Skip to playerSkip to main content
Is the Prophecy Being Fulfilled? Palestine, Gaza & the Rise of Mahdi (A.S) | Noor TV

Duniya ke halat tezi se ek aise morh par ja rahe hain jahan Islamic prophecies aur akhir-uz-zaman ke waqiat ek ek karke samne aa rahe hain. Palestine aur Gaza mein hone wala zulm, tabahi aur insaniyat ka imtehaan sirf ek geo-political crisis nahi, balkay ho sakta hai ke yeh Imam Mahdi (A.S) ke zahoor ki paishgoiyon ki tasdeeq ho.

Is Video Mein Aap Jaan Sakein Ge:
✅ Gaza aur Palestine ke halat aur unka akhir zaman se talluq
✅ Quran aur Hadees mein zahoor-e-Mahdi (A.S) ki nishaniyan
✅ Kya yeh waqt us paishgoi ka hai jisme Mashriq se aik jhanda uthaya jayega?
✅ Muslim Ummah ka role aur tayyari ka paigham

Prophetic Insights & Realities:
📖 Hadees: “Aik lashkar Sham se uthayega, jiske leader Mahdi (A.S) honge.”
⚔️ Gaza aur Syria ka fitna — kya yehi unka aghaz hai?
🌍 Akhri zamane mein zalzale, fitne, aur jung – sab kuch samne aaraha hai

Agar aap yeh soch rahe hain ke yeh sirf ittefaq hai, to is video ko dekhne ke baad aap ka sochna badal jaayega.
Yeh waqt hai Ummat-e-Muslima ko jagaane, dua karne, aur haq ke liye uthne ka.

📢 Like, Share & Subscribe 💖
🔔 Bell Icon Dabaayein Taake Aapko Har Aakhri Zamane Ki Update Milti Rahe

#MahdiProphecy #PalestineCrisis #GazaWar #EndTimesSigns #ZahoorEMahdi #IslamicTeachings #NoorTV #QiyamahKiNishaniyan #AkhriZamana #UmmahAwakening

Category

📚
Learning
Transcript
00:03FALSTINIEN KEE SERZEMIN PER IMAM MEHDI KA ZAHOOR
00:32FALSTINIEN KEE SERZEMIN PER IMAM MEHDI KA ZAHOOR
01:00FALSTINIEN KEE SERZEMIN PER IMAM MEHDI KA ZAHOOR
01:29FALSTINIEN KEE SERZEMIN PER IMAM MEHDI KA ZAHOOR
01:48FALSTINIEN KEE SERZEMIN PER IMAM MEHDI KA ZAHOOR
02:17FALSTINIEN KEE SERZEMIN PER IMAM MEHDI KA ZAHOOR
02:32FALSTINIEN KEE SERZEMIN PER IMAM MEHDI KA ZAHOOR
02:42FALSTINIEN KEE SERZEMIN PER IMAM MEHDI KA ZAHOOR
03:03FALSTINIEN PER IMAM MEHDI KA ZAHOOR
03:15FALSTINIEN PER IMAM MEHDI KA ZAHOOR
03:46FALSTINIEN PER IMAM MEHDI KA ZAHOOR
03:51FALSTINIEN KEE SERZEMIN PER IMAM MEHDI KA ZAHOOR
04:26FALSTINIEN KEE SERZEMIN PER IMAM MEHDI KA ZAHOOR
04:38FALSTINIEN PER IMAM MEHDI KA ZAHOOR
04:47FALSTINIEN PER GYMETI KA ZAHOOR
04:55هم اتنے بے بس ہو چکے ہیں کہ اپنی آنکھوں کے سامنے قوم کو مٹتا
04:58دیکھ کر بھی لب سلنایں پھر ایک معصوم فلسطینی بچی کی وہ سطر جو پتھر
05:02دلوں کو بھی پگلا دینے کے لیے کافی ہے ہماری خبریں اب سے تمہیں
05:05پریشان نہیں کریں گی یہ صرف چند دنوں کی بات ہے اور سب ختم ہو جائیں
05:09گے یہ ایک معصوم ذہن کے سب سے دردناک شکست ہے وہ بچی جو کل تک
05:14اپنی ماہ کے ساتھ گوڑیا کے کپڑے بدلتی تھی آج یہ اعلان کر رہی
05:17that we will not be able to make a place for a day and a man.
05:20Because we will not be able to do that.
05:21He said that God will not be able to make a place for our fight.
05:25This is what we can do for them.
05:27This is why there is a good relationship with us,
05:27which told us about the story.
05:30And then the story of the people here
05:31who will be able to run it,
05:33has been able to get a message for the people who have been willing to get in this sense.
05:36I have no idea for all that.
05:37No matter.
05:39There is no doubt about it.
05:40It is not just a fear of fear.
05:42It is a fear of fear,
05:43which is the fear of fear.
05:45. . . . . . . .
06:14. . . . .
06:45. . . . . .
06:45. . . . . . .
06:46. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
06:48. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
06:51. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
06:56. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
06:59. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
07:00. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
07:02. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
07:02. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
07:03. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
07:05. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
07:05. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
07:06. . .
07:06ڈالے سے نکالا جا رہا ہے اور ہمیں خاموش نہیں رہنا چاہیے کیونکہ اگر ہم خاموش رہے تو وہ بچی
07:11سچ کہے گی ہماری خبر ہے تمہیں اب پریشان نہیں کریں گی کیونکہ ہم رہیں گے ہی نہیں ناظرین سوال
07:17یہ ہے کہ ہم اس چیک کو سن کر سونے جا رہے ہیں یہ جاگنے کا فیصلہ کریں گے ہم
07:22بدعا کے حقدار بنیں گے یا دعا کے ناظرین سب دنیا نے مو موڑ لیا قریبیوں نے خاموشی اختیار کر
07:28لی جب امیدوں کے سب دروازے بند ہو گئے تب بھی اہل غز
07:31غزہ کے نگاہیں کسی انسان کی طرف نہیں اٹھیں بلکہ سیدھی رب کعبہ کی طرف تھی یہ وہ لوگ ہیں
07:36جن کے سروں پر بارود برس رہا ہے جن کے گھروں کے نیچے قبریں بنی ہوئی ہیں جن کے بچے
07:41صبح اسکول کے بجائے شہادت کی تمنہ لیے دفن ہو جاتے ہیں مگر ان کے چہروں پر مایوسی کا نام
07:47و نشان نہیں ان کے لبوں پر یہ الفاظ ہوتے ہیں حسبون اللہ و نعم الوکیل یعنی اللہ ہمارے لیے
07:53کافی ہے اور وہی بہتری انکار ساز ہے غزہ کی ایک ماں جو اپنے تین بچوں
07:57کو ایک ہی دن میں کھو بیٹھی وہ رب سے شکوا کرنے کے بجائے کہتی ہے میں نے اپنے بچے
08:01اللہ کی راہ میں قربان کیے اور مجھے یقین ہے کہ وہ جنت میں میرا انتظار کر رہے ہیں یہ
08:06صرف صبر نہیں یہ ایمان کا وہ بلند مقام ہے جس کی جھلک ہمیں اصحاب آل فیرون کے مومن اور
08:11امام حسین علیہ السلام کی قربانیوں سے ملتی ہے اہل غزہ کے بچے جو کبھی اسلامی مدرسے میں نہیں گئے
08:16مگر ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی یوں چمکتی ہے جیسے تندیلیں ظلمت میں ایک بچ
08:24جو مل بے تلے دبی ہوئی تھی جب اس سے پوچھا گیا کیا تمہیں ڈر نہیں لگتا اس نے مسکرا
08:28کر کہا اللہ ہمارے ساتھ ہے اور جب اللہ ہو تو ڈر کیسا یہ ایمان ہمیں سبق دیتا ہے کہ
08:33حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں اگر دل میں اللہ کی محبت تبکل اور یقین ہوتے ہیں انسان دشمن
08:38کی فوجوں کے سامنے بھی ڈر سکتا ہے اہل غزہ کی استقامت یا عقیدہ یا تبکل ہمیں آئینہ دکھاتا ہے
08:43کہ ہم کہاں کھڑے ہیں کہ ہم نے بھی اپنا ایمان ا
08:46اتنا سچا بنا لیا ہے کہ ہم بھی اپنے دین اپنی مسجد اقصہ مظلوموں کے لیے بیسے ہی غیر متزلزل
08:51یقین رکھتے ہیں یا ہم صرف الفاظ کے مسلمان ہیں غزہ کے لوگوں نے ہمیں بتا دیا کہ ایمان کیا
08:57ہوتا ہے اب وقت ہے کہ ہم خود کو ان کے ایمان کے آئینے میں دیکھیں اور اپنے دل سے
09:01یہ سوال کریں کیا میں بھی غزہ کے کسی بچے جیسا ایمان رکھتا ہوں ناظرین بیت المقدس کی عظمت اور
09:06اہمیت مسلمانوں کے لیے کسی سے پوشیدہ نہیں یہ وہ مقدس
09:10سرزمین ہے جو نہ صرف مسلمانوں کے دلوں میں بسی ہوئی ہے بلکہ اللہ کی رضا اور انعامات کا دروازہ
09:15بھی ہے غزہ کے مظلوم لوگ جو ہر روز اپنی زندگیوں کے ساتھ بیت المقدس کی حفاظت کے لیے لڑ
09:20رہے ہیں وہ جنتی بشارت کے مستحق ہیں اللہ سبحانہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے اور تم میں سے
09:26جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام کیے ان کو ہم یقیناً زمین میں خلیفہ بنائیں گے جیسے
09:31ہم نے ان لوگوں کو بنایا جو ان سے پہلے گزرے س
09:36غزہ کے لوگ جنہوں نے اپنی سرزمین کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے اللہ کی اس
09:40آیت کی حقیقی تفسیر بن رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو نہ صرف اپنی سرزمین کا دفاع کر رہے
09:45ہیں بلکہ بیت المقدس کے تحفظ کے لیے بھی اپنی جانیں وفق کر چکے ہیں حضرت ابو حریرہ رضی اللہ
09:49عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک فوج کا گروہ ہمیشہ اللہ کے
09:55راستے میں لڑتا رہے گا وہ بیت المقدس اور اس کے ار
10:04بشارت ہے وہ ہر دن میدان جنگ میں اللہ کی رضا کے لیے اپنی جانوں کے قربانی دے رہے ہیں
10:08غزہ کی سرزمین جو بیت المقدس کے قریب ہے اس کا دفاع کرنے والے اہل غزہ نہ صرف اپنے وطن
10:14کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں بلکہ وہ اس حدیث کی روشنی میں جنت کی بشارت کے مستحق ہیں
10:18ناظرین جہاد صرف میدان جنگ تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کے راستے میں ہر قدم اٹھانے ظلم کے
10:23خلاف آواز اٹھانے اور اپنی زندگی کو اس کے راستے میں وفق کرن
10:27کا نام ہے غزہ کے لوگ جنہوں نے کئی دہائیوں سے ظلم و ستم کا سامنا کیا ہے ہر دن
10:31اپنے جان مال اور وقت کو اس مقدس جہاد میں گزار رہے ہیں وہ نہ صرف اپنی آزادی کے لیے
10:36لڑ رہے ہیں بلکہ وہ اس عالمی جنگ میں حصہ لے رہے ہیں جو بیت المقدس کی حفاظت کے لیے
10:41ہے ان کے قربانیاں ان کی تکالیف اور ان کی جد جہود اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب بن چکی
10:46ہے غزہ کے مظلوموں کی جنگ دراصل امت مسلمہ کے اس عظیم فرض کا حصہ ہے جس کا ذکر قرآن
10:52حدیث میں آیا ہے بیت المقدس کی حفاظت صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا فرض ہے جب
10:58اہل غزہ اس جنگ میں تنہا ہے تو یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے
11:01ہوں اپنے بسائل آواز اور ہر ممکن طریقے سے ان کی مدد کریں تاکہ ہم بھی اس جہاد میں شریک
11:06ہو سکیں اور اللہ کی رضا کے لیے اپنے قربانیاں پیش کر سکیں غزہ کے لوگ جو آج اپنی سرزمین
11:11کے دفاع میں بیت المقدس کی حفاظت کے لیے لڑ رہے ہیں ان کے لیے اللہ کی
11:15طرف سے جنت کی بشارت ہے ان کے قربانی ایک عظیم مثال ہیں جو ہمیں بتاتی ہیں کہ اللہ کی
11:19رضا کے لیے کی جانے والی ہر قربانی کا انعام جنت کی صورت میں ہے غزہ کے لوگ نہ صرف
11:24اپنے لیے بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک روشن چراغ بن چکے ہیں ہم سب کا فرض ہے کہ
11:30ان کے اس جہاد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور اس مقدس مقصد کے لیے اپنی جدوجہہ جاری
11:35رکھیں غزہ اور فلسطین کی سرزمین پر جس طرح کہ ظلم و ستم کے لہر دوڑ رہی ہے وہ
11:40اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ وہ وقت ہے جب ظالموں کے خلاف ایک عظیم تبدیلی کی
11:44ضرورت ہے غزہ کے لوگ جو ہر روز اپنے خون سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں نہ صرف اپنی
11:49سرزمین کے لیے بلکہ امت مسلمہ کے مستقبل کے لیے بھی یہ جنگ لڑ رہے ہیں ان کے خون میں
11:54اس جدوجہہت کا رنگ بھر چکا ہے جو امام مہدی کے آمد کی علامت ہو سکتی ہے حضرت علی رضی
11:59اللہ عنہ نے فرمایا تھا جب تم فلسطین میں ظلم و ستم دیکھو گے تو یہ وہ وقت
12:03ہوگا جب امام مہدی کا ظہور قریب ہوگا یہ بات فلسطین کے موجودہ حالات کے تناظر میں بہت زیادہ معنی
12:09رکھتی ہے جہاں فلسطینی اپنے حقوق کے لیے مسلسل لڑ رہے ہیں اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے حمایت کا
12:14فقدان ہے وہ امام مہدی کے ظہور کی امیدیں بڑھ چکی ہیں ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ امام مہدی
12:20کا ظہور کسی ایک ملک یا قوم کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ ہوگا فلسطین کی سرزمین پر
12:27ظ
12:33دینی ذمہ داریوں کا شعور رکھتے ہوئے فلسطین کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ ہم امام مہدی کے ظہور کے قریب
12:39جا سکیں امام مہدی کا ظہور دنیا میں انصاف امن اور عدل قائم کرنے کے لیے ہوگا اور اس کے
12:45لیے ان کا ساتھ دینا ان کی قیادت میں جبر اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونا ہماری ذمہ داری ہے
12:49امام مہدی کا پیغام یہی ہے کہ ہر مسلمان اپنی طاقت کے مطابق ظلم کے خلاف آواز اٹھائے اور ان
12:54لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو جو حق
12:56کے لیے لڑ رہے ہیں جیسے آج فلسطین میں غزہ کے مظلوم لوگ لڑ رہے ہیں ناظرین فلسطین کی سرزمین
13:01پر امام مہدی کا ظہور ایک عظیم حقیقت بن کر ہمارے سامنے آ سکتا ہے ہم جو مسلمان ہیں ہمیں
13:07اس لمحے کی تیاری کرنی چاہیے اور ظلم کے خلاف ایک عظیم تبدیلی کی تیاری میں اپنی جگہ بنانی چاہیے
13:15تاکہ ہم امام مہدی کی قیادت میں انصاف اور عدل کی قیام میں شامل ہو سکیں ناظرین غزہ کی سرزمین
13:20پر قیام
13:21برپا ہے لیکن عالمی طاقتیں خاموش ہیں ایسی خاموشی جو خود ایک جرم بن چکی ہے دنیا کی وہ بڑی
13:26طاقتیں جو آزادی جمہوریت اور انسانی حقوق کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے آج ایک طرف مو موڑے کھڑی
13:33ہیں نہ کوئی قرارداد نہ کوئی عملی قدم نہ کوئی واضح موقف صرف مضمتی بیان اور صفارتی چالا کیاں جو
13:40صرف وقت گزارنے کے ہتکنڈے بن چکے ہیں جب معصوم بچوں کی جسموں کے ٹکڑے فضا میں بکھرتے ہیں تو
13:45کہاں ہوتا
13:45ہے وہ عالمی ضمیر جس نے یوکرین فرانس اور کسی مغربی ممالک میں اور کسی مغربی ملک میں ہونے والے
13:51ہر سانہے پر پوری دنیا کو ایک کر دیا تھا عالمی میڈیا کی بے حسی اور جانبداری بھی کسی خاموش
13:57جرم سے کم نہیں اگر کوئی مغربی ملک میں ایسا پالتو جانور بھی زخمی ہو جائے تو عالمی ہیڈ لائن
14:01بن جاتا ہے لیکن جب غزہ میں سیکڑوں بچے ایک ہی دن میں لقمہ اجل بن جائیں تو اسے ایک
14:06عام خبر بنا کر گوشہ نظر کر دیا جاتا ہے پ
14:12ایسرائیلی میزائل سے مرنے والا فلسطینی بچہ محض ایک عدد یہ دوہرہ میار انسانی اقدار کے چہرے پر بد نمہ
14:18داغ ہے فلسطینیوں پر ہونے والا ظلم ایک کھلا ہوا زخم ہے جسے دنیا نے دیکھنے سے انکار کر دیا
14:24اقوام متحدہ جیسے عالمی تنظی میں محض رسمی بیانات تک محدود ہو چکی ہیں قراردادے بنتی ہیں رپورٹس آتی ہیں
14:30مگر ان کا انجام صفر نہ کوئی دباؤ نہ کوئی عملی قدم کیا اقوام متحدہ صرف طاقتوروں کے مفاد کا
14:37ن
14:41جا رہے ہوں جب اسپتالوں پر بم برسائے جا رہے ہوں اور جب پانی بجلی اور خوراک جیسے بنیادی حقوق
14:45بھی چھین لے گئے ہوں تب اگر اقوام متحدہ بھی بے بس ہو تو سوال تو بنتا ہے کیا انسانی
14:51حقوق صرف مخصوص قوم کے لیے ہیں ناظرین اگر دنیا خاموش رہی تو اس کا اثر کیا ہوگا یہ ایک
14:55اہم سوال ہے خاموشی صرف ایک فرد کی غفلت نہیں یہ ظلم کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے اگر
15:01آج غزا کو مٹتے دیکھ کر دنیا خاموش
15:03رہی تو کل وہی خاموشی کسی اور کے لیے وبال جان بنے گی ظلم اگر ایک جگہ پر پنپے اور
15:08باقی دنیا آنکھیں بند رکھے تو پھر وہ ظلم سردے نہیں دیکھتا وہ صرف پھیلتا ہے لہذا دنیا کو فیصلہ
15:15کرنا ہے کیا وہ مظلوموں کی آواز بنے گی یا ظالموں کی خاموش تعاید کیا انسانی حقوق باقی عالمی اصول
15:21ہیں یا صرف سیاسی مفادات کا ہتیار کیا اقوام عالم صرف اقتصادی مفادات کے گرد گھومتی رہے گی یا کبھی
15:27انسانیت کو بھی ت
15:27ترجی دے گی آج ضروری ہے عالمی سطح پر ایک مضبوط متحد اور مسلسل آواز کی ایک ایسی آواز جو
15:34نہ صرف فلسطینیوں کے لیے انصاف مانگے بلکہ ان کی عزت نفس بقا اور آزادی کے حق میں ایک باباکار
15:40موقع اقتیار کرے اگر ہم سب آج بولنے کا حق استعمال نہیں کریں گے تو شاید کل ہمیں بولنے کا
15:45موقع بھی نہ ملے ناظرین اگر ظلم کا مقابلہ کرنے والے ہاتھ ٹوٹ چکے ہوں تو دکھ ہوتا ہے اگر
15:51سچ بولنے والی زبانیں کاٹ دی گ
15:52نہیں ہوں تو افسوس ہوتا ہے لیکن اگر وہ ہاتھ سلامت ہوں زبانیں بول سکتی ہوں دل دھڑک سکتے ہوں
15:57مگر پھر بھی خاموشی ہو تو یہ صرف افسوس کا نہیں شرم کا مقام ہے اور یہی حال ہے اہلِ
16:03عرب کا وہ عرب جن کی تاریخ غیرت عزت اور حریت اور قیادت کی گواہ تھی وہ عرب جنہوں نے
16:08کبھی مظلوم کی فریاد پر لشکر اٹھائے تھے آج وہی عرب غزہ کی جلتی ہوئی زمین پر خاموش کھڑے ہیں
16:13محلات کی دیواریں اونچی ہو گئی ہیں مگر دل چھوٹے ہو گ
16:22خواستے تو ایسی بھی ہیں جو دشمنوں سے گلے مل رہی ہیں محایدہ کر رہی ہیں اور انہی ہاتھوں کو
16:26مسافہ پیش کر رہی ہیں جن ہاتھوں نے غزہ کے بچوں کے جسموں کو چیر ڈالا غزہ سے جو پکار
16:32وہ صرف ایک جغرافیائی خطے کی فریاد نہیں وہ عرب بھائیوں کے زمیر کو جھنجوڑنے کی آخری خواہش ہے وہ
16:38عرب بھائیوں کے زمیر کو جھنجوڑنے کی آخری کوشش ہے کیا بیت المقدس کی مٹی اتنی بے قیمت ہو گئی
16:45کہ وہ اب صرف قراردادوں کا موضوع ر
16:47کیا مسجد اپسا کی حرمت اب صرف تقریروں میں زندہ ہے کیا خون فلسطین صرف اخباری سرخیوں کے لیے ہے
16:54اگر نہیں تو پھر کیوں نہ نجت سے لے کر مراکش تک ایک لشکر تیار ہو کیوں نہ ہر ممبر
16:59سے ہر ادارے سے ایک آواز بلند ہو کیوں نہ تیل تجارت میڈیا اور سفارتکاری سب کو فلسطینیوں کے لیے
17:06ہتھیار بنایا جائے جو قوم اپنے بھائیوں کے قتل پر خاموش رہتی ہیں تاریخ ان کے وجود کو مٹانے میں
17:12دیر نہیں کر دی اور آج غزہ کی گلیوں میں جو
17:14خون بہ رہا ہے وہ صرف فلسطینیوں کا نہیں پوری امت کی غیرت کا خون ہے یہ خاموشی یہ لا
17:20تعلقی یہ بہیسی کسی بھی لغت میں بھائی چارہ نہیں کہلائی جا سکتی یہ خیانت ہے اور خیانت کرنے والوں
17:26کے لیے تاریخ ہمیشہ ظالموں کے ساتھ کھڑا کرتی ہے آج اہل غزہ کی فریاد اسرائیل سے نہیں ان عرب
17:34بھائیوں سے ہے جن کے محلات محفوظ ہیں جن کے شہر روشن ہے اور جن کے محجد آباد ہیں لیکن
17:39جن کا دل اقصہ کے لیے بند ہو چکا ہے ہم تمہارے منت
17:42حضرت ہے تم کہاں تھے ہم نے تمہیں اپنا بھائی سمجھا تم نے ہمیں اکیلہ چھوڑ دیا اب ہمارا لہو
17:47تمہارے لباس پر بھی داغ بنے گا ناظرین غزہ کی فضاؤں میں جو پکار گونج رہی ہے وہ صرف زخمیوں
17:52کی چیخیں نہیں بلکہ ایک امت کے ضمیر کو جھنجوڑنے والی صدا ہے اے اہل اسلام غزہ میں تمہیں ہماری
17:59مدد کی ضرورت ہے یہ کوئی سیاسی نعرہ نہیں یہ ایک ٹوٹتے ہوئے دل کی فریاد ہے جب ایک ماں
18:04اپنے جگرگوشے کو مل ب
18:05تلے تلاش کر رہی ہو جب ایک بچہ اپنے باپ کی لاش کو جھنجوڑتے جب ایک بچہ اپنے باپ کی
18:10لاش کو جھنجوڑ کر اٹھانے کی کوشش کر رہا ہو تب وہ دنیا تب وہ صرف دنیا نہیں دیکھتے وہ
18:15امت مسلمہ کو پکارتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کیا ہم جاگ رہے ہیں یا محض تماشائی بن کر اپنی
18:21بے حسی کا جنازہ اٹھا رہے ہیں امت مسلمہ کی خاموشی آج سب سے بڑا علمیہ ہے یہ خاموشی صرف
18:26سیاسی نہیں یہ روحانی اخلاقی اور انسانی سط
18:29سطح پر تباہ کو نصر ڈال رہی ہے ہم نے قبلہ اول کو نظر انداز کر دیا ہم نے مظلوموں
18:34کے لہو کو صرف ایک اور خبر سمجھا اور ہم نے اپنے ذمہ داریوں کو میڈیا کی سکرینوں کے پیچھے
18:39دفن کر دیا لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ غزہ کی مدد صرف ایک ہمدردی نہیں بلکہ ایک اسلامی فریضہ
18:46ہے قرآن فرماتا ہے اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد مانگے تو تم پر ان کی مدد
18:51فرض ہے اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں کیا ہم صرف دعا
18:55کر کے بیٹھ جائیں نہیں ہمیں انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر اٹھنا ہوگا انفرادی سطح پر ہم اپنی دعاوں
19:01میں اہل غزہ کو شامل کریں اپنی مالی استطاعت کے مطابق مستند ذرائع سے مدد کریں سوشل میڈیا پر فلسطین
19:07کے حق میں آواز بلند کریں اپنی نسلوں کو فلسطین کے اصل پس منظر سکھائیں اجتماعی سطح پر موثر پیٹیشنز
19:13مظاہرے اور احتجاز کیے جائیں اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ فلس
19:22داری کا احساس دلائے جائے کہ محجد اقصہ اور اہل غزہ کا دفع محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایمان کا
19:27تقاضہ ہے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ اگر ہم خاموش رہے تو کل تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی
19:32اہل غزہ کا خون ہم سب سے سوال کرے گا کہ تم کہاں تھے جب ہم مر رہے تھے یہ
19:36وقت صرف رونے دیکھنے یا سننے کا نہیں یہ کچھ کرنے کا وقت ہے اگر ہم نے کچھ نہ کیا
19:41تو شاید کل ہمارے لئے بھی کوئی آواز نہ اٹھائے ناظرین غزہ
19:44میں ہونے والے ظلم کی سب سے دردناک اور دل دیلا دینے والی تصویر وہ معصوم بچے ہیں جو زندگی
19:49اور موت کی کشمہ کشمہ مبتلا ہیں یہ بچے میز اپنے خوابوں اور کھیلوں میں غرق نہیں بلکہ وہ بمباری
19:55اور تباہی کی ایک عالمگیر حقیقت کا شکار ہیں غزہ کے ہر گوشے میں بچے اپنا بچپن اپنی معصومیت اور
20:00اپنی زندگی کو دفن کر چکے ہیں ہم سے زیادتی کیوں یہ سوال غزہ کے ہر بچے کے دل میں
20:05ہے جو اپنے چھوٹے سے جسم کے ساتھ موت کے دھ
20:08اس سوال کا کوئی جواب نہیں کیونکہ یہ ظلم اور بے بسی کے وہ مناظر ہیں جو کسی بھی زبان
20:16سے بیان نہیں ہو سکتے غزہ کے بچے جو مٹی کے دھیر تلے دب گئے وہ صرف ایک عدد نہیں
20:21بلکہ ایک نسل کا غم ہے ایک پوری تاریخ کا کرب ہے ان بچوں کی معصومیت کو قتل کیا گیا
20:25ہے ان کے خوابوں کو ملبے کے نیچے دفن کر دیا گیا ہے ہر بچہ غزہ میں مر رہا ہے
20:30اور صرف ایک جسم نہیں بلکہ ایک پورے خاندان کا دل ہے جو ٹوٹ گیا ہے ان بچوں کا درد
20:35ان کے جسم سے باہر
20:36نکلا ہے اور پوری دنیا کو اپنی گونج میں لپیٹ رہا ہے اگرچہ یہ بچے جانتے ہیں کہ ہماری زندگی
20:42اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہیں لیکن ان کے دل میں وہ خوف اور درد چھپا ہوا ہے جہاں
20:46کبھی نہیں سمجھا سکتا عالمی اداروں کی غفلت عالمی اداروں کی غفلت نے ان بچوں کے لیے کسی محفوظ پناہگاہ
20:52کو یقینی نہیں بنایا انہوں نے ان کے حقوق کی پامالی کی ہے انہیں ایک ایسی دنیا میں جینے پر
20:57مجبور کیا ہے جہاں ان کے چھوٹے سے جسم بمباری کی گھن
21:00گرج اور تباہی کے تلے دبے ہوئے ہیں ناظرین غزہ کی گلیوں میں گونجنے والی پکار اب ایک عالمی آواز
21:06بن چکی ہے جو صرف مظلوموں کے خون اور آہوں کے درمیان چھپی ہوئی نہیں بلکہ ایک امت کے ضمیر
21:11کو بیدار کرنے کی کوشش ہے اے اہل اسلام غزہ میں تمہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے یہ الفاظ کسی
21:17سیاسی صفارتی دعوے سے نہیں بلکہ زندگی اور موت کے درمیان جھولتے انسانوں کی پکار ہیں جب ایک باپ اپنی
21:23بچی کو مل بے تلے دفن کرت
21:24ہے جب ایک ماں اپنے بچے کو بدلے کی آگ میں جلاتے ہوئے صرف اللہ کی مدد کی امید رکھتی
21:28ہے تب وہ صرف اپنے بھائیوں اور بہنوں کو نہیں پوری امت مسلمہ کو یاد دلاتے ہیں کہ ہم سب
21:33کا فرض ہے کہ ہم ان کے درد میں شریک ہوں لیکن آج امت مسلمہ کی خاموشی ایک سنگین تباہی
21:38کا باعث بنی ہوئی ہے ہم نے ظلم کو خاموش تماشائی کی طرح دیکھا جیسے ہم کسی اور کے مسئلے
21:43کو حل کرنے کی ذمہ داری نہیں رکھتے جیسے ہم کسی اور کے مسئلے کو ح
21:46حل کرنے کی ذمہ داری نہیں رکھتے یہ خاموشی صرف ایک فرض یا قوم کی نہیں بلکہ پوری امت کی
21:51اخلاقی شکست ہے یہ خاموشی ایک تباہ کو نصر ڈال رہی ہے ہم نے اپنے ضمیر کو اس قدر سست
21:57بنا دیا ہے کہ ہم انسانیت کے سب سے بڑے بہران پر بھی خاموش رہ سکتے ہیں غزہ کی مدد
22:01صرف ہماری ہمدردی نہیں بلکہ ایک اسلامی فرض ہے قرآن مجید میں ہمیں صاف طور پر ہدایت دی گئی ہے
22:07کہ اگر کوئی مسلمان ہمیں مدد کیلئے پکار
22:09تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی مدد فراہم کریں یہ فرض صرف لفظوں تک محدود نہیں بلکہ
22:13ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ عملی طور پر اس کی تکمیل کریں ناظرین کیا غزہ کی حالت مشرق
22:18بستہ کے دوسرے ممالک کے لئے ایک تنبی ہے یہ سوال پوری مسلم دنیا کے لئے ایک وارننگ ہے اگر
22:24ہم غزہ کو اس کے حال پر چھوڑ دیں تو ہم اپنے پورے خطے کو مزید انتشار اور بدمنی کی
22:28طرف دھکیل رہے ہیں غزہ کا مسئلہ ہم سب کا مسئلہ ہے اور اس کا حل
22:31فقط ہمارے اجتماعی عظم اور مشترکہ کوششوں میں مزبر ہیں امت مسلمہ کی خاموشی ایک سنگین سوال پیدا کرتی ہے
22:38ہم کہاں ہیں غزہ میں بہنے والے خون شہیدوں کی لاشیں اور زخمیوں کی پکار ہمیں جگانے کی کوشش کر
22:44رہی ہے یہ ظلم ہمارے دلوں میں ایک کرب کی صورت میں چھپا ہوا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ
22:48اس کرب کا جواب کہاں ہے ہم سب کا ایک دکھ ہے یہ وہ نعرہ ہونا چاہیے جو ہر مسلمان
22:53کے دل میں گونجے غزہ کا مسئلہ فقط فلسطینیوں کا نہیں بلکہ
22:57پورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے اگر غزہ میں ہونے والے ظلم پر ہماری خاموشی برقرار رہی تو ہم اپنے
23:02ضمیر کو کہاں چھپائیں گے مسلمان ممالک میں یک جہتی کی ضرورت ہے حکومتوں کو بھی اور عوام کو بھی
23:07اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا حکومتوں کو عالمی سطح پر فلسطین کے حقوق کے لیے مضبوط موقف اختیار
23:13کرنا ہوگا اور عوام کو اخلاقی مالی اور سیاسی سطح پر غزہ کی حمایت میں قدم اٹھانا ہوگا ایک اسلامی
23:19امت کے ط
23:19اور پر ہم اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے کیونکہ غزہ میں ہونے والے مظالم کا جواب
23:24دینا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے یہ وقت ہے کہ ہم اپنی طبانائیاں جمع کریں اور ایک دوسرے کا ساتھ
23:29دیں سوال یہ ہے کہ آپ اس وقت غزہ کے لیے کیا کر سکتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ آپ
23:34کمنٹس میں اپنی رائے دیں اس مسئلے میں اپنے خیالات شیئر کریں اور اگر آپ نے ابھی تک سبسکرائب نہیں
23:39کیا تو ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں تاکہ ہم م
23:45ایکن کو دمائیں تاکہ آپ کو ہماری تازہ ویڈیوز کی اطلاع مل سکے
Comments

Recommended