Skip to playerSkip to main content
Hazrat Daniyal Alaihissalam Ka Waqia | Prophet Daniel Story | Qasas Ul Ambiya | Noor TV

Hazrat Daniyal (AS) un paighambaron mein se hain jinka zikr Tareekh, Israeliyat aur Islami riwayaat mein milta hai. Unka waqia iman, sabr, dua aur mo'jze ka aisa imaan afroz pehlu hai jo har shakhs ke liye hidayat ka sabab ban sakta hai.

Unki Zindagi Ke Ahm Pehlu:
🕊️ Hazrat Daniyal (AS) ko ek zalim badshah ke daur mein zulm ka samna karna pada
🦁 Unhein lions' den (shairon ke ghaar) mein dala gaya — lekin Allah ne unhein mehfooz rakha
📖 Unka waqia sabr aur yaqeen ka misaal hai
📿 Duaon ki qubooliyat aur Allah ki rehmat ka tajziya

Is Video Mein Aap Jaan Sakein Ge:
✅ Hazrat Daniyal (AS) ka nasab aur tareekhi maqam
✅ Unka imtehaan aur shairon ke ghaar ka waqia
✅ Mo'jzaat aur Allah ki taraf se madad
✅ Aaj ke dor ke liye kya sabq milta hai?

Islamic Perspective:
🕌 Quran mein Daniyal (AS) ka zikar nahi, magar mufassireen aur ulema ne inka zikr apni tafaseer mein kiya hai
📜 Israeli riwayat aur Islami ilmi hawalay ka moqabla
⚖️ Aqal, sabr aur tawakkul ka paigham

Yeh kahani sirf ek tareekhi waqia nahi, balke har musalman ke liye yaqeen aur dua ki quwwat ko samajhne ka zariya hai.

📢 Like, Share & Subscribe 💖
🔔 Bell Icon Dabayein Aise Hi Qasas-ul-Ambiya Ki Roohani Videos Ke Liye

#HazratDaniyalAS #ProphetDaniel #QasasUlAmbiya #IslamicStories #NoorTV
#ShaironKaWaqia #MoajzaatENabvi #DuaAurSabr #RoohaniTaleemat #IslamicHistory
Ask

Category

📚
Learning
Transcript
00:24ڈاللیٰ
00:30ایسے عظیم نبی کی جانب جن کی زندگی حکمت بصیرت صبر اور قربانی سے لبریز ہے
00:34ایک ایسا نابغہ بچہ جس نے کم عمری میں عدل انصاف کی مسند سمحا لی
00:39جو غلام بن کر بابل لے جائے گئے
00:41مگر اپنے علم و تقوی سے بادشاہوں کے درباروں میں سرفراز ہو گئے
00:45ایک ایسا نبی جسے اللہ نے خوابوں کی ایسی زبان سکھائی
00:48جو آنے والے وقت کی تقدیروں کو آیاں کر دیتی تھی
00:50وہ خواب جن کی تعبیر سے سلطنتیں لرز اٹھیں
00:53بادشاہوں نے اپنے تاز زمین پر رکھ دئیے
00:55یہ تھے اللہ کے برگزید نبی حضرت دانیال علیہ السلام
00:59آج کی اس ویڈیو میں ہم ان کی حیرت انگیز زندگی کی جھلک دکھائیں گے
01:02ہم بتائیں گے کہ کس طرح ایک ظالم و جابر بادشاہ نے
01:05انہیں قید کر کے شیروں کے پنجرے میں پھینک دیا
01:08لیکن ہوا کیا
01:09شیروں نے حملہ نہیں کیا
01:11بلکہ رب کے حکم سے وہ معدب ہو کر ایک گوشے میں بیٹھ گئے
01:14اور موضع دیکھی کہ شیریں دانیال علیہ السلام کے قدموں بیٹھ کر دودھ پلانے لگے
01:18جیسے فرما بردار مخلوق اپنے آقا کی خدمت کر رہی ہو
01:21ایسا منظر جسے دیکھ کر دربار والوں کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں
01:26اور ایمان والوں کے دل سجدے میں گر گئے
01:28ہم آپ کو یہ بھی بتائیں گے کہ آپ علیہ السلام کی تدفین کس طرح ہوئی
01:32اور یہ عظیم سعادت امت محمدیہ کو کیوں اور کیسے نصیب ہوئی
01:36یہ واقعات صرف کہانیاں نہیں بلکہ ایمان کو جگانے والے
01:39وہ لمحے ہیں جو دل کی زمین کو نرم کر دیتے ہیں
01:42یہ ویڈیو صرف ایک نبی کا تذکرہ نہیں بلکہ ایک ایسا روحانی سفر ہے
01:46جس میں اللہ کی قدرت انبیاء کی عظمت اور ایمان کی روشنی ہر موڑ پر جھلگتی ہے
01:51تو ناظرین یہ ایمان افروز داستان ہے
01:53اس نبی کی جو نہ صرف وقت کے بادشاہوں کو جھکا گیا
01:57بلکہ شیروں کو بھی عدب و محبت سے تابع کر گیا
02:00ویڈیو کو ہرگز اسکپ مت کیجئے گا
02:02آخر تک ہمارے ساتھ رہیے گا
02:03کیونکہ آگے جو آپ سنیں گے وہ آپ کے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دے گا
02:08ناظرین حضرت دانیال علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے منتخب کردہ پیغمبر تھے
02:11جو بنی اسرائیل کے زوال کے آخری دور میں تشریف لائے
02:15یہ کہا جاتا ہے کہ آپ 457 قبل مسیح میں بیت المقدس میں پیدا ہوئے
02:19دانیال کے معنی ہے خدا میرا منصف ہے
02:22حضرت دانیال علیہ السلام کے والدین کے بارے میں
02:24اہد نامہ قدیم اور جدید دونوں خاموش ہیں
02:28تاہم کہا جاتا ہے کہ آپ یہودہ کی نسل سے تھے
02:30اور بنی اسرائیل کے ایک موزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے
02:33اللہ تعالیٰ نے حضرت دانیال علیہ السلام کو نبوت اور حکمت عطا کی
02:37آپ کی زبان عبرانی تھی اور آپ بنی اسرائیل کے نبی تھے
02:40جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر عمل پیرا تھے
02:43جب حضرت دانیال علیہ السلام کی پیدائش ہونے والی تھی
02:45تو اس وقت کے بادشاہ کو نجومیوں اور اہل علم نے بتایا
02:49کہ اس رات ایک بچہ پیدا ہوگا جو تیری سلطنت کو تباہ کر دے گا
02:53بادشاہ نے حکم دیا کہ اس رات پیدا ہونے والے
02:55ہر بچے کو قتل کر دیا جائے
02:57اسی رات حضرت دانیال علیہ السلام کی پیدائش ہوئی
02:59تو بادشاہ کے سپاہیوں نے آپ کو اٹھا کر شیر اور شیرنے کے سامنے پھینک دیا
03:03لیکن دونوں شیر آپ کے تلموں کو چاٹتے رہے
03:06اور آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچایا
03:08اللہ کی اس کرم نوازی کو ہمیشہ یاد رکھنے کے لیے
03:11حضرت دانیال علیہ السلام نے اپنے انگوٹی کے نگینے پر
03:14اپنی اور دو شیروں کی تصویر بنوائی
03:16جن میں شیر آپ کے تلموں کو چاٹ رہے تھے
03:19ناظرین جب کوئی قوم عیش و عشرت میں مگن ہو جاتی ہے
03:29جب یہی حالت بنی اسرائیل کی قوم کی ہوئی
03:31تو حضرت دانیال علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کا پیغام دیتے ہوئے کہا
03:35میری قوم والو غفلت اور کاہلی کو چھوڑ دو
03:38اس غفلت کا نتیجہ بہت برا ہوگا
03:40اپنے حال پر رحم کرو
03:42اور اللہ کی نافرمانیوں کو چھوڑ دو
03:44ورنہ تم تباہ ہو جاؤ گے
03:45چند دنوں کے عش و عشرت کے لیے
03:47اپنی قوم کو دعو پر نہ لگاؤ
03:49اپنی دولت کو اللہ کی حکم کے مطابق استعمال کرو
03:52نفس پرستی سے باز آ جاؤ
03:54اسی میں تمہاری بھلائی ہے
03:55لیکن اس قوم کے لوگ اپنی ہر دھرمی سے باز نہ آئے
03:58اور حضرت دانیال علیہ السلام کی تعلیمات کو نظر انداز کیا
04:02نتیجہ تن بنی اسرائیل پر بخت نصر جیسے
04:04ظالم بادشاہ کا حملہ ہوا
04:06جو عراق کا حکمران تھا
04:07اور سورج کو اپنا معبود مانتا تھا
04:09اس نے بنی اسرائیل پر حملہ کر کے
04:11ستر ہزار افراد کو قتل کر دیا
04:13عورتوں کو تہہ تیخ کیا
04:14گھروں میں گس کر عورتوں کے پیٹ چاک کر دیئے
04:17اور بچوں کو نیزوں پر لڑکایا
04:18اس نے تو عورات کے مقدس نسخوں کو جوتوں تلے روندھا
04:21بیت المقدس کو ناپاک کیا
04:23اور بنی اسرائیل کے ستر ہزار افراد قید کر کے بابل لے آیا
04:26ان قیدیوں حضرت دانیال علیہ السلام بھی شامل تھے
04:29جو اپنے شباب میں قیدی بن گئے تھے
04:31بخت نصر دو امنے
04:33587 قبل مسیح بابل لے جائے گیا
04:35اور اس کے ساسات حضرت
04:36یسعہ علیہ السلام
04:38حضرت یرماہ علیہ السلام
04:40اور حضرت ذکر علیہ السلام کو بھی قیدی بنا لیا
04:42اللہ کے وعدے کے مطابق بخت نصر نے
04:44بنی اسرائیل کے نافرمان قوم کو بابل منتقل کیا
04:47حضرت دانیال علیہ السلام نے
04:48اپنی قوم کے گرفتار افراد سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا
04:51میں تمہیں ہمیشہ ڈراتا رہا ہوں
04:53لیکن اب جب تمہیں مسئیبت کا سامنا ہوا ہے
04:55تم توبہ کرنے کے ارادہ کر رہے ہو
04:57اس پر بنی اسرائیل نے کہا
04:59وہ توبہ کرتے ہیں
05:00اور اندر کبھی اللہ کے نافرمانی نہیں کریں گے
05:02حضرت دانیال علیہ السلام نے فرمایا
05:04اب توبہ کا کیا فائدہ
05:05اب توبہ کا کیا فائدہ
05:07انبیاء اکرام کی شفقت
05:08اپنی قوم کے لئے والدین سے بھی زیادہ ہوتی ہے
05:11حضرت دانیال علیہ السلام نے
05:12جب اپنی قوم کو توبہ کرنے کی کوشش کرتے دیکھا
05:15تو انہوں نے اللہ کے حضور دعا کی
05:16اور اپنی قوم کے مشکلات دور کرنے کے لئے
05:19اللہ سے مدد کی درخواست کی
05:20چنانچہ انبیاء اکرام کی دعائیں
05:22ہمیشہ قبول ہوتی ہیں
05:23اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی
05:25اور ان کے لئے رہائی کے دربازے کھلنے لگے
05:27حضرت دانیال علیہ السلام کی شخصیت میں
05:29نبوت کا جلال اور جمال تھا
05:31اور ان کے زہد و تقویٰ کے آثار
05:32اتنے نمائے تھے
05:33کہ قید خانے کا داروغہ
05:34ان سے بہت متاثر ہوا
05:36اس نے حضرت دانیال علیہ السلام کو عزت دی
05:38اور انہیں قید خانے میں
05:39عبادت اور ریاضت کی مکمل آزادی دے دی
05:41آپ کی تعلیمات کی بدولت
05:43قید خانے میں اللہ کا ذکر بلند ہونے لگا
05:45یہ سب دیکھ کر
05:46قید خانے کا داروغہ
05:47اور اس کے سپاہی
05:48حضرت دانیال علیہ السلام کے معتقد ہو گئے
05:50اور انہیں ہر طرح کی سہولتیں فراہم کر دیں
05:52اسی دوران بادشاہ بخت نصر نے
05:55ایک رات ایک خوفناک خواب دیکھا
05:56اور جب وہ صبح بیدار ہوا
05:58تو اس خواب کو بھول گیا
05:59یہ خواب اتنا خوفناک تھا
06:01کہ اس نے بادشاہ کا سکون چین لیا تھا
06:03وہ بہت پریشان ہو گیا
06:04اور اس نے خواب کی تعبیر معلوم کرنے کی کوشش کی
06:06تہم خواب کی تعبیر معلوم کرنے سے
06:08پہلے خواب کا یاد آنا ضروری تھا
06:10اس نے اپنے دربار میں نجومیوں
06:11کاہنوں اور تعبیر بتانے والوں کو طلب کیا
06:13اور کہا کہ اگر وہ خواب بتا دیں
06:15تو وہ اس کی تعبیر بتا سکتے ہیں
06:17بادشاہ نے سخت غصے میں کہا
06:19میں تمہیں تین دن کی محلت دیتا ہوں
06:20اس خواب کی تعبیر مجھے بتا دو
06:22ورنہ تم سب کو قتل کرا دوں گا
06:24یہ خبر قید خانے میں حضرت دانیان علیہ السلام تک پہنچی
06:27تو آپ نے داروغہ سے کہا
06:28میرے پاس خوابوں کی تعبیر کا علم ہے
06:30کہ تم بادشاہ کو میرے بارے میں اطلاع دے سکتے ہو
06:32اس طرح تم بادشاہ کی نظر میں بڑا مقام حاصل کر لوگے
06:35داروغہ نے کہا
06:36مجھے خوف ہے کہ آپ بادشاہ کے عذاب کا شکار نہ ہو جائیں
06:39شاید قید خانے کا غم آپ پر غالب آ گیا ہو
06:42اور آپ یہ سب باتیں کہہ رہے ہیں
06:43حضرت دانیان علیہ السلام نے فرمایا
06:45میرا رب مجھے ہر ضروری علم دیتا ہے
06:47اور مجھے اس بارے میں آگاہ بھی کرے گا
06:50آخر کار داروغہ نے بادشاہ کو
06:51حضرت دانیان علیہ السلام کے بارے میں اطلاع دی
06:54بادشاہ نے آپ کو بلالیا
06:55اور داروغہ نے حضرت دانیان علیہ السلام کو
06:57نہ صرف رہا کیا بلکہ اچھا لباس پہننے
07:00کا حکم دیا اور بادشاہ کے دربار
07:01میں جانے کی اجازت دے دی
07:03حضرت دانیان علیہ السلام
07:05بادشاہ کے دربار میں پہنچے دربار میں
07:07عمرہ نجومی اور کاہن وغیرہ
07:09سب موجود تھے اور انہیں خوشی ہوئی کہ
07:11خواب کی تعبیر بتانے والا آ گیا
07:13ورنہ ان سب کی جانے خطرے میں پڑ جاتی
07:15حضرت دانیان علیہ السلام نے اپنے مذہب کے مطابق
07:17بادشاہ کو سلام کیا
07:18بادشاہ نے بڑی عزت و اعترام کے ساتھ
07:21حضرت دانیان علیہ السلام کو اپنے قریب بٹھایا
07:23اور تمام درباریوں کو رخصت کر دیا
07:25تاکہ وہ اکیلے حضرت دانیان علیہ السلام
07:27سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھ سکیں
07:29اب دربار میں
07:31صرف بادشاہ داروگا
07:32اور حضرت دانیان علیہ السلام تھے
07:34دربار کا قانون تھا کہ بادشاہ کے سامنے آنے والے
07:37شخص کو سجدہ کرنا ہوتا تھا
07:39لیکن حضرت دانیان علیہ السلام
07:41وہاں پہنچ کر کھڑے ہو گئے اور سجدہ نہ کیا
07:43یہ دیکھ کر بادشاہ نے باقی درباریوں کو
07:45دربار سے باہر بھیج دیا
07:46اور دانیان علیہ السلام نے حکمت سے جواب دیا
07:51میرے رب نے مجھے تعبیر کا علم دیا ہے
07:53لیکن اس شرط پہ کہ میں کسی اور کو سجدہ نہ کروں
07:56مجھے خوف ہے کہ اگر میں تجھے سجدہ کروں گا
07:58تو اللہ مجھ سے یہ علم واپس لے لے گا
08:00اور پھر میں بے علم ہو جاؤں گا
08:02اور تم مجھ سے کچھ حاصل نہیں کر سکو گے
08:04پھر مجھے قتل بھی کروا دو گے
08:05بادشاہ نے کہا میرے دل میں آپ سے زیادہ قابل احترام شخص کوئی نہیں
08:09کیونکہ آپ نے اپنے رب سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا ہے
08:12پھر بادشاہ نے دانیان علیہ السلام سے پوچھا
08:14کیا تم میرے خواب کی تعبیر جانتے ہو
08:16حضرت دانیان علیہ السلام نے فرمایا
08:18ہاں میں جانتا ہوں
08:19پھر دانیان علیہ السلام نے بادشاہ کو
08:21اس کا خواب سنایا اور اس کی تعبیر بتائی
08:24حضرت دانیان علیہ السلام نے فرمایا
08:34رانے تامے کی پنڈلیاں لوہے کی
08:36اور پاؤں مٹی کے تھے
08:37ہر دھات کی اپنی الگ چمک تھی
08:40اور سونا سب سے قیمتی تھا
08:41پھر تم نے دیکھا کہ آسمان سے ایک پتھر آیا
08:44اور اس بدھ کو ریزہ ریزہ کر دیا
08:46تمام دھاتیں آپس میں مل گئیں
08:48اور بدھ کا وجود ختم ہو گیا
08:49پھر وہ پتھر پھیلنے لگا
08:51اور ساری فضاء میں پھیل گیا
08:53بادشاہ نے کہا میں قسم کھا کر کہتا ہوں
08:55کہ میرا خواب یہی تھا
08:56حضرت دانیان علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بتاتے ہوئے فرمایا
08:59یہ مختلف دھاتیں دنیا کے مختلف قومیں ہیں
09:01سونے سے مراد تمہاری عراقی قوم ہیں
09:04جو سب سے زیادہ متمدن ہیں
09:05چاندی سے مراد تمہارے بعد آنے والی قوم ہیں
09:08جو تمہاری قوم سے کم درقی آفتہ ہوگی
09:10پیتل سے مراد چینی اور جاپانی قومیں ہیں
09:13اور تامے سے مراد حبشی قوم ہیں
09:15مٹی سے مراد کمزور قومیں ہیں
09:17جنہیں کمزور سمجھا جائے گا
09:18پھر تم نے دیکھا کہ ایک پتھر آیا
09:20اور اس بط کو چکنا چور کر دیا
09:22یہ پتھر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین ہے
09:25جس نے تمام قوموں کو ایک کر دیا
09:27اور سب میں مسابات قائم کر دی
09:29بادشاہ نے حضرت دانیان علیہ السلام کی ہاتھ چھومے اور کہا
09:32میں نے دنیا میں آج تا کتنا بڑا دانشمند نہیں دیکھا
09:34پھر بادشاہ نے حکم دیا کہ حضرت دانیان علیہ السلام کی رائے کے بغیر
09:37سلطنت کا کوئی کام نہ ہوگا
09:39حضرت دانیان علیہ السلام نے عملا
09:41خود بادشاہ کی مدد کی اور اپنی قوم کو رہائے دلوائی
09:44ناظرین یہ ایک حقیقت ہے
09:46کہ جو لوگ اللہ کے حکام پر عمل پیرا ہوتے ہیں
09:48اور نبی علیہ السلام کی ہدایت کو اپناتے ہوئے
09:50اپنی زندگی کو گزارنے کی کوشش کرتے ہیں
09:52وہ دنیا میں سکون و سکینہ کی زندگی پاتے ہیں
09:55ان کی زندگی میں امن خوشی اور برکتیں ہوتی ہیں
09:58لیکن جو لوگ اللہ کی ہدایت
10:00اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعالیمات سے
10:03مو موڑ کر شیطان کے پیچھے چلتے ہیں
10:05ان کے مقدر میں زلط رسوائی اور تباہی لکھی جاتی ہے
10:08ایسی قوموں پر اللہ تعالی ظالم حکمران مسلط کر دیتا ہے
10:12جو ان کے حقوق کا استحصال کرتی ہیں
10:14اور ان کے زندگی کو ایک کربناک عذاب بنا دیتی ہیں
10:17ان کی سرزمینوں میں فساد و تنگی کا سامنا ہوتا ہے
10:20اور وہ اپنی غفلت کی وجہ سے خود اپنی تباہی کا سبب بنتے ہیں
10:23آج ہم بات کر رہے ہیں حضرت دانیہ علیہ السلام کی
10:25حضرت دانیہ علیہ السلام
10:26بنی اسرائیل کے ایک معزز عزتدار اور امیر خاندان سے تعلق رکھتے تھے
10:30آپ کی صلاحیتوں اور علم جلالت کو دیکھ کر
10:33بادشاہ بخت نصر نے آپ کو دربار میں اہم مقام دیا
10:36بادشاہ نے آپ کی اقل و دانش سے متاثر ہو کر
10:39آپ کو بلٹی شزار کا خطاب دیا
10:42جس کا مطلب تھا بادشاہ کا محافظ
10:44حضرت دانیہ علیہ السلام کو
10:46اللہ تعالیٰ نے خوابوں کی تعبیر کا علم بھی عطا کیا تھا
10:48اور آپ نے ایک پیشگوئی کی تھی
10:49کہ بخت نصر کے خاندان کی حکومت جلدی ختم ہو جائے گی
10:52جو بعد میں سچ ثابت ہوئی
10:54بادشاہ بخت نصر نے حضرت دانیہ علیہ السلام سے
10:56تین اہم باتوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کی پیشکش کی تھی
11:00آپ اپنے شہر واپس چلے جائیں
11:01میں اس ویران شہر کو دوبارہ آباد کر دوں گا
11:04میں آپ کے لئے امن کا پروانہ جاری کر دیتا ہوں
11:06تاکہ آپ میرے ملک میں جہاں چاہیں امن سے رہیں
11:09تین یا پھر آپ میرے ساتھ رہیں
11:11اور دربار میں اہم مقام حاصل کریں
11:13حضرت دانیہ علیہ السلام نے ان پیشکشوں کا حکمت سے جواب دیا
11:16آپ نے فرمایا
11:17پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے میری قوم
11:19اور اس کی سرزمین کے لئے تباہی اور بربادی لگ دی ہے
11:21اور جب تک اللہ کا حکم نہ ہے
11:23یہ زمین آباد نہیں ہو سکتی
11:25دوسری بات کا جواب یہ تھا
11:26کہ میں اللہ کی امان میں ہوں
11:27اور میرے لئے مناسب نہیں
11:29کہ میں اللہ کے تحفظ میں رہتے ہوئے
11:31کسی اور کی پناہ میں آؤں
11:32تیسری بات کا جواب یہ تھا
11:34کہ اس وقت میرے لئے یہی زیادہ مناسب ہے
11:36کہ میں بادشاہ کے ساتھ رہوں
11:38جب تک اللہ کا حکم نہ آ جائے
11:40حضرت دانیہ علیہ السلام سچے مومن
11:41اور اللہ کے فرما بردار تھے
11:43بابل میں قیام کے دوران
11:45آپ نے کبھی بھی غیر حلال خوراک نہیں کھائی
11:47اور ہمیشہ سادہ اور پاکیزہ غزہ پر
11:49گزر بسر کی
11:50اللہ تعالیٰ نے اس سادہ غزہ میں برکر ڈال دی
11:52اور آپ بابلی لوگوں سے
11:54زیادہ صحت مند اور خوش شکل نظر آتے تھے
11:56بادشاہ اتنا متاثر ہوا
11:58کہ اس نے حضرت دانیہ علیہ السلام کو
11:59دیوتا کی مانند عزت دینے لگا
12:01اور ان کے لئے قربانی کی بھیٹ چڑھائی جانے لگی
12:03چند سال بعد
12:15حضرت دانیہ علیہ السلام نے فرمایا
12:17کہ تم سات سال تک پاگل رہو گے
12:18اور جانوروں کی طرح زندگی گزارو گے
12:20مگر تمہاری حکمرانی برقرار رہے گی
12:23لیکن جب تم اللہ کی حکم کو تسلیم کر لوگے
12:25تو تم واپس اپنے مقام پر آ جاؤ گے
12:27حضرت دانیہ علیہ السلام نے بخت نصر کو
12:29نصیحت کی
12:30کہ وہ اللہ کے غریب بندوں پر اپنے خزانوں کا رخ کھول دے
12:33اور ان کی بھوک اور غربت کو دور کرے
12:34شاید اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے
12:36بخت نصر نے اس نصیحت پر عمل کیا
12:38اور بنی اسرائیل کی مدد کی
12:39یہاں تک کہ کوئی بھی بنی اسرائیلی بھوکا نہ رہا
12:42ایک سال تک اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ مؤخر رکھا
12:45لیکن جب بادشاہ نے غریبوں کی مدد کرنا بند کر دی
12:47اللہ تعالیٰ نے اس پر عذاب بھیجا
12:49اور وہ جانوروں کی طرح زندگی گزارنے لگا
12:51اس کی حالت اس قدر بتر ہو گئی
12:53کہ وہ جانوروں کی طرح حرکت کرنے لگا
12:55اور ان کے ساتھ رہنے لگا
12:56سات سال تک حضرت دانیہ علیہ السلام کی پیجگوئی کے مطابق
13:00بخت نصر جانوروں کی طرح زندگی گزارنے کے بعد
13:02اللہ کے حکم سے ٹھیک ہو گیا
13:04اور اس کی سلطنت کو دوبارہ استحقام حاصل ہوا
13:07بعد ازان تین سو ستانوے قبل مسیح میں
13:09بخت نصر کا انتقال ہو گیا
13:11اور اس کا بیٹا ایول بادشاہ بن گیا
13:13جو تیس سال تک بابل پر حکمران رہا
13:16تین سو چوہ پتر قبل مسیح میں
13:17ایول کا بیٹا بادشاہ زار بادشاہ بنا
13:20اس کے بعد تاریخ میں اس کے حکمرانی کا دور آیا
13:22یہ ایک اہد کا خاتمہ اور حضرت دانیہ علیہ السلام کی تقدیر کا
13:26ایک نیا باب تھا
13:27جس میں اللہ تعالیٰ کے علم حکمت اور رحم کا عمل نظر آتا ہے
13:31بادشاہ زار نے جب اپنے بادشاہ بننے کی جشن میں
13:34اپنے دربار کے مقدس برطنوں کو استعمال کرتے ہوئے شراب پی
13:37جنہیں بخت نصر بیت المقدر سے لوٹ کر لائے تھا
13:40تو یہ عمل اللہ کی بے حرمتی اور نافرمانی کے مترادر تھا
13:43یہ عرکت ناصب بادشاہ کی تقدیر کی علامت تھی
13:45بلکہ اللہ کی طرف سے اس کی اور بابل کی تباہی کی گھڑی آ چکی تھی
13:49حضرت دانیہ علیہ السلام نے اس موقع پر بالشازار کو
13:51ایک شدید تنبی کی اور بتایا کہ
13:53تمہارے اقتدار کا وقت ختم ہو چکا ہے
13:55اور اللہ نے تمہاری اور تمہاری سلطنت کی تباہی کا فیصلہ کر لیا ہے
13:58اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر حضرت دانیہ علیہ السلام کو
14:01اس وقت کا علم دے دیا تھا
14:03اور اسی دوران محل کی دیواروں پر
14:05کسی نے غیر معنوز زبان نے کچھ لکھا
14:07جسے پڑھنے کے لیے بالشازار نے
14:09حضرت دانیہ علیہ السلام کو طلب کیا
14:11حضرت دانیہ علیہ السلام نے
14:13اس عبارت
14:14مینے مینے تیکل یوفارسن
14:17کا ترجمہ کیا
14:18اور اس کا مفہوم کچھ یوں بتایا گیا
14:19گنتی گنتی تول تقسیم
14:22حضرت دانیہ علیہ السلام نے
14:23بے خوف ہو کر
14:24اس وقت کے بادشاہ کے سامنے فرمایا
14:26کہ تمہارے اقتدار کے دن گنے جا چکے ہیں
14:28تمہارا طول خداون نے کر لیا ہے
14:30اور وہ تمہاری سلطنت کو
14:32میڈیا اور فارس میں تقسیم کر دے گا
14:34اس پیشگوئی کے فوراں بعد
14:36اسی رات بالشازار کو
14:37اس کے اپنے محافظوں نے قتل کر دیا
14:39اور اس کا اقتدار ختم ہو گیا
14:41چند مہینوں بعد
14:42دارہ نے بابل پر حملہ کیا
14:44اور بابل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی
14:46بابل کے نظام کو سمحالنے کے لیے
14:47دارہ نے
14:48ایک ایک سو بیس افراد پر
14:50مشتمل ایک کابینہ تشکیل دی
14:51جس میں تین افراد کو
14:52اہم ذمہ داریاں سوپی گئیں
14:54جس میں تین افراد کو
14:55اہم ذمہ داریاں سوپی گئیں
14:57اور ان تین افراد میں
14:58حضرت دانیہ علیہ السلام بھی شامل تھے
14:59بادشاہ دارہ نے
15:00حضرت دانیہ علیہ السلام کی
15:01حکمت اور فہم و فراست کو
15:03بہت سراحہ
15:03اور ان کے مشوروں کو
15:05بہت اہمیت دی
15:05بعض لوگوں کا خیال تھا
15:07کہ دارہ شاید
15:07حضرت دانیہ علیہ السلام کو
15:09اپنے وزیر آزم کے طور پر
15:10تعینات کرے گا
15:11ایک دن بادشاہ دارہ نے
15:12اپنے بیٹے
15:13درباری اہل علم
15:14اور مشیروں کو
15:15اپنے دربار میں طلب کیا
15:16اور کہا
15:16یہ بڑے سمجھدار آدمی ہیں
15:18ان کی وجہ سے
15:19میری پریشانی دور ہوئی ہے
15:20ان کا احترام کرو
15:21ان سے اچھی باتیں سیکھو
15:23اور اگر تمہارے پاس
15:24ہم دونوں کی طرف سے
15:25الگ الگ پیغامات آئیں
15:26تو ان کی ضرورت کو
15:27میری ضرورت پر ترجیح دینا
15:29اس طرح حضرت دانیہ علیہ السلام
15:30کو سلطنت کے امور میں
15:32ایک بلند مقام حاصل ہو گیا
15:33لیکن یہ بات
15:34بابل کے کچھ معززین
15:35کے لئے قابل برداشت نہ تھی
15:36اور انہوں نے
15:37حضرت دانیہ علیہ السلام
15:38سے حسد کرنا شروع کر دیا
15:39وہ اپنے چالاک طریقوں سے
15:41حضرت دانیہ علیہ السلام کے مقام
15:42کو بادشاہ کی نظر میں
15:43کم کرنے کی کوشش کرنے لگے
15:45دوسرے درباریوں نے
15:46حضرت دانیہ علیہ السلام کے خلاف
15:47ایک سازش تیار کی
15:48انہوں نے بادشاہ کو یہ بتایا
15:50کہ بابل میں بہت سارے لوگ
15:51اس سے وفادار نہیں ہیں
15:52اور اس کے افتدار کو بچانے کے لیے
15:54یہ ضروری ہے
15:55کہ ریایت سے وفاداری کا امتحان لیا جائے
15:57چنانچہ بادشاہ دارہ نے
15:58ایک حکم جاری کیا
15:59جس کے مطابق تمام لوگوں کو
16:01تیس دن تک بادشاہ دارہ کو
16:03سجدہ کرنا ہوگا
16:13اپنے گھر کی بالائی منزل پر جا کر
16:15بیت المقدس کی جانے برک کیا
16:17اور اللہ کے سامنے سجدہ کیا
16:19وہ روزانہ تین بار
16:20اللہ کی عبادت کرتے تھے
16:21اس پر مخالف سادشیوں نے
16:23بادشاہ دارہ کو
16:23حضرت دانیہ علیہ السلام کی
16:25عبادت کے بارے میں آگاہ کیا
16:27بادشاہ نے یقین کرنے کے بجائے
16:28حضرت دانیہ علیہ السلام کو طلب کیا
16:30اور انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا
16:32حضرت دانیہ علیہ السلام نے انکار کر دیا
16:34کیونکہ وہ
16:35اللہ کے سچے رسول اور موہد تھے
16:37بادشاہ دارہ نے غصے میں آ کر
16:39حضرت دانیہ علیہ السلام کو
16:40شیروں کے کھانے کے لیے
16:41شیروں کی کچھار میں ڈال دیا
16:43اور کہا
16:43اس خداون سے مدد مانگ
16:45جس کے سامنے تو سجدہ کرتا ہے
16:46صبحوں کے وقت
16:47دارہ خود
16:48شیروں کے کچھار کے پاس گیا
16:50اور حضرت دانیہ علیہ السلام کو آواز دی
16:52حضرت دانیہ علیہ السلام نے
16:53اللہ کی تذبیح کی
16:54اور بتایا کہ
16:55اللہ تعالیٰ کے ایک فرشتے نے
16:56شیروں کے مو بند کر دیئے تھے
16:58اور وہ مجھے ذرہ برابر نقصان نہیں پہنچا سکے
17:01دارہ حضرت دانیہ علیہ السلام کو لے کر
17:02اپنے دربار میں واپس آیا
17:03اور اس نے تمام درباریوں
17:05اور ان کے خاندانوں کو
17:06شیروں کی کچھار میں ڈال دیا
17:08جنہوں نے حضرت دانیہ علیہ السلام سے
17:09بغض رکھا ہوا تھا
17:10ایک اور مشہور واقعہ ہے
17:11کہ بابل کے ایک تہوار کے دوران
17:13اہل بابل نے
17:14اپنے جھوٹے معبود کو سجدہ کیا
17:16اور حضرت دانیہ علیہ السلام
17:17اور ان کے ساتھیوں سے بھی
17:18سجدہ کرنے کی درخواست کی
17:20لیکن حضرت دانیہ علیہ
17:21اور ان کے ساتھیوں نے انکار کر دیا
17:23اس پر قوم نے
17:24ایک عظیم آگ بھڑکائی
17:25اور حضرت دانیہ علیہ السلام
17:27اور ان کے ساتھیوں کو
17:28اس آگ میں ڈال دیا
17:29ایمان والے لوگ
17:30اس آگ میں رات گزار کر
17:31صبحوں کو زندہ نکل آئے
17:32بخت نصر نے اپنی بالکونی سے
17:34آگ میں پانچ افراد کو دیکھا
17:36لیکن اس نے ان میں سے
17:37پانچویں شخص کے بارے میں سوال کیا
17:39قوم نے جواب دیا
17:40ہم نے چار لوگوں کو
17:41آگ میں ڈالا تھا
17:42پانچویں کا ہمیں علم نہیں تھا
17:44باشین حضرت دانیہ علیہ السلام
17:45کو بلائیا اور پوچھا
17:46کہ پانچویں شخص کون ہیں
17:47حضرت دانیہ علیہ السلام نے
17:49جواب دیا
17:49وہ اللہ کا فرشتہ ہے
17:50جسے اللہ نے بھیجا ہے
17:52تاکہ اس آگ کو سرد کر دے
17:56تاکہ اس آگ کو سرد کر دے
17:58کہ ہمیں اس کی تپش کا کوئی نقصان نہ ہو
18:00ناظرین ایک روایت کے مطابق وہاں کے مجوسیوں نے
18:02حضرت دانیہ علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں کے خلاف
18:04حضرت کی آگ میں جلتے ہوئے بادشاہ کے پاس شکایت لے کر پہنچنے کی
18:08کوشش کی کہ یہ لوگ نہ تمہارے معبود کی بادت کرتے ہیں
18:11اور نہ ہی تمہارے ملک میں زبیحہ کیے گئے گوشت کھاتے ہیں
18:14اس پر بادشاہ نے حکم دیا کہ ان چھے مومینوں کو
18:16ایک کونے میں ڈال دیا جائے
18:17اور اس کونے میں ایک بھوکا شیر بھی ڈالا جائے
18:20تاکہ وہ ان مومینوں کو کھا جائے
18:21شام کو جب کافر واپس لوٹے اور کونے کے قریب پہنچے
18:24تو انہوں نے دیکھا کہ شیر ان مومینوں کے سامنے بیٹھا ہوا تھا
18:28اور ان کی کلائیں بچھا کر بیچ میں دراز ہو گیا
18:30اور ان مومینوں کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا
18:33اس موجزے نے ان حضرات کو بادشاہ کی نظر میں اور بھی موجزز بنا دیا
18:38لیکن مجوسیوں نے دوبارہ بادشاہ کے سامنے شکایت کی
18:40تو بادشاہ نے حضرت دانیہ علیہ السلام
18:42اور آپ کے ساتھیوں کو ایک مرتبہ پھر کونے میں ڈالنے کا حکم دیا
18:46اس بار دو خونی شیروں کو ساتھ ڈال دیا
18:48پانچ دن تک آپ علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں کو
18:51ان شیروں کے ساتھ کونے میں قید کر دیا گیا
18:53جب پانچ دن بعد کونے کو کھولا گیا
18:56تو اندر کا منظر دیکھ کر بادشاہ اور اس کے درباری حیرت زدہ رہ گئے
19:00حضرت دانیہ علیہ السلام نماز میں مشغول تھے
19:02اور دونوں شیر کونے کے ایک کونے میں دراز تھے
19:05اور انہوں نے حضرت دانیہ علیہ السلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا
19:08اس قید میں حضرت دانیہ علیہ السلام نے اللہ کے سامنے یہ دعا کی تھی
19:12اے میرے معبود ہماری قوم کو شرمندگی اور اے والی باتوں کے سبب
19:17تو نے ہم پر بخت نصر جیسے شخص کو مسلط کیا جو تجھے نہیں جانتا
19:21ناظرین ایک اور دلچسپ بات یہ بھی ہے
19:23کہ بچپن میں شیروں نے حضرت دانیہ علیہ السلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا
19:27اور جب بڑے ہونے کے بعد کافروں نے آپ کو دوبارہ شیروں کے آگے ڈال دیا
19:30تو وہاں بھی شیر آپ کے قدموں کو چاٹنے لگے
19:33اور آپ کے سامنے دو ملاتے رہے
19:34اس قید میں اللہ کے حکم سے ایک فرشتہ
19:36حضرت دانیہ علیہ السلام کے لئے کھانا لے کر آیا
19:39بعض روایات میں یہ بھی ذکر ہے
19:41کہ حضرت آرمیہ علیہ السلام آپ کے لئے کھانا لے کر آئے تھے
19:44حضرت آرمیہ علیہ السلام بھی نبی تھے
19:45اور یہ نبی انبیاء کرام میں شامل ہیں
19:48جنہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام
19:50اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان بھیجا
19:52حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد
19:53حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے تک
19:55اللہ تعالیٰ کی طرح سے متواتر رسول آتے رہے
19:57اور ان کے شریعت ایک ہی تھی
19:59ان رسول میں حضرت یوشہ بن نون
20:01حضرت اشمویل
20:02حضرت دعود
20:03حضرت سلمان
20:03حضرت ارمیہ حضرت حسقیل حضرت الیاس حضرت یونوس حضرت ذکریہ اور حضرت یحییٰ علیہ السلام شامل تھے
20:11یہ تمام حضرات حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے مطابق حکم دیتے تھے
20:15یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو محبوس کیا
20:18اور وہ نئی شریعت لے کر تشریف لائے
20:20ناظرین بخت نصر دوم کے دور میں بابل میں ایک اور واقعہ بھی پیش آیا
20:25جس کا ذکر بنی اسرائیل کی کتابوں میں موجود ہے
20:27بخت نصر دوم نے اپنا ایک بت تعمیر کرایا جس کا نام ٹیزٹ تھا
20:32اور اس بت کو بیت المقدس کے بڑے پروہت کا تمغہ پہنایا گیا
20:36اس تمغے کی وجہ سے بت سے آواز آنے لگی
20:38اور وہ کہنے لگا میں ہی تمہارا آقا ہوں
20:41میں تمہارا خدا بند ہوں
20:42اس فتنے کا شور سنکہ حضرت دانیہ علیہ السلام بت کے پاس گئے
20:45انہوں نے فرمایا میں کائنات کے خالے کا ایک ادنا بندہ ہوں
20:49میں تجھے حکم دیتا ہوں کہ جو بھی تمغہ یہ طاقت ہے
20:51وہ بت کے اندر سے باہر آ کر میرے نظروں میں آئے
20:54حضرت دانیہ علیہ السلام کی ایک للکار پر
20:56بت کا تمغہ باہر آ کر گر گیا
20:58اور خود بت بھی مسمار ہو گیا
21:00بعد کے ایام میں ایک اور اہم واقعہ پیش آئے
21:02جس میں حضرت دانیہ علیہ السلام نے بادشاہ دارہ سے درخواست کی
21:05کہ آپ اپنے وطن واپس جانا چاہتے ہیں
21:07بادشاہ دارہ نے یہ درخواست قبول کی
21:09اور بنی اسرائیل کو واپس بیت المقدس جانے کی اجازت دے دی
21:13وطن واپس پہنچنے پر ایک بڑی مجلس قائم کی گئی
21:15جس میں حضرت یرمیہ
21:17حضرت دانیہ علیہ السلام
21:18حضرت حسقیل
21:20حضرت ذکریہ
21:20اور دیگر انبیاء شامل تھے
21:22ان حضرات نے سب سے پہلے بنی اسرائیل کو
21:24بابل کی زبان کو ترک کر کے
21:26موسیٰ علیہ السلام کی زبان اختیار کرنے کی ہدایت دی
21:28ساتھی بنی اسرائیل سے مشرکانہ رسوم اور بیداد کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی
21:32اور شریعت موسوی کو دوبارہ زندہ کرنے کے
21:34احکام خداوندی پہنچائے
21:36حضرت دانیہ علیہ السلام کا مزار
21:38ایران کے صوبے
21:39گوزستان کے شہر
21:40شوشتر
21:41تستر میں ہے
21:42آپ کی تدفین حضرت عمر فاروق
21:43رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوئی
21:45ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
21:48حضرت دانیہ علیہ السلام نے
21:49اللہ سے دعا کی تھی کہ مجھے
21:51محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
21:53امت دفن کرے
21:54ابو موسیٰ عشری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
21:56کہ جب میں نے شہر تستر
21:58یا شوشتر
21:59کو فتح کیا
22:00تو وہاں حضرت دانیہ علیہ السلام کا تابوت پایا
22:02اور میں نے دیکھا
22:03کہ آپ کا جسم بلکل صحیح و سالم تھا
22:04آپ کی رگیں ابھی تک ترو تازہ تھی
22:06اور آپ کے جسم میں خون گردش کر رہا تھا
22:08اس واقعے کی تفصیل ابن کسیر نے
22:10اپنی مشہور کتاب
22:11البدایہ ونہائے میں بیان کی ہے
22:13آپ نے لکھا کہ حضرت خالد بن دینار تمیمی نے
22:16ابو العالیہ سے روایت کیا ہے
22:17کہ جب ہم نے شہر تستر فتح کیا
22:20تو ہم نے ایک قبر کے قریب دیکھا
22:21جس پر ایک تابوت رکھا تھا
22:23اور اس تابوت کے پاس ایک مصف رکھا تھا
22:25ہم نے اس مصف کو
22:26حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا
22:29اور آپ نے کعاب بن زید کو بلائے
22:31تاکہ وہ اس مصف کو عبرانی سے
22:33عربی میں ترجمہ کر کے ہمیں دے دے
22:35پھر سب سے پہلے ہم نے اسے پڑھا
22:36اور یہ قرآن کی معنی تھا
22:38جس میں ہمارے تمام معاملات
22:40ہمارے کلام یعنی قرآن کے لہجے
22:42اور آنے والے حالات و واقعات کا ذکر تھا
22:45خالد بن دینار تمیمی نے
22:46ابو العالیہ سے پوچھا
22:48اس مصف میں کیا تھا
22:49تو ابو العالیہ نے جواب دیا
22:50اس میں تمہارے تمام حالات
22:52اور آئندہ پیش آنے والے واقعات کا ذکر تھا
22:54جب خالد نے پوچھا
22:56کہ ان کا کیا کیا گیا
22:57تو ابو العالیہ نے کہا
22:58ہم نے دن کے وقت تیرا قبر اکھو دیں
23:00اور رات کے وقت ان کی تدفین کی
23:02تاکہ ان کی قبر کو پوشیدہ رکھا جا سکے
23:05تاکہ لوگ اس کی قبر تلاش نہ کر پائیں
23:07پھر خالد بن دینار نے پوچھا
23:08ان سے کیا توقع تھی
23:09تو ابو العالیہ نے جواب دیا
23:11اگر آسمان سے بارش رکھ جاتی
23:12تو وہ ان کی چارپائی کو باہر لے آتے
23:14اور بارشیں برسنے لگتی
23:16خالد نے پوچھا وہ کون تھے
23:18ابو العالیہ نے جواب دیا
23:19ان کو دانیال کہا جاتا ہے
23:21جب خالد نے پوچھا
23:22کہ وہ کب فوت ہوئے
23:23تو ابو العالیہ نے کہا
23:24میرے اندازہ کے مطابق
23:25وہ تقریباً تین سو سال پہلے فوت ہوئے تھے
23:27خالد نے پھر سوال کیا
23:29کیا ان کے جسم میں کوئی تبدیل ہی آئے تھی
23:31ابو العالیہ نے کہا
23:32صرف ان کی گدی پر کچھ بال تبدیل ہو گئے تھے
23:35کیونکہ زمین انبیاء اکرام کے جسموں کو نہیں کھاتی
23:38اور ان کے جسم بوسیدہ نہیں ہوتے
23:40اور نہ ہی درندے ان کو کھاتے ہیں
23:41ناظرین ابو موسیٰ عشری نے
23:43اس تابوت کے ساتھ ایک مٹکہ بھی پایا
23:44جس میں چربی درہم اور ایک انگوٹی تھی
23:47ابو موسیٰ عشری نے عشیہ کے بارے میں
23:49ایک تفصیلی خط امیر المومنین
23:51حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا
23:53اور آپ نے جواب میں فرمایا
23:55کہ چربی اور مصف کو ہماری طرف بھیج دو
23:56اور اپنے علاقے کے لوگوں کو حکم دو
23:58کہ وہ اس چربی کے ساتھ سہتیابی طلب کریں
24:00درہم جو کہ دس ہزار تھے
24:02کہ لوگوں میں تقسیم کر دو
24:03اور انگوٹی تم اپنے پاس رکھ لو
24:05وہ نفل کے طور پر تمہیں دے دی گئی ہے
24:07آخر میں ہم دعا گو ہیں
24:09کہ اللہ ہمیں حضرت دانیہ علیہ السلام کی طرح
24:11ایمان کے پختگی اور اللہ کے راستے پر چلنے کی
24:13توفیق عطا فرمائے
24:14ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو
24:17ضرور پسند آئی ہوگی
24:18اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہے
24:20تو آپ سے گزارش کرتے ہیں
24:21کہ آپ ہمارے چینل کو ضرور سبسکرائب کر لیں
24:23اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
24:26تھا کہ آپ کے پاس ہماری آنے والی
24:28مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹفکشن بروقت ملتا رہے
24:30سبسکرائب کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
24:33اور اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں
24:35کمنٹس میں آپ اپنے سوالات بھی ہم تک پہنچا سکتے ہیں
24:38اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظمان میں رکھے
24:40آمین
Comments

Recommended