Skip to playerSkip to main content
Hazrat Yaqoob (AS) Ka Waqiya | Islamic Stories | Qurani Waqia | Noor TV

Hazrat Yaqoob (AS) ek azeem Qurani paighambar hain, jinhon ne apni puri zindagi Allah ke hukum, sabr aur tawakkul ke sath guzaari. Woh Hazrat Ishaq (AS) ke bete aur Hazrat Ibrahim (AS) ke potay thay.

Unka sabse mashhoor waqia Hazrat Yusuf (AS) ke sath judaai aur intezar ka hai. Jab Yusuf (AS) ko unke bhaiyon ne qasdan gale mein daal diya, to Hazrat Yaqoob (AS) ne sabr aur dua ka daaman thaama.

Allah ne Quran mein unke sabr ko misaal bana kar bayan kiya:
"Fa sabrun jameel." – "To sabr behtareen hai."
(Surah Yusuf 12:18)

Is Video Mein Aap Jaan Sakein Ge:
✅ Hazrat Yaqoob (AS) ka nasab aur Qurani maqam
✅ Yusuf (AS) ki judaai ka waqia aur walid ka dard
✅ Unka sabr aur Allah par bharosa kaise misaal bana
✅ Quran aur Hadees ki roshni mein unka darja aur sabq

Hazrat Yaqoob (AS) Se Milne Wale Sabaq:
🕊️ Jab sab kuch chala jaye, tab bhi Allah par bharosa rakho
💖 Waalid ka dil aur dua bohot taqatwar hoti hai
📖 Quran har dard ka jawab hai – sirf samajhne ki der hai

Agar aap bhi apne imaan ko mazboot banana chahte hain aur Qurani paighambaron se roshni lena chahte hain, to yeh video zaroor dekhein!

📢 Like, Share & Subscribe 💖
🔔 Bell Icon Dabayein Taake Aapko Har Roz Naye Islamic Videos Milti Rahein

#HazratYaqoobAS #IslamicStories #QuraniWaqia #ProphetStories #YusufAurYaqoob #SabrKaWaqia #QuranicLessons #NoorTV #DuaAurTawakkul #QuranAurHadees

Category

📚
Learning
Transcript
00:28YACOB ALIH SELAM
00:56YACOB ALIH SELAM
01:22YACOB ALIH SELAM
01:30YACOB ALIH SELAM
01:57YACOB ALIH SELAM
02:08YACOB ALIH SELAM
02:13YACOB ALIH SELAM
02:14YACOB ALIH SELAM
02:24YACOB ALIH SELAM
02:37YACOB ALIH SELAM
02:53YACOB ALIH SELAM
02:59YACOB ALIH SELAM
03:22YACOB ALIH SELAM
03:24وَوَوْ حَذْتِ يُوسفَ علیہ السلام کے خلاف دل میں بغض پالنے لگے
03:27انہیں ایسا محسوس ہونے لگا
03:29کہ ان کے والد کی محبت میں
03:30یوسف کو ان پر فوقیت حاصل ہے
03:32اور اسی خیال نے ان کے دلوں میں نفرت کے بیج بود دیئے
03:35ایک طرف حضرت یعقوب علیہ السلام
03:37اپنے اولاد کے درمیان محبت اور عدل کا درست دیتے
03:40جبکہ دوسری طرف ان کے بیٹوں کے دلوں میں
03:42یوسف علیہ السلام کے خلاف بغض بڑھتا جا رہا تھا
03:44اسی دوران ایک رات
03:45حضرت یوسف علیہ السلام نے ایک حیران کن خواب دیکھا
03:48جس میں گیارہ ستارے
03:49سورج اور چاند انہیں سجدہ کر رہے تھے
03:52جب انہوں نے یہ خواب اپنے والد کو سنایا
03:54حضرت یعقوب علیہ السلام فوراں سمجھ گئے
03:56کہ یہ خواب ایک عظیم حقیقت کی نشانی ہے
03:58وہ جان گئے کہ اللہ تعالیٰ نے
04:00یوسف علیہ السلام کے لئے ایک خاص مقدر تیہ کر رکھا ہے
04:02اور اس میں بہت بڑی حکمت پوشیدہ ہے
04:04حضرت یعقوب علیہ السلام نے
04:06نہ صرف یوسف کو تسلی دی
04:07بلکہ انہیں نصیحت بھی کی
04:08کہ وہ یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ بتائیں
04:10کیونکہ حسد انسان کو ظلم اور برائی کی طرف دھکیل دیتا ہے
04:14حضرت یعقوب علیہ السلام جانتے تھے
04:16کہ یوسف علیہ السلام کی عظمت آسانی سے حاصل نہیں ہوگی
04:18بلکہ اس کے لئے آزمائشوں کے ایک طویل سلسلے سے گزر نہ ہوگا
04:22حضرت یعقوب علیہ السلام کا دل ہمیشہ سے بیچین رہتا
04:25وہ جانتے تھے کہ یوسف علیہ السلام کے خلاف سازش تیار ہو رہی ہے
04:28مگر وہ اللہ پر بھروسہ رکھتے تھے
04:30دوسری طرف بھائیوں کے دلوں میں حسد کی آگ بڑھتی جا رہی تھی
04:33واپس میں سرگوشیاں کرتے
04:34یوسف کو راستے سے ہٹانے کی باتیں کرتے
04:37ان کا خیال تھا کہ اگر یوسف نہیں رہے گا
04:39تو والد کی محبت انہیں حاصل ہو جائے گی
04:41شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسے ڈالے
04:43اور ایک دن انہوں نے وہ فیصلہ کر لیا
04:45جس نے نہ صرف یوسف بلکہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی
04:48پوری زندگی کو ہلا کر رکھ دینا تھا
04:51یہ حسد اب سازش میں تبدیل ہونے جا رہا تھا
04:53اور وہ لمحہ قریب تھا
04:55جب حضرت یعقوب علیہ السلام کی
04:56سب سے بڑی آزمائش کا آغاز ہونا تھا
04:58وہ آزمائش جس میں صبر کا امتحان لیا جانا تھا
05:01اور جس میں ایک نبی کو اپنے محبوب بیٹے کی جدائی کا
05:03طویل صدمہ سہنا تھا
05:05لیکن سب کچھ اللہ کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ تھا
05:07اور یوسف علیہ السلام کی کہانی
05:09محض ایک آزمائش نہیں
05:10بلکہ صبر حکمت اور اللہ کی رحمت کا ایک
05:13حیرت انگیز مظہر بننے والی تھی
05:15رات کا سناٹہ ہر طرف چھایا ہوا تھا
05:17مگر ایک باپ کے دل میں بیچینی کی آندھی چل رہی تھی
05:20حضرت یعقوب علیہ السلام بے قرار تھے
05:22ان کا دل کسی انہونی کے احساس سے بوجھل ہو رہا تھا
05:25وہ بار بار دروازے کی طرف دیکھتے
05:27جیسے کسی آنے والے کے منتظر ہوں
05:29مگر ہر لمحہ مزید استراب میں اضافہ کر رہا تھا
05:32ان کے دل میں بے وجہ گھبراہت تھی
05:34جیسے کوئی توفان آنے والا ہو
05:36مگر وہ جانتے تھے کہ تقدیر کے فیصلے
05:38اللہ کے ہاتھ میں ہیں
05:39ادھر وہی وقت تھا جب بھائیوں نے
05:41اپنے سازش کو عمل اجامع پہنایا
05:43انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو
05:45محبت کا جھوٹا بہانہ دے کر
05:47ساتھ لے جانے کی اجازت مانگی تھی
05:49اور حضرت یعقوب علیہ السلام
05:50دل میں خدشات رکھنے کی باوجود
05:52آخر کار انہیں بھیجنے پر راضی ہو گئے تھے
05:55وہ لمحہ فیصلہ کن تھا
05:56ایک ایسا وقت جب ایک باپ کی محبت
05:58اور ایک نبی کا وجدان آپس میں ٹکرا رہے تھے
06:01بھائی یوسف علیہ السلام کو ساتھ لے گئے
06:03مگر ان کے دل میں کچھ اور ہی تھا
06:04راستے میں وہ سب آپس میں سازش مکمل کر چکے تھے
06:07جیسے ہی موقع ملا انہوں نے
06:09حضرت یوسف علیہ السلام کو پکڑ لیا
06:19وہ چیختے رہے مدد کے لیے پکارا
06:21مگر بھائیوں کے دل پتھر ہو چکے تھے
06:22ان کی آنکھوں میں رحم نام کی کوئی چیز باقی نہ رہی تھی
06:25ادھر حضرت یعقوب علیہ السلام کا دل اچانک
06:28زور زور سے دھڑکنے لگا
06:29جیسے کوئی ان کے دل پر دستک دے رہا ہو
06:31جیسے کوئی دکھ آنے سے پہلے کی
06:33وارننگ دے رہا ہو
06:34ان کے چہرے پر فکر کے سائے گہرے ہو گئے
06:37انہیں لگ رہا تھا کہ کچھ غلط ہو چکا ہے
06:39مگر وہ کیا ہے
06:40یہ جاننا ان کے لیے ابھی ممکن نہ تھا
06:42وہ بے قرار ہو کر آسمان کی طرف دیکھتے
06:44جیسے کسی غیبی اشارے کے منتظر ہوں
06:46یہ بے قراری
06:47کسی طوفان کی آمد کا اشارہ تھی
06:49ایک ایسے درد کا آغاز
06:51جو برسوں تک حضرت یعقوب علیہ السلام کے دل میں سلکتا رہے گا
06:54رات کی تاریخ کی گہری ہو چکی تھی
06:56حضرت یعقوب علیہ السلام
06:58بے قراری کے عالم دروازے کی طرف دیکھ رہے تھے
07:01اچانک دور سے قدموں کی چاپ سنائے دی
07:03بھائی روتے ہوئے بکھرے و قدموں سے قریب آ رہے تھے
07:06ان کے ہاتھوں میں ایک قمیز تھی
07:07جو خون سے تر تھی
07:09آنکھوں میں آنسو
07:10چہروں پر غم کا اظہار
07:11مگر دلوں میں ایک سنگین جھوٹ چھپا تھا
07:13وہ چیخ چی کر کہہ رہے تھے
07:15ابباجان
07:15یوسف کو بھیڑیا کھا گیا
07:16حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا
07:18آپ کے ہاتھوں سے وہ قمیز تھامی
07:19آنکھوں میں آنسو تیڑنے لگے
07:21مگر جیسے ہی ان کی نظر
07:23اس قمیز پر پڑی
07:24ان کا دل حقیقت کو پہچان چکا تھا
07:26قمیز پھٹی ہوئی نہ تھی
07:27کہیں نوچنے کے نشانات نہ تھے
07:29بس خون لگا تھا
07:30جھوٹا خون
07:31ایک باپ کا دل دھوکہ کھا سکتا ہے
07:33مگر ایک نبی کی بصیرت
07:35حقیقت تک فوراں پہنچ جاتی ہے
07:37انہوں نے گہری نظر بھائیوں پر ڈالی اور کہا
07:39بلکہ تمہارے نفسوں نے
07:41ایک بڑا کام تمہارے لیے آسان کر دکھایا
07:43پس صبر جمیل ہی بہتر ہے
07:45سورہ یوسف آیت 18
07:47یہ کہہ کر حضرت یعقوب علیہ السلام کے قدم لرز گئے
07:50ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
07:51مگر زبان سے کوئی شکوہ نہ نکلا
07:53درد کا ایک توفان
07:55ان کے وجود کو گھیر چکا تھا
07:56مگر وہ جانتے تھے
07:58کہ یہ آزمائش اللہ کی طرف سے ہے
08:00انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا
08:01آنکھوں میں بے بسی کے سائے تھے
08:03دل میں ایک قیامت برپا تھی
08:05مگر زبان پر صبر کا درست تھا
08:07اے اللہ
08:08میں تجھ سے مدد مانگتا ہوں
08:10یہ الفاظ ان کی لرستی ہوئی آواز سے نکلے
08:12مگر اس فریاد میں بے انتہا صبر اور ایمان چھپا تھا
08:15یہ وہ لمحہ تھا
08:16جب ایک باپ نے اپنی دنیا اندھیر ہوتی دیکھی
08:19مگر اللہ پر یقین کی روشنی کو بجھنے نہ دیا
08:22یاسو محض غم کے نہ تھے
08:24بلکہ صبر کی گواہی بھی تھے
08:26بھائی اپنی چالاکی پر خوش تھے
08:28مگر یقوب علیہ السلام جانتے تھے
08:30کہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی
08:32یوسف زندہ ہے
08:34کہیں نہ کہیں
08:35اور ایک دن حقیقت ضرور کھلے گی
08:37مگر تب تک صبر ان کا باہت سہارہ تھا
08:40فصبر جمیل
08:41برسوں بیٹ گئے
08:42مگر حضرت یقوب علیہ السلام کا دل
08:44یوسف کی جدائی کے غم سے کبھی حلکہ نہ ہوا
08:47ہر صبح وہ امید کے ساتھ دروازے کی طرف دیکھتے
08:50جیسے کسی بھی لمحے یوسف علیہ السلام واپس آ جائیں گے
08:53جب ہوا کے جھونکے دروازے کو ہلاتے
08:55تو وہ بے اختیار چونک کر اٹھ بیٹھتے
08:57جیسے کوئی یوسف کی خبر لائے ہو
08:59مگر ہر بار خاموشی ان کے دل پر
09:01ایک اور چوٹ لگا جاتی
09:03کبھی وہ دروازے کے قریب جا کر باہر دیکھتے
09:05راستوں کو ٹٹولتے
09:07کسی آہٹ کا انتظار کرتے
09:08مگر ہر بار مایوسی کے سوا کچھ نہ ملتا
09:11ان کے دن بے چینی میں گزرتے
09:12اور راتیں بے قراری میں ڈوبی رہتی
09:14رات کا اندھیرہ ان کے لیے اور زیادہ تکلیف دے ہوتا
09:18جب سارا جہاں نیند کی آغوش میں چلا جاتا
09:20تب وہ اپنے بستر پر کروٹیں بدلتے
09:22آسمان کی طرف دیکھتے
09:24ستاروں کی چمک میں کوئی اشارہ تلاش کرتے
09:27اکثر وہ سجدے میں گر کر
09:28اپنے رب سے فریاد کرتے
09:30ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے
09:31اور لبوں پر بس ایک ہی دعا ہوتی
09:33اے میرے پروردگار
09:35میرا یوسف مجھے لوٹا دے
09:36وہ جانتے تھے کہ ان کا بیٹا کہیں نہ کہیں زندہ ہے
09:39اور اللہ کے حکم سے ایک دن وہ ضرور واپس آئے گا
09:41مگر انتظار کا ہر لمحہ
09:43ان کے لیے قیامت بن چکا تھا
09:45جب وہ اپنے باقی بیٹوں کو دیکھتے
09:46تو ان کا دل اور زخمی ہو جاتا
09:48ان کی نظریں اکثر اپنے بیٹوں سے ایک ہی سوال کرتیں
09:50میرے یوسف کا کیا ہوا
09:52مگر جواب ہمیشہ وہی جھوٹا
09:54افسوس وہی خاموشی
09:56بھائیوں کے چہروں پر نہ کوئی پشتاوہ تھا
09:58نہ کوئی ندامت
09:59ان کی بے حصی حضرت یعقوب علیہ السلام کے زخموں پر
10:02نمک چھڑکتی مگر وہ پھر بھی
10:04سبر کیے ہوئے تھے
10:05وہ جانتے تھے کہ اللہ کے فیصلے بے حکمت نہیں ہوتے
10:08مگر ایک باپ کا دل پھر بھی
10:10ہر لمحہ اپنے بچھڑے ہوئے بیٹے کی یاد میں تڑپتا تھا
10:20جسم میں پہلے جیسی طاقت باقی نہ رہی تھی
10:23مگر دل میں یوسف کی محبت
10:25آج بھی اسی شدت سے موجود تھی
10:26ہر دن وہ مزید کمزور ہو رہے تھے
10:28مگر امید کی شما ابھی بھی روشن تھی
10:30ان کے کان ہر آہٹ پر یوسف کی پکار سنتے
10:33ان کی آنکھیں ہر سائے میں
10:34اپنے بیٹے کی جھلک ڈھونٹی رہتی
10:36مگر وقت آگے بڑھتا جا رہا تھا
10:38اور یوسف علیہ السلام کی جدائے کی گھڑیاں
10:40ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی
10:42حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں
10:44برسوں کے آسوں کا بوجھ نہ سہ سکیں
10:45ہر رات وہ سجدے میں گریہ وزاری کرتے
10:48ہر دن یوسف کی یاد میں
10:49آنکھوں سے اس علاوہ بہا دیتے
10:51ان کے دل پر ضبط کا بوجھ تھا
10:53مگر آنکھیں اس سبر کو زیادہ دیر تک
10:55تھام نہ سکیں وقت کے ساتھ ساتھ آنکھوں کی روشنی
10:58آہستہ آہستہ مدھم ہونے لگی
11:00پہلے دنیا دھندلائی پھر چہرے
11:02اور پھر روشنی ختم ہو گئی
11:03اب ان کی دنیا واقعی اندھیر ہو چکی تھی
11:06مگر ان کے دل کا یقین ابھی بھی روشن تھا
11:08قرآن نے اس لمحے کو یوں بیان کیا
11:11جس کا ترجمہ ہے
11:12اور ان کی آنکھیں یوسف کے غم میں
11:14سفید ہو گئیں اور وہ غم کو
11:16ضبط کیے ہوئے تھے
11:17سورہ یوسف آیت 84
11:19یہ وہ لمحہ تھا جب غم نے ان کی بینائے چھین لی تھی
11:22مگر ان کا ایمان اور سبر اب بھی قائم تھا
11:25وہ جانتے تھے کہ یوسف کہیں نہ کہیں
11:26موجود ہے اور اللہ کے وعدیں سچے ہیں
11:29ان کے آنکھیں ضرور روشنی
11:30کھو چکی تھی مگر ان کے دل میں یقین
11:32کی روشنی آج بھی اسی طرح چمک رہی تھی
11:34وہ انتظار میں تھے دعا میں تھے
11:36امید میں تھے اور وہ لمحہ قریب تھا
11:38جب اللہ ان کے سبر کا بہترین
11:40سلا دینے والا تھا
11:41یہ غم محض ایک بیٹے کی جدائی کا نہ تھا
11:43بلکہ ایک ایسی آزمائش تھی جو سبر اور ایمان
11:46کی آخری حدوں کو چھو رہی تھی
11:47یعقوب علیہ السلام اپنے رب کے حضور
11:49جھکے رہتے ان کے دعائیں لمحہ بلمحہ
11:52مزید گہری ہو رہی تھی
11:53انہوں نے شکوہ نہیں کیا مگر آنکھوں سے
11:56بہتے آسووں نے ان کے دل کی
11:58گواہی دے دی اے میرے پروردگار
12:00میں تجھ سے سبر اور حوصلہ
12:02مانگتا ہوں میری آنکھیں بینائی
12:04کھو چکی ہیں مگر میرے دل کی روشنی
12:06قائم رکھ یہ دعا وہ ہر بگ
12:08دہر آتے کیونکہ ان کی امید ان کا
12:10یقین اور ان کا اللہ پر ایمان
12:12کبھی کمزور نہ ہوا تھا حد
12:14یعقوب علیہ السلام کی زندگی کے حر لمحہ
12:16یوسف علیہ السلام کی یاد میں گزرا
12:17مگر امید کا چراک کبھی بجھنے نہ دیا
12:20بینائی جا چکی تھی جسم
12:22کمزور ہو چکا تھا مگر دل میں
12:24یقین اب بھی روشن تھا جب مصر
12:26سے قہد کی خبریں آئیں اور ان کے بیٹوں
12:28کو دوبارہ اناج کے لیے وہاں جانا پڑا
12:29تو یعقوب علیہ السلام نے ان سے التجا کی
12:31بلکہ انہیں مجبور کیا کہ صرف
12:33غلہ لینے نہ جائیں بلکہ اپنے کھوئے ہوئے
12:36بھائی یوسف کو بھی تلاش کریں
12:37سورہ یوسف آیت نمبر 87 میں
12:39اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس کا ترجمہ ہے
12:42اے میرے بیٹو جاؤ اور یوسف
12:44اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کی
12:46رحمت سے مایوس نہ ہو یہ حکم
12:47صرف ایک باپ کی خواہش نہ تھی بلکہ
12:49ایک نبی کا یقین تھا جب بیٹوں نے
12:51مایوسی سے کہا کہ یوسف کو ڈھونڈنے کا کوئی
12:53فائدہ نہیں وہ کپ کھو چکا ہے
12:55تو یعقوب علیہ السلام نے دلگیر
12:57مگر پور اعتماد لہجے میں کہا
12:59اِنِّ عَالَمُ مِنَ اللَّهِ مَا عَلَى تَعْلَمُونَ
13:02میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں
13:04جو تم نہیں جانتے
13:05یہ الفاظ ان کے یقین اور بصیرت کا اعلان تھے
13:08وہ جانتے تھے کہ اللہ کے فیصلے
13:10بے مقصد نہیں ہوتے
13:11انہوں نے اپنے بیٹوں کو آخری بار روانہ کیا
13:13اور اس بار ان کی امید بے سود نہ جائے گی
13:15وہ لمحہ قریب تھا
13:16جب برسوں کا انتظار ختم ہونے والا تھا
13:19یب یوسف علیہ السلام کی جدائی کی گھڑیاں
13:21اپنے اختتام کو پہنچنے والی تھیں
13:23حضرت یعقوب علیہ السلام کی زندگی کا ہر لمحہ
13:25یوسف کی یاد میں گزرتا
13:27مگر صبر اور امید کا چراغ کبھی بجنے نہ دیا
13:30بینائی جا چکی تھی
13:31جسم کمزور ہو چکا تھا
13:33مگر دل کے روشنی بدستور قائم تھی
13:35یوسف کی جدائی میں ان کے دل پر
13:37جو زخم لگا تھا
13:38وہ وقت کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا تھا
13:40ہر آہٹ پر وہ چوک اٹھتے
13:42ہر دروازے کی دستک پر امید بنتی
13:44کہ شاید یوسف لوٹ آیا ہو
13:46مگر ہر بار خاموشی
13:47ان کے دل پر ایک نئی چوٹ لگا جاتی
13:49یہ لمحہ کسی خواب کی معنی تھا
13:52جیسے وقت تھم گیا ہو
13:53جیسے برسوں کی رات ایک پل میں ختم ہو رہی ہو
14:03یہ کام کے ہاتھوں سے
14:04حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیز کو
14:05اپنے چہرے کے قریب لاتے ہیں
14:07ان کے دل کے دھڑکن بے قابو ہو چکی تھی
14:09آنکھوں سے آسووں کی دھار رما تھی
14:11اور جیسے ہی قمیز کی خوشبو ان کے سانسوں میں اتری
14:14ایک معجزہ رونما ہوا
14:16سالوں سے جو آنکھ غم اور آسووں کے بوش
14:19تلے دھندلا چکی تھی
14:20وہ پل بھر میں روشن ہو گئی
14:21روشنی جیسے ان کی روح میں واپس اتر آئی ہو
14:24یوسف علیہ السلام کی محبت نے جو بینائے چھینی تھی
14:26وہی محبت آج بینائے لوٹا رہی تھی
14:29جیسے ہی روشنی لوٹی
14:30ان کی نظریں آسمان کی جانب اٹھی
14:32ہونٹوں پر شکر کے الفاظ آئے
14:34اور آنسووں کی روانی مزید تیز ہو گئی
14:37ان کے چہرے پر برسوں کی دکھ کی لکیریں تھیں
14:39مگر اب ان لکیروں میں ایک سکون جھاکنے لگا
14:42ایک ایسا اتمنان جو صرف اللہ پر کامل یقین رکھنے والوں کو نصیب ہوتا ہے
14:46برسوں کے صبر اور آسموں کا پہلا انام یہی تھا
14:49کہ وہ ایک بار پھر دیکھ سکتے تھے
14:51مگر ان کے نگاہیں صرف ایک چہرہ ڈھونڈ رہی تھی
14:54وہ چہرہ جس کی جدائی نے انہیں نڈھال کر دیا تھا
14:57وہ چہرہ جو برسوں پہلے ایک اونے میں ڈال دیا گیا تھا
15:00اب وقت آ گیا تھا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام خود مصر کی طرف روانہ ہوں
15:04اپنے جگر کے ٹکڑے سے دوبارہ ملنے کے لیے
15:06یہ لمحہ کسی عام خوشی کا نہیں تھا
15:16وہ صبر جو امید کے آخری کنارے تک بندھا رہا تھا
15:19وہ صبر جس میں ایک نبی کا یقین پوشیدہ تھا
15:22جیسے ہی بنائی واپس آئی ان کے ہونٹوں پر پہلا جملہ آیا
15:26الحمدللہ یہی وہ میرا یوسف ہے
15:28جس کیلئے میں نے سجدوں میں فریاد کی
15:30جس کیلئے میری آنکھوں نے ہر رات آنسو بہائے
15:33اور جسے اللہ نے میری زندگی کا سب سے بڑا امتحان بنایا
15:36حضرت یعقوب علیہ السلام نے لرست قدموں سے آگے بڑھ کر
15:40اپنے بیٹوں کو گلے لگایا
15:41مگر ان کے نگاہوں میں ایک ہی طلب تھی
15:43اپنے یوسف کی زیارت کی
15:44وہ لمحہ جب صبر کا عجر ملنے والا تھا
15:47جب برسوں کی جدائی ختم ہونے والی تھی
15:49جب ایک باپ اپنے بچھڑے بیٹے کو
15:51اپنی آنکھوں سے دیکھنے والا تھا
15:53بیٹوں نے انہیں جلدی سے وہ پیغام سنایا
15:55جو حضرت یوسف علیہ السلام نے بھیجا تھا
15:57ابباجان آپ سب اہل خانہ کو لے کر مصر آ جائیں
16:00میرا تخت آپ کا انتظار کر رہا ہے
16:02یہ سن کر حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھوں میں
16:05ایک اور چمک پیدا ہوئی
16:06وہ لمحہ آ چکا تھا
16:07جس کا انہیں برسوں سے انتظار تھا
16:09وہ لمحہ جب اللہ کے وعدے پورے ہونے والے تھے
16:12جب وہ اپنے بیٹوں کے ہمراہ مصر پہنچے
16:14تو دور ایک شاہی محل نظر آیا
16:15اور اس محل کے دروازے پر ایک شخص کھڑا تھا
16:18ایک ایسا شخص جس کے چہرے پر نور تھا
16:20جس کے آنکھوں میں حکمت تھی
16:21جس کی شخصیت میں جلال اور جمال
16:23دونوں جھلک رہے تھے
16:24وہ حضرت یوسف علیہ السلام تھے
16:26وہی یوسف جنہیں ایک وقت میں بھائیوں نے
16:28کوئے میں پھینک دیا تھا
16:30آج ایک شاہی محل کے دروازے پر کھڑے
16:32اپنے والد کا استقبال کر رہے تھے
16:34حضرت یعقوب علیہ السلام کے قدم تیز ہونے لگے
16:36دل کے دھڑکن بے قابو ہونے لگی
16:38آنکھوں میں پھر آنسو بھر آئے
16:40مگر اب یہ خوشی کے آسو تھے
16:42حضرت یوسف علیہ السلام بھی آگے بڑھے
16:44ان کے لب کپ کپ آ رہے تھے
16:45اور جب دونوں ایک دوسرے کے قریب پہنچے
16:47تو ایک لمحے کے لیے وقت جیسے تھم گیا ہو
16:50پھر برسوں بعد
16:51وہ باپ اور بیٹا ایک دوسرے کے گلے لگ گئے
16:53یہ وہ لمحہ تھا جب اللہ کی رحمت
16:55اپنے اروج پر تھی
16:57جب ایک نبی کے صبر کا سلح مکمل ہو چکا تھا
16:59جب آنسووں سے لبریز آنکھیں
17:01مسکراہتوں میں بدل چکی تھی
17:02اور جب اللہ کے وعدے کی سچائی
17:04سب کے سامنے آ چکی تھی
17:05حضرت یعقوب علیہ السلام نے
17:07حضرت یوسف علیہ السلام کے چہرے کو
17:09اپنے ہاتھوں میں تھاما
17:10اس پر محبت بھری نظر ڈالی
17:12اور کہا
17:13اے میرے بیٹے
17:14اللہ نے تجھے بچا لیا
17:15تجھے عزت دی
17:16اور میرے صبر کو رائے گا نہیں جانے دیا
17:18حضرت یوسف علیہ السلام نے بھی
17:20آنسو پوچھتے ہوئے جواب دیا
17:22ابباجان یہ سب اللہ کی رحمت ہے
17:23جس نے مجھ پر کرم کیا
17:25اور ہمیں ایک بار پھر ملا دیا
17:26یہ لمحہ ایک عظیم سبق تھا
17:28کہ صبر کا عجر ہمیشہ بہترین ہوتا ہے
17:30کہ اللہ کی رحمت کبھی دور نہیں ہوتی
17:33اور کہ وہی اللہ جو بچھڑوں کو ملاتا ہے
17:35جو آنکھوں کی روشنی واپس لوٹ آتا ہے
17:37وہی اللہ آج بھی اپنے بندوں کے ساتھ ہے
17:39یہاں صرف خاندان نہیں ملاتا
17:41بلکہ صبر دعا اور اللہ پر بھروسی کی جیت ہوئی تھی
17:45یہی وہ پیغام تھا
17:46جو حضرت یعقوب علیہ السلام
17:47اور حضرت یوسف علیہ السلام کی کہانی میں پوشیدہ تھا
17:50کہ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا
17:52کیونکہ جو لوگ صبر کرتے ہیں
17:54ان کے لیے ہمیشہ بہترین انام مقرر ہوتا ہے
17:58یہ ملاقات صرف ایک باپ اور بیٹے کا ملاب نہیں تھا
18:01بلکہ صبر دعا اور اللہ پر یقین کی سب سے بڑی دلیل تھی
18:05حضرت یعقوب علیہ السلام کے صبر نے انہیں بینائی بھی لوٹائی
18:08بیٹا بھی واپس دیا
18:10اور ایک نبی کے مقام پر مزید رفعت عطا کی
18:12اللہ کی حکمت نے ایک بکھرے ہوئے خاندان کو دوبارہ جوڑ دیا
18:16اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی داستانِ صبر
18:18ہمیشہ کے لیے قرآن میں محفوظ ہو گئی
18:20تاکہ دنیا جان لے کہ صبر اور اللہ پر یقین کبھی رائے گا نہیں جاتا
18:24یہ کہانی صرف حضرت یعقوب علیہ السلام کے صبر
18:27اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے بچھڑنے کا قصہ نہیں
18:30بلکہ یہ ہر اس انسان کے لیے سبق ہے
18:32جو کسی دکھ کسی آزمائش یا کسی جدائی کا شکار ہے
18:36پس منظر میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی زندگی کے مختلف لمحات دکھائے جا رہے ہیں
18:40وہ لمحے جب انہوں نے بیٹے کی جدائی کا صدمہ برداش کیا
18:43وہ راتیں جب وہ اللہ کے حضور گریہ اوزاری کرتے رہے
18:46وہ وقت جب ان کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی
18:49مگر امید کا دیا بجھنے نہ دیا
18:51اور وہ مبارک گھڑی جب اللہ نے ان کے صبر کا انام انہیں لوٹا دیا
18:54ناظرین زندگی میں کبھی ایسے لمحات آتے ہیں
18:57جب دکھ و تکلیف انسان کی روح تک اتر جاتی ہے
19:00آنکھوں سے بہنے والے آنسو صرف چہرے کو گیلہ نہیں کرتے
19:03بلکہ دل پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں
19:06حضرت یعقوب علیہ السلام کی کہانی بھی ایسی ایک آزمائش کی داستان تھی
19:10جہاں ایک باپ کا غم اس قدر گہرا تھا
19:12کہ اس کے شدت نے بینائی چھین لی
19:13قرآن ہمیں بتاتا ہے
19:15سورہ یوسف آیت 84 میں
19:17اور ان کی آنکھیں غم کی شدت سے سفید ہو گئیں
19:20اور وہ غم کو دل میں دبائے رکھتے تھے
19:22مگر سوال یہ ہے
19:23کہ کیا غم واقعی کسی انسان کی بینائی چھین سکتا ہے
19:26کیا یہ ایک معجزہ تھا
19:28یا اس کے پیچھے کوئی طبی حقیقت بھی موجود ہے
19:30آئی اس راز کو سائنسی اور روحانی
19:32دونوں زابیوں سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
19:35جدید طبی تحقیق
19:36اس حقیقت کی تزدیق کرتی ہے
19:37کہ ذہنی دباؤ اور شدید غم
19:39انسانی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں
19:42ماہرین طب کے مطابق
19:44طویل عرصت تک صدمے کی کیفیت میں رہنے سے
19:46ہارمونز کا اخراج غیر متوازن ہو جاتا ہے
19:49جو جسم میں کئی خرابیوں کو جنم دیتا ہے
19:51یہ کیفیت بعض اوقات آنکھوں کے عدسے پر
19:54اثر ڈالتی ہے
19:55جس کے نتیجے میں موتیا بن سکتا ہے
19:57حیران کن بات یہ کہ
19:58قرآن میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی
20:00بینائے کے ختم ہونے کا ذکر بھی
20:01آنکھوں کے سفید ہونے کے طور پر کیا گیا ہے
20:04جو موتیا کی عام علامت ہے
20:05مزید بڑا طبی ماہرین کے مطابق
20:08آپٹیک نیروپیتھی جیسے آرزے بھی
20:10غم اور ذہنی دباؤ کی شدت سے پیدا ہو سکتے ہیں
20:13جس کے باعث آنکھوں کی روشنی
20:15دھندلا جاتی ہے
20:16یہ مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے
20:18یہی نہیں بلکہ سائنسی تحقیق میں
20:20ایک اور دلچسپ حقیقت سامنے آئی ہے
20:22جسے بروکن ہارٹ سنڈروم بھی کہا جاتا ہے
20:25اس قیفیت میں شدید جذباتی صدمے کے باعث
20:27دل کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے
20:29اور یہ اثر بعض اوقات
20:31بینائے کے آساب پر بھی پڑتا ہے
20:33اور یہ اثر بعض اوقات
20:34بینائے کے آساب
20:35آپٹیک نرف پر بھی پڑتا ہے
20:37اگر ہم غور کریں تو
20:38حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائے بھی
20:40اچانک کسی اندرونی صدمے کے سبب گئی تھی
20:42اور یہ بات جدید سائنس کی روشنی میں بھی
20:44ممکن نظر آتی ہے
20:45پھر جب خوشخبری دینے والا آیا
20:47تو اس نے وہ قمیز
20:48یعقوب کے چہرے پر ڈال دی
20:50اور ان کی بینائے لوٹ آئی
20:52سورہ یوسف آیت 96
20:53یہ کہ موضع تھا
20:55مگر اگر طبی زاویے سے دیکھیں
20:57تو اس کی ممکنہ وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے
20:59کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی خوشبو
21:01یا اس سے جڑا جذباتی اثر
21:02حضرت یعقوب علیہ السلام کے دماغ کو
21:05ایک پوزیٹیو نیورولوجیکل ٹرگر فراہم کر گیا
21:07جس سے ان کی بینائے بحال ہو گئی
21:09یہ واقعہ ہمیں دو بڑے سبق دیتا ہے
21:11پہلا یہ کہ سائنس ہمیں بتاتی
21:13کہ غم اور جذباتی صدمات
21:15جسمانی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں
21:17حتیٰ کہ بینائے بھی متاثر ہو سکتی ہے
21:20اور دوسرا یہ کہ اسلام ہمیں سکھاتا ہے
21:22سبر دعا اور اللہ کی رحمت
21:24کبھی رائے گا نہیں جاتی
21:25اور اللہ جسے چاہے شفا دے سکتا ہے
21:27چاہے وہ طبیل یہاں سے ناممکن ہی کیوں نہ لگے
21:31ناظرین ہم سب کی زندگی میں مشکلات آتی ہیں
21:34کبھی اپنوں کی دوری
21:35کبھی مالی تنگ دستی
21:36کبھی بیماری
21:37اور کبھی ایسے دکھ جن کا مداوہ ممکن نہیں لگتا
21:40مگر حضرت یعقوب علیہ السلام کی کہانی
21:42ہمیں یہ سکھاتی ہے
21:43کہ سبر کبھی رائے گا نہیں جاتا
21:45جو شخص اللہ پر بھروسہ رکھے
21:47دعا کو اپنی طاقت بنائے
21:48اور آزمائش میں بھی یقین نہ چھوڑے
21:50اس کے لئے ایک نہ ایک دن آسانی کا دروازہ ضرور کھلتا ہے
21:53اگر حضرت یعقوب علیہ السلام کا سبر رائے گا نہیں گیا
21:56تو آپ کا سبر بھی نہیں جائے گا
21:59جو آزمائش آپ کو آج توڑ رہی ہے
22:01وہی کل آپ کو مضبوط کرے گی
22:03جو غم آج آپ کی آنکھوں میں آنسو لارہا ہے
22:05کل وہی آپ کی خوشیوں کا سبب بھی بنے گا
22:07ہم سب کی زندگی میں مشکلات آتی ہیں
22:10کبھی اپنوں کی دوری کا صدمہ سہنا پڑتا ہے
22:12کبھی مالی تنگدستی انسان کو آزمانے لگتی ہے
22:15کبھی بیماریاں جسم اور روح کو جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہیں
22:17اور کبھی ایسے دکھ زندگی میں داخل ہو جاتے ہیں
22:20جن کا مدعوہ ممکن نہیں لگتا
22:22ان لمحات میں انسان کمزوری محسوس کرتا ہے
22:24دل مایوسی کی طرف مائل ہونے لگتا ہے
22:26اور ایسا لگتا ہے جیسے یہ تکلیف کبھی ختم نہیں ہوگی
22:29مگر حضرت یاقوب علیہ السلام کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے
22:32کہ سبر کبھی رائے گا نہیں جاتا
22:34جو شخص اللہ پر بھروسہ رکھے
22:36دعا کو اپنی طاقت بنائے
22:37اور آزمائش میں بھی یقین نہ چھوڑے
22:39اس کے لیے ایک نہ ایک دن آسانی کا دروازہ ضرور کھلتا ہے
22:44ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
22:45ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
22:48ضرور پسند آئی ہوگی
22:49اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہے
22:51تو آپ سے گزارش کرتے ہیں
22:52کہ آپ ہماری چینل کو ضرور سبسکرائب کر لیں
22:55اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
22:57تاکہ آپ کے پاس ہماری آنے والی
22:59مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹفیکشن بھروقت ملتا رہے
23:02سبسکرائب کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
23:04اور اپنی قیمتی رائی کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں
23:07کمنٹس میں آپ اپنے سوالات بھی ہم تک پہنچا سکتے ہیں
23:10اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے
23:12آمین
Comments

Recommended