا
14:51یہ دو دن جو تم مناتے ہو ان کی کیا حقیقت ہے
14:53انہوں نے جواب دیا یہ تہوار
14:55ہمارے قدیم زمانے کی روایت میں شامل ہیں
14:57اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:59نے فرمایا
15:00اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دونوں تہواروں کے بدلے میں
15:02تمہیں دو بہترین دن اتا فرمائے ہیں
15:04ایک عید الفطر اور دوسرا عید الازحا
15:07سنن نیبی دعود
15:08چونکہ اسلام دین فطرت ہے
15:10اس لیے اس نے جہاں مسلمانوں کو
15:11غیر اسلامی رسومات سے محفوظ کیا
15:14وہیں ان کے فطری تقاضوں کا بھی
15:15مکمل خیال رکھا
15:17عید منانا انسانی فطرت کے این مطابق تھا
15:20چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک نہیں
15:22بلکہ دو عیدوں کی سعادت نصیب فرمائی
15:27عید الفطر جو رمضان کے بعد بطور انام دی گئی
15:30اور عید الازحا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی
15:32عظیم قربانی کی یادگار ہے
15:34پس عید کا دن صرف خوشی منانے کے لیے نہیں
15:36بلکہ یہ اس بات کا موقع بھی ہے
15:38کہ ہمیں اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر ادا کریں
15:41گناہوں سے توبہ کریں
15:43اور اپنی زندگی میں نیکی اور تقویٰ کو
15:44اپنانے کا عہد کریں
15:45یہ حقیقت ہے کہ تمام انبیاء کی امتیں
15:47کسی نہ کسی انداز میں عید مناتی رہی ہیں
15:50حضرت عادم علیہ السلام کی امت نے
15:52اس دن کو عید کے طور پر منایا
15:54جس دن اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی
15:57حضرت عبراہیم علیہ السلام کی قوم
15:59اس دن خوشی مناتی تھی
16:00جب انہیں نمرود کی آگ سے نجات ملی
16:02حضرت یونس علیہ السلام کی قوم
16:04نے اس دن کو عید قرار دیا
16:06جس دن وہ مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے
16:08اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کی امت نے
16:10اس دن کو مسرط و شادمانی کے طور پر منایا
16:13جب ان پر آسمان سے مائدہ اتارا گیا
16:15عربوں میں مختلف تہوار کا رواج تھا
16:18جن میں جشن و سرور
16:19شراب نوشی جوا اور رقص و موسیقی کی
16:22محفل شامل تھی
16:22مگر اسلام نے مسلمانوں کی خوشیوں کو
16:25ایک پاکیزہ روحانی رنگ میں ڈھال دیا
16:27قوم اور مذہب کی عید کا ایک مخصوص پس منظر
16:29اور منفرد مزاج ہوتا ہے
16:31اسی طرح اسلامی عیدین کی اپنی ایک حسین
16:35ایمان افروز اور روح پرور حقیقت ہے
16:37رمضان المبارک ایک نہایت بابرکت مہینہ ہے
16:40جو اللہ کی بے شمار رحمتوں
16:42مغفرتوں اور برکتوں سے مالا مال ہے
16:44اسی مہینے میں قرآن نازل ہوا
16:46فتح مکہ ہوئی اور حق و باطل کے درمیان
16:48پہلا فیصلہ کنمار کا
16:49یعنی غزوہ بدر برپا ہوا
16:51اسی ماہ میں مسلمانوں پر روزوں کی فرضیت نازل کی گئی
16:54تراوی کی نماز کو سنت بنایا گیا
16:56اور لیلت القدر کی عظیم نعمت اتا کی گئی
16:59جو ہزار مہینوں سے افضل رات ہے
17:01اس مبارک مہینے کی آخری عشر میں
17:03اعتقاف کی عبادت بھی ہے
17:04جس میں بندہ اپنے رب کی قربت میں آ جاتا ہے
17:06جب کوئی مومن پورے مہا
17:08عبادت و ریاضت میں مشغول ہو کر
17:09اپنی خواہشات اور نفسانی لذتوں پر قابو پا لیتا ہے
17:12اور اللہ کی بندگی میں سرشار ہو جاتا ہے
17:15تو اس پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے
17:17پھر اس پر لازم آتا ہے
17:18کہ وہ اس بے پناہ انعائت پر شکر ادا کرے
17:21اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے
17:22اپنے بندوں کو انعام و اکرام سے نوازنے کے لیے
17:25ایک خاص دن عطا فرماتا ہے
17:27یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک کے فوراً بعد
17:29یکم شبال کو عید الفطر کی صورت میں
17:31خوشی کا دن منایا جاتا ہے
17:34رمضان کے آخری رات کو
17:35نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
17:37یوم الجزا یعنی جزا کا دن قرار دیا ہے
17:40اور جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کرم فرماتا ہے
17:42تو وہ پورے خوشی و خضو کے ساتھ
17:44یکم شبال کو یوم تشکر کے طور پر مناتے ہیں
17:47یہی عید الفطر کی حقیقت
17:49اور اس کی اصل روح ہے
17:50اسی طرح عید الازہ جو کہ
17:52دس زلحجہ کو منائی جاتی ہے
17:54ایک اور عظیم اسلامی تہوار ہے
17:56جس کی بنیاد قربانی کے فلتصفے پر رکھی گئی ہے
18:00تقریباً تمام قومیں
18:01اپنی ثقافت اور مذہبی روایت کے مطابق
18:03تہوار مناتی ہیں
18:04اسلامی عیدین دیگر مذہب کے تہواروں سے
18:07بالکل مختلف ہیں
18:08جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:10حجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے
18:13تو وہاں کے لوگ مختلف تہوار مناتے تھے
18:15جن میں بعض بڑے جشن اور
18:17بدپرستی کے رسومات بھی شامل تھیں
18:18آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
18:21ان رسوم کو پسند نہیں فرمایا
18:22اور اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی
18:25اس کے بعد مسلمانوں کے لئے
18:27دو عیدیں مقرر کر دی گئیں
18:28جب رمضان کے روزے فرض کیے گئے
18:30تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:32نے مدینہ کے انسار سے فرمایا
18:34کہ ہر قوم کے لئے عید ہوتی ہے
18:36اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے
18:38ان دو عیدوں کو مقرر فرمایا ہے
18:40یعنی عید الفطر اور عید الازہ
18:45ناظرین عید ہر سال لوٹ کر آتی ہے
18:47اس لئے اسے عید کہا جاتا ہے
18:49انسانی تاریخ کا کوئی دور ایسا نہیں
18:51جس میں عید کا تصور موجود نہ ہو
18:54قدیم تاریخی کتب سے معلوم ہوتا ہے
18:56کہ جب دنیا میں تہذیب کا آغاز ہوا
18:58تو اسی وقت عید کا بھی آغاز ہو گیا
19:00ایک روایت کے مطابق
19:02دنیا کی پہلی عید
19:03اس دن منائی گئی
19:04جب حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی
19:06دوسری بار اس وقت منائی گئی
19:08جب حابیل اور قابیل کے درمیان
19:10کشمہ کش کا خاتمہ ہوا
19:11حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امت نے
19:13اس دن خوشی منائی
19:14جب نمروت کی آگ ان کے لئے
19:16تھنڈی اور سلامتی والی ہو گئی
19:18حضرت یونس علیہ السلام کی امت نے
19:20اس دن مسررت کا اظہار کیا
19:21جب انہیں مشلی کے پیٹ سے رہائی ملی
19:23حضرت موسی علیہ السلام کی قوم نے
19:25اس دن عید منائی
19:26جب فیرون کے ظلم سے
19:27بنی اسرائیل کو نجات ملی
19:28حضرت عیسی علیہ السلام کی امت
19:30آج بھی ان کے پیدائش کے دن کو
19:32عید کے طور پر منا دی ہے
19:33مسلمانوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:36کی حکم کے مطابق
19:37یکم شوال دو ہجری کو
19:39پہلی بار عید الفطر منائی
19:40عید الفطر در حقیقت
19:42عید الفطر در حقیقت
19:46مسلمانوں کی خوشی اور مسررت کا وہ دن ہے
19:48جب وہ پورے سال میں
19:49ایک مرتبہ اجتماعی طور پر
19:51اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں
19:52مسلسل ایک ماہ تک
19:56مسلسل ایک ماہ تک
19:57اللہ کی عبادت کرنے کے بعد
19:58ہر مومن کے دل میں خوشی اور روحانی مسررت پیدا ہوتی ہے
20:03عید کے موقع پر
20:04مسلمان ایک دوسرے سے محبت
20:05اور اخوت کا مظاہرہ کرتے ہیں
20:07گلے ملتے ہیں
20:08اور اگر کسی سے رنجش ہو
20:09تو اسے ختم کر کے صلاح کر لیتے ہیں
20:11اس روز ہر مسلمان پر لازم ہے
20:12کہ وہ دل کی رنجشیں نکال کر
20:14بھائی چارے اور محبت کو فروغ دے
20:16کیونکہ عید خوشیوں کا دن ہے
20:17اور ہمیں چاہیے کہ
20:18اپنی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شریک کریں
20:20عید الفطر کی ایک بڑی حکمت یہ ہے
20:22کہ اس دن زکاة الفطر ادا کی جاتی ہے
20:24تاکہ معاشرے کے غریب اور نادار لوگ بھی
20:27عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں
20:28جو مسلمان مالی سے طاعت رکھتے ہیں
20:31ان پر واجب ہے کہ وہ صدقہ فطر ادا کریں
20:34تاکہ ضرورت مند افراد کو بھی
20:37کھانے پینے اور پہننے کے لیے
20:38کچھ میسر آسکے
20:39ہمارے معاشرے میں بے شمار ایسے لوگ ہیں
20:41جو غربت اور تنگ دستی کے باعث
20:43عید کی خوشیوں میں شریک نہیں ہو پاتے
20:44ہمیں چاہیے کہ ان کا بھی خیال رکھیں
20:46اور اپنی خوشیوں میں انہیں شامل کریں
20:48آج کے دور میں مہنگائی اور بے روزگاری
20:51کے سبب کئی گھرانے بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں
20:53اگر ہم اپنے آس پاس موجود
20:55ایسے افراد کی مدد کریں
20:57انہیں کپڑے اور کھانے پینے کی اشعہ فراہم کریں
20:59تو یہ محض ایک احسان نہیں
21:01بلکہ ایک دینی فریضہ ہے
21:02جس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
21:05رضا حاصل ہوتی ہے
21:06اگر ہم حقیقی خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں
21:09تو ہمیں دوسروں کے چہروں پر مسکراہت لانے کی کوشش کرنی چاہیے
21:12کسی حاجت مند کی مدد کر کے
21:14جو قلبی سکون اور روحانی خوشی حاصل ہوتی ہے
21:16وہ دنیا کے کسی عمل سے نہیں مل سکتی
21:18لہذا عید کے موقع پر غریبوں
21:21یتیموں اور ضرورت مندوں کی
21:23مدد کر کے اپنی عید کو حقیقی معنوں میں
21:25مبارک اور بابرکت بنائیں
21:26ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
21:28ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
21:31ضرور پسند آئی ہوگی
21:32اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہے
21:34تو آپ سے گزارش کرتے ہیں
21:35کہ آپ ہمارے چینل کو ضرور سبسکرائب کر لیں
21:38اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
21:40تاکہ آپ کے پاس ہماری آنے والی
21:42مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹفیکشن بروقت ملتا رہے
21:45سبسکرائب کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
21:47اور اپنی قیمتی رائے کا اظہار کامنٹس میں ضرور کریں
21:50کامنٹس میں آپ اپنے سوالات بھی ہم تک پہنچا سکتے ہیں
21:52اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظمان میں رکھے
21:54آمین
Comments