Skip to playerSkip to main content
Hazrat Ali RA Islam ke sab se azeem aur bahadur khalifaon mein se ek thay. Is video mein hum Hazrat Ali RA ki family tree, unki aulaad, Imam Hasan RA aur Imam Hussain RA ki nasal, aur Syed khandan ki mukammal tareekh ko detail mein explain karenge. Aap jaanenge ke Ahlul Bayt ki nasal duniya bhar mein kahan tak phail chuki hai aur unka asal shajra kya hai.

Is video mein Islamic history, Ahl e Bayt ki zindagi, Hazrat Ali RA ki family history, aur unke khandan ke important waqiat ko authentic andaaz mein bayan kiya gaya hai. Agar aap Islamic stories, Muslim history, aur sahaba family series dekhna pasand karte hain to ye video aapke liye bohat informative sabit hogi.

Video ko end tak zaroor dekhein aur comment mein likhein ke aap next kis Islamic شخصیت ya family tree par video dekhna chahte hain.

#HazratAli #AhlulBayt #IslamicHistory #ImamHussain #ImamHasan #MuslimHistory #HazratAliRA #FamilyTree #IslamicStories #SyedFamily #AhlEBayt
#NoorTv
#IslamicTeacher #HistoryOfIslam

Category

📚
Learning
Transcript
00:03Bismillah ar-Rahman ar-Rahim
00:30اور جہاں بیٹھ کر انسانیت کو سچائی کا راستہ دکھائے جاتا ہے
00:33پھر زمانے نے کروٹ لی اور منظر بدل کر
00:36کربلا کی سرزمین پر جا ٹھہرا
00:37جہاں ایک عظیم خاندان نے حق کی خاطر
00:40اپنا سب کچھ قربان کر دیا
00:42پیاس صحیح تکلیفیں برداشت کی
00:44دشمنوں کے ستم جھیلے
00:46مگر سچائی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا
00:48یہ کوئی معمولی خاندان نہیں تھا
00:50یہ آل رسول تھا
00:51یہ وہ ہستیاں تھیں جنہیں
00:53حق کی شما کہا جاتا ہے
00:55اور جن کی روشنی صدیان گزرنے کے باوجود
00:57آج بھی دلوں کو منور کرتی ہے
00:59آنکھوں کو تھنڈک دیتی ہے
01:01اور روح کو سکون بخشتی ہے
01:03حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی
01:05حیات مبارکہ شجاعت
01:07علم اور انصاف کا آلہ نمونہ تھی
01:09اور تاریخ نے ان کی اولاد کی تعداد
01:11ستہیس بیان کی ہے
01:13بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی
01:14یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہا
01:16آلات بدلتے گئے
01:17اور یہ مقدس نسل
01:18مختلف خطوں میں پھیلتی چلی گئی
01:20آج ہم اسی سوال کا جواب ڈھونڈیں گے
01:23کہ یہ سعداد آج کہاں ہیں
01:24اور کس حال میں ہیں
01:26پیارے دوستو آج کس گفتگو میں
01:27ہم جاننے کی کوشش کریں گے
01:28کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی
01:30اولاد آج کہاں آباد ہے
01:32اور ساتھ یہ بھی سمجھیں گے
01:33کہ جو لوگ آج خود کو سید
01:35یا سعداد کہتے ہیں
01:37کیا واقعی وہ سب حضرت علی
01:39رضی اللہ عنہ کی نسل سے ہیں
01:40اصل سید کون ہوتے ہیں
01:42ان کی پہچان کیا ہے
01:43اور یہ سلسلہ کہاں سے شروع ہو کر
01:45آج کہاں تک پہنچا ہے
01:46ان تمام سوالات کے جوابات
01:48آج ہم سادہ اور واضح انداز میں دیں گے
01:51تاکہ ہر سننے والے کو
01:52بات اچھی طرح سمجھ میں آسکے
01:54اس کے ساتھ ایک اور اہم پہلو پر بھی روشنی ڈالیں گے
01:57کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں
01:59کچھ ایسی باتیں مشہور ہیں
02:00جو سننے میں بڑی حیران کن لگتی ہیں
02:02جیسے بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے
02:03کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو
02:05زمین میں دفن ہی نہیں کیا گیا
02:07بلکہ فرشتے ان کا جنازہ آسمان پر لے گئے
02:09تو آخر اصل حقیقت کیا ہے
02:11آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ کس نے پڑھایا
02:13اور آپ کو کہاں دفن کیا گیا
02:15یہ سب راز اس گفتگو میں کھلیں گے
02:17اس لئے توجہ کے ساتھ آخر تک رہیں
02:19کیونکہ یہ بوداستان ہے
02:21جو نہ صرف تاریخ بیان کرتی ہے
02:22بلکہ آج کی حقیقت تک بھی لے جاتی ہے
02:24خلیفہ چاہرم
02:25جانشین رسول
02:27شہر بطول
02:28حضرت سیدنا
02:29علی ابن ابی طالب
02:30رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت
02:32ابو الحسن اور ابو تراب ہے
02:35آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
02:36بنی حاشم کے چشم و چراغ ہیں
02:38آپ کے والد ابو طالب
02:40اور والدہ فاطمہ
02:41دونوں حاشمی تھے
02:43اس لئے آپ نجیب الترفین
02:44حاشمی پیدا ہوئے
02:46آپ کی والدہ ماجدہ
02:47نے اسلام قبول کیا
02:48اور ہجرت مدینہ کا شرف بھی حاصل کیا
02:50انہوں نے مدینہ منورہ میں وفات پائی
02:52اور حضور نبی علیہ السلام
02:53نے خود
02:54ان کے کفن و دفن کا احتمام فرمایا
02:56اپنی قمیز مبارک
02:58ان کے کفن میں شامل فرمائی
02:59اور قبر تیار ہونے پر
03:01پہلے قدس میں داخل ہوئے
03:02اور اسے متبرک فرمایا
03:03آپ علیہ السلام نے مرہومہ کے لیے
03:06مغفرت کی دعا فرمائی
03:07اور ارشاد فرمایا کہ
03:08ابو طالب کے بعد
03:10میری پرورش اور کفالت میں
03:11حضرت علی رضی اللہ عنہ کی
03:13والدہ کی بہت بڑی خدمات ہیں
03:15اور میں نے
03:16ان کے حق میں
03:17اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے
03:18کہ قبر کی سختیاں ان پر آسان ہوں
03:20حضرت علی رضی اللہ عنہ کی
03:21بلادت مکہ مکرمہ میں
03:23عام الفیل کے سات سال بعد ہوئی
03:25بعض سیرت نگار لکھتے ہیں
03:26کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
03:28بلادت کے تیس سال بعد
03:30دنیا میں تشریف لائے
03:31حضور نبی علیہ السلام نے
03:33آپ کو اپنی کفالت میں لے لیا
03:34اور یوں آپ کی تربیت
03:36رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
03:38محبت بھری آغوش میں ہوئی
03:40اسی نسبت کی برکت سے
03:41آپ شروع ہی سے
03:42نیکی کی طرف مائل اور بد پرستی جیسی
03:45جاہلانہ رسومات سے کے نارکش رہے
03:47یہ تربیت کوئی معمولی تربیت نہیں تھی
03:49بلکہ یہ وہ درسگاہ تھی
03:50جہاں سے ایک ایسا انسان نکلا
03:52جس نے پوری دنیا کے سامنے
03:54اسلام کی سچائی
03:55اور بہدری کی لازبال داستان رقم کی
03:57شیرِ خدا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ
04:00اسلام قبول کرنے والوں میں
04:01سب سے پہلے لوگوں میں شامل ہیں
04:03آپ کی عمر مبارک صرف نو سال تھی
04:05جب آپ محسن انسانیت
04:06نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
04:09دست مبارک پر
04:10مشرف با اسلام ہوئے
04:11مکی زندگی کے نشب و فراز میں
04:13آپ ہر قدم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
04:16ساتھ رہے
04:17مدینہ میں داماد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
04:20شرف حاصل ہوا
04:21متعدد غزوات میں بے مثال شجاعت کا
04:23مظاہرہ کرتے ہوئے شیرِ خدا کا لقب پایا
04:25فتح خیبر
04:26اللہ تعالی نے آپ رضی اللہ عنہ کے
04:28ہاتھوں پر عطا فرمائی
04:30خلفاء راشدین رضی اللہ تعالی عنہ کے دستے راست رہے
04:32اور امت مسلمہ کے چوتھے خلیفہ کی حیثیت سے
04:35آپ قیامت تک مسلمانوں کے دلوں میں
04:37زندہ رہیں گے
04:38آپ کی ولادت تیرہ رجب کوئی
04:40اور یہ مدت
04:41فجرتِ مدینہ سے کم و بیش
04:42اکیس سال پہلے بنتی ہے
04:44علی نام رکھا گیا
04:45بالدہ حیدر
04:46یعنی شیر کہہ کر پھکارتی تھی
04:48جبکہ مرتضی اور عصد اللہ کے
04:50القاب خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
04:53نطاب فرمائے
04:53اور امت آپ کو امیر المومنین کے خطاب سے
04:56یاد کرتی ہے
04:57یہ وہ شخصیتیں جس کی شان میں خود
04:58رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:01نے ارشاد فرمایا
05:01کہ میں علم کا شہر ہوں
05:03اور علی رضی اللہ تعالی عنہ
05:05اس کا دروازہ ہیں
05:06یعنی جو علم کو پانا چاہے
05:08وہ علی کا دامن تھامے
05:10پیارے دوستو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ
05:12آپ علیہ السلام کے چچزاد بھائی تھے
05:14اور آپ کی پرورش
05:15نگداشت اور تربیت براہ راست
05:17نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:19کے زیر نگرانی ہوئی
05:20آپ علیہ السلام
05:21آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے والد
05:24ابو طالب بن
05:25عبد المطلب
05:26کثیر العیال
05:27اور معاشی اعتبار سے تنگ دست تھے
05:29اسی لئے آپ علیہ السلام نے
05:30حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا
05:33کہ جعفر تیار رضی اللہ تعالی عنہ کی پرورش آپ کریں
05:35اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کفالت
05:38میں کرتا ہوں
05:38اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی
05:40عمر مبارک صرف تین سال تھی
05:42اس طرح آپ کی صحبت شروع ہی سے
05:44نبوی ماحول میں رہی
05:45اور جہالت کی آلودگیوں سے پاک و صاف رہی
05:48بڑے ہوئے تو سفر اور حضر میں
05:50ہمیشہ آپ علیہ السلام کے ساتھ رہے
05:52گھر کے تمام معاملات میں ہاتھ بٹاتے
05:54اور اپنی عمر کے مطابق
05:56ذمہ داریاں نبھانے میں مدد کرتے
05:57یہی وجہ ہے کہ آپ
05:58رضی اللہ تعالی عنہ کے
06:00اخلاق و عادات پر
06:01اخلاق نبوی کی اتنی گہری چھاپ تھی
06:03کہ دیکھنے والے اکثر حیران رہ جاتے تھے
06:05بیست کے بعد جب رشتداروں کو
06:07دعوت دینے کا حکم آئے
06:08تو آپ علیہ السلام نے
06:10بنی حاشم کے سبھی افراد کو کھانے پر بلائیا
06:12اور انہیں ایمان کی دعوت دی
06:14اس موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا
06:16کہ گوم عمر میں چھوٹا ہوں
06:18میری ٹانگیں کمزور ہیں
06:19اور آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا ہوں
06:21مگر میں آپ کا مددگار بنوں گا
06:23اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر مبارک
06:25صرف آٹھ سال تھی
06:26مگر حوصلہ اور عظم کا یہ اظہار
06:28ہر بڑے سے بڑے انسان کو شمندہ کر دینے کے لئے کافی تھا
06:31مکی زندگی کے سارے آزمائشی دور میں
06:33آپ رضی اللہ عنہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے
06:38خود فرماتے ہیں کہ میں
06:39نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے
06:41اس طرح چلتا تھا جیسے
06:43اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے چلتا ہے
06:45تبلیغی اسفار میں اکثر آپ ہی رفیق سفر ہوتے
06:48تین سالہ شیب عبی طالب کی
06:50گھٹن بھری قید میں بھی
06:51نبی علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ رہے
06:53اور اس کٹھن وقت میں بھی حوصلہ نہ ہارا
06:55حجرت کی آخری رات
06:57آپ ہی بستر نبوی پر آرام فرما ہوئے
06:59یہ گویا موت کا بستر تھا
07:01اور آپ رضی اللہ عنہ نے حکم نبوی کے سامنے
07:03جان کی بھی پروانہ کی
07:05اور مسکراتے ہوئے اس خطرے کو قبول کر لیا
07:08اگلے دن امانتیں لوٹا کر
07:09مدینہ کی طرف روانہ ہوئے
07:11جب حضور علیہ وآلہ وسلم قبا کے مقام پر قیام پذیر تھے
07:14تو حضرت علی رضی اللہ عنہ
07:16اس حال میں آپ سے ملے
07:17کہ دونوں پاؤں چھالوں سے بھرے ہوئے تھے
07:19یعنی پیدل سفر کی تکلیب بھی برداشت کی
07:22مگر نبی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہنے کی
07:24تڑپ دل سے نہ گئی
07:25مواخات کے موقع پر
07:26آپ علیہ وآلہ وسلم نے خود کو انصار میں شامل فرما کر
07:29مہاجرین میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو
07:32اپنا مواخاتی بھائی قرار دیا
07:34اور فرمایا کہ تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو
07:37یہ الفاظ محض رسمی نہیں تھے
07:38بلکہ ان میں وہ گہری محبت تھی
07:40جو نبوت اور ولایت کے ملاب سے جنم لیتی ہے
07:43جب آپ کی عمر 22 سال کی ہوئی
07:45تو آپ علیہ وآلہ وسلم نے
07:47اپنی سب سے چھوٹی اور لادلی بیٹی
07:49خاتون جنت حضرت فاطمت الزہرہ
07:51رضی اللہ عنہ کا نکاح
07:53آپ رضی اللہ عنہ سے فرما دیا
07:55اور یوں آپ داماد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بن کر
07:59عزت و شرف میں سب سے آگے نکل گئے
08:01یہ دو ہجری کا واقعہ ہے
08:03اور اس نکاح نے وہ مقدس رشتہ قائم کیا
08:05جس سے آگے چل کر
08:07آل رسول کا وہ سلسلہ شروع ہوا
08:09جو آج بھی دنیا میں موجود ہے
08:10مدنی زندگی کے تمام غزوات میں شیر خدا
08:13حضرت علی رضی اللہ عنہ
08:14نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
08:16دست راست رہے
08:18بدر، عہد اور خندق کے معارکوں میں
08:20آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
08:22عزم و حمد، شجاعت اور جوہ مردی کی
08:25عظیم تاریخ رقم کی
08:26سلحہ حدیبیہ کا معاہدہ
08:28آپ ہی نے تحریر کیا
08:29مارکہ خیبر میں مرحب جیسے بدنام پہلوان سے نمٹنا
08:32صرف آپ رضی اللہ عنہ کا ہی حصہ تھا
08:35آپ نے اس کے بار کے جواب میں
08:36ایسا بار کیا کہ اس کا سر
08:38جبڑوں تک پھٹ گیا
08:39اور آخری قلعے کا دروازہ آپ نے
08:42اپنے ایمانی ہاتھوں سے اکھار پھینکا
08:44مکہ میں چڑھائی کے وقت
08:45جاسوسی کا خط لے جانے والی عورت کو بھی
08:47آپ نے پکڑا اور صحت برامت کیا
08:49حضرت علی رضی اللہ عنہ
08:51صرف غزوہ تبوک میں شامل نہ ہوئے
08:53کیونکہ آپ علیہ السلام نے
08:54انہیں بطور نائب مدینہ میں رہنے کا حکم فرمایا تھا
08:57ویسال نبوی کے وقت
08:58ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے
09:01حجر مبارک میں
09:02حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
09:04چند دیگر اصحاب رسول
09:05صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر
09:08نبی علیہ السلام کو غسل دیا
09:10اور تحجیز و تکفین کا کام سر انجام دیا
09:12ویسال نبوی اہل بیعت کیلئے
09:14کسی صدمے سے کم نہ تھا
09:15مگر شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
09:18بڑے حوصلے
09:19صبر اور حمد سے اس مرحلے پر
09:21خود کو اور اہل بیعت نبوی کو
09:23بخوبی سمحالا
09:24پیارے دوستو
09:25حضرت علی رضی اللہ عنہ
09:27خلفہ سلاسہ یعنی
09:29حضرت ابو بکر
09:35اہم امور میں ان کی رہنمائی فرماتے رہے
09:38ایران پر چڑھائی کے موقع پر
09:39شیر خدا حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی تھے
09:42جنہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو
09:43کسی صورت مرکز خلافت
09:45مدینہ منورہ نہ چھوڑنے کا
09:47مشورہ دیا تھا
09:48ایک موقع پر آپ رضی اللہ عنہ نے
09:50خود اس کا اطراف کیا
09:51جب کسی نے پچھلے خلفاء کے دور کی بہتری
09:53اور آپ کے دور خلافت کی خرابی کا شکوہ کیا
09:56تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا
09:57کہ انہیں مشورہ دینے والے ہم تھے
09:59اور ہمیں مشورہ دینے والے تم ہو
10:01حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قائم کردہ کمیٹی
10:03جس میں حضرت عثمان
10:05حضرت علی
10:05حضرت طلحہ
10:06حضرت زبیر
10:07حضرت عبد الرحمن بن عوف
10:08اور حضرت سعید بن عبی وقاس
10:10رضی اللہ عنہ شامل تھے
10:12اس کمیٹی کے فیصلے میں
10:13حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد
10:15دوسرا نمبر
10:16حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تھا
10:18حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد
10:20تین دن تک منصب خلافت خالی رہا
10:23مدینہ پر فتنہ پرواز
10:24لوگوں کا قبضہ تھا
10:26اور کوئی بھی نامور شخصیت بارے خلافت اٹھانے کو تیار نہ تھی
10:29ان حالات میں انصار و مہاجرین کے بزرگ جمع ہو کر
10:32حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ترشیف لائے
10:35اور انہیں اس منصب کو قبول کرنے کی دعوت دی
10:37ابتدا میں آپ نے انکار کیا
10:39اور فرمایا کہ مجھے امیر کے بجائے
10:40وزیر بننا پسند ہے
10:42مگر حالات کی ضرورت اور امت مسلمہ کا اجمع
10:44دونوں آپ کی ذات پر ہی آ کر مرکوز ہو رہے تھے
10:48اور آپ کی بلند ہمت نے
10:49اس نازک وقت میں امت کی باغ دور سمالنے کا فیصلہ کیا
10:53اقتدار سمالتے ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
10:56گزشتہ قلفہ راشدین کے سنت کے مطابق
10:58تمام مسلمانوں کے سامنے خطبہ دیا
11:00آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا
11:02اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت
11:04اور رہنمائی کے لئے قرآن مجید نازل فرمایا ہے
11:07اس میں خیر و شر سب کھول کھول کر بیان فرما دیئے ہیں
11:10تم اللہ تعالیٰ کے آیت کردہ فرائض ادا کرو
11:13تمہیں جنت ملے گی
11:14اللہ تعالیٰ نے حرمت پاک کو محترم ٹھہرایا ہے
11:17مسلمانوں کی جان کو ہر چیز سے زیادہ قیمتی قرار دیا ہے
11:21اور مسلمانوں کو خلوص و اتحاد کی تلقیم کی ہے
11:23مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے
11:25دوسرے مسلمان محفوظ رہیں
11:27اللہ کے بندوں سے معاملہ کرتے ہوئے
11:29اللہ سے ڈرو
11:30قیابت کے روز زمینوں اور مویشیوں کے بارے میں
11:32تم سے باز پرس ہوگی
11:33اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو
11:35اور اس کے احکامات کی خلاف ورزی سے بچو
11:37جہاں بھلائی کی بات دیکھو اس سے قبول کرو
11:39اور جہاں برائی نظر آئے اس سے پرہیز کرو
11:41یہ وہ خطبہ تھا جس نے
11:43امت مسلمان کو اس نازک دور میں
11:45ایک واضح راستہ دکھایا
11:47اب یہ بھی جان لیجئے کہ
11:48حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ انہوں کے
11:49کتنا نکاح ہوئے
11:50ان کے ازواج کے نام کیا ہیں
11:52اور ان کے اولاد کی تعداد کتنی ہیں
11:53حضرت علی رضی اللہ عنہ
11:55ان خوشنصیب صحابہ میں سے ایک ہیں
11:57جن کی کسیر ازواج اور کسیر اولاد تھی
11:59کسرت ازواج کی فضیلت کے بارے میں
12:01علماء کرام بیان فرماتے ہیں
12:03کہ جہاں ایک سے زائد شادیوں کا رواج ہو
12:05وہاں سے بےہائی رخصت ہو جاتی ہے
12:07لڑکیوں کا گھر سے بھاگنا بند ہو جاتا ہے
12:10اور معاشرے میں امن و سکون پھیلنے لگتا ہے
12:12صحابہ اکرام کے دور میں دیکھا جائے
12:14تو ایک شادی والے صحابی بہت کم ملتے ہیں
12:16بلکہ کوئی صحابی ایسا نہیں
12:17جس نے صرف ایک شادی کی ہو
12:19نہ ہونے کے برابر ہیں
12:20حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک روایت ہے
12:23کہ آپ نے کل نوہ نکاح فرمائے
12:25یعنی آپ طلاق بھی دیتے
12:26اور بیق وقت
12:27ایک سے زائد ازواج بھی رکھتے
12:29ایک روایت میں آتا ہے
12:30کہ نبی علیہ السلام نے نکاح کے وقت
12:32حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا
12:34کہ فاطمہ میری بیٹی ہے
12:35میرے جگر کا ٹکڑا ہے
12:37اسے تکلیف دی تو مجھے بھی تکلیف ہوگی
12:39محدثین اور منصفین لکھتے ہیں
12:41کہ یہ اس طرف ایک زبدست اشارہ تھا
12:43کہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کی حیات میں
12:45حضرت علی رضی اللہ عنہ دوسرا نکاح نہ کریں
12:48اور حضرت علی رضی اللہ عنہ
12:50ہمیشہ اس پر قائم رہے
12:51اگرچہ آپ کی طبیعت جلالی تھی
12:53مگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو
12:55کوئی تکلیف نہ پہنچائی
12:56پیارے دوستو
12:57حضرت علی رضی اللہ عنہ کا پہلا نکاح
13:00حضرت فاطمہ بنت رسول
13:01صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا
13:03حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی حیات میں
13:05آپ نے کسی اور سے نکاح نہیں کیا
13:07حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے بطن سے
13:10تین بیٹے یعنی حسن حسین
13:11اور بعض روایت کے مطابق محسن بھی
13:14اور دو بیٹیاں یعنی زینب کبرا
13:16اور ام کلسوم کبرا پیدا ہوئیں
13:18محسن بچپن میں ہی انتقال کر گئے
13:20ام کلسوم کا نکاح حضرت عمر بن خطاب
13:22رضی اللہ عنہ سے ہوا
13:23دوسری زوجہ ام البنین بنت حزام تھی
13:26جن سے عباس جعفر عبداللہ
13:28اور عثمان پیدا ہوئے
13:30اور حضرت عباس کے سوا یہ سب کربلا میں شہید ہوئے
13:33تیسی زوجہ لیلہ بنت مسود تھی
13:35جن سے عبادللہ اور ابو بکر پیدا ہوئے
13:37اور یہ دونوں بھی کربلا میں شہید ہوئے
13:39چوتھی زوجہ عثمہ بنت عمیس تھی
13:42جن سے یحیاء اور محمد اسغر پیدا ہوئے
13:44پانچوی زوجہ ام حبیب بنت ربیہ تھی
13:47جن سے عمر اور رقیہ پیدا ہوئے
13:49چھٹی زوجہ ام سعید بنت عربا بن مسود تھی
13:52جن سے دو بیٹیاں ام الحسن اور رملہ کبرا پیدا ہوئیں
13:56ساتوی زوجہ بنت عمرو القیس تھی
13:59جن سے صرف ایک بیٹی پیدا ہوئی
14:00آٹھوی زوجہ امامہ بنت عبی العاص بن ربی تھے
14:04جن سے محمد عاص پیدا ہوئے
14:06اور خولہ بنت جعفر بن قیس سے
14:08محمد بن حنیفیہ پیدا ہوئے
14:11اس طرح نو عزواز سے پندرہ صاحب زادگان
14:13اور اٹھارہ صاحب زادیاں پیدا ہوئیں
14:16اور یہی وہ مبارک نسل ہے
14:17جو آگے چل کر دنیا کے کونے کونے میں پھیلی
14:20اس مقام پر یہ بات بھی ذہن نشین رہے
14:23کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمہ بیان کرتے ہیں
14:26کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا
14:28کہ اللہ تعالی سے محبت کرو
14:30ان نعمتوں کی وجہ سے جو اس نے تمہیں عطا فرمائی ہیں
14:32مجھ سے محبت کرو
14:33اللہ کی محبت کے سبب
14:35اور میری محبت کی وجہ سے
14:36اہل بیعت سے محبت کرو
14:38اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمہ سے
14:40یہ بھی مروی ہے
14:41کہ حضور نبی علیہ السلام نے فرمایا
14:43کہ میرے اہل بیعت کی مثال
14:45حضرت نو علیہ السلام کی کشتی جیسی ہے
14:47جو اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا
14:49اور جو پیچھے رہ گیا وہ ڈوب گیا
14:51یہ فرمان نبوی اہلِ بیعت کی عظمت
14:54اور مقام کو واضح کرنے کیلئے کافی ہے
14:56اور ہر مسلمان کو چاہیے
14:57کہ وہ آلِ رسول سے محبت کو
14:59اپنے ایمان کا حصہ سمجھے
15:01اب یہ بھی سمجھ لیجی کہ سید سادات
15:03آلِ رسول اور اہلِ بیعت
15:05رسول میں کیا فرق ہے
15:07اور ان میں کون کون شامل ہیں
15:08سید کے مزدعق وہ لوگ ہیں
15:10جو حضرت علی حضرت جعفر حضرت عباس
15:12حضرت عقیل اور حضرت حارث رزوان
15:14اور حضرت حارث رزوان اللہ
15:16علیہم عجمعین کی اولاد میں سے ہیں
15:19اور ان سب پر صدقہ حرام ہے
15:20اور اہلِ بیعت سے مراد
15:22ازواجِ متحرات اور نبی کریم
15:24صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
15:26آل و اولاد اور داماد
15:28یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ شامل ہیں
15:30بعض آئمِ تفسیر نے اہلِ بیعت سے مراد
15:33صرف ازواجِ متحرات کو قرار دیا ہے
15:35آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:37کے مزدعق میں مختلف اقوال ہیں
15:39بعض نے اس سے آپ
15:40علیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
15:42اولاد مراد لی ہے
15:43اور اکثر نے ان لوگوں کو مراد لیا ہے
15:45جن پر صدقہ حرام ہے
15:46اہلِ بیعت سے محبت ایمان کی علامت ہے
15:49اور اہلِ بیعت بھی صحابہ کرام ہی میں شامل ہیں
15:51صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی
15:53عمومی درجہ بندی میں سب سے پہلے
15:55چاروخلفہِ راشدین
15:56پھر اشرہِ مبشرا
15:58پھر اصحابِ بدر
15:59پھر اصحابِ اوہد
16:00پھر بیعتِ رزوان کے شورکہ
16:02اور اس کے بعد فتح مکہ میں
16:04مسلمان ہونے والے صحابہ کرام کا شمار ہے
16:07جو اہلِ بیعت ان درجہ بندیوں میں شامل ہیں
16:09وہ تمام فضائل انہیں بھی حاصل ہیں
16:11بلکہ ان کے لیے
16:12مستقل فضائل بھی وارد ہوئے ہیں
16:14ہمارے عرف میں سید صرف وہ کرانے ہیں
16:17جو حضرت فاطمت الزہرہ
16:19رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی
16:20صحاب زادگان
16:21حضرت حسن اور حضرت حسین
16:23رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہوں
16:25انہی کا لقب سید ہے
16:27اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
16:29ان کی نسبی نسبت کی علامت ہے
16:32نبی علیہ السلام نے
16:33حضرت حسنین کریمین کو
16:35سید الشباب اہل الجنہ
16:37یعنی نوجوانہ نے جنت کے سردار قرار دیا
16:39اور حضرت فاطمت الزہرہ
16:41رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو
16:43سیدت النساء اہل الجنہ کا لقب دیا
16:49آج کر ہر کوئی خود کو سادات میں سے کہتا ہے
16:51اس لئے سید کی پہچان کے بارے میں
16:53یہ یاد رہے کہ جن لوگوں کے پاس
16:54مستند نسب نامہ موجود ہو
16:56یا جن کے بارے میں لوگوں میں
16:58مشہور ہو کہ یہ خاندان سید ہے
17:00تو وہ سادات کہلائیں گے
17:01زکاة کے بارے میں یہ حکم ہے
17:03کہ اگر کوئی شخص محض یہ کہے
17:04کہ میں سید ہوں
17:05تو اسے زکاة دینا جائز نہیں ہوگا
17:07کیونکہ اس کے لئے ثبوت ضروری ہے
17:09پیارے دوستو حضرت علی رضی اللہ عنہ
17:11جو آپ علیہ السلام کے چچزاد بھائی
17:13داماد اور صحابی ہیں
17:15ان کی نسل آج سادات کے نام سے
17:16پوری دنیا میں موجود ہے
17:17سادات وہ بزرگان اسلام ہے
17:19جن کا نسب براہ راست
17:21حضرت علی رضی اللہ عنہ
17:22اور حضرت فاطمت الزہرہ
17:24رضی اللہ عنہ کے بیٹوں
17:26حضرت حسن اور حضرت حسین
17:28رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے
17:29اور اسی وجہ سے اسلام میں
17:31انہیں خاص عزت احترام
17:32اور وقار کے ساتھ
17:33یاد کیا جاتا ہے
17:34سادات کی بڑی تعداد
17:36عرب دنیا
17:36ایران پاکستان ہندوستان
17:38افغانستان ترکی
17:40مغربی ایشیا
17:41اور دیگر اسلامی ممالک میں
17:42پائی جاتی ہے
17:43جہاں ان کے خاندان
17:44مختلف علاقوں میں عباد ہیں
17:46اور اسلامی تعلیم
17:47تبلیغ
17:48خدمت انسانیت
17:49روحانیت
17:50اور مذہبی رہنمائی کے کاموں میں
17:51سرگر میں عمل ہیں
17:53ان سادات کے گھرانے
17:54ہمیشہ سے دینی کاموں
17:55مساجد اور مدالس کے ذریعے
17:57اسلام کے اشاعت
17:58لوگوں کو دین حق کی طرف
17:59راغب کرنے
18:00اور اخلاق و آداب سکھانے میں
18:01مشغول رہے ہیں
18:03حضرت بی بی فاطمہ
18:04رضی اللہ تعالی عنہ کے بطن سے
18:05چلنے والی نسل فاطمی
18:07اولاد کہلاتی ہے
18:08جبکہ دیگر ازواز سے
18:09ہونے والی
18:10اولاد
18:10اللہ بھی کہلاتی ہے
18:11آپ کی نسل سے بعض نے
18:13حکومت دی کی
18:14مگر اکثر
18:14اپنے اجداد کی روش
18:16اپناتے ہوئے
18:16فقیرانہ اور سادہ زندگی
18:18پر قانے رہے
18:19اور دنیاوی آرسائش سے
18:20بے نیاز رہ کر
18:21دین حق کی خدمت میں
18:22لگے رہے
18:23اب سب سے آخر میں
18:24یہ بھی جان لیجی
18:25کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ
18:26کا جنازہ
18:27کس نے پڑھایا
18:28اور آپ کو کہاں
18:29دفن کیا گیا
18:30صحیح روایت کے مطابق
18:31حضرت علی رضی اللہ عنہ پر
18:32کوفہ کی جامعہ مسجد میں
18:34چالیس ہجری
18:35سترہ رمضان المبارک
18:36بروز جمعت المبارک
18:46مرتبے پر فائز ہوئے
18:48یہ وہ علمتہ جب
18:49اسلام نے ایک ایسے ستون کو کھویا
18:50جس کی جگہ پر کرنا
18:51ممکن نہ تھا
18:52کفن دفن
18:53حضرت حسین حسن
18:54محمد بن حنیفیہ
18:55اور عبداللہ بن جعفر
18:57رضی اللہ تعالی عنہم نے کیا
18:58اور باقی لوگ بھی ساتھ رہے
19:00جنازہ حضرت حسن بن علی
19:01بن ابی طالب نے پڑھایا
19:03اور آپ رضی اللہ عنہ کو
19:04گورنر ہاؤس کے قریب
19:06کوفہ میں ہی دفن کیا گیا
19:07تاہم آپ رضی اللہ تعالی عنہ
19:09کی قبر مبارک کو
19:10خفیہ رکھا گیا
19:11کیونکہ خارجیوں کی طرف سے
19:12بے حرمتی کا خطرہ تھا
19:14اور اس وقت کے حالات ایسے تھے
19:15کہ احتیاط ضروری تھی
19:16یہی وہ حقیقت ہے
19:17جسے تاریخ نے محفوظ کیا
19:19اور جو آج بھی ہمیں یہ سبق دیتی ہے
19:21کہ عظیم لوگوں کی یاد کو زندہ رکھنا
19:22ہمارا فریصہ ہے
19:24دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں
19:25اہلِ بیعتِ رسول کی قدر کرنے
19:27ان سے سچی محبت رکھنے
19:28اور ان کے نقشے قدم پر چلنے کی
19:30توفیق عطا فرمائے
19:31اور اللہ کریم ہمیں بھی
19:32ان نیک اور محبوب بندوں کے ساتھ
19:34جنت میں اکھٹا فرمائے
19:36آمین
19:37یارب العالمین
Comments

Recommended