Skip to playerSkip to main content
Nastura Rahib Kon Tha | Hazrat Khadija RA Ki Paishgoi Ka Waqia | Serat-e-Nabvi ﷺ | Noor TV

Rahib Nastura ek ilmi aur zahid Nasrani (Christian monk) tha, jo sham ke ilaqe mein rehta tha aur purani asmani kitaabon ka aalim tha. Uska waqia Hazrat Khadija (RA) ke saath Nabi Kareem ﷺ ke tijarati safar ke doran hota hai, jab unki nabuwwat ke asar pehli martaba zahir hote hain.

Jab Hazrat Khadija (RA) ne apna maal karobari safar ke liye diya, to Nabi ﷺ unke naukar Maysarah ke sath Sham gaye. Wahin ek maqam par Rahib Nastura ne Nabi ﷺ ko dekha, aur unke chehre par nubuwwat ki nishaniyan pehchaan gaya.

Is Video Mein Aap Jaan Sakein Ge:
✅ Rahib Nastura ka asal mazaahabi background aur ilm
✅ Hazrat Khadija (RA) ke safar ka pehla rukn aur Maysarah ka kirdar
✅ Nabi ﷺ ke chehre ki basharat aur Rahib ka nubuwwat ka iqraar
✅ Hazrat Khadija (RA) ki emotional response aur nikaah ka pehla qadam
✅ Yeh waqia Seerat-e-Nabvi mein kyun bohot ahem hai?

Islamic Perspective:
📖 Yeh waqia is baat ki daleel hai ke Nabi ﷺ ki nabuwwat ka zikr pehle se asmani kitaabon mein mojood tha
🕌 Hazrat Khadija (RA) ka imaan lana ek roohani aur ilm par mabni faisla tha

Yeh waqia sirf tareekhi nahi, balke imani roshni ka chiraag hai – jahan Nabi ﷺ ke haq hone ki nishaniyaan sabse pehle zahir hone lagti hain.

📢 Like, Share & Subscribe 💖
🔔 Bell Icon Dabayein Aise Hi Seerat-e-Nabvi Ke Noorani Waqiat Ke Liye

#NasturaRahib #HazratKhadijaRA #SeeratENabvi #ProphethoodSigns #NabiSAW #NoorTV #Maysarah #NabuwwatKiNishaniyan #IslamicHistory #NabiKiBasharat

Category

📚
Learning
Transcript
00:28नस्तूरा राहिब कौन था?
00:30اللہ الرحمن الرحیم
00:31السلام علیکم رحمت اللہ وبرکاتہو
00:33ناظرین کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک ایسا وقت بھی آیا
00:36جب نہ قرآن نازل ہوا تھا
00:38نہ مدینہ نے انصار کی بیعت سنی تھی
00:40نہ بدر کے میدان میں کوئی پرچم بلند ہوا تھا
00:43اور نہ ہی اقراع کی صدایں کائنات میں گونجی تھی
00:46ایسے ہی ایک خاموش اور غیر معروف لمحے میں
00:48ایک عیسائی راہم نے ایک اجنبی بچے کو دیکھا
00:51اور تاریخ کے سب سے عام جملوں میں سے ایک کہا
00:54یہی ہے وہ آخری نبی
00:57جس قیامت کی پیشگوئیاں
00:59تورات و انجیل میں لکھی جا چکی ہیں
01:00یہی ہے وہ جس کا انتظار
01:02قوموں نے نسلوں تک کیا ہے
01:04یہ بات کس نے کہی؟
01:06کون تھا وہ شخص
01:07جس نے نبوت کے اعلان سے
01:08برسوں پہلے ایسی پہچان کر لی
01:11جو اہل مکہ کے بڑے بڑے سردار نہ کر سکے
01:13اس راہب کا نام کیا تھا؟
01:15نستورہ
01:16ایک عیسائی عالم
01:17جو بظاہر ایک ویران خان کاہ میں
01:19گوشہ نشین تھا
01:21مگر اس کی نظر
01:22وہ کچھ دیکھ رہی تھی
01:23جو آنکھوں سے نہیں
01:24دل کے نور سے دیکھا جاتا ہے
01:26یہ وہ لمحہ تھا جب
01:28سچائی نے پہلی بار خاموشی سے سر اٹھایا
01:30جب ایک غیر مسلم کے زبان سے
01:32حق ادا ہوا
01:33جب وحی سے پہلے
01:35وحی کا اشارہ ملا
01:36سوال یہ ہے
01:37کہ نستورہ نے آخر کیا دیکھا؟
01:39کیا وہ کسی الہمی علم کا حامل تھا؟
01:42کیا یہ سب محض ایک اتفاق تھا؟
01:44یا قدرت کا منصوبہ؟
01:46اور سب سے اہم سوال
01:47اس بچے نے
01:48جسے بعد میں
01:49محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام سے
01:51جانا گیا
01:52اس وقت ایسا کیا تھا؟
01:54جسے راہب چونک اٹھا؟
01:55یہ واقعہ صرف ایک تاریخی قصہ نہیں
01:57بلکہ یہ اس عظیم حقیقت کی جھلک ہے
02:00جسے صدیوں سنبھالتی آئی ہیں
02:02آج ہم اسی لمحے کی گہرائے میں جائیں گے
02:05جہاں قافلے کی چھاؤں میں
02:06ایک کم عمر بچہ
02:07ایک راہب
02:08اور صدیوں پرانی پیشگوئیاں
02:10آپس میں ملتی ہیں
02:11جہاں سہراؤں کی خاموشی میں
02:13ایک حقیقت بول پڑتی ہے
02:14یہ کہانی اس لمحے کی ہے
02:16جب ایمان نے لباس نبوت کو
02:18ابھی پہنا نہیں تھا
02:20مگر کچھ دلوں نے اسے پہچان لیا تھا
02:22چلیے
02:23آئیو سفر پر چلتے ہیں
02:25جہاں وقت تھم جاتا ہے
02:26اور مقدر کی تحریر زبان پر آ جاتی ہیں
02:29ناظرین نستورہ ایک عیسائی راہب تھا
02:32ایک ایسا شخص جو ظاہری دنیا سے کٹ چکا تھا
02:34مگر باطنی علم اور روحانی سچائی سے جڑا ہوا تھا
02:38اس کا قیام شام کے قدیم اور تاریخی شہر
02:41بسرہ کے قریب واقع ایک خان کامے تھا
02:43بسرہ اس وقت رومن سلطنت کا ایک اہم مقام تھا
02:47جہاں مسیحی علماء راہب اور مبلغین قیام پذیر ہوتے
02:51جہاں دین مسیحی کی تعلیم پر گہری تحقیق اور بحثیں جاری رہتیں
02:55نستورہ کا شمار بھی ایسے ہی علماء دین میں ہوتا تھا
02:58جنہوں نے اپنی جوانی، اپنی زندگی اور اپنی تمام ترتبانائیاں
03:02خدای علم کے تلاش میں صرف کی
03:04نستورہ کا تعلق نستوری فرقے سے تھا
03:07جو ابتدائی عیسائیت کا ایک اہم مگر بعد ادا متنازع فرقہ تھا
03:11نستوری عقیدہ رکھنے والے لوگ
03:13حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نہیں مانتے تھے
03:15بلکہ جلیل القدر نبی اور خدا کا برگزیدہ بندہ تسلیم کرتے تھے
03:19وہ تسلیس کے تصور کے سخت ناقد تھے
03:22اور توہید پر زور دیتے تھے
03:24اسی بنیاد پر وہ کیتھولک چرچ کی نظر میں
03:27بددتی قرار پائے اور ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا
03:30یہی وہ فکری پس منظر تھا
03:32جس نے نستورہ کو باقی راہبوں سے الگ شناخ دی
03:35اس کی توجہ ان نشانیوں اور پیشگوئیوں پر مرکوز تھی
03:39جو آنے والے آخری نبی کے متعلق تھیں
03:41نستورہ علم معرفت کا ایک ایسا چراخ تھا
03:44جو اپنی خانکہ میں بیٹھا
03:46صدیوں پرانی صحیفائی تحریروں کی روشنی میں
03:49مستقبل کی جھلکیاں دیکھ رہا تھا
03:51اس کے پاس توریت زبور اور انجیل کے قدیم اور کمیاب نسخیں موجود تھے
03:55جو زمانے میں عام لوگوں کی دسترس سے باہر تھے
03:58وہ ان صحیفوں کا گہرہ متعلق کرتا
04:01ان کے اصل زبان میں مفاہیم تلاش کرتا
04:03اور ہر اس اشارے کو کھوشتا جو آنے والے نبی کی طرف رہنمائی کرتا ہو
04:08نستورہ کے پاس صرف علم نہیں تھا
04:10بلکہ یقین بھی تھا
04:11کہ اللہ تعالیٰ کا آخری رسول انقریب ظاہر ہونے والا ہے
04:14اور وہ اس وقت کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتا تھا
04:17اس کی زندگی عبادت ریاضت مراقبے اور تحقیق سے عبارت تھی
04:21وہ ہر قافلے ہر گزرنے والے اجنبی
04:23ہر نوبارت چہرے کو
04:24اسی نظر سے دیکھتا کہ شاید وہی وہ ہستی ہو
04:27جس کا ذکر اس نے تورات کی پیشگوئیوں
04:29زبور کے نغموں اور انجیل کی بشارتوں میں بارہا پڑھا تھا
04:33اس کے دل میں ایک تڑپ تھی
04:34ایک بے قراری
04:35جو ایک عاشق کو اپنے محبوب کی آمد سے پہلے محسوس ہوتی ہے
04:39تاریخ یہ بتاتی ہے کہ نستورہ راہب نے
04:41زندگی کے کئی سال اپنے گوشے میں خاموشی سے گزارے
04:44مگر اس کی آنکھوں میں مسلسل ایک جستجو کی چمک موجود تھی
04:48اس کا ایمان تھا کہ آسمانی صحیفے
04:50محض مقدس الفاظ نہیں
04:52بلکہ روشن راستے ہیں
04:53اور وہ راستہ ایک ایسی ہستی کی طرف جاتا ہے
04:56جو تمام بنی نوع انسان کے لیے
04:58ہدایت کا چراغ بنے گی
05:00یہی وجہ تھی کہ وہ صرف علم پر انحصار نہیں کرتا تھا
05:04بلکہ اس کے باطن میں بھی
05:05ایک نورانی بصیرت بیدار ہو چکی تھی
05:07جو اسے سچائی کی خوشبو دور سے سونگنے کی صلاحیت دیتی تھی
05:11نستورہ کوئی عام راہب نہیں تھا
05:13وہ ایک ایسا مرد درویش تھا
05:15جسے آسمانی صحیفوں سے
05:16اس عظیم رسول کی جھلکیں نظر آتی تھیں
05:19جن کی آمد پر تمام انبیاء نے خوشخبری دی تھی
05:21اور جب قریش کا ایک تجارتی قافلہ
05:23شاہم کی طرف روانہ ہوا
05:25تو نستورہ کو فوراں احساس ہوا
05:27کہ اس کی تڑپ کا وقت ختم ہونے والا ہے
05:29اس کا انتظار مکمل ہونے کے قریب ہے
05:31کیونکہ اس قافلے میں ایک چودہ سالہ نوجوان تھا
05:33ایک چمکتا چہرہ
05:35پر نور آنکھیں
05:36پر کشش سکون
05:37اور ایسی خاموشی جو دلوں کو بیچین کر دے
05:40اور جیسے ہی نستورہ کی نظر
05:41اس نوجوان پر پڑی
05:42اس نے وہ جملہ کہا
05:44جو تاریخ میں ہمیشہ کے لئے عمر ہو گیا
05:46یہی وہ جسے میرے رب نے انجیل میں بار بار دکھایا ہے
05:49ناظرین نبوت سے قبل کا مکہ
05:52محض ایک شہر نہیں
05:53بلکہ کروحانی
05:54تہذیبی اور تجارتی مرکز تھا
05:56بیتاللہ کی موجودگی نے
05:57اسے عرب کے قلب میں
05:59ایک ایسا مقام عطا کر دیا تھا
06:00جہاں ہر قبیل احترام کے ساتھ آتا
06:03تواف کرتا
06:04اور اپنے تعلقات کو مضبوط بناتا
06:05قرائش جو کہ خان کابہ کے متولی تھے
06:08اس مذہبی مرکزیت کو
06:10معاشی حکمت عملی میں تبدیل کرنے میں
06:12بے مثال مہارت رکھتے تھے
06:13وہ جانتے تھے کہ دین کے ساتھ
06:15دنیا کو بھی چلانا ہے
06:16اور یہی سبب تھا کہ تجارت کو
06:18انہوں نے نہ صرف اپنایا
06:20بلکہ اس میں عالی اخلاقی میار قائم کر کے
06:22باقی قبائل سے ممتاز ہو گئے
06:24قرائش کے دو بڑے تجارتی سفر مشہور تھے
06:26ایک سردیوں میں یمن کی جانب
06:28اور دوسرا گرمیوں میں شام کی طرف
06:30یہ صرف تجارت نہیں تھی
06:31بلکہ ایک مکمل سماجی اور تہذیبی مشق تھی
06:34سینکڑوں میل کا یہ سفر
06:35اونٹوں قافلوں اور مال و ازباب سے
06:38لدے کاروانوں کے ساتھ تیہ ہوتا
06:39جن میں نوجوان بھی ہوتے
06:41تجربے کار بھی
06:42اور وہ لوگ بھی جو نئی دنیا دیکھنے کے
06:44خواب لیے نکلتے
06:45ان قافلوں میں ہندوستانی مسالے
06:47حفشہ کا چمڑا
06:48مصر کی کتان
06:49یمنی اطر
06:50اور شامی گندم
06:51غرض ہر خطے کا نفع بخش مال شامل ہوتا
06:54ایسے ایک ماحول میں
06:55حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نام
06:58بطور
06:58ایک باباکار باکردار
07:00اور بصیرت افروز تاجرہ نمائع ہوتا ہے
07:02وہ زمانے میں بھی ایک کامیاب بزنس مومن تھی
07:05جب عورتوں کو عموماً کاروبار سے دور سمجھا جاتا تھا
07:08ان کے تجارتی تعلقات
07:09شام، یمن
07:10اور دیگر عرب علاقوں تک پھیلے ہوئے تھے
07:12لیکن ان کے نظر صرف
07:14مال و منافع پر نہیں
07:15بلکہ اسے سمالنے والے انسان پر بھی ہوتی
07:17انہیں ایک ایسے شخصی تلاش رہتی
07:19جو صرف مالدار نہ ہو
07:21بلکہ سچا ہو
07:22دیانتدار ہو
07:23اور جس کی شخصیت اتنی باباکار ہو
07:25کہ ہر سعودے میں اعتماد کی جھلک نظر آئے
07:29اسی تلاش نے انہیں
07:31حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچایا
07:33مکہ میں
07:34السادق اور الامین جیسے القاب
07:37کسی انسان کو یوں ہی نہیں ملتے تھے
07:39یہ وہ نام تھے
07:40جو لوگوں کو ان کے کردار
07:42سچائی اور اعتماد کے باعث دیے جاتے تھے
07:45بچپن سے لے کر جبانی تھک
07:46آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زندگی میں
07:49کبھی کوئی دھوکہ
07:50جھوٹ
07:51یا فریب کا نشان نہ تھا
07:52لوگ اپنے قیمتی مال
07:54زیورات
07:54امانتیں
07:55اور حتیٰ کے تنازیات کا حل بھی
07:57آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپورٹ کرتے
07:59کیونکہ وہ جانتے تھے
08:01کہ محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:03نہ صرف انصاف کریں گے
08:05بلکہ خدا کی رضا کو
08:06ہر معاملے میں مقدم رکھیں گے
08:08حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ انہا نے
08:11جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہرت
08:13اور کردار کا مشاہدہ کیا
08:15تو اپنے قافلے کا انتظام
08:16آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سوب دیا
08:19ان کے ساتھ حضرت خدیجہ کے غلام
08:21محصرہ بھی روانہ کیے گئے
08:23تاکہ سفر کے نگرانی بھی ہو
08:24اور مکمل رپورٹ بھی مل جائے
08:26یہ سفر معمولی تجارتی مشنہ تھا
08:29یہ وہ قافلہ تھا جس میں
08:30ایک عظیم الشان روحانی واقعہ ہونے والا تھا
08:32ایک ایسا لمحہ جو بعد ازاں
08:34تاریخ کی کتابوں میں سبت ہوا
08:36اور جس نے ایک عیسائی راہب کو
08:37اس بات پر مجبور کر دیا
08:38کہ وہ اعلان کرے
08:39یہی ہے وہ آخری نبی
08:41جسے ہم کتابوں میں پڑھتے آئے ہیں
08:42ناظرین ادھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ انہا کے
08:45تجارتی قافلے کی
08:46رمانگی کا وقت تریب آیا
08:48تو مکہ میں کاروباری سرگرمیاں اروش پر تھی
08:50لیکن اس قافلے میں خاص بات تھی
08:52جو مکہ کی عام تجارتی فضا سے مختلف تھی
08:55اس بار قافلے کا انتظام سمحالا تھا
08:57محمد بن عبداللہ
08:58صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
09:01جو اپنی سچائی دیانت
09:02اور بلند اخلاق کی وجہ سے اہل مکہ میں
09:04السادق اور الامین کے لقب سے پہچانے جاتے تھے
09:07حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ انہا نے
09:09جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:12کو اپنا نمائندہ مقرر کیا
09:13تو یہ فیصلہ صرف تجارتی اعتماد کا مظہر نہ تھا
09:16بلکہ تاریخ کے ایک عظیم باق کا آغاز بھی تھا
09:18قافلے کے ساتھ میسر انامی غلام بھی تھا
09:20جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے
09:22انتہائی قابل اعتماد کارکنوں میں شمار ہوتا تھا
09:25اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ قافلے کی کارکردگی
09:27لیندین اور خاص طور پر
09:29محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
09:31کردار کا بغور مشاہدہ کرے
09:32لیکن یہ مشاہدہ صرف تجارتی سطح پڑنا رہا
09:35یہ ایک روحانی اخلاقی
09:36اور اندرونی انقلاب کی جھلکیاں دیکھنے کا
09:39موقع بن گیا جون جون قافلہ مکہ سے
09:41دور ہوتا گیا راستے کی مشکلات
09:43موسم کے شدت اور سفر کی
09:45سعوبتیں بڑھتی گئیں لیکن
09:47نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
09:49موجودگی حل ہمیں قافلے کے لئے
09:51باعث سکون بنی رہی
09:52آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
09:54نہ صرف اپنے فرائض بخوبی انجام دیتے
09:57بلکہ اپنے ساتھیوں کے لئے سہارا بھی بنتے
09:59اگر کوئی بیمار ہو جاتا تو آپ
10:01علیہ السلام اس کی تیمارداری فرماتے
10:03اگر کوئی پیچھے رہ جاتا
10:05تو آپ علیہ السلام اس کا انتظار کرتے
10:07میسرہ نے بارہا یہ منظر دیکھا
10:09کہ جب لوگ تھک جاتے
10:11تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:13انہیں دلاسہ دیتے
10:21وہ بیان کرتا ہے کہ بعض اوقات
10:23جب دھوپ بہت شدت کی ہوتی
10:24تو ایسا محسوس ہوتا جیسے کوئی سایہ دار
10:26بادل یا فرشتے آپ علیہ السلام پر
10:29سایہ کر رہے ہوں
10:30یہ کوئی عام نظارہ نہ تھا
10:32ایک عام غلام کے مشاہدے نے مستقبل کی
10:34نبوت کی جھلک محسوس کی
10:36اس کے دن میں شخصیت کی عظمت نقش ہوتی گئی
10:38قافلے کے راستے میں کئی علاقے
10:40قبائل اور چھوٹے بڑے بازار آئے
10:42نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
10:45سچائی لیندین میں دیانداری
10:47گفتار کی نرمی نے وہاں کے
10:49لوگوں کو بھی متاثر کیا
10:50بعض نے تو حیرت سے پوچھا یہ نوجوان کون ہے
10:53جو خرید و فروخت میں جھگڑا نہیں کرتا
10:54تول میں کمی نہیں کرتا اور بات ایسے کرتا ہے
10:57جیسے دل میں اتر جائے
10:58یہ سفر صرف تجارتی نہیں رہا یہ کردار کی روشنی
11:01تھی جو اندھیروں میں سفر کر رہی تھی
11:03اور یہ روشنی بڑھتی جا رہی تھی
11:05یہاں تک کہ قافلہ وسرہ کے نزدیک
11:07ایک ایسے مقام پر پہنچا
11:09جہاں سالوں سے ایک عیسائی راہب
11:11نستورہ انجیل کی پرانی پیشگوئیوں
11:13کو لیے ایک دن کے لیے منتظر تھا
11:15جب وہ اپنی آنکھوں سے اس چہرے کو دیکھے گا
11:18جس کا ذکر وہ اپنی پوری عمر
11:20آسمانی کتابوں میں پڑھتا آیا تھا
11:22وہ لمحہ قریب آ چکا تھا
11:23جب کتابوں کی تحریر حقیقت بننے والی تھی
11:26اور ایک راہب ایک غلام
11:28اور ایک نبی
11:29سب اپنی اپنی جگہ تاریخ کا دائم حصہ بننے والے تھے
11:32جب قریش کا تجارتی قافلہ
11:34شام کی تاریخی شہر بسرہ کے نزدیک پہنچا
11:37تو یہ ایک عام قیام نہ تھا
11:39بسرہ اس وقت
11:40سلطنت روم کا ایک عام تجارتی
11:42اور مذہبی مرکز تھا
11:43جہاں مختلف قوموں مذاہب
11:45اور قافلوں کا روز آنا جانا لگا رہتا
11:47رومی طرز تعمیر کی عمارتیں
11:49عیسائی خان کا ہیں
11:51اور صدیوں پرانی گلیاں
11:52بسرہ کا ماحول روحانی
11:54اور علمی کشش سے بھرپور تھا
11:56لیکن ان سب میں خان کا ایسی بھی تھی
11:58جو دنیا سے کٹی ہوئی تھی
11:59اور جس کا مکین برسوں سے کسی آنے والے کا منتظر تھا
12:02یہی وہ خان کا تھی جہاں
12:04نستورہ راہب عبادت و ریاضت میں مصروف رہتا تھا
12:07اس کا دل کتابوں میں چھپی ہوئی پیشگوئیوں سے لبریز تھا
12:10وہ ایک ایسے نبی کی آمد کا منتظر تھا
12:12جس کی صفات وہ بار بار انجیل کے پرانے نسخوں میں پڑھ چکا تھا
12:16وہ جانتا تھا کہ اس نبی کا ظہور عرب کی سرزمین سے ہوگا
12:19اور وہ ایک دن یہاں سے گزرے گا
12:21یہی وجہ تھی کہ نستورہ قافلوں کی آمد پر اکثر
12:24اپنی خان کا کی کھڑکی سے جھانکتا
12:26اجنبیوں کے چہروں میں اس نور کو تلاش کرتا
12:29جس کی روشنی کتابوں نے بیان کی تھی
12:30اس دن جب قریشی قافلہ بسرہ میں داخل ہوا
12:33نستورہ کی آنکھوں نے وہ منظر دیکھا
12:35جو اس کے دل کی دھڑکن کو روک دینے والا تھا
12:38ایک نوجوان خاموش متوازن اور پر جمال چہرہ
12:43اس کے چہرہ پر ایک ایسا نور جھلک رہا تھا
12:45جو عام انسانوں میں نہیں پایا جاتا
12:47نستورہ ٹھٹک کر رہ گیا
12:48اس نے کھڑکی سے نظریں ہٹائیں
12:50دل تھاما اور تیزی سے نیچے آیا
12:52وہ قافلے کے قریب پہنچا
12:53مگر براہ راست کسی سے کچھ نہ کہا
12:55اس نے قافلے کا بغور مشاہدہ کیا
12:57ایک ایک چہرے کو دیکھا
12:59لیکن اس کی توجہ صرف ایک پر مرکوز رہی
13:01محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:04یہ نستورہ کا پہلا مشاہدہ نہ تھا
13:07مگر علمہ اس کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ بننے والا تھا
13:11اس نے قافلے کے افراد تو خوش اخلاقی سے خوش آمدیت کہا
13:14اور انہیں دعوت دی کہ وہ اس کی خانکہ میں آ کر قیام کریں
13:17یہ نستورہ کی روایت کی خلاف تھا
13:19معام طور پر قافلوں سے الگ تھلگ رہتا تھا
13:21لیکن اس بار کچھ اور تھا
13:23کوئی گہرہ راز
13:24کوئی خاص لمحہ
13:25جس کے دل کو بیچین کر رہا تھا
13:27قافلے کے لوگ نستورہ کی مہمان نوازی سے حیران تھے
13:30کیونکہ وہ جانتے تھے کہ راہب قافلوں سے زیادہ میل جول نہیں رکھتا
13:33مگر اس دن اس کی گرم جوشی
13:35آجزی اور خوش اخلاقی میں کچھ ایسا تھا
13:37کہ سب اس کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ ہو گئے
13:40نستورہ کی نگاہ بار بار اس نوجوان پر جہا ٹھہر دی
13:43جو سب سے الگ خاموش مگر باوقر انداز میں کھڑا تھا
13:46یہ صرف ایک مہمان نوازی کا لمحنہ تھا
13:49یہ ایک صدیوں پرانی پیشگوئی کے ظہور کا اپتدائی اشارہ تھا
13:52نستورہ جان چکا تھا
13:53وہ چہرہ جس کی تلاش میں اس نے اپنی پوری زندگی گزار دی
13:57آخر کار اس کی نگاہوں کے سامنے ہے
13:59جب نستورہ نے قافلی قیامت پر
14:01اپنے حیران کن مشاہدات کے بعد
14:03قافلی والوں کو خانکہ میں مدو کیا
14:05تو اس کی دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی
14:07اس کی نظریں بار بار اس نوجوان پر جا ٹھہرتی تھی
14:10جو پورے قافلے میں سب سے مختلف تھا
14:12وہ کسی خاص چمک اور سکون سے بھرپور چہرہ تھا
14:15جس کے اندر ایک راز چھپا تھا
14:16نستورہ کو امید تھی
14:18کہ وہ جو علامت اپنے کتابوں میں پڑھ چکا تھا
14:20وہ شخص میں ضرور نظر آئیں گی
14:22خانکہ میں پہنچتے ہی نستورہ نے ایک سوال کیا
14:25سب آگئے
14:25یہ سوال ایک سادہ سی بات لگ سکتی ہے
14:28مگر اس میں اس کی بیچینی اور گہری دلچسپی چھپی ہوئی تھی
14:31وہ جاننا چاہتا تھا
14:33کہ وہ شخص جس کا وہ برسوں سے منتظر تھا
14:35آیا ہے یا نہیں
14:36اس سوال کا مقصد اس کی دل کی کھوج
14:38اور پرانی پیجگوئیوں کا ایک اور قدم تھا
14:40جیسے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:50شخصیت اور آپ کا سرابہ
14:52اسے فورا پہچاننے کے علامت بن گئے
14:54نستورہ کی نظریں آپ علیہ السلام کے چہرے پر ٹک گئیں
14:58وہ جان چکا تھا کہ یہی وہ شخص ہے
15:00جس کا ذکر کتابوں میں تھا
15:01اور یہی وہ نبی آخر الزمان ہیں
15:04جن کی آمد کا انتظار صدیوں سے کیا جا رہا ہے
15:06نستورہ کی نگاہوں میں ایک سکون تھا
15:08مگر اندر کی شدید جذباتی کیفیت
15:11اس کی آنکھوں سے جھلک رہی تھی
15:12اس نے فورا اپنی آنکھوں کو جھپک کر
15:14پھر سے مشاہدہ کیا
15:16اور آپ علیہ السلام کے چہرے کی گہرائی میں موجود
15:19ایک خاص علامت کو دیکھا
15:20وہ مہر نبوت
15:22نستورہ نے جو علامت اپنے کتابوں میں پڑھ رکھی تھی
15:25وہ آج حقیقی طور پر اس کے سامنے تھی
15:27نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کاندھے کے نیچے
15:30ایک چھوٹا سا نشان تھا
15:31جو آپ کے نبی ہونے کی واضح علامت تھا
15:34مہر نبوت
15:35یہ وہ نشان تھا جس کا ذکر ایک غیبی پیشگوئی میں کیا گیا تھا
15:38نستورہ کی نظریں اسی مقام پر مرکوز ہو گئیں
15:41اور اس کی آنکھوں میں خاص قسم کی چمک اترائی
15:43چند لمحوں کے لئے نستورہ خاموش ہو گیا
15:45اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی حیرت تھی
15:47اور دل میں ایک گہری خوشی
15:49اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی سچائی کو پہچان لیا تھا
15:52اس ملاقات نے نہ صرف اس کی پیشگوئیوں کو سچ ثابت کیا
15:55بلکہ اس کے دل میں ایک نئی روشنی ڈال دی تھی
15:57نستورہ کو وہ شخص مل گیا تھا
15:59جس کے بارے میں وہ اپنی ساری زندگی پڑھتا آیا تھا
16:01اپنے جذبات کو کنٹرول کرتے ہوئے
16:03نستورہ نے دھیرے سے کہا
16:05تم وہی ہو جس کا برسوں میں نے انتظار کیا تھا
16:08وہ نبی آخر الزمان جس کا ذکر تمہاری کتابوں میں بھی تھا
16:11اور ہمارے ہاں بھی ہے
16:12یہ وہ لمحہ تھا جب نستورہ نے اپنے دل کی آواز سنی
16:15اور اس کی گواہی دینے کا ارادہ کیا
16:17نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت کا نور
16:20آپ کی سچائی اور مہر نبوت نے
16:22اس کی تمام شک و شبات کو مٹاتے ہوئے
16:25اسے کامل یقین میں بدل دیا
16:26ناظرین جب نستورہ نے اپنی آنکھوں کے سامنے
16:29مہر نبوت کی نشانی دیکھ لی
16:30تو اس کا دل ایک سنگین حقیقت سے گواہ ہو گیا
16:33اس کے ذہن میں ایک سوال تھا
16:34کیا وہ شخص باقی وہی ہے
16:36جس کا ہم سب انتظار کر رہے ہیں
16:39مگر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت میں
16:42وہ تمام علامات اور روحانی جلال اسے نظر آیا
16:44تو اس کا دل یقین سے بھر گیا
16:46نستورہ نے غلام میسرہ سے گفتو کو شروع کی
16:49جو قافلے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمرا سفر کر رہا تھا
16:53اس نے میسرہ سے کہا
16:54یہ بچہ نبی بنے گا
16:55جس کا ذکر ہم نے اپنے کتابوں میں پڑھا ہے
16:57یہ الفاظ نستورہ کی پیشگوئی کو بازے کرتے تھے
17:00اس نے اپنی زندگی میں پہلی بار کسی انسان میں
17:02وہ تمام صفات دیکھی جو ایک نبی میں ہونی چاہیے تھیں
17:05صداقت، امانت، اخلاق اور ایک خاص نورانی جلال
17:08لیکن نستورہ کی پیشگوئی صرف ایک خوشی کا پیغام نہیں تھی
17:12اس نے میسرہ کو ایک سنگین حقیقت سے بھی آگاہ کیا
17:15وہ یہ تھا کہ نبی آخر الزمہ کی آمد کے ساتھ ہی
17:18ایک نئی تحریک کا آغاز ہونے والا تھا
17:20اور وہ یہ وقت تھا جب بہت سے خطرات بھی سر اٹھا سکتے تھے
17:23نستورہ نے میسرہ سے کہا
17:25یہودی علماء جنہیں اس نبوت کا پتہ چل چکا ہے
17:27وہ اس کے مخالف ہوں گے
17:29وہ تمہارے نبی کی مخالفت کریں گے
17:31اور اس کا راستہ روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے
17:33تمہیں ان کے بارے میں ہوشیار رہنا ہوگا
17:35کیونکہ ان کی طاقت اور ارس و رسوخ بہت زیادہ ہے
17:38نستورہ کی یہ تنبی ایک پیشگوئی سے زیادہ
17:40ایک وارننگ بن چکی تھی
17:42وہ جانتا تھا کہ یہ نبی آخری نبی ہیں
17:44اور ان کے آنے سے موجودہ مذہبی اور سیاسی نظام میں
17:47زلزل آنا تھا
17:48اس وقت تک وہ جان چکا تھا
17:50کہ جس شخص سے اس نے ملقات کی تھی
17:52وہ نہ صرف اپنی قوم
17:54بلکہ پورے عالم انسانت کے لیے
17:56ایک نیا پیغام لے کر آیا ہے
17:57یہ باتیں میسرہ کے دل پر ایک خاص اثر ڈال گئیں
18:00اسے اندازہ ہو چکا تھا
18:01کہ جو عظمت اور اہمیت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جڑی ہوئی تھی
18:05وہ صرف ایک نبی کی شخصیت کا نہیں
18:07بلکہ ایک عالم انقلاب کا پیش خیمہ تھی
18:09نستورہ کی پیشگوئی اور تنبی دونوں نے میسرہ کو
18:13نستورہ کی پیشگوئی اور تنبی دونوں نے میسرہ کو
18:16اس حقیقت سے آگاہ کیا
18:17کہ اس سفر صرف تجارتی نہیں
18:18بلکہ ایک نئے دور کا آغاز تھا
18:20جب تجارتی قافلہ شام سے باپس مکہ کی طرف روانہ ہوا
18:23تو راستی کے ہر دشواری اور تکلیف کے باوجود
18:26اس سفر کی اہمیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا
18:28قافلے کا ہر شخصی جان چکا تھا
18:30کہ اس سفر کے دوران وہ ایک ایسے شخص کے ساتھ چل رہا ہے
18:32جس کی تقدیر میں صرف دنیا نہیں
18:34بلکہ پورے عالم کے ہدایت شامل تھی
18:36نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت کی سادگی
18:39اخلاعات اور عظم نے
18:41ہر فرد کو متاثر کیا تھا
18:43اور ان کی موجودگی نے قافلے کے ہر لمحے کو سکون
18:45اتمنان اور برکت سے بھر دیا تھا
18:47اس سفر کے دوران نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
18:50نہ صرف تجارت کے کاموں کو بہخوبی انجام دیا
18:53بلکہ قافلے کے لوگوں کے ساتھ
18:55اس نے سلوک اور نرم گفتاری سے
18:57پیش آ کر اپنے اخلاق کی
18:58ایک نئی مثال قائم کی
19:00میسرہ جو اس سفر کے دوران
19:03نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا
19:05واپسی پر جو کچھ بھی
19:06اس نے دیکھا
19:07اس نے اس اپنے دل و دماغ میں محفوظ کر لیا تھا
19:10بسرہ میں نستورہ سے ملاقات
19:12اور اس کی گواہی کے بعد
19:13میسرہ کے دل میں ایک نیا شعور پیدا ہو گیا تھا
19:15اور وہ جان چکا تھا کہ
19:17یہ شخص جو اس کے ساتھ سفر کر رہا ہے
19:19وہ واقعی وہ آخری نبی ہیں
19:20جن کا ذکر کتابوں میں تھا
19:22اس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت میں
19:25ایسی صفات دیکھیں
19:26جو کسی عام انسان میں نہیں ہو سکتی تھی
19:28میسرہ نے خود بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ
19:31گزارے گئے وقت کو
19:32ایک مقدس اور روحانی تجربہ محسوس کیا
19:35مکہ واپس پہنچتے ہی
19:36میسرہ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے سامنے
19:39سب کچھ بیان کیا
19:40اس نے کہا
19:41حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ
19:43یہ وہ شخصیں جن کا ذکر
19:44ہمیں کتابوں میں ملتا ہے
19:45نستورہ راہم نے بھی ان کی پہچان کی تھی
19:48اور کہا تھا یہ بچہ نبی بنے گا
19:50میسرہ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کو بتایا
19:53کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت میں
19:55متمام خصوصیات موجود تھیں
19:57جو کسی نبی میں ہونی چاہیے
19:59آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق
20:01صداقت اور آسمانی نور نے
20:03نستورہ جیسے بڑے عالم کو بھی
20:05حیران کن طور پر تصدیق کرنے پر مجبور کر دیا تھا
20:07میسرہ نے یہ بھی بتایا
20:09کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معصومیت
20:11اور سچائی میں ایسی روشنی تھی
20:13جسے وہ اپنی زندگی کے سب سے بہترین
20:15تجربات میں شمار کرتا ہے
20:16حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے جب میسرہ سے یہ سب سنا
20:19تو ان کے دل میں کجیب سا سکون اور اتمنان پیدا ہوا
20:22حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے
20:23ہمیشہ ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچائی
20:27اور بلند اخلاق کا
20:28امیق انداز میں مشاہدہ کیا تھا
20:30لیکن اب نستورہ کی گواہی نے ان کے دل میں
20:32ایک نیا یقین پیدا کر دیا تھا
20:34حضرت خدیجہ جانتی تھی
20:35کہ یہ وہ شخص ہے جسے اللہ تعالی نے
20:37آخر الزمہ کی نبوت کے لیے منتخب کیا ہے
20:40اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے
20:42دل میں فیصلہ کیا کہ اب وقت آ چکا ہے
20:44کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رہنمائی کے لیے
20:47مزید قدم اٹھائیں جائیں
20:48اور وہ خود اس بات کو یقینی بنائیں
20:50کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقدیر کے
20:53نئے راستے پر چلنے میں کسی قسم کے رکاوٹ نہ آئے
20:56حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی یہ فیصلہ کن سوچ
20:58اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ
21:01ان کے رشتے کی گہری بنیاد ہی تھی
21:03جو آگے چل کر ایک عظیم مقصد کی تکمیل کا آغاز بننے والی تھی
21:06حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے دل میں ایک نئی امید
21:09اور یقین تھا کہ اب اللہ کا پیغام
21:10دنیا تک پہنچنے کا وقت آ چکا ہے
21:12ناظرین یہ تھا وہ تاریخی واقعہ
21:14نستورہ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات کا
21:18اب اس واقعی کی تاریخی حیثیت کے متعلق بھی آپ کو بتاتے چلیں
21:22اگر اس واقعی کی تاریخی حیثیت اور دینی اعتبار پر نظر ڈالی جائے
21:25تو یہ واضح ہوتی ہے
21:26یہ واقعہ متعدد مستند کتب میں موجود ہے
21:29اور اسے موڑکین نے مختلف اندازیں بیان کیا ہے
21:31ابن ساکھ نے اپنے مشہور کتاب سیرت ابن ساکھ میں
21:34سفر اور نستورہ راہب کی ملاقات کو تفصیل سے بیان کیا ہے
21:37اس طرح تبری نے اپنی تاریخ تبری میں بھی اس واقعے کا ذکر کیا ہے
21:41جہاں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصت کی پیج گوئی
21:44اور نستورہ کے رد عمل کو مستند طور پر ذکر کیا گیا ہے
21:47ابن حشام نے بھی اپنی سیرت میں اس واقعے کی تشیر کی ہے
21:50اور اس کو اہمیت دی ہے
21:51کیونکہ یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے لیے
21:55ایک بڑی علامت تھا
21:56یہ تاریخی روایت ہمیں اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں
21:58کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی علامات
22:01نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ اس وقت کے غیر مسلموں کے لیے بھی کھولی تھی
22:05اور یہ واقعہ ان کی اہمیت کو واضح کرتا ہے
22:07محدثین نے اس واقعے کی صحت پر کوئی شکوک و شباہ ظاہر نہیں کیے
22:11کیونکہ اس سے مختلف روایات میں اتفاق پائے جاتا ہے
22:14اور یہ واقعہ ان روایات کی روشنی میں درست ثابت ہوتا ہے
22:17ابن کسیر اور تبری جیسے محدثین نے اس بات کو اہمیت دی
22:20کہ نستورہ کی پیشگوئی نہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے آغاز کی ایک علامت تھی
22:26بلکہ یہ دراصل اس دور کے لوگوں کے لیے ایک غیر معمولی پیشگوئی تھی
22:30جو بعد میں سچ ثابت ہوئی
22:31اس کے علاوہ یہ واقعہ اس بات کی گواہی بھی دیتا ہے
22:34کہ اللہ کی مرضی اور حکمت سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا آغاز
22:38پہلے ہی سے مختلف اقوام اور مذاہب میں درست تھا
22:41اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبوت کا راستہ اللہ کے منصوبے کے مطابق تیار ہو چکا تھا
22:46سیرت نگاروں کے آراء کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت کائندار ہے
22:52بلکہ یہ اس وقت کی عیسائی دنیا میں ہونے بالی توقعات کا بھی اکاس ہے
22:56ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
22:57ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی
23:01اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہے
23:03تو آپ سے گزارش کرتے ہیں
23:04کہ آپ ہمارے چینل کو ضرور سبسکرائب کر لیں
23:06اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
23:08تاکہ آپ کے پاس ہماری آنے والی
23:10مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹفیکشن بروقت ملتا رہے
23:13سبسکرائب کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
23:16اور اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں
23:18کمنٹس میں آپ اپنے سوالات بھی ہم تک پہنچا سکتے ہیں
23:21اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظ و مان میں رکھے
23:23آمین
Comments

Recommended