Skip to playerSkip to main content
ابوالحسن قالبی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے اس آیت میں ہمارے نبی ﷺ کی فضیلت اور آپ ﷺ کی امت کی فضیلت ظاہر فرمائی ہے اور دوسری آیت میں مذکور ہے، اللہ عزوجل فرماتا ہے:
﴿هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ﴾
اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اگلی کتابوں میں۔( الحج:۷۸)
اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ رسول ﷺ تم پر گواہ ہو اور (اے امت محمد ﷺ) تم لوگوں پر گواہ بنو، اسی طرح اللہ عز وجل یہ بھی فرماتا ہے:
فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا
تو کیسی ہو گی جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب تمھیں ان سب پر گواہ ونگہبان بنا کر لائیں (النساء:۴۱)
اللہ عزوجل کا یہ فرمان ’’ وَسَطًا “ کے معنی عادل و پسندیدہ کے ہیں ، اس طرح اس آیت کے معنی ہوتے ہیں کہ جس طرح ہم نے تمھیں ہدایت کی ہے اسی طرح ہم نے تم کو خاص کر کے فضیلت دی ہے،با یں طور کہ ہم نے تم کو عادل و پسند یدہ امت بنایا تا کہ انبیاے سابقین علیہم السلام کے لیے ان کی امت پر تم گواہی دو اور یہ رسول تمھاری سچائی (صدق) کی گواہی دیں۔
ایک روایت میں ہے اللہ عزوجل ( روز محشر) جب انبیاےکرام علیہم السلام سے پوچھے گا کہ کیا تم نے تبلیغ کی؟ (میرا پیغام پہنچا یا) انبیا علیہم السلام جواب میں عرض کر یں گے: ہاں، پھر ان کی امتیں کہیں گی ’’ ہمارے پاس کوئی بشیر و نذیر نہیں آیا ‘‘ تو اس وقت حضور ﷺ کی امت پیش ہو کر انبیا علیہم السلام کی گواہی دے گی اور حضور ﷺ ان کو اس ( الزام عدم بشیر و نذیر) سے پاک کریں گے۔
(صحیح بخاری ج ۶ ص ۱۸)

کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ

#Shorts
#IslamicHistory
#ProphetMuhammad
#AshShifa
#AlShifa
#FazilateRasool
#IslamicKnowledge
#Islam
#Islamic
#ThinkGoodGreen

Category

📚
Learning
Comments

Recommended