Skip to playerSkip to main content
The Last Hajj of Prophet Muhammad ﷺ — Khutba Hajj Tul Wida Ke Rooh Hila Dene Wale Alfaaz _ Hajj 2026 - Noor TV
Dosto… sochiye wo azeem lamha jab 1 lakh se zyada Sahaba Kiram Maidan e Arafat mein mojood thay… aur Nabi Kareem ﷺ apni zindagi ka aakhri Hajj ada farma rahe thay. Har taraf khamoshi thi… aur phir Nabi ﷺ ne wo tareekhi khutba diya jis ne poori insaniyat ko hamesha ke liye badal diya.
Ye tha Khutba Hajj Tul Wida — Islam ka sabse emotional aur powerful paigham jahan Nabi ﷺ ne Muslim Ummah ko آخری naseehatein farmaein, insani huqooq bayan kiye, aur deen e Islam ko mukammal hone ki khushkhabri di.
Is video mein aap jaanenge:
• Nabi ﷺ ke aakhri Hajj ki complete kahani
• Maidan e Arafat ke roohani manazir
• Khutba Hajj Tul Wida ka asal paigham
• Jabal e Rahmat ki history
• “Aaj maine tumhara deen mukammal kar diya” wali ayat ka waqia
• Sahaba Kiram ka emotional reaction
• Hajj ka roohani aur tareekhi maqam
Ye video sirf Islamic history nahi balke har Musalman ke dil ko hila dene wala roohani safar hai jo hume Nabi ﷺ ki aakhri naseehat yaad dilata hai.
Agar aap Islamic documentaries, emotional Islamic stories aur Hajj history pasand karte hain to ye video end tak zaroor dekhein.
#LastHajj #HajjTulWida #Nabiﷺ #Hajj2026 #MaidanEArafat #IslamicHistory #KhutbaHajjTulWida #NoorUlHaq #HajjLive #NoorTV #IslamicVideos #MuslimHistory #HajjDocumentary #IslamicReminder #Arafat

Category

📚
Learning
Transcript
00:00. . . .
00:30He has said that his read,
00:32they are very proud of his Indeed,
00:35but in the middle of it,
00:36said that He has said that
00:44He has said that He has said that
00:46He has done it so that He has done it with a defense,
00:48but the people have said that
00:48but our we will see it
00:50that the He has said that
00:52He has said that
00:56He has told it
00:58and that the other of it
00:59I'll see you next time.
01:29This is how it is.
01:59ڈعفات میں لوگ دنیا کے مختلف حصوں سے حج کیلئے آتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
02:04اس اجتماع سے فائدہ اٹھاتے تھے آپ علیہ السلام مختلف خیموں میں جاتے تھے لوگوں سے ملتے تھے اور دعوت
02:10دیتے تھے
02:10چنانچہ انسار مدینہ کے دونوں گروہوں عوصر خزرش کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو رابطہ
02:17ہوا وہ حج ہی کے موقع پر ہوا
02:19ان دونوں قبائل کے لوگ حج کے لئے آئے ہوئے تھے حضور علیہ السلام مختلف خیموں میں جا کر دعوت
02:24دے رہے تھے
02:24تو انہوں نے آپ علیہ السلام کی بات تبوجہ سے سنی اور قبولیت کا اظہار کیا
02:29رمضان المبارک آٹھ ہجری میں مکہ فتح ہوا نو ہجری میں مسلمانوں نے اجتماعی طور پر حضرت عبقر صدیق رضی
02:35اللہ عنہ کی عمارت میں پہلا حج ادا کیا
02:36حضور علیہ السلام اس حج میں خود تشریف نہیں لے گئے بلکہ حضرت عبقر صدیق کو مدینہ سے امیر حج
02:42بنا کر بھیجا
02:43ان کے ذریعے حج کے موقع پر کچھ اعلانات کروائے
02:45ان کے بعد حضرت علیہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا کچھ اعلانات ان کے ذریعے کروائے
02:49اور آئندہ سال اپنے حج کے لئے تیاری کی
02:51بخاری
02:52اس تیاری میں دو تین باتیں اہام تھی
02:54پہلی یہ کہ مختلف عرب قبائل کے ساتھ جو مہائدات تھے
02:57ان میں سے کچھ کو باقی رکھنے کا فیصلہ کرنا تھا
02:59اور کچھ کو ختم کرنے کا
03:00اور دوسری بات یہ تھی کہ آئندہ سال اپنے حج سے پہلے
03:03حضور علیہ السلام مکہ کے ماحول میں کچھ صفائی چاہتے تھے
03:07مثلا پہلے ہر قسم کے لوگ حج کے لئے آ جاتے تھے
03:09آپ علیہ السلام نے اعلان کروا دیا کہ آج کے بعد
03:12کوئی غیر مسلم یہاں نہیں آئے گا
03:13یہ بیت اللہ صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص ہے
03:16یہ بیت اللہ ابراہیمی ہے
03:17اور ابراہیم علیہ السلام کی ملت کے لئے مخصوص ہے
03:20اسی طرح پہلے بہت سے لوگ
03:22حج کے لئے آتے تو ننگے تواف کرتے
03:24مرد بھی اور عورتیں بھی
03:25عورتوں نے معمولی سا لنگوٹی طرز کا کوئی کپڑا پیان رکھا ہوتا تھا
03:28اور کہتے تھے کہ یہ نیچر ہے
03:30کہ ہم لوگ دنیا میں ننگے آئے تھے
03:31اسی لئے اللہ کے دربار میں ننگے ہی پیش ہوں گے
03:34بعض روایت میں ذکر ہے کہ
03:35مرد تو تلبی پڑھتے تھے
03:37لیکن عورتیں کچھ اشار پڑھتی تھیں
03:39کہ ہم اللہ کے دربار میں اس قیفیت
03:41حالت ننگی میں پیش ہیں
03:42ہمارا سارا سطر یا اس کا کچھ حصہ دکھائے دے گا
03:45لیکن ہم اپنے آپ کو کسی پر حلال نہیں کرتی
03:47کہ وہ ہماری طرف دیکھے
03:49عورت نے اس طرح کی اشار پڑھتی ہوئی تواف کیا کرتی تھی
03:51نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
03:53نے یہ بھی اعلان کروا دیا
03:55کہ آج کے بعد کوئی شخص ننگا تواف نہیں کرے گا
03:57عورتیں تو مکمل لباس میں ہوں گی
03:59اور باہیا اور بابقار طریقے سا کر تواف کریں گی
04:02اور مرد بھی اپنا جسم مکمل طور پر ڈھاپیں گے
04:04لیکن دو چادروں سے
04:06یہ دو اعلان حضور علیہ صلی اللہ علیہ وسلم
04:08نے اگلے سال کے لیے کروا دیا تھے
04:10کہ اگلے سال کوئی غیر مسلم حج کے لیے نہیں آئے گا
04:12اور کوئی ننگا تواف نہیں کرے گا
04:14اس کے علاوہ اور بھی متفرق اعلانات کروائے
04:17کہ آج کے بعد حج میں فلا عمل ہوگا
04:19اور فلا نہیں ہوگا
04:20پھر اس احتمام کے ساتھ
04:22نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
04:24پورا سال مختلف قبائل میں پیغامات بھیجے
04:26کہ آئندہ سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
04:29حج کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں
04:31اس لئے جو مسلمان بھی اس موقع پر پہنچ سکتا ہے پہنچے
04:34چنانچہ پورا سال یہ اعلانات ہوتے رہے
04:36لوگوں تک یہ پیغام پہنچتا رہا
04:38کہ جس مسلمان نے حضور علیہ وسلم کی رفاقت حاصل کرنی ہے
04:41میت حاصل کرنی ہے
04:42جس نے آپ علیہ وسلم سے کوئی بات پوچھنی ہے
04:45تو وہ حج پر پہنچے
04:46اس طرح دس ہجری کے حج کے لیے
04:48پورے احتمام کے ساتھ جزیرت العرب کے
04:50مختلف علاقوں سے لوگ آئے
04:52ایک روایت کے مطابق
04:53ایک لاکھ چالیس ہزار صحابہ اکرام
04:55رضوان اللہ علیہ مجمعین
04:57حجت الودا کے موقع پر جمع ہوئے
04:59یہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
05:01حیات مبارکہ میں
05:02صحابہ رضی اللہ عنہم کا
05:04سب سے بڑا اجتماع تھا
05:05حضور علیہ السلام کی حیات میں
05:07اس سے بڑا صحابہ کا اجتماع نہیں ہوا
05:14صحابہ اکرام
05:15مختلف علاقوں سے آئے
05:16اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ
05:19حجت اک کیا
05:20جب سور نصر نازل ہوئی
05:22تو نبی اکرام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:24نے قدرت کا یہ اشارہ سمجھ لیا
05:25کہ اب رہلت کا وقت قریب آ گیا ہے
05:27چنانچہ دس ہجری میں
05:29یہ ارادہ فرما لیا
05:30کہ آخری حج کر لیا جائے
05:32بڑا احتمام کیا گیا
05:33کوشش یہ کی گئی
05:34کہ کوئی عقیدت من محروم نہ رہ جائے
05:36آس پاس کے قبائل میں
05:37ارادہ پاک کی اطلاع دے دی گئی
05:39حضرت علی رضی اللہ عنہ
05:40اس وقت یمن میں تھے
05:41ان کو حجم شرکت کی دعوت بھیجوائے گئی
05:43تمام ازواج متاہرات کو
05:45ساتھ چلنے کی خوشخبری سنائے گئی
05:47حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو
05:48تیاری کا حکم ملا
05:50چوبیس زقت جمعہ کا دن تھا
05:52مسجد نبوی میں
05:53جمعہ میں پچیس کی روانگی کا اعلان ہوا
05:55پچیس زقت
05:56آپ علیہ السلام نے غسل فرمایا
05:58لباس تبدیل کیے
05:59اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں
06:02زہر کی نماز کے لئے تشریف لائے
06:04نماز سے قبل آپ نے قطبہ دیا
06:06جس میں مسائل حج بیان کیے
06:07پھر نماز آدھا فرمائی
06:09اور ہم دو شکر کے ترانوں کے ساتھ
06:10مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے
06:12ملا علی قاری فرماتے ہیں
06:13کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زائد
06:15صحابہ اکرام آپ کے ہم رکاب تھے
06:17جہاں تک نظر جاتی تھی
06:19ہر طرف انسانوں کا سہلاب نظر آتا تھا
06:21مدینہ سے نو کلومیٹر کے فاصلے پر
06:23مقام ذو الحلیفہ ہے
06:24آپ علیہ السلام یہاں پہنچے
06:26تو اثر کا وقت ہو چکا تھا
06:28اس لئے سب سے پہلے آپ علیہ السلام نے
06:30دو رکعات نماز اثر ادھا کی
06:32اور رات بھی یہیں قیام فرمایا
06:34سبھی ازواج متحرات شریع کے سفر تھی
06:36دوسرے دن نبی علیہ السلام نے غسل فرمایا
06:39حضرت عائشہ صدقہ رضی اللہ عنہ نے
06:41جس میں پاک پر اپنے ہاتھوں سے اثر لگائی
06:43سر پر تلبید
06:45سر کے بالوں کو منتشر ہونے سے بچانے کے لئے
06:47کچھ کرنا فرمائی
06:48قربانی کے تیتالی جانوروں کو نشان زد کیا
06:51اور انہیں ناجیت الاسلمی
06:53رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا
06:54پھر آپ نے احرام کی چادر زیبتن فرمائی
06:57زہر کی نماز مسجد ذو الحلفہ
06:59مسجد شجرہ میں ادا کی
07:00پھر بڑے درد و گزداز سے
07:02پھر بڑے درد و گزداز سے دو رکعاتیں پڑیں
07:04اور مسجد سے باہر تشریف لاکر
07:06اپنی اونٹنی قصفہ پر سوار ہوئے
07:08اور حجر عمرے کے لئے احرام بانتے ہوئے
07:10ترانہ لبیک بلند فرمایا
07:20اس ایک صدای لبیک کی اقتدام میں
07:22ہزارہ آوازیں ایک ساتھ بلند ہوئیں
07:24جس سے دشت و جبل ترانہ توحید سے گونج اٹھے
07:27روان کی شروع ہو گئے
07:28رضی الحلیفہ کے قریب
07:29بیدہ کی پہاڑی پر پہنچے
07:31یہاں کبھی آپ حجر عمرے کے لئے تلبیحہ پڑھتے تھے
07:34اور کبھی صرف حج کا
07:35اور کبھی آپ یہ دعا پڑھتے تھے
07:37اے اللہ
07:37اسے دکھاوے اور شہرت سے پاک حج فرما
07:40جب بیدہ کی پہاڑی پر چڑھتے
07:42تو یہی پہ حضرت عبو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اہلیہ محترمہ
07:45حضرت اسمہ بن تعمیس کے
07:46یہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی
07:48جس کا نام محمد ابن ابو بکر رکھا گیا
07:51پیدائش کے وقت حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے
07:54اور یہ پیغام پہنچائے
07:55کہ آپ علیہ السلام صحابہ کو آواز بلند کرنے کا حکم دیں
07:58یہاں حضور علیہ السلام نے
08:00زور سے لب بیک کہا
08:01صحابہ نے بھی آپ کے آواز سے آواز ملائی
08:04جس سے آسمان کا خلا حمد خدا سے لبریز ہو گیا
08:07جب مدینہ ساٹھائیس میل دور مقام ملل پر پہنچے
08:10تو آپ نے یہاں پر پیر کے اوپری حصے پر حجامہ کروایا
08:13پھر آگے بڑے اور وادی روحہ پہنچے
08:15جو مدینہ سے چوہتر کلومیٹر دور ہے
08:17یہاں آپ علیہ السلام سواری سے اترے
08:20اور نماز ادھا فرمائی
08:21پھر ارشاد فرمایا کہ اس مقام پر
08:23ستر نبیوں نے نماز پڑھی ہے
08:25پھر قافلہ آگے کے لئے روانہ ہو گیا
08:27اور اسایہ پہنچا
08:28یہاں دیکھا کہ ایک حرن شکار کی ہوئی ہے
08:30چونکہ محرم کے لئے شکار جائز نہیں ہے
08:32اس لئے ایک شخص کو اس جگہ مقرر کر دیا
08:35تاکہ کوئی محرم اسے استعمال نہ کرے
08:37اور آگے اور قافلہ آگے بڑھتا رہا
08:39یہاں تک کہ لحی جمل آ گیا
08:41پھر آپ علیہ السلام تھوڑی دیر ٹھہرے
08:44اور اپنے سر پر پچھنا لگوایا
08:46بعد ازا قافلہ آگے کے لئے روانہ ہوا
08:48چلتے چلتے وادی ارج پہنچے
08:50یہاں دیکھا تو معلوم ہوا کہ سامان
08:52جس غلام کے سپورت تھا وہ ابھی تک نہیں پہنچا
08:55لہٰذا اس کا انتظار فرمانے لگے
08:56کھانا تناول کے بعد حضرت سعید اور حضرت ابو قیس
08:59رضی اللہ عنہما خدمت نبوی میں حاضر ہوئے
09:02اور ارش کیا کہ
09:02یا رسول اللہ یہ سامان کی اٹنی ہے
09:04اسے قبول فرمالے
09:06حضور علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا
09:08کہ اللہ تمہیں برکت دے
09:09ہماری اٹنی اللہ کے فضل سے مل گئی ہے
09:11یہاں سے آگے کے لئے روانہ ہوئے
09:12اور مقامیں اب ہوا پہنچے
09:14جو مدینہ سے دو سو اٹھائیس کلومیٹر پر واقع ہے
09:17آج کل اس کا نام مستورہ ہے
09:19یہ وہی جگہ ہے جہاں آپ علیہ الصلاة والسلام کی
09:21والدہ محترمہ مدفون ہے
09:22جب آپ یہاں پہنچے
09:24تو حضرت صاحب بن جسامہ رضی اللہ عنہ نے
09:26ہمار بحشی کو آپ کو حدیہ پیش کیا
09:29جسے آپ علیہ الصلاة والسلام نے
09:30قبول کرنے سے منع کر دیا
09:32کیونکہ محرم کے لئے شکار کا گوشت جائز نہیں ہے
09:36چلتے چلتے مکہ سے
09:37پچیس کلومیٹر دور واقع
09:38وادیہ اسفان پہنچے
09:40یہاں پر آپ نے قیام فرمایا
09:42اسی مقام پر
09:44نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
09:46حضرت عبو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سوال کیا
09:49کہ یہ کونسی وادی ہے
09:50تو حضرت عبو بکر نے جواب دیا
09:52یہ وادیہ اسفان ہے
09:53پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
09:57کسی مقام سے
09:58حضرت حود اور حضرت صالح علیہ السلام
10:01حج کے لئے تلبیحہ پڑھتے ہوئے تشریف لے گئے تھے
10:03یہاں آپ ارام فرما رہے تھے
10:05کہ حضرت سراقہ بن جاشم رضی اللہ عنہ نے
10:07آپ سے دریافت کیا
10:09یا رسول اللہ ہمیں حج کا طریقہ اس طرح سکھا دیجئے
10:12کہ جیسے ہم آج ہی پیدا ہوئے ہیں
10:13یعنی اس طرح سکھایا کہ
10:15گوئے ہمیں پہلے سے کچھ معلوم نہیں ہے
10:16چنانچہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
10:20انہیں حج کا مکمل طریقہ سکھایا
10:22پھر وہاں سے آگے بڑھے
10:23اور صرف پہنچے
10:24یا ایک شرعی مسئلہ یہ پیش آیا کہ
10:26امہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کو
10:28عورتوں والا معاملہ پیش آ گیا
10:30تو وہ کافی رونے لگیں
10:31کہ میرا تو سفر ہی بیکار ہو گیا
10:33اور حج کا وقت قریب ہے
10:34اور میں ناپاک ہوں
10:35یہ سن کر حضور علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تسلیت دی
10:37اور بتایا کہ یہ تو سبھی عورتوں کو پیش آتا ہے
10:39پھر حضور علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا
10:42کہ جن کے پاس حدی نہیں ہے
10:45وہ مکہ مکرمہ میں داخلے کے بعد عمرہ کریں گے
10:48اور عمرے کے بعد احرام کھول دیں گے
10:50قافلہ آگے پڑتا رہا
10:51یہاں تک کہ مکہ کے بالکل قریب
10:53زود تو بھی پہنچ گئے
10:54شام ہو گئی
10:55اس لئے رات یہیں قیام فرمایا
10:57یہ ہفتے کی شام اور اتوار کی رات اور تاریخ
10:59چار زلحجہ تھی
11:00جب صبح ہوئی تو مکہ معظمہ کی مارتیں نظر آنے لگیں
11:03آپ نے سب سے پہلے غسل فرمایا
11:05اور مکہ میں داخلے کی تیاری کرنے لگے
11:08اور وادی ارزق کا راتہ اختیار کیا
11:10جب وادی ارزق پہنچے تو ایک لمحے کے لئے
11:12حضور علیہ السلام یہاں رک گئے
11:14اور ارشاد فرمایا کہ اس وقت میرے سامنے وہ منظر ہے
11:16جب حضرت موسیٰ علیہ السلام حج کے لئے آئے تھے
11:19اور اس مقام سے گزرے تھے
11:20تو انہوں نے اپنے انگلیاں کانوں میں ڈالنی
11:22اور زور زور سے ترانہ حج پڑھنے لگے
11:24جون جو آپ مکہ سے قریب ہوتے جا رہے تھے
11:26یوں یوں حاشمی خاندان کے افراد
11:28حضور علیہ السلام کے استقبال کے لئے
11:31بے تابانہ بے خود ہوئے جا رہے تھے
11:33اور معصوم بچے سراپائے شوق بنے ہوئے تھے
11:36اور معصوم بچے سراپائے شوق بنے ہوئے
11:38اپنے گھروں سے دوڑتے نکل رہے تھے
11:41چنانچہ جب ان کی نگاہیں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پڑھیں
11:45تو بچے آپ کی سواری کے اردگے دکھٹے ہو گئے
11:47ادھر سرکار دو جہاں کی شفقت کا یہ عالم تھا
11:50کہ ان کے معصوم چہروں کو دیکھ کر
11:51جوش محبت سے جھگ گئے
11:53اور کسی کو اپنی سواری کے آگے
11:55اور کسی کو پیچھے بٹھا لیا
11:56اور جب آگے بڑھے
11:57تو کعبت اللہ کی امارت نظر آنے لگی
11:59جس پر آپ کی زبان سے یہ ارشادِ عالی مقام صادر ہوا
12:03کہ اے اللہ خانِ کعبہ کو اور زیادہ شرف و امتیاز عطا فرما
12:07بابِ بنی شیبہ سے مسجدِ حرام میں داخل ہوئے
12:10سب سے پہلے حجرِ اسود کو بوسا دیا
12:12بعد تواف فرمایا
12:13جب تواف مکمل ہو گیا
12:15تو مقامِ ابراہیم پر آئے
12:16اور دو گانہ عطا فرمایا
12:18اس وقت زبانِ اقدس و اثر پر یہ آئے جاری تھی
12:22وَالتَّخِزُ مِمَّقَامِ ابراہیم مُسَلَّ
12:25نماز سے فراغت کے بعد
12:27پھر حجرِ اسود کو بوسا دیا
12:28پھر زمزم کے پاس آئے
12:29کچھ نوش فرمایا
12:31اور کچھ اپنے سر پر ڈالا
12:32پھر بابِ صفحہ سے نکل کر
12:33صفحہ کے قریب پہنچے
12:35تو آپ کے زبان پر یہ آئیت تھی
12:36کہ
12:37اِنَّ الصفحَ وَالْمَرْوَى مِن شَعِرِ اللَّهِ
12:43صفحہ اور مربع دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں
12:45پھر ارشاد فرمایا
12:46کہ جس کے ذکر سے
12:47اللہ نے شروعات کی ہے
12:49میں بھی اسی سے شروع کرتا ہوں
12:50چنانچہ پہلے
12:51صفحہ پہاڑی پر تشریف لے گئے
12:53پہاڑی پر اتنا اوپر چڑھے
12:54کہ قابل اللہ نظر آنے لگا
12:56یہاں تھوڑی دیر
12:57تکبیر و تحمید میں مشغول رہے
12:59اس کے بعد صفحہ اور مربع کے درمیان
13:01صحیح کے ساتھ چکر پورے فرمائے
13:03جب مربع پر صحیح پوری ہوئی
13:04تو آپ علیہ السلام نے
13:06حج کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا
13:08کہ جن لوگوں کے پاس حدی نہیں ہے
13:10وہ اپنا احرام کھول دیں
13:11اور جن کے پاس حدی ہے
13:12وہ بدستور حالت احرام میں ہی رہیں
13:14پھر آپ نے
13:15حلق یعنی سر منوانے والے کے لیے
13:17تین مرتبہ
13:18اور قصر کرنے والوں کے لیے
13:20ایک مرتبہ مغفرت کی دعا فرمائی
13:22یہاں سے آپ علیہ السلام
13:23اپنی قیام کا تشریف لائے
13:25یہاں پر چار دن قیام فرمایا
13:27نبی علیہ السلام نے
13:28حضرت علی رضی اللہ عنہ کو
13:30یمن بھیجا تھا
13:31جب ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
13:33ارادہ حج کی تلاملی
13:35تاب براہ راست یمن سے مکہ کے لیے روانہ ہو گئے
13:37مکہ پہنچ کر سب سے پہلے
13:39اپنی بیوی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے
13:41انہوں نے دیکھا کہ حضرت فاطمہ
13:43حالت احرام میں نہیں ہے
13:44تو وہ بہت غصہ ہوئے
13:45جس پر فاطمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا
13:47کہ ایسا انہوں نے اس لیے کیا
13:49کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:50نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے
13:52پھر حضرت علی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:55سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے
13:56اس وقت سرور ایک آئنات
13:57صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:59اب تاہ میں تھے
14:00ملاقات کے بعد ان سے پوچھا
14:02اے علی کس چیز کا حرام باندھتے ہو
14:04تو انہوں نے جواب دیا
14:16اسی مقام پر صحابہ کی حضور علیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:19پر بارفتگی اور جان اساری
14:21کا وہ عدیم النظیر واقعہ پیش آیا
14:22جو تاریخ میں کبھی بھی ایسا نہیں ہوا تھا
14:25کہ آپ نے وضو فرمایا
14:26تو صحابہ کی بارفتگی کا عالم یہ تھا
14:28کہ آپ کے وضو کے پانی کو زمین پر گرنے نہیں دیا
14:31اس سے پہلے ہی ہاتھوں میں اٹھا لیا
14:33اور برکت حاصل کرنے کے لیے
14:35اپنے چہروں پر ملنے لگے
14:36ناظرین ساتھ میں ظلحج
14:38کو آپ علیہ السلام بطحہ سے
14:40مکہ تشریف لائے
14:41اور ایک درد انگیز خطاب ارشاد فرمایا
14:44یا معاشر المسلمین
14:45قیامت کے نشانیوں میں سے ایک یہ ہے
14:47کہ لوگ نماز کو ہی مار ڈالیں گے
14:50اسی طرح آپ نے قیامت کے مزید نشانیوں کے بارے میں بتایا
14:53آٹھ ظلحج جمرات کو چاشت کے وقت
14:55بطحہ سے آپ نے حج کے لیے احرام باندھا
14:58اور منہ تشریف لے گئے
14:59سبھی صحابہ اکرام بھی ساتھ تھے
15:01یہ دن اور رات یہیں گزاری
15:03اسی دن منہ کے میدان میں ایک سانپ نکلا
15:05جسے صحابہ نے مارنا چاہا لیکن وہ بل میں گھز گیا
15:08ناظرین ساتھ بروز جمعہ
15:09بعد نماز فجر
15:10عرفات تشریف لائے
15:11اور مقام نمرہ پر
15:13اپنے خیمے میں زوال تک آرام فرمایا
15:15بعد زوال اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے
15:17اور بطنِ ارنہ آئے
15:19اور ایک طبیل خطبہ دیا
15:20حمد و صلات کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا
15:23اے لوگو یہ ہمارا آخر اجتماع ہے
15:25شاید آج کے بعد
15:26کبھی دوبارہ ہم اس طرح جمع نہ ہو سکیں گے
15:29یہ دردنگیز جملہ سننا تھا
15:30کہ صحابہ کی آنکھیں بے اختیار ہو گئیں
15:32کیونکہ اس جملے نے اس اجتماع کا مقصد واضح کر دیا تھا
15:36فرمایا
15:36خبردار رہو
15:37میں حوضہ کوثر پر تمہارا منتظر رہوں گا
15:40اور تمہارے ذریعے سے دیگر امتوں پر فخر کروں گا
15:43اس لیے بدعملی کر کے میرا چہرہ سیاہ مت کرنا
15:45مجھے رسوہ مت کرنا
15:47اور سب سے آخر میں فرمایا
15:48اس پر مجمع میں پرجوش صدائیں بلند ہوئیں
15:50اس وقت حضور پورنور محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:54نے اپنی انگوشت شہادت آسمان کی طرف اٹھائی
15:57اور ارشاد فرمایا
15:59اللہم اشہد
16:00اے اللہ
16:01خلق خدا کی گواہی سن لے
16:02اللہم اشہد
16:04اے اللہ مخلوق خدا کا اعتراف سن لے
16:06اللہم اشہد
16:07اے اللہ گواہ ہو جا
16:09اس کے بعد جبریل امین وحی تکمیر دین
16:11اور تمام نعمت کا پیغام لے کر آئے
16:13اور یہ آیت اتری
16:14آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا ہے
16:16اور اپنی نعمتوں کو تمام کر دیا ہے
16:18اسی دن حضرت ام فضل رضی اللہ عنہ نے
16:21آپ کا روزہ معلوم کرنے کے لئے دودھ بھیجا
16:24جسے سرکار دعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
16:26سارے مجمع کے سامنے نوش فرمایا
16:28تاکہ امت کو یہ معلوم ہو جائے
16:30کہ یہ دن روزہ رکھنے کے لئے نہیں
16:32بلکہ خدا کی مہمانی سے لطف اندوز ہونے کا دن ہے
16:35بعد حضرت بلال کو تکبیر کہنے کا حکم فرمایا
16:38اور زہر و اثر کی نماز زہر ہی کے وقت پڑھائیں
16:41نماز سے فارغ ہوئے
16:42تو بطنِ ارنہ سے میدانِ عرفات کے مقامِ موقف پر
16:45تشیف لائے
16:46اور مغرب تک اپنی اونٹنی پر ہی دعا میں مشغول رہے
16:48اسی دورانے ایک صحابی اونٹ سے گر کر شہید ہو گئے
16:51تو انہیں آرام ہی میں کپڑوں میں دفنانے کا حکم دیا
16:54اور اشارت فرمایا کہ یہ شخص کل قیامت تک
16:56لب بیک پڑھتے ہوئے اٹھے گا
16:58اس جگہ نجت کی ایک جماعت پہنچی
17:00اس نے حج کے بارے میں سوال کیا
17:02جس پر آپ علیہ السلام نے جواب دیا
17:04حج عرفہ میں ٹھہرنے کا نام ہے
17:06جو شخص دس زلحج کی صبحوں سے پہلے پہلے
17:08یہاں پہنچ جائے
17:09اس کا حج ہو گیا
17:11غروبِ آفتاب کے بعد نمازِ مغرب سے قبل
17:14عرفات سے روانگی کا حکم دیا
17:16مجمع کثیر تھا
17:17کسرتِ حجوم کی وجہ سے
17:19اس طرح کی ایک کیفیت پیدا ہو رہی تھی
17:21اس وقت حضور علیہ السلام کی
17:23زبانِ اقدس اور ہتھر پر
17:24یہ الفاظ جاری تھے
17:29راستے میں استنجے کا تقاضہ ہوا
17:31تو آپ نے استنجہ کیا
17:32وضوع فرمایا
17:33حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے
17:35نمازِ مغرب کی یاد دہانی کرائی
17:37تو ارشاد فرمایا
17:38آگے چلو
17:38یہاں تک کہ آپ مزلفہ پہنچے
17:40اور پہنچتے ہی
17:41سب سے پہلے مغرب
17:42اور عشاء کی نماز ایک ساتھ پڑھائیں
17:43اس کے بعد دعا میں مشغول ہو گئے
17:45دعا سے فراغت کے بعد
17:46آپ صبح تک آرام فرماتے رہے
17:48یہاں تک کہ زندگی میں
17:49پہلی بار آپ نے
17:50نمازِ تحجد بھی
17:51ادا نہیں فرمائی
17:52دس زلحج بروز ہفتہ
17:54بعد نمازِ فجر
17:56طلوعِ آفتاب سے قبل
17:57آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:59مزلفہ سے پھر مناہ کے لئے روانہ ہوئے
18:01جب بطنِ محصر کے پاس پہنچے
18:03تو سواری کی رفتار تیز کر دی
18:05راستے میں ایک واقعہ یہ پیش آیا
18:07کہ قبیلہ خس ان کی خوبصورت عورت
18:09نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس
18:11ایک مسئلہ دریافت کرنے آئی
18:13کہ کیا میں اپنے کمزور باپ کی طرف سے حج کر سکتی ہوں
18:16آپ نے ہاں میں جواب دیا
18:17حضرت فضل ابن عباس رضی اللہ عنہ
18:19آپ کے ہمراہ تھے
18:20وہ اس عورت کو دیکھ رہے تھے
18:22تو آپ علیہ السلام نے ان کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا
18:25مزلفہ سے سیدھے جمرہ اقبہ پر پہنچے
18:28شیطان کو ساتھ کنکریہ ماریں
18:30اور واپس منہ کے میدان میں تشریف لائے
18:32بھوپ تیز تھی
18:33حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے
18:35کپڑا تان کر سایا کیا
18:37حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ
18:39آپ کے ناقے کے مہار تھامے
18:41کھڑے تھے آگے پیچھے دائیں بائیں
18:43مہاجرین و انصار
18:44قرائش اور دیگر قبائل کھڑے تھے
18:47ایسے میں زبان اقتصو متحر سے
18:49یہ جملے ارشاد ہوئے
18:50کس وقت حج کے مسائل سیکھ لو
18:52شاید اس کے بعد دوبارہ اس کی نوبت نہ آئے
18:54پھر ارشاد فرمایا کہ آج کونسا دن ہے
18:56حضرت معمول صحابہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا
18:59اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں
19:01طویل خاموشی کے بعد پھر سوال کیا
19:03کہ کیا آج قربانی کا دن نہیں ہے
19:05صحابہ کا جواب تھا
19:07بے شک آج قربانی کا دن ہے
19:08پھر سوال ہوا کہ یہ کونسا شہر ہے
19:10صحابہ کا وہی جواب تھا
19:12طویل خاموشی کے بعد پیغمبر انسانیت نے کہا
19:14کیا یہ بلد الحرام نہیں ہے
19:16مجمع کا بیق وقت یہی جواب تھا
19:18بے شک یہ بلد الحرام ہے
19:20اس کے بعد ارشاد عالی مقام ہوا
19:22مسلمانوں
19:23تمہارا خون
19:24تمہارا مال
19:24تمہاری عبرو
19:25اسی طرح قابل حرمت ہیں
19:27جس طرح یہ دن
19:28یہ مہینہ
19:29یہ شہر محترم ہیں
19:30دیکھو میرے بعد گمرا نہ ہو جانا
19:32کہ آپ اس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو
19:35ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
19:37ہم امید کرتے ہیں
19:38کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
19:39ضرور پسند آئی ہوگی
19:40اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہے
19:42تو آپ سے گزارش کرتے ہیں
19:43کہ آپ ہمارے چینل کو ضرور سبسکرائب کر لیں
19:45اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
19:48تاکہ آپ کے پاس ہماری آنے والی
20:00اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے عفض و مان میں رکھے
20:02آمین
Comments

Recommended