اس کی تفسیر میں حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوجہل نے حضور ﷺ سے کہا تھا کہ ہم تم کو تو نہیں جھٹلاتے لیکن جو تم لائے ہو اس کی ہم تکذیب کر تے ہیں، اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب حضور ﷺ کی قوم نے حضور ﷺ کو جھٹلایا تو اس پر آپ ﷺ کو حزن و ملال ہوا، اس وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ ﷺ کس چیز کا غم کرتے ہیں؟ فرمایا: مجھ کو میری قوم نے جھٹلایا ہے۔
جبرئیل علیہ السلام نے عرض کی : یہ کفار دل میں خوب جانتے ہیں کہ آپ ﷺ سچے ہیں۔
اللہ عزوجل نے یہ آیہ کریمہ نازل فرمائی، اس آیہ کریمہ میں یہ ایک لطیف نکتہ ہے کہ حضور ﷺ کو اللہ عزوجل تسلی دیتا ہے اور خطاب میں یہ مہربانی فرماتا ہے کہ آپ ﷺ پر یہ بات ثابت کروں کہ آپ ﷺ ان کے نزدیک سچے ہیں، وہ آپ ﷺ کو جھٹلاتے نہیں ، قول و اعتقاد میں آپ ﷺ کے صدق کے اقراری ہیں ، کیونکہ آپ ﷺ کے اظہار نبوت سے پہلے آپ ﷺ کو ’’ امین ‘‘ کہا کرتے تھے، اس کلام کے ذریعہ اللہ عزوجل نے آپ کے اس غبار خاطر کا ازالہ فرمایا ہے، جو قوم کے انکار و تکذیب سے پیدا ہو گیا تھا، پھر کفار کی برائی بیان کی اور ان کو منکر ، ظالم قرار دیا۔ ( یہ مزید آپ ﷺ پر لطف و کرم ہے ) جیسا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے:
﴿وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ﴾
بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں۔( الا نعام:۳۳)
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
#Shorts #SeeratunNabi #AshShifa #AlShifa #ProphetMuhammad #IslamicShorts #Islam #Islamic #ThinkGoodGreen
Comments